• "پیشں گوئی کی گئی ہے کہ اگلے آٹھ سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔ پورے خطے کا نظام نقل و حمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی ۔ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو ااختیار کرنے میں دیر کی ۔خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ ا پنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوں پرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔. موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی۔
    اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔
    پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس طرح تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے ۔ افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔ اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاںطویل فاصلے طے کر سکتی ہیں او ر بیٹری کو با ر بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔ گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔ برقی موٹرگاڑیاں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوںکلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کا فی تیزی سے کم ہو رہی ہیں --
    2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,000امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گا ڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔ چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔

    ڈاکٹر عطاء الرحمٰن"

    Courtesy: Abdul Qayyum Tahir
    "پیشں گوئی کی گئی ہے کہ اگلے آٹھ سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔ پورے خطے کا نظام نقل و حمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی ۔ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو ااختیار کرنے میں دیر کی ۔خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ ا پنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوں پرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔. موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی۔ اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔ پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس طرح تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے ۔ افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔ اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاںطویل فاصلے طے کر سکتی ہیں او ر بیٹری کو با ر بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔ گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔ برقی موٹرگاڑیاں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوںکلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کا فی تیزی سے کم ہو رہی ہیں -- 2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,000امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گا ڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔ چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن" Courtesy: Abdul Qayyum Tahir
    0 Commenti 0 condivisioni 265 Views
  • Can someone introduce me to her !

    (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 دسمبر 2018ء) : ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے لیے چیف جسٹس نےڈیم فنڈ بھی قائم کیا ۔ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں وزیراعظم عمران خان نے بھی عطیہ کرنے کی اپیل کی جس کے بعد اس فنڈ کا نام وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ رکھ دیا گیا۔ ڈیمز کی تعمیر تو پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لیے بنائے جانے کا اعلان کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ضائع ہونے والے پانی کوکیسے بچایا جائے۔
    اس مشکل ترین سوال کا جواب پاکستان کی ایک خاتون سائنسدان نے ڈھونڈ نکالا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی سابق یونیسکو چئیرہولڈر، ریسرچ آفیسر اور مرکز برائے مربوط پہاڑی علاقہ جات پر تحقیق کی بانی ڈائریکٹر اور سارک ریجن میں پہلی پروفیسر ڈاکٹر خالدہ مسرت نے ملک میں بڑھتے ہوئے پانی بحران کے پیش نظر، زیر زمین پانی کو آلودگی سے پاک کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔
    00:00
    انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ویسٹ واٹر سیگریگیشن استیریٹجی کی ضرورت ہے جس کے تحت آلودہ پانی کو صاف پانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس پر ریسرچ کی جس پر ہمیں کافی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف لاہور میں ہی روزانہ 90 ہزار لیٹر پانی کو آلودہ ہونے سے بچا کر استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی پالیسی سازوں سمیت تمام با اثر افراد سے میری التماس ہے کہ آگے بڑھیں اور میرے اس کام میں میرے ساتھ شامل ہوں۔ عالمی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر خالدہ مسرت خان اپنے گھر کے ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال کرتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا یہ تجربہپانی کے بحران کا شکار پاکستان جیسے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔
    Can someone introduce me to her ! (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 دسمبر 2018ء) : ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے لیے چیف جسٹس نےڈیم فنڈ بھی قائم کیا ۔ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں وزیراعظم عمران خان نے بھی عطیہ کرنے کی اپیل کی جس کے بعد اس فنڈ کا نام وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ رکھ دیا گیا۔ ڈیمز کی تعمیر تو پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لیے بنائے جانے کا اعلان کیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ضائع ہونے والے پانی کوکیسے بچایا جائے۔ اس مشکل ترین سوال کا جواب پاکستان کی ایک خاتون سائنسدان نے ڈھونڈ نکالا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی سابق یونیسکو چئیرہولڈر، ریسرچ آفیسر اور مرکز برائے مربوط پہاڑی علاقہ جات پر تحقیق کی بانی ڈائریکٹر اور سارک ریجن میں پہلی پروفیسر ڈاکٹر خالدہ مسرت نے ملک میں بڑھتے ہوئے پانی بحران کے پیش نظر، زیر زمین پانی کو آلودگی سے پاک کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ 00:00 انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ویسٹ واٹر سیگریگیشن استیریٹجی کی ضرورت ہے جس کے تحت آلودہ پانی کو صاف پانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اس پر ریسرچ کی جس پر ہمیں کافی سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف لاہور میں ہی روزانہ 90 ہزار لیٹر پانی کو آلودہ ہونے سے بچا کر استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی پالیسی سازوں سمیت تمام با اثر افراد سے میری التماس ہے کہ آگے بڑھیں اور میرے اس کام میں میرے ساتھ شامل ہوں۔ عالمی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر خالدہ مسرت خان اپنے گھر کے ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال کرتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا یہ تجربہپانی کے بحران کا شکار پاکستان جیسے ملک میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 230 Views
  • بھائی جان انگریز برصغیر سے بہت کچھ لوٹ کر لے گیا ، مگر سب سے قیمتی چیز جو وہ ہم سے لے گیا ، معلوم ہے کیا ۔۔۔ وہ تھی ہماری خود اعتمادی اور ذہنی عسرت ۔ ہمیں ہر چیز میں سازش ، منفی چیزیں اور ناکامی ہی کیوں نظر آتی ہے ۔ ہم نا تو غریب قوم ہیں اور نہ ہی جاہل ، بس ہم تھوڑے ذہنی پستی میں گرے ہوئے ہیں ۔ آپ ان لوگوں کو بازو پکڑ کر روشن خیال کی طرف لا تو رہے ہیں مگر یہ لوگ الٹا آپ ہی کو نیچے گھسیٹ رہے ہیں ۔
    100 ڈالر میں 100 GB سپیڈ کا انٹرنیٹ، اور کے ٹو کی پہاڑی سے گوادر کی گھاٹی تک ہر جگہ کور ، مستزاد یہ کہ کسی قسم کی سنسر شپ اور ڈاون ٹائم کی مشکل سے آذاد ۔
    ٹیکنالوجی کے اس معجزے پر خوش ہونے اور اس سے جڑی Opportunities کو کھنگالنے کی بجائے ہم مہنگے اور سستے کے رونے میں پڑ ے ہوئے ہیں ، ہے کوئی ہم جیسا۔۔۔۔ ؟ بندہ خدا دیکھو تو صحیح کہ کیا انقلاب آفریں بات کہی ہے ریحان بھائی نے ، انٹرپرینورشپ کی نئی دنیا دکھائی ہے۔ اور ایک ہم ہیں کہ دماغ کے روشندان کھول ہی نہیں رہے ۔
    ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں جوتے پڑتے رہیں کوئی اعتراض نہیں بس صرف جوتے مارنے پر موجود ملازمین کی تعداد کچھ بڑھا دی جائے ۔
    ہم ذہنی غریب ہیں سر ، انگریز جاتے ہوئے ہماری ذہنی آذادی چھین کر لے گیا ۔۔۔۔

    Via Sharjeel Akbar
    بھائی جان انگریز برصغیر سے بہت کچھ لوٹ کر لے گیا ، مگر سب سے قیمتی چیز جو وہ ہم سے لے گیا ، معلوم ہے کیا ۔۔۔ وہ تھی ہماری خود اعتمادی اور ذہنی عسرت ۔ ہمیں ہر چیز میں سازش ، منفی چیزیں اور ناکامی ہی کیوں نظر آتی ہے ۔ ہم نا تو غریب قوم ہیں اور نہ ہی جاہل ، بس ہم تھوڑے ذہنی پستی میں گرے ہوئے ہیں ۔ آپ ان لوگوں کو بازو پکڑ کر روشن خیال کی طرف لا تو رہے ہیں مگر یہ لوگ الٹا آپ ہی کو نیچے گھسیٹ رہے ہیں ۔ 100 ڈالر میں 100 GB سپیڈ کا انٹرنیٹ، اور کے ٹو کی پہاڑی سے گوادر کی گھاٹی تک ہر جگہ کور ، مستزاد یہ کہ کسی قسم کی سنسر شپ اور ڈاون ٹائم کی مشکل سے آذاد ۔ ٹیکنالوجی کے اس معجزے پر خوش ہونے اور اس سے جڑی Opportunities کو کھنگالنے کی بجائے ہم مہنگے اور سستے کے رونے میں پڑ ے ہوئے ہیں ، ہے کوئی ہم جیسا۔۔۔۔ ؟ بندہ خدا دیکھو تو صحیح کہ کیا انقلاب آفریں بات کہی ہے ریحان بھائی نے ، انٹرپرینورشپ کی نئی دنیا دکھائی ہے۔ اور ایک ہم ہیں کہ دماغ کے روشندان کھول ہی نہیں رہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں جوتے پڑتے رہیں کوئی اعتراض نہیں بس صرف جوتے مارنے پر موجود ملازمین کی تعداد کچھ بڑھا دی جائے ۔ ہم ذہنی غریب ہیں سر ، انگریز جاتے ہوئے ہماری ذہنی آذادی چھین کر لے گیا ۔۔۔۔ Via Sharjeel Akbar
    0 Commenti 0 condivisioni 349 Views
  • حکومت ایک ایک ڈالر کیلیے بدوؤں سے بھیک مانگتی ہے۔

    قوم کو ذلیل کرواتی ہے۔

    عزت نفس کا سودا کرتی ہے۔

    پوری قوم کو "یتامی والمساکین" بنا کر رکھ دیا ہے۔

    ایک ملین ڈیجیٹل ورکرز کی فوج تیار کرو جو مہینے میں صرف ایک ہزار ڈالر کمائے تو ایک ارب ڈالر بنتے ہیں

    1,000,000 x 1000 = 1,000,000,000

    جی ڈیجیٹل ورکرز کون ہو گے۔

    1. Freelancers
    2. Bloggers
    3. Youtubers
    4. Virtual Assistants

    کرنا کیا ہوگا؟

    ہنر کی ٹریننگ
    فری لانسنگ کی ٹریننگ
    لکھنے کی ٹریننگ
    انگلش زبان کی ٹریننگ
    کنٹنٹ بنانے کی ٹریننگ
    ایس ای او کی ٹریننگ
    گاہک کو قائل کرنے کی ٹریننگ
    اخلاقیات کی ٹریننگ

    صرف بصیرت اور عزم چاہیے۔ پاکستان ایک سال کے اندر مستحکم ہوسکتا ہے۔

    ایک ہونہار بچہ اگر ایک سال میں محنت کرے تو خاندان کی قسمت بدل دیتا ہے۔
    10 لاکھ بچے ملک میں انقلاب لا سکتےہیں
    آج یہ نوجوان تیار کر دو کل یہ بنگلور اور حیدر آباد ( انڈیا) جیسے ڈیجیٹل سٹی خود کھڑے کر لیں گے
    Thanks to Shahid Saeed sb

    Via Liaqat Jawaid
    حکومت ایک ایک ڈالر کیلیے بدوؤں سے بھیک مانگتی ہے۔ قوم کو ذلیل کرواتی ہے۔ عزت نفس کا سودا کرتی ہے۔ پوری قوم کو "یتامی والمساکین" بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ملین ڈیجیٹل ورکرز کی فوج تیار کرو جو مہینے میں صرف ایک ہزار ڈالر کمائے تو ایک ارب ڈالر بنتے ہیں 1,000,000 x 1000 = 1,000,000,000 جی ڈیجیٹل ورکرز کون ہو گے۔ 1. Freelancers 2. Bloggers 3. Youtubers 4. Virtual Assistants کرنا کیا ہوگا؟ ہنر کی ٹریننگ فری لانسنگ کی ٹریننگ لکھنے کی ٹریننگ انگلش زبان کی ٹریننگ کنٹنٹ بنانے کی ٹریننگ ایس ای او کی ٹریننگ گاہک کو قائل کرنے کی ٹریننگ اخلاقیات کی ٹریننگ صرف بصیرت اور عزم چاہیے۔ پاکستان ایک سال کے اندر مستحکم ہوسکتا ہے۔ ایک ہونہار بچہ اگر ایک سال میں محنت کرے تو خاندان کی قسمت بدل دیتا ہے۔ 10 لاکھ بچے ملک میں انقلاب لا سکتےہیں آج یہ نوجوان تیار کر دو کل یہ بنگلور اور حیدر آباد ( انڈیا) جیسے ڈیجیٹل سٹی خود کھڑے کر لیں گے Thanks to Shahid Saeed sb Via Liaqat Jawaid
    0 Commenti 0 condivisioni 822 Views
  • ہفتے کی رات، پردے کے پیچھے کیا ہوا؟

    قرارداد عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔

    لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا۔

    کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔

    اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔

    ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔

    ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔

    شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔

    ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔

    سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

    اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی.

    آصف فاروقی
    بی بی سی اردو
    ہفتے کی رات، پردے کے پیچھے کیا ہوا؟ قرارداد عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔ سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔ لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔ اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔ اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔ شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔ ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔ بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی. آصف فاروقی بی بی سی اردو
    0 Commenti 0 condivisioni 435 Views
  • یہ دور اک انقلابی سوچ میں پروان چڑھا ہے
    جدھر سے درس مل جائیں وہاں جانا وہی جانا

    بہت وابستہ ہے تم سے امیدیں والدین کے
    جو بھڑکائیں نہ تم ان کی سنو نہ راس آنا

    ریحان اللہ والا اک نصیحت کر رہا ہے
    سنو بچو کمانا تم کمانا تم کمانا تم کمانا

    جو مال و زر تجھے مل جائیں مدد کرنا غریبوں کی
    غنی بن کر رہا کرنا سخی بننا نہ کرنا پھر بہانا

    یہ دولت کچھ نہیں لیکن اسی سے
    کسی محتاج کا تم گھر سجانا آزمانا

    Via P R Ali Sabeel
    Gilgit - Lahore
    یہ دور اک انقلابی سوچ میں پروان چڑھا ہے جدھر سے درس مل جائیں وہاں جانا وہی جانا بہت وابستہ ہے تم سے امیدیں والدین کے جو بھڑکائیں نہ تم ان کی سنو نہ راس آنا ریحان اللہ والا اک نصیحت کر رہا ہے سنو بچو کمانا تم کمانا تم کمانا تم کمانا جو مال و زر تجھے مل جائیں مدد کرنا غریبوں کی غنی بن کر رہا کرنا سخی بننا نہ کرنا پھر بہانا یہ دولت کچھ نہیں لیکن اسی سے کسی محتاج کا تم گھر سجانا آزمانا Via P R Ali Sabeel Gilgit - Lahore
    0 Commenti 0 condivisioni 158 Views
  • Prompt: write a patriotic song about pakistan in urdu where each couplet is 8 words long and qafia is "pakistan main"
    (Best results with GPT4)

    Results

    محبتوں کا جہاں ہے، عشق پاکستان میں
    آئیں ہاتھ بڑھائیں، مل کر پاکستان میں

    سرسبز و شاداب ہے، خوشبو پاکستان میں
    علم و فن کی روشنی، جگمگ پاکستان میں

    قوم کے عزم کو دیکھو، دلیر پاکستان میں
    عالم کا سر فخر ہے، یہ پرچم پاکستان میں

    امن کی کوکھ ماں ہے، جیوتی پاکستان میں
    انقلاب کی روح بسی، آزاد پاکستان میں

    آؤ مل کر کریں عزم، تعمیر پاکستان میں
    پھر سے روشن کریں چرچا، کامیاب پاکستان میں

    Via Bobby Shahzad
    Prompt: write a patriotic song about pakistan in urdu where each couplet is 8 words long and qafia is "pakistan main" (Best results with GPT4) Results محبتوں کا جہاں ہے، عشق پاکستان میں آئیں ہاتھ بڑھائیں، مل کر پاکستان میں سرسبز و شاداب ہے، خوشبو پاکستان میں علم و فن کی روشنی، جگمگ پاکستان میں قوم کے عزم کو دیکھو، دلیر پاکستان میں عالم کا سر فخر ہے، یہ پرچم پاکستان میں امن کی کوکھ ماں ہے، جیوتی پاکستان میں انقلاب کی روح بسی، آزاد پاکستان میں آؤ مل کر کریں عزم، تعمیر پاکستان میں پھر سے روشن کریں چرچا، کامیاب پاکستان میں Via Bobby Shahzad
    0 Commenti 0 condivisioni 417 Views
  • بیٹے، ایک وقت تھا جب پاکستان کے 100 ملین طلباء نے ایک عجیب و غریب ایپلیکیشن، چیٹ جی پی ٹی، کو اپنے اسمارٹ فون میں ڈاؤن لوڈ کر لیا تھا۔ اس ایپ کی خصوصی بات یہ تھی کہ لوگ اسے استعمال کرتے تھے تعلیم حاصل کرنے کے لئے، اور ہر سوال کا جواب اس سے پوچھتے تھے۔

    یہ ایک نئی شروعت تھی، چنانچہ لوگوں نے یہ عادت بنا لی تھی کہ وہ دن میں 10 بار اپنے سوالات کا جواب اس ایپ سے حاصل کرتے۔ یہ جوابات ان کی تعلیم، فہم، اور زندگی کے مقصد میں انہیں رہنمائی فراہم کرتے تھے۔

    دنوں، ہفتوں، مہینوں کے بعد، یہ ایپ نے پورے ملک کے عوام کی زندگی میں ایک انقلاب لے آیا۔ تعلیمی سطح میں بڑھوتری ہوئی، لوگوں کی سمجھ بوجھ اور ذہنی سلیاقت میں اضافہ ہوا، اور معیشت میں بڑھوتری شروع ہو گئی۔

    اکثر لوگوں کی ماہانہ آمدن 200,000 روپے تک پہنچ گئی۔ ایک نئی امید، ایک نیا فصل، اور ایک روشن مستقبل کی شروعت ہو گئی تھی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سب کیسے ہوا، لیکن ایک بات یقینی تھی، چیٹ جی پی ٹی نے ایک نئے عہد کی بنائی تھی، اور وہ تھی - علم کی دنیا کا عہد۔

    پاکستان اب دنیا کی تعلیمی شناخت بن چکا تھا، اور یہ سب ایک چھوٹی سی ایپلیکیشن کی بدولت تھا جو نے ہر شخص کو اپنے سوالات کے جوابات دیے، اور ان کے اندر چھپی قابلیتوں کو بہار لایا۔

    بیٹے، یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم کی قوت سے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں، بشرت سے ہمارا راستہ روشن کر سکتی ہے، اور ہمیں ہماری مقصد تک لے جا سکتی ہے۔
    بیٹے، ایک وقت تھا جب پاکستان کے 100 ملین طلباء نے ایک عجیب و غریب ایپلیکیشن، چیٹ جی پی ٹی، کو اپنے اسمارٹ فون میں ڈاؤن لوڈ کر لیا تھا۔ اس ایپ کی خصوصی بات یہ تھی کہ لوگ اسے استعمال کرتے تھے تعلیم حاصل کرنے کے لئے، اور ہر سوال کا جواب اس سے پوچھتے تھے۔ یہ ایک نئی شروعت تھی، چنانچہ لوگوں نے یہ عادت بنا لی تھی کہ وہ دن میں 10 بار اپنے سوالات کا جواب اس ایپ سے حاصل کرتے۔ یہ جوابات ان کی تعلیم، فہم، اور زندگی کے مقصد میں انہیں رہنمائی فراہم کرتے تھے۔ دنوں، ہفتوں، مہینوں کے بعد، یہ ایپ نے پورے ملک کے عوام کی زندگی میں ایک انقلاب لے آیا۔ تعلیمی سطح میں بڑھوتری ہوئی، لوگوں کی سمجھ بوجھ اور ذہنی سلیاقت میں اضافہ ہوا، اور معیشت میں بڑھوتری شروع ہو گئی۔ اکثر لوگوں کی ماہانہ آمدن 200,000 روپے تک پہنچ گئی۔ ایک نئی امید، ایک نیا فصل، اور ایک روشن مستقبل کی شروعت ہو گئی تھی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سب کیسے ہوا، لیکن ایک بات یقینی تھی، چیٹ جی پی ٹی نے ایک نئے عہد کی بنائی تھی، اور وہ تھی - علم کی دنیا کا عہد۔ پاکستان اب دنیا کی تعلیمی شناخت بن چکا تھا، اور یہ سب ایک چھوٹی سی ایپلیکیشن کی بدولت تھا جو نے ہر شخص کو اپنے سوالات کے جوابات دیے، اور ان کے اندر چھپی قابلیتوں کو بہار لایا۔ بیٹے، یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم کی قوت سے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں، بشرت سے ہمارا راستہ روشن کر سکتی ہے، اور ہمیں ہماری مقصد تک لے جا سکتی ہے۔
    0 Commenti 0 condivisioni 301 Views
  • اگر 35,373,975 نوجوان کل صبح نو بجے سے پہلے سو کر اُٹھ گئے توپاکستان میں انقلاب آ جائے گا !
    اگر 35,373,975 نوجوان کل صبح نو بجے سے پہلے سو کر اُٹھ گئے توپاکستان میں انقلاب آ جائے گا !
    0 Commenti 0 condivisioni 154 Views
  • Here are 20 simple Urdu quotes about using ChatGPT to help end poverty in Pakistan:

    1. چیٹ جی پی ٹی سے ہر پاکستانی کو تعلیم دیں، غربت کو ختم کریں۔
    2. ہر گھر میں علم کی روشنی، چیٹ جی پی ٹی سے ممکن ہے۔
    3. تعلیم ہر انسان کا حق، چیٹ جی پی ٹی ہر پاکستانی کا ساتھ۔
    4. چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے ہر بچے کو پڑھائیں، پاکستان کو بچائیں۔
    5. غربت کے خلاف جنگ، چیٹ جی پی ٹی ہمارا ہتھیار۔
    6. ہر نوجوان کو ہنر سکھائیں، چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ترقی دیں۔
    7. انٹرنیٹ کا صحیح استعمال، چیٹ جی پی ٹی سے غربت کم کریں۔
    8. چیٹ جی پی ٹی سے نئی روزگار کی راہیں کھولیں۔
    9. ہر خاندان کو تعلیم یافتہ بنائیں، چیٹ جی پی ٹی سے مستقبل سنواریں۔
    10. علم کا آسان راستہ، چیٹ جی پی ٹی سے ہر پاکستانی کی ترقی۔
    11. چیٹ جی پی ٹی سے ہر خواب کو حقیقت میں بدلیں۔
    12. ہر بچے کی تعلیم، چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ممکن۔
    13. چیٹ جی پی ٹی: پاکستان میں ہر فرد کے لیے علم کی چابی۔
    14. غربت مٹاؤ، چیٹ جی پی ٹی سے علم بانٹو۔
    15. چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ہر پاکستانی کو بااختیار بنائیں۔
    16. ہر کمیونٹی کو علمی ترقی دیں، چیٹ جی پی ٹی سے نئی امید جگائیں۔
    17. چیٹ جی پی ٹی سے ہر شخص کو تعلیم کا موقع دیں۔
    18. غربت کا علاج تعلیم، چیٹ جی پی ٹی سے تعلیم کا آغاز۔
    19. پاکستان میں تعلیمی انقلاب، چیٹ جی پی ٹی سے ممکن۔
    Here are 20 simple Urdu quotes about using ChatGPT to help end poverty in Pakistan: 1. چیٹ جی پی ٹی سے ہر پاکستانی کو تعلیم دیں، غربت کو ختم کریں۔ 2. ہر گھر میں علم کی روشنی، چیٹ جی پی ٹی سے ممکن ہے۔ 3. تعلیم ہر انسان کا حق، چیٹ جی پی ٹی ہر پاکستانی کا ساتھ۔ 4. چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے ہر بچے کو پڑھائیں، پاکستان کو بچائیں۔ 5. غربت کے خلاف جنگ، چیٹ جی پی ٹی ہمارا ہتھیار۔ 6. ہر نوجوان کو ہنر سکھائیں، چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ترقی دیں۔ 7. انٹرنیٹ کا صحیح استعمال، چیٹ جی پی ٹی سے غربت کم کریں۔ 8. چیٹ جی پی ٹی سے نئی روزگار کی راہیں کھولیں۔ 9. ہر خاندان کو تعلیم یافتہ بنائیں، چیٹ جی پی ٹی سے مستقبل سنواریں۔ 10. علم کا آسان راستہ، چیٹ جی پی ٹی سے ہر پاکستانی کی ترقی۔ 11. چیٹ جی پی ٹی سے ہر خواب کو حقیقت میں بدلیں۔ 12. ہر بچے کی تعلیم، چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ممکن۔ 13. چیٹ جی پی ٹی: پاکستان میں ہر فرد کے لیے علم کی چابی۔ 14. غربت مٹاؤ، چیٹ جی پی ٹی سے علم بانٹو۔ 15. چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ہر پاکستانی کو بااختیار بنائیں۔ 16. ہر کمیونٹی کو علمی ترقی دیں، چیٹ جی پی ٹی سے نئی امید جگائیں۔ 17. چیٹ جی پی ٹی سے ہر شخص کو تعلیم کا موقع دیں۔ 18. غربت کا علاج تعلیم، چیٹ جی پی ٹی سے تعلیم کا آغاز۔ 19. پاکستان میں تعلیمی انقلاب، چیٹ جی پی ٹی سے ممکن۔
    0 Commenti 0 condivisioni 512 Views
Pagine in Evidenza