بھائی جان انگریز برصغیر سے بہت کچھ لوٹ کر لے گیا ، مگر سب سے قیمتی چیز جو وہ ہم سے لے گیا ، معلوم ہے کیا ۔۔۔ وہ تھی ہماری خود اعتمادی اور ذہنی عسرت ۔ ہمیں ہر چیز میں سازش ، منفی چیزیں اور ناکامی ہی کیوں نظر آتی ہے ۔ ہم نا تو غریب قوم ہیں اور نہ ہی جاہل ، بس ہم تھوڑے ذہنی پستی میں گرے ہوئے ہیں ۔ آپ ان لوگوں کو بازو پکڑ کر روشن خیال کی طرف لا تو رہے ہیں مگر یہ لوگ الٹا آپ ہی کو نیچے گھسیٹ رہے ہیں ۔
100 ڈالر میں 100 GB سپیڈ کا انٹرنیٹ، اور کے ٹو کی پہاڑی سے گوادر کی گھاٹی تک ہر جگہ کور ، مستزاد یہ کہ کسی قسم کی سنسر شپ اور ڈاون ٹائم کی مشکل سے آذاد ۔
ٹیکنالوجی کے اس معجزے پر خوش ہونے اور اس سے جڑی Opportunities کو کھنگالنے کی بجائے ہم مہنگے اور سستے کے رونے میں پڑ ے ہوئے ہیں ، ہے کوئی ہم جیسا۔۔۔۔ ؟ بندہ خدا دیکھو تو صحیح کہ کیا انقلاب آفریں بات کہی ہے ریحان بھائی نے ، انٹرپرینورشپ کی نئی دنیا دکھائی ہے۔ اور ایک ہم ہیں کہ دماغ کے روشندان کھول ہی نہیں رہے ۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں جوتے پڑتے رہیں کوئی اعتراض نہیں بس صرف جوتے مارنے پر موجود ملازمین کی تعداد کچھ بڑھا دی جائے ۔
ہم ذہنی غریب ہیں سر ، انگریز جاتے ہوئے ہماری ذہنی آذادی چھین کر لے گیا ۔۔۔۔
Via Sharjeel Akbar
100 ڈالر میں 100 GB سپیڈ کا انٹرنیٹ، اور کے ٹو کی پہاڑی سے گوادر کی گھاٹی تک ہر جگہ کور ، مستزاد یہ کہ کسی قسم کی سنسر شپ اور ڈاون ٹائم کی مشکل سے آذاد ۔
ٹیکنالوجی کے اس معجزے پر خوش ہونے اور اس سے جڑی Opportunities کو کھنگالنے کی بجائے ہم مہنگے اور سستے کے رونے میں پڑ ے ہوئے ہیں ، ہے کوئی ہم جیسا۔۔۔۔ ؟ بندہ خدا دیکھو تو صحیح کہ کیا انقلاب آفریں بات کہی ہے ریحان بھائی نے ، انٹرپرینورشپ کی نئی دنیا دکھائی ہے۔ اور ایک ہم ہیں کہ دماغ کے روشندان کھول ہی نہیں رہے ۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں جوتے پڑتے رہیں کوئی اعتراض نہیں بس صرف جوتے مارنے پر موجود ملازمین کی تعداد کچھ بڑھا دی جائے ۔
ہم ذہنی غریب ہیں سر ، انگریز جاتے ہوئے ہماری ذہنی آذادی چھین کر لے گیا ۔۔۔۔
Via Sharjeel Akbar
بھائی جان انگریز برصغیر سے بہت کچھ لوٹ کر لے گیا ، مگر سب سے قیمتی چیز جو وہ ہم سے لے گیا ، معلوم ہے کیا ۔۔۔ وہ تھی ہماری خود اعتمادی اور ذہنی عسرت ۔ ہمیں ہر چیز میں سازش ، منفی چیزیں اور ناکامی ہی کیوں نظر آتی ہے ۔ ہم نا تو غریب قوم ہیں اور نہ ہی جاہل ، بس ہم تھوڑے ذہنی پستی میں گرے ہوئے ہیں ۔ آپ ان لوگوں کو بازو پکڑ کر روشن خیال کی طرف لا تو رہے ہیں مگر یہ لوگ الٹا آپ ہی کو نیچے گھسیٹ رہے ہیں ۔
100 ڈالر میں 100 GB سپیڈ کا انٹرنیٹ، اور کے ٹو کی پہاڑی سے گوادر کی گھاٹی تک ہر جگہ کور ، مستزاد یہ کہ کسی قسم کی سنسر شپ اور ڈاون ٹائم کی مشکل سے آذاد ۔
ٹیکنالوجی کے اس معجزے پر خوش ہونے اور اس سے جڑی Opportunities کو کھنگالنے کی بجائے ہم مہنگے اور سستے کے رونے میں پڑ ے ہوئے ہیں ، ہے کوئی ہم جیسا۔۔۔۔ ؟ بندہ خدا دیکھو تو صحیح کہ کیا انقلاب آفریں بات کہی ہے ریحان بھائی نے ، انٹرپرینورشپ کی نئی دنیا دکھائی ہے۔ اور ایک ہم ہیں کہ دماغ کے روشندان کھول ہی نہیں رہے ۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں جوتے پڑتے رہیں کوئی اعتراض نہیں بس صرف جوتے مارنے پر موجود ملازمین کی تعداد کچھ بڑھا دی جائے ۔
ہم ذہنی غریب ہیں سر ، انگریز جاتے ہوئے ہماری ذہنی آذادی چھین کر لے گیا ۔۔۔۔
Via Sharjeel Akbar
0 Commenti
0 condivisioni
448 Views