• اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ کنیز فاطمہ Kaneez ParentingWali اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ ریحان اسکول اور ریحان کالج ہاسٹل کا تجربہ لینے کراچی آئیں…

    انہوں نے خود آ کر دیکھا کہ آج کی دنیا میں صرف کتابی تعلیم کافی نہیں…
    بچوں کو AI، انٹرنیٹ، کمیونیکیشن، کانفیڈنس، سوشل میڈیا، اور حقیقی زندگی کی اسکلز کی کتنی ضرورت ہے۔

    انہوں نے بچوں کے ساتھ رہ کر ہاسٹل، ماحول، طلبہ کی لائف، سیکھنے کا انداز، اور پورا سسٹم دیکھا…

    اور سب سے اہم بات؟
    انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اگر بچوں کو صحیح ماحول، صحیح لوگ، اور صحیح سمت مل جائے…
    تو عام بچے بھی غیر معمولی بن سکتے ہیں۔

    اگر آپ بھی اپنے بچوں کے مستقبل، ہاسٹل لائف، ریحان اسکول یا ریحان کالج کے بارے میں ایک حقیقی پیرنٹ کا تجربہ جاننا چاہتے ہیں…
    تو آپ محترمہ کنیز فاطمہ ParentingWali سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

    0300 2794712

    شاید آپ کے ایک فیصلے سے آپ کے بچے کی پوری زندگی بدل جائے۔

    #RehanSchool
    #RehanCollege
    #ParentingWali
    #AIeducation
    #PakistanFuture
    اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ کنیز فاطمہ Kaneez ParentingWali اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ ریحان اسکول اور ریحان کالج ہاسٹل کا تجربہ لینے کراچی آئیں… ❤️ انہوں نے خود آ کر دیکھا کہ آج کی دنیا میں صرف کتابی تعلیم کافی نہیں… بچوں کو AI، انٹرنیٹ، کمیونیکیشن، کانفیڈنس، سوشل میڈیا، اور حقیقی زندگی کی اسکلز کی کتنی ضرورت ہے۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ رہ کر ہاسٹل، ماحول، طلبہ کی لائف، سیکھنے کا انداز، اور پورا سسٹم دیکھا… اور سب سے اہم بات؟ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اگر بچوں کو صحیح ماحول، صحیح لوگ، اور صحیح سمت مل جائے… تو عام بچے بھی غیر معمولی بن سکتے ہیں۔ 🚀 اگر آپ بھی اپنے بچوں کے مستقبل، ہاسٹل لائف، ریحان اسکول یا ریحان کالج کے بارے میں ایک حقیقی پیرنٹ کا تجربہ جاننا چاہتے ہیں… تو آپ محترمہ کنیز فاطمہ ParentingWali سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ 📞 0300 2794712 شاید آپ کے ایک فیصلے سے آپ کے بچے کی پوری زندگی بدل جائے۔ ✨ #RehanSchool #RehanCollege #ParentingWali #AIeducation #PakistanFuture
    0 Commenti 0 condivisioni 1056 Views
  • آج میرا دل خوش ہے…

    ہمارے پیارے بچوں
    Aalian، Anya’s، اور Ahad
    کو بہت بہت مبارک ہو

    صرف 16 سال کی عمر میں…
    انہوں نے Rehan School میں اپنے ساڑھے تین سال مکمل کر لیے ہیں…
    اور اب یہ Level 3 میں پہنچ چکے ہیں۔

    اور سب سے حیران کن بات؟

    یہ تینوں آج
    55,000 روپے ماہانہ
    انٹرن شپ سے کما رہے ہیں۔

    پاکستان میں جہاں لاکھوں نوجوان
    ڈگری کے بعد بھی نوکری ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں…
    وہیں یہ بچے 16 سال کی عمر میں
    AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور کمپیوٹنگ پاور استعمال کرتے ہوئے
    حقیقی دنیا کے مسائل حل کر رہے ہیں۔

    یہ صرف آمدنی نہیں ہے…
    یہ ایک نئے تعلیمی نظام کا ثبوت ہے۔

    ایک ایسا نظام جہاں بچے
    صرف کتابیں رٹتے نہیں…
    بلکہ کام کرنا، بنانا، بیچنا، سیکھنا، اور دنیا بدلنا سیکھتے ہیں۔

    میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں
    Aalian، Anyal، اور Ahad کا…

    آپ کی محنت، مستقل مزاجی، اور سیکھنے کی لگن قابلِ فخر ہے۔

    اور خصوصی شکریہ
    ان کے والدین اور سرپرستوں کا…

    جنہوں نے ہم پر یقین کیا۔
    جنہوں نے اپنے بچوں کو
    “صرف ڈگری” کے بجائے
    “حقیقی مہارت” کے راستے پر چلنے دیا۔

    میری دعا ہے کہ آپ زندگی بھر میرے ساتھ رہیں…
    اور پاکستان کے معاشی مسائل حل کرنے میں مدد کریں۔

    ایسے AI-powered سسٹمز بنائیں…
    ایسی کمپنیاں بنائیں…
    ایسے پلیٹ فارمز بنائیں…

    کہ ہم لاکھوں مزید بچوں کو
    غربت سے نکال کر
    اعتماد، ہنر، اور عزت والی زندگی دے سکیں۔

    یہ صرف تین بچے نہیں…
    یہ آنے والے پاکستان کی جھلک ہیں۔

    — ریحان اللہ والا
    آج میرا دل خوش ہے… ❤️ ہمارے پیارے بچوں Aalian، Anya’s، اور Ahad کو بہت بہت مبارک ہو 🌟 صرف 16 سال کی عمر میں… انہوں نے Rehan School میں اپنے ساڑھے تین سال مکمل کر لیے ہیں… اور اب یہ Level 3 میں پہنچ چکے ہیں۔ اور سب سے حیران کن بات؟ یہ تینوں آج 55,000 روپے ماہانہ انٹرن شپ سے کما رہے ہیں۔ 💻🔥 پاکستان میں جہاں لاکھوں نوجوان ڈگری کے بعد بھی نوکری ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں… وہیں یہ بچے 16 سال کی عمر میں AI، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور کمپیوٹنگ پاور استعمال کرتے ہوئے حقیقی دنیا کے مسائل حل کر رہے ہیں۔ یہ صرف آمدنی نہیں ہے… یہ ایک نئے تعلیمی نظام کا ثبوت ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں بچے صرف کتابیں رٹتے نہیں… بلکہ کام کرنا، بنانا، بیچنا، سیکھنا، اور دنیا بدلنا سیکھتے ہیں۔ میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں Aalian، Anyal، اور Ahad کا… ❤️ آپ کی محنت، مستقل مزاجی، اور سیکھنے کی لگن قابلِ فخر ہے۔ اور خصوصی شکریہ ان کے والدین اور سرپرستوں کا… 🙏 جنہوں نے ہم پر یقین کیا۔ جنہوں نے اپنے بچوں کو “صرف ڈگری” کے بجائے “حقیقی مہارت” کے راستے پر چلنے دیا۔ میری دعا ہے کہ آپ زندگی بھر میرے ساتھ رہیں… اور پاکستان کے معاشی مسائل حل کرنے میں مدد کریں۔ ایسے AI-powered سسٹمز بنائیں… ایسی کمپنیاں بنائیں… ایسے پلیٹ فارمز بنائیں… کہ ہم لاکھوں مزید بچوں کو غربت سے نکال کر اعتماد، ہنر، اور عزت والی زندگی دے سکیں۔ 🚀 یہ صرف تین بچے نہیں… یہ آنے والے پاکستان کی جھلک ہیں۔ — ریحان اللہ والا
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • خواہش، خواب، مقصد… اور منصوبہ میں فرق

    زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ خواہش، خواب اور مقصد ایک ہی چیز ہیں…

    لیکن حقیقت میں یہ چار الگ الگ چیزیں ہیں۔

    اور چوتھی چیز…
    یعنی “منصوبہ”
    سب سے زیادہ اہم ہے۔

    خواہش کیا ہوتی ہے؟

    خواہش وہ چیز ہوتی ہے جو آپ چاہتے تو ہیں…
    لیکن ابھی آپ کے پاس اس کے لیے نہ واضح راستہ ہوتا ہے،
    نہ مستقل محنت،
    نہ روزانہ کا نظام۔

    مثلاً:

    “میں چاہتا ہوں کہ میں 10 لاکھ لوگوں کی زندگی پر اچھا اثر ڈالوں۔”

    یہ ایک خواہش ہے۔

    بہت خوبصورت سوچ ہے…
    لیکن ابھی یہ واضح نہیں:

    * کیسے؟
    * کب؟
    * کن مہارتوں کے ساتھ؟
    * روزانہ کیا کریں گے؟

    اب یہ دیکھیں:

    “میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جانا چاہتا ہوں۔”

    یہ ایک خواب ہے۔

    کیوں؟

    کیونکہ یہ صرف خواہش نہیں…
    یہ ایک جذباتی، بڑا اور شاندار تصور ہے۔

    آپ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے کچھ بڑا کرتے ہوئے تصور کرتے ہیں۔

    خواب انسان کو بڑا سوچنا سکھاتا ہے۔

    اب یہ دیکھیں:

    “میں مصنوعی ذہانت سیکھ کر، کاروبار بنا کر، لوگوں کی مدد کر کے، اور اگلے 10 سال مسلسل محنت کر کے 10 لاکھ ڈالر کمانا چاہتا ہوں۔”

    اب یہ مقصد بن گیا۔

    کیوں؟

    کیونکہ اب اس میں:

    * سمت ہے،
    * محنت ہے،
    * سیکھنا ہے،
    * اور عمل ہے۔

    لیکن…

    یہاں سب سے اہم چیز آتی ہے:

    منصوبہ

    منصوبہ وہ چیز ہے جو مقصد کو حقیقت بناتی ہے۔

    منصوبہ کچھ ایسا لگتا ہے:

    * روزانہ 2 گھنٹے مصنوعی ذہانت سیکھنا
    * روزانہ انگریزی بہتر کرنا
    * ہر مہینے کوئی منصوبہ بنانا
    * سوشل میڈیا پر مواد ڈالنا
    * گفتگو کرنے کی مہارت سیکھنا
    * کامیاب لوگوں سے ملنا
    * آن لائن کمائی شروع کرنا
    * کتابیں پڑھنا
    * ہر ہفتے اپنی ترقی دیکھنا
    * 8 سے 10 سال تک ہار نہ ماننا

    اب خواب حقیقت بننا شروع ہوتا ہے۔

    Rehan School میں ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ زندگی کے شروع میں ہی یہ 4 چیزیں سمجھ لے:

    * خواہش
    * خواب
    * مقصد
    * منصوبہ

    اسی لیے ہم نے اپنا پورا نصاب ان 3 بڑے مقاصد کے گرد بنایا ہے:

    * 10 لاکھ ڈالر کمانا
    * 10 لاکھ لوگوں پر مثبت اثر ڈالنا
    * گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ تک پہنچنا

    جب ایک طالب علم یہ تینوں چیزیں حاصل کر لیتا ہے…
    تب ہم اسے ریحان اسکول کا حقیقی گریجویٹ کہتے ہیں۔

    ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سفر 8 سے 10 سال لے سکتا ہے۔

    لیکن آج…

    مصنوعی ذہانت،
    انٹرنیٹ،
    سوشل میڈیا،
    اور طاقتور اوزاروں کی وجہ سے…

    ایک عام بچہ بھی وہ کام کر سکتا ہے
    جو پہلے صرف بڑی کمپنیاں کر سکتی تھیں۔

    اگر کوئی طالب علم روزانہ 4 سے 8 گھنٹے:

    * سیکھے،
    * بنائے،
    * بات کرے،
    * لوگوں سے جڑے،
    * نئی چیزیں تخلیق کرے،
    * اور مسلسل اپنے آپ کو بہتر بنائے…

    تو پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

    خواہش کہتی ہے:
    “کاش…”

    خواب کہتا ہے:
    “میں یقین رکھتا ہوں…”

    مقصد کہتا ہے:
    “میں یہ کروں گا…”

    اور منصوبہ کہتا ہے:
    “میں یہ ایسے کروں گا…”

    دنیا بدلنے والے لوگ وہی ہوتے ہیں…
    جو خواہشوں کو خواب،
    خوابوں کو مقصد،
    اور مقصد کو روزانہ کے منصوبوں میں بدل دیتے ہیں۔

    :
    خواہش، خواب، مقصد… اور منصوبہ میں فرق زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ خواہش، خواب اور مقصد ایک ہی چیز ہیں… لیکن حقیقت میں یہ چار الگ الگ چیزیں ہیں۔ اور چوتھی چیز… یعنی “منصوبہ” سب سے زیادہ اہم ہے۔ خواہش کیا ہوتی ہے؟ خواہش وہ چیز ہوتی ہے جو آپ چاہتے تو ہیں… لیکن ابھی آپ کے پاس اس کے لیے نہ واضح راستہ ہوتا ہے، نہ مستقل محنت، نہ روزانہ کا نظام۔ مثلاً: “میں چاہتا ہوں کہ میں 10 لاکھ لوگوں کی زندگی پر اچھا اثر ڈالوں۔” یہ ایک خواہش ہے۔ بہت خوبصورت سوچ ہے… لیکن ابھی یہ واضح نہیں: * کیسے؟ * کب؟ * کن مہارتوں کے ساتھ؟ * روزانہ کیا کریں گے؟ اب یہ دیکھیں: “میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جانا چاہتا ہوں۔” یہ ایک خواب ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ صرف خواہش نہیں… یہ ایک جذباتی، بڑا اور شاندار تصور ہے۔ آپ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے کچھ بڑا کرتے ہوئے تصور کرتے ہیں۔ خواب انسان کو بڑا سوچنا سکھاتا ہے۔ اب یہ دیکھیں: “میں مصنوعی ذہانت سیکھ کر، کاروبار بنا کر، لوگوں کی مدد کر کے، اور اگلے 10 سال مسلسل محنت کر کے 10 لاکھ ڈالر کمانا چاہتا ہوں۔” اب یہ مقصد بن گیا۔ کیوں؟ کیونکہ اب اس میں: * سمت ہے، * محنت ہے، * سیکھنا ہے، * اور عمل ہے۔ لیکن… یہاں سب سے اہم چیز آتی ہے: منصوبہ منصوبہ وہ چیز ہے جو مقصد کو حقیقت بناتی ہے۔ منصوبہ کچھ ایسا لگتا ہے: * روزانہ 2 گھنٹے مصنوعی ذہانت سیکھنا * روزانہ انگریزی بہتر کرنا * ہر مہینے کوئی منصوبہ بنانا * سوشل میڈیا پر مواد ڈالنا * گفتگو کرنے کی مہارت سیکھنا * کامیاب لوگوں سے ملنا * آن لائن کمائی شروع کرنا * کتابیں پڑھنا * ہر ہفتے اپنی ترقی دیکھنا * 8 سے 10 سال تک ہار نہ ماننا اب خواب حقیقت بننا شروع ہوتا ہے۔ Rehan School میں ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ زندگی کے شروع میں ہی یہ 4 چیزیں سمجھ لے: * خواہش * خواب * مقصد * منصوبہ اسی لیے ہم نے اپنا پورا نصاب ان 3 بڑے مقاصد کے گرد بنایا ہے: * 10 لاکھ ڈالر کمانا * 10 لاکھ لوگوں پر مثبت اثر ڈالنا * گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ تک پہنچنا جب ایک طالب علم یہ تینوں چیزیں حاصل کر لیتا ہے… تب ہم اسے ریحان اسکول کا حقیقی گریجویٹ کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سفر 8 سے 10 سال لے سکتا ہے۔ لیکن آج… مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور طاقتور اوزاروں کی وجہ سے… ایک عام بچہ بھی وہ کام کر سکتا ہے جو پہلے صرف بڑی کمپنیاں کر سکتی تھیں۔ اگر کوئی طالب علم روزانہ 4 سے 8 گھنٹے: * سیکھے، * بنائے، * بات کرے، * لوگوں سے جڑے، * نئی چیزیں تخلیق کرے، * اور مسلسل اپنے آپ کو بہتر بنائے… تو پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ خواہش کہتی ہے: “کاش…” خواب کہتا ہے: “میں یقین رکھتا ہوں…” مقصد کہتا ہے: “میں یہ کروں گا…” اور منصوبہ کہتا ہے: “میں یہ ایسے کروں گا…” دنیا بدلنے والے لوگ وہی ہوتے ہیں… جو خواہشوں کو خواب، خوابوں کو مقصد، اور مقصد کو روزانہ کے منصوبوں میں بدل دیتے ہیں۔ :
    0 Commenti 0 condivisioni 325 Views
  • ڈاکٹر باری صاحب، Indus Hospital & Health Network کے بانی، ایک بہت خوبصورت خواب رکھتے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں:

    “میری خواہش ہے کہ ایک دن سارے اسپتال خالی ہو جائیں۔”

    پہلی بار سننے پر یہ بات عجیب لگتی ہے۔

    ایک شخص جس نے پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی اسپتالوں میں سے ایک بنایا…
    وہ اسپتال بند کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟

    کیونکہ اصل کامیابی بیماری کا علاج نہیں…
    بلکہ بیماری کو پیدا ہونے سے روکنا ہے۔

    آج پاکستان آہستہ آہستہ مریضوں کا ملک بنتا جا رہا ہے۔

    شوگر…
    دل کی بیماریاں…
    ڈپریشن…
    ٹینشن…
    کڈنی فیل ہونا…
    کینسر…
    ہائی بلڈ پریشر…
    موٹاپا…

    اور ان میں سے بہت سی بیماریاں صرف قسمت کی وجہ سے نہیں ہیں۔

    یہ خراب خوراک،
    ذہنی دباؤ،
    آلودگی،
    کمزور تعلیم،
    ورزش کی کمی،
    نیند کی خرابی،
    اور گندے پانی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔

    خاص طور پر “صاف پینے کا پانی” شاید پاکستان کا سب سے بڑا خاموش بحران ہے۔

    پاکستان میں لاکھوں بچے روزانہ ایسا پانی پیتے ہیں جس میں:

    * جراثیم ہوتے ہیں،
    * سیوریج ملا ہوتا ہے،
    * صنعتی کیمیکل شامل ہوتے ہیں،
    * یا پلاسٹک اور زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔

    اسی پانی کی وجہ سے:

    * پیٹ کی بیماریاں،
    * ہیپاٹائٹس،
    * ٹائیفائیڈ،
    * ڈائریا،
    * گردوں کے مسائل،
    * بچوں کی کمزور نشوونما،
    * اور ہزاروں اموات ہوتی ہیں۔

    بہت سارے پاکستانی اسپتال اس لیے بھرے ہوئے ہیں…
    کیونکہ لوگوں کو صاف پانی ہی نہیں مل رہا۔

    سوچیے…

    اگر پاکستان کے ہر گھر،
    ہر اسکول،
    ہر مسجد،
    اور ہر محلے میں صاف پانی دستیاب ہو جائے…

    تو شاید لاکھوں لوگ اسپتال جانے سے بچ جائیں۔

    دنیا کے کئی ممالک میں صرف صاف پانی آنے سے:

    * بچوں کی اموات میں بڑی کمی آئی،
    * بیماریوں میں زبردست کمی ہوئی،
    * اور صحت پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچ گئے۔

    اصل انقلاب صرف نئے اسپتال بنانے سے نہیں آئے گا۔

    اصل انقلاب تب آئے گا جب:

    * بچے صحت مند کھانا کھائیں گے،
    * روزانہ ورزش کریں گے،
    * موبائل سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑیں گے،
    * ذہنی سکون سیکھیں گے،
    * صاف ہوا لیں گے،
    * اور صاف پانی پئیں گے۔

    تصور کریں اگر پاکستان کے ہر اسکول میں:

    * ورزش،
    * میڈیٹیشن،
    * ہیلتھ ایجوکیشن،
    * AI ہیلتھ ٹریکنگ،
    * ذہنی صحت کی تربیت،
    * اور صاف پانی کا بہترین نظام ہو…

    تو آہستہ آہستہ اسپتال خالی ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    کیونکہ اصل کامیابی زیادہ آپریشن کرنا نہیں ہے۔

    اصل کامیابی یہ ہے کہ لوگ بیمار ہی کم ہوں۔

    ایک ترقی یافتہ ملک وہ نہیں جہاں سب سے بڑے اسپتال ہوں…

    بلکہ وہ ہے جہاں:

    * اسپتال کم بھرے ہوں،
    * جیلیں کم بھری ہوں،
    * لوگ زیادہ صحت مند ہوں،
    * اور بچے اپنے والدین سے زیادہ مضبوط زندگی گزاریں۔

    ڈاکٹر باری صاحب شاید اسپتال بند نہیں کرنا چاہتے…

    وہ تکلیف بند کرنا چاہتے ہیں۔

    اور شاید پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایک دن یہ ہوگی…

    کہ ہم نے دنیا کی سب سے صحت مند نسل پیدا کر دی۔
    ڈاکٹر باری صاحب، Indus Hospital & Health Network کے بانی، ایک بہت خوبصورت خواب رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “میری خواہش ہے کہ ایک دن سارے اسپتال خالی ہو جائیں۔” پہلی بار سننے پر یہ بات عجیب لگتی ہے۔ ایک شخص جس نے پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی اسپتالوں میں سے ایک بنایا… وہ اسپتال بند کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟ کیونکہ اصل کامیابی بیماری کا علاج نہیں… بلکہ بیماری کو پیدا ہونے سے روکنا ہے۔ آج پاکستان آہستہ آہستہ مریضوں کا ملک بنتا جا رہا ہے۔ شوگر… دل کی بیماریاں… ڈپریشن… ٹینشن… کڈنی فیل ہونا… کینسر… ہائی بلڈ پریشر… موٹاپا… اور ان میں سے بہت سی بیماریاں صرف قسمت کی وجہ سے نہیں ہیں۔ یہ خراب خوراک، ذہنی دباؤ، آلودگی، کمزور تعلیم، ورزش کی کمی، نیند کی خرابی، اور گندے پانی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر “صاف پینے کا پانی” شاید پاکستان کا سب سے بڑا خاموش بحران ہے۔ پاکستان میں لاکھوں بچے روزانہ ایسا پانی پیتے ہیں جس میں: * جراثیم ہوتے ہیں، * سیوریج ملا ہوتا ہے، * صنعتی کیمیکل شامل ہوتے ہیں، * یا پلاسٹک اور زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔ اسی پانی کی وجہ سے: * پیٹ کی بیماریاں، * ہیپاٹائٹس، * ٹائیفائیڈ، * ڈائریا، * گردوں کے مسائل، * بچوں کی کمزور نشوونما، * اور ہزاروں اموات ہوتی ہیں۔ بہت سارے پاکستانی اسپتال اس لیے بھرے ہوئے ہیں… کیونکہ لوگوں کو صاف پانی ہی نہیں مل رہا۔ سوچیے… اگر پاکستان کے ہر گھر، ہر اسکول، ہر مسجد، اور ہر محلے میں صاف پانی دستیاب ہو جائے… تو شاید لاکھوں لوگ اسپتال جانے سے بچ جائیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں صرف صاف پانی آنے سے: * بچوں کی اموات میں بڑی کمی آئی، * بیماریوں میں زبردست کمی ہوئی، * اور صحت پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچ گئے۔ اصل انقلاب صرف نئے اسپتال بنانے سے نہیں آئے گا۔ اصل انقلاب تب آئے گا جب: * بچے صحت مند کھانا کھائیں گے، * روزانہ ورزش کریں گے، * موبائل سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑیں گے، * ذہنی سکون سیکھیں گے، * صاف ہوا لیں گے، * اور صاف پانی پئیں گے۔ تصور کریں اگر پاکستان کے ہر اسکول میں: * ورزش، * میڈیٹیشن، * ہیلتھ ایجوکیشن، * AI ہیلتھ ٹریکنگ، * ذہنی صحت کی تربیت، * اور صاف پانی کا بہترین نظام ہو… تو آہستہ آہستہ اسپتال خالی ہونا شروع ہو جائیں گے۔ کیونکہ اصل کامیابی زیادہ آپریشن کرنا نہیں ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ لوگ بیمار ہی کم ہوں۔ ایک ترقی یافتہ ملک وہ نہیں جہاں سب سے بڑے اسپتال ہوں… بلکہ وہ ہے جہاں: * اسپتال کم بھرے ہوں، * جیلیں کم بھری ہوں، * لوگ زیادہ صحت مند ہوں، * اور بچے اپنے والدین سے زیادہ مضبوط زندگی گزاریں۔ ڈاکٹر باری صاحب شاید اسپتال بند نہیں کرنا چاہتے… وہ تکلیف بند کرنا چاہتے ہیں۔ اور شاید پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایک دن یہ ہوگی… کہ ہم نے دنیا کی سب سے صحت مند نسل پیدا کر دی۔
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • آج آپ کے پاس جتنی بھی خواہش، ہمت، خواب یا Ambition ہے…
    وہ کافی نہیں ہے!

    اسے 100 گنا بڑھا دیں…

    کیونکہ AI نے اب ایک انسان کی طاقت کو
    100 لوگوں جتنا بنا دیا ہے۔

    چھوٹا مت سوچیں۔
    یہ AI کا دور ہے۔

    — Jensen Huang
    آج آپ کے پاس جتنی بھی خواہش، ہمت، خواب یا Ambition ہے… وہ کافی نہیں ہے! اسے 100 گنا بڑھا دیں… کیونکہ AI نے اب ایک انسان کی طاقت کو 100 لوگوں جتنا بنا دیا ہے۔ چھوٹا مت سوچیں۔ یہ AI کا دور ہے۔ — Jensen Huang
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • So.....the cat is out of the bag haha.

    I am at it again, evolving, learning, expanding.

    Id like to fill my community in on my newest venture and privledge......🇺🇲

    I am, truly privileged to have been recruited to join the Rehan AI Teachers Institute for training.

    Danelle Boyles stared at the reply button.

    Was this real? It could be everything she has been working towards. The next step, the next goal.

    She’d spent 25 years helping educate and Vocational train students in the United States in Indiana, and globally in classrooms and seminars, but AI and technology is moving fast. Always on a learning curve.

    She wanted to bring real future-skills to U.S. youth, so when Rehan Academy approached her to partner in the United States she needed more than good intentions.

    So with good faith and honor, she accepted. The first in the US to be offered an experience as this in Rehan School history.

    Having engaged and interviewed with many students and educators of Rehan School she had entertained the idea of becoming cohorts in the future.

    At the Rehan Allahwalla AI Teachers Institute bootcamp, Danelle’s day began to include and integrate the classes into her already controlled chaos of a life — learning AI and technology tools designing real projects, practicing confidence talks and learning new technology strategies. No theory. Just building skills.

    Two months later, she won’t be just an educator anymore.

    She will be the bridge as an Onboarding Youth Program Advisor & U.S. Partner. Danelle will help launch Rehan Allahwallas program in to the States — turning nervous youths into creators who code, create, speak with confidence, and lead.

    Because she decided that commitment and 1 hour a day expanding her knowledge was worth a generation’s future.

    Always keep learning. Keep reaching. Keep inspiring.

    Danelle Boyles

    *#LearnToLead #AIForEducators #USLaunch*
    So.....the cat is out of the bag haha. I am at it again, evolving, learning, expanding. I'd like to fill my community in on my newest venture and privledge......🇺🇲✨️🤍🇵🇰 I am, truly privileged to have been recruited to join the Rehan AI Teachers Institute for training. Danelle Boyles stared at the reply button. Was this real? It could be everything she has been working towards. The next step, the next goal. She’d spent 25 years helping educate and Vocational train students in the United States in Indiana, and globally in classrooms and seminars, but AI and technology is moving fast. Always on a learning curve. She wanted to bring real future-skills to U.S. youth, so when Rehan Academy approached her to partner in the United States she needed more than good intentions. So with good faith and honor, she accepted. The first in the US to be offered an experience as this in Rehan School history. Having engaged and interviewed with many students and educators of Rehan School she had entertained the idea of becoming cohorts in the future. At the Rehan Allahwalla AI Teachers Institute bootcamp, Danelle’s day began to include and integrate the classes into her already controlled chaos of a life — learning AI and technology tools designing real projects, practicing confidence talks and learning new technology strategies. No theory. Just building skills. Two months later, she won’t be just an educator anymore. She will be the bridge as an Onboarding Youth Program Advisor & U.S. Partner. Danelle will help launch Rehan Allahwalla's program in to the States — turning nervous youths into creators who code, create, speak with confidence, and lead. Because she decided that commitment and 1 hour a day expanding her knowledge was worth a generation’s future. Always keep learning. Keep reaching. Keep inspiring. Danelle Boyles *#LearnToLead #AIForEducators #USLaunch*
    0 Commenti 0 condivisioni 898 Views
  • Today I had the honor to meet the amazing mother of 2 super amazing girls of Rehan School Korangi Campus !

    Hoorain Remotejobwali and Khadija Atique Businesswali !

    These two girls are for sure going to be super amazing humans !
    Today I had the honor to meet the amazing mother of 2 super amazing girls of Rehan School Korangi Campus ! Hoorain Remotejobwali and Khadija Atique Businesswali ! These two girls are for sure going to be super amazing humans !
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Mikael Allahwala has won today international burger competition today in Karachi ! Congratulations
    Mikael Allahwala has won today international burger competition today in Karachi ! Congratulations
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Thank you Qaisar Roonjha
    Thank you Qaisar Roonjha
    0 Commenti 0 condivisioni 3 Views
  • Do you agree with chairman National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) Gulmina Bilal ?
    Do you agree with chairman National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC) Gulmina Bilal ?
    0 Commenti 0 condivisioni 421 Views