• 0 Comments 0 Shares 15 Views
  • 0 Comments 0 Shares 15 Views
  • ہیڈ لائن سن لیں پاکستان!

    اب بچہ صفر فیس پر پڑھ سکتا ہے۔
    جی ہاں… صفر۔

    بارہ کہو، اسلام آباد سے ماڈل شروع ہو چکا ہے۔



    اب Rehan School کا ACCL Curriculum
    دستیاب ہے
    Oxford High School Bara Kahu میں۔



    فیس کتنی ہے؟

    Oxford High School Bara Kahu
    ماہانہ فیس: صرف 5,000 روپے

    اور اسی فیس میں:
    ✔ AI سیکھیں
    ✔ کمپیوٹر کی عملی مہارت
    ✔ کانفیڈنس اور کمیونیکیشن
    ✔ سوشل میڈیا کا پروفیشنل استعمال
    ✔ Earn While Learn ماڈل



    زیرو فیس فارمولا

    قدم
    کلاس 5 سے ACCL Curriculum شروع۔

    قدم
    6 سے 18 ماہ میں
    بچہ کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانے کے قابل۔

    قدم
    بچہ دوسروں کو یہی سکھائے۔
    اپنی فیس خود دے۔

    نتیجہ؟
    والدین پر بوجھ صفر۔
    بچہ خود مختار۔
    اسکول مضبوط۔



    بڑا مشن

    مقصد صرف ایک:

    پاکستان کا کوئی بچہ
    5,000 روپے ماہانہ سے کم نہ کمائے۔

    جب بچہ کمائے گا
    تو اسکول بہتر اساتذہ رکھ سکے گا۔
    بہتر سہولیات دے سکے گا۔
    اور تعلیم عزت بن جائے گی، بوجھ نہیں۔



    اہم اعلان

    Rehan School اپنی ٹیم اور اساتذہ فراہم کرے گا
    ان اسکولوں کو
    جو ACCL Curriculum متعارف کروانا چاہتے ہیں
    اور اپنے بچوں کو کم عمر میں کمانے کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔

    یہ صرف ایک اسکول نہیں۔
    یہ ایک ماڈل ہے۔



    مزید معلومات اور داخلہ کے لیے رابطہ کریں:

    ارشد آرائیں

    Arshad Arain

    Director – Oxford High School Bara Kahu
    +92 321 5227794
    Oxford Building, Seri Chowk, Near Adil CNG, Simly Dam Road, Bharakahu, Islamabad



    یہ خواب نہیں۔
    یہ سسٹم ہے۔

    سوال صرف ایک ہے:
    آپ اپنے بچے کو صرف پڑھانا چاہتے ہیں…
    یا اسے کماتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں؟

    #ZeroFeesEducation
    #ACCL
    #EarnWhileLearning
    #Islamabad
    🔥🚨 ہیڈ لائن سن لیں پاکستان! 🚨🔥 اب بچہ صفر فیس پر پڑھ سکتا ہے۔ جی ہاں… صفر۔ بارہ کہو، اسلام آباد سے ماڈل شروع ہو چکا ہے۔ 👇 ⸻ اب Rehan School کا ACCL Curriculum دستیاب ہے Oxford High School Bara Kahu میں۔ ⸻ 💰 فیس کتنی ہے؟ Oxford High School Bara Kahu ماہانہ فیس: صرف 5,000 روپے اور اسی فیس میں: ✔ AI سیکھیں ✔ کمپیوٹر کی عملی مہارت ✔ کانفیڈنس اور کمیونیکیشن ✔ سوشل میڈیا کا پروفیشنل استعمال ✔ Earn While Learn ماڈل ⸻ 🎯 زیرو فیس فارمولا قدم 1️⃣ کلاس 5 سے ACCL Curriculum شروع۔ قدم 2️⃣ 6 سے 18 ماہ میں بچہ کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانے کے قابل۔ قدم 3️⃣ بچہ دوسروں کو یہی سکھائے۔ اپنی فیس خود دے۔ نتیجہ؟ والدین پر بوجھ صفر۔ بچہ خود مختار۔ اسکول مضبوط۔ ⸻ 🔥 بڑا مشن مقصد صرف ایک: پاکستان کا کوئی بچہ 5,000 روپے ماہانہ سے کم نہ کمائے۔ جب بچہ کمائے گا تو اسکول بہتر اساتذہ رکھ سکے گا۔ بہتر سہولیات دے سکے گا۔ اور تعلیم عزت بن جائے گی، بوجھ نہیں۔ ⸻ 🏫 اہم اعلان Rehan School اپنی ٹیم اور اساتذہ فراہم کرے گا ان اسکولوں کو جو ACCL Curriculum متعارف کروانا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو کم عمر میں کمانے کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔ یہ صرف ایک اسکول نہیں۔ یہ ایک ماڈل ہے۔ ⸻ 📞 مزید معلومات اور داخلہ کے لیے رابطہ کریں: ارشد آرائیں Arshad Arain Director – Oxford High School Bara Kahu 📱 +92 321 5227794 📍 Oxford Building, Seri Chowk, Near Adil CNG, Simly Dam Road, Bharakahu, Islamabad ⸻ یہ خواب نہیں۔ یہ سسٹم ہے۔ سوال صرف ایک ہے: آپ اپنے بچے کو صرف پڑھانا چاہتے ہیں… یا اسے کماتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں؟ 🔥 #ZeroFeesEducation #ACCL #EarnWhileLearning #Islamabad
    0 Comments 0 Shares 1223 Views
  • میں نے جب پہلے دن منور کمپس کراچی دیکھا تھا میں تقریبا 15 گھنٹے کا سفر کر کے گیا تھا کچھ وقت آرام کیا شاید دو گھنٹے اور پہنچا ریحان اللہ والا سکول منور کمپس۔۔۔۔
    وھاں مجھ 53 سال کے مشنری اور پر جوش ٹیچنگ کرنے والے کی حیرت کی انتہا نہ رھی۔۔۔۔

    مجھے ممتاز مفتی کے ناول الکھ نگری کا لفظ سمجھ آیا کوئی بہت ھی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل لوگ۔۔۔۔

    جیسے فلموں میں ھوتا ھے ھو رھا ھے ھو بہو۔۔۔

    والی بات۔۔۔

    ایک ایک بندہ۔۔۔۔۔بندے کا پتر ۔۔۔۔۔ڈنگ نکلا ھوا ۔۔۔۔اس کی کونیاں کسی کو نہیں چب رھیں۔۔۔۔ایک ایک بندی طریقے ۔۔۔۔سلیقے سے انتھائی پروفیشنل انداز گفتگو ۔۔۔

    جو بھی کچھ کر رھے ھے من سے کر رھا ھے۔۔۔

    ایک بیٹی دعا ملی بہت تمیز اور سلیقے سے پانی پلایا نہیں ھے پانی کا گلاس پیش کیا ۔۔۔۔
    پانی پیا تو دیکھا کوئی میڈم صبا صاحبہ تھیں وہ باری باری والدیں کو باتیں ھر بار پر وقار انداز سے متبسم چہرہ اور والدین کے سوالوں کو خندہ پیشانی سے سننا اور جواب اس طرح دینا کہ وہ کہیں جی جی جی ھاں ٹھیک ھو گیا سمجھ گئے۔۔۔۔۔۔

    ابلاغ دو طرفہ ھونا کمال ھے۔۔۔۔۔

    اب میں ڈیرہ غازی خان ھوں۔۔۔۔۔میری مسافت پھر 15 گھنٹے۔۔۔۔۔

    وہ گیت ھے نہ

    پنکھ ھوتے تو اڑ آتی رے رسیا او ظالمہ

    تجھے دل کا داغ دکھلاتی رے۔۔۔۔

    Younis Chughtai
    میں نے جب پہلے دن منور کمپس کراچی دیکھا تھا میں تقریبا 15 گھنٹے کا سفر کر کے گیا تھا کچھ وقت آرام کیا شاید دو گھنٹے اور پہنچا ریحان اللہ والا سکول منور کمپس۔۔۔۔ وھاں مجھ 53 سال کے مشنری اور پر جوش ٹیچنگ کرنے والے کی حیرت کی انتہا نہ رھی۔۔۔۔ مجھے ممتاز مفتی کے ناول الکھ نگری کا لفظ سمجھ آیا کوئی بہت ھی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل لوگ۔۔۔۔ جیسے فلموں میں ھوتا ھے ھو رھا ھے ھو بہو۔۔۔ والی بات۔۔۔ ایک ایک بندہ۔۔۔۔۔بندے کا پتر ۔۔۔۔۔ڈنگ نکلا ھوا ۔۔۔۔اس کی کونیاں کسی کو نہیں چب رھیں۔۔۔۔ایک ایک بندی طریقے ۔۔۔۔سلیقے سے انتھائی پروفیشنل انداز گفتگو ۔۔۔ جو بھی کچھ کر رھے ھے من سے کر رھا ھے۔۔۔ ایک بیٹی دعا ملی بہت تمیز اور سلیقے سے پانی پلایا نہیں ھے پانی کا گلاس پیش کیا ۔۔۔۔ پانی پیا تو دیکھا کوئی میڈم صبا صاحبہ تھیں وہ باری باری والدیں کو باتیں ھر بار پر وقار انداز سے متبسم چہرہ اور والدین کے سوالوں کو خندہ پیشانی سے سننا اور جواب اس طرح دینا کہ وہ کہیں جی جی جی ھاں ٹھیک ھو گیا سمجھ گئے۔۔۔۔۔۔ ابلاغ دو طرفہ ھونا کمال ھے۔۔۔۔۔ اب میں ڈیرہ غازی خان ھوں۔۔۔۔۔میری مسافت پھر 15 گھنٹے۔۔۔۔۔ وہ گیت ھے نہ پنکھ ھوتے تو اڑ آتی رے رسیا او ظالمہ تجھے دل کا داغ دکھلاتی رے۔۔۔۔ Younis Chughtai
    0 Comments 0 Shares 15 Views
  • Ultra-Strict Professional Enhancement Prompt
    Forensic-grade image enhancement pipeline
    Upgrade the input image to maximum achievable photorealistic quality while enforcing absolute identity preservation.
    Hard constraints (non-negotiable):
    – facial anatomy and bone structure must remain unchanged
    – expression dynamics and muscle tension must match the source
    – head angle, gaze direction, and body alignment must remain identical
    – body proportions and spatial orientation must not shift
    – original clothing, fabric behavior, folds, and tension must be preserved
    – accessories, background, camera angle, framing, and perspective must remain intact
    Enhancement scope:
    Quality restoration and clarity improvement only.
    No redesign, no optimization, no aesthetic correction, no reinterpretation.
    Micro-detail recovery (physically accurate):
    – true skin texture with natural pore distribution
    – realistic subsurface skin response (no plastic or waxy effect)
    – authentic hair strand separation without volume inflation
    – sharp, undistorted eyes with preserved sclera and iris scale
    – clean edge refinement without geometry alteration
    Lighting & tone:
    Preserve original lighting direction, intensity, and color temperature.
    No cinematic stylization, no artificial contrast, no dramatic grading.
    Output requirements:
    Ultra-high fidelity, source-faithful result.
    Photorealistic textures only.
    No stylistic drift.
    Validation rule:
    If identity, pose, expression, or spatial alignment deviates in any way from the source image, the result is invalid.
    Negative Prompt
    identity change, facial refinement, beautification, symmetry correction, pose adjustment, head tilt correction, eye enlargement, artistic interpretation, cinematic lighting, CGI look, AI retouching, plastic skin, fake sharpness, anatomy alteration
    🔒 Ultra-Strict Professional Enhancement Prompt Forensic-grade image enhancement pipeline Upgrade the input image to maximum achievable photorealistic quality while enforcing absolute identity preservation. Hard constraints (non-negotiable): – facial anatomy and bone structure must remain unchanged – expression dynamics and muscle tension must match the source – head angle, gaze direction, and body alignment must remain identical – body proportions and spatial orientation must not shift – original clothing, fabric behavior, folds, and tension must be preserved – accessories, background, camera angle, framing, and perspective must remain intact Enhancement scope: Quality restoration and clarity improvement only. No redesign, no optimization, no aesthetic correction, no reinterpretation. Micro-detail recovery (physically accurate): – true skin texture with natural pore distribution – realistic subsurface skin response (no plastic or waxy effect) – authentic hair strand separation without volume inflation – sharp, undistorted eyes with preserved sclera and iris scale – clean edge refinement without geometry alteration Lighting & tone: Preserve original lighting direction, intensity, and color temperature. No cinematic stylization, no artificial contrast, no dramatic grading. Output requirements: Ultra-high fidelity, source-faithful result. Photorealistic textures only. No stylistic drift. Validation rule: If identity, pose, expression, or spatial alignment deviates in any way from the source image, the result is invalid. ❌ Negative Prompt identity change, facial refinement, beautification, symmetry correction, pose adjustment, head tilt correction, eye enlargement, artistic interpretation, cinematic lighting, CGI look, AI retouching, plastic skin, fake sharpness, anatomy alteration
    0 Comments 0 Shares 818 Views
  • ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – اسلام آباد (صرف بچیوں کے لیے)

    پنجاب نے اے آئی ایجوکیشن کا اعلان کر دیا۔
    کے پی کے نے اے آئی پروگرامز شروع کرنے کا اعلان کیا۔
    امریکہ نے بھی اے آئی کو قومی ترجیح قرار دے دیا۔

    پالیسیاں تیار ہیں۔
    اعلانات ہو چکے ہیں۔
    بجٹ منظور ہو رہے ہیں۔

    لیکن ایک سوال دل کو چیرتا ہے:

    اے آئی پڑھائے گا کون؟

    ٹرینڈ ٹیچرز کہاں ہیں؟
    بااعتماد ایجوکیٹرز کہاں ہیں؟
    وہ بیٹیاں کہاں ہیں جو کلاس کے سامنے کھڑی ہو کر کہہ سکیں:

    “مجھے آرٹیفیشل انٹیلیجنس آتی ہے۔ میں اسے پڑھا سکتی ہوں۔ میں لیڈ کر سکتی ہوں۔”

    آج ہزاروں گھروں میں
    باپ خاموش فکر میں ہے۔
    ماں دعا میں مصروف ہے۔

    انہیں عیش نہیں چاہیے۔
    انہیں دکھاوا نہیں چاہیے۔

    انہیں چاہیے:
    عزت۔
    تحفظ۔
    خود مختاری۔

    اور ہم اب بھی اپنی بچیوں کو پرانا نظام دے رہے ہیں۔

    اس لیے ہم نے فیصلہ کیا:

    ہم انتظار نہیں کریں گے۔

    ہم نے شروع کیا ہے:

    ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – گرلز کیمپس

    اسلام آباد (وہی ایڈریس جہاں ریحان اسکول – بارہ کہو برانچ ہے)

    یہ صرف ایک کالج نہیں۔

    یہ ایک مشن ہے۔

    ہم اپنی بچیوں کو سکھائیں گے:

    • آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز
    • چیٹ جی پی ٹی اور آٹومیشن
    • اے آئی کے ساتھ کوڈنگ
    • اے آئی پاورڈ کانٹینٹ کریئیشن
    • پبلک اسپیکنگ اور کانفیڈنس
    • پروفیشنل ٹیچنگ اسکلز

    تاکہ اگلے 2–4 سال میں:

    وہ جاب لائنوں میں نہ کھڑی ہوں۔
    وہ پرانی ڈگریوں پر انحصار نہ کریں۔
    وہ اے آئی ایجوکیٹر بنیں۔
    پاکستان بھر میں اے آئی پڑھائیں۔
    اپنی مہارت سے عزت کمائیں۔

    ذرا تصور کریں…

    1,000 ٹرینڈ بچیاں پورے پاکستان میں اے آئی پڑھا رہی ہوں۔
    دیہات میں بیٹیاں ٹیکنالوجی لیڈ کر رہی ہوں۔
    ایک ایسا پاکستان جہاں بچیوں کا تحفظ دیواروں سے نہیں…
    مہارت سے ہو۔

    یہ صرف تعلیم نہیں۔

    یہ طاقت ہے۔
    یہ تحفظ ہے۔
    یہ قومی تبدیلی ہے۔



    رمضان ٹائمنگ

    صبح 9:00 بجے سے دوپہر 2:00 بجے تک

    تاکہ عبادت، صحت اور تعلیم تینوں کا توازن برقرار رہے۔



    ویب سائٹ: rehancollege.com

    مقام: ریحان اسکول – اسلام آباد – بارہ کہو برانچ
    پرنسپل اسماء شاہین ایجوکیشن والی

    : +92 301 3445767
    قاسم
    : +92 308 5511534
    ☎ یو اے این
    : 0304-1116044

    اگر آپ باپ ہیں — بیٹی کو صرف ڈگری نہیں، مستقبل دیں۔
    اگر آپ ماں ہیں — اسے اعتماد دیں۔
    اگر آپ بیٹی ہیں — خود کو چھوٹا سمجھنا چھوڑ دیں۔

    اس پوسٹ کو شیئر کریں۔
    کسی ماں کو ٹیگ کریں۔
    کسی باپ کو ٹیگ کریں۔
    کسی بیٹی کو ٹیگ کریں۔

    جب اے آئی انقلاب آیا…
    ہماری بچیاں تیار تھیں۔

    واٹس ایپ گروپ جوائن کریں:
    https://chat.whatsapp.com/IdZzdbhnW9OFeEqExXLybS?mode=gi_t
    👩‍💻 ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – اسلام آباد (صرف بچیوں کے لیے) پنجاب نے اے آئی ایجوکیشن کا اعلان کر دیا۔ کے پی کے نے اے آئی پروگرامز شروع کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے بھی اے آئی کو قومی ترجیح قرار دے دیا۔ پالیسیاں تیار ہیں۔ اعلانات ہو چکے ہیں۔ بجٹ منظور ہو رہے ہیں۔ لیکن ایک سوال دل کو چیرتا ہے: اے آئی پڑھائے گا کون؟ ٹرینڈ ٹیچرز کہاں ہیں؟ بااعتماد ایجوکیٹرز کہاں ہیں؟ وہ بیٹیاں کہاں ہیں جو کلاس کے سامنے کھڑی ہو کر کہہ سکیں: “مجھے آرٹیفیشل انٹیلیجنس آتی ہے۔ میں اسے پڑھا سکتی ہوں۔ میں لیڈ کر سکتی ہوں۔” آج ہزاروں گھروں میں باپ خاموش فکر میں ہے۔ ماں دعا میں مصروف ہے۔ انہیں عیش نہیں چاہیے۔ انہیں دکھاوا نہیں چاہیے۔ انہیں چاہیے: عزت۔ تحفظ۔ خود مختاری۔ اور ہم اب بھی اپنی بچیوں کو پرانا نظام دے رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا: ہم انتظار نہیں کریں گے۔ ہم نے شروع کیا ہے: 🎓 ریحان کالج آف اے آئی ایجوکیشن – گرلز کیمپس 📍 اسلام آباد (وہی ایڈریس جہاں ریحان اسکول – بارہ کہو برانچ ہے) یہ صرف ایک کالج نہیں۔ یہ ایک مشن ہے۔ ہم اپنی بچیوں کو سکھائیں گے: • آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز • چیٹ جی پی ٹی اور آٹومیشن • اے آئی کے ساتھ کوڈنگ • اے آئی پاورڈ کانٹینٹ کریئیشن • پبلک اسپیکنگ اور کانفیڈنس • پروفیشنل ٹیچنگ اسکلز تاکہ اگلے 2–4 سال میں: وہ جاب لائنوں میں نہ کھڑی ہوں۔ وہ پرانی ڈگریوں پر انحصار نہ کریں۔ وہ اے آئی ایجوکیٹر بنیں۔ پاکستان بھر میں اے آئی پڑھائیں۔ اپنی مہارت سے عزت کمائیں۔ ذرا تصور کریں… 1,000 ٹرینڈ بچیاں پورے پاکستان میں اے آئی پڑھا رہی ہوں۔ دیہات میں بیٹیاں ٹیکنالوجی لیڈ کر رہی ہوں۔ ایک ایسا پاکستان جہاں بچیوں کا تحفظ دیواروں سے نہیں… مہارت سے ہو۔ یہ صرف تعلیم نہیں۔ یہ طاقت ہے۔ یہ تحفظ ہے۔ یہ قومی تبدیلی ہے۔ ⸻ 🌙 رمضان ٹائمنگ 🕘 صبح 9:00 بجے سے دوپہر 2:00 بجے تک تاکہ عبادت، صحت اور تعلیم تینوں کا توازن برقرار رہے۔ ⸻ 🌐 ویب سائٹ: rehancollege.com 📍 مقام: ریحان اسکول – اسلام آباد – بارہ کہو برانچ 📞 پرنسپل اسماء شاہین ایجوکیشن والی : +92 301 3445767 📞 قاسم : +92 308 5511534 ☎ یو اے این : 0304-1116044 اگر آپ باپ ہیں — بیٹی کو صرف ڈگری نہیں، مستقبل دیں۔ اگر آپ ماں ہیں — اسے اعتماد دیں۔ اگر آپ بیٹی ہیں — خود کو چھوٹا سمجھنا چھوڑ دیں۔ اس پوسٹ کو شیئر کریں۔ کسی ماں کو ٹیگ کریں۔ کسی باپ کو ٹیگ کریں۔ کسی بیٹی کو ٹیگ کریں۔ جب اے آئی انقلاب آیا… ہماری بچیاں تیار تھیں۔ 🔗 واٹس ایپ گروپ جوائن کریں: https://chat.whatsapp.com/IdZzdbhnW9OFeEqExXLybS?mode=gi_t
    0 Comments 0 Shares 149 Views
  • Rehan College of AI Education – Islamabad (For Girls)

    Punjab has announced AI education.
    KPK has announced AI programs.
    The United States has declared AI a national priority.

    Policies are ready.
    Announcements are made.
    Budgets are discussed.

    But there is one painful question:

    Who will teach AI?

    Where are the trained teachers?
    Where are the confident educators?
    Where are the daughters who can stand in front of a classroom and say:

    “I understand Artificial Intelligence. I can teach it. I can lead.”

    Tonight, in thousands of homes,
    a father worries silently.
    A mother makes dua.

    Not for luxury.
    Not for status.

    But for dignity.
    For protection.
    For independence.

    And we are still giving our girls outdated systems.

    So we decided:

    We will not wait.

    We have launched:

    Rehan College of AI Education – Girls Campus

    Islamabad (Same address as Rehan School – Bara Kahu Branch)

    This is not just another college.

    This is a mission.

    We will train girls in:

    • Artificial Intelligence tools
    • ChatGPT & automation
    • Coding with AI
    • AI-powered content creation
    • Public speaking & confidence
    • Professional teaching skills

    So that within 2–4 years:

    They don’t stand in job lines.
    They don’t depend on outdated degrees.
    They become AI educators.
    They teach across Pakistan.
    They build respect with skills.

    Imagine 1,000 trained girls teaching AI in schools.
    Imagine daughters leading technology in villages.
    Imagine a Pakistan where girls are protected — not by fear — but by capability.

    This is not just education.

    This is strength.
    This is security.
    This is national transformation.



    Ramadan Timings

    9:00 AM to 2:00 PM

    So students can balance learning, health, and ibadah with ease.



    Website: rehancollege.com

    Location: Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch
    Principal Asma Shaheen EducationWali
    : +92 301 3445767
    Qasim: +92 308 5511534
    ☎ UAN: 0304-1116044

    If you are a father — give your daughter more than a degree.
    If you are a mother — give her confidence.
    If you are a girl — refuse to stay small.

    Share this.
    Tag a parent.
    Tag a daughter.

    When the AI revolution came…
    Our girls were ready.

    https://chat.whatsapp.com/IdZzdbhnW9OFeEqExXLybS?mode=gi_t
    👩‍💻 Rehan College of AI Education – Islamabad (For Girls) Punjab has announced AI education. KPK has announced AI programs. The United States has declared AI a national priority. Policies are ready. Announcements are made. Budgets are discussed. But there is one painful question: Who will teach AI? Where are the trained teachers? Where are the confident educators? Where are the daughters who can stand in front of a classroom and say: “I understand Artificial Intelligence. I can teach it. I can lead.” Tonight, in thousands of homes, a father worries silently. A mother makes dua. Not for luxury. Not for status. But for dignity. For protection. For independence. And we are still giving our girls outdated systems. So we decided: We will not wait. We have launched: 🎓 Rehan College of AI Education – Girls Campus 📍 Islamabad (Same address as Rehan School – Bara Kahu Branch) This is not just another college. This is a mission. We will train girls in: • Artificial Intelligence tools • ChatGPT & automation • Coding with AI • AI-powered content creation • Public speaking & confidence • Professional teaching skills So that within 2–4 years: They don’t stand in job lines. They don’t depend on outdated degrees. They become AI educators. They teach across Pakistan. They build respect with skills. Imagine 1,000 trained girls teaching AI in schools. Imagine daughters leading technology in villages. Imagine a Pakistan where girls are protected — not by fear — but by capability. This is not just education. This is strength. This is security. This is national transformation. ⸻ 🌙 Ramadan Timings 🕘 9:00 AM to 2:00 PM So students can balance learning, health, and ibadah with ease. ⸻ 🌐 Website: rehancollege.com 📍 Location: Rehan School – Islamabad – Bara Kahu Branch 📞 Principal Asma Shaheen EducationWali : +92 301 3445767 📞 Qasim: +92 308 5511534 ☎ UAN: 0304-1116044 If you are a father — give your daughter more than a degree. If you are a mother — give her confidence. If you are a girl — refuse to stay small. Share this. Tag a parent. Tag a daughter. When the AI revolution came… Our girls were ready. https://chat.whatsapp.com/IdZzdbhnW9OFeEqExXLybS?mode=gi_t
    0 Comments 0 Shares 15 Views
  • ہیڈ لائن سن لیں پاکستان!

    اب بچہ صفر فیس پر پڑھ سکتا ہے۔
    جی ہاں… صفر۔

    بارہ کہو، اسلام آباد سے ماڈل شروع ہو چکا ہے۔



    اب Rehan School کا ACCL Curriculum
    دستیاب ہے
    Oxford High School Bara Kahu میں۔



    فیس کتنی ہے؟

    Oxford High School Bara Kahu
    ماہانہ فیس: صرف 5,000 روپے

    اور اسی فیس میں:
    ✔ AI سیکھیں
    ✔ کمپیوٹر کی عملی مہارت
    ✔ کانفیڈنس اور کمیونیکیشن
    ✔ سوشل میڈیا کا پروفیشنل استعمال
    ✔ Earn While Learn ماڈل



    زیرو فیس فارمولا

    قدم
    کلاس 5 سے ACCL Curriculum شروع۔

    قدم
    6 سے 18 ماہ میں
    بچہ کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانے کے قابل۔

    قدم
    بچہ دوسروں کو یہی سکھائے۔
    اپنی فیس خود دے۔

    نتیجہ؟
    والدین پر بوجھ صفر۔
    بچہ خود مختار۔
    اسکول مضبوط۔



    بڑا مشن

    مقصد صرف ایک:

    پاکستان کا کوئی بچہ
    5,000 روپے ماہانہ سے کم نہ کمائے۔

    جب بچہ کمائے گا
    تو اسکول بہتر اساتذہ رکھ سکے گا۔
    بہتر سہولیات دے سکے گا۔
    اور تعلیم عزت بن جائے گی، بوجھ نہیں۔



    اہم اعلان

    Rehan School اپنی ٹیم اور اساتذہ فراہم کرے گا
    ان اسکولوں کو
    جو ACCL Curriculum متعارف کروانا چاہتے ہیں
    اور اپنے بچوں کو کم عمر میں کمانے کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔

    یہ صرف ایک اسکول نہیں۔
    یہ ایک ماڈل ہے۔



    مزید معلومات اور داخلہ کے لیے رابطہ کریں:

    ارشد آرائیں

    Arshad Arain
    Director – Oxford High School Bara Kahu
    +92 321 5227794
    Oxford Building, Seri Chowk, Near Adil CNG, Simly Dam Road, Bharakahu, Islamabad



    یہ خواب نہیں۔
    یہ سسٹم ہے۔

    سوال صرف ایک ہے:
    آپ اپنے بچے کو صرف پڑھانا چاہتے ہیں…
    یا اسے کماتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں؟

    #ZeroFeesEducation
    #ACCL
    #EarnWhileLearning
    #Islamabad
    🔥🚨 ہیڈ لائن سن لیں پاکستان! 🚨🔥 اب بچہ صفر فیس پر پڑھ سکتا ہے۔ جی ہاں… صفر۔ بارہ کہو، اسلام آباد سے ماڈل شروع ہو چکا ہے۔ 👇 ⸻ اب Rehan School کا ACCL Curriculum دستیاب ہے Oxford High School Bara Kahu میں۔ ⸻ 💰 فیس کتنی ہے؟ Oxford High School Bara Kahu ماہانہ فیس: صرف 5,000 روپے اور اسی فیس میں: ✔ AI سیکھیں ✔ کمپیوٹر کی عملی مہارت ✔ کانفیڈنس اور کمیونیکیشن ✔ سوشل میڈیا کا پروفیشنل استعمال ✔ Earn While Learn ماڈل ⸻ 🎯 زیرو فیس فارمولا قدم 1️⃣ کلاس 5 سے ACCL Curriculum شروع۔ قدم 2️⃣ 6 سے 18 ماہ میں بچہ کم از کم 5,000 روپے ماہانہ کمانے کے قابل۔ قدم 3️⃣ بچہ دوسروں کو یہی سکھائے۔ اپنی فیس خود دے۔ نتیجہ؟ والدین پر بوجھ صفر۔ بچہ خود مختار۔ اسکول مضبوط۔ ⸻ 🔥 بڑا مشن مقصد صرف ایک: پاکستان کا کوئی بچہ 5,000 روپے ماہانہ سے کم نہ کمائے۔ جب بچہ کمائے گا تو اسکول بہتر اساتذہ رکھ سکے گا۔ بہتر سہولیات دے سکے گا۔ اور تعلیم عزت بن جائے گی، بوجھ نہیں۔ ⸻ 🏫 اہم اعلان Rehan School اپنی ٹیم اور اساتذہ فراہم کرے گا ان اسکولوں کو جو ACCL Curriculum متعارف کروانا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو کم عمر میں کمانے کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔ یہ صرف ایک اسکول نہیں۔ یہ ایک ماڈل ہے۔ ⸻ 📞 مزید معلومات اور داخلہ کے لیے رابطہ کریں: ارشد آرائیں Arshad Arain Director – Oxford High School Bara Kahu 📱 +92 321 5227794 📍 Oxford Building, Seri Chowk, Near Adil CNG, Simly Dam Road, Bharakahu, Islamabad ⸻ یہ خواب نہیں۔ یہ سسٹم ہے۔ سوال صرف ایک ہے: آپ اپنے بچے کو صرف پڑھانا چاہتے ہیں… یا اسے کماتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں؟ 🔥 #ZeroFeesEducation #ACCL #EarnWhileLearning #Islamabad
    0 Comments 0 Shares 1221 Views
  • آج ایک طاقتور ملاقات ہوئی… اور دل خوش ہوگیا!

    آج میری ملاقات ہوئی
    سردار شعیب خان سے —
    نائب صدر، کشمیر اسکولز ایسوسی ایشن
    Sardar Shoaib Khan

    ایک ایسا پلیٹ فارم جس کے ساتھ:
    4,500 اسکولز منسلک ہیں
    6,00,000 طلبہ اس نظام کا حصہ ہیں

    سوچیں… چھ لاکھ بچے۔
    ایک وژن سے بدل سکتے ہیں۔
    ایک سمت سے اٹھ سکتے ہیں۔
    ایک صحیح سسٹم سے معاشی طور پر خودمختار بن سکتے ہیں۔

    سردار شعیب خان صرف ایک عہدہ نہیں رکھتے —
    وہ ایک دروازہ ہیں…
    ہزاروں اسکولوں تک رسائی کا دروازہ۔
    لاکھوں بچوں کے مستقبل تک پہنچنے کا راستہ۔

    ہم نے بات کی:
    AI کی
    بچوں کی کمائی کی
    اسکول سسٹم کی تبدیلی کی
    اور اس سوال کی:

    کیا ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں 15 سال کا بچہ خود کما رہا ہو؟
    کیا کشمیر کے بچے بھی AI کے ذریعے دنیا سے جڑ سکتے ہیں؟
    کیا 18 مہینے میں ہر بچہ کم از کم 5,000 روپے خود کما سکتا ہے؟

    یہ صرف خواب نہیں۔
    یہ منصوبہ ہے۔
    یہ سمت ہے۔
    یہ عزم ہے۔

    اگر 4,500 اسکول ایک سمت میں چل پڑے…
    تو تاریخ بدل سکتی ہے۔

    میں شکر گزار ہوں کہ آج یہ گفتگو شروع ہوئی۔
    انشاءاللہ یہ ملاقات ایک تحریک بنے گی۔

    کشمیر کے تعلیمی رہنماؤں،
    والدین، اساتذہ —
    وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ڈگری نہیں،
    آمدن بھی سکھائیں۔
    صرف نصاب نہیں،
    قیادت بھی پیدا کریں۔

    ویڈیو دیکھیں
    تصویر شیئر کریں
    گفتگو آگے بڑھائیں

    ریاستیں تب بدلتی ہیں
    جب تعلیم بدلتی ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    🔥 آج ایک طاقتور ملاقات ہوئی… اور دل خوش ہوگیا! آج میری ملاقات ہوئی سردار شعیب خان سے — نائب صدر، کشمیر اسکولز ایسوسی ایشن 🇵🇰 Sardar Shoaib Khan ایک ایسا پلیٹ فارم جس کے ساتھ: 🏫 4,500 اسکولز منسلک ہیں 👦👧 6,00,000 طلبہ اس نظام کا حصہ ہیں سوچیں… چھ لاکھ بچے۔ ایک وژن سے بدل سکتے ہیں۔ ایک سمت سے اٹھ سکتے ہیں۔ ایک صحیح سسٹم سے معاشی طور پر خودمختار بن سکتے ہیں۔ سردار شعیب خان صرف ایک عہدہ نہیں رکھتے — وہ ایک دروازہ ہیں… ہزاروں اسکولوں تک رسائی کا دروازہ۔ لاکھوں بچوں کے مستقبل تک پہنچنے کا راستہ۔ ہم نے بات کی: AI کی بچوں کی کمائی کی اسکول سسٹم کی تبدیلی کی اور اس سوال کی: ❓ کیا ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں 15 سال کا بچہ خود کما رہا ہو؟ ❓ کیا کشمیر کے بچے بھی AI کے ذریعے دنیا سے جڑ سکتے ہیں؟ ❓ کیا 18 مہینے میں ہر بچہ کم از کم 5,000 روپے خود کما سکتا ہے؟ یہ صرف خواب نہیں۔ یہ منصوبہ ہے۔ یہ سمت ہے۔ یہ عزم ہے۔ اگر 4,500 اسکول ایک سمت میں چل پڑے… تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ آج یہ گفتگو شروع ہوئی۔ انشاءاللہ یہ ملاقات ایک تحریک بنے گی۔ کشمیر کے تعلیمی رہنماؤں، والدین، اساتذہ — وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ڈگری نہیں، آمدن بھی سکھائیں۔ صرف نصاب نہیں، قیادت بھی پیدا کریں۔ 📍 ویڈیو دیکھیں 📍 تصویر شیئر کریں 📍 گفتگو آگے بڑھائیں ریاستیں تب بدلتی ہیں جب تعلیم بدلتی ہے۔ — ریحان اللہ والا
    0 Comments 0 Shares 15 Views
  • السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوتے ہوئے جدید ڈیجیٹل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لیے تن من دھن سے مصروف عمل ہوں گے۔

    ناچیز ایک عرصے سے آپ کا قدر دان ہے۔ بلاشبہ آپ کی خدمات نہایت اہم اور نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرنے کے تناظر میں حد درجہ سود مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمر، خوشیوں اور کامیابیوں میں بے تحاشہ برکتیں شامل فرمائیں۔

    حال ہی میں آپ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اس موقع پر میں آپ سے ملاقات کا خواہش مند تھا لیکن اس خواہش کی تکمیل میں آپ کا لاگو کردہ ایک ضابطہ رکاوٹ بن گیا یعنی ملاقات سے پہلے پانچ ہزار روپے جمع کرنے کا۔ مجھے اس کی کوئی مصلحت یا ضرورت سمجھ نہیں آئی۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول وجہ بتا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ کو ایسے مواقع خود سے مفت فراہم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ آمادہ ہو کر آپ کے ادارے میں اپنے بچے داخل کرا سکیں۔

    میں ان شاءاللہ یکم مارچ کو اپنے دو بچے آپ کے ادارے میں داخل کراؤں گا تاکہ آپ کے وژن کے مطابق وہ لائق اور باصلاحیت افراد بن سکیں۔

    یاد رہے میرا استفسار کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لیے ہے۔

    آپ کا قدر دان سید عنایت اللہ جان

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    محترم سید عنایت اللہ جان صاحب،

    آپ کی محبت، دعا اور خلوص بھرے الفاظ دل کو خوشی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے بچوں کو علمِ نافع، صحت اور عزت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔

    آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بالکل بجا اور باوقار انداز میں اٹھایا ہے۔ ایسے سوالات اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔

    ملاقات کی فیس کیوں رکھی گئی؟

    یہ فیصلہ کسی مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ نظم، توجہ اور سنجیدگی کے لیے کیا گیا ہے۔ چند وجوہات حاضر ہیں:

    وقت کی قدر اور فلٹر
    روزانہ درجنوں لوگ ملاقات کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر سب کو بغیر ترتیب کے وقت دیا جائے تو:
    • ادارے کی تعمیر رک جاتی ہے
    • طلبہ پر توجہ کم ہو جاتی ہے
    • فیصلوں میں گہرائی ختم ہو جاتی ہے

    فیس دراصل ایک فلٹر ہے — جو واقعی سنجیدہ ہو، وہ وقت لے گا۔

    مکمل توجہ کے ساتھ نشست
    جب کوئی شخص فیس ادا کر کے آتا ہے تو:
    • اسے مکمل، منظم اور گہرائی والی گفتگو ملتی ہے
    • مسئلہ سنجیدگی سے سنا جاتا ہے
    • عملی رہنمائی دی جاتی ہے

    یہ “رسمی ملاقات” نہیں ہوتی بلکہ structured consultation ہوتی ہے۔

    مشن پر فوکس
    اس وقت بنیادی توجہ:
    • نظام کی بہتری
    • طلبہ کی ٹریننگ
    • اساتذہ کی تیاری
    • AI-based learning کی توسیع

    پر مرکوز ہے۔ اگر روزانہ غیر منظم ملاقاتیں ہوں تو یہ رفتار کم ہو جائے گی۔



    اہم بات

    ادارے کا وزٹ، اوپن سیشن، سیمینار، اور آن لائن مواد — یہ سب مفت دستیاب ہیں۔
    ٹیم، پرنسپل اور اساتذہ رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔
    براہِ راست ذاتی نشست صرف اس وقت رکھی جاتی ہے جب مکمل فوکس اور وقت دینا مقصود ہو۔



    آپ کا یکم مارچ کو بچوں کا داخلہ کرانے کا ارادہ قابلِ تحسین ہے۔ اصل ملاقات تو اس دن شروع ہوگی جب بچے سسٹم میں داخل ہو کر اپنی صلاحیت کھولنا شروع کریں گے۔ یہی اصل سرمایہ کاری ہے۔

    آپ کا سوال اعتراض نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے — اور شعور رکھنے والے والدین ہی اصل تبدیلی لاتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو علم، ہنر اور کردار کی بلندی عطا فرمائے۔

    احترام کے ساتھ
    ریحان اللہ والا
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوتے ہوئے جدید ڈیجیٹل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لیے تن من دھن سے مصروف عمل ہوں گے۔ ناچیز ایک عرصے سے آپ کا قدر دان ہے۔ بلاشبہ آپ کی خدمات نہایت اہم اور نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرنے کے تناظر میں حد درجہ سود مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمر، خوشیوں اور کامیابیوں میں بے تحاشہ برکتیں شامل فرمائیں۔ حال ہی میں آپ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اس موقع پر میں آپ سے ملاقات کا خواہش مند تھا لیکن اس خواہش کی تکمیل میں آپ کا لاگو کردہ ایک ضابطہ رکاوٹ بن گیا یعنی ملاقات سے پہلے پانچ ہزار روپے جمع کرنے کا۔ مجھے اس کی کوئی مصلحت یا ضرورت سمجھ نہیں آئی۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول وجہ بتا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ کو ایسے مواقع خود سے مفت فراہم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ آمادہ ہو کر آپ کے ادارے میں اپنے بچے داخل کرا سکیں۔ میں ان شاءاللہ یکم مارچ کو اپنے دو بچے آپ کے ادارے میں داخل کراؤں گا تاکہ آپ کے وژن کے مطابق وہ لائق اور باصلاحیت افراد بن سکیں۔ یاد رہے میرا استفسار کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لیے ہے۔ آپ کا قدر دان سید عنایت اللہ جان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ محترم سید عنایت اللہ جان صاحب، آپ کی محبت، دعا اور خلوص بھرے الفاظ دل کو خوشی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے بچوں کو علمِ نافع، صحت اور عزت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔ آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بالکل بجا اور باوقار انداز میں اٹھایا ہے۔ ایسے سوالات اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔ ملاقات کی فیس کیوں رکھی گئی؟ یہ فیصلہ کسی مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ نظم، توجہ اور سنجیدگی کے لیے کیا گیا ہے۔ چند وجوہات حاضر ہیں: 1️⃣ وقت کی قدر اور فلٹر روزانہ درجنوں لوگ ملاقات کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر سب کو بغیر ترتیب کے وقت دیا جائے تو: • ادارے کی تعمیر رک جاتی ہے • طلبہ پر توجہ کم ہو جاتی ہے • فیصلوں میں گہرائی ختم ہو جاتی ہے فیس دراصل ایک فلٹر ہے — جو واقعی سنجیدہ ہو، وہ وقت لے گا۔ 2️⃣ مکمل توجہ کے ساتھ نشست جب کوئی شخص فیس ادا کر کے آتا ہے تو: • اسے مکمل، منظم اور گہرائی والی گفتگو ملتی ہے • مسئلہ سنجیدگی سے سنا جاتا ہے • عملی رہنمائی دی جاتی ہے یہ “رسمی ملاقات” نہیں ہوتی بلکہ structured consultation ہوتی ہے۔ 3️⃣ مشن پر فوکس اس وقت بنیادی توجہ: • نظام کی بہتری • طلبہ کی ٹریننگ • اساتذہ کی تیاری • AI-based learning کی توسیع پر مرکوز ہے۔ اگر روزانہ غیر منظم ملاقاتیں ہوں تو یہ رفتار کم ہو جائے گی۔ ⸻ اہم بات ✔️ ادارے کا وزٹ، اوپن سیشن، سیمینار، اور آن لائن مواد — یہ سب مفت دستیاب ہیں۔ ✔️ ٹیم، پرنسپل اور اساتذہ رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ✔️ براہِ راست ذاتی نشست صرف اس وقت رکھی جاتی ہے جب مکمل فوکس اور وقت دینا مقصود ہو۔ ⸻ آپ کا یکم مارچ کو بچوں کا داخلہ کرانے کا ارادہ قابلِ تحسین ہے۔ اصل ملاقات تو اس دن شروع ہوگی جب بچے سسٹم میں داخل ہو کر اپنی صلاحیت کھولنا شروع کریں گے۔ یہی اصل سرمایہ کاری ہے۔ آپ کا سوال اعتراض نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے — اور شعور رکھنے والے والدین ہی اصل تبدیلی لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو علم، ہنر اور کردار کی بلندی عطا فرمائے۔ احترام کے ساتھ ریحان اللہ والا
    0 Comments 0 Shares 63 Views