• RSIF8
    Roll no: 09
    TEDx Talk no:09(urdu)
    TEDx Talk topic: "Finding Your Passion – Neelam Hanif"
    **Finding Your Passion – Neelam Hanif**

    اپنی **Passion یعنی اپنے شوق اور دلچسپی** کو تلاش کرنا ہماری زندگی کا ایک خوبصورت سفر ہے۔ ہمیں مختلف چیزیں آزمانی چاہئیں، نئی skills سیکھنی چاہئیں اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے۔

    اگر ہمیں اپنی Passion تلاش کرنے میں وقت لگے تو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ محنت، practice اور مستقل مزاجی کے ذریعے ہم اپنے شوق کو اپنی طاقت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

    **اپنے شوق کو پہچانیں، اپنی صلاحیت کو نکھاریں اور اپنے خوابوں کی طرف بڑھتے رہیں!**

    #FindingYourPassion #NeelamHanif #Passion #شوق #اپنی_صلاحیت #خواب #Motivation #Inspiration #StudentLife #Learning #Education #Success #HardWork #SelfGrowth #FollowYourDreams #Skills #FutureGoals #SchoolProject
    RSIF8 Roll no: 09 TEDx Talk no:09(urdu) TEDx Talk topic: "Finding Your Passion – Neelam Hanif" 🌟💭 **Finding Your Passion – Neelam Hanif** 💫✨ اپنی **Passion یعنی اپنے شوق اور دلچسپی** کو تلاش کرنا ہماری زندگی کا ایک خوبصورت سفر ہے۔ 🌱💖 ہمیں مختلف چیزیں آزمانی چاہئیں، نئی skills سیکھنی چاہئیں اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے۔ 📚💻🎨 اگر ہمیں اپنی Passion تلاش کرنے میں وقت لگے تو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ 🌈✨ محنت، practice اور مستقل مزاجی کے ذریعے ہم اپنے شوق کو اپنی طاقت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ 💪🚀 **اپنے شوق کو پہچانیں، اپنی صلاحیت کو نکھاریں اور اپنے خوابوں کی طرف بڑھتے رہیں!** 🌟💖🌱 #FindingYourPassion #NeelamHanif #Passion #شوق #اپنی_صلاحیت #خواب #Motivation #Inspiration #StudentLife #Learning #Education #Success #HardWork #SelfGrowth #FollowYourDreams #Skills #FutureGoals #SchoolProject 📚💫🌸💻🎨🌱✨🚀💖
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 430 Views 1
  • تین دوست اور ایک نیا اسکول

    کراچی کے ایک چھوٹے سے علاقے میں تین دوست رہتے تھے: احمد، حرا اور زین۔

    احمد ہمیشہ سوچتا تھا،
    "میں بڑا ہو کر کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔"

    حرا کو ٹیکنالوجی اور نئی چیزیں سیکھنے کا شوق تھا، جبکہ زین کا خواب تھا کہ وہ ایک دن اپنا کاروبار شروع کرے۔

    ایک دن تینوں کو ریحان اسکول کے بارے میں پتا چلا۔

    جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں ایک ایسی دنیا نظر آئی جہاں تعلیم صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں تھی۔ یہاں طلبہ کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عملی مہارتوں اور مسئلے حل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرایا جاتا تھا۔

    حرا نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کہا،
    "دیکھو! یہاں AI صرف پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے کام میں استعمال کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔"

    احمد نے حیرت سے پوچھا،
    "تو کیا ہم صرف نوکری تلاش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے مسائل کے حل بھی خود بنا سکتے ہیں؟"

    زین مسکرایا اور بولا،
    "شاید یہی اصل بات ہے! اگر ہم کوئی ہنر سیکھیں، اسے عملی طور پر استعمال کریں اور لوگوں کے مسائل حل کریں، تو ہم خود بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔"

    تینوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

    اس دن انہیں احساس ہوا کہ مستقبل صرف اُن لوگوں کا نہیں جو زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، بلکہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو سیکھتے ہیں، بناتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔

    احمد نے کہا،
    "تو پھر ہمارا پہلا پروجیکٹ کیا ہوگا؟"

    حرا نے جواب دیا،
    "جو مسئلہ ہمارے اردگرد ہے، اسے تلاش کرتے ہیں۔"

    زین نے مسکرا کر کہا،
    "اور پھر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں!"

    تینوں دوست اپنے سفر پر نکل پڑے۔

    کیونکہ ریحان اسکول میں ان کے لیے تعلیم صرف ایک منزل نہیں تھی—بلکہ ایک ایسا سفر تھا جہاں وہ سیکھ سکتے تھے، بنا سکتے تھے، قیادت کر سکتے تھے اور اپنے مستقبل کو خود تشکیل دے سکتے تھے۔

    اختتام نہیں… یہ تو ان کے نئے سفر کی شروعات تھی۔

    ریحان اسکول

    سیکھو۔ بناؤ۔ قیادت کرو۔ اپنا مستقبل خود بناؤ۔
    تین دوست اور ایک نیا اسکول کراچی کے ایک چھوٹے سے علاقے میں تین دوست رہتے تھے: احمد، حرا اور زین۔ احمد ہمیشہ سوچتا تھا، "میں بڑا ہو کر کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔" حرا کو ٹیکنالوجی اور نئی چیزیں سیکھنے کا شوق تھا، جبکہ زین کا خواب تھا کہ وہ ایک دن اپنا کاروبار شروع کرے۔ ایک دن تینوں کو ریحان اسکول کے بارے میں پتا چلا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں ایک ایسی دنیا نظر آئی جہاں تعلیم صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں تھی۔ یہاں طلبہ کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عملی مہارتوں اور مسئلے حل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرایا جاتا تھا۔ حرا نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کہا، "دیکھو! یہاں AI صرف پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے کام میں استعمال کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔" احمد نے حیرت سے پوچھا، "تو کیا ہم صرف نوکری تلاش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے مسائل کے حل بھی خود بنا سکتے ہیں؟" زین مسکرایا اور بولا، "شاید یہی اصل بات ہے! اگر ہم کوئی ہنر سیکھیں، اسے عملی طور پر استعمال کریں اور لوگوں کے مسائل حل کریں، تو ہم خود بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔" تینوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس دن انہیں احساس ہوا کہ مستقبل صرف اُن لوگوں کا نہیں جو زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، بلکہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو سیکھتے ہیں، بناتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ احمد نے کہا، "تو پھر ہمارا پہلا پروجیکٹ کیا ہوگا؟" حرا نے جواب دیا، "جو مسئلہ ہمارے اردگرد ہے، اسے تلاش کرتے ہیں۔" زین نے مسکرا کر کہا، "اور پھر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں!" تینوں دوست اپنے سفر پر نکل پڑے۔ کیونکہ ریحان اسکول میں ان کے لیے تعلیم صرف ایک منزل نہیں تھی—بلکہ ایک ایسا سفر تھا جہاں وہ سیکھ سکتے تھے، بنا سکتے تھے، قیادت کر سکتے تھے اور اپنے مستقبل کو خود تشکیل دے سکتے تھے۔ اختتام نہیں… یہ تو ان کے نئے سفر کی شروعات تھی۔ ریحان اسکول سیکھو۔ بناؤ۔ قیادت کرو۔ اپنا مستقبل خود بناؤ۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 2364 Views
  • تین دوست اور ایک نیا اسکول

    کراچی کے ایک چھوٹے سے علاقے میں تین دوست رہتے تھے: احمد، حرا اور زین۔

    احمد ہمیشہ سوچتا تھا،
    "میں بڑا ہو کر کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔"

    حرا کو ٹیکنالوجی اور نئی چیزیں سیکھنے کا شوق تھا، جبکہ زین کا خواب تھا کہ وہ ایک دن اپنا کاروبار شروع کرے۔

    ایک دن تینوں کو ریحان اسکول کے بارے میں پتا چلا۔

    جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں ایک ایسی دنیا نظر آئی جہاں تعلیم صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں تھی۔ یہاں طلبہ کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عملی مہارتوں اور مسئلے حل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرایا جاتا تھا۔

    حرا نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کہا،
    "دیکھو! یہاں AI صرف پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے کام میں استعمال کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔"

    احمد نے حیرت سے پوچھا،
    "تو کیا ہم صرف نوکری تلاش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے مسائل کے حل بھی خود بنا سکتے ہیں؟"

    زین مسکرایا اور بولا،
    "شاید یہی اصل بات ہے! اگر ہم کوئی ہنر سیکھیں، اسے عملی طور پر استعمال کریں اور لوگوں کے مسائل حل کریں، تو ہم خود بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔"

    تینوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

    اس دن انہیں احساس ہوا کہ مستقبل صرف اُن لوگوں کا نہیں جو زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، بلکہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو سیکھتے ہیں، بناتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔

    احمد نے کہا،
    "تو پھر ہمارا پہلا پروجیکٹ کیا ہوگا؟"

    حرا نے جواب دیا،
    "جو مسئلہ ہمارے اردگرد ہے، اسے تلاش کرتے ہیں۔"

    زین نے مسکرا کر کہا،
    "اور پھر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں!"

    تینوں دوست اپنے سفر پر نکل پڑے۔

    کیونکہ ریحان اسکول میں ان کے لیے تعلیم صرف ایک منزل نہیں تھی—بلکہ ایک ایسا سفر تھا جہاں وہ سیکھ سکتے تھے، بنا سکتے تھے، قیادت کر سکتے تھے اور اپنے مستقبل کو خود تشکیل دے سکتے تھے۔

    اختتام نہیں… یہ تو ان کے نئے سفر کی شروعات تھی۔

    ریحان اسکول

    سیکھو۔ بناؤ۔ قیادت کرو۔ اپنا مستقبل خود بناؤ۔
    تین دوست اور ایک نیا اسکول کراچی کے ایک چھوٹے سے علاقے میں تین دوست رہتے تھے: احمد، حرا اور زین۔ احمد ہمیشہ سوچتا تھا، "میں بڑا ہو کر کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔" حرا کو ٹیکنالوجی اور نئی چیزیں سیکھنے کا شوق تھا، جبکہ زین کا خواب تھا کہ وہ ایک دن اپنا کاروبار شروع کرے۔ ایک دن تینوں کو ریحان اسکول کے بارے میں پتا چلا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں ایک ایسی دنیا نظر آئی جہاں تعلیم صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں تھی۔ یہاں طلبہ کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عملی مہارتوں اور مسئلے حل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرایا جاتا تھا۔ حرا نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کہا، "دیکھو! یہاں AI صرف پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے کام میں استعمال کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔" احمد نے حیرت سے پوچھا، "تو کیا ہم صرف نوکری تلاش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے مسائل کے حل بھی خود بنا سکتے ہیں؟" زین مسکرایا اور بولا، "شاید یہی اصل بات ہے! اگر ہم کوئی ہنر سیکھیں، اسے عملی طور پر استعمال کریں اور لوگوں کے مسائل حل کریں، تو ہم خود بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔" تینوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس دن انہیں احساس ہوا کہ مستقبل صرف اُن لوگوں کا نہیں جو زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، بلکہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو سیکھتے ہیں، بناتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ احمد نے کہا، "تو پھر ہمارا پہلا پروجیکٹ کیا ہوگا؟" حرا نے جواب دیا، "جو مسئلہ ہمارے اردگرد ہے، اسے تلاش کرتے ہیں۔" زین نے مسکرا کر کہا، "اور پھر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں!" تینوں دوست اپنے سفر پر نکل پڑے۔ کیونکہ ریحان اسکول میں ان کے لیے تعلیم صرف ایک منزل نہیں تھی—بلکہ ایک ایسا سفر تھا جہاں وہ سیکھ سکتے تھے، بنا سکتے تھے، قیادت کر سکتے تھے اور اپنے مستقبل کو خود تشکیل دے سکتے تھے۔ اختتام نہیں… یہ تو ان کے نئے سفر کی شروعات تھی۔ ریحان اسکول سیکھو۔ بناؤ۔ قیادت کرو۔ اپنا مستقبل خود بناؤ۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 2031 Views
  • ریحان اسکول کی کہانی

    ایک ہی محلے میں رہنے والے تین بچے تھے: عائشہ، احمد اور فاطمہ۔

    عائشہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی تھی، احمد کو نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا شوق تھا، جبکہ فاطمہ ایک بااعتماد مقررہ بننا چاہتی تھی۔

    ان تینوں نے ریحان اسکول میں داخلہ لیا، جہاں انہیں صرف کتابی تعلیم@@ ہی نہیں بلکہ کردار سازی، اعتماد، تخلیقی سوچ اور جدید مہارتیں بھی سکھائی گئیں۔

    چند ہی ماہ میں ان کی شخصیت بدل گئی۔ وہ اعتماد کے ساتھ بولنے لگے، نئی چیزیں سیکھنے لگے اور اپنے خوابوں کی طرف مضبوطی سے قدم بڑھانے لگے۔

    آپ کے بچے کی کامیابی کی کہانی بھی ریحان اسکول سے شروع ہو سکتی ہے۔

    داخلے جاری ہیں!
    آج ہی اپنے بچے کا داخلہ کروائیں اور اسے روشن مستقبل کی طرف پہلا قدم اٹھانے کا موقع دیں۔
    Rehan Allahwala
    Rubab EducationWali
    🌟 ریحان اسکول کی کہانی 🌟 ایک ہی محلے میں رہنے والے تین بچے تھے: عائشہ، احمد اور فاطمہ۔ عائشہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی تھی، احمد کو نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا شوق تھا، جبکہ فاطمہ ایک بااعتماد مقررہ بننا چاہتی تھی۔ ان تینوں نے ریحان اسکول میں داخلہ لیا، جہاں انہیں صرف کتابی تعلیم@@ ہی نہیں بلکہ کردار سازی، اعتماد، تخلیقی سوچ اور جدید مہارتیں بھی سکھائی گئیں۔ چند ہی ماہ میں ان کی شخصیت بدل گئی۔ وہ اعتماد کے ساتھ بولنے لگے، نئی چیزیں سیکھنے لگے اور اپنے خوابوں کی طرف مضبوطی سے قدم بڑھانے لگے۔ آپ کے بچے کی کامیابی کی کہانی بھی ریحان اسکول سے شروع ہو سکتی ہے۔ 📚 داخلے جاری ہیں! ✨ آج ہی اپنے بچے کا داخلہ کروائیں اور اسے روشن مستقبل کی طرف پہلا قدم اٹھانے کا موقع دیں۔ Rehan Allahwala Rubab EducationWali
    1
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 807 Views
  • تین دوست اور ایک نیا اسکول

    کراچی کے ایک چھوٹے سے علاقے میں تین دوست رہتے تھے: احمد، حرا اور زین۔

    احمد ہمیشہ سوچتا تھا،
    "میں بڑا ہو کر کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔"

    حرا کو ٹیکنالوجی اور نئی چیزیں سیکھنے کا شوق تھا، جبکہ زین کا خواب تھا کہ وہ ایک دن اپنا کاروبار شروع کرے۔

    ایک دن تینوں کو ریحان اسکول کے بارے میں پتا چلا۔

    جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں ایک ایسی دنیا نظر آئی جہاں تعلیم صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں تھی۔ یہاں طلبہ کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عملی مہارتوں اور مسئلے حل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرایا جاتا تھا۔

    حرا نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کہا،
    "دیکھو! یہاں AI صرف پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے کام میں استعمال کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔"

    احمد نے حیرت سے پوچھا،
    "تو کیا ہم صرف نوکری تلاش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے مسائل کے حل بھی خود بنا سکتے ہیں؟"

    زین مسکرایا اور بولا،
    "شاید یہی اصل بات ہے! اگر ہم کوئی ہنر سیکھیں، اسے عملی طور پر استعمال کریں اور لوگوں کے مسائل حل کریں، تو ہم خود بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔"

    تینوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

    اس دن انہیں احساس ہوا کہ مستقبل صرف اُن لوگوں کا نہیں جو زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، بلکہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو سیکھتے ہیں، بناتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔

    احمد نے کہا،
    "تو پھر ہمارا پہلا پروجیکٹ کیا ہوگا؟"

    حرا نے جواب دیا،
    "جو مسئلہ ہمارے اردگرد ہے، اسے تلاش کرتے ہیں۔"

    زین نے مسکرا کر کہا،
    "اور پھر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں!"

    تینوں دوست اپنے سفر پر نکل پڑے۔

    کیونکہ ریحان اسکول میں ان کے لیے تعلیم صرف ایک منزل نہیں تھی—بلکہ ایک ایسا سفر تھا جہاں وہ سیکھ سکتے تھے، بنا سکتے تھے، قیادت کر سکتے تھے اور اپنے مستقبل کو خود تشکیل دے سکتے تھے۔

    اختتام نہیں… یہ تو ان کے نئے سفر کی شروعات تھی۔

    ریحان اسکول

    سیکھو۔ بناؤ۔ قیادت کرو۔ اپنا مستقبل خود بناؤ۔
    تین دوست اور ایک نیا اسکول کراچی کے ایک چھوٹے سے علاقے میں تین دوست رہتے تھے: احمد، حرا اور زین۔ احمد ہمیشہ سوچتا تھا، "میں بڑا ہو کر کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔" حرا کو ٹیکنالوجی اور نئی چیزیں سیکھنے کا شوق تھا، جبکہ زین کا خواب تھا کہ وہ ایک دن اپنا کاروبار شروع کرے۔ ایک دن تینوں کو ریحان اسکول کے بارے میں پتا چلا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں ایک ایسی دنیا نظر آئی جہاں تعلیم صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں تھی۔ یہاں طلبہ کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عملی مہارتوں اور مسئلے حل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرایا جاتا تھا۔ حرا نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کہا، "دیکھو! یہاں AI صرف پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ اسے کام میں استعمال کرنا بھی سکھایا جاتا ہے۔" احمد نے حیرت سے پوچھا، "تو کیا ہم صرف نوکری تلاش کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے مسائل کے حل بھی خود بنا سکتے ہیں؟" زین مسکرایا اور بولا، "شاید یہی اصل بات ہے! اگر ہم کوئی ہنر سیکھیں، اسے عملی طور پر استعمال کریں اور لوگوں کے مسائل حل کریں، تو ہم خود بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔" تینوں دوستوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس دن انہیں احساس ہوا کہ مستقبل صرف اُن لوگوں کا نہیں جو زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، بلکہ اُن لوگوں کا بھی ہے جو سیکھتے ہیں، بناتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ احمد نے کہا، "تو پھر ہمارا پہلا پروجیکٹ کیا ہوگا؟" حرا نے جواب دیا، "جو مسئلہ ہمارے اردگرد ہے، اسے تلاش کرتے ہیں۔" زین نے مسکرا کر کہا، "اور پھر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں!" تینوں دوست اپنے سفر پر نکل پڑے۔ کیونکہ ریحان اسکول میں ان کے لیے تعلیم صرف ایک منزل نہیں تھی—بلکہ ایک ایسا سفر تھا جہاں وہ سیکھ سکتے تھے، بنا سکتے تھے، قیادت کر سکتے تھے اور اپنے مستقبل کو خود تشکیل دے سکتے تھے۔ اختتام نہیں… یہ تو ان کے نئے سفر کی شروعات تھی۔ ریحان اسکول سیکھو۔ بناؤ۔ قیادت کرو۔ اپنا مستقبل خود بناؤ۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1475 Views
  • What do you think she should do ?

    میں اپنی زندگی کی کہانی ریحان اللہ والا صاحب کو Delegate کرتی ہوں میرا تعلق پشاور کہ ایک مڈل کلاس طبقے سے ہے 2 سال کی تھی جب پولیو جیسے مرض کا شکار ہو گئی وقت آہستہ آ ہستہ کٹتا رہا میں نے ایک سکول میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کرنے لگی اس طرح میں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر لی پر اس دوران مجھے لوگوں کی گھورتی اور ترس بھری نگاہوں نے بہت دل برداشتہ کیا نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیم کے شوق میں گھر سے نکلنا پڑا یہ لمبا سفر طے کرنے کہ بعد میری شادی اپنے ہی پڑوس میں ایک لڑکے سے کر دی گئی لڑکا بہت اچھا تھا اس نے مجھے میری معذوری کے ساتھ قبول کیا پر اس کے گھر والوں نے مجھے قبول نہ کیا خیر جیسے تیسے کر کہ ٹائم گذرتا گیا میرے تین بچے ہو گئے اتنے میں ایک دن میرے Husband کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا بچے ابھی چھوٹے تھے چھوٹا بچہ نرسری میں پڑھ رہا تھا اور کوئی کمانے کا ذریعہ بھی نہیں تھا ان کی پرائیویٹ جاب تھی اوپر آ سمان تھا اور نیچے ہم بے آ سرا ومددگار ان کی بیماری اور بچوں کی تعلیم کے خرچہ کا سوچ کر میرا اپنا دماغی توازن کام نہیں کر رہا تھا اور اپنی حالت بھی ایسی نہ تھی کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کام کاج کر سکوں کچھ ٹائم گھر پر گزارنے کے بعد میں نے ایک اسٹور پر جاب شروع کر دی جس میں مجھے اپنی اس معذوری کی حالت میں بھی 12 گھنٹے کھڑے ہو کر چیزیں Sale کرنی پڑھتی تھیں صبح بچوں کو بھوکا اسکول بھیجتی تھی اور رات کو بسوں میں دھکے کھاتی گرتی پڑتی گھر پہنچ کر بچوں کو کھانا دیتی تھی ادھر خاوند کی بیماری بڑھتی گئی کبھی ان کو ہسپتال میں داخل کرواتی کبھی گھر لے آ تی پر ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا برے حالات میں اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں سب نے کہا بچوں کو اسکول سے اٹھا کر کسی کام پر بیٹھا دو پر میں نہ مانی اور بچوں کی تعلیم جاری رکھی نہ صرف ان کو اچھے اور بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی بلکہ ان کو ایک اچھا ماحول بھی دیا میڑک میری بیٹی نے ٹاپ ٹین کی پوزیشن میں پاس کیا اس کے بعد میری بیٹی نے BS,c ایڈورڈ کالج پشاور سے کیا اج میری بیٹی پشاور یونیورسٹی سےEnvironmental sciences میں ماسٹر کر رہی ہے دوسرا بچہ بھی BBA کر رہاہے اور تیسرا بچہ سیکنڈ ائر کا امتحان دے چکا ہے ساتھ ساتھ بیٹوں کو الیکٹریشن میں ڈپلومہ بھی کروایا پر میری زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا مجھے اپنے بچوں کو کسی مقام پر پہنچانا ہے وقت کے دھکے کھاتی گرتی پڑتی مجھے بھی ایک ایسی آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جہاں پر ان کا مقصد ریسپیشن پر یعنی فرنٹ ڈسک پر ایک معذور لڑکی کو جاب دینا تھا اس طرح مجھے اس آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جو کہ ایک بہترین آرگنائزیشن ہے اور مجھے اس میں کام کرتے دس سال ہو گئے ہیں میں نے اپنی زندگی کے 38 سال امتحانات میں گزارے اور نہ معلوم ابھی اور کتنے امتحانات آ گے گزرنا پڑھے کیونکہ ابھی بچوں کی تعلیمی اخراجات میری پہنچ سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں کہ وہ میری مدد کرے کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکوں ۔اگر آپ حضرات کے پاس میرے لئے کوئی مشورہ ہو تو پلیز مجھ سے شئیر کریں ۔

    Faiza Nuzhat
    What do you think she should do ? میں اپنی زندگی کی کہانی ریحان اللہ والا صاحب کو Delegate کرتی ہوں میرا تعلق پشاور کہ ایک مڈل کلاس طبقے سے ہے 2 سال کی تھی جب پولیو جیسے مرض کا شکار ہو گئی وقت آہستہ آ ہستہ کٹتا رہا میں نے ایک سکول میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کرنے لگی اس طرح میں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر لی پر اس دوران مجھے لوگوں کی گھورتی اور ترس بھری نگاہوں نے بہت دل برداشتہ کیا نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیم کے شوق میں گھر سے نکلنا پڑا یہ لمبا سفر طے کرنے کہ بعد میری شادی اپنے ہی پڑوس میں ایک لڑکے سے کر دی گئی لڑکا بہت اچھا تھا اس نے مجھے میری معذوری کے ساتھ قبول کیا پر اس کے گھر والوں نے مجھے قبول نہ کیا خیر جیسے تیسے کر کہ ٹائم گذرتا گیا میرے تین بچے ہو گئے اتنے میں ایک دن میرے Husband کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا بچے ابھی چھوٹے تھے چھوٹا بچہ نرسری میں پڑھ رہا تھا اور کوئی کمانے کا ذریعہ بھی نہیں تھا ان کی پرائیویٹ جاب تھی اوپر آ سمان تھا اور نیچے ہم بے آ سرا ومددگار ان کی بیماری اور بچوں کی تعلیم کے خرچہ کا سوچ کر میرا اپنا دماغی توازن کام نہیں کر رہا تھا اور اپنی حالت بھی ایسی نہ تھی کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کام کاج کر سکوں کچھ ٹائم گھر پر گزارنے کے بعد میں نے ایک اسٹور پر جاب شروع کر دی جس میں مجھے اپنی اس معذوری کی حالت میں بھی 12 گھنٹے کھڑے ہو کر چیزیں Sale کرنی پڑھتی تھیں صبح بچوں کو بھوکا اسکول بھیجتی تھی اور رات کو بسوں میں دھکے کھاتی گرتی پڑتی گھر پہنچ کر بچوں کو کھانا دیتی تھی ادھر خاوند کی بیماری بڑھتی گئی کبھی ان کو ہسپتال میں داخل کرواتی کبھی گھر لے آ تی پر ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا برے حالات میں اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں سب نے کہا بچوں کو اسکول سے اٹھا کر کسی کام پر بیٹھا دو پر میں نہ مانی اور بچوں کی تعلیم جاری رکھی نہ صرف ان کو اچھے اور بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی بلکہ ان کو ایک اچھا ماحول بھی دیا میڑک میری بیٹی نے ٹاپ ٹین کی پوزیشن میں پاس کیا اس کے بعد میری بیٹی نے BS,c ایڈورڈ کالج پشاور سے کیا اج میری بیٹی پشاور یونیورسٹی سےEnvironmental sciences میں ماسٹر کر رہی ہے دوسرا بچہ بھی BBA کر رہاہے اور تیسرا بچہ سیکنڈ ائر کا امتحان دے چکا ہے ساتھ ساتھ بیٹوں کو الیکٹریشن میں ڈپلومہ بھی کروایا پر میری زندگی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا مجھے اپنے بچوں کو کسی مقام پر پہنچانا ہے وقت کے دھکے کھاتی گرتی پڑتی مجھے بھی ایک ایسی آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جہاں پر ان کا مقصد ریسپیشن پر یعنی فرنٹ ڈسک پر ایک معذور لڑکی کو جاب دینا تھا اس طرح مجھے اس آ رگنائزیشن میں جاب مل گئی جو کہ ایک بہترین آرگنائزیشن ہے اور مجھے اس میں کام کرتے دس سال ہو گئے ہیں میں نے اپنی زندگی کے 38 سال امتحانات میں گزارے اور نہ معلوم ابھی اور کتنے امتحانات آ گے گزرنا پڑھے کیونکہ ابھی بچوں کی تعلیمی اخراجات میری پہنچ سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں کہ وہ میری مدد کرے کہ میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکوں ۔اگر آپ حضرات کے پاس میرے لئے کوئی مشورہ ہو تو پلیز مجھ سے شئیر کریں ۔ Faiza Nuzhat
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1145 Views
  • سر ریحان اللہ والا کے میوچل فرینڈ ایکسپیریمینٹ سے حاصل کئیے گئے چند فوائد :
    ١.نظریے میں تبدیلی پیدا ہوئی.
    ٢.ٹولز کو استعمال کرنے کے مقاصد تبدیل ہو گئے.
    ٣.اپنے فن کو دیکھانے کا طریقہ آگیا.
    ٤.آس پاس نالج کا انبار لگ گیا.
    ٥.نئے نئے ٹولز چلانے سیکھے.
    ٦.کتابیں اور آرٹیکلز پڑھنے کا شوق پیدا ہوا.
    ٧.لکھائی مزید بہتر ہوئی.
    ٨.انگلش بھی پہلے سے کچھ بہتر ہوئی.
    ٩.مثبت، دلچسپ اور پہلے سے تھوڑا بڑا نیٹ ورک ملا.
    ١٠. رئیل لائف میں بھی دوست بنے.
    ١١.معلوم ہوا کہ زندگی مقصد کے بنا فضول ہے.
    ١٢.ٹرینڈ سے آشنا ہوا.
    ١٤.ماحول کو آبسرو (Observe)کرتے ہوئے آئڈیاز بنانے سیکھے.
    ١٥.شخصیات کے بارے میں جاننے کی جستجو ہوئی.
    ١٧.لوگوں سے ملنے کا اور ان کے بارے میں جاننے کا اور ان پر لکھنے کا شوق پیدا ہوگیا.
    ١٩.برداشت اور خاص طور پر دوسرے مزاہب اور قوموں کے لئیے برداشت پیدا ہوئی.
    ٢٠.کسی پر تنقید کرنے سے دور رہنے کی کوشش کرنے لگا.
    ٢١.ہر نئی چیز کے بارے میں جاننے کی جستجو اور سوالات پوچھنے کی عادت پیدا ہوئی.

    @Usama Dawood
    سر ریحان اللہ والا کے میوچل فرینڈ ایکسپیریمینٹ سے حاصل کئیے گئے چند فوائد : ١.نظریے میں تبدیلی پیدا ہوئی. ٢.ٹولز کو استعمال کرنے کے مقاصد تبدیل ہو گئے. ٣.اپنے فن کو دیکھانے کا طریقہ آگیا. ٤.آس پاس نالج کا انبار لگ گیا. ٥.نئے نئے ٹولز چلانے سیکھے. ٦.کتابیں اور آرٹیکلز پڑھنے کا شوق پیدا ہوا. ٧.لکھائی مزید بہتر ہوئی. ٨.انگلش بھی پہلے سے کچھ بہتر ہوئی. ٩.مثبت، دلچسپ اور پہلے سے تھوڑا بڑا نیٹ ورک ملا. ١٠. رئیل لائف میں بھی دوست بنے. ١١.معلوم ہوا کہ زندگی مقصد کے بنا فضول ہے. ١٢.ٹرینڈ سے آشنا ہوا. ١٤.ماحول کو آبسرو (Observe)کرتے ہوئے آئڈیاز بنانے سیکھے. ١٥.شخصیات کے بارے میں جاننے کی جستجو ہوئی. ١٧.لوگوں سے ملنے کا اور ان کے بارے میں جاننے کا اور ان پر لکھنے کا شوق پیدا ہوگیا. ١٩.برداشت اور خاص طور پر دوسرے مزاہب اور قوموں کے لئیے برداشت پیدا ہوئی. ٢٠.کسی پر تنقید کرنے سے دور رہنے کی کوشش کرنے لگا. ٢١.ہر نئی چیز کے بارے میں جاننے کی جستجو اور سوالات پوچھنے کی عادت پیدا ہوئی. @Usama Dawood
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 840 Views
  • ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘
    یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔
    زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔
    نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
    دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار
    دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔
    ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔
    صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔
    اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔
    لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔
    معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘
    تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔
    سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘
    اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں)
    جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔
    لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔
    پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔
    لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔
    ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔
    کمپنی کا غیر جانبدار نام
    کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔
    دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
    جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔
    شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔
    اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘
    چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔
    پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔
    کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔
    چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ
    پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔
    لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘
    بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔
    وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘
    فوجی بوٹ، سروس
    ،تصویر کا ذریعہREUTERS
    اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔
    لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔
    انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔
    تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔
    سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں
    کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔
    لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔
    چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔
    انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔
    یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔
    کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔
    چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔
    دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔
    اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔
    کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔
    سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔
    کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔
    سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERIVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں
    برآمدات کی ابتدا
    60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔
    سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔
    محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔
    وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘
    ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘
    وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘
    اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
    اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔
    ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔
    ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘
    اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔
    جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘
    امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔
    لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔
    ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘
    وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔
    کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔
    چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔
    یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
    کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔
    اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
    نو ماسک، نو سروس
    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ
    ،تصویر کا کیپشن
    باٹا کا اشتہار: نو ماسک، نو سروس
    سروس بمقابلہ باٹا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔
    کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ نو ماسک، نو سروس۔
    پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔
    لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔
    سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔
    وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔
    یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔
    وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔
    سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘ یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔ نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔ ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔ صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔ اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔ لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔ معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘ تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔ سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘ اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں) جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔ لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔ پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔ لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔ ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔ کمپنی کا غیر جانبدار نام کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔ شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔ لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘ چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔ پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔ کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔ چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔ لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔ چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘ بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘ فوجی بوٹ، سروس ،تصویر کا ذریعہREUTERS اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔ لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔ انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔ سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔ لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔ چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔ انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔ یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔ کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔ چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔ دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔ اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔ کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔ سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔ کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔ سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERIVIS ،تصویر کا کیپشن فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں برآمدات کی ابتدا 60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔ سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔ محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘ ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘ اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔ ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔ ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘ اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔ جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘ امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔ لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔ ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘ وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔ کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔ چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔ اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ 'نو ماسک، نو سروس' ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ ،تصویر کا کیپشن باٹا کا اشتہار: 'نو ماسک، نو سروس' سروس بمقابلہ باٹا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔ کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ 'نو ماسک، نو سروس۔' پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔ لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔ سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔ یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔ وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 1439 Views
  • ہمارے لوگون کو نوکار بنے کا شوق کیون ہے؟
    ہمارے لوگون کو نوکار بنے کا شوق کیون ہے؟
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 136 Views
  • میں بہت محتاط تھا لیکن ہواے شوق سے
    دل کا دروازہ کُھلا اور خواب اندر آ گئے

    Join Ammar Jaffri EPakistan Team
    میں بہت محتاط تھا لیکن ہواے شوق سے دل کا دروازہ کُھلا اور خواب اندر آ گئے Join Ammar Jaffri EPakistan Team
    0 Yorumlar 0 hisse senetleri 189 Views
Arama Sonuçları