• ایک جنرل… اور ایک خواب

    کل رات مجھے ایک ایسی شخصیت سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا
    جن کی زندگی خود ایک کتاب ہے…
    ایک ایسی کتاب جس کے ہر صفحے پر نظم، ضبط اور خدمت لکھی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض جیلانی صاحب۔

    1969 میں بطور نوجوان افسر کمیشن حاصل کیا۔
    1976 میں پلاٹون کمانڈر تھے — یعنی قیادت کی شروعات سب سے نچلی سطح سے۔

    قیادت ہمیشہ زمین سے شروع ہوتی ہے۔
    اور جو زمین کو سمجھ لے… وہ قوم کو سنبھال سکتا ہے۔

    35 سال پاکستان آرمی میں خدمت۔
    دو انفنٹری بٹالینز کی کمان۔
    دو بریگیڈز۔
    ایک اسٹرائیک ڈویژن۔
    ایک ہولڈنگ کور۔

    ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی۔
    ڈیفنس اتاشی جرمنی۔
    پی ایم اے کاکول اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں انسٹرکٹر۔

    یہ عہدے نہیں… یہ ذمہ داریاں تھیں۔

    اور جب 2004 میں ریٹائر ہوئے، تو خدمت ختم نہیں ہوئی۔

    اسکری بینک کے چیئرمین بنے —
    اور ان کے دور میں بینک کو ایشیا میں ریٹیل بینکنگ کا بہترین قرار دیا گیا۔

    ڈی ایچ اے اسلام آباد کے پیٹرن۔
    فوجی فاؤنڈیشن کی انتظامی کمیٹی کے رکن۔
    فوجی کبیر والا پاور کمپنی کے سی ای او۔

    ایک جنرل…
    جو میدان جنگ بھی جانتا ہے
    اور ادارہ سازی بھی۔

    کل جب میں ان سے ملا تو مجھے ایک عجیب سکون محسوس ہوا۔
    وہ سکون جو صرف ان لوگوں میں ہوتا ہے
    جنہوں نے ذمہ داری کا بوجھ اٹھایا ہو
    اور اسے نبھایا ہو۔



    ریحان اسکول ایک خواب دیکھ رہا ہے۔

    ہم دنیا کا پہلا AI-First لیڈرشپ اسکول بنا رہے ہیں۔
    ہم بچوں کو صرف تعلیم نہیں دے رہے —
    ہم انہیں لیڈر بنا رہے ہیں۔

    9 سال کا بچہ پوڈکاسٹ کر رہا ہے۔
    10 سال کا بچہ اپنی فیس خود کما رہا ہے۔
    12 سال کا بچہ AI سے سافٹ ویئر بنا رہا ہے۔

    لیکن خواب کو پھیلانے کے لیے
    صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا۔

    اس کے لیے سسٹم چاہیے۔
    ڈسپلن چاہیے۔
    اسٹرکچر چاہیے۔

    اور اسٹرکچر وہی دے سکتا ہے
    جس نے زندگی بھر ادارے کھڑے کیے ہوں۔



    میری دلی خواہش ہے کہ
    لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض جیلانی صاحب
    ریحان اسکول کیمپس تشریف لائیں۔

    ہمارے بچوں سے ملیں۔
    دیکھیں کہ نئی نسل AI کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔
    اور ہمیں رہنمائی دیں کہ
    ہم اس مشن کو پاکستان سے پوری دنیا تک کیسے لے جائیں۔

    کیونکہ اگلی جنگ سرحدوں کی نہیں ہوگی۔

    اگلی جنگ ذہنوں کی ہوگی۔
    قیادت کی ہوگی۔
    نظم و ضبط کی ہوگی۔

    اور اگر ایک تجربہ کار جنرل
    ایک انقلابی اسکول کے ساتھ کھڑا ہو جائے…

    تو انقلاب جذباتی نہیں رہتا —
    نظام بن جاتا ہے۔



    کل رات ایک ملاقات تھی۔
    لیکن شاید یہ دو دوروں کے درمیان ایک پل تھا۔

    ایک طرف وردی کی قیادت۔
    دوسری طرف AI کی قیادت۔

    اگر حکمت نوجوانی سے مل جائے
    تو تاریخ بدل سکتی ہے۔

    ان شاء اللہ جلد ہم انہیں ریحان اسکول میں خوش آمدید کہیں گے۔

    Thank you Faiz Jilani Malik

    #Leadership
    #RehanSchool
    #Pakistan
    #AIRevolution
    #EducationReform
    #NationBuilding
    🌟 ایک جنرل… اور ایک خواب 🌟 کل رات مجھے ایک ایسی شخصیت سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا جن کی زندگی خود ایک کتاب ہے… ایک ایسی کتاب جس کے ہر صفحے پر نظم، ضبط اور خدمت لکھی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض جیلانی صاحب۔ 1969 میں بطور نوجوان افسر کمیشن حاصل کیا۔ 1976 میں پلاٹون کمانڈر تھے — یعنی قیادت کی شروعات سب سے نچلی سطح سے۔ قیادت ہمیشہ زمین سے شروع ہوتی ہے۔ اور جو زمین کو سمجھ لے… وہ قوم کو سنبھال سکتا ہے۔ 35 سال پاکستان آرمی میں خدمت۔ دو انفنٹری بٹالینز کی کمان۔ دو بریگیڈز۔ ایک اسٹرائیک ڈویژن۔ ایک ہولڈنگ کور۔ ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی۔ ڈیفنس اتاشی جرمنی۔ پی ایم اے کاکول اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں انسٹرکٹر۔ یہ عہدے نہیں… یہ ذمہ داریاں تھیں۔ اور جب 2004 میں ریٹائر ہوئے، تو خدمت ختم نہیں ہوئی۔ اسکری بینک کے چیئرمین بنے — اور ان کے دور میں بینک کو ایشیا میں ریٹیل بینکنگ کا بہترین قرار دیا گیا۔ ڈی ایچ اے اسلام آباد کے پیٹرن۔ فوجی فاؤنڈیشن کی انتظامی کمیٹی کے رکن۔ فوجی کبیر والا پاور کمپنی کے سی ای او۔ ایک جنرل… جو میدان جنگ بھی جانتا ہے اور ادارہ سازی بھی۔ کل جب میں ان سے ملا تو مجھے ایک عجیب سکون محسوس ہوا۔ وہ سکون جو صرف ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ذمہ داری کا بوجھ اٹھایا ہو اور اسے نبھایا ہو۔ ⸻ ✨ ریحان اسکول ایک خواب دیکھ رہا ہے۔ ہم دنیا کا پہلا AI-First لیڈرشپ اسکول بنا رہے ہیں۔ ہم بچوں کو صرف تعلیم نہیں دے رہے — ہم انہیں لیڈر بنا رہے ہیں۔ 9 سال کا بچہ پوڈکاسٹ کر رہا ہے۔ 10 سال کا بچہ اپنی فیس خود کما رہا ہے۔ 12 سال کا بچہ AI سے سافٹ ویئر بنا رہا ہے۔ لیکن خواب کو پھیلانے کے لیے صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سسٹم چاہیے۔ ڈسپلن چاہیے۔ اسٹرکچر چاہیے۔ اور اسٹرکچر وہی دے سکتا ہے جس نے زندگی بھر ادارے کھڑے کیے ہوں۔ ⸻ 🙏 میری دلی خواہش ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض جیلانی صاحب ریحان اسکول کیمپس تشریف لائیں۔ ہمارے بچوں سے ملیں۔ دیکھیں کہ نئی نسل AI کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ اور ہمیں رہنمائی دیں کہ ہم اس مشن کو پاکستان سے پوری دنیا تک کیسے لے جائیں۔ کیونکہ اگلی جنگ سرحدوں کی نہیں ہوگی۔ اگلی جنگ ذہنوں کی ہوگی۔ قیادت کی ہوگی۔ نظم و ضبط کی ہوگی۔ اور اگر ایک تجربہ کار جنرل ایک انقلابی اسکول کے ساتھ کھڑا ہو جائے… تو انقلاب جذباتی نہیں رہتا — نظام بن جاتا ہے۔ ⸻ کل رات ایک ملاقات تھی۔ لیکن شاید یہ دو دوروں کے درمیان ایک پل تھا۔ ایک طرف وردی کی قیادت۔ دوسری طرف AI کی قیادت۔ اگر حکمت نوجوانی سے مل جائے تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہم انہیں ریحان اسکول میں خوش آمدید کہیں گے۔ 🌍 Thank you Faiz Jilani Malik #Leadership #RehanSchool #Pakistan #AIRevolution #EducationReform #NationBuilding
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 384 Visualizações