• یہ میرا دل بدلنے کی کہانی ہے…
    اور شاید ایک قومی سوچ بدلنے کی بھی۔

    میں شروع میں سمجھتا تھا کہ
    بَسنت
    ایک غریب ملک کے لیے ایک غیر ضروری خوشی ہے۔
    ہمیں کمانا ہے، بچانا ہے،
    زندہ رہنا ہے —
    پتنگیں اُڑانا ہماری ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔

    لیکن پھر میں نے لاہور کی بسنت دیکھی…
    اور میری رائے بدل گئی۔

    یہ صرف پتنگیں نہیں تھیں۔
    یہ صرف رنگ نہیں تھے۔
    یہ صرف ایک دن کی خوشی نہیں تھی۔

    یہ ایسا لگا جیسے:
    ورلڈ کپ — مگر کھیل خوشی کا
    اولمپکس — مگر قوم کے جذبے کے
    انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر — مگر ثقافت اور مسکراہٹوں کا

    دنیا بھر سے لوگ آ سکتے ہیں
    صرف ایک مقصد کے لیے:
    آسمان میں خواب اُڑتے دیکھنے کے لیے۔

    بسنت میں ایک خاموش طاقت ہے۔
    یہ پاکستان کو وہ دیتا ہے
    جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے:
    ایک نرم، خوبصورت، زندہ تصویر (Soft Image)

    دنیا ہمیں
    خبروں میں دھماکوں سے جانتی ہے،
    لیکن بسنت ہمیں
    رنگوں، موسیقی اور خوشی سے متعارف کراتی ہے۔

    یہ تہوار
    انٹرنیشنل ٹورسٹس کو کھینچ سکتا ہے،
    ہر سال، ہر موسمِ بہار میں۔
    کیونکہ لوگ جنگ نہیں دیکھنا چاہتے،
    لوگ زندگی دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بسنت ہوٹل بھرتی ہے،
    بسنت کاریگر کو روزگار دیتی ہے،
    بسنت فوٹوگرافر، فنکار، موسیقار،
    کھانے والے، گھومنے والے —
    سب کو کمانے کا موقع دیتی ہے۔

    یہ غربت کے خلاف جنگ نہیں تو کیا ہے؟
    خوشی بھی تو ایک معیشت ہوتی ہے۔

    مجھے برازیل کا کارنیوال یاد آیا،
    جہاں دنیا دیوانہ وار آتی ہے
    صرف جینے کا جشن منانے۔

    تو پھر ہم کیوں نہیں؟

    میں اب یقین سے کہتا ہوں:
    بسنت کو پاکستان کا قومی تہوارِ خوشی ہونا چاہیے۔

    یہ صرف تہوار نہیں،
    یہ پاکستان کی Soft Power بن سکتا ہے۔
    یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا ہمیں
    خبروں میں نہیں —
    خوشیوں میں دیکھے۔

    آسمان پر پتنگیں ہوں،
    زمین پر امیدیں ہوں،
    اور دلوں میں یہ یقین ہو
    کہ پاکستان
    صرف مسائل کا نام نہیں —
    ایک جشن کا نام بھی ہو سکتا ہے۔

    کبھی کبھی قوموں کو
    روٹی کے ساتھ
    رنگ بھی چاہیے ہوتے ہیں۔

    اور شاید…
    بسنت وہ رنگ ہے
    جس کا ہمیں برسوں سے انتظار تھا۔
    یہ میرا دل بدلنے کی کہانی ہے… اور شاید ایک قومی سوچ بدلنے کی بھی۔ میں شروع میں سمجھتا تھا کہ بَسنت ایک غریب ملک کے لیے ایک غیر ضروری خوشی ہے۔ ہمیں کمانا ہے، بچانا ہے، زندہ رہنا ہے — پتنگیں اُڑانا ہماری ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن پھر میں نے لاہور کی بسنت دیکھی… اور میری رائے بدل گئی۔ یہ صرف پتنگیں نہیں تھیں۔ یہ صرف رنگ نہیں تھے۔ یہ صرف ایک دن کی خوشی نہیں تھی۔ یہ ایسا لگا جیسے: 🎯 ورلڈ کپ — مگر کھیل خوشی کا 🏅 اولمپکس — مگر قوم کے جذبے کے 🌍 انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر — مگر ثقافت اور مسکراہٹوں کا دنیا بھر سے لوگ آ سکتے ہیں صرف ایک مقصد کے لیے: آسمان میں خواب اُڑتے دیکھنے کے لیے۔ بسنت میں ایک خاموش طاقت ہے۔ یہ پاکستان کو وہ دیتا ہے جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے: 🌍 ایک نرم، خوبصورت، زندہ تصویر (Soft Image) دنیا ہمیں خبروں میں دھماکوں سے جانتی ہے، لیکن بسنت ہمیں رنگوں، موسیقی اور خوشی سے متعارف کراتی ہے۔ یہ تہوار انٹرنیشنل ٹورسٹس کو کھینچ سکتا ہے، ہر سال، ہر موسمِ بہار میں۔ کیونکہ لوگ جنگ نہیں دیکھنا چاہتے، لوگ زندگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بسنت ہوٹل بھرتی ہے، بسنت کاریگر کو روزگار دیتی ہے، بسنت فوٹوگرافر، فنکار، موسیقار، کھانے والے، گھومنے والے — سب کو کمانے کا موقع دیتی ہے۔ یہ غربت کے خلاف جنگ نہیں تو کیا ہے؟ خوشی بھی تو ایک معیشت ہوتی ہے۔ مجھے برازیل کا کارنیوال یاد آیا، جہاں دنیا دیوانہ وار آتی ہے صرف جینے کا جشن منانے۔ تو پھر ہم کیوں نہیں؟ میں اب یقین سے کہتا ہوں: بسنت کو پاکستان کا قومی تہوارِ خوشی ہونا چاہیے۔ یہ صرف تہوار نہیں، یہ پاکستان کی Soft Power بن سکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا ہمیں خبروں میں نہیں — خوشیوں میں دیکھے۔ آسمان پر پتنگیں ہوں، زمین پر امیدیں ہوں، اور دلوں میں یہ یقین ہو کہ پاکستان صرف مسائل کا نام نہیں — ایک جشن کا نام بھی ہو سکتا ہے۔ 🪁💛 کبھی کبھی قوموں کو روٹی کے ساتھ رنگ بھی چاہیے ہوتے ہیں۔ اور شاید… بسنت وہ رنگ ہے جس کا ہمیں برسوں سے انتظار تھا۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • یہ صرف ایک تصویر نہیں…
    یہ ایک پل ہے
    دلوں کے درمیان، ملکوں کے درمیان، اور انسانوں کے درمیان




    مائی کراچی – Oasis of Harmony
    جہاں سیاست نہیں، انسانیت کھڑی ہے
    جہاں کاروبار نہیں، دوستی مسکرا رہی ہے
    جہاں سرحدیں نہیں، دل بات کر رہے ہیں

    گورنر سندھ کی موجودگی میں یہ پیغام صرف پڑھا نہیں گیا،
    محسوس کیا گیا:

    ایران، پاکستان
    دوست و برادر

    یہ وہ لمحہ ہے جو یاد دلاتا ہے کہ
    اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں،
    تعلقات میں ہوتی ہے



    اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو یہ ایک دعوت ہے

    آن لائن نئے دوست بنانے کی
    ایران کے لوگوں سے جڑنے کی
    ان کی ثقافت، ادب، کھانوں اور مہمان نوازی کو قریب سے دیکھنے کی
    اور ایک دن… ایران جانے کی

    کیونکہ
    جو قومیں ایک دوسرے کو جان لیں
    وہ کبھی ایک دوسرے سے لڑتی نہیں



    اگر آپ ایران جانا چاہتے ہیں
    اگر آپ ایرانی دوست بنانا چاہتے ہیں
    اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مستقبل دوستی سے بنتا ہے

    تو یہ پوسٹ شیئر کریں
    اور کمنٹ میں لکھیں:
    “دوستی زندہ باد”

    یہی اصل Oasis of Harmony ہے

    Thanks Kamran Tessori
    یہ صرف ایک تصویر نہیں… یہ ایک پل ہے 🌍 دلوں کے درمیان، ملکوں کے درمیان، اور انسانوں کے درمیان ❤️ ⸻ 🇵🇰🤝🇮🇷 مائی کراچی – Oasis of Harmony جہاں سیاست نہیں، انسانیت کھڑی ہے جہاں کاروبار نہیں، دوستی مسکرا رہی ہے جہاں سرحدیں نہیں، دل بات کر رہے ہیں گورنر سندھ کی موجودگی میں یہ پیغام صرف پڑھا نہیں گیا، محسوس کیا گیا: ایران، پاکستان دوست و برادر یہ وہ لمحہ ہے جو یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں، تعلقات میں ہوتی ہے ⸻ اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو یہ ایک دعوت ہے👇 ✨ آن لائن نئے دوست بنانے کی ✨ ایران کے لوگوں سے جڑنے کی ✨ ان کی ثقافت، ادب، کھانوں اور مہمان نوازی کو قریب سے دیکھنے کی ✨ اور ایک دن… ایران جانے کی 🇮🇷✈️ کیونکہ جو قومیں ایک دوسرے کو جان لیں وہ کبھی ایک دوسرے سے لڑتی نہیں ⸻ 💬 اگر آپ ایران جانا چاہتے ہیں 💬 اگر آپ ایرانی دوست بنانا چاہتے ہیں 💬 اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مستقبل دوستی سے بنتا ہے تو یہ پوسٹ شیئر کریں اور کمنٹ میں لکھیں: “دوستی زندہ باد” ❤️ یہی اصل Oasis of Harmony ہے 🌿 Thanks Kamran Tessori
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • میں عمر فاروقی ہوں — ایجوکیشن والا، کراچی سے

    میں کلاس رومز میں نہیں ڈھلا۔
    میں تجسس، ذمہ داری اور اصل کام سے بنا ہوں۔

    ہوم اسکولڈ رہا —
    جہاں سیکھنے کی کوئی دیوار نہیں تھی،
    کوئی گھنٹی نہیں،
    کوئی حد نہیں۔

    یہاں ڈگری سے پہلے مہارت آئی،
    اور تھیوری سے پہلے عمل۔



    وہ مہارتیں جو میں نے کتابوں سے نہیں، زندگی سے سیکھیں:

    پروجیکٹ مینجمنٹ
    گرافک ڈیزائننگ
    ڈیجیٹل مارکیٹنگ
    ای کامرس



    انٹرپرینیورشپ کی حقیقت:
    میں نے اپنی آرگینکس برانڈ خود لانچ کی —
    اور ایک ایک چیز خود سنبھالی:

    کری ایٹوز
    انوینٹری
    بک کیپنگ
    پیکجنگ
    ڈیلیوریز
    پرنٹنگ
    آن لائن موجودگی اور مارکیٹنگ

    کوئی شارٹ کٹ نہیں۔
    کوئی بہانہ نہیں۔
    صرف ایکسیکیوشن۔



    آج:
    میں ریہان کالج کے 4 سالہ رہائشی لیڈرشپ اور انٹرپرینیورشپ انٹرن شپ پروگرام کا حصہ ہوں —
    یہ ڈگری فیکٹری نہیں،
    یہ لیڈر بنانے کی لیب ہے۔

    موجودہ ذمہ داریاں:
    • ہاسٹل مانیٹر
    • ہیڈ آف ایڈمیشنز اینڈ سافٹ ویئر

    سر عمران خان اسٹریٹ والا (COO، ریہان فاؤنڈیشن) کے ساتھ کام
    اور اس سے پہلے
    سر محسن رٹھور (SEO والا) کی Core-5 ٹیم کا حصہ۔



    میرا مشن سادہ ہے، مگر طاقتور:
    AI کے ذریعے
    تعلیم کو دوبارہ ڈیزائن کرنا —

    تاکہ پاکستان کے نوجوان
    صرف نصاب نہیں،
    مہارت، سسٹمز، قیادت اور خودمختاری سیکھیں۔



    کام اور پڑھائی کے علاوہ میری دلچسپیاں:
    جاسوسی ناول
    آرم ریسلنگ
    3D اینیمیشنز
    اینڈیورینس اور #WRC ریسنگ
    ڈرائیونگ
    Agentic AIs بنانا

    پسندیدہ کھانا؟
    بریانی — ہمیشہ



    وہ خاندان جس نے مجھے بنایا:
    والد — ڈاکٹر اور ڈیولپر
    والدہ — پرنسپل اور ٹیچر

    انہوں نے نمبرز کے پیچھے نہیں بھگایا۔
    انہوں نے سوچنے، سیکھنے اور بنانے کی آزادی دی۔



    میں نوکری کی تیاری نہیں کر رہا۔
    میں سسٹمز ڈیزائن کرنے، ٹیمیں لیڈ کرنے،
    اور جو ٹوٹا ہوا ہے اسے ٹھیک کرنے کی تیاری کر رہا ہوں۔

    نام سے ایجوکیشن والا۔
    مشن سے ریفارمر۔

    Umar Faruqi EducationWala
    👋 میں عمر فاروقی ہوں — ایجوکیشن والا، کراچی 🇵🇰 سے میں کلاس رومز میں نہیں ڈھلا۔ میں تجسس، ذمہ داری اور اصل کام سے بنا ہوں۔ 🏡 ہوم اسکولڈ رہا — جہاں سیکھنے کی کوئی دیوار نہیں تھی، کوئی گھنٹی نہیں، کوئی حد نہیں۔ یہاں ڈگری سے پہلے مہارت آئی، اور تھیوری سے پہلے عمل۔ ⸻ 📚 وہ مہارتیں جو میں نے کتابوں سے نہیں، زندگی سے سیکھیں: 📊 پروجیکٹ مینجمنٹ 🎨 گرافک ڈیزائننگ 📢 ڈیجیٹل مارکیٹنگ 🛒 ای کامرس ⸻ 🌱 انٹرپرینیورشپ کی حقیقت: میں نے اپنی آرگینکس برانڈ خود لانچ کی — اور ایک ایک چیز خود سنبھالی: 🎨 کری ایٹوز 📦 انوینٹری 📑 بک کیپنگ 📦 پیکجنگ 🚚 ڈیلیوریز 🖨️ پرنٹنگ 🌐 آن لائن موجودگی اور مارکیٹنگ کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ کوئی بہانہ نہیں۔ صرف ایکسیکیوشن۔ ⸻ 🎓 آج: میں ریہان کالج کے 4 سالہ رہائشی لیڈرشپ اور انٹرپرینیورشپ انٹرن شپ پروگرام کا حصہ ہوں — یہ ڈگری فیکٹری نہیں، یہ لیڈر بنانے کی لیب ہے۔ 💼 موجودہ ذمہ داریاں: • ہاسٹل مانیٹر • ہیڈ آف ایڈمیشنز اینڈ سافٹ ویئر سر عمران خان اسٹریٹ والا (COO، ریہان فاؤنڈیشن) کے ساتھ کام اور اس سے پہلے سر محسن رٹھور (SEO والا) کی Core-5 ٹیم کا حصہ۔ ⸻ 🚀 میرا مشن سادہ ہے، مگر طاقتور: 🤖 AI کے ذریعے 📖 تعلیم کو دوبارہ ڈیزائن کرنا — تاکہ پاکستان 🇵🇰 کے نوجوان صرف نصاب نہیں، مہارت، سسٹمز، قیادت اور خودمختاری سیکھیں۔ ⸻ ✨ کام اور پڑھائی کے علاوہ میری دلچسپیاں: 📖 جاسوسی ناول 💪 آرم ریسلنگ 🎥 3D اینیمیشنز 🏎️ اینڈیورینس اور #WRC ریسنگ 🚗 ڈرائیونگ 🤖 Agentic AIs بنانا 🍽️ پسندیدہ کھانا؟ بریانی — ہمیشہ 😋 ⸻ 👨‍👩‍👧‍👦 وہ خاندان جس نے مجھے بنایا: 👨‍⚕️ والد — ڈاکٹر اور ڈیولپر 👩‍🏫 والدہ — پرنسپل اور ٹیچر انہوں نے نمبرز کے پیچھے نہیں بھگایا۔ انہوں نے سوچنے، سیکھنے اور بنانے کی آزادی دی۔ ⸻ ⚡ میں نوکری کی تیاری نہیں کر رہا۔ میں سسٹمز ڈیزائن کرنے، ٹیمیں لیڈ کرنے، اور جو ٹوٹا ہوا ہے اسے ٹھیک کرنے کی تیاری کر رہا ہوں۔ نام سے ایجوکیشن والا۔ مشن سے ریفارمر۔ Umar Faruqi EducationWala
    0 Commentarii 0 Distribuiri 6 Views
  • صرف یہ کہ ہم نے چھوٹی بوتل سے بڑی بوتل میں شفٹ کر لیا ہے
    اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں۔

    کہاوت یاد رکھیں:

    “جن کے گھر شیشے کے ہوتے ہیں، وہ دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکتے۔”

    ہاں، مان لیتے ہیں…
    شاید آج ہم کسی اور سے تھوڑا بہتر کر رہے ہوں۔
    شاید ہماری آمدنی، ہمارا مقام، یا ہماری سوچ کسی اور سے آگے ہو۔

    لیکن ذرا سچائی سے خود سے پوچھیں
    • کیا ہمارے اپنے اندر دراڑیں نہیں؟
    • کیا ہمارے اپنے خوف، انا، غرور اور کمزوریاں ختم ہو چکی ہیں؟
    • کیا ہم واقعی آزاد ہیں… یا بس ایک چھوٹی جیل سے نکل کر بڑی جیل میں آ گئے ہیں؟

    اکثر ہم دوسروں پر تنقید اس لیے کرتے ہیں
    کیونکہ اپنے اندر جھانکنا مشکل لگتا ہے۔

    اکثر ہم خود کو برتر اس لیے سمجھتے ہیں
    کیونکہ اپنی کمزوریاں ماننے کی ہمت نہیں ہوتی۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ
    ہم کس سے بہتر ہیں…

    اصل سوال یہ ہے کہ
    کیا ہم کل کے اپنے آپ سے بہتر ہو رہے ہیں؟

    تو آئیے:
    انگلی اٹھانے کے بجائے خود کو ٹھیک کریں
    برتری کے نشے کے بجائے عاجزی سیکھیں
    اور اگر ممکن ہو
    کسی اور کے ٹوٹے ہوئے شیشے کو جوڑنے میں بھی مدد کریں

    کیونکہ آخر میں ایک بات یاد رکھنا:

    بڑی جیل ≠ مکمل آزادی

    اصل آزادی
    عاجزی، ہمدردی
    اور خود احتسابی سے آتی ہے

    #humility #empathy #DontBeProud
    #helpingothers #growthmindset #humanbehavior
    #monkifyyourlife #lifesamazingsecrets
    #psychology #freedom
    #comment #like #share

    Via Gaur Gopal Das
    😄 صرف یہ کہ ہم نے چھوٹی بوتل سے بڑی بوتل میں شفٹ کر لیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں۔ کہاوت یاد رکھیں: “جن کے گھر شیشے کے ہوتے ہیں، وہ دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکتے۔” ہاں، مان لیتے ہیں… شاید آج ہم کسی اور سے تھوڑا بہتر کر رہے ہوں۔ شاید ہماری آمدنی، ہمارا مقام، یا ہماری سوچ کسی اور سے آگے ہو۔ لیکن ذرا سچائی سے خود سے پوچھیں 👇 • کیا ہمارے اپنے اندر دراڑیں نہیں؟ • کیا ہمارے اپنے خوف، انا، غرور اور کمزوریاں ختم ہو چکی ہیں؟ • کیا ہم واقعی آزاد ہیں… یا بس ایک چھوٹی جیل سے نکل کر بڑی جیل میں آ گئے ہیں؟ 🙈 اکثر ہم دوسروں پر تنقید اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اپنے اندر جھانکنا مشکل لگتا ہے۔ اکثر ہم خود کو برتر اس لیے سمجھتے ہیں کیونکہ اپنی کمزوریاں ماننے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کس سے بہتر ہیں… اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم کل کے اپنے آپ سے بہتر ہو رہے ہیں؟ تو آئیے: 👉 انگلی اٹھانے کے بجائے خود کو ٹھیک کریں 👉 برتری کے نشے کے بجائے عاجزی سیکھیں 👉 اور اگر ممکن ہو کسی اور کے ٹوٹے ہوئے شیشے کو جوڑنے میں بھی مدد کریں 😊 کیونکہ آخر میں ایک بات یاد رکھنا: بڑی جیل ≠ مکمل آزادی اصل آزادی عاجزی، ہمدردی اور خود احتسابی سے آتی ہے ❤️ #humility #empathy #DontBeProud #helpingothers #growthmindset #humanbehavior #monkifyyourlife #lifesamazingsecrets #psychology #freedom #comment #like #share Via Gaur Gopal Das
    0 Commentarii 0 Distribuiri 2008 Views
  • کیا آپ کبھی الٹا کمرہ دیکھنے گئے ہیں؟
    کراچی میں؟
    نہیں؟ تو پھر یہ دیکھیں

    یہ الٹا کمرہ
    Rehan School — کورنگی کیمپس میں ہے۔

    یہ صرف ایک کمرہ نہیں…
    یہ دماغ کو الٹا کر دینے والا تجربہ ہے

    اندر جائیں
    دماغ کنفیوز کریں
    زبردست فوٹوز لیں
    انسٹاگرام / فیس بک پر سب کو حیران کریں

    یہ وہ جگہ ہے جہاں:
    فرنیچر چھت پر ہے
    آپ دیوار پر کھڑے لگتے ہیں
    اور تصویر کہتی ہے: کچھ تو الٹا ہے!

    آئیں، دیکھیں، تصویر بنائیں
    بچوں، دوستوں، فیملی سب کو لے آئیں

    Rehan School — Korangi Campus
    کیونکہ یہاں تعلیم بھی الٹی ہے
    اور سوچ بھی

    Come visit and take photo in this one at Rehan School Korangi Campus
    کیا آپ کبھی الٹا کمرہ دیکھنے گئے ہیں؟ کراچی میں؟ 🇵🇰 نہیں؟ تو پھر یہ دیکھیں 👇 یہ الٹا کمرہ Rehan School — کورنگی کیمپس میں ہے۔ یہ صرف ایک کمرہ نہیں… یہ دماغ کو الٹا کر دینے والا تجربہ ہے 🧠⬆️⬇️ 📸 اندر جائیں 🤯 دماغ کنفیوز کریں 😄 زبردست فوٹوز لیں 🔥 انسٹاگرام / فیس بک پر سب کو حیران کریں یہ وہ جگہ ہے جہاں: فرنیچر چھت پر ہے آپ دیوار پر کھڑے لگتے ہیں اور تصویر کہتی ہے: کچھ تو الٹا ہے! 👉 آئیں، دیکھیں، تصویر بنائیں 👉 بچوں، دوستوں، فیملی سب کو لے آئیں 📍 Rehan School — Korangi Campus کیونکہ یہاں تعلیم بھی الٹی ہے اور سوچ بھی 🚀 Come visit and take photo in this one at Rehan School Korangi Campus
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • یہ تصویر کیمرے کی غلطی نہیں…
    یہ سوچ کی درستگی ہے

    کراچی میں
    ایسا کمرہ جہاں
    کرسی چھت پر ہے
    میز اُلٹی ہے
    اور انسان سیدھا کھڑا ہو کر بھی
    تصویر میں الٹا نظر آتا ہے

    یہ ہے الٹا کمرہ
    Rehan School – Korangi Campus

    یہ صرف فوٹو پوائنٹ نہیں
    یہ ایک پیغام ہے
    اگر زندگی میں سب کچھ الٹا لگ رہا ہے
    تو شاید سوچ سیدھی کرنے کا وقت آ گیا ہے

    آئیں
    حیران ہوں
    تصویر بنائیں
    اور دنیا کو دکھائیں کہ
    تعلیم اگر مختلف ہو
    تو نتیجہ بھی مختلف ہوتا ہے

    Rehan School
    جہاں کلاس روم بھی
    سوچ کو چیلنج کرتا ہے
    یہ تصویر کیمرے کی غلطی نہیں… یہ سوچ کی درستگی ہے 🔄🧠 کراچی میں ایسا کمرہ جہاں کرسی چھت پر ہے میز اُلٹی ہے اور انسان سیدھا کھڑا ہو کر بھی تصویر میں الٹا نظر آتا ہے 😲 یہ ہے الٹا کمرہ 📍 Rehan School – Korangi Campus یہ صرف فوٹو پوائنٹ نہیں یہ ایک پیغام ہے👇 اگر زندگی میں سب کچھ الٹا لگ رہا ہے تو شاید سوچ سیدھی کرنے کا وقت آ گیا ہے 📸 آئیں 🤯 حیران ہوں 🔥 تصویر بنائیں اور دنیا کو دکھائیں کہ تعلیم اگر مختلف ہو تو نتیجہ بھی مختلف ہوتا ہے Rehan School جہاں کلاس روم بھی سوچ کو چیلنج کرتا ہے 🚀
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • یہ بات میں برسوں سے کہہ رہا ہوں — اور اکثر اسے کھل کر پوسٹ بھی نہیں کرتا
    اس لیے نہیں کہ مجھے شک ہے…
    بلکہ اس لیے کہ میں نہیں چاہتا کہ یہ سچ ثابت ہو۔

    لیکن ایک بات ہے جس پر میں نے ہمیشہ اپنے بارے میں، اور خاص طور پر اپنے بچوں کے بارے میں، خبردار کیا ہے:

    “کوڈ لکھنا” بطور ماس پروفیشن ختم ہو رہا ہے۔

    یہ اس لیے نہیں کہ سافٹ ویئر ختم ہو رہا ہے —
    بلکہ اس کے بالکل اُلٹ۔

    سافٹ ویئر ہر جگہ ہوگا،
    لیکن کوڈ لکھنا سستا، تیز اور خودکار ہو جائے گا۔

    اور اصل ویلیو وہاں چلی جائے گی جہاں آج بہت کم لوگ فوکس کر رہے ہیں:

    • صحیح مسئلہ سمجھنے اور define کرنے میں
    • سسٹمز ڈیزائن کرنے میں
    • سیکیورٹی، کوالٹی اور ذمہ داری میں
    • بزنس سمجھنے میں
    • سامنے والے انسان کو سمجھنے میں

    پچھلے مہینے میں نے یہی بات Anthropic (Claude) کے CEO سے سنی:
    ان کے مطابق ہم 6 سے 12 مہینے دور ہیں اُس وقت سے
    جب AI سافٹ ویئر کا بڑا حصہ end-to-end خود بنا لے گا۔

    اور ایک پروفیسر نے تو بات بہت سادہ کر دی:
    آج صرف “کوڈ لکھنا” سیکھنا
    ایسا ہے جیسے قدیم یونانی زبان سیکھنا —
    اثر انگیز ہے، مگر محدود۔

    اب اصل سوال والدین اور نوجوانوں کے لیے یہ نہیں رہا کہ:

    “بچہ کوڈ سیکھ رہا ہے یا نہیں؟”

    بلکہ اصل سوال یہ ہے:

    کیا وہ سوچنا سیکھ رہا ہے؟
    کیا وہ مشینوں کو کمانڈ کرنا سیکھ رہا ہے؟
    کیا وہ نئے اسکلز تیزی سے سیکھ سکتا ہے؟

    اور سب سے اہم بات —
    جو کوئی اسکول، کوئی کورس، کوئی ڈگری خود بخود نہیں دیتی:

    اعتماد (Confidence)
    نئی چیزیں سیکھنے کی ہمت
    صاف اور مضبوط کمیونیکیشن
    ایسا رویہ کہ لوگ اس پر بھروسہ کریں

    مستقبل اُن لوگوں کا نہیں ہوگا جو صرف “کام” کرتے ہیں۔
    مستقبل اُن لوگوں کا ہوگا جو:

    سوچ سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں، بات کر سکتے ہیں —
    اور انسان اور مشین دونوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔

    یہی اصل تعلیم ہے۔
    یہ بات میں برسوں سے کہہ رہا ہوں — اور اکثر اسے کھل کر پوسٹ بھی نہیں کرتا اس لیے نہیں کہ مجھے شک ہے… بلکہ اس لیے کہ میں نہیں چاہتا کہ یہ سچ ثابت ہو۔ لیکن ایک بات ہے جس پر میں نے ہمیشہ اپنے بارے میں، اور خاص طور پر اپنے بچوں کے بارے میں، خبردار کیا ہے: ❌ “کوڈ لکھنا” بطور ماس پروفیشن ختم ہو رہا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ سافٹ ویئر ختم ہو رہا ہے — بلکہ اس کے بالکل اُلٹ۔ سافٹ ویئر ہر جگہ ہوگا، لیکن کوڈ لکھنا سستا، تیز اور خودکار ہو جائے گا۔ اور اصل ویلیو وہاں چلی جائے گی جہاں آج بہت کم لوگ فوکس کر رہے ہیں: • صحیح مسئلہ سمجھنے اور define کرنے میں • سسٹمز ڈیزائن کرنے میں • سیکیورٹی، کوالٹی اور ذمہ داری میں • بزنس سمجھنے میں • سامنے والے انسان کو سمجھنے میں پچھلے مہینے میں نے یہی بات Anthropic (Claude) کے CEO سے سنی: ان کے مطابق ہم 6 سے 12 مہینے دور ہیں اُس وقت سے جب AI سافٹ ویئر کا بڑا حصہ end-to-end خود بنا لے گا۔ اور ایک پروفیسر نے تو بات بہت سادہ کر دی: آج صرف “کوڈ لکھنا” سیکھنا ایسا ہے جیسے قدیم یونانی زبان سیکھنا — اثر انگیز ہے، مگر محدود۔ اب اصل سوال والدین اور نوجوانوں کے لیے یہ نہیں رہا کہ: ❓ “بچہ کوڈ سیکھ رہا ہے یا نہیں؟” بلکہ اصل سوال یہ ہے: ✅ کیا وہ سوچنا سیکھ رہا ہے؟ ✅ کیا وہ مشینوں کو کمانڈ کرنا سیکھ رہا ہے؟ ✅ کیا وہ نئے اسکلز تیزی سے سیکھ سکتا ہے؟ اور سب سے اہم بات — جو کوئی اسکول، کوئی کورس، کوئی ڈگری خود بخود نہیں دیتی: 🔥 اعتماد (Confidence) 🔥 نئی چیزیں سیکھنے کی ہمت 🔥 صاف اور مضبوط کمیونیکیشن 🔥 ایسا رویہ کہ لوگ اس پر بھروسہ کریں مستقبل اُن لوگوں کا نہیں ہوگا جو صرف “کام” کرتے ہیں۔ مستقبل اُن لوگوں کا ہوگا جو: سوچ سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں، بات کر سکتے ہیں — اور انسان اور مشین دونوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔ یہی اصل تعلیم ہے۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 178 Views
  • میں اسلام آباد پہنچ چکا ہوں —
    اپنے وقت، توجہ اور دل کے ساتھ۔

    اور میں یہاں اگلے 10 دن موجود رہوں گا۔

    مقصد صرف ایک ہے:

    ریحان اسکول اسلام آباد کے
    والدین اور طلبہ کے ساتھ وقت گزارنا،
    ان کی بات سننا،
    اور ان کے سوالوں کا سامنا کرنا۔

    اس کے ساتھ ساتھ
    میں اساتذہ (Educators) کے لیے
    ایک خصوصی سیمینار بھی کر رہا ہوں:

    تعلیم میں AI کا عملی استعمال
    نعرے نہیں، حقیقت۔
    خوف نہیں، سمجھ۔

    تاریخیں اور تفصیلات
    براہِ کرم میری Facebook پروفائل پر
    See First کر کے دیکھیں
    وہیں تمام اعلانات موجود ہیں۔

    ایک اور کھلی دعوت:

    میں TV شوز، پوڈکاسٹس، اسکولز، کالجز، اور آگاہی سیمینارز
    کے لیے اوپن ہوں —
    اگر کوئی AI for Education پر
    سیشن، گفتگو یا پروگرام arrange کرنا چاہتا ہے۔

    یہ وقت AI سے ڈرنے کا نہیں،
    اسے سمجھنے اور استعمال کرنے کا ہے۔

    اگر ہم نے آج اساتذہ کو تیار نہ کیا،
    تو کل بچے ہم سے آگے نکل جائیں گے —
    اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔

    رابطہ کریں۔
    بات پھیلائیں۔

    کیونکہ
    تعلیم بدلے بغیر ملک نہیں بدلتا۔

    Rehan School Islamabad Campus
    میں اسلام آباد پہنچ چکا ہوں — اپنے وقت، توجہ اور دل کے ساتھ۔ اور میں یہاں اگلے 10 دن موجود رہوں گا۔ مقصد صرف ایک ہے: ریحان اسکول اسلام آباد کے والدین اور طلبہ کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی بات سننا، اور ان کے سوالوں کا سامنا کرنا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اساتذہ (Educators) کے لیے ایک خصوصی سیمینار بھی کر رہا ہوں: 👉 تعلیم میں AI کا عملی استعمال نعرے نہیں، حقیقت۔ خوف نہیں، سمجھ۔ 📌 تاریخیں اور تفصیلات براہِ کرم میری Facebook پروفائل پر 👉 See First کر کے دیکھیں وہیں تمام اعلانات موجود ہیں۔ ایک اور کھلی دعوت: میں TV شوز، پوڈکاسٹس، اسکولز، کالجز، اور آگاہی سیمینارز کے لیے اوپن ہوں — اگر کوئی AI for Education پر سیشن، گفتگو یا پروگرام arrange کرنا چاہتا ہے۔ یہ وقت AI سے ڈرنے کا نہیں، اسے سمجھنے اور استعمال کرنے کا ہے۔ اگر ہم نے آج اساتذہ کو تیار نہ کیا، تو کل بچے ہم سے آگے نکل جائیں گے — اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔ 📩 رابطہ کریں۔ 📢 بات پھیلائیں۔ کیونکہ تعلیم بدلے بغیر ملک نہیں بدلتا۔ Rehan School Islamabad Campus
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • آج ہمیں پاکستان کی معروف فُٹ ویئر برانڈ Walkies کے بانی اور CEO Shahzad Mobin شہزاد مبین سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا۔

    Walkies آج پاکستان میں 3000 سے زائد مصنوعات تیار کر رہی ہے،
    جن میں خواتین کے جوتے اور بیگز شامل ہیں،
    ملک بھر میں 51 سے زائد آؤٹ لیٹس،
    اور 500 سے زائد ملازمین کے ساتھ ایک مضبوط قومی برانڈ ہے۔

    سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ
    شہزاد مبین صاحب نے ہم سے اپنے عملے کے بچوں کو
    Rehan School / Rehan School Online Academy میں داخل کروانے کی درخواست کی
    تاکہ وہ:
    • Artificial Intelligence
    • Computing
    • Internet & Real-world Skills

    سیکھ سکیں
    اور ہم انہیں خودمختار، بااعتماد اور مستقبل کے رہنما بنا سکیں
    جو کل کو انہی کمپنیوں کے پارٹنرز بن سکیں — صرف ملازم نہیں۔

    میں دل سے شکر گزار ہوں:
    • کہ انہوں نے ہمیں اپنے دفتر مدعو کیا
    • اس ویڈیو کو بنانے دیا
    • اور اپنے تمام ملازمین تک یہ پیغام پہنچانے کا اعلان کیا

    ہماری امید ہے کہ:
    ان کے دوست،
    اور پاکستان کے دیگر حصوں میں موجود کمپنی مالکان بھی
    اپنے بچوں کو
    Rehan School Online Academy
    یا ہمارے Physical Campuses میں داخل کروائیں گے۔

    Rehan School میں:
    • داخلہ Class 5 سے ہوتا ہے
    • طلبہ کو AI کی طاقت دی جاتی ہے
    • ہمارا خاص Empowering Curriculum ہے
    • اور ہدف یہ ہے کہ
    Class 8 تک بچہ کم از کم 100,000 روپے کمانے کے قابل ہو



    اب آپ سب کے لیے کھلا پیغام

    اگر آپ:
    • کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں
    • جس کی کمپنی میں 100 یا اس سے زیادہ ملازمین ہیں

    اس پوسٹ میں انہیں لازماً TAG کریں

    ہم ان کے لیے یہ آفر دے رہے ہیں:
    • ان کے بچوں کی تعلیم Rehan School میں
    • اور ان کے اسٹاف کی ہفتے میں 2 گھنٹے AI + Productivity Training
    تاکہ:
    • ملازمین زیادہ smart بنیں
    • AI کے ذریعے زیادہ کما سکیں
    • اور کمپنی کے لیے زیادہ ویلیو پیدا کریں

    فیس صرف: 5,000 روپے ماہانہ
    اور
    بچہ 18 ماہ میں خود یہ فیس کمانا سیکھ لیتا ہے

    یہ خیرات نہیں ہے۔
    یہ Investment in Future Leadership ہے۔

    Tag کریں
    Share کریں
    اور پاکستان کے بچوں کا مستقبل بدلنے میں ہمارا ساتھ دیں

    Thank you
    آج ہمیں پاکستان کی معروف فُٹ ویئر برانڈ Walkies کے بانی اور CEO Shahzad Mobin شہزاد مبین سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا۔ Walkies آج پاکستان میں 3000 سے زائد مصنوعات تیار کر رہی ہے، جن میں خواتین کے جوتے اور بیگز شامل ہیں، ملک بھر میں 51 سے زائد آؤٹ لیٹس، اور 500 سے زائد ملازمین کے ساتھ ایک مضبوط قومی برانڈ ہے۔ 🇵🇰 سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ شہزاد مبین صاحب نے ہم سے اپنے عملے کے بچوں کو Rehan School / Rehan School Online Academy میں داخل کروانے کی درخواست کی تاکہ وہ: • Artificial Intelligence • Computing • Internet & Real-world Skills سیکھ سکیں اور ہم انہیں خودمختار، بااعتماد اور مستقبل کے رہنما بنا سکیں جو کل کو انہی کمپنیوں کے پارٹنرز بن سکیں — صرف ملازم نہیں۔ میں دل سے شکر گزار ہوں: • کہ انہوں نے ہمیں اپنے دفتر مدعو کیا • اس ویڈیو کو بنانے دیا • اور اپنے تمام ملازمین تک یہ پیغام پہنچانے کا اعلان کیا ہماری امید ہے کہ: ان کے دوست، اور پاکستان کے دیگر حصوں میں موجود کمپنی مالکان بھی اپنے بچوں کو Rehan School Online Academy یا ہمارے Physical Campuses میں داخل کروائیں گے۔ 📌 Rehan School میں: • داخلہ Class 5 سے ہوتا ہے • طلبہ کو AI کی طاقت دی جاتی ہے • ہمارا خاص Empowering Curriculum ہے • اور ہدف یہ ہے کہ 👉 Class 8 تک بچہ کم از کم 100,000 روپے کمانے کے قابل ہو ⸻ 🚨 اب آپ سب کے لیے کھلا پیغام 🚨 اگر آپ: • کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں • جس کی کمپنی میں 100 یا اس سے زیادہ ملازمین ہیں 👉 اس پوسٹ میں انہیں لازماً TAG کریں ہم ان کے لیے یہ آفر دے رہے ہیں: • ان کے بچوں کی تعلیم Rehan School میں • اور ان کے اسٹاف کی ہفتے میں 2 گھنٹے AI + Productivity Training تاکہ: • ملازمین زیادہ smart بنیں • AI کے ذریعے زیادہ کما سکیں • اور کمپنی کے لیے زیادہ ویلیو پیدا کریں 💰 فیس صرف: 5,000 روپے ماہانہ اور 📈 بچہ 18 ماہ میں خود یہ فیس کمانا سیکھ لیتا ہے یہ خیرات نہیں ہے۔ یہ Investment in Future Leadership ہے۔ 👉 Tag کریں 👉 Share کریں 👉 اور پاکستان کے بچوں کا مستقبل بدلنے میں ہمارا ساتھ دیں Thank you 🙏
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جوان بیٹا کم از کم 1 لاکھ روپے مہینہ کمائے؟
    خواب نہیں… حقیقت میں۔

    ذرا تصور کریں—اگلے چار سال میں
    آپ کا بیٹا نوکری کے پیچھے بھاگنے والا نہیں،
    آمدن بنانے والا بن جائے۔
    پراعتماد، باوقار، اور دنیا کے لیے تیار۔

    اب ایک سچا سوال
    کیا آپ کسی ایسے نوجوان کو جانتے ہیں
    جس کی عمر 18 سے 22 سال کے درمیان ہو
    اور آپ کو لگتا ہے کہ اگر آج اسے صحیح موقع نہ ملا
    تو اگلے چار سال میں بھی وہ 1 لاکھ روپے مہینہ نہیں کما پائے گا؟

    اسے ابھی ٹیگ کریں
    یہ پوسٹ اس کے والدین تک پہنچائیں
    اور اسے ہمارے پاس بھیج دیں

    یہ خاص طور پر گاؤں کے غریب بچوں،
    گھروں میں کام کرنے والے نوکروں کے بچوں
    اور اُن نوجوانوں کے لیے زندگی بدل دینے والا موقع ہے
    جن میں صلاحیت ہے مگر راستہ نہیں۔

    صرف شرط:
    • کم از کم میٹرک پاس ہو



    Rehan College

    پاکستان میں زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کو نوکری کے لیے پڑھاتے ہیں۔
    ریحان اسکول بچوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ پیسے کمانا سیکھیں۔

    اب اسی سوچ کا اگلا، مضبوط اور فیصلہ کن قدم ہے ریحان کالج۔

    ہماری صاف اور واضح گارنٹی:
    چار سال ہمارے ساتھ گزارنے کے بعد ہر طالب علم کم از کم 1 لاکھ روپے ماہانہ کمانے کے قابل ہوگا
    اگر کوئی طالب علم 1 لاکھ روپے ماہانہ کمانے کے قابل نہ ہوا تو ہم اسے گریجویشن سرٹیفکیٹ نہیں دیں گے

    یہ وعدہ نہیں—یہ سسٹم، ڈسپلن اور نتیجے پر مبنی تعلیم ہے۔



    Rehan College کیا ہے؟

    Rehan College کراچی میں قائم ایک
    4 سالہ فل ٹائم ریزیڈینشل پروگرام ہے
    جو نوجوانوں کو Real Learning اور Real Work کے ذریعے
    پراعتماد، قابل اور AI-Powered لیڈر بناتا ہے۔

    یہ روایتی کالج نہیں—
    یہ زندگی کمانے کی ٹریننگ ہے۔



    ابھی سب کچھ فری کیوں؟

    فی الحال ریحان کالج میں:
    کھانا
    رہائش
    تعلیم، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ
    مکمل 4 سالہ تربیت

    سب کچھ اسکالرشپ پر فری
    اسکالرشپس محدود ہیں — پہلے آئیں، پہلے پائیں۔



    ایک بہت اہم بات (براہِ راست)
    • بچوں کو کراچی آنا ہوگا
    • چار سال تک بچے مختلف Rehan College اور Rehan School کے اداروں میں
    کام + سیکھنے کے عملی عمل سے گزریں گے

    یہ کلاس روم نہیں—
    یہ کردار، ہنر اور آمدن بنانے کا نظام ہے۔



    ابھی رابطہ کریں

    ویب سائٹ: www.rehancollege.com
    General UAN: +92-304-1116044
    Admissions: +92-301-2985826
    Project Head: +92-310-2886045

    تفصیلی ویڈیو لازمی دیکھیں:
    https://www.facebook.com/share/v/19KnLkjhxp/?mibextid=wwXIfr

    اسکالرشپس ختم ہونے سے پہلے فیصلہ کریں
    آج ایک نوجوان کو ٹیگ کریں—
    کل اس کی زندگی بدل جائے گی۔
    کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جوان بیٹا کم از کم 1 لاکھ روپے مہینہ کمائے؟ خواب نہیں… حقیقت میں۔ ذرا تصور کریں—اگلے چار سال میں آپ کا بیٹا نوکری کے پیچھے بھاگنے والا نہیں، آمدن بنانے والا بن جائے۔ پراعتماد، باوقار، اور دنیا کے لیے تیار۔ اب ایک سچا سوال 👇 کیا آپ کسی ایسے نوجوان کو جانتے ہیں جس کی عمر 18 سے 22 سال کے درمیان ہو اور آپ کو لگتا ہے کہ اگر آج اسے صحیح موقع نہ ملا تو اگلے چار سال میں بھی وہ 1 لاکھ روپے مہینہ نہیں کما پائے گا؟ 👉 اسے ابھی ٹیگ کریں 👉 یہ پوسٹ اس کے والدین تک پہنچائیں 👉 اور اسے ہمارے پاس بھیج دیں یہ خاص طور پر گاؤں کے غریب بچوں، گھروں میں کام کرنے والے نوکروں کے بچوں اور اُن نوجوانوں کے لیے زندگی بدل دینے والا موقع ہے جن میں صلاحیت ہے مگر راستہ نہیں۔ 📌 صرف شرط: • کم از کم میٹرک پاس ہو ⸻ Rehan College پاکستان میں زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کو نوکری کے لیے پڑھاتے ہیں۔ ریحان اسکول بچوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ پیسے کمانا سیکھیں۔ اب اسی سوچ کا اگلا، مضبوط اور فیصلہ کن قدم ہے ریحان کالج۔ ہماری صاف اور واضح گارنٹی: • 🎯 چار سال ہمارے ساتھ گزارنے کے بعد ہر طالب علم کم از کم 1 لاکھ روپے ماہانہ کمانے کے قابل ہوگا • 🎓 اگر کوئی طالب علم 1 لاکھ روپے ماہانہ کمانے کے قابل نہ ہوا تو ہم اسے گریجویشن سرٹیفکیٹ نہیں دیں گے یہ وعدہ نہیں—یہ سسٹم، ڈسپلن اور نتیجے پر مبنی تعلیم ہے۔ ⸻ Rehan College کیا ہے؟ Rehan College کراچی میں قائم ایک 4 سالہ فل ٹائم ریزیڈینشل پروگرام ہے جو نوجوانوں کو Real Learning اور Real Work کے ذریعے پراعتماد، قابل اور AI-Powered لیڈر بناتا ہے۔ یہ روایتی کالج نہیں— یہ زندگی کمانے کی ٹریننگ ہے۔ ⸻ ابھی سب کچھ فری کیوں؟ فی الحال ریحان کالج میں: • 🍽️ کھانا • 🛏️ رہائش • 💻 تعلیم، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ • 🎓 مکمل 4 سالہ تربیت 👉 سب کچھ اسکالرشپ پر فری ⚠️ اسکالرشپس محدود ہیں — پہلے آئیں، پہلے پائیں۔ ⸻ ایک بہت اہم بات (براہِ راست) • بچوں کو کراچی آنا ہوگا • چار سال تک بچے مختلف Rehan College اور Rehan School کے اداروں میں کام + سیکھنے کے عملی عمل سے گزریں گے یہ کلاس روم نہیں— یہ کردار، ہنر اور آمدن بنانے کا نظام ہے۔ ⸻ ابھی رابطہ کریں 🌐 ویب سائٹ: www.rehancollege.com 📞 General UAN: +92-304-1116044 📲 Admissions: +92-301-2985826 📲 Project Head: +92-310-2886045 🎥 تفصیلی ویڈیو لازمی دیکھیں: https://www.facebook.com/share/v/19KnLkjhxp/?mibextid=wwXIfr ⏳ اسکالرشپس ختم ہونے سے پہلے فیصلہ کریں آج ایک نوجوان کو ٹیگ کریں— کل اس کی زندگی بدل جائے گی۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 49 Views