• How many mutual friends we have??

    #trendingchallenge
    How many mutual friends we have?? #trendingchallenge
    0 Comments 0 Shares 511 Views
  • What is stopping you from starting freelancing?

    #trending
    What is stopping you from starting freelancing? #trending
    0 Comments 0 Shares 416 Views
  • Trending on Twitter for talking an interview and listening to a person !

    No wonder people don’t like to listen !
    Trending on Twitter for talking an interview and listening to a person ! No wonder people don’t like to listen !
    0 Comments 0 Shares 329 Views
  • https://indianexpress.com/article/trending/trending-globally/this-pakistani-man-wants-to-be-your-facebook-friend-says-this-bizarre-billboard/
    https://indianexpress.com/article/trending/trending-globally/this-pakistani-man-wants-to-be-your-facebook-friend-says-this-bizarre-billboard/
    0 Comments 0 Shares 355 Views
  • Any hand readers ? This is my right hand !

    #ShareYourHand #readhands #trending
    Any hand readers ? This is my right hand ! #ShareYourHand #readhands #trending
    0 Comments 0 Shares 595 Views
  • Anthropic just caught 3 chinese AI labs stealing from Claude

    [Funny, meme, explore, AI, claude, DeepSeek, Chinese models]

    #analyticsvidhya #meme #trending #meme #datascience #technology #tech #machinelearning #deeplearning
    Anthropic just caught 3 chinese AI labs stealing from Claude [Funny, meme, explore, AI, claude, DeepSeek, Chinese models] #analyticsvidhya #meme #trending #meme #datascience #technology #tech #machinelearning #deeplearning
    0 Comments 0 Shares 1694 Views
  • *پاکستان کا گمنام ہیرو: اشعر نثار - وہ بندہ جس نے پورے ملک کو.pk دیا*

    یار، آج تم جو بھی ویب سائٹ.pk پر کھولتے ہو نا — چاہے وہ http://daraz.pk ہو، http://pakwheels.pk ہو، یا تمہارا اپنا http://blog.pk — اس کے پیچھے ایک ایسے بندے کا دماغ ہے جس کا نام 99% پاکستانیوں نے کبھی نہیں سنا۔

    *نام ہے اشعر نثار۔*

    1989 کی بات ہے۔ انٹرنیٹ کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔ UET لاہور سے ایک لڑکا پاس آؤٹ ہوتا ہے۔ امریکہ جاتا ہے، پڑھتا ہے، لیکن دل پاکستان میں ہی اٹکا رہتا ہے۔

    1992 میں جب دنیا کہہ رہی تھی “انٹرنیٹ ترقی یافتہ ملکوں کا کھلونا ہے”، اس بندے نے کہا “نہیں، پاکستان کا بھی اپنا انٹرنیٹ کا ایڈریس ہو گا”۔ اور اکیلے بیٹھ کر.pk ڈومین رجسٹری بنا دی۔ نام رکھا PKNIC۔

    *مسئلہ کیا تھا؟*
    حکومت کو انٹرنیٹ کی سمجھ نہیں تھی۔ کوئی فنڈ نہیں، کوئی ٹیم نہیں، کوئی دفتر نہیں۔ اوپر سے دباؤ کہ “یہ انٹرنیٹ-ورنیٹ چھوڑو، ملک کے اور مسئلے ہیں”۔ لیکن یہ بندہ ڈٹا رہا۔

    گھر کے ایک کمرے سے شروع کیا۔ خود کوڈ لکھتا، خود سرور چلاتا، خود شکایتیں سنتا۔ 90s میں جب کسی کی ای میل بند ہو جاتی تو لوگ عمران انور کو فون کرتے تھے، اور عمران انور آگے اشعر نثار کو۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں انٹرنیٹ کے “باپ” صرف 2-3 لوگ تھے۔ اشعر ان میں سے ایک تھا۔

    *آج نتیجہ کیا ہے؟*
    30 سال بعد، 5 لاکھ سے زیادہ.pk ویب سائٹس لائیو ہیں۔ ہر یوٹیوبر، ہر فری لانسر، ہر سٹارٹ اپ جو “ڈاٹ پی کے” لگاتا ہے، وہ انجانے میں اشعر نثار کے بنائے ہوئے سسٹم کو استعمال کر رہا ہے۔

    اربوں روپے کی ای-کامرس انڈسٹری.pk پر کھڑی ہے۔ لیکن جس نے بنیاد رکھی، وہ نہ TV پر آتا ہے، نہ ایوارڈ لینے۔ آج بھی خاموشی سے PKNIC چلاتا ہے۔ کبھی تصویر تک نیٹ پر نہیں ملتی۔

    *اسے گمنام کیوں کہتے ہیں؟*
    کیونکہ ہم ہیرو اسے کہتے ہیں جو دھماکہ کرے۔ جو خاموشی سے پوری قوم کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنا دے، اسے ہم بھول جاتے ہیں۔

    عمران خان، عبدالقدیر خان کو سب جانتے ہیں۔ لیکن جس نے پاکستان کو انٹرنیٹ کا “شناختی کارڈ” دیا، اس کا نام لینے والا کوئی نہیں۔

    *ٹکنالوجی کی طاقت یہی ہے دوستو*
    یہ شور نہیں کرتی۔ یہ بس ایک بندے کو لیپ ٹاپ دے دیتی ہے اور وہ پوری قوم کا مستقبل کوڈ کر دیتا ہے۔

    اشعر نثار نے کوئی ایٹم بم نہیں بنایا۔ اس نے اس سے زیادہ خطرناک چیز بنائی: موقع۔
    اس.pk کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے آن لائن کاروبار شروع کیے۔ لاکھوں فری لانسرز نے ڈالر کمائے۔ اگر 1992 میں یہ بندہ ہمت ہار جاتا، تو آج ہم سب.com کے کرائے دار ہوتے۔

    *سبق کیا ملا؟*
    ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سٹیج پر کھڑا ہو۔ ہیرو وہ ہوتا ہے جس کے کندھے پر سٹیج کھڑا ہو۔

    اشعر نثار، عمران انور، ایلوی برادران — یہ پاکستان کی IT انڈسٹری کے اصل باپ ہیں۔ ان کے بغیر نہ تمہاری فیس بک پوسٹ.pk پر رینک کرتی، نہ تمہارا دراز سٹور چلتا۔

    اگلی بار جب کوئی.pk ویب سائٹ کھولو، تو ایک سیکنڈ کے لیے اس گمنام بندے کا شکریہ ادا کر دینا جس نے 1992 میں کہا تھا “پاکستان کا بھی اپنا ڈومین ہو گا”۔

    https://www.linkedin.com/in/ashar-nisar-53599610?utm_source=share_via&utm_content=profile&utm_medium=member_ios

    #UnsungHeroes #PakistanTech #PKNIC #AsharNisar #DigitalPakistan #TechKaBaap #PakistanOnWorldStage #USIranTalks #Geopolitics #WorldPolitics #AIWala #BreakingNews #SecretService #viral #trending #invisiblefortress
    *پاکستان کا گمنام ہیرو: اشعر نثار - وہ بندہ جس نے پورے ملک کو.pk دیا* 🇵🇰💻 یار، آج تم جو بھی ویب سائٹ.pk پر کھولتے ہو نا — چاہے وہ http://daraz.pk ہو، http://pakwheels.pk ہو، یا تمہارا اپنا http://blog.pk — اس کے پیچھے ایک ایسے بندے کا دماغ ہے جس کا نام 99% پاکستانیوں نے کبھی نہیں سنا۔ *نام ہے اشعر نثار۔* 1989 کی بات ہے۔ انٹرنیٹ کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔ UET لاہور سے ایک لڑکا پاس آؤٹ ہوتا ہے۔ امریکہ جاتا ہے، پڑھتا ہے، لیکن دل پاکستان میں ہی اٹکا رہتا ہے۔ 1992 میں جب دنیا کہہ رہی تھی “انٹرنیٹ ترقی یافتہ ملکوں کا کھلونا ہے”، اس بندے نے کہا “نہیں، پاکستان کا بھی اپنا انٹرنیٹ کا ایڈریس ہو گا”۔ اور اکیلے بیٹھ کر.pk ڈومین رجسٹری بنا دی۔ نام رکھا PKNIC۔ *مسئلہ کیا تھا؟* حکومت کو انٹرنیٹ کی سمجھ نہیں تھی۔ کوئی فنڈ نہیں، کوئی ٹیم نہیں، کوئی دفتر نہیں۔ اوپر سے دباؤ کہ “یہ انٹرنیٹ-ورنیٹ چھوڑو، ملک کے اور مسئلے ہیں”۔ لیکن یہ بندہ ڈٹا رہا۔ گھر کے ایک کمرے سے شروع کیا۔ خود کوڈ لکھتا، خود سرور چلاتا، خود شکایتیں سنتا۔ 90s میں جب کسی کی ای میل بند ہو جاتی تو لوگ عمران انور کو فون کرتے تھے، اور عمران انور آگے اشعر نثار کو۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں انٹرنیٹ کے “باپ” صرف 2-3 لوگ تھے۔ اشعر ان میں سے ایک تھا۔ *آج نتیجہ کیا ہے؟* 30 سال بعد، 5 لاکھ سے زیادہ.pk ویب سائٹس لائیو ہیں۔ ہر یوٹیوبر، ہر فری لانسر، ہر سٹارٹ اپ جو “ڈاٹ پی کے” لگاتا ہے، وہ انجانے میں اشعر نثار کے بنائے ہوئے سسٹم کو استعمال کر رہا ہے۔ اربوں روپے کی ای-کامرس انڈسٹری.pk پر کھڑی ہے۔ لیکن جس نے بنیاد رکھی، وہ نہ TV پر آتا ہے، نہ ایوارڈ لینے۔ آج بھی خاموشی سے PKNIC چلاتا ہے۔ کبھی تصویر تک نیٹ پر نہیں ملتی۔ *اسے گمنام کیوں کہتے ہیں؟* کیونکہ ہم ہیرو اسے کہتے ہیں جو دھماکہ کرے۔ جو خاموشی سے پوری قوم کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنا دے، اسے ہم بھول جاتے ہیں۔ عمران خان، عبدالقدیر خان کو سب جانتے ہیں۔ لیکن جس نے پاکستان کو انٹرنیٹ کا “شناختی کارڈ” دیا، اس کا نام لینے والا کوئی نہیں۔ *ٹکنالوجی کی طاقت یہی ہے دوستو* یہ شور نہیں کرتی۔ یہ بس ایک بندے کو لیپ ٹاپ دے دیتی ہے اور وہ پوری قوم کا مستقبل کوڈ کر دیتا ہے۔ اشعر نثار نے کوئی ایٹم بم نہیں بنایا۔ اس نے اس سے زیادہ خطرناک چیز بنائی: موقع۔ اس.pk کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے آن لائن کاروبار شروع کیے۔ لاکھوں فری لانسرز نے ڈالر کمائے۔ اگر 1992 میں یہ بندہ ہمت ہار جاتا، تو آج ہم سب.com کے کرائے دار ہوتے۔ *سبق کیا ملا؟* ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سٹیج پر کھڑا ہو۔ ہیرو وہ ہوتا ہے جس کے کندھے پر سٹیج کھڑا ہو۔ اشعر نثار، عمران انور، ایلوی برادران — یہ پاکستان کی IT انڈسٹری کے اصل باپ ہیں۔ ان کے بغیر نہ تمہاری فیس بک پوسٹ.pk پر رینک کرتی، نہ تمہارا دراز سٹور چلتا۔ اگلی بار جب کوئی.pk ویب سائٹ کھولو، تو ایک سیکنڈ کے لیے اس گمنام بندے کا شکریہ ادا کر دینا جس نے 1992 میں کہا تھا “پاکستان کا بھی اپنا ڈومین ہو گا”۔ https://www.linkedin.com/in/ashar-nisar-53599610?utm_source=share_via&utm_content=profile&utm_medium=member_ios #UnsungHeroes #PakistanTech #PKNIC #AsharNisar #DigitalPakistan #TechKaBaap #PakistanOnWorldStage #USIranTalks #Geopolitics #WorldPolitics #AIWala #BreakingNews #SecretService #viral #trending #invisiblefortress
    0 Comments 0 Shares 2074 Views
  • وہ پانچ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے


    ملتان کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والا بلال روزانہ شام کو چھت پر بیٹھ کر موبائل کی چھوٹی سی سکرین پر یوٹیوب دیکھتا ہے۔ اس کی عمر بائیس سال ہے، گریجویشن مکمل ہے، مگر نوکری کا کوئی پتہ نہیں۔

    ایک دن اس کے کزن نے دبئی سے فون کیا۔ وہاں وہ آن لائن کام کر کے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ بلال نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا، "بھائی، میں بھی سیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر گھر میں کمپیوٹر نہیں ہے۔"

    کزن نے بتایا کہ دبئی میں استعمال شدہ کروم بک تین ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ بلال حیران رہ گیا۔ اس نے لاہور کے دوست سے پتہ کروایا، تو وہی کروم بک پاکستان میں آٹھ سے بارہ ہزار میں مل رہی تھی، اور وہ بھی بمشکل۔

    بلال کے والد ایک سرکاری اسکول میں چپڑاسی ہیں۔ ان کی پوری تنخواہ گھر کے راشن، بجلی کے بل، اور بچوں کی فیس میں ختم ہو جاتی ہے۔ بارہ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ ان کے لیے ایک خواب ہے۔

    اور بلال اکیلا نہیں ہے۔ اس جیسے کروڑوں نوجوان آج پاکستان میں اپنے خواب موبائل کی چار انچ کی سکرین پر دفن کر رہے ہیں۔


    پاکستان آج ایک عجیب موڑ پر کھڑا ہے۔ حکومت اربوں روپے کے GPU فارمز اور ڈیٹا سینٹرز بنانے کا اعلان کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے بڑے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان مشینوں کو استعمال کون کرے گا؟

    ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی نصف سے بھی کم آبادی کے پاس انٹرنیٹ تک باقاعدہ رسائی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، اور سری لنکا ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں دن میں آٹھ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔

    ہم ایسا گھر بنا رہے ہیں جس کی چھت پہلے ڈالی جا رہی ہے، اور بنیاد ابھی تک کھدی ہوئی نہیں۔


    تحریر: عمیر ابوبکر


    اب ذرا فرض کیجیے۔ حکومت ایک فیصلہ کرتی ہے۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے استعمال شدہ لیپ ٹاپ پر تمام ٹیکس صفر۔ امپورٹ ڈیوٹی ختم۔ پی ٹی اے ٹیکس ختم۔

    نتیجہ کیا ہو گا؟ بلال کے گھر میں ایک کروم بک پانچ ہزار روپے میں آ جائے گی۔ وہی کروم بک جس پر وہ یوٹیوب سے گرافک ڈیزائن سیکھے گا، فائیور پر اکاؤنٹ بنائے گا، اور چھ ماہ بعد گھر بیٹھے ڈالر کمانا شروع کر دے گا۔

    دوسرا قدم۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے سمارٹ فون پر بھی تمام ٹیکس ختم۔ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک کھڑکی، جو دنیا کی طرف کھلے۔

    تیسرا قدم۔ بینک اور ای کامرس کمپنیاں مل کر ایک ایسا نظام بنائیں جس کے ذریعے ہر بالغ پاکستانی کو آسان قسطوں پر لیپ ٹاپ، موٹر سائیکل، اور سولر سسٹم مل سکے۔ بغیر سود کے، بغیر بھاری شرائط کے۔

    چوتھا قدم۔ ہر گھر میں ایک چھوٹا سولر سسٹم۔ پینل، بیٹری، انورٹر۔ کیونکہ بجلی کے بغیر ڈیجیٹل دنیا کا کوئی مطلب نہیں۔

    پانچواں قدم۔ نئے صارفین کے لیے چھ ماہ کا مفت بنیادی انٹرنیٹ۔ پہلے انہیں استعمال کرنے دیں، پھر بل دینے کا کہیں۔


    یہ خیالی پلاؤ نہیں ہے۔ ایسٹونیا، جو ہم سے بہت چھوٹا ملک ہے، اس نے یہی راستہ اپنایا تھا۔ پہلے ہر شہری کو ڈیجیٹل بنایا، پھر دنیا کا سب سے ایڈوانس ڈیجیٹل ملک بن گیا۔ آج ایسٹونیا میں ننانوے فیصد سرکاری خدمات آن لائن ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنے ہر شہری کو ڈیجیٹل آئی ڈی دی، اور آج وہ خطے کا سب سے بڑا ٹیک ہب بن چکا ہے۔ جارجیا نے ٹیکس کا پورا نظام ڈیجیٹل کر دیا، اور کرپشن میں زبردست کمی آئی۔

    ذرا حساب لگائیے۔ اگر صرف پانچ کروڑ پاکستانی نوجوان مہینے کے سو ڈالر بھی کمانے لگیں، تو یہ سالانہ ساٹھ ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ ہمارے کل بیرونی قرضے کے قریب ہے۔

    ہمارا اصل اثاثہ زمین کے نیچے دبا خزانہ نہیں۔ ہمارا اصل اثاثہ ہمارے گھروں میں بیٹھا نوجوان ہے۔ اسے بس ایک کھڑکی دیجیے، باقی وہ خود کر لے گا۔

    پاکستان کو GPU سے پہلے کروم بک چاہیے۔ AI سے پہلے بجلی چاہیے۔ ڈیٹا سینٹر سے پہلے ڈیٹا استعمال کرنے والا انسان چاہیے۔

    اگر آج بلال کے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ آ جائے، تو کل وہ پاکستان کا اگلا فری لانسر، اگلا کاروباری، اگلا انجینئر بن سکتا ہے۔

    سوال صرف اتنا ہے۔ کیا ہم اس بلال کو ایک موقع دیں گے، یا اسے بھی بے روزگاری کی قطار میں لگا کر بھول جائیں گے؟


    یہ پوسٹ صرف پڑھ کر آگے مت گزر جائیے۔ آپ کا ایک شیئر کسی غریب گھر کے بلال کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جب تک یہ بات حکومت کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی، حالات نہیں بدلیں گے۔ یہ آواز اٹھانا صرف صحافی کا کام نہیں، آپ کا بھی ہے، میرا بھی ہے۔ شیئر کیجیے، تاکہ یہ پیغام وزیراعظم اور آرمی چیف کے میز تک پہنچے۔

    کمنٹ میں مجھے بتائیے۔ کیا آپ کے گھر یا محلے میں کوئی نوجوان ہے جو صرف لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دور بیٹھا ہے؟ اور آپ کی نظر میں حکومت کا پہلا قدم کیا ہونا چاہیے، سستا لیپ ٹاپ، مفت انٹرنیٹ، یا ہر گھر میں سولر؟

    اور سب سے اہم بات۔ کمنٹ میں ان اداروں کو ٹیگ کیجیے تاکہ یہ آواز ان تک پہنچے۔ Prime Minister Office Pakistan، Ministry of IT and Telecommunication، PTA Pakistan، Ignite National Technology Fund، Pakistan Software Export Board، Higher Education Commission Pakistan، اور Special Investment Facilitation Council۔


    #Pakistan #DigitalPakistan #PakistanEconomy #Viral #Trending #ITPakistan #PakistaniAwam #FreelancingPakistan

    Via Umair Abubakkar
    وہ پانچ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے ملتان کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والا بلال روزانہ شام کو چھت پر بیٹھ کر موبائل کی چھوٹی سی سکرین پر یوٹیوب دیکھتا ہے۔ اس کی عمر بائیس سال ہے، گریجویشن مکمل ہے، مگر نوکری کا کوئی پتہ نہیں۔ ایک دن اس کے کزن نے دبئی سے فون کیا۔ وہاں وہ آن لائن کام کر کے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ بلال نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا، "بھائی، میں بھی سیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر گھر میں کمپیوٹر نہیں ہے۔" کزن نے بتایا کہ دبئی میں استعمال شدہ کروم بک تین ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ بلال حیران رہ گیا۔ اس نے لاہور کے دوست سے پتہ کروایا، تو وہی کروم بک پاکستان میں آٹھ سے بارہ ہزار میں مل رہی تھی، اور وہ بھی بمشکل۔ بلال کے والد ایک سرکاری اسکول میں چپڑاسی ہیں۔ ان کی پوری تنخواہ گھر کے راشن، بجلی کے بل، اور بچوں کی فیس میں ختم ہو جاتی ہے۔ بارہ ہزار روپے کا لیپ ٹاپ ان کے لیے ایک خواب ہے۔ اور بلال اکیلا نہیں ہے۔ اس جیسے کروڑوں نوجوان آج پاکستان میں اپنے خواب موبائل کی چار انچ کی سکرین پر دفن کر رہے ہیں۔ 💔 پاکستان آج ایک عجیب موڑ پر کھڑا ہے۔ حکومت اربوں روپے کے GPU فارمز اور ڈیٹا سینٹرز بنانے کا اعلان کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے بڑے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان مشینوں کو استعمال کون کرے گا؟ ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی نصف سے بھی کم آبادی کے پاس انٹرنیٹ تک باقاعدہ رسائی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، اور سری لنکا ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں دن میں آٹھ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔ ہم ایسا گھر بنا رہے ہیں جس کی چھت پہلے ڈالی جا رہی ہے، اور بنیاد ابھی تک کھدی ہوئی نہیں۔ تحریر: عمیر ابوبکر اب ذرا فرض کیجیے۔ حکومت ایک فیصلہ کرتی ہے۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے استعمال شدہ لیپ ٹاپ پر تمام ٹیکس صفر۔ امپورٹ ڈیوٹی ختم۔ پی ٹی اے ٹیکس ختم۔ نتیجہ کیا ہو گا؟ بلال کے گھر میں ایک کروم بک پانچ ہزار روپے میں آ جائے گی۔ وہی کروم بک جس پر وہ یوٹیوب سے گرافک ڈیزائن سیکھے گا، فائیور پر اکاؤنٹ بنائے گا، اور چھ ماہ بعد گھر بیٹھے ڈالر کمانا شروع کر دے گا۔ ✨ دوسرا قدم۔ سو ڈالر سے کم قیمت کے سمارٹ فون پر بھی تمام ٹیکس ختم۔ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک کھڑکی، جو دنیا کی طرف کھلے۔ تیسرا قدم۔ بینک اور ای کامرس کمپنیاں مل کر ایک ایسا نظام بنائیں جس کے ذریعے ہر بالغ پاکستانی کو آسان قسطوں پر لیپ ٹاپ، موٹر سائیکل، اور سولر سسٹم مل سکے۔ بغیر سود کے، بغیر بھاری شرائط کے۔ چوتھا قدم۔ ہر گھر میں ایک چھوٹا سولر سسٹم۔ پینل، بیٹری، انورٹر۔ کیونکہ بجلی کے بغیر ڈیجیٹل دنیا کا کوئی مطلب نہیں۔ پانچواں قدم۔ نئے صارفین کے لیے چھ ماہ کا مفت بنیادی انٹرنیٹ۔ پہلے انہیں استعمال کرنے دیں، پھر بل دینے کا کہیں۔ یہ خیالی پلاؤ نہیں ہے۔ ایسٹونیا، جو ہم سے بہت چھوٹا ملک ہے، اس نے یہی راستہ اپنایا تھا۔ پہلے ہر شہری کو ڈیجیٹل بنایا، پھر دنیا کا سب سے ایڈوانس ڈیجیٹل ملک بن گیا۔ آج ایسٹونیا میں ننانوے فیصد سرکاری خدمات آن لائن ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اپنے ہر شہری کو ڈیجیٹل آئی ڈی دی، اور آج وہ خطے کا سب سے بڑا ٹیک ہب بن چکا ہے۔ جارجیا نے ٹیکس کا پورا نظام ڈیجیٹل کر دیا، اور کرپشن میں زبردست کمی آئی۔ ذرا حساب لگائیے۔ اگر صرف پانچ کروڑ پاکستانی نوجوان مہینے کے سو ڈالر بھی کمانے لگیں، تو یہ سالانہ ساٹھ ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ ہمارے کل بیرونی قرضے کے قریب ہے۔ 💰 ہمارا اصل اثاثہ زمین کے نیچے دبا خزانہ نہیں۔ ہمارا اصل اثاثہ ہمارے گھروں میں بیٹھا نوجوان ہے۔ اسے بس ایک کھڑکی دیجیے، باقی وہ خود کر لے گا۔ پاکستان کو GPU سے پہلے کروم بک چاہیے۔ AI سے پہلے بجلی چاہیے۔ ڈیٹا سینٹر سے پہلے ڈیٹا استعمال کرنے والا انسان چاہیے۔ 🌱 اگر آج بلال کے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ آ جائے، تو کل وہ پاکستان کا اگلا فری لانسر، اگلا کاروباری، اگلا انجینئر بن سکتا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے۔ کیا ہم اس بلال کو ایک موقع دیں گے، یا اسے بھی بے روزگاری کی قطار میں لگا کر بھول جائیں گے؟ ❤️ یہ پوسٹ صرف پڑھ کر آگے مت گزر جائیے۔ آپ کا ایک شیئر کسی غریب گھر کے بلال کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جب تک یہ بات حکومت کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی، حالات نہیں بدلیں گے۔ یہ آواز اٹھانا صرف صحافی کا کام نہیں، آپ کا بھی ہے، میرا بھی ہے۔ شیئر کیجیے، تاکہ یہ پیغام وزیراعظم اور آرمی چیف کے میز تک پہنچے۔ ✍️ کمنٹ میں مجھے بتائیے۔ کیا آپ کے گھر یا محلے میں کوئی نوجوان ہے جو صرف لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دور بیٹھا ہے؟ اور آپ کی نظر میں حکومت کا پہلا قدم کیا ہونا چاہیے، سستا لیپ ٹاپ، مفت انٹرنیٹ، یا ہر گھر میں سولر؟ 📢 اور سب سے اہم بات۔ کمنٹ میں ان اداروں کو ٹیگ کیجیے تاکہ یہ آواز ان تک پہنچے۔ Prime Minister Office Pakistan، Ministry of IT and Telecommunication، PTA Pakistan، Ignite National Technology Fund، Pakistan Software Export Board، Higher Education Commission Pakistan، اور Special Investment Facilitation Council۔ #Pakistan #DigitalPakistan #PakistanEconomy #Viral #Trending #ITPakistan #PakistaniAwam #FreelancingPakistan Via Umair Abubakkar
    0 Comments 0 Shares 1113 Views