وہ پانچ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے
ملتان کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والا بلال روزانہ شام کو چھت پر بیٹھ کر موبائل کی چھوٹی سی سکرین پر یوٹیوب دیکھتا ہے۔ اس کی عمر بائیس سال ہے، گریجویشن مکمل ہے، مگر نوکری کا کوئی پتہ نہیں۔
ایک دن اس کے کزن نے دبئی سے فون کیا۔ وہاں وہ آن لائن کام کر کے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ بلال نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا، "بھائی، میں بھی سیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر گھر میں کمپیوٹر نہیں ہے۔"
کزن نے بتایا کہ دبئی میں استعمال شدہ کروم بک تین ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ بلال حیران رہ گیا۔ اس نے لاہور کے دوست سے پتہ کروایا، تو وہی کروم بک پاکستان میں آٹھ سے بارہ ہزار میں مل رہی تھی، اور وہ بھی بمشکل۔
بلال کے والد ایک سرکاری اسکول میں چپڑاسی ہیں۔ ان کی پوری تنخواہ گھر کے راشن، بجلی کے بل، اور بچوں کی فیس میں ختم ہو جاتی ہے۔ بارہ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ ان کے لیے ایک خواب ہے۔
اور بلال اکیلا نہیں ہے۔ اس جیسے کروڑوں نوجوان آج پاکستان میں اپنے خواب موبائل کی چار انچ کی سکرین پر دفن کر رہے ہیں۔
پاکستان آج ایک عجیب موڑ پر کھڑا ہے۔ حکومت اربوں روپے کے GPU فارمز اور ڈیٹا سینٹرز بنانے کا اعلان کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے بڑے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان مشینوں کو استعمال کون کرے گا؟
ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی نصف سے بھی کم آبادی کے پاس انٹرنیٹ تک باقاعدہ رسائی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، اور سری لنکا ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں دن میں آٹھ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔
ہم ایسا گھر بنا رہے ہیں جس کی چھت پہلے ڈالی جا رہی ہے، اور بنیاد ابھی تک کھدی ہوئی نہیں۔
تحریر: عمیر ابوبکر
اب ذرا فرض کیجیے۔ حکومت ایک فیصلہ کرتی ہے۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے استعمال شدہ لیپ ٹاپ پر تمام ٹیکس صفر۔ امپورٹ ڈیوٹی ختم۔ پی ٹی اے ٹیکس ختم۔
نتیجہ کیا ہو گا؟ بلال کے گھر میں ایک کروم بک پانچ ہزار روپے میں آ جائے گی۔ وہی کروم بک جس پر وہ یوٹیوب سے گرافک ڈیزائن سیکھے گا، فائیور پر اکاؤنٹ بنائے گا، اور چھ ماہ بعد گھر بیٹھے ڈالر کمانا شروع کر دے گا۔
دوسرا قدم۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے سمارٹ فون پر بھی تمام ٹیکس ختم۔ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک کھڑکی، جو دنیا کی طرف کھلے۔
تیسرا قدم۔ بینک اور ای کامرس کمپنیاں مل کر ایک ایسا نظام بنائیں جس کے ذریعے ہر بالغ پاکستانی کو آسان قسطوں پر لیپ ٹاپ، موٹر سائیکل، اور سولر سسٹم مل سکے۔ بغیر سود کے، بغیر بھاری شرائط کے۔
چوتھا قدم۔ ہر گھر میں ایک چھوٹا سولر سسٹم۔ پینل، بیٹری، انورٹر۔ کیونکہ بجلی کے بغیر ڈیجیٹل دنیا کا کوئی مطلب نہیں۔
پانچواں قدم۔ نئے صارفین کے لیے چھ ماہ کا مفت بنیادی انٹرنیٹ۔ پہلے انہیں استعمال کرنے دیں، پھر بل دینے کا کہیں۔
یہ خیالی پلاؤ نہیں ہے۔ ایسٹونیا، جو ہم سے بہت چھوٹا ملک ہے، اس نے یہی راستہ اپنایا تھا۔ پہلے ہر شہری کو ڈیجیٹل بنایا، پھر دنیا کا سب سے ایڈوانس ڈیجیٹل ملک بن گیا۔ آج ایسٹونیا میں ننانوے فیصد سرکاری خدمات آن لائن ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے اپنے ہر شہری کو ڈیجیٹل آئی ڈی دی، اور آج وہ خطے کا سب سے بڑا ٹیک ہب بن چکا ہے۔ جارجیا نے ٹیکس کا پورا نظام ڈیجیٹل کر دیا، اور کرپشن میں زبردست کمی آئی۔
ذرا حساب لگائیے۔ اگر صرف پانچ کروڑ پاکستانی نوجوان مہینے کے سو ڈالر بھی کمانے لگیں، تو یہ سالانہ ساٹھ ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ ہمارے کل بیرونی قرضے کے قریب ہے۔
ہمارا اصل اثاثہ زمین کے نیچے دبا خزانہ نہیں۔ ہمارا اصل اثاثہ ہمارے گھروں میں بیٹھا نوجوان ہے۔ اسے بس ایک کھڑکی دیجیے، باقی وہ خود کر لے گا۔
پاکستان کو GPU سے پہلے کروم بک چاہیے۔ AI سے پہلے بجلی چاہیے۔ ڈیٹا سینٹر سے پہلے ڈیٹا استعمال کرنے والا انسان چاہیے۔
اگر آج بلال کے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ آ جائے، تو کل وہ پاکستان کا اگلا فری لانسر، اگلا کاروباری، اگلا انجینئر بن سکتا ہے۔
سوال صرف اتنا ہے۔ کیا ہم اس بلال کو ایک موقع دیں گے، یا اسے بھی بے روزگاری کی قطار میں لگا کر بھول جائیں گے؟
یہ پوسٹ صرف پڑھ کر آگے مت گزر جائیے۔ آپ کا ایک شیئر کسی غریب گھر کے بلال کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جب تک یہ بات حکومت کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی، حالات نہیں بدلیں گے۔ یہ آواز اٹھانا صرف صحافی کا کام نہیں، آپ کا بھی ہے، میرا بھی ہے۔ شیئر کیجیے، تاکہ یہ پیغام وزیراعظم اور آرمی چیف کے میز تک پہنچے۔
کمنٹ میں مجھے بتائیے۔ کیا آپ کے گھر یا محلے میں کوئی نوجوان ہے جو صرف لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دور بیٹھا ہے؟ اور آپ کی نظر میں حکومت کا پہلا قدم کیا ہونا چاہیے، سستا لیپ ٹاپ، مفت انٹرنیٹ، یا ہر گھر میں سولر؟
اور سب سے اہم بات۔ کمنٹ میں ان اداروں کو ٹیگ کیجیے تاکہ یہ آواز ان تک پہنچے۔ Prime Minister Office Pakistan، Ministry of IT and Telecommunication، PTA Pakistan، Ignite National Technology Fund، Pakistan Software Export Board، Higher Education Commission Pakistan، اور Special Investment Facilitation Council۔
#Pakistan #DigitalPakistan #PakistanEconomy #Viral #Trending #ITPakistan #PakistaniAwam #FreelancingPakistan
Via Umair Abubakkar
ملتان کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والا بلال روزانہ شام کو چھت پر بیٹھ کر موبائل کی چھوٹی سی سکرین پر یوٹیوب دیکھتا ہے۔ اس کی عمر بائیس سال ہے، گریجویشن مکمل ہے، مگر نوکری کا کوئی پتہ نہیں۔
ایک دن اس کے کزن نے دبئی سے فون کیا۔ وہاں وہ آن لائن کام کر کے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ بلال نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا، "بھائی، میں بھی سیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر گھر میں کمپیوٹر نہیں ہے۔"
کزن نے بتایا کہ دبئی میں استعمال شدہ کروم بک تین ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ بلال حیران رہ گیا۔ اس نے لاہور کے دوست سے پتہ کروایا، تو وہی کروم بک پاکستان میں آٹھ سے بارہ ہزار میں مل رہی تھی، اور وہ بھی بمشکل۔
بلال کے والد ایک سرکاری اسکول میں چپڑاسی ہیں۔ ان کی پوری تنخواہ گھر کے راشن، بجلی کے بل، اور بچوں کی فیس میں ختم ہو جاتی ہے۔ بارہ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ ان کے لیے ایک خواب ہے۔
اور بلال اکیلا نہیں ہے۔ اس جیسے کروڑوں نوجوان آج پاکستان میں اپنے خواب موبائل کی چار انچ کی سکرین پر دفن کر رہے ہیں۔
پاکستان آج ایک عجیب موڑ پر کھڑا ہے۔ حکومت اربوں روپے کے GPU فارمز اور ڈیٹا سینٹرز بنانے کا اعلان کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے بڑے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان مشینوں کو استعمال کون کرے گا؟
ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی نصف سے بھی کم آبادی کے پاس انٹرنیٹ تک باقاعدہ رسائی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، اور سری لنکا ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں دن میں آٹھ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔
ہم ایسا گھر بنا رہے ہیں جس کی چھت پہلے ڈالی جا رہی ہے، اور بنیاد ابھی تک کھدی ہوئی نہیں۔
تحریر: عمیر ابوبکر
اب ذرا فرض کیجیے۔ حکومت ایک فیصلہ کرتی ہے۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے استعمال شدہ لیپ ٹاپ پر تمام ٹیکس صفر۔ امپورٹ ڈیوٹی ختم۔ پی ٹی اے ٹیکس ختم۔
نتیجہ کیا ہو گا؟ بلال کے گھر میں ایک کروم بک پانچ ہزار روپے میں آ جائے گی۔ وہی کروم بک جس پر وہ یوٹیوب سے گرافک ڈیزائن سیکھے گا، فائیور پر اکاؤنٹ بنائے گا، اور چھ ماہ بعد گھر بیٹھے ڈالر کمانا شروع کر دے گا۔
دوسرا قدم۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے سمارٹ فون پر بھی تمام ٹیکس ختم۔ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک کھڑکی، جو دنیا کی طرف کھلے۔
تیسرا قدم۔ بینک اور ای کامرس کمپنیاں مل کر ایک ایسا نظام بنائیں جس کے ذریعے ہر بالغ پاکستانی کو آسان قسطوں پر لیپ ٹاپ، موٹر سائیکل، اور سولر سسٹم مل سکے۔ بغیر سود کے، بغیر بھاری شرائط کے۔
چوتھا قدم۔ ہر گھر میں ایک چھوٹا سولر سسٹم۔ پینل، بیٹری، انورٹر۔ کیونکہ بجلی کے بغیر ڈیجیٹل دنیا کا کوئی مطلب نہیں۔
پانچواں قدم۔ نئے صارفین کے لیے چھ ماہ کا مفت بنیادی انٹرنیٹ۔ پہلے انہیں استعمال کرنے دیں، پھر بل دینے کا کہیں۔
یہ خیالی پلاؤ نہیں ہے۔ ایسٹونیا، جو ہم سے بہت چھوٹا ملک ہے، اس نے یہی راستہ اپنایا تھا۔ پہلے ہر شہری کو ڈیجیٹل بنایا، پھر دنیا کا سب سے ایڈوانس ڈیجیٹل ملک بن گیا۔ آج ایسٹونیا میں ننانوے فیصد سرکاری خدمات آن لائن ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے اپنے ہر شہری کو ڈیجیٹل آئی ڈی دی، اور آج وہ خطے کا سب سے بڑا ٹیک ہب بن چکا ہے۔ جارجیا نے ٹیکس کا پورا نظام ڈیجیٹل کر دیا، اور کرپشن میں زبردست کمی آئی۔
ذرا حساب لگائیے۔ اگر صرف پانچ کروڑ پاکستانی نوجوان مہینے کے سو ڈالر بھی کمانے لگیں، تو یہ سالانہ ساٹھ ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ ہمارے کل بیرونی قرضے کے قریب ہے۔
ہمارا اصل اثاثہ زمین کے نیچے دبا خزانہ نہیں۔ ہمارا اصل اثاثہ ہمارے گھروں میں بیٹھا نوجوان ہے۔ اسے بس ایک کھڑکی دیجیے، باقی وہ خود کر لے گا۔
پاکستان کو GPU سے پہلے کروم بک چاہیے۔ AI سے پہلے بجلی چاہیے۔ ڈیٹا سینٹر سے پہلے ڈیٹا استعمال کرنے والا انسان چاہیے۔
اگر آج بلال کے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ آ جائے، تو کل وہ پاکستان کا اگلا فری لانسر، اگلا کاروباری، اگلا انجینئر بن سکتا ہے۔
سوال صرف اتنا ہے۔ کیا ہم اس بلال کو ایک موقع دیں گے، یا اسے بھی بے روزگاری کی قطار میں لگا کر بھول جائیں گے؟
یہ پوسٹ صرف پڑھ کر آگے مت گزر جائیے۔ آپ کا ایک شیئر کسی غریب گھر کے بلال کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جب تک یہ بات حکومت کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی، حالات نہیں بدلیں گے۔ یہ آواز اٹھانا صرف صحافی کا کام نہیں، آپ کا بھی ہے، میرا بھی ہے۔ شیئر کیجیے، تاکہ یہ پیغام وزیراعظم اور آرمی چیف کے میز تک پہنچے۔
کمنٹ میں مجھے بتائیے۔ کیا آپ کے گھر یا محلے میں کوئی نوجوان ہے جو صرف لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دور بیٹھا ہے؟ اور آپ کی نظر میں حکومت کا پہلا قدم کیا ہونا چاہیے، سستا لیپ ٹاپ، مفت انٹرنیٹ، یا ہر گھر میں سولر؟
اور سب سے اہم بات۔ کمنٹ میں ان اداروں کو ٹیگ کیجیے تاکہ یہ آواز ان تک پہنچے۔ Prime Minister Office Pakistan، Ministry of IT and Telecommunication، PTA Pakistan، Ignite National Technology Fund، Pakistan Software Export Board، Higher Education Commission Pakistan، اور Special Investment Facilitation Council۔
#Pakistan #DigitalPakistan #PakistanEconomy #Viral #Trending #ITPakistan #PakistaniAwam #FreelancingPakistan
Via Umair Abubakkar
وہ پانچ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے
ملتان کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والا بلال روزانہ شام کو چھت پر بیٹھ کر موبائل کی چھوٹی سی سکرین پر یوٹیوب دیکھتا ہے۔ اس کی عمر بائیس سال ہے، گریجویشن مکمل ہے، مگر نوکری کا کوئی پتہ نہیں۔
ایک دن اس کے کزن نے دبئی سے فون کیا۔ وہاں وہ آن لائن کام کر کے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ بلال نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا، "بھائی، میں بھی سیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر گھر میں کمپیوٹر نہیں ہے۔"
کزن نے بتایا کہ دبئی میں استعمال شدہ کروم بک تین ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ بلال حیران رہ گیا۔ اس نے لاہور کے دوست سے پتہ کروایا، تو وہی کروم بک پاکستان میں آٹھ سے بارہ ہزار میں مل رہی تھی، اور وہ بھی بمشکل۔
بلال کے والد ایک سرکاری اسکول میں چپڑاسی ہیں۔ ان کی پوری تنخواہ گھر کے راشن، بجلی کے بل، اور بچوں کی فیس میں ختم ہو جاتی ہے۔ بارہ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ ان کے لیے ایک خواب ہے۔
اور بلال اکیلا نہیں ہے۔ اس جیسے کروڑوں نوجوان آج پاکستان میں اپنے خواب موبائل کی چار انچ کی سکرین پر دفن کر رہے ہیں۔ 💔
پاکستان آج ایک عجیب موڑ پر کھڑا ہے۔ حکومت اربوں روپے کے GPU فارمز اور ڈیٹا سینٹرز بنانے کا اعلان کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے بڑے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان مشینوں کو استعمال کون کرے گا؟
ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی نصف سے بھی کم آبادی کے پاس انٹرنیٹ تک باقاعدہ رسائی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، اور سری لنکا ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں دن میں آٹھ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔
ہم ایسا گھر بنا رہے ہیں جس کی چھت پہلے ڈالی جا رہی ہے، اور بنیاد ابھی تک کھدی ہوئی نہیں۔
تحریر: عمیر ابوبکر
اب ذرا فرض کیجیے۔ حکومت ایک فیصلہ کرتی ہے۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے استعمال شدہ لیپ ٹاپ پر تمام ٹیکس صفر۔ امپورٹ ڈیوٹی ختم۔ پی ٹی اے ٹیکس ختم۔
نتیجہ کیا ہو گا؟ بلال کے گھر میں ایک کروم بک پانچ ہزار روپے میں آ جائے گی۔ وہی کروم بک جس پر وہ یوٹیوب سے گرافک ڈیزائن سیکھے گا، فائیور پر اکاؤنٹ بنائے گا، اور چھ ماہ بعد گھر بیٹھے ڈالر کمانا شروع کر دے گا۔ ✨
دوسرا قدم۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے سمارٹ فون پر بھی تمام ٹیکس ختم۔ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک کھڑکی، جو دنیا کی طرف کھلے۔
تیسرا قدم۔ بینک اور ای کامرس کمپنیاں مل کر ایک ایسا نظام بنائیں جس کے ذریعے ہر بالغ پاکستانی کو آسان قسطوں پر لیپ ٹاپ، موٹر سائیکل، اور سولر سسٹم مل سکے۔ بغیر سود کے، بغیر بھاری شرائط کے۔
چوتھا قدم۔ ہر گھر میں ایک چھوٹا سولر سسٹم۔ پینل، بیٹری، انورٹر۔ کیونکہ بجلی کے بغیر ڈیجیٹل دنیا کا کوئی مطلب نہیں۔
پانچواں قدم۔ نئے صارفین کے لیے چھ ماہ کا مفت بنیادی انٹرنیٹ۔ پہلے انہیں استعمال کرنے دیں، پھر بل دینے کا کہیں۔
یہ خیالی پلاؤ نہیں ہے۔ ایسٹونیا، جو ہم سے بہت چھوٹا ملک ہے، اس نے یہی راستہ اپنایا تھا۔ پہلے ہر شہری کو ڈیجیٹل بنایا، پھر دنیا کا سب سے ایڈوانس ڈیجیٹل ملک بن گیا۔ آج ایسٹونیا میں ننانوے فیصد سرکاری خدمات آن لائن ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے اپنے ہر شہری کو ڈیجیٹل آئی ڈی دی، اور آج وہ خطے کا سب سے بڑا ٹیک ہب بن چکا ہے۔ جارجیا نے ٹیکس کا پورا نظام ڈیجیٹل کر دیا، اور کرپشن میں زبردست کمی آئی۔
ذرا حساب لگائیے۔ اگر صرف پانچ کروڑ پاکستانی نوجوان مہینے کے سو ڈالر بھی کمانے لگیں، تو یہ سالانہ ساٹھ ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ ہمارے کل بیرونی قرضے کے قریب ہے۔ 💰
ہمارا اصل اثاثہ زمین کے نیچے دبا خزانہ نہیں۔ ہمارا اصل اثاثہ ہمارے گھروں میں بیٹھا نوجوان ہے۔ اسے بس ایک کھڑکی دیجیے، باقی وہ خود کر لے گا۔
پاکستان کو GPU سے پہلے کروم بک چاہیے۔ AI سے پہلے بجلی چاہیے۔ ڈیٹا سینٹر سے پہلے ڈیٹا استعمال کرنے والا انسان چاہیے۔ 🌱
اگر آج بلال کے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ آ جائے، تو کل وہ پاکستان کا اگلا فری لانسر، اگلا کاروباری، اگلا انجینئر بن سکتا ہے۔
سوال صرف اتنا ہے۔ کیا ہم اس بلال کو ایک موقع دیں گے، یا اسے بھی بے روزگاری کی قطار میں لگا کر بھول جائیں گے؟
❤️ یہ پوسٹ صرف پڑھ کر آگے مت گزر جائیے۔ آپ کا ایک شیئر کسی غریب گھر کے بلال کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جب تک یہ بات حکومت کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی، حالات نہیں بدلیں گے۔ یہ آواز اٹھانا صرف صحافی کا کام نہیں، آپ کا بھی ہے، میرا بھی ہے۔ شیئر کیجیے، تاکہ یہ پیغام وزیراعظم اور آرمی چیف کے میز تک پہنچے۔
✍️ کمنٹ میں مجھے بتائیے۔ کیا آپ کے گھر یا محلے میں کوئی نوجوان ہے جو صرف لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دور بیٹھا ہے؟ اور آپ کی نظر میں حکومت کا پہلا قدم کیا ہونا چاہیے، سستا لیپ ٹاپ، مفت انٹرنیٹ، یا ہر گھر میں سولر؟
📢 اور سب سے اہم بات۔ کمنٹ میں ان اداروں کو ٹیگ کیجیے تاکہ یہ آواز ان تک پہنچے۔ Prime Minister Office Pakistan، Ministry of IT and Telecommunication، PTA Pakistan، Ignite National Technology Fund، Pakistan Software Export Board، Higher Education Commission Pakistan، اور Special Investment Facilitation Council۔
#Pakistan #DigitalPakistan #PakistanEconomy #Viral #Trending #ITPakistan #PakistaniAwam #FreelancingPakistan
Via Umair Abubakkar
0 تبصرے
0 شیئرز
1020 ویوز