• ریحان اسکول: ہر طالب علم کو کمانے والا بنانے کا خواب — پاکستان کے لئے ایک نیا ماڈل

    پاکستان میں لاکھوں بچے روزانہ اسکول جاتے ہیں، مگر ان میں سے بیشتر نہ کوئی ہنر سیکھ پاتے ہیں، نہ نوکری ملتی ہے، نہ امید جگتی ہے۔ اصل مسئلہ صرف خراب تعلیم نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جو رٹّا تو سکھاتا ہے، لیکن زندگی بدلنے کا ہنر نہیں دیتا۔ نتیجہ؟ خواب بھی ادھورے، جیب بھی خالی۔

    جب میں نے ریحان اسکول کی بنیاد رکھی، تو میرا مشن سادہ تھا، مگر خواب بہت بڑا:
    ہر طالب علم کو اسکول کے دوران ہی عزت کی روزی کمانا سکھانا۔
    سوچیں! اگر صرف چھ ماہ بعد، ایک بچہ پانچ ہزار روپے ماہانہ کمانے لگے — صرف جیب خرچ نہیں، بلکہ غربت سے نکلنے کا راستہ۔
    پھر کلاس شش (Level 2) میں آ کر وہی بچہ صرف تین گھنٹے کام کرکے اٹھائیس ہزار روپے (یا 100 ڈالر) مہینے کے کمانے لگے۔
    اور ہمارا وعدہ یہ ہو کہ 80 فیصد بچے حقیقت میں یہ کامیابی پائیں — نہ صرف امتحانوں میں، بلکہ زندگی میں بھی۔

    لیکن اس خواب کو حقیقت بنانا آسان نہیں۔ پندرہ سال سے زیادہ ہوگئے، میں یہ فارمولا ڈھونڈ رہا ہوں۔
    ٹیکنالوجی بدلتی جاتی ہے، لیکن سوال وہی ہے:
    “ایسا کون سا طریقہ ہے جس سے زیادہ تر بچے واقعی کمانا شروع کر دیں؟”
    بہت آزمائشوں اور سیکھنے کے بعد، میں نے ایک سادہ اور قابلِ عمل حل تیار کیا ہے:



    1. پہلے کمانا، پھر سیکھنا

    اکثر اسکول وہ چیزیں پڑھاتے ہیں جن کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔
    ریحان اسکول میں ہمارا سوال مختلف ہے:
    “ایک بچہ آج کیا کر سکتا ہے جس سے فوراً پیسے کمائے؟”
    ہر سبق، ہر ہنر — اس بنیاد پر چُنا جاتا ہے کہ وہ فوراً آمدنی بڑھا سکتا ہے۔



    2. کمائی کی سیڑھی — قدم بہ قدم

    ہم بچوں کو اچانک گہرے پانی میں نہیں پھینکتے، بلکہ ایک سیدھی سیڑھی بناتے ہیں، جیسے کوئی گیم:
    • پہلا لیول: آسان چھوٹے کام — محلے میں کچھ بیچنا، کسی دکان کے لئے پوسٹر بنانا، چھوٹے آن لائن کام۔
    • دوسرا لیول: تھوڑا مشکل — فری لانسنگ، سوشل میڈیا کے لئے ویڈیو بنانا، آن لائن کاروبار میں مدد کرنا۔
    • تیسرا اور چوتھا لیول: خاص ہنر — گرافکس، ویڈیو ایڈیٹنگ، کوڈنگ، کسٹمر سپورٹ یا چھوٹے کاروبار چلانا۔

    ہر لیول پر بچہ جب اصل میں پیسے کماتا ہے، تب ہی اگلے لیول پر جاتا ہے۔
    سرٹیفکیٹ نہیں — کمائی ہی اصل سند ہے۔



    3. سیکھنا عملی طور پر — ہر ہفتے، ہر دن

    ہر ہفتے، ہر طالب علم کو حقیقی کام ملتا ہے۔ وہ مقامی کاروبار، والدین یا این جی اوز سے جڑتا ہے جو چھوٹے چھوٹے کام دیتے ہیں — پوسٹر بنانا، ایونٹس میں مدد کرنا، سوشل میڈیا چلانا، یا گھر کے بنے کھانے بیچنا۔
    کمائی، اسکول کا روزانہ کا معمول بن جاتا ہے، کوئی خواب نہیں۔



    4. ٹیچر = کمائی کوچ

    اس ماڈل میں اساتذہ صرف پڑھاتے نہیں، بلکہ خود بھی کماتے ہیں، اور طلبہ کو راستہ دکھاتے ہیں۔
    ہر استاد خود بھی آن لائن یا آف لائن کمائی کرتا ہے اور طلبہ کو اپنے تجربات سے سکھاتا ہے۔
    ہر کامیابی پر جشن منایا جاتا ہے، اور پیچھے رہ جانے والوں کو فوری سپورٹ ملتی ہے۔



    5. نگرانی، حوصلہ افزائی، اور بہتری

    ہر طالب علم کی کمائی کا ریکارڈ ایک سادہ ڈیش بورڈ میں ہر ہفتے اپڈیٹ ہوتا ہے۔
    جو سب سے زیادہ کمائے، اسے سب کے سامنے سراہا جاتا ہے۔
    اور جو پیچھے رہ جائے، اسے ایک “بڈی” (ساتھی) ملتا ہے، استاد اور دوست دونوں اس کی مدد کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بھی کامیاب ہو جائے۔
    کوئی بھی اکیلا نہیں رہتا — اور کامیابی سب کے سامنے ہوتی ہے، جس سے سب کو حوصلہ ملتا ہے۔



    6. ماڈل سب کے لئے — نقل اور وائرل کرنے کے لئے تیار

    یہ ماڈل صرف ریحان اسکول کے لئے نہیں،
    بلکہ ہر اسکول کے لئے ایک “کِٹ” ہے —
    جس میں قدم بہ قدم ہدایت، کمائی کی سیڑھی، اور کامیابی کا فارمولا شامل ہے۔
    اگر کسی کیمپس میں 80 فیصد بچے ٹارگٹ نہ پورا کریں، تو ہم مزید سپورٹ دیتے ہیں — شرمندگی نہیں، حوصلہ افزائی!



    ایسا اسکول، جہاں ڈگری نہیں، آزادی ملتی ہے

    یہ صرف ایک خیال نہیں، یہ ایک تحریک ہے۔
    سوچئے! پاکستان میں اسکول اس لئے مشہور ہوں کہ وہاں بچوں نے غربت توڑی، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھا، اور خاندانوں کی زندگی بدل دی۔
    ایسے بچے جو خود کمائیں، دوسروں کی مدد کریں، اور وہ سب کر دکھائیں جو شاید انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔

    اب وقت ہے کہ کامیابی کا مطلب بدلیں — اب صرف نمبر یا سرٹیفکیٹ نہیں،
    اب اصل “گریجویشن” وہ ہے جس میں بچہ خود کمانے اور زندگی بدلنے کے قابل ہو جائے۔
    آئیے!
    مل کر ہر پاکستانی اسکول کو کمائی کی مشین بنائیں — اور ہر بچہ، امید کی ایک نئی کہانی!

    یہ تعلیم کا مستقبل ہے — اور یہ ہم سب سے شروع ہوتا ہے۔
    ریحان اسکول: ہر طالب علم کو کمانے والا بنانے کا خواب — پاکستان کے لئے ایک نیا ماڈل پاکستان میں لاکھوں بچے روزانہ اسکول جاتے ہیں، مگر ان میں سے بیشتر نہ کوئی ہنر سیکھ پاتے ہیں، نہ نوکری ملتی ہے، نہ امید جگتی ہے۔ اصل مسئلہ صرف خراب تعلیم نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جو رٹّا تو سکھاتا ہے، لیکن زندگی بدلنے کا ہنر نہیں دیتا۔ نتیجہ؟ خواب بھی ادھورے، جیب بھی خالی۔ جب میں نے ریحان اسکول کی بنیاد رکھی، تو میرا مشن سادہ تھا، مگر خواب بہت بڑا: ہر طالب علم کو اسکول کے دوران ہی عزت کی روزی کمانا سکھانا۔ سوچیں! اگر صرف چھ ماہ بعد، ایک بچہ پانچ ہزار روپے ماہانہ کمانے لگے — صرف جیب خرچ نہیں، بلکہ غربت سے نکلنے کا راستہ۔ پھر کلاس شش (Level 2) میں آ کر وہی بچہ صرف تین گھنٹے کام کرکے اٹھائیس ہزار روپے (یا 100 ڈالر) مہینے کے کمانے لگے۔ اور ہمارا وعدہ یہ ہو کہ 80 فیصد بچے حقیقت میں یہ کامیابی پائیں — نہ صرف امتحانوں میں، بلکہ زندگی میں بھی۔ لیکن اس خواب کو حقیقت بنانا آسان نہیں۔ پندرہ سال سے زیادہ ہوگئے، میں یہ فارمولا ڈھونڈ رہا ہوں۔ ٹیکنالوجی بدلتی جاتی ہے، لیکن سوال وہی ہے: “ایسا کون سا طریقہ ہے جس سے زیادہ تر بچے واقعی کمانا شروع کر دیں؟” بہت آزمائشوں اور سیکھنے کے بعد، میں نے ایک سادہ اور قابلِ عمل حل تیار کیا ہے: ⸻ 1. پہلے کمانا، پھر سیکھنا اکثر اسکول وہ چیزیں پڑھاتے ہیں جن کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ریحان اسکول میں ہمارا سوال مختلف ہے: “ایک بچہ آج کیا کر سکتا ہے جس سے فوراً پیسے کمائے؟” ہر سبق، ہر ہنر — اس بنیاد پر چُنا جاتا ہے کہ وہ فوراً آمدنی بڑھا سکتا ہے۔ ⸻ 2. کمائی کی سیڑھی — قدم بہ قدم ہم بچوں کو اچانک گہرے پانی میں نہیں پھینکتے، بلکہ ایک سیدھی سیڑھی بناتے ہیں، جیسے کوئی گیم: • پہلا لیول: آسان چھوٹے کام — محلے میں کچھ بیچنا، کسی دکان کے لئے پوسٹر بنانا، چھوٹے آن لائن کام۔ • دوسرا لیول: تھوڑا مشکل — فری لانسنگ، سوشل میڈیا کے لئے ویڈیو بنانا، آن لائن کاروبار میں مدد کرنا۔ • تیسرا اور چوتھا لیول: خاص ہنر — گرافکس، ویڈیو ایڈیٹنگ، کوڈنگ، کسٹمر سپورٹ یا چھوٹے کاروبار چلانا۔ ہر لیول پر بچہ جب اصل میں پیسے کماتا ہے، تب ہی اگلے لیول پر جاتا ہے۔ سرٹیفکیٹ نہیں — کمائی ہی اصل سند ہے۔ ⸻ 3. سیکھنا عملی طور پر — ہر ہفتے، ہر دن ہر ہفتے، ہر طالب علم کو حقیقی کام ملتا ہے۔ وہ مقامی کاروبار، والدین یا این جی اوز سے جڑتا ہے جو چھوٹے چھوٹے کام دیتے ہیں — پوسٹر بنانا، ایونٹس میں مدد کرنا، سوشل میڈیا چلانا، یا گھر کے بنے کھانے بیچنا۔ کمائی، اسکول کا روزانہ کا معمول بن جاتا ہے، کوئی خواب نہیں۔ ⸻ 4. ٹیچر = کمائی کوچ اس ماڈل میں اساتذہ صرف پڑھاتے نہیں، بلکہ خود بھی کماتے ہیں، اور طلبہ کو راستہ دکھاتے ہیں۔ ہر استاد خود بھی آن لائن یا آف لائن کمائی کرتا ہے اور طلبہ کو اپنے تجربات سے سکھاتا ہے۔ ہر کامیابی پر جشن منایا جاتا ہے، اور پیچھے رہ جانے والوں کو فوری سپورٹ ملتی ہے۔ ⸻ 5. نگرانی، حوصلہ افزائی، اور بہتری ہر طالب علم کی کمائی کا ریکارڈ ایک سادہ ڈیش بورڈ میں ہر ہفتے اپڈیٹ ہوتا ہے۔ جو سب سے زیادہ کمائے، اسے سب کے سامنے سراہا جاتا ہے۔ اور جو پیچھے رہ جائے، اسے ایک “بڈی” (ساتھی) ملتا ہے، استاد اور دوست دونوں اس کی مدد کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بھی کامیاب ہو جائے۔ کوئی بھی اکیلا نہیں رہتا — اور کامیابی سب کے سامنے ہوتی ہے، جس سے سب کو حوصلہ ملتا ہے۔ ⸻ 6. ماڈل سب کے لئے — نقل اور وائرل کرنے کے لئے تیار یہ ماڈل صرف ریحان اسکول کے لئے نہیں، بلکہ ہر اسکول کے لئے ایک “کِٹ” ہے — جس میں قدم بہ قدم ہدایت، کمائی کی سیڑھی، اور کامیابی کا فارمولا شامل ہے۔ اگر کسی کیمپس میں 80 فیصد بچے ٹارگٹ نہ پورا کریں، تو ہم مزید سپورٹ دیتے ہیں — شرمندگی نہیں، حوصلہ افزائی! ⸻ ایسا اسکول، جہاں ڈگری نہیں، آزادی ملتی ہے یہ صرف ایک خیال نہیں، یہ ایک تحریک ہے۔ سوچئے! پاکستان میں اسکول اس لئے مشہور ہوں کہ وہاں بچوں نے غربت توڑی، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھا، اور خاندانوں کی زندگی بدل دی۔ ایسے بچے جو خود کمائیں، دوسروں کی مدد کریں، اور وہ سب کر دکھائیں جو شاید انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ اب وقت ہے کہ کامیابی کا مطلب بدلیں — اب صرف نمبر یا سرٹیفکیٹ نہیں، اب اصل “گریجویشن” وہ ہے جس میں بچہ خود کمانے اور زندگی بدلنے کے قابل ہو جائے۔ آئیے! مل کر ہر پاکستانی اسکول کو کمائی کی مشین بنائیں — اور ہر بچہ، امید کی ایک نئی کہانی! یہ تعلیم کا مستقبل ہے — اور یہ ہم سب سے شروع ہوتا ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 248 Visualizações
  • محترم ریحان اسکول کے پرنسپلز،

    السلام علیکم،

    پاکستان ایک غریب ملک ہے، لیکن ہمارے خواب غریب نہیں ہونے چاہئیں۔

    ہماری ہر کلاس، ہر کرسی، ہر عمارت، ہر انٹرنیٹ کنیکشن، اور ہر استاد ایک نعمت بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ ہمارے پاس جو جگہیں موجود ہیں وہ بہت قیمتی ہیں، اور ہمیں یہ حق نہیں کہ وہ خالی پڑی رہیں جبکہ ہمارے اردگرد لاکھوں بچے، نوجوان، اور بڑے لوگ اب بھی تعلیم، اعتماد، اے آئی، انگلش، کمیونیکیشن اسکلز، اور بہتر زندگی کے مواقع کے منتظر ہیں۔

    میرا یہ مشاہدہ ہے کہ ہم اپنی جگہوں اور کیمپسز کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر رہے۔

    آخر کیوں ایک کلاس روم دن کے 20 گھنٹے خالی رہے؟

    کیوں ہمارے اساتذہ فارغ بیٹھیں جبکہ آس پاس ہزاروں لوگ صرف ایک گھنٹہ روزانہ دے کر اپنی زندگی بدل سکتے ہیں؟

    کیوں ہمارے کیمپس سو جائیں جبکہ دنیا 24 گھنٹے جاگتی ہے؟

    میرا خواب بہت سادہ ہے:
    میں چاہتا ہوں کہ ریحان اسکول دنیا کا پہلا حقیقی 24 گھنٹے چلنے والا لرننگ ایکوسسٹم بنے — بالکل ایسے جیسے 24 گھنٹے ریسٹورنٹس، اسپتال، اور ایئرپورٹس چلتے ہیں۔

    لوگ کسی بھی وقت آئیں اور سیکھیں:

    * اے آئی
    * انگلش
    * کمیونیکیشن
    * کانفیڈنس
    * انٹرنیٹ اسکلز
    * ACCL
    * ٹیچر ٹریننگ
    * ارننگ اسکلز

    اگر کوئی صرف ایک گھنٹہ روزانہ بھی سیکھے، تب بھی اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔

    لہٰذا میری تمام پرنسپلز سے درخواست ہے کہ فوراً سوچنا شروع کریں کہ ہم دن اور رات کے مختلف اوقات میں ایک گھنٹے کی ACCL کلاسز کیسے شروع کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی لوکل مارکیٹ اور علاقے کے حساب سے فیس اسٹرکچر تجویز کریں۔

    میرا مقصد بہت واضح ہے:

    ہمارے کیمپس کبھی خالی محسوس نہیں ہونے چاہئیں۔
    ہماری جگہیں ہمیشہ زندہ رہنی چاہئیں۔
    ہمارا اسٹاف ہمیشہ پروڈکٹیو رہنا چاہیے۔
    اور ہمارا مشن مسلسل بڑھتا رہنا چاہیے۔

    اگر ضرورت ہو تو ہم مزید ٹیمز، پارٹ ٹائم ٹیچرز، کونسلرز، مارکیٹنگ ٹیم، اور کوآرڈینیٹرز بھی ہائر کریں گے تاکہ یہ مشن حقیقت بن سکے۔

    براہِ کرم تخلیقی انداز میں سوچیں۔
    بڑے انداز میں سوچیں۔
    کثرت کے ساتھ سوچیں۔

    ایک خالی کلاس روم صرف خالی جگہ نہیں ہوتا —
    وہ کسی انسان کی تقدیر بدلنے کا ضائع شدہ موقع ہوتا ہے۔

    مستقبل انہی اداروں کا ہے جو اپنی جگہ، توانائی، اور سیکھنے کے مواقع کو مکمل استعمال کرتے ہیں۔

    آئیے ایسے کیمپس بنائیں جو کبھی نہ سوئیں۔
    آئیے ایسی جگہیں بنائیں جو سیکھنے، امید، اور خوابوں سے بھری ہوں۔
    آئیے مل کر تعلیم کا مستقبل بنائیں۔

    آپ سب کا شکریہ کہ آپ اس مشن کا حصہ ہیں۔

    — ریحان اللہ والا
    محترم ریحان اسکول کے پرنسپلز، السلام علیکم، پاکستان ایک غریب ملک ہے، لیکن ہمارے خواب غریب نہیں ہونے چاہئیں۔ ہماری ہر کلاس، ہر کرسی، ہر عمارت، ہر انٹرنیٹ کنیکشن، اور ہر استاد ایک نعمت بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ ہمارے پاس جو جگہیں موجود ہیں وہ بہت قیمتی ہیں، اور ہمیں یہ حق نہیں کہ وہ خالی پڑی رہیں جبکہ ہمارے اردگرد لاکھوں بچے، نوجوان، اور بڑے لوگ اب بھی تعلیم، اعتماد، اے آئی، انگلش، کمیونیکیشن اسکلز، اور بہتر زندگی کے مواقع کے منتظر ہیں۔ میرا یہ مشاہدہ ہے کہ ہم اپنی جگہوں اور کیمپسز کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر رہے۔ آخر کیوں ایک کلاس روم دن کے 20 گھنٹے خالی رہے؟ کیوں ہمارے اساتذہ فارغ بیٹھیں جبکہ آس پاس ہزاروں لوگ صرف ایک گھنٹہ روزانہ دے کر اپنی زندگی بدل سکتے ہیں؟ کیوں ہمارے کیمپس سو جائیں جبکہ دنیا 24 گھنٹے جاگتی ہے؟ میرا خواب بہت سادہ ہے: میں چاہتا ہوں کہ ریحان اسکول دنیا کا پہلا حقیقی 24 گھنٹے چلنے والا لرننگ ایکوسسٹم بنے — بالکل ایسے جیسے 24 گھنٹے ریسٹورنٹس، اسپتال، اور ایئرپورٹس چلتے ہیں۔ لوگ کسی بھی وقت آئیں اور سیکھیں: * اے آئی * انگلش * کمیونیکیشن * کانفیڈنس * انٹرنیٹ اسکلز * ACCL * ٹیچر ٹریننگ * ارننگ اسکلز اگر کوئی صرف ایک گھنٹہ روزانہ بھی سیکھے، تب بھی اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ لہٰذا میری تمام پرنسپلز سے درخواست ہے کہ فوراً سوچنا شروع کریں کہ ہم دن اور رات کے مختلف اوقات میں ایک گھنٹے کی ACCL کلاسز کیسے شروع کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی لوکل مارکیٹ اور علاقے کے حساب سے فیس اسٹرکچر تجویز کریں۔ میرا مقصد بہت واضح ہے: ہمارے کیمپس کبھی خالی محسوس نہیں ہونے چاہئیں۔ ہماری جگہیں ہمیشہ زندہ رہنی چاہئیں۔ ہمارا اسٹاف ہمیشہ پروڈکٹیو رہنا چاہیے۔ اور ہمارا مشن مسلسل بڑھتا رہنا چاہیے۔ اگر ضرورت ہو تو ہم مزید ٹیمز، پارٹ ٹائم ٹیچرز، کونسلرز، مارکیٹنگ ٹیم، اور کوآرڈینیٹرز بھی ہائر کریں گے تاکہ یہ مشن حقیقت بن سکے۔ براہِ کرم تخلیقی انداز میں سوچیں۔ بڑے انداز میں سوچیں۔ کثرت کے ساتھ سوچیں۔ ایک خالی کلاس روم صرف خالی جگہ نہیں ہوتا — وہ کسی انسان کی تقدیر بدلنے کا ضائع شدہ موقع ہوتا ہے۔ مستقبل انہی اداروں کا ہے جو اپنی جگہ، توانائی، اور سیکھنے کے مواقع کو مکمل استعمال کرتے ہیں۔ آئیے ایسے کیمپس بنائیں جو کبھی نہ سوئیں۔ آئیے ایسی جگہیں بنائیں جو سیکھنے، امید، اور خوابوں سے بھری ہوں۔ آئیے مل کر تعلیم کا مستقبل بنائیں۔ آپ سب کا شکریہ کہ آپ اس مشن کا حصہ ہیں۔ — ریحان اللہ والا
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 317 Visualizações
  • مبارک ہو پنجاب۔ مبارک ہو پاکستان۔

    آج صرف ایک اعلان نہیں ہوا،
    آج مستقبل نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ
    اب پنجاب کے تمام اسکولوں میں AI پڑھائی جائے گی۔
    اسلام آباد نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔

    اس کا مطلب بہت واضح ہے:

    پاکستان کے ہر اسکول کو اب AI جاننے والے اساتذہ چاہئیں
    جو استاد آج AI کو نظر انداز کرے گا، وہ کل پیچھے رہ جائے گا
    جو آج تیار ہوگا، وہ کل لیڈر ہوگا

    تقریباً دو سال پہلے،
    جب لوگ ابھی پوچھ رہے تھے: “AI آخر ہے کیا؟”
    ہم نے ریحان اسکول قائم کیا —
    دنیا کا پہلا AI-First اسکول۔

    اور پھر ہم نے شروع کیا:
    Rehan AI Teacher Institute
    تاکہ اساتذہ لہر آنے سے پہلے تیار ہوں۔

    آج وہ لہر آ چکی ہے۔

    حکومت اپنے اساتذہ کو ٹرین کرے گی،
    لیکن پرائیویٹ اسکولز کو فوراً AI ٹرینڈ اساتذہ چاہئیں۔

    مانگ بہت تیزی سے بڑھے گی
    وقت کم ہے، موقع بڑا ہے

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ:
    ہائر ہونے کے قابل ہوں
    مستقبل کے لیے محفوظ ہوں
    99٪ اساتذہ سے آگے ہوں

    تو آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں
    2 ماہ کے AI Teacher Bootcamp (Level-1) میں۔

    یہ کوئی تھیوری نہیں۔
    یہ کوئی موٹیویشنل باتیں نہیں۔
    یہ ہے حقیقی کلاس روم AI —
    25+ سال کے عملی تجربے پر مبنی۔

    ابھی اپلائی کریں:
    www.rehan.education

    اسکول مالکان اور پرنسپلز کے لیے:
    اگر آپ کے پاس 25 یا اس سے زیادہ اساتذہ ہیں تو آپ:
    • Orientation Session کی درخواست کر سکتے ہیں
    • اپنے پورے اسٹاف کے لیے ویبینار شیڈول کر سکتے ہیں

    پاکستان AI تعلیم کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
    سوال صرف ایک ہے:

    کیا آپ قیادت کریں گے؟
    یا دوسروں کو اپنی جگہ لیتا دیکھیں گے؟

    #AIinSchools #RehanSchool #AITeacher #تعلیم_کا_مستقبل #Pakistan #EducationRevolution #AIReady

    General UAN +92-304-1116044 Mohsin +92 310 2886045
    مبارک ہو پنجاب۔ مبارک ہو پاکستان۔ 🇵🇰🤖 آج صرف ایک اعلان نہیں ہوا، آج مستقبل نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اب پنجاب کے تمام اسکولوں میں AI پڑھائی جائے گی۔ اسلام آباد نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب بہت واضح ہے: 👉 پاکستان کے ہر اسکول کو اب AI جاننے والے اساتذہ چاہئیں 👉 جو استاد آج AI کو نظر انداز کرے گا، وہ کل پیچھے رہ جائے گا 👉 جو آج تیار ہوگا، وہ کل لیڈر ہوگا تقریباً دو سال پہلے، جب لوگ ابھی پوچھ رہے تھے: “AI آخر ہے کیا؟” ہم نے ریحان اسکول قائم کیا — 🌍 دنیا کا پہلا AI-First اسکول۔ اور پھر ہم نے شروع کیا: 🎓 Rehan AI Teacher Institute تاکہ اساتذہ لہر آنے سے پہلے تیار ہوں۔ آج وہ لہر آ چکی ہے۔ حکومت اپنے اساتذہ کو ٹرین کرے گی، لیکن پرائیویٹ اسکولز کو فوراً AI ٹرینڈ اساتذہ چاہئیں۔ 📈 مانگ بہت تیزی سے بڑھے گی ⏳ وقت کم ہے، موقع بڑا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ: ✔️ ہائر ہونے کے قابل ہوں ✔️ مستقبل کے لیے محفوظ ہوں ✔️ 99٪ اساتذہ سے آگے ہوں تو آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں 2 ماہ کے AI Teacher Bootcamp (Level-1) میں۔ یہ کوئی تھیوری نہیں۔ یہ کوئی موٹیویشنل باتیں نہیں۔ یہ ہے حقیقی کلاس روم AI — 25+ سال کے عملی تجربے پر مبنی۔ 🔗 ابھی اپلائی کریں: 👉 www.rehan.education 🏫 اسکول مالکان اور پرنسپلز کے لیے: اگر آپ کے پاس 25 یا اس سے زیادہ اساتذہ ہیں تو آپ: • Orientation Session کی درخواست کر سکتے ہیں • اپنے پورے اسٹاف کے لیے ویبینار شیڈول کر سکتے ہیں پاکستان AI تعلیم کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ سوال صرف ایک ہے: کیا آپ قیادت کریں گے؟ یا دوسروں کو اپنی جگہ لیتا دیکھیں گے؟ #AIinSchools #RehanSchool #AITeacher #تعلیم_کا_مستقبل #Pakistan #EducationRevolution #AIReady General UAN +92-304-1116044 Mohsin +92 310 2886045
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 632 Visualizações
  • ڈاکٹر پیرزادہ محمد فیض الرسول صاحب کے ساتھ اہم پوڈکاسٹ — مدارس کے مستقبل پر ایک سنجیدہ گفتگو

    آج ہمیں خوشی ہوئی کہ Dr. Faiz ul Aleem صاحب سے تفصیلی ملاقات اور تقریباً ایک گھنٹے کا پوڈکاسٹ کرنے کا موقع ملا۔
    ڈاکٹر صاحب Pakpattan میں ایک بڑے مدرسے کی سرپرستی کر رہے ہیں جہاں تقریباً 1000 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    اس پوڈکاسٹ میں ہم نے ایک نہایت اہم موضوع پر گفتگو کی:

    پاکستان میں مدارس کی تعلیم کا مستقبل کیا ہونا چاہیے؟

    ہماری گفتگو میں چند اہم نکات سامنے آئے:

    مدارس صرف دینی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کو
    • ٹیکنالوجی
    • مصنوعی ذہانت (AI)
    • عالمی حالات کی سمجھ
    • قیادت اور اعتماد

    بھی سکھایا جائے تاکہ وہ امت اور انسانیت دونوں کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    ڈاکٹر فیض العلیم صاحب نے مدارس کی روایتی مضبوطی کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بات کی کہ
    آنے والے وقت میں طلبہ کو ایسا وژن دینا ضروری ہے جس سے وہ دین کی خدمت کے ساتھ دنیا میں بھی مثبت اثر ڈال سکیں۔

    یہ گفتگو صرف ایک مدرسے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے تمام مدارس اور طلبہ کے لیے بہت اہم ہے۔

    میری درخواست ہے کہ:

    پاکستان کے تمام مدرسہ اساتذہ، منتظمین اور طلبہ یہ پوڈکاسٹ ضرور سنیں۔
    کیونکہ اس میں مدارس کی تعلیم کو آنے والے وقت کے مطابق بہتر بنانے کے بارے میں بہت مفید نکات موجود ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس کو ایسا مرکز بنائے جہاں سے علم، کردار، قیادت اور حکمت رکھنے والے انسان نکلیں۔

    — ریحان اللہ والا
    🎙️ ڈاکٹر پیرزادہ محمد فیض الرسول صاحب کے ساتھ اہم پوڈکاسٹ — مدارس کے مستقبل پر ایک سنجیدہ گفتگو آج ہمیں خوشی ہوئی کہ Dr. Faiz ul Aleem صاحب سے تفصیلی ملاقات اور تقریباً ایک گھنٹے کا پوڈکاسٹ کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب Pakpattan میں ایک بڑے مدرسے کی سرپرستی کر رہے ہیں جہاں تقریباً 1000 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس پوڈکاسٹ میں ہم نے ایک نہایت اہم موضوع پر گفتگو کی: پاکستان میں مدارس کی تعلیم کا مستقبل کیا ہونا چاہیے؟ ہماری گفتگو میں چند اہم نکات سامنے آئے: 📚 مدارس صرف دینی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کو • ٹیکنالوجی • مصنوعی ذہانت (AI) • عالمی حالات کی سمجھ • قیادت اور اعتماد بھی سکھایا جائے تاکہ وہ امت اور انسانیت دونوں کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر فیض العلیم صاحب نے مدارس کی روایتی مضبوطی کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بات کی کہ آنے والے وقت میں طلبہ کو ایسا وژن دینا ضروری ہے جس سے وہ دین کی خدمت کے ساتھ دنیا میں بھی مثبت اثر ڈال سکیں۔ یہ گفتگو صرف ایک مدرسے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے تمام مدارس اور طلبہ کے لیے بہت اہم ہے۔ میری درخواست ہے کہ: 📌 پاکستان کے تمام مدرسہ اساتذہ، منتظمین اور طلبہ یہ پوڈکاسٹ ضرور سنیں۔ کیونکہ اس میں مدارس کی تعلیم کو آنے والے وقت کے مطابق بہتر بنانے کے بارے میں بہت مفید نکات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس کو ایسا مرکز بنائے جہاں سے علم، کردار، قیادت اور حکمت رکھنے والے انسان نکلیں۔ — ریحان اللہ والا
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 123 Visualizações
  • محترمہ عظمیٰ کو Rehan School میں خوش آمدید

    ہمیں خوشی ہے کہ محترمہ عظمیٰ اب ریحان اسکول کے مناور کیمپس، شارعِ ملت کراچی میں ہماری ٹیم کا حصہ بن رہی ہیں۔

    انہوں نے 10 سال سے زائد عرصہ تعلیم کے شعبے میں گزارا ہے۔ ایسے لوگ صرف پڑھاتے نہیں… نسلیں بناتے ہیں۔

    آج دنیا بدل رہی ہے۔
    AI تعلیم کو بدل رہا ہے۔
    اور ہمیں ایسے تجربہ کار اساتذہ کی ضرورت ہے جو پاکستان کے بچوں کا مستقبل بدل سکیں۔

    اسی لیے ہم کراچی میں مزید 20 ایسے ایجوکیٹرز کو اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں جن کے پاس 10 سال یا اس سے زیادہ تدریسی تجربہ ہو۔

    اگر آپ:
    Teacher ہیں
    Principal ہیں
    Coordinator ہیں
    یا تعلیم کے شعبے میں تجربہ رکھتے ہیں

    تو صرف ایک بار آکر ہمیں دیکھیں…
    ہماری کلاسز دیکھیں…
    ہمارا AI First System سمجھیں…
    اور دیکھیں کہ تعلیم کا مستقبل کیسا ہوگا۔

    اگر آپ فوری طور پر جائن نہیں کر سکتے تو کوئی مسئلہ نہیں۔

    صرف روزانہ ایک گھنٹہ ہمارے Teacher Training Program میں شامل ہوں۔

    دو مہینے بعد شاید آپ:
    AI کے ذریعے اپنی Teaching کو طاقتور بنا سکیں
    اپنے اسکول کو Future Ready بنا سکیں
    ہزاروں بچوں کی زندگی بدل سکیں
    اور پاکستان کو دنیا میں تعلیم کے میدان میں آگے لے جا سکیں

    مستقبل اُن لوگوں کا ہے جو AI کو سمجھیں گے…
    اور اُن اساتذہ کا جو بدلتی دنیا کے ساتھ بدلنے کے لیے تیار ہوں گے۔

    ریحان اسکول
    Rehan School - Shaheed e millat road, Karachi Website: Rehanschool.Com Address on google maps: �Https://goo.gl/maps/w2ASJvDx9KZc9r297 �Miss Rubab 03232145559 �General +923102886047
    🌟 محترمہ عظمیٰ کو Rehan School میں خوش آمدید 🌟 ہمیں خوشی ہے کہ محترمہ عظمیٰ اب ریحان اسکول کے مناور کیمپس، شارعِ ملت کراچی میں ہماری ٹیم کا حصہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے 10 سال سے زائد عرصہ تعلیم کے شعبے میں گزارا ہے۔ ایسے لوگ صرف پڑھاتے نہیں… نسلیں بناتے ہیں۔ ❤️ آج دنیا بدل رہی ہے۔ AI تعلیم کو بدل رہا ہے۔ اور ہمیں ایسے تجربہ کار اساتذہ کی ضرورت ہے جو پاکستان کے بچوں کا مستقبل بدل سکیں۔ 📢 اسی لیے ہم کراچی میں مزید 20 ایسے ایجوکیٹرز کو اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں جن کے پاس 10 سال یا اس سے زیادہ تدریسی تجربہ ہو۔ اگر آپ: ✅ Teacher ہیں ✅ Principal ہیں ✅ Coordinator ہیں ✅ یا تعلیم کے شعبے میں تجربہ رکھتے ہیں تو صرف ایک بار آکر ہمیں دیکھیں… ہماری کلاسز دیکھیں… ہمارا AI First System سمجھیں… اور دیکھیں کہ تعلیم کا مستقبل کیسا ہوگا۔ اگر آپ فوری طور پر جائن نہیں کر سکتے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ صرف روزانہ ایک گھنٹہ ہمارے Teacher Training Program میں شامل ہوں۔ دو مہینے بعد شاید آپ: ✨ AI کے ذریعے اپنی Teaching کو طاقتور بنا سکیں ✨ اپنے اسکول کو Future Ready بنا سکیں ✨ ہزاروں بچوں کی زندگی بدل سکیں ✨ اور پاکستان کو دنیا میں تعلیم کے میدان میں آگے لے جا سکیں 🚀 مستقبل اُن لوگوں کا ہے جو AI کو سمجھیں گے… اور اُن اساتذہ کا جو بدلتی دنیا کے ساتھ بدلنے کے لیے تیار ہوں گے۔ 📍 ریحان اسکول Rehan School - Shaheed e millat road, Karachi Website: Rehanschool.Com Address on google maps: �Https://goo.gl/maps/w2ASJvDx9KZc9r297 �Miss Rubab 03232145559 �General +923102886047
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 124 Visualizações
  • مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان سے علم کا قافلہ ریحان اسکول اسلام آباد پہنچ گیا

    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص دن تھا۔

    مظفر گڑھ سے تشریف لائے
    عظیم استاد عبدالروف چودھری صاحب

    اور ڈیرہ غازی خان سے آئے معزز مہمان…

    یہ کوئی عام وزٹ نہیں تھا۔
    یہ دو شہروں کی امید کا اسلام آباد میں دستک دینا تھا۔

    جب انہوں نے کلاس رومز دیکھے…
    جب بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا…
    جب یہ سنا کہ یہاں بچے صرف ڈگری نہیں،
    بلکہ مسئلہ حل کرنا، کمانا اور قیادت کرنا سیکھتے ہیں…

    تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی، خوشی بھی… اور امید بھی۔

    انہوں نے فرمایا کہ:
    “اگر تعلیم کا مستقبل کہیں نظر آ رہا ہے تو وہ یہاں ہے۔”

    یہ الفاظ ہمارے لیے ایوارڈ سے کم نہیں۔

    آج مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے اساتذہ نے دیکھا کہ:
    • یہاں بچہ رٹہ نہیں لگاتا، سوال پوچھتا ہے۔
    • یہاں AI کتاب نہیں، استاد ہے۔
    • یہاں خواب صرف دیکھے نہیں جاتے، ان پر کام بھی ہوتا ہے۔

    ہم دعا کرتے ہیں کہ
    یہ روشنی مظفر گڑھ تک جائے،
    ڈیرہ غازی خان تک جائے،
    اور پھر پورے پاکستان تک پھیل جائے۔

    اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ
    تعلیم 2026 میں کیسی ہونی چاہیے…

    تو دروازہ کھلا ہے۔
    آئیں، دیکھیں، سوال کریں… اور خود فیصلہ کریں۔

    ریحان اسکول، اسلام آباد
    rehanschool.com

    یہ صرف اسکول نہیں…
    یہ ایک سوچ ہے۔
    اور سوچ جب بدلتی ہے…
    تو شہر بدل جاتے ہیں۔
    🌟 مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان سے علم کا قافلہ ریحان اسکول اسلام آباد پہنچ گیا 🌟 آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص دن تھا۔ مظفر گڑھ سے تشریف لائے عظیم استاد عبدالروف چودھری صاحب اور ڈیرہ غازی خان سے آئے معزز مہمان… یہ کوئی عام وزٹ نہیں تھا۔ یہ دو شہروں کی امید کا اسلام آباد میں دستک دینا تھا۔ جب انہوں نے کلاس رومز دیکھے… جب بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا… جب یہ سنا کہ یہاں بچے صرف ڈگری نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنا، کمانا اور قیادت کرنا سیکھتے ہیں… تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی، خوشی بھی… اور امید بھی۔ انہوں نے فرمایا کہ: “اگر تعلیم کا مستقبل کہیں نظر آ رہا ہے تو وہ یہاں ہے۔” یہ الفاظ ہمارے لیے ایوارڈ سے کم نہیں۔ آج مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے اساتذہ نے دیکھا کہ: • یہاں بچہ رٹہ نہیں لگاتا، سوال پوچھتا ہے۔ • یہاں AI کتاب نہیں، استاد ہے۔ • یہاں خواب صرف دیکھے نہیں جاتے، ان پر کام بھی ہوتا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ روشنی مظفر گڑھ تک جائے، ڈیرہ غازی خان تک جائے، اور پھر پورے پاکستان تک پھیل جائے۔ اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ تعلیم 2026 میں کیسی ہونی چاہیے… تو دروازہ کھلا ہے۔ آئیں، دیکھیں، سوال کریں… اور خود فیصلہ کریں۔ 📍 ریحان اسکول، اسلام آباد 🌐 rehanschool.com یہ صرف اسکول نہیں… یہ ایک سوچ ہے۔ اور سوچ جب بدلتی ہے… تو شہر بدل جاتے ہیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 291 Visualizações 0
  • مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان سے علم کا قافلہ ریحان اسکول اسلام آباد پہنچ گیا

    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص دن تھا۔

    مظفر گڑھ سے تشریف لائے
    عظیم استاد عبدالروف چودھری صاحب

    اور ڈیرہ غازی خان سے آئے معزز مہمان…

    یہ کوئی عام وزٹ نہیں تھا۔
    یہ دو شہروں کی امید کا اسلام آباد میں دستک دینا تھا۔

    جب انہوں نے کلاس رومز دیکھے…
    جب بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا…
    جب یہ سنا کہ یہاں بچے صرف ڈگری نہیں،
    بلکہ مسئلہ حل کرنا، کمانا اور قیادت کرنا سیکھتے ہیں…

    تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی، خوشی بھی… اور امید بھی۔

    انہوں نے فرمایا کہ:
    “اگر تعلیم کا مستقبل کہیں نظر آ رہا ہے تو وہ یہاں ہے۔”

    یہ الفاظ ہمارے لیے ایوارڈ سے کم نہیں۔

    آج مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے اساتذہ نے دیکھا کہ:
    • یہاں بچہ رٹہ نہیں لگاتا، سوال پوچھتا ہے۔
    • یہاں AI کتاب نہیں، استاد ہے۔
    • یہاں خواب صرف دیکھے نہیں جاتے، ان پر کام بھی ہوتا ہے۔

    ہم دعا کرتے ہیں کہ
    یہ روشنی مظفر گڑھ تک جائے،
    ڈیرہ غازی خان تک جائے،
    اور پھر پورے پاکستان تک پھیل جائے۔

    اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ
    تعلیم 2026 میں کیسی ہونی چاہیے…

    تو دروازہ کھلا ہے۔
    آئیں، دیکھیں، سوال کریں… اور خود فیصلہ کریں۔

    ریحان اسکول، اسلام آباد
    rehanschool.com

    یہ صرف اسکول نہیں…
    یہ ایک سوچ ہے۔
    اور سوچ جب بدلتی ہے…
    تو شہر بدل جاتے ہیں۔
    🌟 مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان سے علم کا قافلہ ریحان اسکول اسلام آباد پہنچ گیا 🌟 آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خاص دن تھا۔ مظفر گڑھ سے تشریف لائے عظیم استاد عبدالروف چودھری صاحب اور ڈیرہ غازی خان سے آئے معزز مہمان… یہ کوئی عام وزٹ نہیں تھا۔ یہ دو شہروں کی امید کا اسلام آباد میں دستک دینا تھا۔ جب انہوں نے کلاس رومز دیکھے… جب بچوں کو AI کے ساتھ سیکھتے دیکھا… جب یہ سنا کہ یہاں بچے صرف ڈگری نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنا، کمانا اور قیادت کرنا سیکھتے ہیں… تو ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی، خوشی بھی… اور امید بھی۔ انہوں نے فرمایا کہ: “اگر تعلیم کا مستقبل کہیں نظر آ رہا ہے تو وہ یہاں ہے۔” یہ الفاظ ہمارے لیے ایوارڈ سے کم نہیں۔ آج مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے اساتذہ نے دیکھا کہ: • یہاں بچہ رٹہ نہیں لگاتا، سوال پوچھتا ہے۔ • یہاں AI کتاب نہیں، استاد ہے۔ • یہاں خواب صرف دیکھے نہیں جاتے، ان پر کام بھی ہوتا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ روشنی مظفر گڑھ تک جائے، ڈیرہ غازی خان تک جائے، اور پھر پورے پاکستان تک پھیل جائے۔ اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ تعلیم 2026 میں کیسی ہونی چاہیے… تو دروازہ کھلا ہے۔ آئیں، دیکھیں، سوال کریں… اور خود فیصلہ کریں۔ 📍 ریحان اسکول، اسلام آباد 🌐 rehanschool.com یہ صرف اسکول نہیں… یہ ایک سوچ ہے۔ اور سوچ جب بدلتی ہے… تو شہر بدل جاتے ہیں۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 349 Visualizações 0
  • آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خوبصورت لمحہ رقم ہوا

    رشنا ضمیر تشریف لائیں اپنے پوڈکاسٹ
    @tsr – The Salt Range Podcast
    کی ریکارڈنگ کے لیے۔

    میں نے انہیں پورے کیمپس کا دورہ کروایا۔
    بچوں سے ملوایا۔
    AI کلاسز دکھائیں۔
    Chromebooks، سوشل میڈیا لیب، اور وہ ماحول جہاں 9 سے 16 سال کے بچے صرف پڑھتے نہیں…
    بلکہ کمانا، بولنا، سوچنا اور لیڈ کرنا سیکھتے ہیں۔

    جب لوگ آکر خود دیکھتے ہیں تو انہیں یقین آتا ہے کہ
    پاکستان میں بھی ایک ایسا ماڈل بن رہا ہے
    جہاں ہر بچہ
    انٹرنیٹ رکھتا ہے
    AI استعمال کرتا ہے
    اپنا کانٹینٹ بناتا ہے
    اور کمائی کی طرف بڑھتا ہے۔

    رشنا ضمیر، آپ کا شکریہ کہ آپ نے وقت نکالا، دیکھا، سوال کیے، اور اس وژن کو سمجھا

    یہ صرف ایک پوڈکاسٹ نہیں…
    یہ اس سفر کا حصہ ہے
    جس میں ہم 1000 لیڈرز تیار کرنا چاہتے ہیں
    جو ایک ملین لوگوں کی زندگی بدل دیں۔

    اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کا مستقبل کیسا ہوتا ہے
    تو دروازے کھلے ہیں۔

    Rehan School Islamabad Campus
    RehanSchool.com

    #RehanSchool #AIinPakistan #FutureOfEducation #SaltRangePodcast
    آج ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس میں ایک خوبصورت لمحہ رقم ہوا 🌟 رشنا ضمیر تشریف لائیں اپنے پوڈکاسٹ 🎙️ @tsr – The Salt Range Podcast کی ریکارڈنگ کے لیے۔ میں نے انہیں پورے کیمپس کا دورہ کروایا۔ بچوں سے ملوایا۔ AI کلاسز دکھائیں۔ Chromebooks، سوشل میڈیا لیب، اور وہ ماحول جہاں 9 سے 16 سال کے بچے صرف پڑھتے نہیں… بلکہ کمانا، بولنا، سوچنا اور لیڈ کرنا سیکھتے ہیں۔ جب لوگ آکر خود دیکھتے ہیں تو انہیں یقین آتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایک ایسا ماڈل بن رہا ہے جہاں ہر بچہ 📱 انٹرنیٹ رکھتا ہے 🤖 AI استعمال کرتا ہے 🎥 اپنا کانٹینٹ بناتا ہے 💰 اور کمائی کی طرف بڑھتا ہے۔ رشنا ضمیر، آپ کا شکریہ کہ آپ نے وقت نکالا، دیکھا، سوال کیے، اور اس وژن کو سمجھا 🙏 یہ صرف ایک پوڈکاسٹ نہیں… یہ اس سفر کا حصہ ہے جس میں ہم 1000 لیڈرز تیار کرنا چاہتے ہیں جو ایک ملین لوگوں کی زندگی بدل دیں۔ اگر آپ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کا مستقبل کیسا ہوتا ہے تو دروازے کھلے ہیں۔ 📍 Rehan School Islamabad Campus 🌐 RehanSchool.com #RehanSchool #AIinPakistan #FutureOfEducation #SaltRangePodcast
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 548 Visualizações 0
  • ڈاکٹر پیرزادہ محمد فیض الرسول صاحب کے ساتھ اہم پوڈکاسٹ — مدارس کے مستقبل پر ایک سنجیدہ گفتگو

    آج ہمیں خوشی ہوئی کہ Dr. Faiz ul Aleem صاحب سے تفصیلی ملاقات اور تقریباً ایک گھنٹے کا پوڈکاسٹ کرنے کا موقع ملا۔
    ڈاکٹر صاحب Pakpattan میں ایک بڑے مدرسے کی سرپرستی کر رہے ہیں جہاں تقریباً 1000 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    اس پوڈکاسٹ میں ہم نے ایک نہایت اہم موضوع پر گفتگو کی:

    پاکستان میں مدارس کی تعلیم کا مستقبل کیا ہونا چاہیے؟

    ہماری گفتگو میں چند اہم نکات سامنے آئے:

    مدارس صرف دینی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کو
    • ٹیکنالوجی
    • مصنوعی ذہانت (AI)
    • عالمی حالات کی سمجھ
    • قیادت اور اعتماد

    بھی سکھایا جائے تاکہ وہ امت اور انسانیت دونوں کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    ڈاکٹر فیض العلیم صاحب نے مدارس کی روایتی مضبوطی کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بات کی کہ
    آنے والے وقت میں طلبہ کو ایسا وژن دینا ضروری ہے جس سے وہ دین کی خدمت کے ساتھ دنیا میں بھی مثبت اثر ڈال سکیں۔

    یہ گفتگو صرف ایک مدرسے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے تمام مدارس اور طلبہ کے لیے بہت اہم ہے۔

    میری درخواست ہے کہ:

    پاکستان کے تمام مدرسہ اساتذہ، منتظمین اور طلبہ یہ پوڈکاسٹ ضرور سنیں۔
    کیونکہ اس میں مدارس کی تعلیم کو آنے والے وقت کے مطابق بہتر بنانے کے بارے میں بہت مفید نکات موجود ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس کو ایسا مرکز بنائے جہاں سے علم، کردار، قیادت اور حکمت رکھنے والے انسان نکلیں۔

    — ریحان اللہ والا
    🎙️ ڈاکٹر پیرزادہ محمد فیض الرسول صاحب کے ساتھ اہم پوڈکاسٹ — مدارس کے مستقبل پر ایک سنجیدہ گفتگو آج ہمیں خوشی ہوئی کہ Dr. Faiz ul Aleem صاحب سے تفصیلی ملاقات اور تقریباً ایک گھنٹے کا پوڈکاسٹ کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب Pakpattan میں ایک بڑے مدرسے کی سرپرستی کر رہے ہیں جہاں تقریباً 1000 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس پوڈکاسٹ میں ہم نے ایک نہایت اہم موضوع پر گفتگو کی: پاکستان میں مدارس کی تعلیم کا مستقبل کیا ہونا چاہیے؟ ہماری گفتگو میں چند اہم نکات سامنے آئے: 📚 مدارس صرف دینی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کو • ٹیکنالوجی • مصنوعی ذہانت (AI) • عالمی حالات کی سمجھ • قیادت اور اعتماد بھی سکھایا جائے تاکہ وہ امت اور انسانیت دونوں کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر فیض العلیم صاحب نے مدارس کی روایتی مضبوطی کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بات کی کہ آنے والے وقت میں طلبہ کو ایسا وژن دینا ضروری ہے جس سے وہ دین کی خدمت کے ساتھ دنیا میں بھی مثبت اثر ڈال سکیں۔ یہ گفتگو صرف ایک مدرسے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے تمام مدارس اور طلبہ کے لیے بہت اہم ہے۔ میری درخواست ہے کہ: 📌 پاکستان کے تمام مدرسہ اساتذہ، منتظمین اور طلبہ یہ پوڈکاسٹ ضرور سنیں۔ کیونکہ اس میں مدارس کی تعلیم کو آنے والے وقت کے مطابق بہتر بنانے کے بارے میں بہت مفید نکات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس کو ایسا مرکز بنائے جہاں سے علم، کردار، قیادت اور حکمت رکھنے والے انسان نکلیں۔ — ریحان اللہ والا
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 148 Visualizações 0