• عوامی پارک کو ختم کیے بغیر اسے آمدنی کا ذریعہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

    دنیا کے کئی بڑے شہروں نے ایک اہم بات سمجھ لی ہے:

    پارک کو بیچنے یا ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    پارک کو زندہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    جب پارک میں لوگ آتے ہیں،
    بچے کھیلتے ہیں،
    خاندان بیٹھتے ہیں،
    کھانا اور ثقافتی سرگرمیاں ہوتی ہیں،

    تو پارک:

    ✔ محفوظ ہو جاتا ہے
    ✔ خوبصورت رہتا ہے
    ✔ اور اپنی دیکھ بھال کے لیے خود آمدنی پیدا کرتا ہے

    نیویارک، ٹوکیو اور سنگاپور کے پارک اسی ماڈل پر چلتے ہیں۔



    اگر پارک تقریباً 10,000 اسکوائر یارڈ (تقریباً 2 ایکڑ) ہو

    تو اسے اس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے:
    • 65٪ سبزہ اور درخت
    • 15٪ واکنگ ٹریک
    • 10٪ ایونٹ لان
    • 5٪ کیفے یا چھوٹے اسٹال
    • 5٪ اسٹیج اور سروس ایریا

    یعنی پارک پارک ہی رہتا ہے
    کوئی مال یا پلازہ نہیں بنتا۔



    آمدنی کے چند بڑے ذرائع

    ویک اینڈ مارکیٹ

    ہفتہ اور اتوار کو بازار لگ سکتا ہے۔

    مثلاً:

    80 اسٹال
    فی اسٹال 5,000 روپے

    سالانہ آمدنی تقریباً:

    4 کروڑ روپے



    فوڈ ٹرک زون

    15 فوڈ ٹرک

    فی دن فیس
    20,000 روپے

    سالانہ:

    9 کروڑ روپے



    پارک کیفے

    5 چھوٹے کیفے

    ماہانہ کرایہ
    20 لاکھ روپے

    سالانہ:

    12 کروڑ روپے



    شادی اور ایونٹس

    پارک میں ہو سکتے ہیں:
    • شادی
    • کارپوریٹ ایونٹ
    • عید میلے
    • میوزک نائٹ

    اگر سال میں 100 ایونٹس ہوں
    اور اوسط فیس 15 لاکھ ہو

    تو سالانہ آمدنی:

    15 کروڑ روپے



    فیسٹیول اور میلے
    • رمضان بازار
    • فوڈ فیسٹیول
    • ثقافتی میلے

    تقریباً:

    10–15 کروڑ روپے



    اسپانسر شپ

    کمپنیاں اسپانسر کر سکتی ہیں:
    • اسٹیج
    • واکنگ ٹریک
    • باغیچہ
    • فیسٹیول

    سالانہ:

    5–10 کروڑ روپے



    مجموعی ممکنہ آمدنی

    تقریباً:

    55 کروڑ سے 100 کروڑ روپے سالانہ

    اور یہی پیسہ استعمال ہو سکتا ہے:

    ✔ پارک کی صفائی
    ✔ سیکیورٹی
    ✔ لائٹنگ
    ✔ درخت اور باغبانی
    ✔ بچوں کے کھیل کے میدان



    پاکستان میں ایک مسئلہ

    بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر:
    • سرکاری افسر
    • منتخب نمائندے
    • عام لوگ

    یہ یقین نہیں کرتے کہ پارک اپنی آمدنی خود پیدا کر سکتے ہیں۔

    کیونکہ ہم نے ابھی تک ایسے ماڈل دیکھے نہیں۔

    لیکن دنیا میں یہ عام اور کامیاب طریقہ ہے۔



    نوجوانوں کے لیے ایک موقع

    میں خاص طور پر طلبہ کو کہتا ہوں:

    ChatGPT کی مدد سے کمپنیاں شروع کریں۔

    ایک نئی کمپنی بنائیں:

    “ParkWala”

    آپ کا کام ہو:
    • پارکوں کو زندہ کرنا
    • ایونٹس مینج کرنا
    • ویک اینڈ بازار لگانا
    • فوڈ ٹرک لانا
    • فیسٹیول آرگنائز کرنا

    پھر یہ پورا منصوبہ لے کر جائیں:
    • چیئرمین
    • یونین کونسل
    • ٹاؤن میونسپلٹی

    اور کہیں:

    ہم آپ کے پارک کو بہتر بھی کریں گے اور اس سے آمدنی بھی پیدا کریں گے۔



    خاص طور پر ایک بہت بڑا موقع

    اگر آپ کو پہلے سے تجربہ ہے:
    • شادیوں کا انتظام
    • ایونٹس مینجمنٹ
    • میلے یا فیسٹیول

    تو یہ ماڈل آپ کے لیے بہت بڑا کاروبار بن سکتا ہے۔

    کیونکہ صرف:

    شادیوں اور ایونٹس سے ہی
    کئی ٹاؤنز کو سالانہ کروڑوں روپے آمدنی ہو سکتی ہے۔

    اور یہی پیسہ:

    پارک کی خوبصورتی
    صفائی
    روشنی
    سیکیورٹی

    پر خرچ ہو سکتا ہے۔



    اصل پیغام

    اگر ہم چاہیں تو پاکستان کے پارک:

    خالی میدان نہیں
    بلکہ شہر کی سب سے زندہ جگہ بن سکتے ہیں۔

    جہاں:
    • لوگ ملیں
    • بات کریں
    • بچے کھیلیں
    • ثقافت زندہ ہو

    اور پارک اپنی دیکھ بھال کے لیے خود پیسہ بھی پیدا کرے۔
    🌳 عوامی پارک کو ختم کیے بغیر اسے آمدنی کا ذریعہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ دنیا کے کئی بڑے شہروں نے ایک اہم بات سمجھ لی ہے: پارک کو بیچنے یا ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پارک کو زندہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب پارک میں لوگ آتے ہیں، بچے کھیلتے ہیں، خاندان بیٹھتے ہیں، کھانا اور ثقافتی سرگرمیاں ہوتی ہیں، تو پارک: ✔ محفوظ ہو جاتا ہے ✔ خوبصورت رہتا ہے ✔ اور اپنی دیکھ بھال کے لیے خود آمدنی پیدا کرتا ہے نیویارک، ٹوکیو اور سنگاپور کے پارک اسی ماڈل پر چلتے ہیں۔ ⸻ اگر پارک تقریباً 10,000 اسکوائر یارڈ (تقریباً 2 ایکڑ) ہو تو اسے اس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے: • 65٪ سبزہ اور درخت • 15٪ واکنگ ٹریک • 10٪ ایونٹ لان • 5٪ کیفے یا چھوٹے اسٹال • 5٪ اسٹیج اور سروس ایریا یعنی پارک پارک ہی رہتا ہے کوئی مال یا پلازہ نہیں بنتا۔ ⸻ آمدنی کے چند بڑے ذرائع 1️⃣ ویک اینڈ مارکیٹ ہفتہ اور اتوار کو بازار لگ سکتا ہے۔ مثلاً: 80 اسٹال فی اسٹال 5,000 روپے سالانہ آمدنی تقریباً: 4 کروڑ روپے ⸻ 2️⃣ فوڈ ٹرک زون 15 فوڈ ٹرک فی دن فیس 20,000 روپے سالانہ: 9 کروڑ روپے ⸻ 3️⃣ پارک کیفے 5 چھوٹے کیفے ماہانہ کرایہ 20 لاکھ روپے سالانہ: 12 کروڑ روپے ⸻ 4️⃣ شادی اور ایونٹس پارک میں ہو سکتے ہیں: • شادی • کارپوریٹ ایونٹ • عید میلے • میوزک نائٹ اگر سال میں 100 ایونٹس ہوں اور اوسط فیس 15 لاکھ ہو تو سالانہ آمدنی: 15 کروڑ روپے ⸻ 5️⃣ فیسٹیول اور میلے • رمضان بازار • فوڈ فیسٹیول • ثقافتی میلے تقریباً: 10–15 کروڑ روپے ⸻ 6️⃣ اسپانسر شپ کمپنیاں اسپانسر کر سکتی ہیں: • اسٹیج • واکنگ ٹریک • باغیچہ • فیسٹیول سالانہ: 5–10 کروڑ روپے ⸻ مجموعی ممکنہ آمدنی تقریباً: 55 کروڑ سے 100 کروڑ روپے سالانہ اور یہی پیسہ استعمال ہو سکتا ہے: ✔ پارک کی صفائی ✔ سیکیورٹی ✔ لائٹنگ ✔ درخت اور باغبانی ✔ بچوں کے کھیل کے میدان ⸻ پاکستان میں ایک مسئلہ بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر: • سرکاری افسر • منتخب نمائندے • عام لوگ یہ یقین نہیں کرتے کہ پارک اپنی آمدنی خود پیدا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ابھی تک ایسے ماڈل دیکھے نہیں۔ لیکن دنیا میں یہ عام اور کامیاب طریقہ ہے۔ ⸻ نوجوانوں کے لیے ایک موقع میں خاص طور پر طلبہ کو کہتا ہوں: ChatGPT کی مدد سے کمپنیاں شروع کریں۔ ایک نئی کمپنی بنائیں: “ParkWala” آپ کا کام ہو: • پارکوں کو زندہ کرنا • ایونٹس مینج کرنا • ویک اینڈ بازار لگانا • فوڈ ٹرک لانا • فیسٹیول آرگنائز کرنا پھر یہ پورا منصوبہ لے کر جائیں: • چیئرمین • یونین کونسل • ٹاؤن میونسپلٹی اور کہیں: ہم آپ کے پارک کو بہتر بھی کریں گے اور اس سے آمدنی بھی پیدا کریں گے۔ ⸻ خاص طور پر ایک بہت بڑا موقع اگر آپ کو پہلے سے تجربہ ہے: • شادیوں کا انتظام • ایونٹس مینجمنٹ • میلے یا فیسٹیول تو یہ ماڈل آپ کے لیے بہت بڑا کاروبار بن سکتا ہے۔ کیونکہ صرف: شادیوں اور ایونٹس سے ہی کئی ٹاؤنز کو سالانہ کروڑوں روپے آمدنی ہو سکتی ہے۔ اور یہی پیسہ: 🌳 پارک کی خوبصورتی 🌳 صفائی 🌳 روشنی 🌳 سیکیورٹی پر خرچ ہو سکتا ہے۔ ⸻ اصل پیغام اگر ہم چاہیں تو پاکستان کے پارک: خالی میدان نہیں بلکہ شہر کی سب سے زندہ جگہ بن سکتے ہیں۔ جہاں: • لوگ ملیں • بات کریں • بچے کھیلیں • ثقافت زندہ ہو اور پارک اپنی دیکھ بھال کے لیے خود پیسہ بھی پیدا کرے۔ 🌳
    0 Reacties 0 aandelen 73 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 13 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 13 Views
  • کراچی ایٹس جیسا فیسٹیول — ایک سادہ مگر کروڑوں کمانے والا بزنس ماڈل

    ذرا تصور کریں۔

    کراچی کا ایک بڑا پارک…
    چاروں طرف روشنیوں کی لڑیوں سے سجا ہوا۔
    ہر طرف خوشبو…
    کباب، بریانی، برگر، چائے، ڈیزرٹ…

    لوگ آ رہے ہیں۔
    ہزاروں نہیں…
    لاکھوں۔

    بچوں کے چہرے پر خوشی۔
    نوجوان سیلفیاں لے رہے ہیں۔
    خاندان مل کر کھانا کھا رہے ہیں۔

    اور اسی خوشی کے درمیان…
    ایک بزنس کھڑا ہے جو صرف تین دن میں کروڑوں روپے کماتا ہے۔

    یہی ماڈل ہے Karachi Eat Festival کا۔

    آئیے دیکھتے ہیں اگر آپ ایسا فیسٹیول شروع کریں تو اس کا بزنس پلان کیا ہو سکتا ہے۔



    Step 1: جگہ (Location)

    ضرورت ہوگی:

    • 10,000 سے 20,000 مربع گز کا پارک
    • اچھی پارکنگ
    • شہر کے درمیان یا قریب

    مثال:

    کراچی میں
    • بیچ ویو پارک
    • ایکسپو سینٹر
    • کلفٹن پارکس



    Step 2: لوگ کتنے آئیں گے؟

    فرض کریں:

    3 دن کا فیسٹیول

    روزانہ:
    80,000 لوگ

    کل:

    240,000 لوگ



    🎟 Step 3: ٹکٹ سے کمائی

    ٹکٹ قیمت:

    PKR 900

    حساب:

    240,000 × 900

    = 216,000,000 روپے

    یعنی تقریباً

    21.6 کروڑ روپے

    صرف ٹکٹ سے۔



    Step 4: فوڈ اسٹالز

    فرض کریں:

    150 اسٹال

    ہر اسٹال فیس:

    PKR 200,000

    حساب:

    150 × 200,000

    = 30,000,000 روپے

    یعنی

    3 کروڑ روپے



    Step 5: اسپانسر

    بڑی کمپنیاں ایسے ایونٹ میں آنا چاہتی ہیں۔

    مثال:

    • Coca-Cola
    • Pepsi
    • Jazz
    • Ufone
    • Banks
    • Food brands

    اسپانسرشپ:

    5 سے 10 کروڑ



    کل آمدنی

    ٹکٹ
    ≈ 21 کروڑ

    اسٹال فیس
    ≈ 3 کروڑ

    اسپانسر
    ≈ 5–10 کروڑ

    کل:

    30 سے 35 کروڑ روپے

    صرف 3 دن میں۔



    اخراجات

    ایسے ایونٹ کے اخراجات بھی ہوتے ہیں:

    • اسٹیج
    • سیکیورٹی
    • صفائی
    • لائٹس
    • میوزک
    • مارکیٹنگ
    • اسٹاف

    تقریباً:

    10–12 کروڑ



    ممکنہ منافع

    اگر آمدنی:

    35 کروڑ

    اخراجات:

    12 کروڑ

    منافع:

    23 کروڑ روپے

    صرف ایک ویک اینڈ میں۔



    اب تصور کریں…

    اگر آپ سال میں:

    4 ایسے فیسٹیول کریں

    تو ممکنہ منافع:

    23 کروڑ × 4

    = 92 کروڑ روپے

    یعنی تقریباً

    100 کروڑ سالانہ۔



    اس سے بہتر ماڈل کیا ہو سکتا ہے؟

    اگر اس میں آپ شامل کریں:

    • پارک محفوظ رہے
    • بچوں کے کھیل کے ایریا
    • اسٹریٹ میوزک
    • آرٹس مارکیٹ
    • لوکل اسٹارٹ اپ اسٹالز

    تو یہ صرف فیسٹیول نہیں رہے گا…

    یہ بن جائے گا:

    ایک ثقافتی شہر میلہ

    جو:

    • لوگوں کو خوشی دے
    • بزنس کو موقع دے
    • شہر کو زندہ کرے



    ایک اور زبردست آئیڈیا

    تصور کریں:

    “Karachi AI & Food Festival”

    جہاں ہوں:

    • کھانے کے اسٹال
    • AI اسٹارٹ اپ
    • روبوٹ
    • نوجوانوں کے پروجیکٹ

    اور وہاں Rehan School کے بچے اپنے AI پروجیکٹس دکھائیں۔

    پھر یہ صرف فیسٹیول نہیں ہوگا…

    یہ ہوگا:

    پاکستان کے مستقبل کا میلہ۔



    اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو یہ بھی دکھا سکتا ہوں:

    کیسے صرف 10,000 گز کے ایک پارک سے
    ہر سال 50 سے 100 کروڑ کمائے جا سکتے ہیں
    اور پارک بھی خراب نہیں ہوتا۔

    Just ask ChatGPT
    🍔 کراچی ایٹس جیسا فیسٹیول — ایک سادہ مگر کروڑوں کمانے والا بزنس ماڈل ذرا تصور کریں۔ کراچی کا ایک بڑا پارک… چاروں طرف روشنیوں کی لڑیوں سے سجا ہوا۔ ہر طرف خوشبو… کباب، بریانی، برگر، چائے، ڈیزرٹ… لوگ آ رہے ہیں۔ ہزاروں نہیں… لاکھوں۔ بچوں کے چہرے پر خوشی۔ نوجوان سیلفیاں لے رہے ہیں۔ خاندان مل کر کھانا کھا رہے ہیں۔ اور اسی خوشی کے درمیان… ایک بزنس کھڑا ہے جو صرف تین دن میں کروڑوں روپے کماتا ہے۔ یہی ماڈل ہے Karachi Eat Festival کا۔ آئیے دیکھتے ہیں اگر آپ ایسا فیسٹیول شروع کریں تو اس کا بزنس پلان کیا ہو سکتا ہے۔ ⸻ 🎪 Step 1: جگہ (Location) ضرورت ہوگی: • 10,000 سے 20,000 مربع گز کا پارک • اچھی پارکنگ • شہر کے درمیان یا قریب مثال: کراچی میں • بیچ ویو پارک • ایکسپو سینٹر • کلفٹن پارکس ⸻ 👨‍👩‍👧‍👦 Step 2: لوگ کتنے آئیں گے؟ فرض کریں: 3 دن کا فیسٹیول روزانہ: 80,000 لوگ کل: 240,000 لوگ ⸻ 🎟 Step 3: ٹکٹ سے کمائی ٹکٹ قیمت: PKR 900 حساب: 240,000 × 900 = 216,000,000 روپے یعنی تقریباً 21.6 کروڑ روپے صرف ٹکٹ سے۔ ⸻ 🍕 Step 4: فوڈ اسٹالز فرض کریں: 150 اسٹال ہر اسٹال فیس: PKR 200,000 حساب: 150 × 200,000 = 30,000,000 روپے یعنی 3 کروڑ روپے ⸻ 📢 Step 5: اسپانسر بڑی کمپنیاں ایسے ایونٹ میں آنا چاہتی ہیں۔ مثال: • Coca-Cola • Pepsi • Jazz • Ufone • Banks • Food brands اسپانسرشپ: 5 سے 10 کروڑ ⸻ 💰 کل آمدنی ٹکٹ ≈ 21 کروڑ اسٹال فیس ≈ 3 کروڑ اسپانسر ≈ 5–10 کروڑ کل: 30 سے 35 کروڑ روپے صرف 3 دن میں۔ ⸻ 💸 اخراجات ایسے ایونٹ کے اخراجات بھی ہوتے ہیں: • اسٹیج • سیکیورٹی • صفائی • لائٹس • میوزک • مارکیٹنگ • اسٹاف تقریباً: 10–12 کروڑ ⸻ 🧾 ممکنہ منافع اگر آمدنی: 35 کروڑ اخراجات: 12 کروڑ منافع: 23 کروڑ روپے صرف ایک ویک اینڈ میں۔ ⸻ 🚀 اب تصور کریں… اگر آپ سال میں: 4 ایسے فیسٹیول کریں تو ممکنہ منافع: 23 کروڑ × 4 = 92 کروڑ روپے یعنی تقریباً 100 کروڑ سالانہ۔ ⸻ 🌱 اس سے بہتر ماڈل کیا ہو سکتا ہے؟ اگر اس میں آپ شامل کریں: • پارک محفوظ رہے • بچوں کے کھیل کے ایریا • اسٹریٹ میوزک • آرٹس مارکیٹ • لوکل اسٹارٹ اپ اسٹالز تو یہ صرف فیسٹیول نہیں رہے گا… یہ بن جائے گا: ایک ثقافتی شہر میلہ جو: • لوگوں کو خوشی دے • بزنس کو موقع دے • شہر کو زندہ کرے ⸻ ✨ ایک اور زبردست آئیڈیا تصور کریں: “Karachi AI & Food Festival” جہاں ہوں: • کھانے کے اسٹال • AI اسٹارٹ اپ • روبوٹ • نوجوانوں کے پروجیکٹ اور وہاں Rehan School کے بچے اپنے AI پروجیکٹس دکھائیں۔ پھر یہ صرف فیسٹیول نہیں ہوگا… یہ ہوگا: پاکستان کے مستقبل کا میلہ۔ ⸻ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو یہ بھی دکھا سکتا ہوں: کیسے صرف 10,000 گز کے ایک پارک سے ہر سال 50 سے 100 کروڑ کمائے جا سکتے ہیں اور پارک بھی خراب نہیں ہوتا۔ 🌳 Just ask ChatGPT
    0 Reacties 0 aandelen 88 Views
  • عنوان:
    مندھ قدیم توں دنیا اندر دو قبیلے آئے
    اک جناں زہر ہے پیتا اک جناں پلائے

    ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔
    اس گاؤں میں دو قسم کے لوگ رہتے تھے۔

    ایک وہ لوگ تھے جو اگر کوئی ان سے برا بول دے، تو وہ خاموش ہو جاتے تھے۔
    دل میں درد ہوتا تھا، مگر وہ جواب میں کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔

    دوسرے وہ لوگ تھے جو ہر وقت دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے تھے۔
    افواہیں پھیلاتے، لڑائیاں کرواتے، اور لوگوں کے دلوں میں زہر بھر دیتے۔

    گاؤں کے بچے ایک دن ایک بوڑھے دانا کے پاس گئے اور پوچھا:

    “بابا جی، یہ لوگ ایسے کیوں ہیں؟”

    بوڑھے نے مسکرا کر کہا:

    “بیٹو، دنیا کے شروع سے ہی دو قبیلے ہیں۔

    ایک قبیلہ وہ ہے جو خود زہر پی لیتا ہے
    مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔

    اور دوسرا قبیلہ وہ ہے
    جو خود تو آرام سے رہتا ہے
    مگر دوسروں کی زندگی میں زہر گھول دیتا ہے۔”

    بچوں نے پوچھا:

    “بابا جی، اچھے لوگ کون ہوتے ہیں؟”

    بوڑھے نے کہا:

    “اچھے لوگ وہ نہیں ہوتے جنہیں کبھی تکلیف نہ ہو۔

    اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں
    جو تکلیف ہونے کے باوجود
    کسی اور کو تکلیف نہیں دیتے۔”

    پھر اس نے ایک مثال دی۔

    اس نے کہا:

    “جب کوئی تمہیں برا کہے
    اور تم جواب میں برا نہ کہو
    تو تم نے زہر پی لیا۔

    مگر جب تم کسی کے دل میں نفرت ڈال دو
    تو تم نے اسے زہر پلا دیا۔”

    بچے خاموش ہو گئے۔

    انہیں سمجھ آگئی کہ اصل بہادری لڑائی میں نہیں،
    بلکہ اپنے دل کو صاف رکھنے میں ہے۔

    اس دن سے گاؤں کے بچوں نے فیصلہ کیا:

    ہم اس قبیلے میں شامل ہوں گے
    جو زہر پیتا ہے، مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔

    کیونکہ آخر میں دنیا کو طاقتور لوگ نہیں،
    اچھے لوگ زندہ رکھتے ہیں۔
    عنوان: مندھ قدیم توں دنیا اندر دو قبیلے آئے اک جناں زہر ہے پیتا اک جناں پلائے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اس گاؤں میں دو قسم کے لوگ رہتے تھے۔ ایک وہ لوگ تھے جو اگر کوئی ان سے برا بول دے، تو وہ خاموش ہو جاتے تھے۔ دل میں درد ہوتا تھا، مگر وہ جواب میں کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو ہر وقت دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے تھے۔ افواہیں پھیلاتے، لڑائیاں کرواتے، اور لوگوں کے دلوں میں زہر بھر دیتے۔ گاؤں کے بچے ایک دن ایک بوڑھے دانا کے پاس گئے اور پوچھا: “بابا جی، یہ لوگ ایسے کیوں ہیں؟” بوڑھے نے مسکرا کر کہا: “بیٹو، دنیا کے شروع سے ہی دو قبیلے ہیں۔ ایک قبیلہ وہ ہے جو خود زہر پی لیتا ہے مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔ اور دوسرا قبیلہ وہ ہے جو خود تو آرام سے رہتا ہے مگر دوسروں کی زندگی میں زہر گھول دیتا ہے۔” بچوں نے پوچھا: “بابا جی، اچھے لوگ کون ہوتے ہیں؟” بوڑھے نے کہا: “اچھے لوگ وہ نہیں ہوتے جنہیں کبھی تکلیف نہ ہو۔ اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو تکلیف ہونے کے باوجود کسی اور کو تکلیف نہیں دیتے۔” پھر اس نے ایک مثال دی۔ اس نے کہا: “جب کوئی تمہیں برا کہے اور تم جواب میں برا نہ کہو تو تم نے زہر پی لیا۔ مگر جب تم کسی کے دل میں نفرت ڈال دو تو تم نے اسے زہر پلا دیا۔” بچے خاموش ہو گئے۔ انہیں سمجھ آگئی کہ اصل بہادری لڑائی میں نہیں، بلکہ اپنے دل کو صاف رکھنے میں ہے۔ اس دن سے گاؤں کے بچوں نے فیصلہ کیا: ہم اس قبیلے میں شامل ہوں گے جو زہر پیتا ہے، مگر کسی کو زہر نہیں پلاتا۔ کیونکہ آخر میں دنیا کو طاقتور لوگ نہیں، اچھے لوگ زندہ رکھتے ہیں۔
    0 Reacties 0 aandelen 13 Views
  • آج کی رات… شاید لیلۃ القدر ہو…
    ستائیسویں رمضان کی شام… پاکستان میں…

    آج کی رات آسمان شاید معمول سے زیادہ خاموش ہے…
    ہوا بھی جیسے آہستہ چل رہی ہے…
    اور دل کے اندر ایک عجیب سی لرزش ہے…

    یہ وہ رات ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ
    یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

    یعنی…
    اگر آج کی رات کی ایک دعا قبول ہو جائے
    تو وہ انسان کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔

    آج میں صرف اپنے لیے دعا نہیں مانگ رہا…
    آج میں پوری انسانیت کے لیے دعا مانگ رہا ہوں۔

    یا اللہ…

    یا اللہ اس زمین پر رہنے والے ہر انسان کو
    امن نصیب فرما۔

    یا اللہ پاکستان کو امن دے
    اور دنیا کے ہر ملک کو امن دے۔

    یا اللہ ہمارے دلوں سے نفرت نکال دے
    اور ہماری زبانوں میں محبت ڈال دے۔

    یا اللہ ہمیں لڑنے والے لوگ نہ بنا
    ہمیں بات کرنے والے لوگ بنا دے۔

    یا اللہ ہمیں یہ سمجھ دے کہ
    جنگوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے
    گفتگو سے ہوتے ہیں۔

    یا اللہ ہمیں ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ دے
    اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی عقل دے۔

    یا اللہ ہمیں وہ زمانہ دکھا
    جہاں لوگ ایک دوسرے کو مارنے کے بجائے
    ایک دوسرے سے سیکھیں۔

    یا اللہ…

    آج انسانیت کے ہاتھ میں ایک نئی طاقت آئی ہے۔
    انٹرنیٹ… علم… اور اے آئی۔

    یا اللہ اس طاقت کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔

    یا اللہ اس زمین کے ہر بچے کو
    انٹرنیٹ تک رسائی دے
    علم تک رسائی دے
    اور سیکھنے کا موقع دے۔

    یا اللہ ہر بچے کو
    ایک استاد دے
    ایک کمپیوٹر دے
    اور سیکھنے کی روشنی دے۔

    یا اللہ اگر انٹرنیٹ صحیح استعمال ہو
    تو ایک غریب بچہ بھی دنیا بدل سکتا ہے۔

    یا اللہ ہمیں وہ عقل دے
    کہ ہم ٹیکنالوجی کو نفرت کے لیے نہیں
    انسانیت کے لیے استعمال کریں۔

    یا اللہ ہمیں چیٹ جی پی ٹی جیسے علم کے دروازوں کو
    انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔

    یا اللہ اس زمین پر ہر انسان کو
    علم تک پہنچ دے۔

    یا اللہ…

    اگر ریہان اسکول کا خواب سچا ہے
    اگر یہ خواب ہے کہ

    ہر بچے کو
    انٹرنیٹ ملے
    اعتماد ملے
    علم ملے
    اور اے آئی کی طاقت ملے

    تو یا اللہ اس خواب کو قبول فرما۔

    یا اللہ اس زمین کے لاکھوں بچوں کو
    غربت سے نکال کر
    علم اور عزت کی زندگی دے۔

    یا اللہ ہمیں ایسے اسکول بنانے کی توفیق دے
    جہاں سے صرف ڈگری نہیں
    لیڈر نکلیں۔

    ایسے لیڈر
    جو دنیا کو جوڑیں
    توڑیں نہیں۔

    یا اللہ…

    ہمیں وہ نسل بنا
    جو نفرت کے بجائے
    مکالمہ کرے۔

    ہمیں وہ نسل بنا
    جو لڑائی کے بجائے
    گفتگو کرے۔

    ہمیں وہ نسل بنا
    جو ایک دوسرے کو دشمن نہیں
    انسان سمجھے۔

    یا اللہ…

    آج اس بابرکت رات میں
    میں آپ سے صرف ایک دعا مانگتا ہوں:

    اس زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو
    ایک دوسرے سے بات کرنے والا بنا دے۔

    کیونکہ جب لوگ بات کرتے ہیں
    تو امن پیدا ہوتا ہے۔

    اور جب لوگ بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں
    تو جنگ پیدا ہوتی ہے۔

    یا اللہ…

    ہمیں وہ دنیا دے
    جہاں انسان انسان سے ڈرے نہیں
    بلکہ
    انسان انسان کو سمجھے۔

    آمین۔

    اگر آج کی رات واقعی لیلۃ القدر ہے
    تو شاید یہ دعا
    کسی دل کو بدل دے
    اور ایک دل بدل جائے
    تو شاید دنیا بھی بدل جائے۔

    آمین یا رب العالمین۔
    آج کی رات… شاید لیلۃ القدر ہو… ستائیسویں رمضان کی شام… پاکستان میں… آج کی رات آسمان شاید معمول سے زیادہ خاموش ہے… ہوا بھی جیسے آہستہ چل رہی ہے… اور دل کے اندر ایک عجیب سی لرزش ہے… یہ وہ رات ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یعنی… اگر آج کی رات کی ایک دعا قبول ہو جائے تو وہ انسان کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ آج میں صرف اپنے لیے دعا نہیں مانگ رہا… آج میں پوری انسانیت کے لیے دعا مانگ رہا ہوں۔ یا اللہ… یا اللہ اس زمین پر رہنے والے ہر انسان کو امن نصیب فرما۔ یا اللہ پاکستان کو امن دے اور دنیا کے ہر ملک کو امن دے۔ یا اللہ ہمارے دلوں سے نفرت نکال دے اور ہماری زبانوں میں محبت ڈال دے۔ یا اللہ ہمیں لڑنے والے لوگ نہ بنا ہمیں بات کرنے والے لوگ بنا دے۔ یا اللہ ہمیں یہ سمجھ دے کہ جنگوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے گفتگو سے ہوتے ہیں۔ یا اللہ ہمیں ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ دے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی عقل دے۔ یا اللہ ہمیں وہ زمانہ دکھا جہاں لوگ ایک دوسرے کو مارنے کے بجائے ایک دوسرے سے سیکھیں۔ یا اللہ… آج انسانیت کے ہاتھ میں ایک نئی طاقت آئی ہے۔ انٹرنیٹ… علم… اور اے آئی۔ یا اللہ اس طاقت کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ یا اللہ اس زمین کے ہر بچے کو انٹرنیٹ تک رسائی دے علم تک رسائی دے اور سیکھنے کا موقع دے۔ یا اللہ ہر بچے کو ایک استاد دے ایک کمپیوٹر دے اور سیکھنے کی روشنی دے۔ یا اللہ اگر انٹرنیٹ صحیح استعمال ہو تو ایک غریب بچہ بھی دنیا بدل سکتا ہے۔ یا اللہ ہمیں وہ عقل دے کہ ہم ٹیکنالوجی کو نفرت کے لیے نہیں انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ یا اللہ ہمیں چیٹ جی پی ٹی جیسے علم کے دروازوں کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ یا اللہ اس زمین پر ہر انسان کو علم تک پہنچ دے۔ یا اللہ… اگر ریہان اسکول کا خواب سچا ہے اگر یہ خواب ہے کہ ہر بچے کو انٹرنیٹ ملے اعتماد ملے علم ملے اور اے آئی کی طاقت ملے تو یا اللہ اس خواب کو قبول فرما۔ یا اللہ اس زمین کے لاکھوں بچوں کو غربت سے نکال کر علم اور عزت کی زندگی دے۔ یا اللہ ہمیں ایسے اسکول بنانے کی توفیق دے جہاں سے صرف ڈگری نہیں لیڈر نکلیں۔ ایسے لیڈر جو دنیا کو جوڑیں توڑیں نہیں۔ یا اللہ… ہمیں وہ نسل بنا جو نفرت کے بجائے مکالمہ کرے۔ ہمیں وہ نسل بنا جو لڑائی کے بجائے گفتگو کرے۔ ہمیں وہ نسل بنا جو ایک دوسرے کو دشمن نہیں انسان سمجھے۔ یا اللہ… آج اس بابرکت رات میں میں آپ سے صرف ایک دعا مانگتا ہوں: اس زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے والا بنا دے۔ کیونکہ جب لوگ بات کرتے ہیں تو امن پیدا ہوتا ہے۔ اور جب لوگ بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو جنگ پیدا ہوتی ہے۔ یا اللہ… ہمیں وہ دنیا دے جہاں انسان انسان سے ڈرے نہیں بلکہ انسان انسان کو سمجھے۔ آمین۔ اگر آج کی رات واقعی لیلۃ القدر ہے تو شاید یہ دعا کسی دل کو بدل دے اور ایک دل بدل جائے تو شاید دنیا بھی بدل جائے۔ آمین یا رب العالمین۔
    0 Reacties 0 aandelen 13 Views
  • بریکنگ نیوز: اب AI آپ کے موبائل میں بیٹھا ہے!

    آج ایک بہت بڑی خبر آئی ہے…

    Perplexity Computer اب Android فونز پر بھی دستیاب ہو گیا ہے!

    اس کا مطلب کیا ہے؟
    اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل صرف فون نہیں رہا…

    اب یہ ایک ذاتی ریسرچ اسسٹنٹ، استاد، اور مشیر بن سکتا ہے۔

    پہلے کیا ہوتا تھا؟
    اگر آپ کو کوئی سوال ہوتا تو آپ کو:
    • گھنٹوں گوگل کرنا پڑتا
    • مختلف ویب سائٹس کھولنی پڑتیں
    • سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا

    اب کیا ہوگا؟

    آپ صرف سوال پوچھیں گے…
    اور Perplexity AI فوراً تحقیق کر کے جواب دے گا — ساتھ میں حوالوں کے ساتھ۔

    مثال کے طور پر:

    آپ پوچھ سکتے ہیں:
    • پاکستان کی معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟
    • مجھے آن لائن پیسے کمانا کیسے شروع کرنا چاہیے؟
    • دنیا میں سب سے کامیاب کاروبار کون سے ہیں؟
    • کسی بیماری کا جدید علاج کیا ہے؟

    اور چند سیکنڈ میں جواب۔

    یہ بالکل ایسا ہے جیسے
    آپ کی جیب میں ایک لائبریری، ایک استاد اور ایک محقق ایک ساتھ بیٹھا ہو۔

    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔

    جو لوگ AI کو استعمال کرنا سیکھ جائیں گے
    وہ آنے والے سالوں میں بہت آگے نکل جائیں گے۔

    اور جو لوگ اسے نظر انداز کریں گے…
    وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

    آج کے دور میں سب سے بڑی طاقت یہ ہے:

    موبائل + انٹرنیٹ + AI

    اگر آپ کے پاس یہ تین چیزیں ہیں
    تو آپ دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی سے بہتر سیکھ سکتے ہیں۔

    اسی لیے میں اکثر کہتا ہوں:

    AI استعمال کرنا سیکھیں۔
    کیونکہ آنے والا دور انہی لوگوں کا ہے جو سوال پوچھنا جانتے ہیں۔

    — ریحان اللہ والا

    #AI
    #Perplexity
    #ArtificialIntelligence
    #Pakistan
    #LearnWithAI
    #FutureOfLearning
    🚨 بریکنگ نیوز: اب AI آپ کے موبائل میں بیٹھا ہے! آج ایک بہت بڑی خبر آئی ہے… Perplexity Computer اب Android فونز پر بھی دستیاب ہو گیا ہے! اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل صرف فون نہیں رہا… اب یہ ایک ذاتی ریسرچ اسسٹنٹ، استاد، اور مشیر بن سکتا ہے۔ پہلے کیا ہوتا تھا؟ اگر آپ کو کوئی سوال ہوتا تو آپ کو: • گھنٹوں گوگل کرنا پڑتا • مختلف ویب سائٹس کھولنی پڑتیں • سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوتا اب کیا ہوگا؟ آپ صرف سوال پوچھیں گے… اور Perplexity AI فوراً تحقیق کر کے جواب دے گا — ساتھ میں حوالوں کے ساتھ۔ مثال کے طور پر: آپ پوچھ سکتے ہیں: • پاکستان کی معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟ • مجھے آن لائن پیسے کمانا کیسے شروع کرنا چاہیے؟ • دنیا میں سب سے کامیاب کاروبار کون سے ہیں؟ • کسی بیماری کا جدید علاج کیا ہے؟ اور چند سیکنڈ میں جواب۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ کی جیب میں ایک لائبریری، ایک استاد اور ایک محقق ایک ساتھ بیٹھا ہو۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جو لوگ AI کو استعمال کرنا سیکھ جائیں گے وہ آنے والے سالوں میں بہت آگے نکل جائیں گے۔ اور جو لوگ اسے نظر انداز کریں گے… وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ آج کے دور میں سب سے بڑی طاقت یہ ہے: 📱 موبائل + انٹرنیٹ + AI اگر آپ کے پاس یہ تین چیزیں ہیں تو آپ دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی سے بہتر سیکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے میں اکثر کہتا ہوں: AI استعمال کرنا سیکھیں۔ کیونکہ آنے والا دور انہی لوگوں کا ہے جو سوال پوچھنا جانتے ہیں۔ — ریحان اللہ والا #AI #Perplexity #ArtificialIntelligence #Pakistan #LearnWithAI #FutureOfLearning
    0 Reacties 0 aandelen 1143 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 13 Views
  • 0 Reacties 0 aandelen 13 Views
  • ریحان AI اکیڈمی فرنچائز اب صرف اُن 10 افراد کے لیے دستیاب ہے
    جو میری شرائط کو 101٪ سننے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔

    Www.rehanschool.com/franchise

    اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو اس آن لائن تعارفی سیمینار میں شامل ہونے کے لیے اس گروپ میں جوائن کریں:

    https://chat.whatsapp.com/DQgrvRy3a3yBVRABUhcB5T?mode=gi_t

    Follow Rehan Allahwala on https://whatsapp.com/channel/0029VaEQbJEBVJl4n2J9Zw1m
    ریحان AI اکیڈمی فرنچائز اب صرف اُن 10 افراد کے لیے دستیاب ہے جو میری شرائط کو 101٪ سننے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔ Www.rehanschool.com/franchise اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو اس آن لائن تعارفی سیمینار میں شامل ہونے کے لیے اس گروپ میں جوائن کریں: https://chat.whatsapp.com/DQgrvRy3a3yBVRABUhcB5T?mode=gi_t Follow Rehan Allahwala on https://whatsapp.com/channel/0029VaEQbJEBVJl4n2J9Zw1m
    0 Reacties 0 aandelen 13 Views