• Thank you Naseem Ulllah Bhutta Educationwala for joining us and trusting us !

    Looking forward to interview with you !
    Thank you Naseem Ulllah Bhutta Educationwala for joining us and trusting us ! Looking forward to interview with you !
    0 Комментарии 0 Поделились 89 Просмотры
  • Just start ! And slowly make it better 1% everyday !

    #rehanbiryani
    Just start ! And slowly make it better 1% everyday ! #rehanbiryani
    0 Комментарии 0 Поделились 846 Просмотры
  • Just start ! And slowly make it better 1% everyday !

    Like the page Rehan Biryani
    Just start ! And slowly make it better 1% everyday ! Like the page Rehan Biryani
    0 Комментарии 0 Поделились 89 Просмотры
  • کانول سنگھ ریکھھی — راولپنڈی کا بیٹا، دنیا کا روشن چراغ

    کامیابی کی کہانیاں ہمیشہ دل کو چھو لیتی ہیں۔ لیکن کچھ کہانیاں صرف متاثر نہیں کرتیں بلکہ قوموں کو جگا دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے کانول سنگھ ریکھھی کی، جو 1945 میں پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا، اور یہیں سے ایک عام بچے نے غیر معمولی سفر شروع کیا۔

    چھوٹے سے گھرانے سے نکل کر انہوں نے محنت اور تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا۔ پہلے IIT بمبئی سے انجینئرنگ کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ نوجوان ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب لے آئے گا۔

    سلکان ویلی کی فتح

    امریکہ پہنچ کر انہوں نے ایک کمپنی بنائی جس کا نام تھا Excelan۔ اس کمپنی نے انٹرنیٹ اور نیٹ ورکنگ کی دنیا میں نئے در کھول دیے۔ چند سالوں بعد یہ کمپنی امریکہ کے بڑے اسٹاک ایکسچینج NASDAQ پر پبلک ہوئی — اور یوں کانول ریکھھی پہلے بھارتی نژاد CEO بنے جنہوں نے یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اس کے بعد وہ دنیا کی مشہور کمپنی Novell کے ٹاپ ایگزیکٹو بھی بنے۔

    TiE کی بنیاد — نوجوانوں کے لیے روشنی

    کامیابی کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کے لیے راستے کھولنے والے بن گئے۔ انہوں نے TiE (The Indus Entrepreneurs) کی بنیاد رکھی۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا بزنس مینٹورنگ نیٹ ورک ہے جو ہزاروں نوجوانوں کو کاروبار، سرمایہ اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان ان سے انسپائر ہو کر اپنے خوابوں کو حقیقت بنا رہے ہیں۔

    علم کے چراغ

    انہوں نے تعلیم کو بھی کبھی نہیں بھلایا۔ بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology قائم کیا، اور امریکہ میں اپنی مادرِ علمی کو کروڑوں ڈالر عطیہ دیے۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جو قوموں کو کھڑا کرتی ہے۔

    دولت اور اثر و رسوخ

    آج ان کی دولت کا شمار سینکڑوں ملین ڈالرز میں ہوتا ہے۔ لیکن اصل دولت صرف پیسہ نہیں، بلکہ ہزاروں زندگیاں ہیں جنہیں انہوں نے متاثر کیا اور وہ خواب ہیں جنہیں انہوں نے حقیقت کا راستہ دکھایا۔



    سبق جو ہمیں سیکھنا چاہیے

    کانول ریکھھی کی زندگی ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے:
    • آپ چاہے کسی عام گھر میں پیدا ہوں، دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
    • تعلیم اور محنت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
    • اصل کامیابی وہ ہے جب آپ اپنی کامیابی سے دوسروں کے لیے بھی دروازے کھولیں۔



    پیغام برائے نوجوانان پاکستان

    یاد رکھو، یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کا آغاز راولپنڈی کی گلیوں سے ہوا اور اختتام دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک جا پہنچا۔ اگر وہ کر سکتے ہیں، تو آپ کیوں نہیں؟

    اپنے خوابوں پر یقین رکھو، ہمت دکھاؤ، ناکامی سے ڈرو مت۔ ایک دن تمہاری کہانی بھی دنیا کو انسپائر کرے گی۔



    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی بھی بدلے تو اس پوسٹ کو شیئر کریں، کمنٹ کریں اور فالو کریں تاکہ مزید ایسی کہانیاں آپ تک پہنچتی رہیں۔ کیونکہ تبدیلی کا آغاز صرف ایک خواب اور ایک قدم سے ہوتا ہے۔



    Follow Him on Kanwal Rekhi and other social media
    کانول سنگھ ریکھھی — راولپنڈی کا بیٹا، دنیا کا روشن چراغ کامیابی کی کہانیاں ہمیشہ دل کو چھو لیتی ہیں۔ لیکن کچھ کہانیاں صرف متاثر نہیں کرتیں بلکہ قوموں کو جگا دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے کانول سنگھ ریکھھی کی، جو 1945 میں پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا، اور یہیں سے ایک عام بچے نے غیر معمولی سفر شروع کیا۔ چھوٹے سے گھرانے سے نکل کر انہوں نے محنت اور تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا۔ پہلے IIT بمبئی سے انجینئرنگ کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ نوجوان ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب لے آئے گا۔ سلکان ویلی کی فتح امریکہ پہنچ کر انہوں نے ایک کمپنی بنائی جس کا نام تھا Excelan۔ اس کمپنی نے انٹرنیٹ اور نیٹ ورکنگ کی دنیا میں نئے در کھول دیے۔ چند سالوں بعد یہ کمپنی امریکہ کے بڑے اسٹاک ایکسچینج NASDAQ پر پبلک ہوئی — اور یوں کانول ریکھھی پہلے بھارتی نژاد CEO بنے جنہوں نے یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اس کے بعد وہ دنیا کی مشہور کمپنی Novell کے ٹاپ ایگزیکٹو بھی بنے۔ TiE کی بنیاد — نوجوانوں کے لیے روشنی کامیابی کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کے لیے راستے کھولنے والے بن گئے۔ انہوں نے TiE (The Indus Entrepreneurs) کی بنیاد رکھی۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا بزنس مینٹورنگ نیٹ ورک ہے جو ہزاروں نوجوانوں کو کاروبار، سرمایہ اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان ان سے انسپائر ہو کر اپنے خوابوں کو حقیقت بنا رہے ہیں۔ علم کے چراغ انہوں نے تعلیم کو بھی کبھی نہیں بھلایا۔ بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology قائم کیا، اور امریکہ میں اپنی مادرِ علمی کو کروڑوں ڈالر عطیہ دیے۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جو قوموں کو کھڑا کرتی ہے۔ دولت اور اثر و رسوخ آج ان کی دولت کا شمار سینکڑوں ملین ڈالرز میں ہوتا ہے۔ لیکن اصل دولت صرف پیسہ نہیں، بلکہ ہزاروں زندگیاں ہیں جنہیں انہوں نے متاثر کیا اور وہ خواب ہیں جنہیں انہوں نے حقیقت کا راستہ دکھایا۔ ⸻ سبق جو ہمیں سیکھنا چاہیے کانول ریکھھی کی زندگی ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے: • آپ چاہے کسی عام گھر میں پیدا ہوں، دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ • تعلیم اور محنت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ • اصل کامیابی وہ ہے جب آپ اپنی کامیابی سے دوسروں کے لیے بھی دروازے کھولیں۔ ⸻ پیغام برائے نوجوانان پاکستان 🇵🇰 یاد رکھو، یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کا آغاز راولپنڈی کی گلیوں سے ہوا اور اختتام دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک جا پہنچا۔ اگر وہ کر سکتے ہیں، تو آپ کیوں نہیں؟ اپنے خوابوں پر یقین رکھو، ہمت دکھاؤ، ناکامی سے ڈرو مت۔ ایک دن تمہاری کہانی بھی دنیا کو انسپائر کرے گی۔ ⸻ 🔥 اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی بھی بدلے تو اس پوسٹ کو شیئر کریں، کمنٹ کریں اور فالو کریں تاکہ مزید ایسی کہانیاں آپ تک پہنچتی رہیں۔ کیونکہ تبدیلی کا آغاز صرف ایک خواب اور ایک قدم سے ہوتا ہے۔ ⸻ Follow Him on Kanwal Rekhi and other social media
    0 Комментарии 0 Поделились 124 Просмотры
  • کانول ریکھھی: ایک وژنری لیڈر اور تعلیمی انقلابی

    کانول سنگھ ریکھھی، جنہیں آج دنیا ایک کامیاب ٹیکنالوجی لیڈر، سرمایہ کار اور سماجی رہنما کے طور پر جانتی ہے، 29 اگست 1945 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں تقسیمِ ہند کے ہنگاموں کو دیکھنے کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے آئی آئی ٹی بمبئی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز مکمل کیا۔

    امریکہ پہنچ کر انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور انجینئر کیا، لیکن جلد ہی انہوں نے کاروبار اور قیادت کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ پہلے بھارتی-امریکی تھے جنہوں نے Silicon Valley میں ایک وینچر بیکڈ کمپنی (Excelan) کو کامیابی سے عوامی سطح پر NASDAQ پر لسٹ کیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا نتیجہ تھی بلکہ ہزاروں دیگر بھارتی نژاد انجینئرز اور کاروباری افراد کے لیے ایک مثال بن گئی۔

    ریکھھی صرف کاروباری دنیا تک محدود نہ رہے بلکہ انہوں نے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جو آج دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے — TiE (The Indus Entrepreneurs)۔ TiE نے ہزاروں نئے کاروباری منصوبوں کو رہنمائی، سرمایہ اور مینٹورنگ فراہم کی اور جنوبی ایشیائی کاروباری برادری کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔

    ان کی فلاحی خدمات بھی شاندار ہیں۔ انہوں نے بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology (IIT بمبئی) کی بنیاد رکھی اور امریکہ میں Ann & Kanwal Rekhi Hall (Michigan Tech) تعمیر کروایا۔ ساتھ ہی وہ RAND Corporation کے Asia Pacific Policy Center کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔

    کانول ریکھھی کا ویژن ہمیشہ یہی رہا ہے کہ تعلیم، کاروبار اور ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نوجوانوں کو آزادی دی جائے تاکہ وہ ناکام ہو کر بھی سیکھ سکیں۔ ان کے مطابق، روایتی کالج نظام جس میں صرف اسائنمنٹ اور گریڈز کی دوڑ لگی ہو، آج کے دور میں نوجوانوں کو ناکارہ بنا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو اپنے کالج کے سالوں میں آئیڈیاز آزمانے، ناکامی سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقت کی دنیا میں پرکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔



    کانول ریکھھی کی تحریر (اردو ترجمہ)

    اگر میں کالج کا نصاب دوبارہ لکھوں تو سب سے پہلے اس میں طلبہ کو یہ آزادی دوں کہ وہ باہر جا کر حقیقت کی دنیا میں ناکام ہوں اور اس ناکامی سے سیکھیں۔

    لیکن آج کے وقت میں ہمارے طلبہ اپنی بہترین عمر ایک مہنگے کالج سسٹم میں قید ہو کر گزار دیتے ہیں، جہاں صرف اسائنمنٹس اور فائنل گریڈ کی پرواہ کی جاتی ہے۔

    یہ ماڈل شاید 1980 کی دہائی میں کارآمد تھا، لیکن 2025 میں، جب اے آئی آپ کے پیپرز آپ سے بہتر لکھ سکتی ہے، یہ نظام بالکل غیر متعلق ہو چکا ہے۔

    اسے درست کرنے کے لیے ہمیں دو بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی:

    طلبہ کو کالج کے ان برسوں میں ایک سیفٹی نیٹ دیا جائے، تاکہ وہ آئیڈیاز آزما سکیں، گِر سکیں اور اصل دنیا سے سیکھ سکیں۔

    طلبہ کو بہت جلد مختلف خانوں میں نہ باندھا جائے۔ پہلے چار سال انجینئرنگ کے بنیادی مضامین اور لبرل آرٹس کی مضبوط بنیاد رکھی جائے۔ اسپیشلائزیشن صرف تب آئے جب بنیاد پختہ ہو جائے۔

    لیکن مستقبل کے لیے تیاری صرف کالجوں کا کام نہیں، یہ طلبہ کی ذمہ داری بھی ہے۔ کیونکہ کالجوں کو نصاب بدلنے میں وقت لگے گا۔ اس دوران طلبہ کو خود قدم اٹھانا ہوگا — کوئی سائیڈ پراجیکٹ شروع کریں، نئے شعبوں میں انٹرن شپ کریں یا کوئی بزنس لانچ کریں۔ ناکامی کی فکر نہ کریں، بس کوشش پر توجہ دیں۔

    ورنہ اگر کچھ نہ بدلا تو ہم اپنی نوجوانی ایک پرانے اور بوسیدہ نظام پر ضائع کرتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بنیادوں کی طرف لوٹیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اے آئی سے چلنے والی نئی دنیا کے لیے خود کو تیار کریں !

    Thank you Kanwal Rekhi
    کانول ریکھھی: ایک وژنری لیڈر اور تعلیمی انقلابی کانول سنگھ ریکھھی، جنہیں آج دنیا ایک کامیاب ٹیکنالوجی لیڈر، سرمایہ کار اور سماجی رہنما کے طور پر جانتی ہے، 29 اگست 1945 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں تقسیمِ ہند کے ہنگاموں کو دیکھنے کے بعد ان کا خاندان بھارت منتقل ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے آئی آئی ٹی بمبئی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ گئے جہاں Michigan Technological University سے ماسٹرز مکمل کیا۔ امریکہ پہنچ کر انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور انجینئر کیا، لیکن جلد ہی انہوں نے کاروبار اور قیادت کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ پہلے بھارتی-امریکی تھے جنہوں نے Silicon Valley میں ایک وینچر بیکڈ کمپنی (Excelan) کو کامیابی سے عوامی سطح پر NASDAQ پر لسٹ کیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا نتیجہ تھی بلکہ ہزاروں دیگر بھارتی نژاد انجینئرز اور کاروباری افراد کے لیے ایک مثال بن گئی۔ ریکھھی صرف کاروباری دنیا تک محدود نہ رہے بلکہ انہوں نے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جو آج دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے — TiE (The Indus Entrepreneurs)۔ TiE نے ہزاروں نئے کاروباری منصوبوں کو رہنمائی، سرمایہ اور مینٹورنگ فراہم کی اور جنوبی ایشیائی کاروباری برادری کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔ ان کی فلاحی خدمات بھی شاندار ہیں۔ انہوں نے بھارت میں Kanwal Rekhi School of Information Technology (IIT بمبئی) کی بنیاد رکھی اور امریکہ میں Ann & Kanwal Rekhi Hall (Michigan Tech) تعمیر کروایا۔ ساتھ ہی وہ RAND Corporation کے Asia Pacific Policy Center کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔ کانول ریکھھی کا ویژن ہمیشہ یہی رہا ہے کہ تعلیم، کاروبار اور ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نوجوانوں کو آزادی دی جائے تاکہ وہ ناکام ہو کر بھی سیکھ سکیں۔ ان کے مطابق، روایتی کالج نظام جس میں صرف اسائنمنٹ اور گریڈز کی دوڑ لگی ہو، آج کے دور میں نوجوانوں کو ناکارہ بنا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو اپنے کالج کے سالوں میں آئیڈیاز آزمانے، ناکامی سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقت کی دنیا میں پرکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ⸻ کانول ریکھھی کی تحریر (اردو ترجمہ) اگر میں کالج کا نصاب دوبارہ لکھوں تو سب سے پہلے اس میں طلبہ کو یہ آزادی دوں کہ وہ باہر جا کر حقیقت کی دنیا میں ناکام ہوں اور اس ناکامی سے سیکھیں۔ لیکن آج کے وقت میں ہمارے طلبہ اپنی بہترین عمر ایک مہنگے کالج سسٹم میں قید ہو کر گزار دیتے ہیں، جہاں صرف اسائنمنٹس اور فائنل گریڈ کی پرواہ کی جاتی ہے۔ یہ ماڈل شاید 1980 کی دہائی میں کارآمد تھا، لیکن 2025 میں، جب اے آئی آپ کے پیپرز آپ سے بہتر لکھ سکتی ہے، یہ نظام بالکل غیر متعلق ہو چکا ہے۔ اسے درست کرنے کے لیے ہمیں دو بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی: 1️⃣ طلبہ کو کالج کے ان برسوں میں ایک سیفٹی نیٹ دیا جائے، تاکہ وہ آئیڈیاز آزما سکیں، گِر سکیں اور اصل دنیا سے سیکھ سکیں۔ 2️⃣ طلبہ کو بہت جلد مختلف خانوں میں نہ باندھا جائے۔ پہلے چار سال انجینئرنگ کے بنیادی مضامین اور لبرل آرٹس کی مضبوط بنیاد رکھی جائے۔ اسپیشلائزیشن صرف تب آئے جب بنیاد پختہ ہو جائے۔ لیکن مستقبل کے لیے تیاری صرف کالجوں کا کام نہیں، یہ طلبہ کی ذمہ داری بھی ہے۔ کیونکہ کالجوں کو نصاب بدلنے میں وقت لگے گا۔ اس دوران طلبہ کو خود قدم اٹھانا ہوگا — کوئی سائیڈ پراجیکٹ شروع کریں، نئے شعبوں میں انٹرن شپ کریں یا کوئی بزنس لانچ کریں۔ ناکامی کی فکر نہ کریں، بس کوشش پر توجہ دیں۔ ورنہ اگر کچھ نہ بدلا تو ہم اپنی نوجوانی ایک پرانے اور بوسیدہ نظام پر ضائع کرتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بنیادوں کی طرف لوٹیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اے آئی سے چلنے والی نئی دنیا کے لیے خود کو تیار کریں 🎓! Thank you Kanwal Rekhi
    0 Комментарии 0 Поделились 103 Просмотры
  • Upload your photo to chatgpt and ask it to make

    Ultra-realistic 16K cinematic action scene of the man in the uploaded photo (exact 1:1 facial resemblance — no beautification or identity changes). He is captured mid-punch as his fist shatters through the screen toward the viewer, creating an intense 3D effect. The impact sends cracks and shards of glass flying outward in hyper-detailed slow motion, illuminated by cinematic lighting. His expression is fierce and determined, veins visible, emphasizing raw power and motion. The background is a dark, dramatic urban setting — neon lights reflecting off wet streets, with streaks of light blurring from the rapid motion. Motion blur trails follow his arm and fist, giving a sense of speed and force, while sparks and glowing debris scatter around for extra intensity. Hyper-realistic textures on skin, clothing, and the broken glass fragments; dynamic rim lighting and sharp depth-of-field create a lifelike, immersive effect.
    Upload your photo to chatgpt and ask it to make Ultra-realistic 16K cinematic action scene of the man in the uploaded photo (exact 1:1 facial resemblance — no beautification or identity changes). He is captured mid-punch as his fist shatters through the screen toward the viewer, creating an intense 3D effect. The impact sends cracks and shards of glass flying outward in hyper-detailed slow motion, illuminated by cinematic lighting. His expression is fierce and determined, veins visible, emphasizing raw power and motion. The background is a dark, dramatic urban setting — neon lights reflecting off wet streets, with streaks of light blurring from the rapid motion. Motion blur trails follow his arm and fist, giving a sense of speed and force, while sparks and glowing debris scatter around for extra intensity. Hyper-realistic textures on skin, clothing, and the broken glass fragments; dynamic rim lighting and sharp depth-of-field create a lifelike, immersive effect.
    0 Комментарии 0 Поделились 82 Просмотры
  • باب: ٹیچر اسپوٹ لائٹ – سید رحمت علی شاہ

    Rehmat EmpowermentWala

    پس منظر اور جدوجہد

    میرا نام سید رحمت علی شاہ ہے اور میں کراچی، پاکستان سے ہوں۔ میں ایک نایاب بیماری Osteogenesis Imperfecta میں مبتلا ہوں، جسے عام زبان میں Brittle Bone Disease یعنی “کمزور ہڈیوں کی بیماری” کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے میری ہڈیاں اتنی نازک ہیں کہ اگر میں چلنے کی کوشش بھی کروں تو ٹوٹ سکتی ہیں۔

    بچپن میں میرے والدین مجھے گود میں اٹھا کر اسکول لے جاتے تھے۔ جوانی میں اکثر مجھے رینگ کر زمین پر چلنا پڑتا تھا۔ میری زندگی کا بڑا حصہ دوسروں پر انحصار کرتے گزرا۔ کبھی کوئی ملازمت نہ ملی۔ ہر ضرورت کے لیے والدین اور بھائیوں پر بھروسہ کرنا پڑتا۔ زیادہ تر وقت میں راتوں کو جاگ کر PUBG کھیلتا یا فلمیں دیکھتا تھا۔ دل ہی دل میں خواہش تھی کہ کاش میری زندگی میں بھی کوئی مقصد اور وقار ہو۔

    ریحان اللہ والا سے ملاقات

    میری زندگی کا رخ اس دن بدلا جب میری ملاقات ریحان اللہ والا سے ہوئی۔ انہوں نے مجھ میں وہ صلاحیت دیکھی جو میں خود نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میرا پہلا کام انہوں نے مجھے یہ دیا کہ میں طلباء کے انٹرویوز کروں۔

    یہ کام بظاہر آسان تھا مگر میرے لیے انقلابی تبدیلی لایا۔ پہلی بار میری زندگی میں کوئی ملازمت تھی، کوئی ذمہ داری تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے اپنی پہلی آمدنی سے گھر والوں کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں خریدیں۔ وہ لمحہ صرف کمائی کا نہیں تھا بلکہ وقار کا لمحہ تھا — احساس کہ اب میں بھی دوسروں کو کچھ دے سکتا ہوں۔

    مزید حوصلہ دینے کے لیے ریحان بھائی نے مجھے اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ وہاں بیٹھ کر، برابری کے ساتھ کھانا کھانا، میری زندگی کا خوش ترین لمحہ تھا۔

    تدریس کا سفر

    کئی انٹرویوز کرنے کے بعد مجھے نئی ذمہ داری ملی — طلباء کو خود انٹرویو کرنا سکھانا۔ پھر میں دولت بھائی کے ساتھ ریحان اسکول آن لائن اکیڈمی میں بطور فیسلیٹیٹر شامل ہوگیا۔ یہی میری تدریسی زندگی کا آغاز تھا۔

    ریحان اسکول سے پہلا تعارف

    میں 2020 سے ریحان بھائی کو آن لائن فالو کر رہا تھا۔ جب ریحان اسکول کورنگی میں شروع ہوا تو میں اس کی ہر خبر پر نظر رکھتا تھا۔ پھر مارچ 2023 میں جب مجھے آن لائن اکیڈمی میں شامل ہونے کی دعوت ملی، تو یہ میرے لیے زندگی بدل دینے والا موقع بن گیا۔

    پہلا تاثر

    ریحان اسکول کا سب سے حیران کن پہلو اس کا جدید نصاب تھا — جس میں مصنوعی ذہانت، کمیونیکیشن اور آمدنی پر مبنی تعلیم شامل تھی۔ میں اکثر کہتا ہوں:

    “کاش مجھے بچپن میں ایسا اسکول ملتا، تو میں آج کمالات دکھا رہا ہوتا۔”

    استاد نہیں، فیسلیٹیٹر

    ریحان اسکول میں میں روایتی استاد نہیں ہوں بلکہ ایک فیسلیٹیٹر ہوں۔ میرا کام خوشگوار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ بچے اعتماد کے ساتھ اپنی بات کر سکیں اور سیکھنے کا مزہ لیں۔ یہاں کوئی انا نہیں، سب ساتھ سیکھتے اور بڑھتے ہیں۔

    ایک عام دن

    ہمارا دن سلام دعا اور مراقبے سے شروع ہوتا ہے۔ پھر بچوں کے ٹاسک چیک کیے جاتے ہیں، TED Talks سنی جاتی ہیں، کمیونیکیشن کی پریکٹس یا مہمانوں کے سیشن ہوتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ دن بھر کی سرگرمیاں دلچسپ اور شوق انگیز ہوں تاکہ طلباء سیکھنے کا مزہ لیں۔

    AI، انٹرنیٹ اور مینٹورشپ کا استعمال
    • AI سے بچے فوری فیڈبیک کے ساتھ اپنی کمیونیکیشن پریکٹس کرتے ہیں۔
    • انٹرنیٹ انہیں علم اور دنیا بھر کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
    • مینٹورشپ انہیں عملی زندگی میں رہنمائی اور حوصلہ دیتی ہے۔

    طالبعلم کی کہانی – حمزہ شاہجہ کینوا والا

    ایک طالبعلم جس نے مجھے بہت متاثر کیا وہ حمزہ شاہجہ کینوا والا ہے، جو ابو ظہبی سے ہیں۔ وہ دونوں نظاموں (روایتی اسکول اور ریحان اسکول) میں اچھے تھے، لیکن ان کی والدہ نے ایک دن کہا:

    “حمزہ اب صرف ریحان اسکول سسٹم میں پڑھنا چاہتا ہے، روایتی اسکول چھوڑنا چاہتا ہے۔”

    یہ لمحہ میرے لیے ثبوت تھا کہ ہماری محنت واقعی بچوں کی سوچ بدل رہی ہے۔

    فخر کا لمحہ

    میری زندگی کا سب سے فخر کا دن 16 اپریل 2024 تھا جب میں نے ریحان اسکول ایجوکیشن فیسٹیول میں شرکت کی۔ وہاں طلباء اور فیسلیٹیٹرز نے مجھے مشہور شخصیت جیسا مقام دیا۔ ریحان بھائی اور ڈین یولن سے ملاقات نے اس دن کو اور بھی خاص بنا دیا۔

    ذاتی تبدیلی

    ریحان اسکول نے مجھے بدل دیا۔
    • میں نے اعتماد پایا، خاص طور پر کمیونیکیشن میں۔
    • میری AI اور ٹیکنالوجی کی مہارتیں بہتر ہوئیں۔
    • میرا ذہنیت منفی سے مثبت ہوگیا۔
    اب میں اپنے مسائل پر نہیں بلکہ دوسروں کو بااختیار بنانے پر توجہ دیتا ہوں۔

    ریحان اسکول کی انفرادیت

    کیونکہ یہ بچوں کو صرف کتابوں اور امتحانوں میں قید نہیں کرتا۔ یہ انہیں حقیقی زندگی کی مہارتیں، آمدنی کی طاقت اور خود اعتمادی دیتا ہے۔ یہ تعلیم نہیں بلکہ اصل معنوں میں اختیار دینا (Empowerment) ہے۔

    نعرے پر ایمان

    جی ہاں، میں “ہر بچہ کمائے گا ایک لاکھ ماہانہ” پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ مگر میں والدین کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ یہ فوری نہیں ہوتا۔ یہ ایک سفر ہے، جس میں صبر، لگن اور مستقل مزاجی چاہیے۔

    طلباء کے خواب

    پانچ سال بعد، میں اپنے طلباء کو دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ خودمختار کمائی کرنے والے، پُراعتماد کمیونیکیٹر اور مسئلہ حل کرنے والے ہوں، جو اپنی کمیونٹی کو اوپر لے جائیں۔

    میرا خواب

    دس سال بعد، میں چاہتا ہوں کہ میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو جاؤں، میرا اپنا گھر اور وہیل چیئر کے لیے موزوں گاڑی ہو۔ اس کے بعد میری زندگی کا مقصد یہ ہوگا کہ میں دوسرے معذور افراد کو بھی اعتماد، خودمختاری اور وقار دلاؤں۔

    یادگار لمحات
    • مضحکہ خیز لمحہ: جب میں نے اپنا سر منڈوا کر کلاس میں داخل ہوا تو بچوں نے میرا نام “Bald and Beautiful” رکھ دیا۔ یہ مزاحیہ رشتہ آج بھی ہنسی دیتا ہے۔
    • جذباتی لمحہ: جب میری طالبہ ارسلہ اقبال لہری اسکول چھوڑ گئی، تو مجھے لگا جیسے میرے خاندان کا کوئی فرد رخصت ہوگیا ہو۔

    ایک جملے میں ریحان اسکول

    “ریحان اسکول وہ ادارہ ہے جہاں بچے حقیقی زندگی کی مہارتیں سیکھتے ہیں، اعتماد بناتے ہیں، اور ڈگریوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنا مستقبل خود تخلیق کرتے ہیں۔”
    باب: ٹیچر اسپوٹ لائٹ – سید رحمت علی شاہ Rehmat EmpowermentWala پس منظر اور جدوجہد میرا نام سید رحمت علی شاہ ہے اور میں کراچی، پاکستان سے ہوں۔ میں ایک نایاب بیماری Osteogenesis Imperfecta میں مبتلا ہوں، جسے عام زبان میں Brittle Bone Disease یعنی “کمزور ہڈیوں کی بیماری” کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے میری ہڈیاں اتنی نازک ہیں کہ اگر میں چلنے کی کوشش بھی کروں تو ٹوٹ سکتی ہیں۔ بچپن میں میرے والدین مجھے گود میں اٹھا کر اسکول لے جاتے تھے۔ جوانی میں اکثر مجھے رینگ کر زمین پر چلنا پڑتا تھا۔ میری زندگی کا بڑا حصہ دوسروں پر انحصار کرتے گزرا۔ کبھی کوئی ملازمت نہ ملی۔ ہر ضرورت کے لیے والدین اور بھائیوں پر بھروسہ کرنا پڑتا۔ زیادہ تر وقت میں راتوں کو جاگ کر PUBG کھیلتا یا فلمیں دیکھتا تھا۔ دل ہی دل میں خواہش تھی کہ کاش میری زندگی میں بھی کوئی مقصد اور وقار ہو۔ ریحان اللہ والا سے ملاقات میری زندگی کا رخ اس دن بدلا جب میری ملاقات ریحان اللہ والا سے ہوئی۔ انہوں نے مجھ میں وہ صلاحیت دیکھی جو میں خود نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میرا پہلا کام انہوں نے مجھے یہ دیا کہ میں طلباء کے انٹرویوز کروں۔ یہ کام بظاہر آسان تھا مگر میرے لیے انقلابی تبدیلی لایا۔ پہلی بار میری زندگی میں کوئی ملازمت تھی، کوئی ذمہ داری تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے اپنی پہلی آمدنی سے گھر والوں کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں خریدیں۔ وہ لمحہ صرف کمائی کا نہیں تھا بلکہ وقار کا لمحہ تھا — احساس کہ اب میں بھی دوسروں کو کچھ دے سکتا ہوں۔ مزید حوصلہ دینے کے لیے ریحان بھائی نے مجھے اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ وہاں بیٹھ کر، برابری کے ساتھ کھانا کھانا، میری زندگی کا خوش ترین لمحہ تھا۔ تدریس کا سفر کئی انٹرویوز کرنے کے بعد مجھے نئی ذمہ داری ملی — طلباء کو خود انٹرویو کرنا سکھانا۔ پھر میں دولت بھائی کے ساتھ ریحان اسکول آن لائن اکیڈمی میں بطور فیسلیٹیٹر شامل ہوگیا۔ یہی میری تدریسی زندگی کا آغاز تھا۔ ریحان اسکول سے پہلا تعارف میں 2020 سے ریحان بھائی کو آن لائن فالو کر رہا تھا۔ جب ریحان اسکول کورنگی میں شروع ہوا تو میں اس کی ہر خبر پر نظر رکھتا تھا۔ پھر مارچ 2023 میں جب مجھے آن لائن اکیڈمی میں شامل ہونے کی دعوت ملی، تو یہ میرے لیے زندگی بدل دینے والا موقع بن گیا۔ پہلا تاثر ریحان اسکول کا سب سے حیران کن پہلو اس کا جدید نصاب تھا — جس میں مصنوعی ذہانت، کمیونیکیشن اور آمدنی پر مبنی تعلیم شامل تھی۔ میں اکثر کہتا ہوں: “کاش مجھے بچپن میں ایسا اسکول ملتا، تو میں آج کمالات دکھا رہا ہوتا۔” استاد نہیں، فیسلیٹیٹر ریحان اسکول میں میں روایتی استاد نہیں ہوں بلکہ ایک فیسلیٹیٹر ہوں۔ میرا کام خوشگوار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ بچے اعتماد کے ساتھ اپنی بات کر سکیں اور سیکھنے کا مزہ لیں۔ یہاں کوئی انا نہیں، سب ساتھ سیکھتے اور بڑھتے ہیں۔ ایک عام دن ہمارا دن سلام دعا اور مراقبے سے شروع ہوتا ہے۔ پھر بچوں کے ٹاسک چیک کیے جاتے ہیں، TED Talks سنی جاتی ہیں، کمیونیکیشن کی پریکٹس یا مہمانوں کے سیشن ہوتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ دن بھر کی سرگرمیاں دلچسپ اور شوق انگیز ہوں تاکہ طلباء سیکھنے کا مزہ لیں۔ AI، انٹرنیٹ اور مینٹورشپ کا استعمال • AI سے بچے فوری فیڈبیک کے ساتھ اپنی کمیونیکیشن پریکٹس کرتے ہیں۔ • انٹرنیٹ انہیں علم اور دنیا بھر کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ • مینٹورشپ انہیں عملی زندگی میں رہنمائی اور حوصلہ دیتی ہے۔ طالبعلم کی کہانی – حمزہ شاہجہ کینوا والا ایک طالبعلم جس نے مجھے بہت متاثر کیا وہ حمزہ شاہجہ کینوا والا ہے، جو ابو ظہبی سے ہیں۔ وہ دونوں نظاموں (روایتی اسکول اور ریحان اسکول) میں اچھے تھے، لیکن ان کی والدہ نے ایک دن کہا: “حمزہ اب صرف ریحان اسکول سسٹم میں پڑھنا چاہتا ہے، روایتی اسکول چھوڑنا چاہتا ہے۔” یہ لمحہ میرے لیے ثبوت تھا کہ ہماری محنت واقعی بچوں کی سوچ بدل رہی ہے۔ فخر کا لمحہ میری زندگی کا سب سے فخر کا دن 16 اپریل 2024 تھا جب میں نے ریحان اسکول ایجوکیشن فیسٹیول میں شرکت کی۔ وہاں طلباء اور فیسلیٹیٹرز نے مجھے مشہور شخصیت جیسا مقام دیا۔ ریحان بھائی اور ڈین یولن سے ملاقات نے اس دن کو اور بھی خاص بنا دیا۔ ذاتی تبدیلی ریحان اسکول نے مجھے بدل دیا۔ • میں نے اعتماد پایا، خاص طور پر کمیونیکیشن میں۔ • میری AI اور ٹیکنالوجی کی مہارتیں بہتر ہوئیں۔ • میرا ذہنیت منفی سے مثبت ہوگیا۔ اب میں اپنے مسائل پر نہیں بلکہ دوسروں کو بااختیار بنانے پر توجہ دیتا ہوں۔ ریحان اسکول کی انفرادیت کیونکہ یہ بچوں کو صرف کتابوں اور امتحانوں میں قید نہیں کرتا۔ یہ انہیں حقیقی زندگی کی مہارتیں، آمدنی کی طاقت اور خود اعتمادی دیتا ہے۔ یہ تعلیم نہیں بلکہ اصل معنوں میں اختیار دینا (Empowerment) ہے۔ نعرے پر ایمان جی ہاں، میں “ہر بچہ کمائے گا ایک لاکھ ماہانہ” پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ مگر میں والدین کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ یہ فوری نہیں ہوتا۔ یہ ایک سفر ہے، جس میں صبر، لگن اور مستقل مزاجی چاہیے۔ طلباء کے خواب پانچ سال بعد، میں اپنے طلباء کو دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ خودمختار کمائی کرنے والے، پُراعتماد کمیونیکیٹر اور مسئلہ حل کرنے والے ہوں، جو اپنی کمیونٹی کو اوپر لے جائیں۔ میرا خواب دس سال بعد، میں چاہتا ہوں کہ میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو جاؤں، میرا اپنا گھر اور وہیل چیئر کے لیے موزوں گاڑی ہو۔ اس کے بعد میری زندگی کا مقصد یہ ہوگا کہ میں دوسرے معذور افراد کو بھی اعتماد، خودمختاری اور وقار دلاؤں۔ یادگار لمحات • مضحکہ خیز لمحہ: جب میں نے اپنا سر منڈوا کر کلاس میں داخل ہوا تو بچوں نے میرا نام “Bald and Beautiful” رکھ دیا۔ یہ مزاحیہ رشتہ آج بھی ہنسی دیتا ہے۔ • جذباتی لمحہ: جب میری طالبہ ارسلہ اقبال لہری اسکول چھوڑ گئی، تو مجھے لگا جیسے میرے خاندان کا کوئی فرد رخصت ہوگیا ہو۔ ایک جملے میں ریحان اسکول “ریحان اسکول وہ ادارہ ہے جہاں بچے حقیقی زندگی کی مہارتیں سیکھتے ہیں، اعتماد بناتے ہیں، اور ڈگریوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنا مستقبل خود تخلیق کرتے ہیں۔”
    0 Комментарии 0 Поделились 566 Просмотры

  • Chapter: Teacher Spotlight – Rehmat EmpowermentWala

    Background & Struggles

    My name is Syed Rehmat Ali Shah, and I am from Karachi, Pakistan. Since birth, I have lived with a rare condition called Osteogenesis Imperfecta, commonly known as Brittle Bone Disease. It makes my bones so fragile that even a small movement or attempt to walk could break them.

    Because of this, my childhood was filled with challenges. My parents carried me to school when I was young. As an adult, I often had to crawl on the floor just to move around the house. I never had a regular job. I relied completely on my parents and brothers for everything. My nights were spent awake, playing PUBG or watching movies, while I quietly wished for a life of purpose and independence.

    Encounter with Rehan Allahwala

    Everything changed the day I encountered Rehan Allahwala. He saw potential in me when I could not see it in myself. To build my confidence, he gave me my very first job — conducting interviews with students.

    At first it felt simple, but for me it was life-changing. For the first time ever, I had a job. I had a purpose. I still remember the overwhelming joy of spending my first income on small things for my family. It wasn’t about the money, it was about dignity — the realization that I could finally give instead of always depending.

    To build my confidence further, Rehan Bhai invited me to his house for dinner. Sitting there, eating as an equal, was one of the happiest and most memorable moments of my life.

    Journey into Teaching

    After conducting many interviews, I was given a new responsibility: teaching students how to conduct interviews themselves. From there, I became a facilitator with Doulat Bhai at the Rehan School Online Academy. That was the real beginning of my teaching journey.

    First Encounter with Rehan School

    I had been following Rehan Bhai online since 2020. When he started Rehan School in Korangi, I kept up with every update. Then in March 2023, he asked me to join the Online Academy team. That was my entry into this mission of changing lives.

    First Impressions

    What amazed me about Rehan School was its unique curriculum — centered on Artificial Intelligence, communication, and earning-based learning. I often say:

    “If I had found such a school in my childhood, I would be doing wonders even greater than today.”

    A Facilitator, Not a Teacher

    At Rehan School, I don’t play the role of a “typical teacher.” I create a joyful environment where students feel safe, confident, and curious. Facilitators learn with the students and sometimes even from them. There is no ego here — only growth and discovery.

    A Typical Day

    Our day usually begins with greetings and meditation, followed by task-checking, TED Talks, communication practice, or guest sessions. The day is designed to be interactive and fun so that students enjoy learning.

    Using AI, Internet, and Mentorship
    • AI: helps students practice communication with instant feedback.
    • Internet: connects them to global opportunities far beyond books.
    • Mentorship: adds the human guidance and encouragement needed to apply learning in real life.

    Student Story – Hamzah Shajah CanvaWala

    One student who touched me deeply is Hamzah Shajah CanvaWala from Abu Dhabi. Although he excelled in both traditional school and Rehan School, his mother once told me:

    “Hamzah wants to continue with the Rehan School system instead of the traditional one.”

    That moment made me realize that what we are doing here is not just effective — it is inspiring real change in how children see education.

    Proudest Moment

    On 16th April 2024, during the Rehan School Education Festival at Korangi Campus, I was treated like a celebrity by the students and facilitators. Meeting Rehan Bhai and Dan Ulin there made it even more special.

    Personal Transformation

    Rehan School has completely transformed me.
    • I became confident in communication and leadership.
    • I improved my skills with AI and technology.
    • My mindset shifted from self-pity to empowerment.
    Now I think less about my own struggles and more about empowering others.

    Why Rehan School is Unique

    Because it doesn’t trap children in books and exams. It teaches real-life skills, earning ability, and confidence. It is not just education — it is empowerment.

    Belief in the Slogan

    Yes, I believe in “Har baccha kamay ga aik lakh mahana.” I’ve seen how it changes lives. But I remind parents that it is not instant magic — it is a journey that takes patience, dedication, and effort.

    Dreams for Students

    In the next 5 years, I dream my students will be independent earners, confident communicators, and problem-solvers who uplift their communities and create opportunities for others.

    My Own Dream

    In the next 10 years, I want to be fully independent, with my own home and a wheelchair-accessible car. After that, my mission is to dedicate my life to helping other persons with disabilities achieve the same confidence, independence, and dignity that I have found.

    Memorable Moments
    • Funny: When I shaved my head bald, students nicknamed me “Bald and Beautiful.” It became a playful bond we still laugh about.
    • Emotional: When my student Arsalah Iqbal Lehri left the school, it felt like losing a part of my family.

    One Sentence for Rehan School

    “Rehan School is a unique system where students learn real-life skills, build confidence, and prepare to create their own future instead of just chasing degrees.”
    ⸻ Chapter: Teacher Spotlight – Rehmat EmpowermentWala Background & Struggles My name is Syed Rehmat Ali Shah, and I am from Karachi, Pakistan. Since birth, I have lived with a rare condition called Osteogenesis Imperfecta, commonly known as Brittle Bone Disease. It makes my bones so fragile that even a small movement or attempt to walk could break them. Because of this, my childhood was filled with challenges. My parents carried me to school when I was young. As an adult, I often had to crawl on the floor just to move around the house. I never had a regular job. I relied completely on my parents and brothers for everything. My nights were spent awake, playing PUBG or watching movies, while I quietly wished for a life of purpose and independence. Encounter with Rehan Allahwala Everything changed the day I encountered Rehan Allahwala. He saw potential in me when I could not see it in myself. To build my confidence, he gave me my very first job — conducting interviews with students. At first it felt simple, but for me it was life-changing. For the first time ever, I had a job. I had a purpose. I still remember the overwhelming joy of spending my first income on small things for my family. It wasn’t about the money, it was about dignity — the realization that I could finally give instead of always depending. To build my confidence further, Rehan Bhai invited me to his house for dinner. Sitting there, eating as an equal, was one of the happiest and most memorable moments of my life. Journey into Teaching After conducting many interviews, I was given a new responsibility: teaching students how to conduct interviews themselves. From there, I became a facilitator with Doulat Bhai at the Rehan School Online Academy. That was the real beginning of my teaching journey. First Encounter with Rehan School I had been following Rehan Bhai online since 2020. When he started Rehan School in Korangi, I kept up with every update. Then in March 2023, he asked me to join the Online Academy team. That was my entry into this mission of changing lives. First Impressions What amazed me about Rehan School was its unique curriculum — centered on Artificial Intelligence, communication, and earning-based learning. I often say: “If I had found such a school in my childhood, I would be doing wonders even greater than today.” A Facilitator, Not a Teacher At Rehan School, I don’t play the role of a “typical teacher.” I create a joyful environment where students feel safe, confident, and curious. Facilitators learn with the students and sometimes even from them. There is no ego here — only growth and discovery. A Typical Day Our day usually begins with greetings and meditation, followed by task-checking, TED Talks, communication practice, or guest sessions. The day is designed to be interactive and fun so that students enjoy learning. Using AI, Internet, and Mentorship • AI: helps students practice communication with instant feedback. • Internet: connects them to global opportunities far beyond books. • Mentorship: adds the human guidance and encouragement needed to apply learning in real life. Student Story – Hamzah Shajah CanvaWala One student who touched me deeply is Hamzah Shajah CanvaWala from Abu Dhabi. Although he excelled in both traditional school and Rehan School, his mother once told me: “Hamzah wants to continue with the Rehan School system instead of the traditional one.” That moment made me realize that what we are doing here is not just effective — it is inspiring real change in how children see education. Proudest Moment On 16th April 2024, during the Rehan School Education Festival at Korangi Campus, I was treated like a celebrity by the students and facilitators. Meeting Rehan Bhai and Dan Ulin there made it even more special. Personal Transformation Rehan School has completely transformed me. • I became confident in communication and leadership. • I improved my skills with AI and technology. • My mindset shifted from self-pity to empowerment. Now I think less about my own struggles and more about empowering others. Why Rehan School is Unique Because it doesn’t trap children in books and exams. It teaches real-life skills, earning ability, and confidence. It is not just education — it is empowerment. Belief in the Slogan Yes, I believe in “Har baccha kamay ga aik lakh mahana.” I’ve seen how it changes lives. But I remind parents that it is not instant magic — it is a journey that takes patience, dedication, and effort. Dreams for Students In the next 5 years, I dream my students will be independent earners, confident communicators, and problem-solvers who uplift their communities and create opportunities for others. My Own Dream In the next 10 years, I want to be fully independent, with my own home and a wheelchair-accessible car. After that, my mission is to dedicate my life to helping other persons with disabilities achieve the same confidence, independence, and dignity that I have found. Memorable Moments • Funny: When I shaved my head bald, students nicknamed me “Bald and Beautiful.” It became a playful bond we still laugh about. • Emotional: When my student Arsalah Iqbal Lehri left the school, it felt like losing a part of my family. One Sentence for Rehan School “Rehan School is a unique system where students learn real-life skills, build confidence, and prepare to create their own future instead of just chasing degrees.”
    0 Комментарии 0 Поделились 565 Просмотры
  • Join the community

    https://chat.whatsapp.com/Jmxt5uLVahLEuC8NIZeIah?mode=ems_copy_c
    Join the community https://chat.whatsapp.com/Jmxt5uLVahLEuC8NIZeIah?mode=ems_copy_c
    0 Комментарии 0 Поделились 82 Просмотры
  • جب پوری دنیا پاکستان چھوڑنا چاہتی ہے…

    آج ہر طرف ایک ہی شور ہے:
    “پاکستان سے نکل جاؤ، باہر چلے جاؤ، یہاں کچھ نہیں رکھا!”

    لیکن عین اسی وقت، ایک لڑکی نے سب کو حیران کر دیا۔
    یہ ہیں جیسمن پٹیل – پاکستان والی

    جہاں سب لوگ پاکستان سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے ہیں، وہاں یہ بہادر لڑکی امریکہ سے ہجرت کرکے پاکستان آئی ہے۔
    اتنا ہی نہیں، اس نے اپنی پہچان بدل کر اپنا نیا نام رکھا:
    پاکستان والی

    اب سوال یہ ہے:
    کیوں آئی وہ پاکستان؟

    کیونکہ پاکستان ہے دنیا کا پہلا ملک جہاں قائم ہوا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہائی اسکول اور کالج۔
    جی ہاں! دنیا کا پہلا AI-First School، جہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ:
    قائد بننا سیکھتے ہیں
    دنیا کے ساتھ جڑنا سیکھتے ہیں
    اور انسانیت کو آگے بڑھانے کے خواب دیکھتے ہیں

    جیسمن امریکہ سے پاکستان اس لئے آئی کہ وہ یہاں سے سیکھے، اور پھر واپس جا کر اپنے ملک اور پوری دنیا کو یہ علم سکھائے۔
    وہ جانتی ہے کہ یہ موقع — یہ انقلاب — ابھی صرف اور صرف پاکستان میں موجود ہے۔

    لیکن میرا دل یہ سوچ کر دکھتا ہے کہ…
    جبکہ یہ موقع آپ کے اپنے ہی شہر میں ہے،
    آپ کے اپنے ہی ملک میں ہے،
    تو آپ کیوں نہیں آ رہے؟
    آپ کیوں اپنی آنکھوں کے سامنے اس انقلاب کو ضائع کر رہے ہیں؟

    دنیا بھر کے لوگ علم کے لئے چین جاتے ہیں۔
    لیکن آج، علم کا نیا سورج پاکستان میں طلوع ہو چکا ہے —
    ریحان اسکول کے ذریعے۔
    یہ وہ تعلیم ہے جو آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔

    اگر جیسمن امریکہ چھوڑ کر پاکستان آ سکتی ہے، تو آپ کو کیا روک رہا ہے؟
    یہ آپ کے لئے ایک امتحان ہے۔
    یا تو آپ اس انقلاب کا حصہ بنیں، یا پھر کل دنیا آپ کو پیچھے چھوڑ جائے گی۔

    آج ہی ٹیچر ٹریننگ پروگرام اور ریحان اسکول کا حصہ بنیں۔
    اپنے گھر کو بدلیں، اپنے شہر کو بدلیں، اپنے ملک کو بدلیں۔
    کیونکہ مستقبل اُن کا ہے جو آج پہلا قدم اُٹھاتے ہیں۔

    #جیسمن_پٹیل #پاکستانوالی #ریحان_اسکول #ArtificialIntelligence #FutureOfEducation #PakistanRising
    😭🌍 جب پوری دنیا پاکستان چھوڑنا چاہتی ہے… 🌍😭 آج ہر طرف ایک ہی شور ہے: “پاکستان سے نکل جاؤ، باہر چلے جاؤ، یہاں کچھ نہیں رکھا!” لیکن عین اسی وقت، ایک لڑکی نے سب کو حیران کر دیا۔ یہ ہیں جیسمن پٹیل – پاکستان والی 🇵🇰❤️ جہاں سب لوگ پاکستان سے ہجرت کر کے باہر جانا چاہتے ہیں، وہاں یہ بہادر لڑکی امریکہ سے ہجرت کرکے پاکستان آئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، اس نے اپنی پہچان بدل کر اپنا نیا نام رکھا: پاکستان والی ✨ اب سوال یہ ہے: کیوں آئی وہ پاکستان؟ 🤔 کیونکہ پاکستان ہے دنیا کا پہلا ملک جہاں قائم ہوا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہائی اسکول اور کالج۔ جی ہاں! دنیا کا پہلا AI-First School، جہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ: ✅ قائد بننا سیکھتے ہیں ✅ دنیا کے ساتھ جڑنا سیکھتے ہیں ✅ اور انسانیت کو آگے بڑھانے کے خواب دیکھتے ہیں 🚀 جیسمن امریکہ سے پاکستان اس لئے آئی کہ وہ یہاں سے سیکھے، اور پھر واپس جا کر اپنے ملک اور پوری دنیا کو یہ علم سکھائے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ موقع — یہ انقلاب — ابھی صرف اور صرف پاکستان میں موجود ہے۔ لیکن میرا دل یہ سوچ کر دکھتا ہے کہ… جبکہ یہ موقع آپ کے اپنے ہی شہر میں ہے، آپ کے اپنے ہی ملک میں ہے، تو آپ کیوں نہیں آ رہے؟ آپ کیوں اپنی آنکھوں کے سامنے اس انقلاب کو ضائع کر رہے ہیں؟ دنیا بھر کے لوگ علم کے لئے چین جاتے ہیں۔ لیکن آج، علم کا نیا سورج پاکستان میں طلوع ہو چکا ہے — ریحان اسکول کے ذریعے۔ یہ وہ تعلیم ہے جو آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔ 🌟 اگر جیسمن امریکہ چھوڑ کر پاکستان آ سکتی ہے، تو آپ کو کیا روک رہا ہے؟ یہ آپ کے لئے ایک امتحان ہے۔ یا تو آپ اس انقلاب کا حصہ بنیں، یا پھر کل دنیا آپ کو پیچھے چھوڑ جائے گی۔ 🚀 آج ہی ٹیچر ٹریننگ پروگرام اور ریحان اسکول کا حصہ بنیں۔ اپنے گھر کو بدلیں، اپنے شہر کو بدلیں، اپنے ملک کو بدلیں۔ کیونکہ مستقبل اُن کا ہے جو آج پہلا قدم اُٹھاتے ہیں۔ #جیسمن_پٹیل #پاکستانوالی #ریحان_اسکول #ArtificialIntelligence #FutureOfEducation #PakistanRising
    0 Комментарии 0 Поделились 1613 Просмотры