• RSIF8
    Roll No 48
    Story Post No 65
    Story Topic No: Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔
    ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“
    جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔
    ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“
    اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“
    کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔
    بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“
    بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔
    کہانی سے سبق
    ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔

    #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories
    RSIF8 Roll No 48 Story Post No 65 Story Topic No: Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ 🌳 اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔ ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“ 🤔 جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! 😲 ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔ 🪙✨ ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“ اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“ 🗣️ کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔ ❤️ بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“ 😊 بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔ 🏡 🌟 کہانی سے سبق ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔ 💖🤲 #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories
    0 Commentaires 0 Parts 220 Vue
  • RSIF8
    Roll no 024
    Story post 71
    Story topic :Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔

    ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“

    جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔

    ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“

    اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“

    کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔

    بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“

    بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔
    کہانی سے سبق
    ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔
    Hashtags
    #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories
    RSIF8 Roll no 024 Story post 71 Story topic :Write the story of Mulla Nasruddin in Urdu about when he found a pot of gold and what he did with it ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملا نصرالدین اپنے گاؤں کے قریب ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ 🌳 اچانک ان کی نظر زمین میں دبی ہوئی ایک پرانی ہانڈی پر پڑی۔ ملا نے سوچا، ”دیکھوں تو سہی، اس ہانڈی میں کیا ہے؟“ 🤔 جب انہوں نے ہانڈی باہر نکالی اور اس کا ڈھکن کھولا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں! 😲 ہانڈی سونے کے سکّوں سے بھری ہوئی تھی۔ 🪙✨ ملا بہت خوش ہوئے، لیکن پھر سوچنے لگے، ”یہ سونا میرا نہیں ہے۔ مجھے اسے امانت سمجھ کر رکھنا چاہیے اور اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔“ اگلے دن ملا گاؤں کے چوک میں گئے اور سب لوگوں سے پوچھنے لگے، ”کیا کسی کا سونے کے سکّوں سے بھرا برتن گم ہوا ہے؟“ 🗣️ کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی روتا ہوا آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کی ہانڈی کئی دنوں سے گم ہے۔ ملا نے اس سے ہانڈی کی نشانی پوچھی۔ جب بوڑھے آدمی نے صحیح نشانی بتائی تو ملا نے ہانڈی اسے واپس کر دی۔ ❤️ بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا اور ملا کو انعام دینا چاہا، لیکن ملا مسکرا کر بولے، ”مجھے انعام کی ضرورت نہیں۔ کسی کی امانت واپس کرنا ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔“ 😊 بوڑھے آدمی نے ملا کو دعائیں دیں اور خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔ 🏡 🌟 کہانی سے سبق ہمیں ہمیشہ ایمانداری سے کام لینا چاہیے۔ کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔ 💖🤲 🏷️ Hashtags #MullaNasruddin #UrduStory #MullaNasruddinStories #سبق_آموز_کہانی #ایمانداری #اردو_کہانی #اخلاقی_کہانی #UrduKahani #MoralStory #HonestyIsTheBestPolicy #GoldenPot #KidsStories 📚✨
    0 Commentaires 0 Parts 407 Vue
  • جن کو غصہ زیادہ آتا ہے انہیں یہ حکایت یاد رکھنی چاہیے۔

    خالی کشتی
    (بدھ مت کی قدیم اخلاقی کہانی )

    ایک بھکشو نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی خانقاہ سے نکل کر کہیں دور اکیلا مراقبہ کرے گا۔ اس نے ایک کشتی بنائی اور جھیل کے وسط میں جا کر ٹھہر گیا۔

    اس نے پوری توجہ سے اپنے نفس کے احوال پر نظر کی اور آنکھیں بند کر کے مراقبہ و گیان میں مشغول ہو گیا۔ چند گھنٹے وہ اسی کیفیت میں گم رہا مگر پھر اسے اچانک ایک اور کشتی کی آواز سنائی دی جو تیرتے ہوئے اس کی کشتی سے ٹکڑا رہی تھی۔

    بند آنکھوں کے ساتھ اس نے محسوس کیا کہ اس کے اندر غصے کا احساس پیدا ہو رہا ہے ، وہ آنکھیں کھول کر اپنا سکون غارت کرنے والی کشتی کے ملاح پر چلاّنے ہی لگا تھا کہ اس نے دیکھا کہ کشتی تو بالکل خالی ہے اور پاس کہیں کوئی ناخدا بھی نہیں ہے۔

    لنگر ٹوٹنے کے بعد وہ کہیں کنارے سے بہہ نکلی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر اسے ادراک ہوا کہ غصہ تو اس کے اپنے نفس کے اندر ہے بس کسی خارجی وجود کے ٹکڑاؤ کی دیر ہے اور اس کا سارا اشتعال باہر نکل آتا ہے۔ چناچہ اس نکتے کو دماغ میں بٹھا کر وہ واپس خانقاہ چلا گیا۔

    اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اگر کبھی بھی وہ کسی ایسے انسان سے ملا جس کی بات یا حرکت پر اسے غصہ محسوس ہوا تو وہ اطمینان سے اپنے نفس میں یہ مذاکرہ کرتے ہوئے خاموش رہا کہ دوسرا شخص محض ایک خالی کشتی ہے ، غصہ خود میری اپنی ذات میں ہے۔۔۔۔۔۔۔

    ~حنظلہ خلیق

    Via Rubina Yasmeen
    جن کو غصہ زیادہ آتا ہے انہیں یہ حکایت یاد رکھنی چاہیے۔ خالی کشتی 🛶 (بدھ مت کی قدیم اخلاقی کہانی ) ایک بھکشو نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی خانقاہ سے نکل کر کہیں دور اکیلا مراقبہ کرے گا۔ اس نے ایک کشتی بنائی اور جھیل کے وسط میں جا کر ٹھہر گیا۔ اس نے پوری توجہ سے اپنے نفس کے احوال پر نظر کی اور آنکھیں بند کر کے مراقبہ و گیان میں مشغول ہو گیا۔ چند گھنٹے وہ اسی کیفیت میں گم رہا مگر پھر اسے اچانک ایک اور کشتی کی آواز سنائی دی جو تیرتے ہوئے اس کی کشتی سے ٹکڑا رہی تھی۔ بند آنکھوں کے ساتھ اس نے محسوس کیا کہ اس کے اندر غصے کا احساس پیدا ہو رہا ہے ، وہ آنکھیں کھول کر اپنا سکون غارت کرنے والی کشتی کے ملاح پر چلاّنے ہی لگا تھا کہ اس نے دیکھا کہ کشتی تو بالکل خالی ہے اور پاس کہیں کوئی ناخدا بھی نہیں ہے۔ لنگر ٹوٹنے کے بعد وہ کہیں کنارے سے بہہ نکلی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر اسے ادراک ہوا کہ غصہ تو اس کے اپنے نفس کے اندر ہے بس کسی خارجی وجود کے ٹکڑاؤ کی دیر ہے اور اس کا سارا اشتعال باہر نکل آتا ہے۔ چناچہ اس نکتے کو دماغ میں بٹھا کر وہ واپس خانقاہ چلا گیا۔ اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اگر کبھی بھی وہ کسی ایسے انسان سے ملا جس کی بات یا حرکت پر اسے غصہ محسوس ہوا تو وہ اطمینان سے اپنے نفس میں یہ مذاکرہ کرتے ہوئے خاموش رہا کہ دوسرا شخص محض ایک خالی کشتی ہے ، غصہ خود میری اپنی ذات میں ہے۔۔۔۔۔۔۔ ~حنظلہ خلیق Via Rubina Yasmeen
    0 Commentaires 0 Parts 140 Vue