مبارک ہو! آپ کا بچہ "پوزیشن ہولڈر" بن گیا... مگر کس قیمت پر؟
بورڈ کے امتحانات کا رزلٹ آتا ہے، شہر میں بڑے بڑے پینا فلیکس لگتے ہیں، بچے کے گلے میں ہار ڈالے جاتے ہیں، مٹھائیاں بٹتی ہیں۔ 1100 میں سے 1098 نمبر!
سب کہتے ہیں "واہ! کیا ذہین بچہ ہے"۔
لیکن کوئی اس بچے کی آنکھوں کے نیچے پڑے سیاہ حلقے (Dark Circles) نہیں دیکھتا۔
کوئی اس کے کانپتے ہاتھ نہیں دیکھتا۔
کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخری بار اس نے کھل کر قہقہہ کب لگایا تھا؟ آخری بار وہ گلی میں کرکٹ کب کھیلا تھا؟
ہم "ٹاپر" بنا رہے ہیں یا "ذہنی مریض"؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو "علم" کے بجائے "نمبروں کی فیکٹری" بنا دیا ہے۔
صبح 7 بجے سکول، دوپہر 2 بجے واپسی، پھر جلدی جلدی کھانا اور 3 بجے اکیڈمی، رات 9 بجے واپسی، اور پھر ہوم ورک۔
کیا یہ بچپن ہے؟ یا کسی مشقت والے قیدی کی زندگی؟
ہم خوش ہوتے ہیں کہ بچے نے "ٹاپ" کر لیا، لیکن اندر ہی اندر وہ بچہ اینگزائٹی (Anxiety) اور ڈپریشن کا مریض بن چکا ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا روبوٹ بن جاتا ہے جسے صرف "رٹہ" لگانا آتا ہے،
جسے زندگی کے دباؤ کو برداشت کرنا نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا سی ناکامی پر ہمارے نوجوان آج کل خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔
والدین سے ایک سوال:
کیا آپ کو گھر کی دیوار پر لٹکی ہوئی ایک "بے جان شیلڈ" چاہیے یا گھر کے آنگن میں ہنستا مسکراتا صحت مند بچہ؟
اگر وہ پوزیشن لے بھی لے، لیکن ذہنی طور پر مفلوج ہو جائے، لوگوں سے بات نہ کر سکے، معاشرے میں ڈیل نہ کر سکے، تو ایسی پوزیشن کا کیا اچار ڈالنا ہے؟
آج کا سبق:
تعلیم کا مقصد "شعور" ہے، "سٹریس" نہیں۔ اپنے بچے کو سانس لینے دیں۔ اسے بتائیں کہ زندگی نمبروں سے بہت بڑی ہے۔ ایک صحت مند اور اوسط درجے کا طالب علم، اس ذہنی مریض ٹاپر سے ہزار گنا بہتر ہے جو ساری عمر دوائیوں کے سہارے جیے
۔#MentalHealthAwareness #SayNoToRoteLearning #StudentDepression #ExamPressure #PakistaniEducationSystem #RahbareTaleem #StopTheRace #BachonKaBachpan #RealSuccess #Faisalabad #UrduColumn
Via Qasim Ali Shah
بورڈ کے امتحانات کا رزلٹ آتا ہے، شہر میں بڑے بڑے پینا فلیکس لگتے ہیں، بچے کے گلے میں ہار ڈالے جاتے ہیں، مٹھائیاں بٹتی ہیں۔ 1100 میں سے 1098 نمبر!
سب کہتے ہیں "واہ! کیا ذہین بچہ ہے"۔
لیکن کوئی اس بچے کی آنکھوں کے نیچے پڑے سیاہ حلقے (Dark Circles) نہیں دیکھتا۔
کوئی اس کے کانپتے ہاتھ نہیں دیکھتا۔
کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخری بار اس نے کھل کر قہقہہ کب لگایا تھا؟ آخری بار وہ گلی میں کرکٹ کب کھیلا تھا؟
ہم "ٹاپر" بنا رہے ہیں یا "ذہنی مریض"؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو "علم" کے بجائے "نمبروں کی فیکٹری" بنا دیا ہے۔
صبح 7 بجے سکول، دوپہر 2 بجے واپسی، پھر جلدی جلدی کھانا اور 3 بجے اکیڈمی، رات 9 بجے واپسی، اور پھر ہوم ورک۔
کیا یہ بچپن ہے؟ یا کسی مشقت والے قیدی کی زندگی؟
ہم خوش ہوتے ہیں کہ بچے نے "ٹاپ" کر لیا، لیکن اندر ہی اندر وہ بچہ اینگزائٹی (Anxiety) اور ڈپریشن کا مریض بن چکا ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا روبوٹ بن جاتا ہے جسے صرف "رٹہ" لگانا آتا ہے،
جسے زندگی کے دباؤ کو برداشت کرنا نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا سی ناکامی پر ہمارے نوجوان آج کل خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔
والدین سے ایک سوال:
کیا آپ کو گھر کی دیوار پر لٹکی ہوئی ایک "بے جان شیلڈ" چاہیے یا گھر کے آنگن میں ہنستا مسکراتا صحت مند بچہ؟
اگر وہ پوزیشن لے بھی لے، لیکن ذہنی طور پر مفلوج ہو جائے، لوگوں سے بات نہ کر سکے، معاشرے میں ڈیل نہ کر سکے، تو ایسی پوزیشن کا کیا اچار ڈالنا ہے؟
آج کا سبق:
تعلیم کا مقصد "شعور" ہے، "سٹریس" نہیں۔ اپنے بچے کو سانس لینے دیں۔ اسے بتائیں کہ زندگی نمبروں سے بہت بڑی ہے۔ ایک صحت مند اور اوسط درجے کا طالب علم، اس ذہنی مریض ٹاپر سے ہزار گنا بہتر ہے جو ساری عمر دوائیوں کے سہارے جیے
۔#MentalHealthAwareness #SayNoToRoteLearning #StudentDepression #ExamPressure #PakistaniEducationSystem #RahbareTaleem #StopTheRace #BachonKaBachpan #RealSuccess #Faisalabad #UrduColumn
Via Qasim Ali Shah
مبارک ہو! آپ کا بچہ "پوزیشن ہولڈر" بن گیا... مگر کس قیمت پر؟ 💔
بورڈ کے امتحانات کا رزلٹ آتا ہے، شہر میں بڑے بڑے پینا فلیکس لگتے ہیں، بچے کے گلے میں ہار ڈالے جاتے ہیں، مٹھائیاں بٹتی ہیں۔ 1100 میں سے 1098 نمبر!
سب کہتے ہیں "واہ! کیا ذہین بچہ ہے"۔
لیکن کوئی اس بچے کی آنکھوں کے نیچے پڑے سیاہ حلقے (Dark Circles) نہیں دیکھتا۔
کوئی اس کے کانپتے ہاتھ نہیں دیکھتا۔
کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخری بار اس نے کھل کر قہقہہ کب لگایا تھا؟ آخری بار وہ گلی میں کرکٹ کب کھیلا تھا؟
ہم "ٹاپر" بنا رہے ہیں یا "ذہنی مریض"؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو "علم" کے بجائے "نمبروں کی فیکٹری" بنا دیا ہے۔
صبح 7 بجے سکول، دوپہر 2 بجے واپسی، پھر جلدی جلدی کھانا اور 3 بجے اکیڈمی، رات 9 بجے واپسی، اور پھر ہوم ورک۔
کیا یہ بچپن ہے؟ یا کسی مشقت والے قیدی کی زندگی؟
ہم خوش ہوتے ہیں کہ بچے نے "ٹاپ" کر لیا، لیکن اندر ہی اندر وہ بچہ اینگزائٹی (Anxiety) اور ڈپریشن کا مریض بن چکا ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا روبوٹ بن جاتا ہے جسے صرف "رٹہ" لگانا آتا ہے،
جسے زندگی کے دباؤ کو برداشت کرنا نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا سی ناکامی پر ہمارے نوجوان آج کل خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔
والدین سے ایک سوال:
کیا آپ کو گھر کی دیوار پر لٹکی ہوئی ایک "بے جان شیلڈ" چاہیے یا گھر کے آنگن میں ہنستا مسکراتا صحت مند بچہ؟
اگر وہ پوزیشن لے بھی لے، لیکن ذہنی طور پر مفلوج ہو جائے، لوگوں سے بات نہ کر سکے، معاشرے میں ڈیل نہ کر سکے، تو ایسی پوزیشن کا کیا اچار ڈالنا ہے؟
آج کا سبق:
تعلیم کا مقصد "شعور" ہے، "سٹریس" نہیں۔ اپنے بچے کو سانس لینے دیں۔ اسے بتائیں کہ زندگی نمبروں سے بہت بڑی ہے۔ ایک صحت مند اور اوسط درجے کا طالب علم، اس ذہنی مریض ٹاپر سے ہزار گنا بہتر ہے جو ساری عمر دوائیوں کے سہارے جیے
۔#MentalHealthAwareness #SayNoToRoteLearning #StudentDepression #ExamPressure #PakistaniEducationSystem #RahbareTaleem #StopTheRace #BachonKaBachpan #RealSuccess #Faisalabad #UrduColumn
Via Qasim Ali Shah
0 Commentarii
0 Distribuiri
2012 Views