• پاکستان میں غربت کا خاتمہ

    200 سال پہلے یورپ غریب تھا۔

    زیادہ تر لوگ کسان تھے۔
    لوگ سارا دن محنت کرتے تھے لیکن پھر بھی غریب رہتے تھے۔
    سفر آہستہ تھا۔
    معلومات آہستہ چلتی تھیں۔

    پھر انڈسٹریل ریوولوشن آیا۔

    مشینیں آئیں۔
    فیکٹریاں آئیں۔
    ریل گاڑیاں آئیں۔
    بجلی آئی۔

    اچانک ایک انسان 50 لوگوں جتنا کام کرنے لگا۔

    یورپ اس لیے امیر نہیں بنا کہ لوگ اچانک زیادہ ذہین ہوگئے تھے۔

    وہ اس لیے امیر بنا کیونکہ:

    * پروڈکٹیوٹی بڑھی،
    * لین دین بڑھا،
    * رابطے بہتر ہوئے،
    * اور ٹیکنالوجی نے انسان کی طاقت کئی گنا بڑھا دی۔

    پھر کمپیوٹر اور انفارمیشن ایج آیا۔

    سنگاپور جیسے ملکوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔

    سنگاپور کراچی سے بھی چھوٹا ملک ہے۔

    نہ اس کے پاس بڑا زرعی نظام تھا،
    نہ تیل،
    نہ بڑی زمین۔

    لیکن اس نے:

    * کمپیوٹر،
    * تعلیم،
    * ٹیکنالوجی،
    * تجارت،
    * اور رابطوں

    کا فائدہ اٹھا کر خود کو دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل کر لیا۔

    اور آج…

    دنیا میں ایک نئی ریوولوشن آچکی ہے۔

    AI ریوولوشن۔

    اور شاید تاریخ میں پہلی بار…

    پاکستان دیر نہیں کر رہا۔

    AI پہلے سے موجود ہے۔
    اسمارٹ فون پہلے سے موجود ہیں۔
    انٹرنیٹ پہلے سے موجود ہے۔
    سستا ڈیٹا پہلے سے موجود ہے۔

    انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی آج ایک عام پاکستانی کے ہاتھ میں موجود ہے۔

    ایک کسان کے ہاتھ میں۔
    ایک طالبعلم کے ہاتھ میں۔
    ایک دکاندار کے ہاتھ میں۔
    ایک استاد کے ہاتھ میں۔
    ایک ماں کے ہاتھ میں۔
    ایک ڈرائیور کے ہاتھ میں۔

    یہ ہمارا وقت ہے۔

    پاکستان 25 کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔

    کیا آپ کو احساس ہے یہ کتنا بڑا نمبر ہے؟

    200 سال پہلے پوری دنیا کی آبادی تقریباً اتنی تھی۔

    اور آج بھی پاکستان میں لاکھوں لوگ 100 ڈالر مہینے سے کم کماتے ہیں۔

    اس لیے نہیں کہ وہ بےوقوف ہیں۔
    اس لیے نہیں کہ وہ سست ہیں۔

    بلکہ اس لیے کہ وہ:

    * جدید سسٹمز،
    * پروڈکٹیوٹی،
    * ٹیکنالوجی،
    * اور تعاون

    سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔

    ہم ہمیشہ انتظار کرتے رہتے ہیں:

    * حکومت کا،
    * سیاستدانوں کا،
    * ویزے کا،
    * بیرونی سرمایہ کاری کا،
    * کسی معجزے کا۔

    حالانکہ اصل انقلاب عوام خود لا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے اندر ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے:

    * 25 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ،
    * کروڑوں نوجوان،
    * کروڑوں اسمارٹ فون،
    * ایک ہی ملک،
    * شہروں کے درمیان کوئی کسٹم نہیں،
    * کوئی بارڈر نہیں،
    * اور لاکھوں مسائل جو حل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اور ہر مسئلہ ایک موقع ہے۔

    تعلیم ایک موقع ہے۔
    پانی ایک موقع ہے۔
    ٹریفک ایک موقع ہے۔
    ہیلتھ ایک موقع ہے۔
    زراعت ایک موقع ہے۔
    سولر ایک موقع ہے۔
    ٹرانسپورٹ ایک موقع ہے۔
    کمیونیکیشن ایک موقع ہے۔

    پاکستان کی تقریباً 65٪ زمین آج بھی مکمل استعمال میں نہیں۔

    کروڑوں ایکڑ زمین انتظار کر رہی ہے:

    * بہتر سسٹمز کا،
    * AI فارمنگ کا،
    * سولر فارمنگ کا،
    * بہتر واٹر مینجمنٹ کا،
    * اور جدید کاروباری سوچ کا۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ:

    “کیا پاکستان امیر بن سکتا ہے؟”

    اصل سوال یہ ہے:

    “کیا پاکستانی آخرکار کچھ بنانا شروع کریں گے؟”

    پہلا قدم:

    AI کو ہر چیز کے لیے استعمال کریں۔

    جب بھی کوئی مسئلہ دیکھیں، AI سے پوچھیں:

    * یہ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟
    * دنیا کے دوسرے ممالک یہ کیسے کرتے ہیں؟
    * کیا اس پر بزنس بن سکتا ہے؟
    * کیا ٹیکنالوجی اسے بہتر بنا سکتی ہے؟

    AI کو اپنا:

    * استاد،
    * بزنس پارٹنر،
    * مشیر،
    * ڈیزائنر،
    * ریسرچر،
    * اور اسٹریٹجسٹ بنائیں۔

    دوسرا قدم:

    نوجوان لوگوں کے ساتھ ملیں۔

    کوئی بڑا ملک اکیلے نہیں بنتا۔

    Facebook، LinkedIn، WhatsApp اور کمیونٹیز استعمال کریں۔

    ایسے لوگ تلاش کریں جو اسی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہوں۔

    گروپ بنائیں۔
    ٹیم بنائیں۔
    کمیونٹی بنائیں۔

    تیسرا قدم:

    ایکشن لیں۔

    کچھ بنائیں۔

    شروع کریں:

    * ویب سائٹ،
    * WhatsApp گروپ،
    * سافٹ ویئر،
    * سولر بزنس،
    * AI ایجنسی،
    * فارمنگ پروجیکٹ،
    * فوڈ برانڈ،
    * لوکل سروس،
    * یا کوئی نیا سسٹم۔

    پرفیکشن کا انتظار نہ کریں۔

    بس شروع کریں۔

    پاکستان کو 25 کروڑ نوکری ڈھونڈنے والے لوگ نہیں چاہییں۔

    پاکستان کو لاکھوں Builders چاہییں۔

    Education Wala
    Solar Wala
    Water Wala
    Health Wala
    Farmer Wala
    AI Wala
    Internet Wala

    پاکستان کا ایک مسئلہ پکڑیں…
    اور اپنی زندگی اس کے حل کے لیے وقف کر دیں۔

    لوگوں سے ملیں۔
    کمیونیکیٹ کریں۔
    WhatsApp گروپ بنائیں۔
    ہر چیز ڈاکیومنٹ کریں۔
    علم بانٹیں۔
    سسٹمز بہتر کریں۔

    آہستہ آہستہ:

    * لین دین بڑھے گا،
    * اعتماد بڑھے گا،
    * آمدنی بڑھے گی،
    * سروس بہتر ہوگی،
    * اور غربت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

    جاپان کی آبادی پاکستان سے تقریباً ایک تہائی ہے۔

    پھر بھی وہ دنیا کی عظیم معیشت بن گیا۔

    کیوں؟

    کیونکہ انہوں نے:

    * نظم و ضبط،
    * ٹیکنالوجی،
    * مسلسل بہتری،
    * اور سسٹمز

    کو اپنایا۔

    تو پاکستان کیوں نہیں؟

    آپ کو کس چیز نے روکا ہوا ہے؟

    ریوولوشن آچکی ہے۔

    وہ آپ کے ہاتھ میں موجود ہے۔

    لیکن آج بھی لوگ:

    * 5 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں،
    * فضول فارورڈ بھیجتے ہیں،
    * سیاسی لڑائیاں کرتے ہیں،
    * اور کسی اور کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔

    ٹی وی بند کریں۔

    AI آن کریں۔

    اور کچھ بنانا شروع کریں۔

    یہ ٹیکنالوجی شاید انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور نعمتوں میں سے ایک ہے۔

    اور اگر پاکستان نے اس کا صحیح فائدہ اٹھا لیا…

    تو شاید ہم اپنی زندگی میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھیں:

    پاکستان میں غربت کا خاتمہ۔

    — ریحان اللہ والا
    پاکستان میں غربت کا خاتمہ 200 سال پہلے یورپ غریب تھا۔ زیادہ تر لوگ کسان تھے۔ لوگ سارا دن محنت کرتے تھے لیکن پھر بھی غریب رہتے تھے۔ سفر آہستہ تھا۔ معلومات آہستہ چلتی تھیں۔ پھر انڈسٹریل ریوولوشن آیا۔ مشینیں آئیں۔ فیکٹریاں آئیں۔ ریل گاڑیاں آئیں۔ بجلی آئی۔ اچانک ایک انسان 50 لوگوں جتنا کام کرنے لگا۔ یورپ اس لیے امیر نہیں بنا کہ لوگ اچانک زیادہ ذہین ہوگئے تھے۔ وہ اس لیے امیر بنا کیونکہ: * پروڈکٹیوٹی بڑھی، * لین دین بڑھا، * رابطے بہتر ہوئے، * اور ٹیکنالوجی نے انسان کی طاقت کئی گنا بڑھا دی۔ پھر کمپیوٹر اور انفارمیشن ایج آیا۔ سنگاپور جیسے ملکوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ سنگاپور کراچی سے بھی چھوٹا ملک ہے۔ نہ اس کے پاس بڑا زرعی نظام تھا، نہ تیل، نہ بڑی زمین۔ لیکن اس نے: * کمپیوٹر، * تعلیم، * ٹیکنالوجی، * تجارت، * اور رابطوں کا فائدہ اٹھا کر خود کو دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل کر لیا۔ اور آج… دنیا میں ایک نئی ریوولوشن آچکی ہے۔ AI ریوولوشن۔ اور شاید تاریخ میں پہلی بار… پاکستان دیر نہیں کر رہا۔ AI پہلے سے موجود ہے۔ اسمارٹ فون پہلے سے موجود ہیں۔ انٹرنیٹ پہلے سے موجود ہے۔ سستا ڈیٹا پہلے سے موجود ہے۔ انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی آج ایک عام پاکستانی کے ہاتھ میں موجود ہے۔ ایک کسان کے ہاتھ میں۔ ایک طالبعلم کے ہاتھ میں۔ ایک دکاندار کے ہاتھ میں۔ ایک استاد کے ہاتھ میں۔ ایک ماں کے ہاتھ میں۔ ایک ڈرائیور کے ہاتھ میں۔ یہ ہمارا وقت ہے۔ پاکستان 25 کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ کیا آپ کو احساس ہے یہ کتنا بڑا نمبر ہے؟ 200 سال پہلے پوری دنیا کی آبادی تقریباً اتنی تھی۔ اور آج بھی پاکستان میں لاکھوں لوگ 100 ڈالر مہینے سے کم کماتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ بےوقوف ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ سست ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ وہ: * جدید سسٹمز، * پروڈکٹیوٹی، * ٹیکنالوجی، * اور تعاون سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم ہمیشہ انتظار کرتے رہتے ہیں: * حکومت کا، * سیاستدانوں کا، * ویزے کا، * بیرونی سرمایہ کاری کا، * کسی معجزے کا۔ حالانکہ اصل انقلاب عوام خود لا سکتے ہیں۔ پاکستان کے اندر ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے: * 25 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ، * کروڑوں نوجوان، * کروڑوں اسمارٹ فون، * ایک ہی ملک، * شہروں کے درمیان کوئی کسٹم نہیں، * کوئی بارڈر نہیں، * اور لاکھوں مسائل جو حل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور ہر مسئلہ ایک موقع ہے۔ تعلیم ایک موقع ہے۔ پانی ایک موقع ہے۔ ٹریفک ایک موقع ہے۔ ہیلتھ ایک موقع ہے۔ زراعت ایک موقع ہے۔ سولر ایک موقع ہے۔ ٹرانسپورٹ ایک موقع ہے۔ کمیونیکیشن ایک موقع ہے۔ پاکستان کی تقریباً 65٪ زمین آج بھی مکمل استعمال میں نہیں۔ کروڑوں ایکڑ زمین انتظار کر رہی ہے: * بہتر سسٹمز کا، * AI فارمنگ کا، * سولر فارمنگ کا، * بہتر واٹر مینجمنٹ کا، * اور جدید کاروباری سوچ کا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ: “کیا پاکستان امیر بن سکتا ہے؟” اصل سوال یہ ہے: “کیا پاکستانی آخرکار کچھ بنانا شروع کریں گے؟” پہلا قدم: AI کو ہر چیز کے لیے استعمال کریں۔ جب بھی کوئی مسئلہ دیکھیں، AI سے پوچھیں: * یہ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟ * دنیا کے دوسرے ممالک یہ کیسے کرتے ہیں؟ * کیا اس پر بزنس بن سکتا ہے؟ * کیا ٹیکنالوجی اسے بہتر بنا سکتی ہے؟ AI کو اپنا: * استاد، * بزنس پارٹنر، * مشیر، * ڈیزائنر، * ریسرچر، * اور اسٹریٹجسٹ بنائیں۔ دوسرا قدم: نوجوان لوگوں کے ساتھ ملیں۔ کوئی بڑا ملک اکیلے نہیں بنتا۔ Facebook، LinkedIn، WhatsApp اور کمیونٹیز استعمال کریں۔ ایسے لوگ تلاش کریں جو اسی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہوں۔ گروپ بنائیں۔ ٹیم بنائیں۔ کمیونٹی بنائیں۔ تیسرا قدم: ایکشن لیں۔ کچھ بنائیں۔ شروع کریں: * ویب سائٹ، * WhatsApp گروپ، * سافٹ ویئر، * سولر بزنس، * AI ایجنسی، * فارمنگ پروجیکٹ، * فوڈ برانڈ، * لوکل سروس، * یا کوئی نیا سسٹم۔ پرفیکشن کا انتظار نہ کریں۔ بس شروع کریں۔ پاکستان کو 25 کروڑ نوکری ڈھونڈنے والے لوگ نہیں چاہییں۔ پاکستان کو لاکھوں Builders چاہییں۔ Education Wala Solar Wala Water Wala Health Wala Farmer Wala AI Wala Internet Wala پاکستان کا ایک مسئلہ پکڑیں… اور اپنی زندگی اس کے حل کے لیے وقف کر دیں۔ لوگوں سے ملیں۔ کمیونیکیٹ کریں۔ WhatsApp گروپ بنائیں۔ ہر چیز ڈاکیومنٹ کریں۔ علم بانٹیں۔ سسٹمز بہتر کریں۔ آہستہ آہستہ: * لین دین بڑھے گا، * اعتماد بڑھے گا، * آمدنی بڑھے گی، * سروس بہتر ہوگی، * اور غربت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ جاپان کی آبادی پاکستان سے تقریباً ایک تہائی ہے۔ پھر بھی وہ دنیا کی عظیم معیشت بن گیا۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے: * نظم و ضبط، * ٹیکنالوجی، * مسلسل بہتری، * اور سسٹمز کو اپنایا۔ تو پاکستان کیوں نہیں؟ آپ کو کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ ریوولوشن آچکی ہے۔ وہ آپ کے ہاتھ میں موجود ہے۔ لیکن آج بھی لوگ: * 5 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں، * فضول فارورڈ بھیجتے ہیں، * سیاسی لڑائیاں کرتے ہیں، * اور کسی اور کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ ٹی وی بند کریں۔ AI آن کریں۔ اور کچھ بنانا شروع کریں۔ یہ ٹیکنالوجی شاید انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اور اگر پاکستان نے اس کا صحیح فائدہ اٹھا لیا… تو شاید ہم اپنی زندگی میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھیں: پاکستان میں غربت کا خاتمہ۔ — ریحان اللہ والا
    0 تبصرے 0 شیئرز 933 ویوز
  • ہم زندہ قوم ہیں !!

    مجھے سفر پر نکلے تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے ،میں انیس اگست علی الصبح کراچی سے روانہ ہوا اور بزریعہ استنبول سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا ، آن لائن ایپ سے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ بک کیا ،پیکج میں صرف پانچ دن کی رہائش تھی مگر اپارٹمنٹ کے مالک نے حلال فوڈ ریسٹورنٹ دور ہونے کی وجہ سے ہونے والی میری پریشانی جان کر خیر سگالی کے طور پر میرے روم میں موجود منی فریج میں فروٹس اور مختلف جوسز لاکر رکھ دیے اور بعد میں ان کے پیسے بھی چارج نہیں کیے۔

    وہاں سے میں نارتھ میساڈونیا گیا ، لینڈ بارڈر کراس کرتے وقت سبز پاسپورٹ اور مزہبی حلیے کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو سوشل میڈیا سے رابطے میں آنے والی ایک بااثر مقامی خاتون کو کال کی انہوں نے بارڈر حکام کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اور کہا یہ میرے مہمان ہیں ، اور اس طرح ان کی بروقت مداخلت سے مجھے میساڈونیا میں انٹری ملی ، انہوں نے شہر کے کاروباری علاقے میں موجود ایک مہنگے ہوٹل سے مجھے اولڈ ٹاؤن میں موجود ایک مسلمان کے ہوٹل منتقل ہونے کا کہا جس سے میرے اخراجات بھی کم ہوئے اور کھانے پینے کی پریشانی بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے شہر جانے ، وہاں رہائش کے انتخاب سے لے کر حلال فوڈ کے حصول اور پھر وہاں سے البانیہ تک کے سفر میں میری بھرپور رہنمائی کی ، ایک مقام پر مجھے کچھ مشکل پیش آئی تو اپنے بیٹے کو میرئ مدد کے لئے بھیج دیا ۔

    میں البانیہ کے دارالحکومت ترانا پہنچا تو ہوٹل کے مینجر نے یہ جان کر کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سولو ٹریولر ہوں آن لائن بک کیے گئے روم سے بہتر کمرہ رہائش کے لیے پیش کیا اور وہ بھی آدھے پیسوں میں اور میرے لیے روزانہ ناشتے کا خصوصی انتظام الگ سے کیا ، وہاں سے میں قریبی ملک مونٹی نیگرو جانے کے لیے بس میں سوار ہوا تو پوری بس خالی تھی صرف ڈرائیور اور ایک ٹریول کمپنی کے مالک تھے جو دوسرے ملک سے سیاحوں کے ایک گروپ کو لینے جارہے تھے ، راستے میں میرے سفر کی کہانیاں سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مجھے شاندار کھانا کھلایا اور دوبارہ البانیہ آنے پر اپنے ہاں مفت قیام کی پیشکش بھی کی ۔

    مونٹینگرو کے دو شہروں بدوا اور کوٹور میں قیام کے لیے اپارٹمنٹ بک کیے دونوں کے مالکان نے ملے بغیر ، جانے بغیر دروازے کے لاک کا کوڈ بھیج دیا، جاتے ہوئے پوچھا پیسے کس کو دوں؟ تو کہا فلاں جگہ رکھ دیں ہم بعد میں اٹھا لیں گے ، میں بغیر ادائیگی کیے نکل جاتا تو وہ کیا کرلیتے ، مگر انہوں نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا ۔

    وہاں سے طویل سفر کرکے بوسنیا کے کیپٹل سرائیوو پہنچا ، رہائش کے لیے اولڈ ٹاؤن میں واقع ایک فور اسٹار ہوٹل کاانتخاب کیا ،وہاں کی خوش اخلاق مینجر نے کچھ دیر کی بات چیت کے بعد تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ہوٹل کا سب سے اچھا روم دے دیا ، میں نے ناشتے کے بغیر کمرہ بک کیا تھا مگر انہوں نے اپنی طرف سے مجھے ناشتے کی سہولت بھی مفت فراہم کردی ، میں نے تین دن کی پیشگی ادائیگی کی مگر مجھے چوتھے دن بھی رکنا پڑا ، سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی اچھا ریوو لکّھا تو اس بات پر خوش ہوکر چیک آؤٹ کے وقت آخری دن کے چارجز لینے سے انکار کردیا ، میں نے ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کی وہاں پہنچ کر چیک کیا تو میرے والٹ میں طے شدہ رقم سے پانچ مارک کم تھے جوکہ چھ سو روپے پاکستانی بنتے تھے ،میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا رکو میں اے ٹی ایم سے نکال کر لاتا ہوں کہا آپ مہمان ہیں رہنے دیجیے ۔

    طویل سفر کے بعد بوسنیا سے براستہ ترکی جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچا تو رات کا ایک بج چکا تھا ، ہوٹل میں چیک ان کیا تو ہوٹل رولز کے حساب سے اس رات کی بھی ادائیگی کرنی چاہئیے تھی مگر وہاں کی مینجر نے میرا قیام اگلے دن سے شمار کیا ،اور یوں میرے ایک دن کے چارجزکی بچت ہوگئی ، رات کے دو بجے ریسٹورنٹ بند ہوچکے تھے مجھے شدید بھوک لگی تھی تو مینجر اپنے ساتھ کچن میں لے گئ اور دودھ بریڈ اور فروٹس سامنے رکھ دیے ، صبح میں ناشتے میں نہیں پہنچا ٹائم نکل گیا تو کال کرکے مجھے اٹھایا اور ہنس کر کہا۔ Someone is missing his breakfast

    میں دو دن اس ملک میں اکیلے گھومتا رہا اور مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آئی ،تیسرے دن میرے ایک استاد صاحب نے مجھے میسج کیا کہ یہاں میرے جاننے والے ایک پاکستانی ہیں ان سے رابطہ کریں وہ آپ کو ہیلپ کریں گے میں گزشتہ پچیس دن میں کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا ، سو رابطہ کیا وہ ملنے آئے انہوں نے دوسرے پاکستانئ بھائی سے ملایا ،میں کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہا مجھے بھوک لگنے لگی انہوں نے نہیں پوچھا مگر میں نے اپنی طرف سے کھانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلئ اور اگلے دن مجھے شہر گھمانے کے پرزور دعوت دی میں نے تکلف سے کام لیتے ہوئے کہا میں کسی ٹور آپریٹر سے گاڑی بک کرلوں گا ، اس پر وہ ناراض ہوگئے کہا ایسے کیسے ہوسکتا ہے آپ ہمارے ہم وطن ہم زبان ہیں ، اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں ہم آپ کو گھمائیں گے بھی اور راستے میں کسی مقام پرآپ کی شاندار دعوت بھی کریں گے ،آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو ہمارا فرض بنتا ہے ، اگلے دن انہوں نے اپنے مزید پاکستانی دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور سفر پر نکل پڑے ، راستے میں پیٹرول کا ٹینک فل کروایااور ادائیگی کے وقت سائیڈ پر چلے گئے ،پیڑول پمپ والا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تو میں نے رقم ادا کردی ، منزل پر پہنچے تو میرے وہ پاکستانئ دوست ایک اور پاکستانی کے ہوٹل لے گئے وہاں پہنچ کر ضرورت سے زائد کھانا منگوایا چار لوگوں کے لیے آٹھ چائےمنگوا لی،جب بل دینے کی باری آئی تو سب آگے پیچھے ہوگئے، میں نے آگے بڑھ کر اس پاکستانی ریسٹورنٹ کا بل بھی ادا کیا جو جارجیا کے کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ کے بل سے دوگنا تھا،واپس آئے تو شہر پہنچ کر مجھ سے کہا گاڑی رینٹ کی تھی اس کا کرایہ بھی عنائیت فرما دیں اور ساتھ میں مجھے جو آپ خوشی سے دینا چاہیں ۔
    اس کے بعد جو ہوا اسکی تفصیل پھر کبھی سہی ،میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں سے رخصت لی وہ روکتے رہے کہ جب تک یہاں ہیں ہمارے پاس قیام کریں ہم کل آپ کو دوسرا شہر بھی گھمائیں گے۔

    رات گئے سٹی سینٹر کے ایک ہوٹل میں چیک ان کیا، بھوک لگی تھی ریسپشن پر کھانے کا پوچھا تو وہاں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا بنگالی لڑکا اپنا کھانا اٹھا کرلےآیا ،کہا رات کافی ہوگئی ہے اب کہاں جاکر کھانا ڈھونڈیں گے آپ یہ کھالیں، میں نے کہا تم کیا کھاؤ گےتو کہا میری فکر نا کریں۔
    رات کے پچھلے پہر میں وہ کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے سفر کے دوران اجنبی زمینوں ، انجان لوگوں اور مجھ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے درمیان تو میں خود کومحفوظ سمجھتا رہا مگر دیار غیر میں میرے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کا ملنا مجھے عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ؟

    اس وقت حکیم سعید علیہ الرحمہ کی شہادت پر لکھے گئے جاوید چودھری کے کالم کا آخری جملہ میرے ذہن میں گونج رہا تھا کہ

    سعید میں کربلا میں زندہ رہا اور تم مدینے میں مارے گئے !!

    محمد سجاد مدنی

    Via Mufti Sajjad Madani
    ہم زندہ قوم ہیں !! مجھے سفر پر نکلے تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے ،میں انیس اگست علی الصبح کراچی سے روانہ ہوا اور بزریعہ استنبول سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا ، آن لائن ایپ سے ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ بک کیا ،پیکج میں صرف پانچ دن کی رہائش تھی مگر اپارٹمنٹ کے مالک نے حلال فوڈ ریسٹورنٹ دور ہونے کی وجہ سے ہونے والی میری پریشانی جان کر خیر سگالی کے طور پر میرے روم میں موجود منی فریج میں فروٹس اور مختلف جوسز لاکر رکھ دیے اور بعد میں ان کے پیسے بھی چارج نہیں کیے۔ وہاں سے میں نارتھ میساڈونیا گیا ، لینڈ بارڈر کراس کرتے وقت سبز پاسپورٹ اور مزہبی حلیے کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو سوشل میڈیا سے رابطے میں آنے والی ایک بااثر مقامی خاتون کو کال کی انہوں نے بارڈر حکام کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اور کہا یہ میرے مہمان ہیں ، اور اس طرح ان کی بروقت مداخلت سے مجھے میساڈونیا میں انٹری ملی ، انہوں نے شہر کے کاروباری علاقے میں موجود ایک مہنگے ہوٹل سے مجھے اولڈ ٹاؤن میں موجود ایک مسلمان کے ہوٹل منتقل ہونے کا کہا جس سے میرے اخراجات بھی کم ہوئے اور کھانے پینے کی پریشانی بھی ختم ہوگئی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے شہر جانے ، وہاں رہائش کے انتخاب سے لے کر حلال فوڈ کے حصول اور پھر وہاں سے البانیہ تک کے سفر میں میری بھرپور رہنمائی کی ، ایک مقام پر مجھے کچھ مشکل پیش آئی تو اپنے بیٹے کو میرئ مدد کے لئے بھیج دیا ۔ میں البانیہ کے دارالحکومت ترانا پہنچا تو ہوٹل کے مینجر نے یہ جان کر کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سولو ٹریولر ہوں آن لائن بک کیے گئے روم سے بہتر کمرہ رہائش کے لیے پیش کیا اور وہ بھی آدھے پیسوں میں اور میرے لیے روزانہ ناشتے کا خصوصی انتظام الگ سے کیا ، وہاں سے میں قریبی ملک مونٹی نیگرو جانے کے لیے بس میں سوار ہوا تو پوری بس خالی تھی صرف ڈرائیور اور ایک ٹریول کمپنی کے مالک تھے جو دوسرے ملک سے سیاحوں کے ایک گروپ کو لینے جارہے تھے ، راستے میں میرے سفر کی کہانیاں سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی طرف سے مجھے شاندار کھانا کھلایا اور دوبارہ البانیہ آنے پر اپنے ہاں مفت قیام کی پیشکش بھی کی ۔ مونٹینگرو کے دو شہروں بدوا اور کوٹور میں قیام کے لیے اپارٹمنٹ بک کیے دونوں کے مالکان نے ملے بغیر ، جانے بغیر دروازے کے لاک کا کوڈ بھیج دیا، جاتے ہوئے پوچھا پیسے کس کو دوں؟ تو کہا فلاں جگہ رکھ دیں ہم بعد میں اٹھا لیں گے ، میں بغیر ادائیگی کیے نکل جاتا تو وہ کیا کرلیتے ، مگر انہوں نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا ۔ وہاں سے طویل سفر کرکے بوسنیا کے کیپٹل سرائیوو پہنچا ، رہائش کے لیے اولڈ ٹاؤن میں واقع ایک فور اسٹار ہوٹل کاانتخاب کیا ،وہاں کی خوش اخلاق مینجر نے کچھ دیر کی بات چیت کے بعد تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ہوٹل کا سب سے اچھا روم دے دیا ، میں نے ناشتے کے بغیر کمرہ بک کیا تھا مگر انہوں نے اپنی طرف سے مجھے ناشتے کی سہولت بھی مفت فراہم کردی ، میں نے تین دن کی پیشگی ادائیگی کی مگر مجھے چوتھے دن بھی رکنا پڑا ، سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی اچھا ریوو لکّھا تو اس بات پر خوش ہوکر چیک آؤٹ کے وقت آخری دن کے چارجز لینے سے انکار کردیا ، میں نے ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کی وہاں پہنچ کر چیک کیا تو میرے والٹ میں طے شدہ رقم سے پانچ مارک کم تھے جوکہ چھ سو روپے پاکستانی بنتے تھے ،میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا رکو میں اے ٹی ایم سے نکال کر لاتا ہوں کہا آپ مہمان ہیں رہنے دیجیے ۔ طویل سفر کے بعد بوسنیا سے براستہ ترکی جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچا تو رات کا ایک بج چکا تھا ، ہوٹل میں چیک ان کیا تو ہوٹل رولز کے حساب سے اس رات کی بھی ادائیگی کرنی چاہئیے تھی مگر وہاں کی مینجر نے میرا قیام اگلے دن سے شمار کیا ،اور یوں میرے ایک دن کے چارجزکی بچت ہوگئی ، رات کے دو بجے ریسٹورنٹ بند ہوچکے تھے مجھے شدید بھوک لگی تھی تو مینجر اپنے ساتھ کچن میں لے گئ اور دودھ بریڈ اور فروٹس سامنے رکھ دیے ، صبح میں ناشتے میں نہیں پہنچا ٹائم نکل گیا تو کال کرکے مجھے اٹھایا اور ہنس کر کہا۔ Someone is missing his breakfast میں دو دن اس ملک میں اکیلے گھومتا رہا اور مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آئی ،تیسرے دن میرے ایک استاد صاحب نے مجھے میسج کیا کہ یہاں میرے جاننے والے ایک پاکستانی ہیں ان سے رابطہ کریں وہ آپ کو ہیلپ کریں گے میں گزشتہ پچیس دن میں کسی پاکستانی سے نہیں ملا تھا ، سو رابطہ کیا وہ ملنے آئے انہوں نے دوسرے پاکستانئ بھائی سے ملایا ،میں کئی گھنٹے ان کے ساتھ رہا مجھے بھوک لگنے لگی انہوں نے نہیں پوچھا مگر میں نے اپنی طرف سے کھانے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلئ اور اگلے دن مجھے شہر گھمانے کے پرزور دعوت دی میں نے تکلف سے کام لیتے ہوئے کہا میں کسی ٹور آپریٹر سے گاڑی بک کرلوں گا ، اس پر وہ ناراض ہوگئے کہا ایسے کیسے ہوسکتا ہے آپ ہمارے ہم وطن ہم زبان ہیں ، اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں ہم آپ کو گھمائیں گے بھی اور راستے میں کسی مقام پرآپ کی شاندار دعوت بھی کریں گے ،آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو ہمارا فرض بنتا ہے ، اگلے دن انہوں نے اپنے مزید پاکستانی دوستوں کو بھی ساتھ لیا اور سفر پر نکل پڑے ، راستے میں پیٹرول کا ٹینک فل کروایااور ادائیگی کے وقت سائیڈ پر چلے گئے ،پیڑول پمپ والا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تو میں نے رقم ادا کردی ، منزل پر پہنچے تو میرے وہ پاکستانئ دوست ایک اور پاکستانی کے ہوٹل لے گئے وہاں پہنچ کر ضرورت سے زائد کھانا منگوایا چار لوگوں کے لیے آٹھ چائےمنگوا لی،جب بل دینے کی باری آئی تو سب آگے پیچھے ہوگئے، میں نے آگے بڑھ کر اس پاکستانی ریسٹورنٹ کا بل بھی ادا کیا جو جارجیا کے کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ کے بل سے دوگنا تھا،واپس آئے تو شہر پہنچ کر مجھ سے کہا گاڑی رینٹ کی تھی اس کا کرایہ بھی عنائیت فرما دیں اور ساتھ میں مجھے جو آپ خوشی سے دینا چاہیں ۔ اس کے بعد جو ہوا اسکی تفصیل پھر کبھی سہی ،میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں سے رخصت لی وہ روکتے رہے کہ جب تک یہاں ہیں ہمارے پاس قیام کریں ہم کل آپ کو دوسرا شہر بھی گھمائیں گے۔ رات گئے سٹی سینٹر کے ایک ہوٹل میں چیک ان کیا، بھوک لگی تھی ریسپشن پر کھانے کا پوچھا تو وہاں رات کی شفٹ میں کام کرنے والا بنگالی لڑکا اپنا کھانا اٹھا کرلےآیا ،کہا رات کافی ہوگئی ہے اب کہاں جاکر کھانا ڈھونڈیں گے آپ یہ کھالیں، میں نے کہا تم کیا کھاؤ گےتو کہا میری فکر نا کریں۔ رات کے پچھلے پہر میں وہ کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے سفر کے دوران اجنبی زمینوں ، انجان لوگوں اور مجھ سے مختلف عقائد و نظریات رکھنے والوں کے درمیان تو میں خود کومحفوظ سمجھتا رہا مگر دیار غیر میں میرے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کا ملنا مجھے عدم تحفظ کا احساس دلا رہا ہے ؟ اس وقت حکیم سعید علیہ الرحمہ کی شہادت پر لکھے گئے جاوید چودھری کے کالم کا آخری جملہ میرے ذہن میں گونج رہا تھا کہ سعید میں کربلا میں زندہ رہا اور تم مدینے میں مارے گئے !! محمد سجاد مدنی Via Mufti Sajjad Madani
    0 تبصرے 0 شیئرز 171 ویوز
  • دنیا کا سب سے لمبا بس کا راستہ کلکتہ سے لندن ..
    اس راستے پر بس 15 اپریل 1957 کو شروع کی گئی تھی ، یہ بس کلکتہ سے دہلی ، امرتسر ، واہگہ بارڈر ، لاہور (پاکستان) ، کابل ، ہرات جاتی تھی ۔ (افغانستان) ، تہران (ایران) ، استنبول (ترکی) ، جرمنی ، آسٹریا ، ‏ اور تقریبا 7900 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد لندن پہنچتی تھی ۔ بس 1973 تک چلی تھی۔ جب 1957 میں چلی تھی تو اس کا کرایہ 85 پاؤنڈ تھا۔

    انشاء اللہ یہ سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا! دعا کرو
    دنیا کا سب سے لمبا بس کا راستہ کلکتہ سے لندن .. اس راستے پر بس 15 اپریل 1957 کو شروع کی گئی تھی ، یہ بس کلکتہ سے دہلی ، امرتسر ، واہگہ بارڈر ، لاہور (پاکستان) ، کابل ، ہرات جاتی تھی ۔ (افغانستان) ، تہران (ایران) ، استنبول (ترکی) ، جرمنی ، آسٹریا ، ‏ اور تقریبا 7900 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد لندن پہنچتی تھی ۔ بس 1973 تک چلی تھی۔ جب 1957 میں چلی تھی تو اس کا کرایہ 85 پاؤنڈ تھا۔ انشاء اللہ یہ سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا! دعا کرو
    0 تبصرے 0 شیئرز 62 ویوز
  • کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ بارڈ کے ساتھ ایک حیرت انگیز چیز کر سکتے ہیں؟

    آپ اسے استعمال کرکے انٹرنیٹ پر کسی بھی زندہ لنک، ویب پیج، دستاویز، تصویر، ویڈیو یا اسپریڈ شیٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اسے سکین کر سکتے ہیں۔

    میرے پاس بعض استعمال کی صورتیں ہیں جنہیں میں نے آزمایا ہے:

    بارڈ کو کسی زندہ LinkedIn پروفائل کی طرف اشارہ کریں اور اس سے متعلقہ شخص کے بارے میں پوسٹ کرنے کے بارے میں ایک احساس حاصل کرنے کے لئے اسے سکین کرنے کا کہیں۔ یہ میٹنگ سے پہلے مددگار ہو سکتی ہے۔

    بارڈ کو کسی سفارتخانہ کے ویب پیج کی طرف اشارہ کریں اور اس سے ویزہ کے لئے درخواست دینے کے لئے درکار دستاویزات کی فہرست حاصل کرنے کے لئے اسے سکین کرنے کا کہیں۔ یہ فوری کارروائی کے اقدامات بنانے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

    بارڈ کو کسی YouTube ویڈیو کی طرف اشارہ کریں اور اس سے کہیں کہ آپ کے ساتھ اہم سبق یا لے جانے کی چیزیں شیئر کریں۔ یہ وقت بچانے اور اہم نقطے ڈاؤن لوڈ کرنے میں مددگار ہو س کتی ہے۔

    یہ صرف چند مثالیں ہیں۔

    مجھے یقین ہے کہ بارڈ کے بہت سارے دیگر حیرت انگیز استعمال کے معاملے ہوں گے۔ کیا آپ نے اب تک کوئی دریافت کی ہے؟ براہ کرم نیچے دی گئی تبصرے میں شیئر کریں۔

    #گوگل #بارڈ #زبانسیکھنےکاماڈل #AI #جنیریٹیوAI

    Via @saad hamid
    کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ بارڈ کے ساتھ ایک حیرت انگیز چیز کر سکتے ہیں؟ آپ اسے استعمال کرکے انٹرنیٹ پر کسی بھی زندہ لنک، ویب پیج، دستاویز، تصویر، ویڈیو یا اسپریڈ شیٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اسے سکین کر سکتے ہیں۔ میرے پاس بعض استعمال کی صورتیں ہیں جنہیں میں نے آزمایا ہے: 🧑 بارڈ کو کسی زندہ LinkedIn پروفائل کی طرف اشارہ کریں اور اس سے متعلقہ شخص کے بارے میں پوسٹ کرنے کے بارے میں ایک احساس حاصل کرنے کے لئے اسے سکین کرنے کا کہیں۔ یہ میٹنگ سے پہلے مددگار ہو سکتی ہے۔ 🚀 بارڈ کو کسی سفارتخانہ کے ویب پیج کی طرف اشارہ کریں اور اس سے ویزہ کے لئے درخواست دینے کے لئے درکار دستاویزات کی فہرست حاصل کرنے کے لئے اسے سکین کرنے کا کہیں۔ یہ فوری کارروائی کے اقدامات بنانے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ 📹 بارڈ کو کسی YouTube ویڈیو کی طرف اشارہ کریں اور اس سے کہیں کہ آپ کے ساتھ اہم سبق یا لے جانے کی چیزیں شیئر کریں۔ یہ وقت بچانے اور اہم نقطے ڈاؤن لوڈ کرنے میں مددگار ہو س کتی ہے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ بارڈ کے بہت سارے دیگر حیرت انگیز استعمال کے معاملے ہوں گے۔ کیا آپ نے اب تک کوئی دریافت کی ہے؟ براہ کرم نیچے دی گئی تبصرے میں شیئر کریں۔ #گوگل #بارڈ #زبانسیکھنےکاماڈل #AI #جنیریٹیوAI Via @saad hamid
    0 تبصرے 0 شیئرز 175 ویوز
  • Worlds Highest ATM

    خنجراب پاس پر لگی انوکھی اے ٹی ایم چائنا بارڈر
    سطح سمندر سے 4700 میٹر بلند ہے۔
    #GilgitBaltistan #Pakistan
    World's Highest ATM خنجراب پاس پر لگی انوکھی اے ٹی ایم چائنا بارڈر سطح سمندر سے 4700 میٹر بلند ہے۔ #GilgitBaltistan #Pakistan
    0 تبصرے 0 شیئرز 180 ویوز
  • انڈیا کے ساتھ فوری طور پر بارڈر کھول کر ھر قسم کی تجارت شروع کرنی چاہئے تاکہ ہمارا ملک مہنگائی کے عذاب سے نکلے اور راہداری کے لیے بھی بے حساب دولت ملے ۔۔پرانے گندھے ذہنیت کے لوگ اب پاکستان سے باہر کرکے وہاں بھیجنے چاہیں جو ان کے اصل مقامات ہیں جہاں انہوں نے خود بھی جانا ہے اخر میں ۔۔ریٹائرمنٹ کے بعد ۔۔پاکستان کے ساتھ کھیلنا اب بند ہونا چاہیے
    Via Mohammad Niqab Khan

    Please share if you agree
    انڈیا کے ساتھ فوری طور پر بارڈر کھول کر ھر قسم کی تجارت شروع کرنی چاہئے تاکہ ہمارا ملک مہنگائی کے عذاب سے نکلے اور راہداری کے لیے بھی بے حساب دولت ملے ۔۔پرانے گندھے ذہنیت کے لوگ اب پاکستان سے باہر کرکے وہاں بھیجنے چاہیں جو ان کے اصل مقامات ہیں جہاں انہوں نے خود بھی جانا ہے اخر میں ۔۔ریٹائرمنٹ کے بعد ۔۔پاکستان کے ساتھ کھیلنا اب بند ہونا چاہیے Via Mohammad Niqab Khan Please share if you agree
    0 تبصرے 0 شیئرز 77 ویوز
  • بریکنگ نیوز | طورخم بارڈر پر مثبت پیشرفت

    آج طورخم بارڈر پر ایک خوش آئند اور امید افزا منظر دیکھنے کو ملا، جب پاکستانی حکام اور اماراتِ اسلامی افغانستان کے نمائندے ایک دوسرے سے گرمجوشی کے ساتھ بغلگیر ہوتے نظر آئے۔

    یہ لمحہ نہ صرف ایک تصویر تھا… بلکہ ایک پیغام تھا۔

    پیغام امن کا
    پیغام اعتماد کا
    پیغام بہتر مستقبل کا

    ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں واضح کمی کی علامت ہے۔ ایسے دوستانہ روابط سرحدی معاملات کو آسان بنانے، اعتماد بحال کرنے اور تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اگر یہ ماحول برقرار رہا تو:
    • بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی
    • عوام کے لیے آمد و رفت آسان ہوگی
    • مقامی معیشت کو بڑا ریلیف ملے گا

    یہ ایک چھوٹا قدم نہیں… بلکہ بڑے بدلاؤ کی شروعات ہو سکتی ہے۔

    کیا ہم اس بار امن کو برقرار رکھ پائیں گے؟

    — رپورٹ: سیف الرحمٰن
    Saif Ur Rehman
    🔴 بریکنگ نیوز | طورخم بارڈر پر مثبت پیشرفت آج طورخم بارڈر پر ایک خوش آئند اور امید افزا منظر دیکھنے کو ملا، جب پاکستانی حکام اور اماراتِ اسلامی افغانستان کے نمائندے ایک دوسرے سے گرمجوشی کے ساتھ بغلگیر ہوتے نظر آئے۔ یہ لمحہ نہ صرف ایک تصویر تھا… بلکہ ایک پیغام تھا۔ 📌 پیغام امن کا 📌 پیغام اعتماد کا 📌 پیغام بہتر مستقبل کا ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں واضح کمی کی علامت ہے۔ ایسے دوستانہ روابط سرحدی معاملات کو آسان بنانے، اعتماد بحال کرنے اور تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 🚛 اگر یہ ماحول برقرار رہا تو: • بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی • عوام کے لیے آمد و رفت آسان ہوگی • مقامی معیشت کو بڑا ریلیف ملے گا یہ ایک چھوٹا قدم نہیں… بلکہ بڑے بدلاؤ کی شروعات ہو سکتی ہے۔ کیا ہم اس بار امن کو برقرار رکھ پائیں گے؟ 🤝 — رپورٹ: سیف الرحمٰن Saif Ur Rehman
    0 تبصرے 0 شیئرز 78 ویوز