• ### *علی خیرپوری کی کہانی* — ایک عام لڑکے سے قوم کے معمار تک

    **سال: 2029**
    **مقام: ریحان کالج کراچی — ڈپلومہ تقسیم کی تقریب**

    اسٹیج پر ایک دراز قد، سنجیدہ چہرے والا نوجوان کھڑا تھا۔ ہاتھ میں ڈپلومہ تھا، آنکھوں میں روشنی۔ نام پکارا گیا:

    **"علی رند ولد غلام محمد رند — خیرپور سندھ!"**

    تالیوں کی گونج میں وہ مائیک تک آیا، جھکا، اور بولا:

    > "چار سال پہلے میں گاؤں کا ایک سادہ سا لڑکا تھا، موبائل کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔ آج میں 400 بچوں کو AI، انگلش، اور انسانیت سکھا رہا ہوں۔"

    ---

    ### *چار سال پہلے...*

    علی جب پہلی بار ریحان کالج آیا، تو وہ گھبرایا ہوا تھا۔ کراچی کی چمکتی بلڈنگز، تیز بولنے والے لوگ، اور وہ انگریزی جو اسے کبھی سمجھ نہیں آئی۔

    لیکن یہاں کچھ الگ تھا۔

    *ہر دن کا وقت طے شدہ تھا۔*
    صبح 8 بجے جاگنا، 9 بجے صفائی، 10 بجے AI سیکھنا، 1 بجے کام کرنا — کبھی اسکول کی پلمبنگ، کبھی درخت لگانا، کبھی کلاس پڑھانا۔

    ---

    ### *پہلا سال — سیکھنے کا جنون*

    علی نے سیکھا:

    * کس طرح چیٹ جی پی ٹی سے اردو میں سوال کر کے انگریزی میں جواب لینا ہے
    * اے سی سی ایل (ACCL) کتاب کا پہلا لیول — "میں کون ہوں؟ میں کیا کر سکتا ہوں؟"

    اس نے ویڈیوز دیکھ کر اور ساتھیوں سے مدد لے کر پہلا لیول خود مکمل کیا۔ پھر دوسروں کو سکھانا شروع کیا۔

    ---

    ### *دوسرا سال — کام سے تربیت*

    اس نے بیت الخلاء صاف کیے، دیواروں کو رنگ کیا، اسکول کے پرانے پنکھے خود ٹھیک کیے۔
    اب وہ صرف پڑھنے والا نہیں تھا — *چیزیں بنانے والا، ٹھیک کرنے والا، سنوارنے والا بن گیا تھا۔*

    ---

    ### 🗣 *تیسرا سال — سکھانے والا*

    علی نے ACCL کے تین لیول مکمل کیے۔ اب وہ خود ٹیچر بن چکا تھا۔

    *اس نے ہر جمعے کو اپنے گاؤں زوم کال پر دوستوں کو سکھانا شروع کیا۔*

    اس کا گاؤں اب صرف گندم کاشت کرنے والا گاؤں نہیں تھا — وہاں AI کی بات ہو رہی تھی۔

    ---

    ### *چوتھا سال — واپس خیرپور*

    ریحان کالج سے آخری سال کی چھٹیوں میں، علی خیرپور واپس آیا۔
    اس نے ایک خالی کمرہ لیا، اسے صاف کیا، اور وہاں 20 بچوں کو **ACCL اور انگلش** سکھانا شروع کیا۔

    **اس کا خواب؟**
    ہر بچے کو یہ سکھانا کہ وہ *سوچ سکتا ہے، سیکھ سکتا ہے، کچھ کر سکتا ہے۔*

    ---

    ### *آج کا دن — ڈپلومہ ملنے کا دن*

    علی کے ساتھ اسٹیج پر اس کی ماں تھی۔ وہ رو رہی تھیں، فخر سے۔
    ایک وقت تھا جب وہ سمجھتی تھیں "یہ شہر جا کے کیا کرے گا؟"
    آج وہ جانتی تھیں — *اس نے صرف اپنی زندگی نہیں بدلی، پورا قبیلہ جگا دیا۔*

    ---

    **علی کی آخری بات:**

    > “ریحان کالج نے مجھے بتایا کہ میں صرف خیرپور کا لڑکا نہیں ہوں — میں **پاکستان کا مستقبل** ہوں۔”
    ### 🎓 *علی خیرپوری کی کہانی* — ایک عام لڑکے سے قوم کے معمار تک **سال: 2029** **مقام: ریحان کالج کراچی — ڈپلومہ تقسیم کی تقریب** اسٹیج پر ایک دراز قد، سنجیدہ چہرے والا نوجوان کھڑا تھا۔ ہاتھ میں ڈپلومہ تھا، آنکھوں میں روشنی۔ نام پکارا گیا: **"علی رند ولد غلام محمد رند — خیرپور سندھ!"** تالیوں کی گونج میں وہ مائیک تک آیا، جھکا، اور بولا: > "چار سال پہلے میں گاؤں کا ایک سادہ سا لڑکا تھا، موبائل کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔ آج میں 400 بچوں کو AI، انگلش، اور انسانیت سکھا رہا ہوں۔" --- ### 📖 *چار سال پہلے...* علی جب پہلی بار ریحان کالج آیا، تو وہ گھبرایا ہوا تھا۔ کراچی کی چمکتی بلڈنگز، تیز بولنے والے لوگ، اور وہ انگریزی جو اسے کبھی سمجھ نہیں آئی۔ لیکن یہاں کچھ الگ تھا۔ *ہر دن کا وقت طے شدہ تھا۔* صبح 8 بجے جاگنا، 9 بجے صفائی، 10 بجے AI سیکھنا، 1 بجے کام کرنا — کبھی اسکول کی پلمبنگ، کبھی درخت لگانا، کبھی کلاس پڑھانا۔ --- ### 🧠 *پہلا سال — سیکھنے کا جنون* علی نے سیکھا: * کس طرح چیٹ جی پی ٹی سے اردو میں سوال کر کے انگریزی میں جواب لینا ہے * اے سی سی ایل (ACCL) کتاب کا پہلا لیول — "میں کون ہوں؟ میں کیا کر سکتا ہوں؟" اس نے ویڈیوز دیکھ کر اور ساتھیوں سے مدد لے کر پہلا لیول خود مکمل کیا۔ پھر دوسروں کو سکھانا شروع کیا۔ --- ### 🧹 *دوسرا سال — کام سے تربیت* اس نے بیت الخلاء صاف کیے، دیواروں کو رنگ کیا، اسکول کے پرانے پنکھے خود ٹھیک کیے۔ اب وہ صرف پڑھنے والا نہیں تھا — *چیزیں بنانے والا، ٹھیک کرنے والا، سنوارنے والا بن گیا تھا۔* --- ### 🗣 *تیسرا سال — سکھانے والا* علی نے ACCL کے تین لیول مکمل کیے۔ اب وہ خود ٹیچر بن چکا تھا۔ *اس نے ہر جمعے کو اپنے گاؤں زوم کال پر دوستوں کو سکھانا شروع کیا۔* اس کا گاؤں اب صرف گندم کاشت کرنے والا گاؤں نہیں تھا — وہاں AI کی بات ہو رہی تھی۔ --- ### 🌱 *چوتھا سال — واپس خیرپور* ریحان کالج سے آخری سال کی چھٹیوں میں، علی خیرپور واپس آیا۔ اس نے ایک خالی کمرہ لیا، اسے صاف کیا، اور وہاں 20 بچوں کو **ACCL اور انگلش** سکھانا شروع کیا۔ **اس کا خواب؟** ہر بچے کو یہ سکھانا کہ وہ *سوچ سکتا ہے، سیکھ سکتا ہے، کچھ کر سکتا ہے۔* --- ### 🎓 *آج کا دن — ڈپلومہ ملنے کا دن* علی کے ساتھ اسٹیج پر اس کی ماں تھی۔ وہ رو رہی تھیں، فخر سے۔ ایک وقت تھا جب وہ سمجھتی تھیں "یہ شہر جا کے کیا کرے گا؟" آج وہ جانتی تھیں — *اس نے صرف اپنی زندگی نہیں بدلی، پورا قبیلہ جگا دیا۔* --- **علی کی آخری بات:** > “ریحان کالج نے مجھے بتایا کہ میں صرف خیرپور کا لڑکا نہیں ہوں — میں **پاکستان کا مستقبل** ہوں۔”
    0 Commentarios 0 Acciones 616 Views
  • ریحان کالج

    مفت ہاسٹل
    مفت کھانا
    مفت لیپ ٹاپ
    مفت 4 سالہ کالج ایجوکیشن

    0323 2145557
    ✨ ریحان کالج ✨ مفت ہاسٹل مفت کھانا مفت لیپ ٹاپ مفت 4 سالہ کالج ایجوکیشن 📞 0323 2145557
    0 Commentarios 0 Acciones 126 Views
  • "بارش کے پہلے قطرے کی طرح..."
    ہم دل کی گہرائیوں سے بلاول علی کو خوش آمدید کہتے ہیں جو گمبٹ – خیرپور میرس، سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور اب باقاعدہ طور پر ریحان کالج کا حصہ بن چکے ہیں۔

    ان کا فیصلہ ایک بامقصد سفر کی شروعات ہے — اور ہم ان کے اعتماد کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

    ریحان کالج میں ہمارا نعرہ ہے: "ہم صرف تعلیم نہیں دیتے، ہم مستقبل بناتے ہیں!"

    بلاول کا قدم بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔
    ریحان کالج آپ کا بھی منتظر ہے۔
    اپنی انا کو پسِ پشت ڈالیں، پہلا قدم بڑھائیں — اور خود کو مستقبل کی قیادت کے قابل ثابت کریں۔

    رابطہ کریں: 0310-2886045 | 0301-2985826
    ریحان کالج — جہاں مقصد بنتا ہے مستقبل

    #RehanCollege #WelcomeOnBoard #LeadershipBeginsHere #KhairpurMirs #RehanFoundation #ہم_مستقبل_بناتے_ہیں
    Rehan Allahwala Rehan School Korangi Campus Rehan School Online Academy

    "Like the First Drop Before the Rain..."
    We warmly welcome Bilawal Ali from Ghumbat – Khairpur Mirs, Sindh, who has officially joined Rehan College!

    His decision marks the beginning of a meaningful journey — and we are truly grateful for the trust he has placed in us.

    At Rehan College, “We Don’t Just Teach, We Build Futures.”

    Bilawal’s step forward is an inspiration for many.
    Rehan College is waiting for you too. Let go of ego, take that bold step — and prove yourself capable of becoming the leader of tomorrow.

    Apply Now: 0310-2886045 | 0301-2985826
    Rehan College — Where Purpose Meets Progress

    #RehanCollege #LeadershipBeginsHere #WelcomeOnBoard #KhairpurMirs #RehanFoundation #WeBuildFutures
    🌧️ "بارش کے پہلے قطرے کی طرح..." 🌧️ ہم دل کی گہرائیوں سے بلاول علی کو خوش آمدید کہتے ہیں جو گمبٹ – خیرپور میرس، سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور اب باقاعدہ طور پر ریحان کالج کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کا فیصلہ ایک بامقصد سفر کی شروعات ہے — اور ہم ان کے اعتماد کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ 🎓 ریحان کالج میں ہمارا نعرہ ہے: "ہم صرف تعلیم نہیں دیتے، ہم مستقبل بناتے ہیں!" بلاول کا قدم بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔ ریحان کالج آپ کا بھی منتظر ہے۔ اپنی انا کو پسِ پشت ڈالیں، پہلا قدم بڑھائیں — اور خود کو مستقبل کی قیادت کے قابل ثابت کریں۔ 📞 رابطہ کریں: 0310-2886045 | 0301-2985826 📍 ریحان کالج — جہاں مقصد بنتا ہے مستقبل #RehanCollege #WelcomeOnBoard #LeadershipBeginsHere #KhairpurMirs #RehanFoundation #ہم_مستقبل_بناتے_ہیں Rehan Allahwala Rehan School Korangi Campus Rehan School Online Academy 🌧️ "Like the First Drop Before the Rain..." 🌧️ We warmly welcome Bilawal Ali from Ghumbat – Khairpur Mirs, Sindh, who has officially joined Rehan College! His decision marks the beginning of a meaningful journey — and we are truly grateful for the trust he has placed in us. 🎓 At Rehan College, “We Don’t Just Teach, We Build Futures.” Bilawal’s step forward is an inspiration for many. Rehan College is waiting for you too. Let go of ego, take that bold step — and prove yourself capable of becoming the leader of tomorrow. 📞 Apply Now: 0310-2886045 | 0301-2985826 📍 Rehan College — Where Purpose Meets Progress #RehanCollege #LeadershipBeginsHere #WelcomeOnBoard #KhairpurMirs #RehanFoundation #WeBuildFutures
    0 Commentarios 0 Acciones 486 Views
  • Laptops Distribution Ceremony

    آج ریحان کالج
    میں ایک اور قابلِ فخر لمحہ —
    جب ہمارے ٹرینی طلبہ کو
    Mohsin Rathore Seo Wala

    کے ہاتھوں سے
    Laptops
    تقسیم کیے گئے۔

    یہ لیپ ٹاپس نہ صرف ہمارے اسٹوڈنٹس کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہوں گے، بلکہ ان کی ڈیجیٹل مہارتوں (skills) کو بہتر بنا کر انہیں ایک بااعتماد اور باصلاحیت فرد میں ڈھالیں گے۔

    ہم Rehan College میں پاکستان کے مستقبل کو تیار کر رہے ہیں — ایک ایسا مستقبل جو تعلیم، تربیت اور قیادت سے روشن ہو۔

    اگر آپ بھی خود کو کچھ سیکھنے، بنانے اور آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، تو ابھی Rehan College کا حصہ بنیے —
    جہاں صرف وعدے نہیں، بلکہ حقیقی تربیت دی جاتی ہے۔

    0310-2886045 | 0301-2985826
    Korangi, Karachi
    rehancollege.com

    #RehanCollege #DigitalPakistan #LaptopDistribution #FutureLeaders #SkillDevelopment #SirMohsinRathore #YouthEmpowerment #Karachi
    📢 Laptops Distribution Ceremony 💻✨ 🏬آج ریحان کالج 🎪میں ایک اور قابلِ فخر لمحہ — جب ہمارے ٹرینی طلبہ کو Mohsin Rathore Seo Wala کے ہاتھوں سے Laptops تقسیم کیے گئے۔ یہ لیپ ٹاپس نہ صرف ہمارے اسٹوڈنٹس کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہوں گے، بلکہ ان کی ڈیجیٹل مہارتوں (skills) کو بہتر بنا کر انہیں ایک بااعتماد اور باصلاحیت فرد میں ڈھالیں گے۔ 🌱 ہم Rehan College میں پاکستان کے مستقبل کو تیار کر رہے ہیں — ایک ایسا مستقبل جو تعلیم، تربیت اور قیادت سے روشن ہو۔ اگر آپ بھی خود کو کچھ سیکھنے، بنانے اور آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، تو ابھی Rehan College کا حصہ بنیے — جہاں صرف وعدے نہیں، بلکہ حقیقی تربیت دی جاتی ہے۔ 📞 0310-2886045 | 0301-2985826 📍 Korangi, Karachi 🌐 rehancollege.com #RehanCollege #DigitalPakistan #LaptopDistribution #FutureLeaders #SkillDevelopment #SirMohsinRathore #YouthEmpowerment #Karachi
    0 Commentarios 0 Acciones 1296 Views
  • اسلام آباد میں ایک تاریخی اعلان

    آج اسلام آباد کے عمار اے آئی کالج میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی شخصیات اور ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ ایک جگہ جمع ہوئے اور #DigitalPakistanVision2047 کے تحت پاکستان کا پہلا WiFi DX Village لانچ کیا گیا۔

    یہ ماڈل ولیج ان شعبوں پر فوکس کرے گا:
    خواتین کا معاشی بااختیار بنانا
    ایس ڈی جیز اکیڈمی پاکستان
    سینٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (CIT)
    ایشیائی و پیسفک ٹریننگ سینٹر برائے ICT for Development (APCICT) کے ساتھ تعاون

    اس موقع پر میرے عزیز دوست عمار جعفری (سابق ڈائریکٹر FIA پاکستان) نے ایک زبردست اعلان کیا:

    پاکستانی نوجوانوں (عمر 18 تا 22 سال) کے لیے 10 فل فنڈڈ اسکالرشپس
    ✔ مفت رہائش
    ✔ مفت کھانا
    ✔ روزانہ 4 گھنٹے تعلیم
    ✔ 8 گھنٹے عملی کام، ایس ڈی جیز کے اصل مسائل حل کرنے کے لیے

    یہ پروگرام ریحان کالج کرکولم کے مطابق ہوگا، جہاں طالبعلم “کر کے سیکھتے ہیں”، پڑھائی کے ساتھ کماتے ہیں اور گریجویشن کے بعد مستقبل کے لیڈر اور انٹرپرینیور بن کر نکلتے ہیں۔

    نارمل فیس: 25,000 روپے ماہانہ
    آج کا تحفہ: 10 اسکالرشپس مکمل 4 سال کے لیے فری (یعنی فی طالبعلم 12 لاکھ روپے سے زائد کی ویلیو!)

    یہ صرف تعلیم نہیں، یہ ایک تحریک ہے۔ ایک ایسا سفر جو پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی مسائل حل کرنے والے لیڈر میں بدلے گا۔

    اپلائی کرنے کے لیے ابھی جوائن کریں:

    https://chat.whatsapp.com/CpZ3NnCEjXD9adBltjzy5P?mode=ems_copy_c

    یہاں کلک کریں

    #AmmarCollege #WiFiDXVillage #WomenEmpowerment #SDGs #RehanCollege #DigitalPakistanVision2047
    🌍✨ اسلام آباد میں ایک تاریخی اعلان ✨🌍 آج اسلام آباد کے عمار اے آئی کالج میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی شخصیات اور ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ ایک جگہ جمع ہوئے اور #DigitalPakistanVision2047 کے تحت پاکستان کا پہلا WiFi DX Village لانچ کیا گیا۔ 🚀💻 یہ ماڈل ولیج ان شعبوں پر فوکس کرے گا: ✅ خواتین کا معاشی بااختیار بنانا ✅ ایس ڈی جیز اکیڈمی پاکستان ✅ سینٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (CIT) ✅ ایشیائی و پیسفک ٹریننگ سینٹر برائے ICT for Development (APCICT) کے ساتھ تعاون 📢 اس موقع پر میرے عزیز دوست عمار جعفری (سابق ڈائریکٹر FIA پاکستان) نے ایک زبردست اعلان کیا: 🎓 پاکستانی نوجوانوں (عمر 18 تا 22 سال) کے لیے 10 فل فنڈڈ اسکالرشپس ✔ مفت رہائش 🏠 ✔ مفت کھانا 🍴 ✔ روزانہ 4 گھنٹے تعلیم 📚 ✔ 8 گھنٹے عملی کام، ایس ڈی جیز کے اصل مسائل حل کرنے کے لیے 🌱 یہ پروگرام ریحان کالج کرکولم کے مطابق ہوگا، جہاں طالبعلم “کر کے سیکھتے ہیں”، پڑھائی کے ساتھ کماتے ہیں اور گریجویشن کے بعد مستقبل کے لیڈر اور انٹرپرینیور بن کر نکلتے ہیں۔ 💡 نارمل فیس: 25,000 روپے ماہانہ 🎁 آج کا تحفہ: 10 اسکالرشپس مکمل 4 سال کے لیے فری (یعنی فی طالبعلم 12 لاکھ روپے سے زائد کی ویلیو!) 🔥 یہ صرف تعلیم نہیں، یہ ایک تحریک ہے۔ ایک ایسا سفر جو پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی مسائل حل کرنے والے لیڈر میں بدلے گا۔ 👉 اپلائی کرنے کے لیے ابھی جوائن کریں: https://chat.whatsapp.com/CpZ3NnCEjXD9adBltjzy5P?mode=ems_copy_c 🔗 یہاں کلک کریں #AmmarCollege #WiFiDXVillage #WomenEmpowerment #SDGs #RehanCollege #DigitalPakistanVision2047
    0 Commentarios 0 Acciones 1030 Views
  • Come meet my mother Munawwar Ikhlas Allahwala at inaugural dua of Rehan Biryani

    پریس ریلیز

    برائے فوری اجرا

    ریحان بریانی کا 7 ستمبر 2025 کو شاندار آغاز – 50,000 افراد کو بااختیار بنانے اور پاکستانی بریانی کو دنیا تک پہنچانے کا عزم

    کراچی، پاکستان — 7 ستمبر 2025 — پاکستان اپنی تاریخ کا ایک نیا باب لکھنے جا رہا ہے۔ 7 ستمبر 2025 کو ریحان بریانی کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک اور بریانی شاپ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کا مقصد ہزاروں لوگوں کو روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنا ہے اور پاکستانیوں کی پسندیدہ ڈش “بریانی” کو دنیا بھر میں ایک باوقار شناخت دینا ہے۔

    بریانی پاکستان کی پہچان ہے، خاص طور پر کراچی کی۔ لاکھوں لوگ دنیا بھر میں اس ذائقے سے محبت کرتے ہیں، لیکن آج تک کوئی عالمی بریانی چین موجود نہیں ہے۔ ریحان بریانی اس خلا کو پُر کرے گا۔

    ہمارا ہدف اگلے پانچ برسوں میں 10,000 شاخیں قائم کرنا ہے تاکہ یہ پہلا پاکستانی فوڈ برانڈ بنے جو عالمی سطح پر کھڑا ہو، بالکل ویسے ہی جیسے میکڈونلڈز (35,000+ شاخیں)، کے ایف سی (25,000+ شاخیں) اور سب وے (65,000+ شاخیں) ہیں۔



    صرف کھانا نہیں، ایک مشن

    ریحان بریانی کا مقصد ہے کہ 50,000 افراد کو بااختیار بنایا جائے۔ اس کے لیے ایک کم لاگت والا فرینچائز ماڈل متعارف کروایا جا رہا ہے۔ صرف 2,000 تا 5,000 ڈالر (تقریباً 5 سے 10 لاکھ روپے) میں کوئی بھی خواہشمند شخص اپنی بریانی شاپ کا مالک بن سکتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ بھی کاروباری بن سکیں گے جن کے پاس خواب ہیں لیکن وسائل نہیں۔

    یہ اقدام صرف روزگار ہی نہیں پیدا کرے گا بلکہ پاکستان بھر میں ایک معیاری، یکساں ذائقے والی بریانی چین قائم کرے گا — جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔



    تعلیم + کاروبار = ملکیت

    ریحان کالج کے ساتھ شراکت میں، ریحان بریانی ایک دو سالہ ڈپلومہ پروگرام بھی شروع کر رہا ہے۔ اس میں طلبہ نہ صرف کاروبار اور فرینچائز چلانے کی تعلیم حاصل کریں گے بلکہ گریجویشن کے بعد اپنی ریحان بریانی شاپ کے مالک بھی بنیں گے۔ یہ ایک منفرد ماڈل ہے جس میں تعلیم براہ راست کاروباری ملکیت میں بدلتی ہے۔



    پاکستان کی فوڈ ڈپلومیسی

    ریحان بریانی صرف ایک بزنس نہیں بلکہ فوڈ ڈپلومیسی ہے۔ یہ پاکستان کے ذائقے کو دنیا تک پہنچائے گا اور ایک ثقافتی سفیر بنے گا۔ ساتھ ہی یہ دوسروں کے لیے راستہ کھولے گا کہ وہ بھی پاکستان کے ذائقوں اور ہنر کو عالمی سطح پر لے جائیں۔



    چھوٹا آغاز، بڑا خواب

    یہ سفر نہایت عاجزی کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ پہلا ریحان بریانی آؤٹ لیٹ 7 ستمبر 2025 کو لانچ ہوگا۔ اگلے ایک سال میں 10 مزید شاخیں اور پھر اس کے اگلے سال 20 مزید شاخیں کھولی جائیں گی۔ یہ سوچا سمجھا اسکیلنگ ماڈل ہے تاکہ ہم سیکھ سکیں، نظام کو مضبوط بنا سکیں اور پھر تیزی سے بڑھ سکیں۔



    ہمارا ساتھ دیں

    ریحان بریانی میڈیا، کاروباری شخصیات، کھانے کے شوقین افراد اور وژن رکھنے والوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ہمارے اس سفر کا حصہ بنیں اور بریانی کو ایک عالمی برانڈ بنائیں — پاکستان کے فخر کے طور پر۔

    برائے رابطہ:
    info@rehanbiryani.com
    www.rehanbiryani.com
    e
    Come meet my mother Munawwar Ikhlas Allahwala at inaugural dua of Rehan Biryani پریس ریلیز برائے فوری اجرا ریحان بریانی کا 7 ستمبر 2025 کو شاندار آغاز – 50,000 افراد کو بااختیار بنانے اور پاکستانی بریانی کو دنیا تک پہنچانے کا عزم کراچی، پاکستان — 7 ستمبر 2025 — پاکستان اپنی تاریخ کا ایک نیا باب لکھنے جا رہا ہے۔ 7 ستمبر 2025 کو ریحان بریانی کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک اور بریانی شاپ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کا مقصد ہزاروں لوگوں کو روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنا ہے اور پاکستانیوں کی پسندیدہ ڈش “بریانی” کو دنیا بھر میں ایک باوقار شناخت دینا ہے۔ بریانی پاکستان کی پہچان ہے، خاص طور پر کراچی کی۔ لاکھوں لوگ دنیا بھر میں اس ذائقے سے محبت کرتے ہیں، لیکن آج تک کوئی عالمی بریانی چین موجود نہیں ہے۔ ریحان بریانی اس خلا کو پُر کرے گا۔ ہمارا ہدف اگلے پانچ برسوں میں 10,000 شاخیں قائم کرنا ہے تاکہ یہ پہلا پاکستانی فوڈ برانڈ بنے جو عالمی سطح پر کھڑا ہو، بالکل ویسے ہی جیسے میکڈونلڈز (35,000+ شاخیں)، کے ایف سی (25,000+ شاخیں) اور سب وے (65,000+ شاخیں) ہیں۔ ⸻ صرف کھانا نہیں، ایک مشن ریحان بریانی کا مقصد ہے کہ 50,000 افراد کو بااختیار بنایا جائے۔ اس کے لیے ایک کم لاگت والا فرینچائز ماڈل متعارف کروایا جا رہا ہے۔ صرف 2,000 تا 5,000 ڈالر (تقریباً 5 سے 10 لاکھ روپے) میں کوئی بھی خواہشمند شخص اپنی بریانی شاپ کا مالک بن سکتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ بھی کاروباری بن سکیں گے جن کے پاس خواب ہیں لیکن وسائل نہیں۔ یہ اقدام صرف روزگار ہی نہیں پیدا کرے گا بلکہ پاکستان بھر میں ایک معیاری، یکساں ذائقے والی بریانی چین قائم کرے گا — جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ⸻ تعلیم + کاروبار = ملکیت ریحان کالج کے ساتھ شراکت میں، ریحان بریانی ایک دو سالہ ڈپلومہ پروگرام بھی شروع کر رہا ہے۔ اس میں طلبہ نہ صرف کاروبار اور فرینچائز چلانے کی تعلیم حاصل کریں گے بلکہ گریجویشن کے بعد اپنی ریحان بریانی شاپ کے مالک بھی بنیں گے۔ یہ ایک منفرد ماڈل ہے جس میں تعلیم براہ راست کاروباری ملکیت میں بدلتی ہے۔ ⸻ پاکستان کی فوڈ ڈپلومیسی ریحان بریانی صرف ایک بزنس نہیں بلکہ فوڈ ڈپلومیسی ہے۔ یہ پاکستان کے ذائقے کو دنیا تک پہنچائے گا اور ایک ثقافتی سفیر بنے گا۔ ساتھ ہی یہ دوسروں کے لیے راستہ کھولے گا کہ وہ بھی پاکستان کے ذائقوں اور ہنر کو عالمی سطح پر لے جائیں۔ ⸻ چھوٹا آغاز، بڑا خواب یہ سفر نہایت عاجزی کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ پہلا ریحان بریانی آؤٹ لیٹ 7 ستمبر 2025 کو لانچ ہوگا۔ اگلے ایک سال میں 10 مزید شاخیں اور پھر اس کے اگلے سال 20 مزید شاخیں کھولی جائیں گی۔ یہ سوچا سمجھا اسکیلنگ ماڈل ہے تاکہ ہم سیکھ سکیں، نظام کو مضبوط بنا سکیں اور پھر تیزی سے بڑھ سکیں۔ ⸻ ہمارا ساتھ دیں ریحان بریانی میڈیا، کاروباری شخصیات، کھانے کے شوقین افراد اور وژن رکھنے والوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ہمارے اس سفر کا حصہ بنیں اور بریانی کو ایک عالمی برانڈ بنائیں — پاکستان کے فخر کے طور پر۔ برائے رابطہ: 📧 info@rehanbiryani.com 🌐 www.rehanbiryani.com e
    0 Commentarios 0 Acciones 168 Views
  • تم صرف نوجوان نہیں ہو — تم ایک چنگاری ہو۔ لیکن کسی نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ اپنی آگ کو کیسے کنٹرول کرنا ہے۔ ریحان کالج میں ہم تمہاری اس چنگاری کو مشن میں بدلیں گے۔



    ریحان کالج – سیکھو کیسے سیکھتے ہیں، سیکھو کیسے کماتے ہیں، اور بنو AI کے ساتھ لیڈر۔ یہ عام کالج نہیں ہے، یہ ایک چار سالہ رہائشی تبدیلی پروگرام ہے ان نوجوانوں کے لیے جو اپنی تقدیر خود لکھنا چاہتے ہیں — AI، اصل کام، اور قیادت کے ذریعے۔



    کون اپلائی کرے؟
    اگر آپ کی عمر 18 سے 24 سال ہے، اور آپ چاہتے ہیں کہ:
    سیکھ سکیں کہ کچھ بھی کیسے سیکھا جاتا ہے — کبھی بھی، کہیں سے بھی
    ChatGPT، یوٹیوب، Canva جیسے AI ٹولز سے آن لائن کمائیں
    مسئلے حل کریں، چیزیں بنائیں، چیزیں درست کریں — اپنے ہاتھوں سے
    خوداعتماد ٹیچر، لیڈر، اور تبدیلی کے نمائندہ بنیں
    پاکستان اور دنیا میں ریحان اسکولز کھولنے میں مدد کریں

    تو ریحان کالج آپ کے لیے ہے۔



    آپ کیا کریں گے؟
    روزانہ 4 گھنٹے:
    • آن لائن لرننگ: AI، فری لانسنگ، بزنس، انگلش، کمیونیکیشن
    • سیکھیں کیسے پڑھائیں، کیسے لیڈ کریں، اور کیسے خود کو پیش کریں

    🛠 روزانہ 8 گھنٹے:
    • اصل دنیا کے عملی کام: پلمبنگ، الیکٹریشن، درخت لگانا، مرمت، سوشل پراجیکٹس
    • ایسا تجربہ جو کردار اور مہارت دونوں بناتا ہے



    آپ کو کیا ملے گا؟
    کراچی میں مفت رہائش
    مفت لیپ ٹاپ
    مفت ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ
    طاقتور رہنمائی اور روزانہ کا نظم
    لازمی: اپنا اسمارٹ فون ساتھ لائیں
    🍽 کھانا: خود یا گروپ میں بندوبست (خود منظم)



    مقام: ریحان کالج، کراچی
    فیس: صرف 25,000 روپے ماہانہ
    (اس میں ٹریننگ، رہائش، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ شامل ہے — کھانا شامل نہیں)



    پہلے بیچ میں صرف 40 طلباء کو داخلہ ملے گا!
    ہر کوئی داخل نہیں ہو سکتا — صرف وہی نوجوان جن میں بھوک، محنت اور صلاحیت ہو، وہ منتخب ہوں گے۔



    طالب علموں کے لیے لون دستیاب ہے!
    آپ ہمارے ساتھ سیکھ کر کمائیں گے — اور آرام سے قسطوں میں واپس کریں گے۔



    اس پوسٹ کو شیئر کریں — شاید آپ کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائیں۔



    داخلے جاری ہیں – ریحان کالج (کراچی)

    Scholarship

    Sofia: +92 301 2985826

    Join: WhatsApp Link

    https://chat.whatsapp.com/C65GKhrWR8G3mVIgPLK1nv?mode=ems_copy_t

    #ریحان_کالج #نوجوان_کراچی #AIپاکستان #سیکھو_کماؤ #ڈیجیٹلپاکستان
    تم صرف نوجوان نہیں ہو — تم ایک چنگاری ہو۔ لیکن کسی نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ اپنی آگ کو کیسے کنٹرول کرنا ہے۔ ریحان کالج میں ہم تمہاری اس چنگاری کو مشن میں بدلیں گے۔ ⸻ 🎓 ریحان کالج – سیکھو کیسے سیکھتے ہیں، سیکھو کیسے کماتے ہیں، اور بنو AI کے ساتھ لیڈر۔ یہ عام کالج نہیں ہے، یہ ایک چار سالہ رہائشی تبدیلی پروگرام ہے ان نوجوانوں کے لیے جو اپنی تقدیر خود لکھنا چاہتے ہیں — AI، اصل کام، اور قیادت کے ذریعے۔ ⸻ 💡 کون اپلائی کرے؟ اگر آپ کی عمر 18 سے 24 سال ہے، اور آپ چاہتے ہیں کہ: ✅ سیکھ سکیں کہ کچھ بھی کیسے سیکھا جاتا ہے — کبھی بھی، کہیں سے بھی ✅ ChatGPT، یوٹیوب، Canva جیسے AI ٹولز سے آن لائن کمائیں ✅ مسئلے حل کریں، چیزیں بنائیں، چیزیں درست کریں — اپنے ہاتھوں سے ✅ خوداعتماد ٹیچر، لیڈر، اور تبدیلی کے نمائندہ بنیں ✅ پاکستان اور دنیا میں ریحان اسکولز کھولنے میں مدد کریں تو ریحان کالج آپ کے لیے ہے۔ ⸻ 🔧 آپ کیا کریں گے؟ 📚 روزانہ 4 گھنٹے: • آن لائن لرننگ: AI، فری لانسنگ، بزنس، انگلش، کمیونیکیشن • سیکھیں کیسے پڑھائیں، کیسے لیڈ کریں، اور کیسے خود کو پیش کریں 🛠 روزانہ 8 گھنٹے: • اصل دنیا کے عملی کام: پلمبنگ، الیکٹریشن، درخت لگانا، مرمت، سوشل پراجیکٹس • ایسا تجربہ جو کردار اور مہارت دونوں بناتا ہے ⸻ 🏡 آپ کو کیا ملے گا؟ ✅ کراچی میں مفت رہائش ✅ مفت لیپ ٹاپ ✅ مفت ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ ✅ طاقتور رہنمائی اور روزانہ کا نظم 📱 لازمی: اپنا اسمارٹ فون ساتھ لائیں 🍽 کھانا: خود یا گروپ میں بندوبست (خود منظم) ⸻ 📍 مقام: ریحان کالج، کراچی 💰 فیس: صرف 25,000 روپے ماہانہ (اس میں ٹریننگ، رہائش، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ شامل ہے — کھانا شامل نہیں) ⸻ 🎯 پہلے بیچ میں صرف 40 طلباء کو داخلہ ملے گا! ہر کوئی داخل نہیں ہو سکتا — صرف وہی نوجوان جن میں بھوک، محنت اور صلاحیت ہو، وہ منتخب ہوں گے۔ ⸻ 💸 طالب علموں کے لیے لون دستیاب ہے! آپ ہمارے ساتھ سیکھ کر کمائیں گے — اور آرام سے قسطوں میں واپس کریں گے۔ ⸻ 📢 اس پوسٹ کو شیئر کریں — شاید آپ کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائیں۔ ⸻ 📢🔥 داخلے جاری ہیں – ریحان کالج (کراچی) 🔥 📢 Scholarship 📞 Sofia: +92 301 2985826 📲 Join: WhatsApp Link https://chat.whatsapp.com/C65GKhrWR8G3mVIgPLK1nv?mode=ems_copy_t #ریحان_کالج #نوجوان_کراچی #AIپاکستان #سیکھو_کماؤ #ڈیجیٹلپاکستان
    0 Commentarios 0 Acciones 496 Views
  • ریحان کالج کی فیس = 0 روپے ماہانہ!

    ریحان کالج ایک ریذیڈنشل کالج ہے، جہاں آپ کو:
    کھانا
    رہائش
    تعلیم
    جدید ہنر
    لیپ ٹاپ (استعمال کے لیے)
    سب کچھ ایک ہی جگہ پر ملتا ہے۔

    آپ کو صرف اپنا اسمارٹ فون اور شناختی کارڈ لانا ہے۔
    اور سب سے بڑی بات: آپ کو ماہانہ فیس کچھ بھی ادا نہیں کرنی پڑے گی۔

    اسٹوڈنٹ لون سسٹم کے ذریعے آپ تعلیم مکمل کریں گے، ہنر سیکھیں گے، کمانا شروع کریں گے، اور پھر آسان اقساط میں واپس ادا کریں گے تاکہ آپ کے بعد آنے والا طالب علم بھی یہی سہولت حاصل کر سکے۔



    اہم شرائط:
    عمر کی حد: 18 سے 22 سال
    اگر آپ کی عمر 22 سال سے زیادہ ہے تو آپ ایک ماہ کے ٹیچر ٹریننگ پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس دوران آپ کا جائزہ لیا جائے گا۔
    داخلے کے لیے شناختی کارڈ ضروری ہے۔



    اب تک کی صورتحال:
    25 طلبہ داخلہ لے چکے ہیں
    ابھی صرف 75 سیٹیں باقی ہیں — اس کے بعد اگلا بیچ بند ہو جائے گا۔



    4 سال بعد آپ کو کیا ملے گا؟
    کم از کم $500 ڈالر ماہانہ (Rs. 1,40,000) آمدنی
    اپنی فیس خود ادا کرنے کی صلاحیت
    AI، Coding اور School Management میں مہارت
    ایک روشن مستقبل اور دوسروں کو غربت سے نکالنے کا موقع

    یہ صرف ایک ڈگری نہیں، بلکہ ایک مکمل تبدیلی ہے۔
    1000 طلبہ تیار ہوں گے
    200 نئے ریحان اسکول قائم ہوں گے
    اور غربت کے خاتمے کا سفر شروع ہوگا۔



    یہ وہ موقع ہے جو آپ کی زندگی، آپ کے شہر اور آپ کے ملک کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔

    ابھی کلک کریں اور ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہوں:

    https://chat.whatsapp.com/F6102k2IEIV3b1yLZi4mta

    کیا آپ کے جاننے والے 18-22 سال کے ہیں؟ انہیں یہ پوسٹ لازمی بھیجیں یا ٹیگ کریں!
    شاید یہی وہ موقع ہو جس سے ان کی زندگی بدل جائے۔

    بڑے خواب، بڑے فیصلوں سے شروع ہوتے ہیں۔

    کیا آپ فیصلہ آج کریں گے؟

    Www.Rehancollege.com
    💥 ریحان کالج کی فیس = 0 روپے ماہانہ! 💥 🌍 ریحان کالج ایک ریذیڈنشل کالج ہے، جہاں آپ کو: 🍽️ کھانا 🏠 رہائش 📚 تعلیم 🛠️ جدید ہنر 💻 لیپ ٹاپ (استعمال کے لیے) سب کچھ ایک ہی جگہ پر ملتا ہے۔ 👉 آپ کو صرف اپنا اسمارٹ فون اور شناختی کارڈ لانا ہے۔ 🚫 اور سب سے بڑی بات: آپ کو ماہانہ فیس کچھ بھی ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ 🤝 اسٹوڈنٹ لون سسٹم کے ذریعے آپ تعلیم مکمل کریں گے، ہنر سیکھیں گے، کمانا شروع کریں گے، اور پھر آسان اقساط میں واپس ادا کریں گے تاکہ آپ کے بعد آنے والا طالب علم بھی یہی سہولت حاصل کر سکے۔ ⸻ ✨ اہم شرائط: ✅ عمر کی حد: 18 سے 22 سال ✅ اگر آپ کی عمر 22 سال سے زیادہ ہے تو آپ ایک ماہ کے ٹیچر ٹریننگ پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس دوران آپ کا جائزہ لیا جائے گا۔ ✅ داخلے کے لیے شناختی کارڈ ضروری ہے۔ ⸻ ✨ اب تک کی صورتحال: ✅ 25 طلبہ داخلہ لے چکے ہیں 🎓 ✅ ابھی صرف 75 سیٹیں باقی ہیں — اس کے بعد اگلا بیچ بند ہو جائے گا۔ ⸻ ✨ 4 سال بعد آپ کو کیا ملے گا؟ ✅ کم از کم $500 ڈالر ماہانہ (Rs. 1,40,000) آمدنی ✅ اپنی فیس خود ادا کرنے کی صلاحیت ✅ AI، Coding اور School Management میں مہارت ✅ ایک روشن مستقبل اور دوسروں کو غربت سے نکالنے کا موقع 🎓 یہ صرف ایک ڈگری نہیں، بلکہ ایک مکمل تبدیلی ہے۔ 👉 1000 طلبہ تیار ہوں گے 👉 200 نئے ریحان اسکول قائم ہوں گے 👉 اور غربت کے خاتمے کا سفر شروع ہوگا۔ ⸻ 🔥 یہ وہ موقع ہے جو آپ کی زندگی، آپ کے شہر اور آپ کے ملک کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ 👇 ابھی کلک کریں اور ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہوں: https://chat.whatsapp.com/F6102k2IEIV3b1yLZi4mta ⚡ کیا آپ کے جاننے والے 18-22 سال کے ہیں؟ انہیں یہ پوسٹ لازمی بھیجیں یا ٹیگ کریں! 👉 شاید یہی وہ موقع ہو جس سے ان کی زندگی بدل جائے۔ ✨ بڑے خواب، بڑے فیصلوں سے شروع ہوتے ہیں۔ کیا آپ فیصلہ آج کریں گے؟ Www.Rehancollege.com
    0 Commentarios 0 Acciones 146 Views
  • **یو اے ای گورنمنٹ ایکسیلریٹرز:

    ایک ایسا ماڈل جسے ہر ملک — اور ہر یونیورسٹی — کو اپنا لینا چاہیے**

    دبئی کے ایمریٹس ٹاورز کے اندر موجود UAE Government Accelerators میں داخل ہوں تو فوراً احساس ہوتا ہے کہ یہ جگہ عام سرکاری دفتر نہیں ہے۔

    نہ قطاریں،
    نہ فائلوں کے ڈھیر،
    نہ سست عملہ۔

    اس کے بجائے یہاں آپ کو لیپ ٹاپ، خاکے، پروٹو ٹائپس، اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز، وزراء، انجینئرز، طلبہ، اور عالمی ماہرین ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔

    یہ ماحول بالکل ایک اسٹارٹ اپ جیسا ہے —
    مگر اصل میں یہ ایک حکومتی مسئلہ حل کرنے والی لیبارٹری ہے۔

    یہ جگہ ایریا 2071 کا حصہ ہے، جو مستقبل کے لیے یو اے ای کا بڑا وژن ہے:
    ایک ایسا ملک جو سن 2071 کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، نہ کہ صرف 2025 کے لیے۔

    یہ اسپیس پورے ملک کا “حل سازی کا انجن” ہے — جہاں حکومت، پرائیویٹ سیکٹر، محققین اور نوجوان مل کر 100 دن کے چیلنج میں قومی مسائل حل کرتے ہیں۔

    اور یہ ماڈل چلتا ہے — تیزی سے، مؤثر طریقے سے، اور ناپ تول کے ساتھ۔



    یہ کیسے کام کرتا ہے؟

    1. مسئلہ کی نشاندہی

    مثلاً ٹریفک حادثات، بے روزگاری، نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن، خواتین کی قیادت، صحت، تعلیم وغیرہ۔

    2. کراس سیکٹر ٹیم بنانا

    وزارتیں + محکمے + نجی کمپنیاں + ٹیک ماہرین + یونیورسٹیاں — سب ایک ٹیم میں۔

    3. 100 دن کا ایک واضح اور جرات مندانہ ہدف

    کمیشن نہیں۔
    رپورٹ نہیں۔
    اصل نتائج۔

    4. ایکسیلریٹر لیب میں مشترکہ کام

    ڈیلی اسٹینڈ اپ، ڈیجیٹل ڈیش بورڈ، فوری فیصلے، پروٹو ٹائپنگ، اور تیز رفتار تجربات۔

    5. ناپ تول کے ساتھ نتیجہ دینا

    اور پھر کامیاب حل کو پورے ملک میں نافذ کرنا۔



    دنیا کے ہر ملک کو ایسی جگہ کی ضرورت کیوں ہے؟

    زیادہ تر حکومتوں میں چند بنیادی مسائل ہوتے ہیں:
    • سست فیصلے
    • محکموں کی باہمی دیواریں
    • اختراع کی کمی
    • پرانا سسٹم
    • گھنٹوں میٹنگیں مگر کم نتائج

    ایک گورنمنٹ ایکسیلریٹر لیب ان سب کا بنیادی حل ہے۔

    یہ حکومت کو “فائل سسٹم” سے نکال کر “اسٹارٹ اپ اسپیڈ” پر لے آتا ہے۔



    پاکستان کو فوری طور پر 20 گورنمنٹ ایکسیلریٹر بنانے چاہئیں

    پاکستان جیسے ممالک کو آج بڑے، گہرے اور فوری حل درکار ہیں:
    • بے روزگاری
    • تعلیم کا بحران
    • پولیس و عدالتی نظام
    • شہری سہولیات
    • پانی و توانائی
    • کلائمٹ کے مسائل

    یہ سب روایتی وزارتیں تنہا حل نہیں کر سکتیں۔

    پاکستان کو چاہیے کہ:

    ✔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور بڑی یونیورسٹیوں میں 20 “نیشنل پروبلم سولونگ لیبز” قائم کرے۔

    ✔ ہر لیب 100 دن کے چیلنج چلائے۔

    ✔ اسٹوڈنٹس + ٹیک ماہرین + سرکاری افسر ایک کمرے میں کام کریں۔

    ✔ نتائج ناپے جائیں، دکھائے جائیں، اور پھر پورے ملک میں پھیلائے جائیں۔

    سوچیں اگر پاکستان 100 دن کے چیلنجز شروع کرے:
    • کراچی کی پانی کی تقسیم
    • اسکولوں کی کارکردگی
    • میونسپل ویسٹ
    • زراعت میں مصنوعی ذہانت
    • تھانوں کا اسمارٹ ماڈل
    • غلط کیسز کی چھان بین
    • شہری سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن

    تو چند ماہ میں ملک کا رخ بدلنا شروع ہو جائے۔



    یونیورسٹیاں اور کالجز بھی یہی ماڈل فوراً اپنائیں

    آج یونیورسٹیاں زیادہ تر تھیوری پڑھاتی ہیں۔
    لیکن دنیا کے مسائل لیبارٹریوں سے حل ہوں گے — کلاس روم سے نہیں۔

    ہر یونیورسٹی کو چاہیے کہ:

    GovTech Innovation Lab

    بنائے، جہاں طلبہ حکومت کے اصل مسائل پر کام کریں۔

    1. 100 دن کے یونیورسٹی چیلنجز

    2. محکموں کی جانب سے دیے گئے مسئلے

    3. بین المضامین ٹیمیں

    4. کیمپس میں پروٹو ٹائپ ٹیسٹنگ

    5. کامیاب حل کی حکومتی سطح پر عمل درآمد

    اس سے یونیورسٹیوں کے گریجوایٹس کتابی نہیں — عملی، باصلاحیت، اور مسئلہ حل کرنے والے بنیں گے۔



    ریحان اسکول اور ریحان کالج کیسے لیڈ کر سکتے ہیں؟

    ریحان اسکول اور ریحان کالج پہلے ہی:
    • AI-first تعلیم
    • لیڈرشپ
    • مسئلہ حل کرنا
    • کمائی کے ساتھ تعلیم

    پر کام کر رہے ہیں۔

    اگر ہر کیمپس میں ایک ریحان پبلک پروبلم سولونگ لیب بنا دی جائے تو:
    • طلبہ پاکستان کے اصل مسائل حل کرنا سیکھیں گے
    • حکومتی محکموں سے براہِ راست رابطہ ہو گا
    • 1 ملین لوگوں پر اثر ڈالنے والے لیڈرز تیار ہوں گے
    • 4 سال میں 1 ملین ڈالر اسٹارٹ اپ ممکن ہو جائیں گے

    یہ آپ کے 1,000 لیڈرز بنانے والے وژن کے ساتھ 100% جڑتا ہے۔



    نتیجہ: مستقبل اُن ملکوں کا ہے جو تیزی سے مسائل حل کریں گے

    دنیا اب عمران، رفتار، اور سمارٹ گورننس پر چلتی ہے۔

    جو ممالک Accelerator Labs بنائیں گے:
    • زیادہ تیز نتائج دیں گے
    • بہترین عوامی سہولیات دیں گے
    • نوجوانوں کو مواقع دیں گے
    • عالمی مقابلے میں آگے نکل جائیں گے

    اور جو نہ بنائیں — وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

    یو اے ای نے راستہ دکھا دیا۔
    اب پاکستان، جنوبی ایشیا، اور دیگر ممالک کو اسے اپنانا ہے۔

    مستقبل سیاست کا نہیں —
    مسئلہ حل کرنے والوں کا ہے۔

    **یو اے ای گورنمنٹ ایکسیلریٹرز: ایک ایسا ماڈل جسے ہر ملک — اور ہر یونیورسٹی — کو اپنا لینا چاہیے** دبئی کے ایمریٹس ٹاورز کے اندر موجود UAE Government Accelerators میں داخل ہوں تو فوراً احساس ہوتا ہے کہ یہ جگہ عام سرکاری دفتر نہیں ہے۔ نہ قطاریں، نہ فائلوں کے ڈھیر، نہ سست عملہ۔ اس کے بجائے یہاں آپ کو لیپ ٹاپ، خاکے، پروٹو ٹائپس، اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز، وزراء، انجینئرز، طلبہ، اور عالمی ماہرین ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ ماحول بالکل ایک اسٹارٹ اپ جیسا ہے — مگر اصل میں یہ ایک حکومتی مسئلہ حل کرنے والی لیبارٹری ہے۔ یہ جگہ ایریا 2071 کا حصہ ہے، جو مستقبل کے لیے یو اے ای کا بڑا وژن ہے: ایک ایسا ملک جو سن 2071 کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، نہ کہ صرف 2025 کے لیے۔ یہ اسپیس پورے ملک کا “حل سازی کا انجن” ہے — جہاں حکومت، پرائیویٹ سیکٹر، محققین اور نوجوان مل کر 100 دن کے چیلنج میں قومی مسائل حل کرتے ہیں۔ اور یہ ماڈل چلتا ہے — تیزی سے، مؤثر طریقے سے، اور ناپ تول کے ساتھ۔ ⸻ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ 1. مسئلہ کی نشاندہی مثلاً ٹریفک حادثات، بے روزگاری، نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن، خواتین کی قیادت، صحت، تعلیم وغیرہ۔ 2. کراس سیکٹر ٹیم بنانا وزارتیں + محکمے + نجی کمپنیاں + ٹیک ماہرین + یونیورسٹیاں — سب ایک ٹیم میں۔ 3. 100 دن کا ایک واضح اور جرات مندانہ ہدف کمیشن نہیں۔ رپورٹ نہیں۔ اصل نتائج۔ 4. ایکسیلریٹر لیب میں مشترکہ کام ڈیلی اسٹینڈ اپ، ڈیجیٹل ڈیش بورڈ، فوری فیصلے، پروٹو ٹائپنگ، اور تیز رفتار تجربات۔ 5. ناپ تول کے ساتھ نتیجہ دینا اور پھر کامیاب حل کو پورے ملک میں نافذ کرنا۔ ⸻ دنیا کے ہر ملک کو ایسی جگہ کی ضرورت کیوں ہے؟ زیادہ تر حکومتوں میں چند بنیادی مسائل ہوتے ہیں: • سست فیصلے • محکموں کی باہمی دیواریں • اختراع کی کمی • پرانا سسٹم • گھنٹوں میٹنگیں مگر کم نتائج ایک گورنمنٹ ایکسیلریٹر لیب ان سب کا بنیادی حل ہے۔ یہ حکومت کو “فائل سسٹم” سے نکال کر “اسٹارٹ اپ اسپیڈ” پر لے آتا ہے۔ ⸻ پاکستان کو فوری طور پر 20 گورنمنٹ ایکسیلریٹر بنانے چاہئیں پاکستان جیسے ممالک کو آج بڑے، گہرے اور فوری حل درکار ہیں: • بے روزگاری • تعلیم کا بحران • پولیس و عدالتی نظام • شہری سہولیات • پانی و توانائی • کلائمٹ کے مسائل یہ سب روایتی وزارتیں تنہا حل نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ: ✔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور بڑی یونیورسٹیوں میں 20 “نیشنل پروبلم سولونگ لیبز” قائم کرے۔ ✔ ہر لیب 100 دن کے چیلنج چلائے۔ ✔ اسٹوڈنٹس + ٹیک ماہرین + سرکاری افسر ایک کمرے میں کام کریں۔ ✔ نتائج ناپے جائیں، دکھائے جائیں، اور پھر پورے ملک میں پھیلائے جائیں۔ سوچیں اگر پاکستان 100 دن کے چیلنجز شروع کرے: • کراچی کی پانی کی تقسیم • اسکولوں کی کارکردگی • میونسپل ویسٹ • زراعت میں مصنوعی ذہانت • تھانوں کا اسمارٹ ماڈل • غلط کیسز کی چھان بین • شہری سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن تو چند ماہ میں ملک کا رخ بدلنا شروع ہو جائے۔ ⸻ یونیورسٹیاں اور کالجز بھی یہی ماڈل فوراً اپنائیں آج یونیورسٹیاں زیادہ تر تھیوری پڑھاتی ہیں۔ لیکن دنیا کے مسائل لیبارٹریوں سے حل ہوں گے — کلاس روم سے نہیں۔ ہر یونیورسٹی کو چاہیے کہ: GovTech Innovation Lab بنائے، جہاں طلبہ حکومت کے اصل مسائل پر کام کریں۔ 1. 100 دن کے یونیورسٹی چیلنجز 2. محکموں کی جانب سے دیے گئے مسئلے 3. بین المضامین ٹیمیں 4. کیمپس میں پروٹو ٹائپ ٹیسٹنگ 5. کامیاب حل کی حکومتی سطح پر عمل درآمد اس سے یونیورسٹیوں کے گریجوایٹس کتابی نہیں — عملی، باصلاحیت، اور مسئلہ حل کرنے والے بنیں گے۔ ⸻ ریحان اسکول اور ریحان کالج کیسے لیڈ کر سکتے ہیں؟ ریحان اسکول اور ریحان کالج پہلے ہی: • AI-first تعلیم • لیڈرشپ • مسئلہ حل کرنا • کمائی کے ساتھ تعلیم پر کام کر رہے ہیں۔ اگر ہر کیمپس میں ایک ریحان پبلک پروبلم سولونگ لیب بنا دی جائے تو: • طلبہ پاکستان کے اصل مسائل حل کرنا سیکھیں گے • حکومتی محکموں سے براہِ راست رابطہ ہو گا • 1 ملین لوگوں پر اثر ڈالنے والے لیڈرز تیار ہوں گے • 4 سال میں 1 ملین ڈالر اسٹارٹ اپ ممکن ہو جائیں گے یہ آپ کے 1,000 لیڈرز بنانے والے وژن کے ساتھ 100% جڑتا ہے۔ ⸻ نتیجہ: مستقبل اُن ملکوں کا ہے جو تیزی سے مسائل حل کریں گے دنیا اب عمران، رفتار، اور سمارٹ گورننس پر چلتی ہے۔ جو ممالک Accelerator Labs بنائیں گے: • زیادہ تیز نتائج دیں گے • بہترین عوامی سہولیات دیں گے • نوجوانوں کو مواقع دیں گے • عالمی مقابلے میں آگے نکل جائیں گے اور جو نہ بنائیں — وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ یو اے ای نے راستہ دکھا دیا۔ اب پاکستان، جنوبی ایشیا، اور دیگر ممالک کو اسے اپنانا ہے۔ مستقبل سیاست کا نہیں — مسئلہ حل کرنے والوں کا ہے۔ ⸻
    0 Commentarios 0 Acciones 101 Views
  • ایک تاریخی لمحہ — اور اس لمحے کے نام نظم

    آج ریحان کالج میں ایک ایسا لمحہ آیا
    جس کا ہم برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔
    آج پہلی بار
    ایک بیٹی،
    ایک طالبہ،
    ریحان کالج کا حصہ بنی۔

    یہ نظم اسی خوشی میں لکھی گئی ہے—
    نہ صرف ایک طالبہ کے آنے پر،
    بلکہ اس دروازے کے کھلنے پر
    جو اب ہر اس لڑکی کے لیے کھلا ہے
    جو سیکھنا چاہتی ہے،
    سکھانا چاہتی ہے،
    اور تعلیم کی روشنی کو دنیا بھر میں پھیلانا چاہتی ہے۔



    ریحان کالج کی پہلی طالبہ کے نام

    آج ایک چراغ جل اٹھا ہے،
    خاموشی نے پہلی بار آواز پائی ہے۔

    آج ریحان کالج کی دہلیز پر
    ایک بیٹی نے قدم رکھا ہے،
    نہ ڈر کے ساتھ،
    نہ اجازت مانگ کر —
    بلکہ خواب لے کر۔

    یہ صرف ایک طالبہ نہیں،
    یہ ایک راستہ ہے،
    جہاں بیٹیاں
    صرف پڑھتی نہیں،
    بلکہ استاد بنتی ہیں،
    پرنسپل بنتی ہیں،
    اور اپنے اسکول بناتی ہیں۔

    یہاں تعلیم صرف کتاب نہیں،
    یہاں AI، اعتماد، قیادت اور خدمت
    ایک ساتھ سکھائی جاتی ہے۔

    اے بیٹیو!
    اگر تم سیکھنا چاہتی ہو
    کہ علم کو روشنی کیسے بنایا جاتا ہے،
    اگر تم دنیا میں
    اسکول، نظام، اور سوچ بدلنا چاہتی ہو —

    تو آؤ،
    ریحان اے آئی ایجوکیشن کالج تمہارا منتظر ہے۔

    آج ایک نے آغاز کیا ہے،
    کل تم بھی تاریخ لکھ سکتی ہو۔

    یہ سفر سب کے لیے ہے،
    خاص طور پر تمہارے لیے۔

    — ریحان ا

    Thank you Zuha Educationwali
    Rehan School College�Rehan College is a 4-year full-time residential program in Karachi that turns youth into confident, capable, AI-powered leaders — through real learning and real work. www.rehancollege.com�� General UAN +92-304-1116044 Admissions: +92 301 2985826 Project Head +92 310 2886045 Watch my video https://www.facebook.com/share/v/19KnLkjhxp/?mibextid=wwXIfr
    ✨ ایک تاریخی لمحہ — اور اس لمحے کے نام نظم ✨ آج ریحان کالج میں ایک ایسا لمحہ آیا جس کا ہم برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ آج پہلی بار ایک بیٹی، ایک طالبہ، ریحان کالج کا حصہ بنی۔ یہ نظم اسی خوشی میں لکھی گئی ہے— نہ صرف ایک طالبہ کے آنے پر، بلکہ اس دروازے کے کھلنے پر جو اب ہر اس لڑکی کے لیے کھلا ہے جو سیکھنا چاہتی ہے، سکھانا چاہتی ہے، اور تعلیم کی روشنی کو دنیا بھر میں پھیلانا چاہتی ہے۔ ⸻ 🌷 ریحان کالج کی پہلی طالبہ کے نام 🌷 آج ایک چراغ جل اٹھا ہے، خاموشی نے پہلی بار آواز پائی ہے۔ آج ریحان کالج کی دہلیز پر ایک بیٹی نے قدم رکھا ہے، نہ ڈر کے ساتھ، نہ اجازت مانگ کر — بلکہ خواب لے کر۔ یہ صرف ایک طالبہ نہیں، یہ ایک راستہ ہے، جہاں بیٹیاں صرف پڑھتی نہیں، بلکہ استاد بنتی ہیں، پرنسپل بنتی ہیں، اور اپنے اسکول بناتی ہیں۔ یہاں تعلیم صرف کتاب نہیں، یہاں AI، اعتماد، قیادت اور خدمت ایک ساتھ سکھائی جاتی ہے۔ اے بیٹیو! اگر تم سیکھنا چاہتی ہو کہ علم کو روشنی کیسے بنایا جاتا ہے، اگر تم دنیا میں اسکول، نظام، اور سوچ بدلنا چاہتی ہو — تو آؤ، ریحان اے آئی ایجوکیشن کالج تمہارا منتظر ہے۔ آج ایک نے آغاز کیا ہے، کل تم بھی تاریخ لکھ سکتی ہو۔ یہ سفر سب کے لیے ہے، خاص طور پر تمہارے لیے۔ — ریحان ا Thank you Zuha Educationwali Rehan School College�Rehan College is a 4-year full-time residential program in Karachi that turns youth into confident, capable, AI-powered leaders — through real learning and real work. www.rehancollege.com�� General UAN +92-304-1116044 Admissions: +92 301 2985826 Project Head +92 310 2886045 Watch my video https://www.facebook.com/share/v/19KnLkjhxp/?mibextid=wwXIfr
    0 Commentarios 0 Acciones 129 Views
Resultados de la búsqueda