• Teacher Training book
    Day 34,Task 6

    Story post:
    The Emperor's Dream:
    Mulla Nasruddin’s Interpretation

    ملا نصرالدین اور بادشاہ کا خواب

    ایک بار بادشاہ کو ایک عجیب خواب آیا جس میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بڑا سانپ اپنی ہی دم کو کھا رہا ہے۔ بادشاہ یہ خواب دیکھ کر بہت پریشان ہو گئے اور انہوں نے اپنے دربار میں موجود حکیموں اور علماء سے اس خواب کی تعبیر پوچھی، لیکن کوئی بھی اس خواب کی صحیح تعبیر نہ بتا سکا۔

    آخرکار، بادشاہ نے ملا نصرالدین کو بلانے کے لیے پیغام بھیجا۔ ملا نصرالدین دربار میں حاضر ہوئے اور بادشاہ نے انہیں اپنا خواب سنایا۔

    ملا نصرالدین نے غور سے خواب سنا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، "حضور عالی، یہ خواب بتاتا ہے کہ زندگی ایک چکر ہے جو مکمل ہو رہا ہے۔ آپ کو یہ پیغام مل رہا ہے کہ اپنی دولت، طاقت اور زندگی کے نعمتوں کی حفاظت کریں، ورنہ یہ سب کچھ خود ہی ختم ہو جائے گا۔"

    بادشاہ نے پوچھا، "ملا، اگر سانپ اپنی دم نہ کھا رہا ہوتا تو اس کا کیا مطلب ہوتا؟"
    ملا نصرالدین نے مسکرا کر جواب دیا، "تو پھر وہ صرف ایک سانپ ہوتا، حضور۔ اس میں کوئی خاص پیغام نہ ہوتا۔"

    بادشاہ ملا نصرالدین کی حکمت سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں انعام سے نوازا۔ 🏻

    اس حکایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں توازن اور حفاظت بہت ضروری ہے، اور ہر چیز کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔
    Teacher Training book Day 34,Task 6 Story post: The Emperor's Dream: Mulla Nasruddin’s Interpretation ملا نصرالدین اور بادشاہ کا خواب ایک بار بادشاہ کو ایک عجیب خواب آیا جس میں انہوں نے دیکھا کہ ایک بڑا سانپ اپنی ہی دم کو کھا رہا ہے۔ بادشاہ یہ خواب دیکھ کر بہت پریشان ہو گئے اور انہوں نے اپنے دربار میں موجود حکیموں اور علماء سے اس خواب کی تعبیر پوچھی، لیکن کوئی بھی اس خواب کی صحیح تعبیر نہ بتا سکا۔ آخرکار، بادشاہ نے ملا نصرالدین کو بلانے کے لیے پیغام بھیجا۔ ملا نصرالدین دربار میں حاضر ہوئے اور بادشاہ نے انہیں اپنا خواب سنایا۔ ملا نصرالدین نے غور سے خواب سنا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، "حضور عالی، یہ خواب بتاتا ہے کہ زندگی ایک چکر ہے جو مکمل ہو رہا ہے۔ آپ کو یہ پیغام مل رہا ہے کہ اپنی دولت، طاقت اور زندگی کے نعمتوں کی حفاظت کریں، ورنہ یہ سب کچھ خود ہی ختم ہو جائے گا۔" بادشاہ نے پوچھا، "ملا، اگر سانپ اپنی دم نہ کھا رہا ہوتا تو اس کا کیا مطلب ہوتا؟" ملا نصرالدین نے مسکرا کر جواب دیا، "تو پھر وہ صرف ایک سانپ ہوتا، حضور۔ 😄 اس میں کوئی خاص پیغام نہ ہوتا۔" بادشاہ ملا نصرالدین کی حکمت سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں انعام سے نوازا۔ 👸🏻 اس حکایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں توازن اور حفاظت بہت ضروری ہے، اور ہر چیز کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔
    0 Reacties 0 aandelen 452 Views
  • Teacher Training book
    Day 39,Task 4

    Story Post:
    Mulla Nasruddin and the Emperor’s Dinner Invitation

    مُلّا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت

    ایک دن بادشاہ نے شہر کے مشہور دانا، مُلّا نصرالدین کو شاہی محل میں کھانے کی دعوت دی۔ مُلّا
    یہ سن کر بہت خوش ہوئے، مگر دل میں ایک شرارت بھی جاگ اُٹھی۔
    دعوت کے دن مُلّا نے پرانے کپڑے پہن لیے اور سادہ سی چپل پہن کر محل پہنچ گئے۔ دربانوں نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور راستہ روک لیا۔
    “یہ شاہی دعوت ہے، ہر کسی کے لیے نہیں!”
    مُلّا خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔
    گھر جا کر مُلّا نے قیمتی لباس پہنا، ریشمی عمامہ باندھا اور خوشبو لگا کر دوبارہ محل پہنچے۔ اس بار دربان فوراً جھک گئے، بڑے احترام سے اندر لے گئے اور بادشاہ کے پاس بٹھا دیا۔
    کھانا آیا، طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ مُلّا نے اچانک اپنے کوٹ کی آستین میں سالن ڈالنا شروع کر دیا۔ سب حیران رہ گئے۔
    بادشاہ نے تعجب سے پوچھا:
    “مُلّا! یہ کیا کر رہے ہو؟”
    مُلّا مسکرا کر بولے:
    “حضور! عزت تو میرے کپڑوں کی ہو رہی ہے، اس لیے میں کھانا بھی انہیں ہی کھلا رہا ہوں۔”
    یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، پھر سب ہنس پڑے۔ بادشاہ نے مُلّا کی دانشمندی کو سراہا۔
    سبق:
    انسان کی قدر اس کے لباس سے نہیں، اس کی عقل اور کردار سے ہوتی ہے۔
    جو صرف ظاہر دیکھے، وہ اصل حقیقت سے محروم رہ جاتا ہے۔
    Teacher Training book Day 39,Task 4 Story Post: Mulla Nasruddin and the Emperor’s Dinner Invitation مُلّا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت ایک دن بادشاہ نے شہر کے مشہور دانا، مُلّا نصرالدین کو شاہی محل میں کھانے کی دعوت دی۔ مُلّا یہ سن کر بہت خوش ہوئے، مگر دل میں ایک شرارت بھی جاگ اُٹھی۔ دعوت کے دن مُلّا نے پرانے کپڑے پہن لیے اور سادہ سی چپل پہن کر محل پہنچ گئے۔ دربانوں نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور راستہ روک لیا۔ “یہ شاہی دعوت ہے، ہر کسی کے لیے نہیں!” مُلّا خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔ گھر جا کر مُلّا نے قیمتی لباس پہنا، ریشمی عمامہ باندھا اور خوشبو لگا کر دوبارہ محل پہنچے۔ اس بار دربان فوراً جھک گئے، بڑے احترام سے اندر لے گئے اور بادشاہ کے پاس بٹھا دیا۔ کھانا آیا، طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ مُلّا نے اچانک اپنے کوٹ کی آستین میں سالن ڈالنا شروع کر دیا۔ سب حیران رہ گئے۔ بادشاہ نے تعجب سے پوچھا: “مُلّا! یہ کیا کر رہے ہو؟” مُلّا مسکرا کر بولے: “حضور! عزت تو میرے کپڑوں کی ہو رہی ہے، اس لیے میں کھانا بھی انہیں ہی کھلا رہا ہوں۔” یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، پھر سب ہنس پڑے۔ بادشاہ نے مُلّا کی دانشمندی کو سراہا۔ سبق: انسان کی قدر اس کے لباس سے نہیں، اس کی عقل اور کردار سے ہوتی ہے۔ جو صرف ظاہر دیکھے، وہ اصل حقیقت سے محروم رہ جاتا ہے۔
    0 Reacties 0 aandelen 388 Views
  • Story Post: 70
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:09:26


    ‍ ملا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوتِ طعام

    ایک دن بادشاہ نے ملا نصرالدین کو اپنے محل میں شاہی دعوت پر مدعو کیا۔ ملا نصرالدین نے دعوت قبول کر لی، لیکن اپنی حاضر جوابی اور منفرد انداز کی وجہ سے وہ دربار میں سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

    شاہی دسترخوان پر ملا نصرالدین نے ایسا دلچسپ جواب دیا کہ بادشاہ اور درباری حیران رہ گئے۔ اپنی ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سب کو یہ احساس دلایا کہ اصل عزت لباس، دولت یا عہدے میں نہیں، بلکہ انسان کے کردار اور سمجھداری میں ہوتی ہے۔

    اس کہانی سے سبق:
    ہر شخص کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آئیں۔
    حاضر جوابی مشکل حالات میں کام آتی ہے۔
    انسان کی اصل پہچان اس کا کردار ہے۔
    مزاح کے ذریعے بھی گہری بات سمجھائی جا سکتی ہے۔

    ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں ہنسی کے ساتھ ایک خوبصورت سبق دیتی ہے کہ عقل، عاجزی اور اچھا کردار ہی انسان کی اصل شان ہیں۔ ‍

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #King #بادشاہ #RoyalDinner #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    Story Post: 70 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:09:26 👑🧔‍♂️ ملا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوتِ طعام 🍽️✨ ایک دن بادشاہ نے ملا نصرالدین کو اپنے محل میں شاہی دعوت پر مدعو کیا۔ 👑🏰 ملا نصرالدین نے دعوت قبول کر لی، لیکن اپنی حاضر جوابی اور منفرد انداز کی وجہ سے وہ دربار میں سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ 😄🎩 شاہی دسترخوان پر ملا نصرالدین نے ایسا دلچسپ جواب دیا کہ بادشاہ اور درباری حیران رہ گئے۔ 😂🍲 اپنی ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سب کو یہ احساس دلایا کہ اصل عزت لباس، دولت یا عہدے میں نہیں، بلکہ انسان کے کردار اور سمجھداری میں ہوتی ہے۔ ❤️🧠 🌟 اس کہانی سے سبق: 👑 ہر شخص کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آئیں۔ 🧠 حاضر جوابی مشکل حالات میں کام آتی ہے۔ ❤️ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار ہے۔ 😄 مزاح کے ذریعے بھی گہری بات سمجھائی جا سکتی ہے۔ 📖 ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں ہنسی کے ساتھ ایک خوبصورت سبق دیتی ہے کہ عقل، عاجزی اور اچھا کردار ہی انسان کی اصل شان ہیں۔ 🧔‍♂️✨🍽️ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #King #بادشاہ #RoyalDinner #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    0 Reacties 0 aandelen 951 Views
  • ### ملا نصرالدین اور سلطان کا چیلنج

    ایک دن سلطان نے اپنے دربار میں ملا نصرالدین کو بلایا۔ سلطان ملا کی حاضر جوابی اور عقل مندی کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا۔

    سلطان نے ملا سے کہا:

    "ملا نصرالدین! آج میں تمہیں ایک چیلنج دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسے پورا کر دیا تو میں تمہیں انعام دوں گا، لیکن اگر ناکام ہوئے تو تمہیں سزا دی جائے گی۔"

    ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا:

    "حضور! چیلنج قبول ہے، لیکن پہلے مجھے بتائیے کہ کرنا کیا ہے؟"

    سلطان نے ایک مشکل سوال پوچھا:

    "مجھے بتاؤ کہ میرے محل میں سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟"

    دربار کے سب لوگ خاموش ہوگئے۔ کسی نے کہا سونا، کسی نے کہا ہیرے، اور کسی نے کہا سلطان کا تاج۔

    ملا نصرالدین نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا:

    "حضور! آپ کے محل میں سب سے قیمتی چیز **آپ کا وقت** ہے۔"

    سلطان حیران ہوا اور پوچھا:

    "وہ کیسے؟"

    ملا نے جواب دیا:

    "سونا دوبارہ خریدا جا سکتا ہے، ہیرے دوبارہ مل سکتے ہیں اور تاج بھی دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن جو وقت گزر جائے وہ دنیا کی کسی دولت سے واپس نہیں آتا۔"

    دربار میں خاموشی چھا گئی۔

    سلطان نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر کہا:

    "ملا نصرالدین! تم نے نہ صرف میرا چیلنج جیتا ہے بلکہ مجھے ایک ایسی بات سکھائی ہے جو ہر بادشاہ کو یاد رکھنی چاہیے۔"

    سلطان نے ملا کو انعام دیا اور کہا:

    "آج سے تم میرے دربار کے سب سے عقلمند مشیروں میں سے ایک ہو۔"

    ملا نصرالدین نے ہنس کر کہا:

    "حضور! بس اتنا یاد رکھیے کہ وقت کو ضائع کرنے سے پہلے اسے خریدنے کی کوشش نہ کیجیے گا، کیونکہ بازار میں اس کی دکان نہیں ہے!"

    سب لوگ ہنس پڑے، اور سلطان بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔

    ### سبق:
    **وقت دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ اسے ضائع کرنے کے بجائے صحیح کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔**
    ### ملا نصرالدین اور سلطان کا چیلنج ایک دن سلطان نے اپنے دربار میں ملا نصرالدین کو بلایا۔ سلطان ملا کی حاضر جوابی اور عقل مندی کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا۔ سلطان نے ملا سے کہا: "ملا نصرالدین! آج میں تمہیں ایک چیلنج دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسے پورا کر دیا تو میں تمہیں انعام دوں گا، لیکن اگر ناکام ہوئے تو تمہیں سزا دی جائے گی۔" ملا نصرالدین نے مسکرا کر کہا: "حضور! چیلنج قبول ہے، لیکن پہلے مجھے بتائیے کہ کرنا کیا ہے؟" سلطان نے ایک مشکل سوال پوچھا: "مجھے بتاؤ کہ میرے محل میں سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟" دربار کے سب لوگ خاموش ہوگئے۔ کسی نے کہا سونا، کسی نے کہا ہیرے، اور کسی نے کہا سلطان کا تاج۔ ملا نصرالدین نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا: "حضور! آپ کے محل میں سب سے قیمتی چیز **آپ کا وقت** ہے۔" سلطان حیران ہوا اور پوچھا: "وہ کیسے؟" ملا نے جواب دیا: "سونا دوبارہ خریدا جا سکتا ہے، ہیرے دوبارہ مل سکتے ہیں اور تاج بھی دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن جو وقت گزر جائے وہ دنیا کی کسی دولت سے واپس نہیں آتا۔" دربار میں خاموشی چھا گئی۔ سلطان نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر کہا: "ملا نصرالدین! تم نے نہ صرف میرا چیلنج جیتا ہے بلکہ مجھے ایک ایسی بات سکھائی ہے جو ہر بادشاہ کو یاد رکھنی چاہیے۔" سلطان نے ملا کو انعام دیا اور کہا: "آج سے تم میرے دربار کے سب سے عقلمند مشیروں میں سے ایک ہو۔" ملا نصرالدین نے ہنس کر کہا: "حضور! بس اتنا یاد رکھیے کہ وقت کو ضائع کرنے سے پہلے اسے خریدنے کی کوشش نہ کیجیے گا، کیونکہ بازار میں اس کی دکان نہیں ہے!" سب لوگ ہنس پڑے، اور سلطان بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ 😄 ### سبق: **وقت دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ اسے ضائع کرنے کے بجائے صحیح کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔**
    0 Reacties 0 aandelen 409 Views
  • #rsisb
    Roll no.240
    Story Post.32
    Level One

    ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اپنی سلطنت کے دانش مند لوگوں سے مشکل سوالات پوچھنے کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن کسی نے اسے مولّا نصرالدین کی حاضر جوابی اور عقل کے بارے میں بتایا۔ بادشاہ نے فوراً مولّا نصرالدین کو دربار میں بلوا لیا۔

    مولّا نصرالدین دربار میں پہنچے تو بادشاہ نے کہا، "مولّا! آج میں تم سے کچھ مشکل سوالات پوچھوں گا۔ اگر تم نے میرے سوالوں کے درست جواب دے دیے تو میں تمہیں انعام دوں گا۔" مولّا مسکرائے اور بولے، "بادشاہ سلامت! سوال آپ کے ہوں گے، مگر جواب میری عقل دے گی۔"

    بادشاہ نے پہلا سوال کیا، "دنیا میں ایسی کون سی چیز ہے جو جتنی زیادہ بانٹو، اتنی ہی زیادہ بڑھتی ہے؟" مولّا نے فوراً جواب دیا، "علم اور محبت!" بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، "کیسے؟" مولّا نے کہا، "علم کسی دوسرے کو دینے سے کم نہیں ہوتا بلکہ مزید لوگوں تک پہنچتا ہے، اور محبت بانٹنے سے دلوں میں اور زیادہ پیدا ہوتی ہے۔"

    بادشاہ نے دوسرا سوال کیا، "ایسی کون سی چیز ہے جسے جتنا زیادہ استعمال کرو، وہ اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی ہے؟" مولّا نے جواب دیا، "وقت!" بادشاہ نے سر ہلایا اور کہا، "یہ جواب درست ہے۔" مولّا بولے، "وقت بھی دولت کی طرح ہے، مگر فرق یہ ہے کہ کھوئی ہوئی دولت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔"

    بادشاہ نے تیسرا سوال کیا، "انسان کی سب سے بڑی طاقت کیا ہے؟" مولّا نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، "اس کی عقل، صبر اور سیکھنے کی صلاحیت۔" بادشاہ نے پوچھا، "اور سب سے بڑی کمزوری؟" مولّا مسکرا کر بولے، "اپنی غلطی کو غلطی نہ ماننا۔"

    بادشاہ مولّا کے جوابات سے بہت متاثر ہوا۔ آخر میں اس نے کہا، "مولّا نصرالدین! تم نے ثابت کر دیا کہ مشکل سوال کا جواب صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، بلکہ عقل، تجربے اور سمجھ داری میں بھی ہوتا ہے۔"

    مولّا نے جھک کر بادشاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا، "بادشاہ سلامت! عقل کا اصل کمال یہ ہے کہ انسان مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے سوچے، سمجھے اور درست فیصلہ کرے۔"

    یہ خوبصورت کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حاضر جوابی، صبر، علم اور سمجھ داری انسان کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔ ہر مشکل سوال کا جواب فوراً معلوم ہونا ضروری نہیں؛ کبھی کبھی تھوڑا رک کر سوچنا ہی بہترین جواب تک پہنچنے کا راستہ بن جاتا ہے۔

    سبق: علم بانٹنے سے بڑھتا ہے، وقت کی قدر کرنی چاہیے، اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے اور مشکل حالات میں صبر و حکمت سے کام لینا چاہیے۔

    #MullaNasruddin #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #FunnyStory #Wisdom #Nasruddin #StoryTime #UrduContent #KidsStories #IslamicStories #LifeLessons #Knowledge #Motivation #Hikmat #Sabr #Learning #UrduPost

    Rehan School Islamabad Campus
    Asma Shaheen EducationWali
    Irum Asim Leadershipwali
    Saima Empowerment Wali

    #rsisb Roll no.240 Story Post.32 Level One ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اپنی سلطنت کے دانش مند لوگوں سے مشکل سوالات پوچھنے کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن کسی نے اسے مولّا نصرالدین کی حاضر جوابی اور عقل کے بارے میں بتایا۔ بادشاہ نے فوراً مولّا نصرالدین کو دربار میں بلوا لیا۔ مولّا نصرالدین دربار میں پہنچے تو بادشاہ نے کہا، "مولّا! آج میں تم سے کچھ مشکل سوالات پوچھوں گا۔ اگر تم نے میرے سوالوں کے درست جواب دے دیے تو میں تمہیں انعام دوں گا۔" مولّا مسکرائے اور بولے، "بادشاہ سلامت! سوال آپ کے ہوں گے، مگر جواب میری عقل دے گی۔" 😄 بادشاہ نے پہلا سوال کیا، "دنیا میں ایسی کون سی چیز ہے جو جتنی زیادہ بانٹو، اتنی ہی زیادہ بڑھتی ہے؟" مولّا نے فوراً جواب دیا، "علم اور محبت!" بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، "کیسے؟" مولّا نے کہا، "علم کسی دوسرے کو دینے سے کم نہیں ہوتا بلکہ مزید لوگوں تک پہنچتا ہے، اور محبت بانٹنے سے دلوں میں اور زیادہ پیدا ہوتی ہے۔" ❤️📚 بادشاہ نے دوسرا سوال کیا، "ایسی کون سی چیز ہے جسے جتنا زیادہ استعمال کرو، وہ اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی ہے؟" مولّا نے جواب دیا، "وقت!" بادشاہ نے سر ہلایا اور کہا، "یہ جواب درست ہے۔" مولّا بولے، "وقت بھی دولت کی طرح ہے، مگر فرق یہ ہے کہ کھوئی ہوئی دولت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔" ⏳ بادشاہ نے تیسرا سوال کیا، "انسان کی سب سے بڑی طاقت کیا ہے؟" مولّا نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، "اس کی عقل، صبر اور سیکھنے کی صلاحیت۔" بادشاہ نے پوچھا، "اور سب سے بڑی کمزوری؟" مولّا مسکرا کر بولے، "اپنی غلطی کو غلطی نہ ماننا۔" 😄 بادشاہ مولّا کے جوابات سے بہت متاثر ہوا۔ آخر میں اس نے کہا، "مولّا نصرالدین! تم نے ثابت کر دیا کہ مشکل سوال کا جواب صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، بلکہ عقل، تجربے اور سمجھ داری میں بھی ہوتا ہے۔" مولّا نے جھک کر بادشاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا، "بادشاہ سلامت! عقل کا اصل کمال یہ ہے کہ انسان مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے سوچے، سمجھے اور درست فیصلہ کرے۔" 🌟 یہ خوبصورت کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حاضر جوابی، صبر، علم اور سمجھ داری انسان کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔ ہر مشکل سوال کا جواب فوراً معلوم ہونا ضروری نہیں؛ کبھی کبھی تھوڑا رک کر سوچنا ہی بہترین جواب تک پہنچنے کا راستہ بن جاتا ہے۔ 🧠💡 📖 سبق: علم بانٹنے سے بڑھتا ہے، وقت کی قدر کرنی چاہیے، اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے اور مشکل حالات میں صبر و حکمت سے کام لینا چاہیے۔ 🌱✨ #MullaNasruddin #UrduStory #UrduKahani #MoralStory #FunnyStory #Wisdom #Nasruddin #StoryTime #UrduContent #KidsStories #IslamicStories #LifeLessons #Knowledge #Motivation #Hikmat #Sabr #Learning #UrduPost 📚👑✨ Rehan School Islamabad Campus Asma Shaheen EducationWali Irum Asim Leadershipwali Saima Empowerment Wali
    0 Reacties 0 aandelen 1797 Views
  • Story post : 48
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 9:24:26



    ملا نصرالدین اور بادشاہ کے مشکل سوالات

    ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ اور سبق آموز کہانی ایک ایسے موقع کی ہے جب بادشاہ نے ملا نصرالدین سے کئی مشکل سوالات پوچھے۔

    ملا نے گھبرانے کے بجائے اپنی حاضر جوابی، ذہانت اور منفرد اندازِ فکر سے ہر سوال کا ایسا جواب دیا کہ بادشاہ بھی حیران رہ گیا۔

    یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل سوالات اور حالات میں گھبرانے کے بجائے پرسکون رہ کر سوچنا، عقل سے کام لینا اور اعتماد کے ساتھ جواب دینا بہت اہم ہے۔

    بادشاہ کے دلچسپ سوالات
    ملا نصرالدین کی ذہانت
    حاضر جوابی اور مزاح
    سوچنے اور سمجھنے کا سبق
    مشکل حالات میں اعتماد

    عقل، حاضر جوابی اور پرسکون سوچ انسان کو مشکل ترین سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #KingAndMulla #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Wisdom #HazarJawabi #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #InterestingStories #DesiStories
    Story post : 48 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 9:24:26 👑🧠 ملا نصرالدین اور بادشاہ کے مشکل سوالات 📖✨ ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ اور سبق آموز کہانی ایک ایسے موقع کی ہے جب بادشاہ نے ملا نصرالدین سے کئی مشکل سوالات پوچھے۔ 👑❓ ملا نے گھبرانے کے بجائے اپنی حاضر جوابی، ذہانت اور منفرد اندازِ فکر سے ہر سوال کا ایسا جواب دیا کہ بادشاہ بھی حیران رہ گیا۔ 😄💡 یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل سوالات اور حالات میں گھبرانے کے بجائے پرسکون رہ کر سوچنا، عقل سے کام لینا اور اعتماد کے ساتھ جواب دینا بہت اہم ہے۔ 🌟🧠 👑 بادشاہ کے دلچسپ سوالات 🧠 ملا نصرالدین کی ذہانت 😂 حاضر جوابی اور مزاح 📚 سوچنے اور سمجھنے کا سبق ✨ مشکل حالات میں اعتماد عقل، حاضر جوابی اور پرسکون سوچ انسان کو مشکل ترین سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ 💡📖 #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #KingAndMulla #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Wisdom #HazarJawabi #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #InterestingStories #DesiStories 👑🧠😂📖✨
    0 Reacties 0 aandelen 1995 Views
  • # The Clever Plan of Mulla Nasrudin

    Day 12
    Roll no: 01
    Story Post
    Fondation Level

    One day, some townspeople wanted to teach Mulla Nasrudin a lesson because he was always giving funny answers.

    They told him that the king had announced a great reward for the person who could make him laugh. They thought Mulla would fail, but Mulla smiled and said, “I will go, Insha’Allah.”

    Mulla went to the king’s palace. The king said, “Tell me something funny to earn the reward.”

    Mulla bowed and replied, “Your Majesty, I will make you laugh tomorrow.”

    The next day, Mulla came to the court carrying a big mirror. He placed the mirror in front of the king. The king looked at himself in the mirror and suddenly started laughing.

    “Ha! Ha! This is the funniest thing!” the king said. “Here is your reward.”

    Mulla’s clever plan worked, and everyone was amazed by his wisdom.

    **Moral of the Story:**
    Wisdom and cleverness can turn any situation in your favor.

    # ملا نصرالدین کا عقلمندانہ منصوبہ

    ایک دن شہر کے کچھ لوگوں نے ملا نصرالدین کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے مزاحیہ اور دلچسپ جوابوں سے لوگوں کو حیران کر دیتے تھے۔

    انہوں نے ملا سے کہا کہ بادشاہ نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص اسے ہنسا دے گا، اسے ایک بڑا انعام دیا جائے گا۔ لوگوں کو یقین تھا کہ ملا ناکام ہو جائے گا، لیکن ملا مسکرائے اور بولے، “میں جاؤں گا، ان شاء اللہ۔”

    ملا بادشاہ کے محل میں پہنچے۔ بادشاہ نے کہا، “مجھے کوئی مزاحیہ بات سناؤ تاکہ تمہیں انعام مل سکے۔”

    ملا نے جھک کر جواب دیا، “بادشاہ سلامت، میں آپ کو کل ہنساؤں گا۔”

    اگلے دن ملا دربار میں ایک بڑا آئینہ لے کر آئے۔ انہوں نے آئینہ بادشاہ کے سامنے رکھ دیا۔ بادشاہ نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا اور اچانک ہنسنے لگے۔

    بادشاہ نے کہا، “ہا! ہا! یہ تو سب سے مزاحیہ چیز ہے! یہ لو اپنا انعام۔”

    ملا کا عقلمندانہ منصوبہ کامیاب ہو گیا اور سب لوگ ان کی ذہانت پر حیران رہ گئے۔

    **کہانی کا سبق:**
    عقل اور سمجھ داری سے انسان مشکل سے مشکل صورتحال کو بھی اپنے حق میں بدل سکتا ہے۔
    # The Clever Plan of Mulla Nasrudin Day 12 Roll no: 01 Story Post Fondation Level One day, some townspeople wanted to teach Mulla Nasrudin a lesson because he was always giving funny answers. They told him that the king had announced a great reward for the person who could make him laugh. They thought Mulla would fail, but Mulla smiled and said, “I will go, Insha’Allah.” Mulla went to the king’s palace. The king said, “Tell me something funny to earn the reward.” Mulla bowed and replied, “Your Majesty, I will make you laugh tomorrow.” The next day, Mulla came to the court carrying a big mirror. He placed the mirror in front of the king. The king looked at himself in the mirror and suddenly started laughing. “Ha! Ha! This is the funniest thing!” the king said. “Here is your reward.” Mulla’s clever plan worked, and everyone was amazed by his wisdom. **Moral of the Story:** Wisdom and cleverness can turn any situation in your favor. # ملا نصرالدین کا عقلمندانہ منصوبہ ایک دن شہر کے کچھ لوگوں نے ملا نصرالدین کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے مزاحیہ اور دلچسپ جوابوں سے لوگوں کو حیران کر دیتے تھے۔ انہوں نے ملا سے کہا کہ بادشاہ نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص اسے ہنسا دے گا، اسے ایک بڑا انعام دیا جائے گا۔ لوگوں کو یقین تھا کہ ملا ناکام ہو جائے گا، لیکن ملا مسکرائے اور بولے، “میں جاؤں گا، ان شاء اللہ۔” ملا بادشاہ کے محل میں پہنچے۔ بادشاہ نے کہا، “مجھے کوئی مزاحیہ بات سناؤ تاکہ تمہیں انعام مل سکے۔” ملا نے جھک کر جواب دیا، “بادشاہ سلامت، میں آپ کو کل ہنساؤں گا۔” اگلے دن ملا دربار میں ایک بڑا آئینہ لے کر آئے۔ انہوں نے آئینہ بادشاہ کے سامنے رکھ دیا۔ بادشاہ نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا اور اچانک ہنسنے لگے۔ بادشاہ نے کہا، “ہا! ہا! یہ تو سب سے مزاحیہ چیز ہے! یہ لو اپنا انعام۔” ملا کا عقلمندانہ منصوبہ کامیاب ہو گیا اور سب لوگ ان کی ذہانت پر حیران رہ گئے۔ **کہانی کا سبق:** عقل اور سمجھ داری سے انسان مشکل سے مشکل صورتحال کو بھی اپنے حق میں بدل سکتا ہے۔
    0 Reacties 0 aandelen 1468 Views
  • Task : Story post
    Story Post no : 31
    facbook link : https://www.facebook.com/profile.php?...
    youtube link : https:/www.youtube.com/@BilalLeaders
    ملا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت
    ایک دن ملا نصرالدین کو بادشاہ کی طرف سے ایک شاندار دعوت کا بلاوا آیا۔ بادشاہ نے شہر کے کئی معزز لوگوں کو اپنے محل میں کھانے کی دعوت دی تھی۔
    ملا نصرالدین خوشی خوشی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن انہوں نے سادہ اور پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ جب وہ محل کے دروازے پر پہنچے تو محافظوں نے انہیں دیکھا اور روک لیا۔
    محافظوں نے کہا،
    "تم کہاں جا رہے ہو؟ یہ دعوت صرف خاص مہمانوں کے لیے ہے۔"
    ملا نصرالدین نے جواب دیا،
    "مجھے بادشاہ نے خود دعوت دی ہے۔"
    محافظ ہنسنے لگے اور بولے،
    "تم جیسے سادہ کپڑوں والے شخص کو بادشاہ کی دعوت میں کیسے بلایا جا سکتا ہے؟"
    ملا نصرالدین خاموشی سے واپس گھر چلے گئے۔ انہوں نے اپنے خوبصورت اور قیمتی کپڑے پہنے اور دوبارہ محل پہنچ گئے۔
    اس مرتبہ محافظوں نے انہیں فوراً اندر جانے دیا۔ ملا نصرالدین کو عزت کے ساتھ بٹھایا گیا اور کھانا پیش کیا گیا۔
    لیکن ملا نصرالدین نے کھانا کھانے کے بجائے اپنی قیمتی قبا کی آستین میں کھانا ڈالنا شروع کر دیا۔
    بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا:
    "ملا صاحب! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟"
    ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے:
    "بادشاہ سلامت! لگتا ہے دعوت مجھے نہیں بلکہ میرے کپڑوں کو دی گئی ہے۔ جب میں سادہ کپڑوں میں آیا تو مجھے اندر نہیں آنے دیا گیا، لیکن جب میں اچھے کپڑے پہن کر آیا تو سب نے عزت دی۔ اس لیے کھانا بھی میرے کپڑوں کا حق بنتا ہے!"
    بادشاہ کو ملا نصرالدین کی بات سمجھ آگئی۔ وہ مسکرایا اور کہا:
    "ملا نصرالدین! آج تم نے ہمیں ایک اہم سبق سکھایا ہے۔ انسان کی قدر اس کے لباس یا دولت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور شخصیت سے ہونی چاہیے۔"
    سبق:
    کسی انسان کی عزت اس کے لباس، دولت یا ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور صلاحیت سے کرنی چاہیے۔
    Task : Story post Story Post no : 31 facbook link : https://www.facebook.com/profile.php?... youtube link : https:/www.youtube.com/@BilalLeaders ملا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت ایک دن ملا نصرالدین کو بادشاہ کی طرف سے ایک شاندار دعوت کا بلاوا آیا۔ بادشاہ نے شہر کے کئی معزز لوگوں کو اپنے محل میں کھانے کی دعوت دی تھی۔ ملا نصرالدین خوشی خوشی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن انہوں نے سادہ اور پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ جب وہ محل کے دروازے پر پہنچے تو محافظوں نے انہیں دیکھا اور روک لیا۔ محافظوں نے کہا، "تم کہاں جا رہے ہو؟ یہ دعوت صرف خاص مہمانوں کے لیے ہے۔" ملا نصرالدین نے جواب دیا، "مجھے بادشاہ نے خود دعوت دی ہے۔" محافظ ہنسنے لگے اور بولے، "تم جیسے سادہ کپڑوں والے شخص کو بادشاہ کی دعوت میں کیسے بلایا جا سکتا ہے؟" ملا نصرالدین خاموشی سے واپس گھر چلے گئے۔ انہوں نے اپنے خوبصورت اور قیمتی کپڑے پہنے اور دوبارہ محل پہنچ گئے۔ اس مرتبہ محافظوں نے انہیں فوراً اندر جانے دیا۔ ملا نصرالدین کو عزت کے ساتھ بٹھایا گیا اور کھانا پیش کیا گیا۔ لیکن ملا نصرالدین نے کھانا کھانے کے بجائے اپنی قیمتی قبا کی آستین میں کھانا ڈالنا شروع کر دیا۔ بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا: "ملا صاحب! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟" ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے: "بادشاہ سلامت! لگتا ہے دعوت مجھے نہیں بلکہ میرے کپڑوں کو دی گئی ہے۔ جب میں سادہ کپڑوں میں آیا تو مجھے اندر نہیں آنے دیا گیا، لیکن جب میں اچھے کپڑے پہن کر آیا تو سب نے عزت دی۔ اس لیے کھانا بھی میرے کپڑوں کا حق بنتا ہے!" بادشاہ کو ملا نصرالدین کی بات سمجھ آگئی۔ وہ مسکرایا اور کہا: "ملا نصرالدین! آج تم نے ہمیں ایک اہم سبق سکھایا ہے۔ انسان کی قدر اس کے لباس یا دولت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور شخصیت سے ہونی چاہیے۔" سبق: کسی انسان کی عزت اس کے لباس، دولت یا ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور صلاحیت سے کرنی چاہیے۔
    1
    0 Reacties 0 aandelen 1532 Views
  • یہ دعا بہت پیاری ہے ، اسکو سکون سے پڑھو اور دل میں آمین کہو اور اس میسج کو آگے فارورڈ کرو، ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ہو جائے. (آمین)

    — اے الله رب العزت

    — اے ساری کائنات کے شہنشاہ

    — اے ساری مخلوق کے پالنے والے

    — اے زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والے

    — اے آسمانوں اور زمین کے مالک

    — اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک

    — اے انسان اور جنات کے معبود

    — اے عرش عظیم کے مالک

    — اے فرشتوں کے معبود

    — اے عزت اور ذلت کے مالک

    — اے بیماروں کو شفا دینے والے

    — اے بادشاھوں کے بادشاہ

    — اے الله ہم تیرے گنہگار بندے ہیں

    — تیرے خطاکار بندے ہیں

    — ہمارے گناہوں کو معاف فرما

    — ہماری خطاؤں کو معاف فرما

    — اے الله ہم اپنے اگلے پچھلے ، صغیرہ کبیرہ ، چھوٹے بڑے سبھی گناہوں اور خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں

    — اے الله رب عزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول کرلے ...

    — اے الله ہم گنہگار ہیں ، سیاہکار ہیں ، بدکار ہیں، تیرے حکم کے نافرمان ہیں، ناشکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں تیری توحید کی گواھی دیتے ہیں.

    — تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے.

    — تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے.

    — تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہیں .

    — ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں.

    — تو اپنی رحمت سے ہمیں معاف کردے.

    — اے الله پاک آپ ہمیں گمراھی کے راستے سے ہٹا کر صراط مستقیم کے راستے پہ چلنے والہ بنا دے.

    — اے الله ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے.

    — زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ہو جائے.

    — ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے.

    — ایمان پر زندہ رکھ اور ایمان پر ہی موت عطا کر...

    — اے الله ہمیں تیرے حکموں کی فرمانبرداری کرنے والا بنا...

    — اور تیرے پیارے حبیب جناب محمد رسول الله کے نیک اور پاکیزہ طریقوں کو اپنی زندگی میں لانے والا بنا.

    — اے الله ہماری پریشانیوں کو دور کردے.

    — اے الله جو بیمار ہیں انہیں شفا عطا فرما.

    — اے الله جو قرض کے بوجھ سے دبے ہوے ہیں انکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے.

    — اے الله شیطان سے ہماری حفاظت فرما.

    — اے الله اسلام کے دشمنوں کا منه کالا کر.

    — اے الله حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما.

    — اے پروردگار عالم ہمیں مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ہر چیز پہ قادر ہے.

    — اے الله جو مانگا وہ بھی عطا فرما جو مانگنے سے رہ گیا وہ بھی عطا عنایت فرما.

    — ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور آگے بڑھا رہا ہے اسکی ساری پریشانیوں تکلیفوں بیماریوں کو دور فرما اور صحت کاملہ عطا کر.



    آمین ... آمین ... آمین

    Courtesy Sultan Arfeen
    یہ دعا بہت پیاری ہے ، اسکو سکون سے پڑھو اور دل میں آمین کہو اور اس میسج کو آگے فارورڈ کرو، ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ہو جائے. (آمین) — اے الله رب العزت — اے ساری کائنات کے شہنشاہ — اے ساری مخلوق کے پالنے والے — اے زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والے — اے آسمانوں اور زمین کے مالک — اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک — اے انسان اور جنات کے معبود — اے عرش عظیم کے مالک — اے فرشتوں کے معبود — اے عزت اور ذلت کے مالک — اے بیماروں کو شفا دینے والے — اے بادشاھوں کے بادشاہ — اے الله ہم تیرے گنہگار بندے ہیں — تیرے خطاکار بندے ہیں — ہمارے گناہوں کو معاف فرما — ہماری خطاؤں کو معاف فرما — اے الله ہم اپنے اگلے پچھلے ، صغیرہ کبیرہ ، چھوٹے بڑے سبھی گناہوں اور خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں — اے الله رب عزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول کرلے ... — اے الله ہم گنہگار ہیں ، سیاہکار ہیں ، بدکار ہیں، تیرے حکم کے نافرمان ہیں، ناشکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں تیری توحید کی گواھی دیتے ہیں. — تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے. — تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے. — تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہیں . — ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں. — تو اپنی رحمت سے ہمیں معاف کردے. — اے الله پاک آپ ہمیں گمراھی کے راستے سے ہٹا کر صراط مستقیم کے راستے پہ چلنے والہ بنا دے. — اے الله ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے. — زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ہو جائے. — ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے. — ایمان پر زندہ رکھ اور ایمان پر ہی موت عطا کر... — اے الله ہمیں تیرے حکموں کی فرمانبرداری کرنے والا بنا... — اور تیرے پیارے حبیب جناب محمد رسول الله کے نیک اور پاکیزہ طریقوں کو اپنی زندگی میں لانے والا بنا. — اے الله ہماری پریشانیوں کو دور کردے. — اے الله جو بیمار ہیں انہیں شفا عطا فرما. — اے الله جو قرض کے بوجھ سے دبے ہوے ہیں انکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے. — اے الله شیطان سے ہماری حفاظت فرما. — اے الله اسلام کے دشمنوں کا منه کالا کر. — اے الله حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما. — اے پروردگار عالم ہمیں مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ہر چیز پہ قادر ہے. — اے الله جو مانگا وہ بھی عطا فرما جو مانگنے سے رہ گیا وہ بھی عطا عنایت فرما. — ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور آگے بڑھا رہا ہے اسکی ساری پریشانیوں تکلیفوں بیماریوں کو دور فرما اور صحت کاملہ عطا کر. آمین ... آمین ... آمین Courtesy Sultan Arfeen
    0 Reacties 0 aandelen 1308 Views
  • برداشت :

    صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں

    Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    برداشت : صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    0 Reacties 0 aandelen 1105 Views
Zoekresultaten