• So proud of all these young gems coming out of Rehan School !

    He writes !
    Hello World!
    I’m Ayan EarningWala , an 11-year-old student at Rehan School Online Academy , Karachi, Pakistan .

    What I Do:

    Graphic Design – Creating attractive and impactful designs.

    Video Editing – Turning raw clips into professional videos.

    Coding – Building fun and creative projects.

    AI Skills – Using artificial intelligence to solve problems.

    Digital Skills – Exploring new ways to earn and grow online.

    My Goal:
    To inspire young people in my community to learn skills, earn online, and make a positive impact in the world.

    Follow my journey to watch me grow, learn, and share powerful ideas with the world!

    #AyanEarningWala #DigitalCreator #YoungEntrepreneur #FutureLeader #AI #Coding #GraphicDesign #VideoEditing #Inspiration #RehanSchool #Karachi #Pakistan #YouthEmpowerment #LearningNeverStops #GlobalGoals #ViralPost #SuccessMindset #FutureMillionaire #WorldChanger #TechSavvy
    So proud of all these young gems coming out of Rehan School ! He writes ! 👋 Hello World! I’m Ayan EarningWala , an 11-year-old student at Rehan School Online Academy , Karachi, Pakistan 🇵🇰. 💡 What I Do: 🎨 Graphic Design – Creating attractive and impactful designs. 🎬 Video Editing – Turning raw clips into professional videos. 💻 Coding – Building fun and creative projects. 🤖 AI Skills – Using artificial intelligence to solve problems. 🌐 Digital Skills – Exploring new ways to earn and grow online. 🎯 My Goal: To inspire young people in my community to learn skills, earn online, and make a positive impact in the world. 🌍✨ 📢 Follow my journey to watch me grow, learn, and share powerful ideas with the world! #AyanEarningWala #DigitalCreator #YoungEntrepreneur #FutureLeader #AI #Coding #GraphicDesign #VideoEditing #Inspiration #RehanSchool #Karachi #Pakistan #YouthEmpowerment #LearningNeverStops #GlobalGoals #ViralPost #SuccessMindset #FutureMillionaire #WorldChanger #TechSavvy
    0 Commenti 0 condivisioni 3017 Views
  • کیا آپ کا دل صرف دھڑک رہا ہے یا واقعی زندہ ہے؟
    دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
    کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
    تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشناء نہیں ہے
    نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزہء ستارہ
    (حکیم الامت علامہ محمد اقبال رح)
    آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے پاس سب کچھ ہے: تیز ترین انٹرنیٹ، مہنگی گاڑیاں، اور سوشل میڈیا پر ہزاروں "فرینڈز"۔ لیکن اس چکا چوند میں ایک چیز کہیں کھو گئی ہے... اور وہ ہے ہمارا "زندہ دل"۔
    علامہ اقبالؒ نے ان چند مصرعوں میں پوری انسانیت اور خاص طور پر ہم نوجوانوں کو ایک زبردست "ویک اپ کال" دی ہے۔ آئیے اس پیغام کی گہرائی کو سمجھتے ہیں:
    مسئلہ: مردہ دلی اور پرانی بیماری (مرضِ کہن)
    اقبال فرماتے ہیں کہ وہ دل جس میں کوئی تڑپ نہیں، جو کسی بڑے مقصد کے لیے بے چین نہیں ہوتا، وہ دراصل "مردہ" ہے۔
    * مرضِ کہن کیا ہے؟ یہ وہ ذہنی غلامی، سستی اور "کمفرٹ زون" ہے جس میں ہم قید ہیں۔ ہم صرف کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں اور سو رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوموں کی تمام بیماریوں کا واحد علاج یہ ہے کہ ان کے افراد کے اندر کا دل بیدار ہو جائے۔
    شکوہ: پست خیالی کا قید خانہ
    اقبال ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری سوچ ابھی تک زمین کی پستیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ تم روٹی، کپڑا، مکان اور چھوٹی موٹی رنجشوں سے باہر نہیں نکل پائے۔
    * کائنات کی وسعتیں اور ستاروں کی بلندی تمہیں پکار رہی ہے، لیکن تم اتنے بے حس ہو چکے ہو کہ قدرت کے یہ عظیم اشارے (غمزہء ستارہ) تمہیں بے قرار ہی نہیں کرتے۔
    یہ سب کیسے ممکن ہے؟ (عملی طریقہ کار)
    اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ "خودی" کو کیسے بیدار کریں؟ اقبال کے اس فلسفے کو اپنی زندگی میں اتارنے کے لیے یہ 4 قدم اٹھائیں:
    الف: مقصدِ زندگی کا تعین (Find Your Why)
    دل تب مردہ ہوتا ہے جب زندگی کا کوئی بڑا ویژن نہ ہو۔ آج ہی کاغذ قلم اٹھائیں اور لکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ایسا مقصد جو آپ کی ذات سے بڑا ہو اور انسانیت کے کام آئے۔ جب مقصد بڑا ہوتا ہے، تو دل کی دھڑکنوں میں جنون پیدا ہوتا ہے۔
    ب: تنہائی اور خود شناسی (Self-Reflection)
    دن میں کم از کم 15 منٹ سوشل میڈیا کے شور سے دور ہو کر تنہائی میں بیٹھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ یاد رکھیں، جو شخص خود کو نہیں پہچانتا، وہ کائنات کو کیا پہچانے گا؟ خودی کی بیداری کا راستہ آپ کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔
    ج: مطالعہ اور بلند خیالی (Elevate Your Thoughts)
    اپنی پستی سے نکلنے کے لیے اپنے آئیڈیلز بدلیں۔ سستی تفریح کے بجائے وہ علم حاصل کریں جو آپ کی سوچ کو وسعت دے۔ جب آپ کا علم بڑھے گا، تو آپ کو ستاروں کی پکار سنائی دینے لگے گی اور آپ چھوٹی باتوں پر وقت ضائع کرنا چھوڑ دیں گے۔
    د: حرکت و عمل (Be Proactive)
    اقبال کے نزدیک تڑپ کا مطلب صرف سوچنا نہیں بلکہ "عمل" ہے۔ جس کام کو کرنے کا ارادہ کریں، اسے پوری روح اور جنون کے ساتھ کریں۔ سستی اور ٹال مٹول (Procrastination) مردہ دلی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ حرکت میں ہی برکت اور زندگی ہے۔
    حاصلِ کلام:
    دوستو! دنیا آپ کو ایک "نمبر" یا "صارف" (User) سمجھتی ہے، لیکن اقبال آپ کو "شاہین" دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل کو دوبارہ زندہ کریں، اپنے ضمیر کو بیدار کریں، اور یاد رکھیں کہ آپ کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہے۔
    "اٹھو! اپنے اندر کا چراغ روشن کرو، کیونکہ زندہ دل ہی تاریخ بدلتے ہیں۔"
    #AllamaIqbal #UrduPoetry #Motivation #Khudi #SelfDiscovery #Iqbaliyat #ZindaDil #SuccessMindset #Pakistan #ViralPost
    🔥 کیا آپ کا دل صرف دھڑک رہا ہے یا واقعی زندہ ہے؟ 🔥 دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشناء نہیں ہے نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزہء ستارہ (حکیم الامت علامہ محمد اقبال رح) آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے پاس سب کچھ ہے: تیز ترین انٹرنیٹ، مہنگی گاڑیاں، اور سوشل میڈیا پر ہزاروں "فرینڈز"۔ لیکن اس چکا چوند میں ایک چیز کہیں کھو گئی ہے... اور وہ ہے ہمارا "زندہ دل"۔ علامہ اقبالؒ نے ان چند مصرعوں میں پوری انسانیت اور خاص طور پر ہم نوجوانوں کو ایک زبردست "ویک اپ کال" دی ہے۔ آئیے اس پیغام کی گہرائی کو سمجھتے ہیں: 1️⃣ مسئلہ: مردہ دلی اور پرانی بیماری (مرضِ کہن) 🥀 اقبال فرماتے ہیں کہ وہ دل جس میں کوئی تڑپ نہیں، جو کسی بڑے مقصد کے لیے بے چین نہیں ہوتا، وہ دراصل "مردہ" ہے۔ * مرضِ کہن کیا ہے؟ یہ وہ ذہنی غلامی، سستی اور "کمفرٹ زون" ہے جس میں ہم قید ہیں۔ ہم صرف کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں اور سو رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوموں کی تمام بیماریوں کا واحد علاج یہ ہے کہ ان کے افراد کے اندر کا دل بیدار ہو جائے۔ 2️⃣ شکوہ: پست خیالی کا قید خانہ ⛓️ اقبال ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہاری سوچ ابھی تک زمین کی پستیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ تم روٹی، کپڑا، مکان اور چھوٹی موٹی رنجشوں سے باہر نہیں نکل پائے۔ * کائنات کی وسعتیں اور ستاروں کی بلندی تمہیں پکار رہی ہے، لیکن تم اتنے بے حس ہو چکے ہو کہ قدرت کے یہ عظیم اشارے (غمزہء ستارہ) تمہیں بے قرار ہی نہیں کرتے۔ 🛠️ یہ سب کیسے ممکن ہے؟ (عملی طریقہ کار) اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ "خودی" کو کیسے بیدار کریں؟ اقبال کے اس فلسفے کو اپنی زندگی میں اتارنے کے لیے یہ 4 قدم اٹھائیں: الف: مقصدِ زندگی کا تعین (Find Your 'Why') 🎯 دل تب مردہ ہوتا ہے جب زندگی کا کوئی بڑا ویژن نہ ہو۔ آج ہی کاغذ قلم اٹھائیں اور لکھیں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ایسا مقصد جو آپ کی ذات سے بڑا ہو اور انسانیت کے کام آئے۔ جب مقصد بڑا ہوتا ہے، تو دل کی دھڑکنوں میں جنون پیدا ہوتا ہے۔ ب: تنہائی اور خود شناسی (Self-Reflection) 🧘‍♂️ دن میں کم از کم 15 منٹ سوشل میڈیا کے شور سے دور ہو کر تنہائی میں بیٹھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ یاد رکھیں، جو شخص خود کو نہیں پہچانتا، وہ کائنات کو کیا پہچانے گا؟ خودی کی بیداری کا راستہ آپ کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ ج: مطالعہ اور بلند خیالی (Elevate Your Thoughts) 📚 اپنی پستی سے نکلنے کے لیے اپنے آئیڈیلز بدلیں۔ سستی تفریح کے بجائے وہ علم حاصل کریں جو آپ کی سوچ کو وسعت دے۔ جب آپ کا علم بڑھے گا، تو آپ کو ستاروں کی پکار سنائی دینے لگے گی اور آپ چھوٹی باتوں پر وقت ضائع کرنا چھوڑ دیں گے۔ د: حرکت و عمل (Be Proactive) 🔥 اقبال کے نزدیک تڑپ کا مطلب صرف سوچنا نہیں بلکہ "عمل" ہے۔ جس کام کو کرنے کا ارادہ کریں، اسے پوری روح اور جنون کے ساتھ کریں۔ سستی اور ٹال مٹول (Procrastination) مردہ دلی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ حرکت میں ہی برکت اور زندگی ہے۔ 📢 حاصلِ کلام: دوستو! دنیا آپ کو ایک "نمبر" یا "صارف" (User) سمجھتی ہے، لیکن اقبال آپ کو "شاہین" دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل کو دوبارہ زندہ کریں، اپنے ضمیر کو بیدار کریں، اور یاد رکھیں کہ آپ کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہے۔ "اٹھو! اپنے اندر کا چراغ روشن کرو، کیونکہ زندہ دل ہی تاریخ بدلتے ہیں۔" #AllamaIqbal #UrduPoetry #Motivation #Khudi #SelfDiscovery #Iqbaliyat #ZindaDil #SuccessMindset #Pakistan #ViralPost
    0 Commenti 0 condivisioni 1133 Views 0