• 0 Comentários 0 Compartilhamentos 11 Visualizações
  • He made 4400 millionaires this week and people are not happy
    He made 4400 millionaires this week and people are not happy 😞
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 11 Visualizações
  • پاکستانی فین بنانے والی کمپنیوں کے لیے ایک اربوں روپے کی نئی کاروباری موقع

    پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے فین انڈسٹری کامیابی کے ساتھ پنکھے بنا رہی ہے۔ یہی کمپنیاں اب ایک نئی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی صنعت میں داخل ہو سکتی ہیں: چھوٹے ونڈ ٹربائنز (Small Wind Turbines)۔

    آج دنیا بھر میں لوگ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں، لوڈشیڈنگ اور متبادل توانائی کی ضرورت کی وجہ سے گھروں، دکانوں، فارم ہاؤسز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے 300 واٹ سے 5 کلو واٹ تک کے ونڈ ٹربائنز استعمال کر رہے ہیں۔

    پاکستان کے پاس اس صنعت میں داخل ہونے کے لیے پہلے ہی بہت سے فوائد موجود ہیں:

    پنکھے بنانے کا کئی دہائیوں کا تجربہ

    بلیڈ، موٹر، شافٹ اور میٹل فیبریکیشن کی موجودہ مہارت

    کم لاگت مینوفیکچرنگ

    سندھ کے جھمپیر، گھارو، ٹھٹھہ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بہترین ہوا

    افریقہ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا جیسے ممالک کو برآمدات کے مواقع

    ایک 1kW ونڈ ٹربائن مناسب ہوا میں روزانہ تقریباً 3 سے 5 یونٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ بڑے سسٹمز گھروں، فارموں اور چھوٹے کاروباروں کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔

    جس طرح پاکستانی کمپنیوں نے دنیا بھر میں پنکھوں کی مارکیٹ میں اپنا نام بنایا، اسی طرح وہ “Made in Pakistan” ونڈ ٹربائنز کی عالمی مارکیٹ میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

    ہمارے خیال میں پاکستان کی معروف فین کمپنیوں جیسے:

    • Pak Fan
    • Royal Fan
    • GFC Fans
    • Khurshid Fans
    • Super Asia
    • National Fans

    کو اس شعبے میں تحقیق، پروٹوٹائپ اور پیداوار شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

    دنیا قابلِ تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ صنعت کتنی بڑی ہوگی، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی صنعت کار اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے یا یہ مارکیٹ بھی دوسرے ممالک کے لیے چھوڑ دیں گے؟

    آج ایک پنکھا بنانے والی فیکٹری، کل پاکستان کی پہلی عالمی ونڈ ٹربائن کمپنی بن سکتی ہے۔

    #WindPower #MadeInPakistan #RenewableEnergy #FanIndustry #Engineering #Pakistan #GreenEnergy #ExportOpportunity #Manufacturing #EnergyIndependence
    پاکستانی فین بنانے والی کمپنیوں کے لیے ایک اربوں روپے کی نئی کاروباری موقع پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے فین انڈسٹری کامیابی کے ساتھ پنکھے بنا رہی ہے۔ یہی کمپنیاں اب ایک نئی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی صنعت میں داخل ہو سکتی ہیں: چھوٹے ونڈ ٹربائنز (Small Wind Turbines)۔ آج دنیا بھر میں لوگ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں، لوڈشیڈنگ اور متبادل توانائی کی ضرورت کی وجہ سے گھروں، دکانوں، فارم ہاؤسز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے 300 واٹ سے 5 کلو واٹ تک کے ونڈ ٹربائنز استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس اس صنعت میں داخل ہونے کے لیے پہلے ہی بہت سے فوائد موجود ہیں: ✅ پنکھے بنانے کا کئی دہائیوں کا تجربہ ✅ بلیڈ، موٹر، شافٹ اور میٹل فیبریکیشن کی موجودہ مہارت ✅ کم لاگت مینوفیکچرنگ ✅ سندھ کے جھمپیر، گھارو، ٹھٹھہ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بہترین ہوا ✅ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا جیسے ممالک کو برآمدات کے مواقع ایک 1kW ونڈ ٹربائن مناسب ہوا میں روزانہ تقریباً 3 سے 5 یونٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ بڑے سسٹمز گھروں، فارموں اور چھوٹے کاروباروں کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ جس طرح پاکستانی کمپنیوں نے دنیا بھر میں پنکھوں کی مارکیٹ میں اپنا نام بنایا، اسی طرح وہ “Made in Pakistan” ونڈ ٹربائنز کی عالمی مارکیٹ میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ ہمارے خیال میں پاکستان کی معروف فین کمپنیوں جیسے: • Pak Fan • Royal Fan • GFC Fans • Khurshid Fans • Super Asia • National Fans کو اس شعبے میں تحقیق، پروٹوٹائپ اور پیداوار شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ دنیا قابلِ تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ صنعت کتنی بڑی ہوگی، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی صنعت کار اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے یا یہ مارکیٹ بھی دوسرے ممالک کے لیے چھوڑ دیں گے؟ آج ایک پنکھا بنانے والی فیکٹری، کل پاکستان کی پہلی عالمی ونڈ ٹربائن کمپنی بن سکتی ہے۔ #WindPower #MadeInPakistan #RenewableEnergy #FanIndustry #Engineering #Pakistan #GreenEnergy #ExportOpportunity #Manufacturing #EnergyIndependence
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 2560 Visualizações
  • بارش کا پانی ضائع نہ ہونے دیں، پاکستان کے پانی کو بچائیں اور ایک نئی صنعت کی بنیاد رکھیں

    پاکستان ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہر سال اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کروڑوں گیلن بارش کو نالوں اور سمندر میں بہا دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارے کنویں، بورنگ اور زیرِ زمین آبی ذخائر دن بدن خالی ہوتے جا رہے ہیں۔

    اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

    خوش آئند بات یہ ہے کہ اسلام آباد کی حکومت نے اب بارش کے پانی کو محفوظ کرنے (Rain Water Harvesting) کو نئی تعمیرات کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان کو اپنے پانی کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    یہ صرف ماحولیات کی خدمت نہیں، بلکہ ایک عظیم کاروباری موقع بھی ہے۔

    ہمارے ملک کو ہزاروں ایسے دیانت دار اور مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اس میدان میں آگے آئیں اور لوگوں کو معیاری اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کریں تاکہ زیرِ زمین پانی محفوظ ہو سکے اور پاکستان پانی کی تباہی سے بچ سکے۔

    الحمدللہ، جناب یوسف ریاض صاحب نے اس مشن کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے راولپنڈی میں پاکستان کا پہلا خصوصی تربیتی مرکز قائم کیا اور اب تک 250 سے زیادہ کامیاب منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔

    وہ اس شعبے میں تین ماہ کی عملی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد آپ چاہیں تو ان کی فرنچائز حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اپنا آزاد کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔

    یہ کاروبار صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ صدقۂ جاریہ بھی ہے۔ آپ کی لگائی ہوئی ہر رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم آنے والی نسلوں کے لیے پانی محفوظ کرے گی۔

    اگر آپ نوجوان ہیں، انجینئر ہیں، بلڈر ہیں، اسکول چلاتے ہیں یا کوئی نیا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو یہ شعبہ آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔

    مزید معلومات کے لیے:

    Website:
    waterman.pk

    جناب یوسف ریاض صاحب

    Yousaf Riaz
    +92 341 6622526

    واٹس ایپ گروپ:
    https://chat.whatsapp.com/GAByHqfJ4BxH8oMCBKNVz0

    آج اگر ہزاروں ایماندار پاکستانی اس شعبے میں داخل ہو جائیں تو ہم نہ صرف ایک نئی صنعت کھڑی کر سکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں اور پوتوں کے لیے پانی کا مستقبل بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ بارش کی صورت میں ہمیں جو نعمت عطا کرتا ہے، اسے ضائع ہونے سے بچانا صرف ایک کاروبار نہیں، بلکہ ایک قومی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔

    شاید آنے والے وقت میں پاکستان کو پانی کی کمی سے بچانے والے ہی اس قوم کے اصل ہیرو کہلائیں گے۔
    بارش کا پانی ضائع نہ ہونے دیں، پاکستان کے پانی کو بچائیں اور ایک نئی صنعت کی بنیاد رکھیں پاکستان ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہر سال اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کروڑوں گیلن بارش کو نالوں اور سمندر میں بہا دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارے کنویں، بورنگ اور زیرِ زمین آبی ذخائر دن بدن خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اسلام آباد کی حکومت نے اب بارش کے پانی کو محفوظ کرنے (Rain Water Harvesting) کو نئی تعمیرات کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان کو اپنے پانی کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ماحولیات کی خدمت نہیں، بلکہ ایک عظیم کاروباری موقع بھی ہے۔ ہمارے ملک کو ہزاروں ایسے دیانت دار اور مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اس میدان میں آگے آئیں اور لوگوں کو معیاری اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کریں تاکہ زیرِ زمین پانی محفوظ ہو سکے اور پاکستان پانی کی تباہی سے بچ سکے۔ الحمدللہ، جناب یوسف ریاض صاحب نے اس مشن کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے راولپنڈی میں پاکستان کا پہلا خصوصی تربیتی مرکز قائم کیا اور اب تک 250 سے زیادہ کامیاب منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ وہ اس شعبے میں تین ماہ کی عملی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد آپ چاہیں تو ان کی فرنچائز حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اپنا آزاد کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ یہ کاروبار صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ صدقۂ جاریہ بھی ہے۔ آپ کی لگائی ہوئی ہر رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم آنے والی نسلوں کے لیے پانی محفوظ کرے گی۔ اگر آپ نوجوان ہیں، انجینئر ہیں، بلڈر ہیں، اسکول چلاتے ہیں یا کوئی نیا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو یہ شعبہ آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ مزید معلومات کے لیے: 🌐 Website: waterman.pk 📞 جناب یوسف ریاض صاحب Yousaf Riaz +92 341 6622526 📱 واٹس ایپ گروپ: https://chat.whatsapp.com/GAByHqfJ4BxH8oMCBKNVz0 آج اگر ہزاروں ایماندار پاکستانی اس شعبے میں داخل ہو جائیں تو ہم نہ صرف ایک نئی صنعت کھڑی کر سکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں اور پوتوں کے لیے پانی کا مستقبل بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بارش کی صورت میں ہمیں جو نعمت عطا کرتا ہے، اسے ضائع ہونے سے بچانا صرف ایک کاروبار نہیں، بلکہ ایک قومی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔ شاید آنے والے وقت میں پاکستان کو پانی کی کمی سے بچانے والے ہی اس قوم کے اصل ہیرو کہلائیں گے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 26 Visualizações
  • Join Shafkat Aziz Hajam from Kashmir
    Join Shafkat Aziz Hajam from Kashmir
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 11 Visualizações
  • دو خواتین کی کہانی

    آج سے تقریباً چار سال پہلے دو مائیں اپنے اپنے چار چار بچوں کے ساتھ ریحان اسکول کورنگی پہنچیں۔ میں ان کو جانتا تک نہیں تھا۔

    بائیں طرف موجود ثبا ابراہیم صاحبہ اپنے چار بچوں کو کورنگی سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں تقریباً 8، 9، 14 اور 15 سال تھیں۔

    دائیں طرف موجود راحت پروین صاحبہ اپنے چار بچوں کو فیصل آباد سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں بھی تقریباً اسی کے آس پاس تھیں۔

    آج، چار سال بعد، ثبا ابراہیم صاحبہ کی بڑی بیٹی مناحل ریموٹ جاب والی، 19 سال کی عمر میں، ریحان اسکول کے تمام کیمپسز کے سافٹ ویئر اور آپریشنز چلانے میں میری مدد کر رہی ہے۔

    اور راحت پروین صاحبہ کی بیٹی حجاب، صرف 15 سال کی عمر میں، تمام اسکولوں کے اکاؤنٹنگ اور HR کے سافٹ ویئر کو مینیج کر رہی ہے۔

    میں ان دونوں بہنوں کا دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا، میرا حوصلہ بڑھایا، مجھے طاقت دی، اور ریحان اسکول بنانے اور چلانے میں میرا ساتھ دیا۔

    کئی بار ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، کیونکہ جتنا اعتماد انہوں نے مجھ پر کیا، شاید میں خود بھی اپنے اوپر اتنا اعتماد نہ کر پاتا۔

    راحت پروین صاحبہ نے تو میرے ہاتھ پر شاگردی کی بیعت بھی کی۔ آج وہ اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ ایک کالج اور ایک اسکول میں چھ ماہ تک بطور پرنسپل خدمات انجام دے چکی ہیں، اور اب تین نئے چھوٹے اسکول قائم کرنے جا رہی ہیں، جو ریحان کالج آف ایجوکیشن کے طلبہ کے لیے ٹریننگ سینٹر کے طور پر کام کریں گے۔

    میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسی پیاری بہنیں، ایسے مخلص ساتھی، اور ایسے دن رات محنت کرنے والے لوگ عطا کیے، جن کی وجہ سے آج ریحان اسکول کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور کامیابیوں کی پہلی کرنیں دکھائی دینے لگی ہیں۔

    ریحان اسکول صرف ایک عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتماد، محبت، قربانی اور مل کر خواب دیکھنے والوں کی ایک تحریک ہے۔

    الحمدللہ

    Thank you Saba Ibrahim and Rahat CounsellingWali
    دو خواتین کی کہانی ❤️ آج سے تقریباً چار سال پہلے دو مائیں اپنے اپنے چار چار بچوں کے ساتھ ریحان اسکول کورنگی پہنچیں۔ میں ان کو جانتا تک نہیں تھا۔ بائیں طرف موجود ثبا ابراہیم صاحبہ اپنے چار بچوں کو کورنگی سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں تقریباً 8، 9، 14 اور 15 سال تھیں۔ دائیں طرف موجود راحت پروین صاحبہ اپنے چار بچوں کو فیصل آباد سے لے کر آئیں۔ ان کے بچوں کی عمریں بھی تقریباً اسی کے آس پاس تھیں۔ آج، چار سال بعد، ثبا ابراہیم صاحبہ کی بڑی بیٹی مناحل ریموٹ جاب والی، 19 سال کی عمر میں، ریحان اسکول کے تمام کیمپسز کے سافٹ ویئر اور آپریشنز چلانے میں میری مدد کر رہی ہے۔ اور راحت پروین صاحبہ کی بیٹی حجاب، صرف 15 سال کی عمر میں، تمام اسکولوں کے اکاؤنٹنگ اور HR کے سافٹ ویئر کو مینیج کر رہی ہے۔ میں ان دونوں بہنوں کا دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا، میرا حوصلہ بڑھایا، مجھے طاقت دی، اور ریحان اسکول بنانے اور چلانے میں میرا ساتھ دیا۔ کئی بار ان کی باتیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، کیونکہ جتنا اعتماد انہوں نے مجھ پر کیا، شاید میں خود بھی اپنے اوپر اتنا اعتماد نہ کر پاتا۔ راحت پروین صاحبہ نے تو میرے ہاتھ پر شاگردی کی بیعت بھی کی۔ آج وہ اتنی تربیت یافتہ ہو چکی ہیں کہ ایک کالج اور ایک اسکول میں چھ ماہ تک بطور پرنسپل خدمات انجام دے چکی ہیں، اور اب تین نئے چھوٹے اسکول قائم کرنے جا رہی ہیں، جو ریحان کالج آف ایجوکیشن کے طلبہ کے لیے ٹریننگ سینٹر کے طور پر کام کریں گے۔ میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسی پیاری بہنیں، ایسے مخلص ساتھی، اور ایسے دن رات محنت کرنے والے لوگ عطا کیے، جن کی وجہ سے آج ریحان اسکول کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور کامیابیوں کی پہلی کرنیں دکھائی دینے لگی ہیں۔ ریحان اسکول صرف ایک عمارت کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتماد، محبت، قربانی اور مل کر خواب دیکھنے والوں کی ایک تحریک ہے۔ الحمدللہ ❤️ Thank you Saba Ibrahim and Rahat CounsellingWali
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 45 Visualizações
  • I hope to be there ! Come join us
    I hope to be there ! Come join us
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 11 Visualizações
  • Great to see Indian kitchen in Pakistan

    +92 316 9272795
    Great to see Indian kitchen in Pakistan +92 316 9272795
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 11 Visualizações
  • کیا آپ یقین کریں گے کہ 12 سے 16 سال کے بچوں نے صرف 6 ماہ میں 188,000 روپے کما لیے؟

    جب زیادہ تر بچے موبائل، گیمز اور سوشل میڈیا میں مصروف ہوتے ہیں، تب ہمارے کچھ بچوں نے ایک مختلف راستہ چنا۔

    چھ ماہ پہلے انہوں نے ایک سادہ سا فیصلہ کیا:

    "جو سیکھیں گے، وہ دوسروں کو بھی سکھائیں گے۔"

    اسی ایک فیصلے نے ان کی زندگی بدل دی۔

    انہوں نے صرف پڑھائی نہیں کی، بلکہ دوسروں کو پڑھایا۔
    صرف علم حاصل نہیں کیا، بلکہ علم بانٹا۔
    صرف خواب نہیں دیکھے، بلکہ ان خوابوں کی طرف عملی قدم بھی بڑھائے۔

    نتیجہ؟

    188,000 روپے کی مجموعی کمائی

    مدت: 6 ماہ
    جنوری 2026 تا جون 2026

    یہ رقم اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ تبدیلی ہے جو ان بچوں کے اندر آئی۔

    انہوں نے سیکھا:

    ذمہ داری کیسے اٹھائی جاتی ہے
    ٹیم کے ساتھ کیسے کام کیا جاتا ہے
    وقت کی پابندی کیا ہوتی ہے
    لوگوں سے بات کیسے کی جاتی ہے
    مسائل کا حل کیسے نکالا جاتا ہے
    قیادت کیسے کی جاتی ہے
    صبر اور مستقل مزاجی کیسے پیدا کی جاتی ہے

    اس کامیابی کے نمایاں بچوں کو خراجِ تحسین

    ایمن ٹیکنالوجی والا — لیڈر
    ارحم علی گیمنگ والا — شریک لیڈر
    محمد بن ریاض جنرل والا — شریک لیڈر

    اور سب سے بڑی مبارکباد ان والدین کو جنہوں نے اپنے بچوں پر اعتماد کیا، ان کی رہنمائی کی اور ان کے ساتھ کھڑے رہے۔

    آج ہمیں 188,000 روپے پر فخر نہیں ہے۔

    ہمیں فخر اس بات پر ہے کہ ہمارے بچے ذمہ دار بن رہے ہیں۔

    ہمیں فخر اس بات پر ہے کہ ہمارے بچے دوسروں کو سکھا رہے ہیں۔

    ہمیں فخر اس بات پر ہے کہ ہمارے بچے عمر کے اس حصے میں قیادت کرنا سیکھ رہے ہیں جہاں اکثر بچے صرف ہدایات لیتے ہیں۔

    اگر 12 سے 16 سال کے بچے سیکھ سکتے ہیں، سکھا سکتے ہیں، ٹیم چلا سکتے ہیں اور کمائی کر سکتے ہیں، تو ان کا مستقبل کتنا روشن ہو سکتا ہے؟

    188,000 روپے صرف ایک نمبر ہے۔ اصل کامیابی وہ اعتماد، کردار، قیادت اور زندگی کی مہارتیں ہیں جو ان بچوں نے حاصل کی ہیں۔

    یہ صرف آغاز ہے۔
    بہت سی کامیابیاں ابھی ان بچوں کی منتظر ہیں۔

    Join them on www.rehan.school - an online Ai Tution center !

    Contact +92 301 6922935
    🔥 کیا آپ یقین کریں گے کہ 12 سے 16 سال کے بچوں نے صرف 6 ماہ میں 188,000 روپے کما لیے؟ 🔥 جب زیادہ تر بچے موبائل، گیمز اور سوشل میڈیا میں مصروف ہوتے ہیں، تب ہمارے کچھ بچوں نے ایک مختلف راستہ چنا۔ چھ ماہ پہلے انہوں نے ایک سادہ سا فیصلہ کیا: "جو سیکھیں گے، وہ دوسروں کو بھی سکھائیں گے۔" اسی ایک فیصلے نے ان کی زندگی بدل دی۔ انہوں نے صرف پڑھائی نہیں کی، بلکہ دوسروں کو پڑھایا۔ صرف علم حاصل نہیں کیا، بلکہ علم بانٹا۔ صرف خواب نہیں دیکھے، بلکہ ان خوابوں کی طرف عملی قدم بھی بڑھائے۔ 💰 نتیجہ؟ 188,000 روپے کی مجموعی کمائی 📅 مدت: 6 ماہ 🗓️ جنوری 2026 تا جون 2026 یہ رقم اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ تبدیلی ہے جو ان بچوں کے اندر آئی۔ انہوں نے سیکھا: ✅ ذمہ داری کیسے اٹھائی جاتی ہے ✅ ٹیم کے ساتھ کیسے کام کیا جاتا ہے ✅ وقت کی پابندی کیا ہوتی ہے ✅ لوگوں سے بات کیسے کی جاتی ہے ✅ مسائل کا حل کیسے نکالا جاتا ہے ✅ قیادت کیسے کی جاتی ہے ✅ صبر اور مستقل مزاجی کیسے پیدا کی جاتی ہے 🌟 اس کامیابی کے نمایاں بچوں کو خراجِ تحسین 🏆 ایمن ٹیکنالوجی والا — لیڈر 🏆 ارحم علی گیمنگ والا — شریک لیڈر 🏆 محمد بن ریاض جنرل والا — شریک لیڈر اور سب سے بڑی مبارکباد ان والدین کو جنہوں نے اپنے بچوں پر اعتماد کیا، ان کی رہنمائی کی اور ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ ❤️ آج ہمیں 188,000 روپے پر فخر نہیں ہے۔ ہمیں فخر اس بات پر ہے کہ ہمارے بچے ذمہ دار بن رہے ہیں۔ ہمیں فخر اس بات پر ہے کہ ہمارے بچے دوسروں کو سکھا رہے ہیں۔ ہمیں فخر اس بات پر ہے کہ ہمارے بچے عمر کے اس حصے میں قیادت کرنا سیکھ رہے ہیں جہاں اکثر بچے صرف ہدایات لیتے ہیں۔ 🚀 اگر 12 سے 16 سال کے بچے سیکھ سکتے ہیں، سکھا سکتے ہیں، ٹیم چلا سکتے ہیں اور کمائی کر سکتے ہیں، تو ان کا مستقبل کتنا روشن ہو سکتا ہے؟ ✨ 188,000 روپے صرف ایک نمبر ہے۔ اصل کامیابی وہ اعتماد، کردار، قیادت اور زندگی کی مہارتیں ہیں جو ان بچوں نے حاصل کی ہیں۔ یہ صرف آغاز ہے۔ بہت سی کامیابیاں ابھی ان بچوں کی منتظر ہیں۔ 🌟 Join them on www.rehan.school - an online Ai Tution center ! Contact +92 301 6922935
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 11 Visualizações
  • دل سے شکریہ ایڈووکیٹ عاطف ضیاء کا، جنہوں نے کئی برسوں بعد اسکول کے دوستوں کی اس خوبصورت محفل میں مجھے شامل کیا۔

    ہم سب سٹی اسکول کراچی میں چھٹی اور ساتویں جماعت کے ساتھی تھے۔ وقت کے ساتھ راستے الگ ہو گئے، لیکن دوستیوں کی خوشبو دلوں میں ہمیشہ باقی رہی۔

    تقریباً آٹھ سال پہلے ایک شادی میں عاطف سے اچانک ملاقات ہوئی تھی۔ اسی ملاقات کے بعد میں نے سٹی اسکول کے پرانے دوستوں کا ایک چھوٹا سا واٹس ایپ گروپ بنایا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ چھوٹا سا گروپ آج پرانی دوستیوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور بچھڑے ہوئے دوستوں کو دوبارہ ملانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

    عرفان سلیم بھائی کا خصوصی شکریہ، جنہوں نے اس یادگار عشائیے کی میزبانی کی اور ہم سب کو ایک بار پھر پرانی یادوں کے سفر پر لے گئے۔

    اس دوران زندگی نے ہمیں ایک دکھ بھی دیا۔ ہماری آخری ملاقات کے بعد ہمارے عزیز دوست سمامہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔

    وقت گزرتا رہتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، لیکن بچپن کی دوستیاں، مشترکہ یادیں اور خلوص کے رشتے کبھی پرانے نہیں ہوتے۔

    Thank you Irfan Saleem

    Thank you Atif Zia

    In this photo Syed Nadeem Ahmed
    دل سے شکریہ ایڈووکیٹ عاطف ضیاء کا، جنہوں نے کئی برسوں بعد اسکول کے دوستوں کی اس خوبصورت محفل میں مجھے شامل کیا۔ ہم سب سٹی اسکول کراچی میں چھٹی اور ساتویں جماعت کے ساتھی تھے۔ وقت کے ساتھ راستے الگ ہو گئے، لیکن دوستیوں کی خوشبو دلوں میں ہمیشہ باقی رہی۔ تقریباً آٹھ سال پہلے ایک شادی میں عاطف سے اچانک ملاقات ہوئی تھی۔ اسی ملاقات کے بعد میں نے سٹی اسکول کے پرانے دوستوں کا ایک چھوٹا سا واٹس ایپ گروپ بنایا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ چھوٹا سا گروپ آج پرانی دوستیوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور بچھڑے ہوئے دوستوں کو دوبارہ ملانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ عرفان سلیم بھائی کا خصوصی شکریہ، جنہوں نے اس یادگار عشائیے کی میزبانی کی اور ہم سب کو ایک بار پھر پرانی یادوں کے سفر پر لے گئے۔ اس دوران زندگی نے ہمیں ایک دکھ بھی دیا۔ ہماری آخری ملاقات کے بعد ہمارے عزیز دوست سمامہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔ وقت گزرتا رہتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، لیکن بچپن کی دوستیاں، مشترکہ یادیں اور خلوص کے رشتے کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ ❤️🌹 Thank you Irfan Saleem Thank you Atif Zia In this photo Syed Nadeem Ahmed
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 11 Visualizações