• گوگل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب اس کا جدید اے آئی اسسٹنٹ Gemini، Google TV Streamer پر باقاعدہ لانچ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا Google Assistant آہستہ آہستہ ختم ہو کر مکمل طور پر Gemini سے تبدیل ہو جائے گا۔ یوں اب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ قدرتی، لچکدار اور طاقتور ہو جاتا ہے، کیونکہ Gemini وہی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو فون یا ٹیبلیٹ پر ملتی ہیں۔

    یہ تبدیلی صرف سادہ وائس کمانڈز تک محدود نہیں۔ اب صارف اپنی پسند کے مطابق پیچیدہ جملے بھی بول سکتا ہے جنہیں Gemini پوری طرح سمجھ کر جواب دے گا۔ مثال کے طور پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ “میری پسند ڈرامے ہیں اور باقی گھر والوں کو کامیڈی پسند ہے، کوئی ایسی فلم بتاؤ جو ہم سب ایک ساتھ دیکھ سکیں۔” اس سے الگ الگ سرچ کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی صارف یہ پوچھ سکتا ہے کہ “آؤٹ لینڈر کے پچھلے سیزن میں آخر میں کیا ہوا تھا؟” اور Gemini فوراً ایک مختصر recap دے دے گا تاکہ دوبارہ دیکھنے سے پہلے کہانی ذہن میں تازہ ہو جائے۔

    تفریح کے علاوہ اس اے آئی کی طاقت عام معلومات میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی بچہ کچھ پڑھ رہا ہو تو والدین ٹی وی سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ “میرے تیسرے گریڈر کو آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں سمجھاؤ۔” Gemini نہ صرف وضاحت کرے گا بلکہ اسی موضوع پر دستیاب یوٹیوب ویڈیوز بھی سامنے رکھ دے گا۔ یہی سہولت DIY پروجیکٹس، گھر کے چھوٹے موٹے کاموں اور کچن میں نئی ریسیپی بنانے تک پھیل جاتی ہے۔ یوں ٹی وی صرف اسکرین نہیں رہتا، بلکہ ایک مکمل اسمارٹ سیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    استعمال کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے۔ ریموٹ پر مائیکروفون بٹن دبائیں اور Gemini فوراً سننا شروع کر دے گا۔ گوگل کے مطابق یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں بتدریج تمام صارفین تک پہنچے گا، البتہ شرط یہ ہے کہ صارف کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو۔

    گوگل اپنے تمام ایکوسسٹم سے Google Assistant کو ہٹا کر ایک یونائٹیڈ Gemini تجربہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی نے TCL اور Hisense کے متعدد 2025 ماڈلز کے لیے بھی یہی اعلان کیا تھا، اور Walmart کے Onn 4K Pro اسٹریمر پر بھی Gemini پہلے ہی دستیاب ہے۔

    مستقبل کا اسمارٹ ٹی وی صرف آن ڈیمانڈ کنٹینٹ کے لیے نہیں رہے گا بلکہ گھریلو معلومات، لرننگ، سرچ، تفریح، ہوم ورک، کچن گائیڈز، DIY ٹیوٹوریلز اور روزمرہ سوالات سب کا مرکز بننے والا ہے۔
    اے آئی کی دنیا سے۔
    #AI via #aikiduniya
    گوگل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب اس کا جدید اے آئی اسسٹنٹ Gemini، Google TV Streamer پر باقاعدہ لانچ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا Google Assistant آہستہ آہستہ ختم ہو کر مکمل طور پر Gemini سے تبدیل ہو جائے گا۔ یوں اب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنے کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ قدرتی، لچکدار اور طاقتور ہو جاتا ہے، کیونکہ Gemini وہی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو فون یا ٹیبلیٹ پر ملتی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف سادہ وائس کمانڈز تک محدود نہیں۔ اب صارف اپنی پسند کے مطابق پیچیدہ جملے بھی بول سکتا ہے جنہیں Gemini پوری طرح سمجھ کر جواب دے گا۔ مثال کے طور پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ “میری پسند ڈرامے ہیں اور باقی گھر والوں کو کامیڈی پسند ہے، کوئی ایسی فلم بتاؤ جو ہم سب ایک ساتھ دیکھ سکیں۔” اس سے الگ الگ سرچ کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کوئی صارف یہ پوچھ سکتا ہے کہ “آؤٹ لینڈر کے پچھلے سیزن میں آخر میں کیا ہوا تھا؟” اور Gemini فوراً ایک مختصر recap دے دے گا تاکہ دوبارہ دیکھنے سے پہلے کہانی ذہن میں تازہ ہو جائے۔ تفریح کے علاوہ اس اے آئی کی طاقت عام معلومات میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی بچہ کچھ پڑھ رہا ہو تو والدین ٹی وی سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ “میرے تیسرے گریڈر کو آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں سمجھاؤ۔” Gemini نہ صرف وضاحت کرے گا بلکہ اسی موضوع پر دستیاب یوٹیوب ویڈیوز بھی سامنے رکھ دے گا۔ یہی سہولت DIY پروجیکٹس، گھر کے چھوٹے موٹے کاموں اور کچن میں نئی ریسیپی بنانے تک پھیل جاتی ہے۔ یوں ٹی وی صرف اسکرین نہیں رہتا، بلکہ ایک مکمل اسمارٹ سیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ استعمال کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے۔ ریموٹ پر مائیکروفون بٹن دبائیں اور Gemini فوراً سننا شروع کر دے گا۔ گوگل کے مطابق یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں بتدریج تمام صارفین تک پہنچے گا، البتہ شرط یہ ہے کہ صارف کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو۔ گوگل اپنے تمام ایکوسسٹم سے Google Assistant کو ہٹا کر ایک یونائٹیڈ Gemini تجربہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی نے TCL اور Hisense کے متعدد 2025 ماڈلز کے لیے بھی یہی اعلان کیا تھا، اور Walmart کے Onn 4K Pro اسٹریمر پر بھی Gemini پہلے ہی دستیاب ہے۔ مستقبل کا اسمارٹ ٹی وی صرف آن ڈیمانڈ کنٹینٹ کے لیے نہیں رہے گا بلکہ گھریلو معلومات، لرننگ، سرچ، تفریح، ہوم ورک، کچن گائیڈز، DIY ٹیوٹوریلز اور روزمرہ سوالات سب کا مرکز بننے والا ہے۔ اے آئی کی دنیا سے۔ #AI via #aikiduniya
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 477 Visualizações
  • یہ منظر کچھ ایسا تھا جیسے مستقبل اچانک اسٹیج پر چل کر آ گیا ہو۔ امریکہ سعودی انویسٹمنٹ فورم میں ایلون مسک نے وہ جملہ بول دیا جس نے پورے ٹیک حلقے میں ہلچل مچا دی کہ آنے والے وقت میں پیسہ “غیر ضروری” ہو جائے گا اور کام صرف “دل لگانے” کی سرگرمی رہ جائے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس اس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ مزدوری، آمدنی اور روزگار کی بنیادیں ہی بدل جائیں گی۔ مسک کا کہنا تھا کہ انسان پھر وہی کرے گا جو اسے مزہ دے، چاہے باغبانی ہو یا گیمنگ۔ یہ نظریہ ابتدا میں سائنس فکشن جیسا لگتا ہے مگر مسک نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ مشینیں صلاحیت میں انسانوں سے اتنی آگے نکل جائیں گی کہ معاشی ڈھانچہ از سر نو لکھنا پڑے گا۔

    اسی اسٹیج پر موجود جین سن ہوانگ کا انداز قدرےمختلف تھا۔ این ویڈیا کے سربراہ نے نرم لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا کہ کام مکمل ختم نہیں ہو گا بلکہ اس کی شکل بدل جائے گی۔ ان کے مطابق اے آئی پیچیدہ کاموں سے بوجھ ہٹا دے گی، لوگ تیزی سے زیادہ پروڈکٹیو ہوں گے، اور پرانے رولز کی جگہ نئے ہنر اور نئی ذمہ داریاں پیدا ہوں گی۔ ان کا خیال تھا کہ انسان مشینوں کے ساتھ مل کر بہتر فیصلے کرے گا، نہ کہ ان کے سائے میں غائب ہو جائے گا۔

    مسک یہاں بھی نہیں رکے۔ انہوں نے اپنے انسانی نما روبوٹ اوپٹیمس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی غربت کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹ دنیا بھر میں کام سنبھال لیں گے تو لوگوں کے لیے ایک ایسی معاشی سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہو گی جسے وہ “یونیورسل ہائی انکم” کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ حل ہے جو اس بڑے اتھل پتھل کو سنبھال سکتا ہے اور عام انسان کو سسٹم کے نیچے دبنے نہیں دے گا۔

    اس بحث نے ایک بار پھر وہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ مستقبل کا معاشرہ کیسا ہو گا۔ کیا واقعی محنت کی جگہ مشینیں لے لیں گی یا انسان نئے کرداروں میں ابھرے گا؟ کیا معیشت کو بنیاد سے بدلنا پڑے گا یا ٹیکنالوجی صرف سہولت پیدا کرے گی؟ مسک اور ہوانگ کے بیانات ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ میں مکمل انقلابی تبدیلی کی گونج ہے، دوسرے رخ میں محتاط امید کہ انسان اب بھی مرکزی کردار رہے گا۔

    آنے والے برس یہ طے کر دیں گے کہ کون صحیح تھا۔ ابھی کے لیے اتنا واضح ہے کہ یہ گفتگو کسی عام فورم کی بات نہیں تھی۔ یہ دنیا کے دو سب سے بااثر ٹیک لیڈرز کی وہ جھلک ہے جس سے آنے والے معاشی اور سماجی طوفان کا اندازہ ہوتا ہے۔
    اے آئی کی دنیا
    #aikiduniya
    یہ منظر کچھ ایسا تھا جیسے مستقبل اچانک اسٹیج پر چل کر آ گیا ہو۔ امریکہ سعودی انویسٹمنٹ فورم میں ایلون مسک نے وہ جملہ بول دیا جس نے پورے ٹیک حلقے میں ہلچل مچا دی کہ آنے والے وقت میں پیسہ “غیر ضروری” ہو جائے گا اور کام صرف “دل لگانے” کی سرگرمی رہ جائے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس اس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ مزدوری، آمدنی اور روزگار کی بنیادیں ہی بدل جائیں گی۔ مسک کا کہنا تھا کہ انسان پھر وہی کرے گا جو اسے مزہ دے، چاہے باغبانی ہو یا گیمنگ۔ یہ نظریہ ابتدا میں سائنس فکشن جیسا لگتا ہے مگر مسک نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ مشینیں صلاحیت میں انسانوں سے اتنی آگے نکل جائیں گی کہ معاشی ڈھانچہ از سر نو لکھنا پڑے گا۔ اسی اسٹیج پر موجود جین سن ہوانگ کا انداز قدرےمختلف تھا۔ این ویڈیا کے سربراہ نے نرم لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا کہ کام مکمل ختم نہیں ہو گا بلکہ اس کی شکل بدل جائے گی۔ ان کے مطابق اے آئی پیچیدہ کاموں سے بوجھ ہٹا دے گی، لوگ تیزی سے زیادہ پروڈکٹیو ہوں گے، اور پرانے رولز کی جگہ نئے ہنر اور نئی ذمہ داریاں پیدا ہوں گی۔ ان کا خیال تھا کہ انسان مشینوں کے ساتھ مل کر بہتر فیصلے کرے گا، نہ کہ ان کے سائے میں غائب ہو جائے گا۔ مسک یہاں بھی نہیں رکے۔ انہوں نے اپنے انسانی نما روبوٹ اوپٹیمس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی غربت کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹ دنیا بھر میں کام سنبھال لیں گے تو لوگوں کے لیے ایک ایسی معاشی سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہو گی جسے وہ “یونیورسل ہائی انکم” کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ حل ہے جو اس بڑے اتھل پتھل کو سنبھال سکتا ہے اور عام انسان کو سسٹم کے نیچے دبنے نہیں دے گا۔ اس بحث نے ایک بار پھر وہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ مستقبل کا معاشرہ کیسا ہو گا۔ کیا واقعی محنت کی جگہ مشینیں لے لیں گی یا انسان نئے کرداروں میں ابھرے گا؟ کیا معیشت کو بنیاد سے بدلنا پڑے گا یا ٹیکنالوجی صرف سہولت پیدا کرے گی؟ مسک اور ہوانگ کے بیانات ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ میں مکمل انقلابی تبدیلی کی گونج ہے، دوسرے رخ میں محتاط امید کہ انسان اب بھی مرکزی کردار رہے گا۔ آنے والے برس یہ طے کر دیں گے کہ کون صحیح تھا۔ ابھی کے لیے اتنا واضح ہے کہ یہ گفتگو کسی عام فورم کی بات نہیں تھی۔ یہ دنیا کے دو سب سے بااثر ٹیک لیڈرز کی وہ جھلک ہے جس سے آنے والے معاشی اور سماجی طوفان کا اندازہ ہوتا ہے۔ اے آئی کی دنیا #aikiduniya
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 356 Visualizações