• اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ ہے
    املاک بھی اولاد بھی جا گیر بھی فتنہ ہے
    نا حق کے لئے یتھے تو شمشیر بھی فتنہ ہے
    شمشیر ہی کیا نعرۃ تکبیر بھی فتنہ ہے
    . اقبال
    اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ ہے املاک بھی اولاد بھی جا گیر بھی فتنہ ہے نا حق کے لئے یتھے تو شمشیر بھی فتنہ ہے شمشیر ہی کیا نعرۃ تکبیر بھی فتنہ ہے . اقبال
    0 Commentaires 0 Parts 242 Vue
  • خودی میں بہت سے سوالات کے جوابات ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی کا مطلب دﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﭖ ﭘﯿﺪﺍ کرنے کا ہے۔ اس اعتبار سے بلند خودی سے آپ اپنی دنیا کی معمار بن سکتے ہیں۔
    خودی میں بہت سے سوالات کے جوابات ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی کا مطلب دﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﭖ ﭘﯿﺪﺍ کرنے کا ہے۔ اس اعتبار سے بلند خودی سے آپ اپنی دنیا کی معمار بن سکتے ہیں۔
    0 Commentaires 0 Parts 91 Vue
  • وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
    اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
    وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
    اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
    وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
    ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
    حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
    نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
    كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
    پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
    اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔ اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔ اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔ وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔ حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔ نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔ كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔ پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔ اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    0 Commentaires 0 Parts 389 Vue
  • Bhai mera yeh paigham Rehan Allahwala sahab tak forward kar do Please
    Bohat pareshani hai, please Abhi Abhi forward Karna time nahi hai zyada,
    ------------------

    اسلام علیکم۔
    سر امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔ سر میرا نام عدیل اقبال ہے عمر قریباً 29 برس ہے۔ اور میں ضلع جہلم سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس وقت میں عر صہ 4 برس سے ملازمت کے سلسلہ میں متحدہ عرب امارات کی ریاست اجمان میں مقیم ہوں۔ سر یقیناً آپ مجھے نہیں جانتے پر سر میں آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے سے بہت فالو کرتا ہے۔ سر یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہوگا کہ آپ میرے رول ماڈل ہیں۔سر میں دل سے آپکا بہت احترام کرتا ہوں میرے پاس یہ بتانے کے لیئے مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے بہت افسوس اور شرمندگی ہے سر کہ میں اس وقت میں بے حد مجبوری اور پریشانی کے عالم میں آپ سے رابطہ کر رہا ہوں۔ سر میں اس وقت بڑی شدید الجھن اور پریشانی میں ہوں۔ اس سلسلے میں آپکی مدد درکارh ہے۔ سر مجھ پر کچھ قرض ہے ۔ اور میرے ذاتی چیک یہاں پر کسی کے پاس موجود ہیں۔ جن کی مالیت 22,500 اماراتی درہم (قریباً 7 لاکھ پاکستانی روپے ) ہے۔ سر چیک کی تاریخ 15 دسمبر 2017 کی تھی۔ جو کہ ڈس آنر ہو چکے ہیں۔ لیکن اگلے بندے سے میں سے بڑی عاجزی سے درخواست کر رکھی ہے کہ فی الوقت قانونی چارہ جوئی نہ کرے۔ آج اس شخص نے ایک آخری بار مجھے ایک دن کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ رقم ادا نہ کی تو میرے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گا۔ اب سر میں ایک نہایت متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ خاندان کے قریباً 10 سے زائد افراد کا واحد زمہ دار کفیل ہوں۔ آپ بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک پاکستان میں روزگار کے کیا حالات ہیں۔ جس کی وجہ سے میں یہاں طویل عرصہ سے قیام پذیر پوں۔ اور دن رات محنت کر کے اپنے خاندان کے لوگوں کی بنیادی ضروریات بمشکل پوری کر پا رہا ہوں۔ والدین بوڑھے ہیں اور شدید بیمار ہیں۔ گزشتہ ماہ کی ہی بات ہے میرے والد صاحب کو دماغ پر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ اور بروقت طبی امداد کے باعث بمشکل بچت ہو پائی ہے۔ ایک بہن اور ایک بھائی کسی روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔ جن کا علاج درکار ہے۔ میرے کاندھوں میری 3 بہنوں کی شادی کی ذمےداری بھی ہے۔اور سر بس کیا کیا بتاؤں آپ کو ذہنی پریشانی اور الجھنوں کے باعث میری صحت بھی کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔بے پناہ قرض وبال جان بنا پڑا ہے۔ سر ایسے حالات میں اگر مجھے یہاں پر کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سر میں تو پھر اسے بہتر مرنا پسند کروں گا۔ سر میرے پاس سفید پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے مجھے ایسے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔ لیکن سر میرے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ آپ میری امید کی آخری کرن ہیں۔ سر میری مدد کریں یا پھر یہاں پر کوئی اپنا عزیز بتائیں جو میری مدد کر سکے۔ آپکو میرا شناختی کارڈ, پاسپورٹ، پرسنل چیک ضمانت کے طور پر جو بھی چاہیے ہوا میں آپ کو مہیا کر دوں گا۔ اور سر 8-6 ماہ کے اندر اندر آپکی رقم واپس لوٹا دوں گا۔ پر پلیز سر مایوس مت کیجئے گا۔ بڑی مشکل سے آپ سے رابطہ ہو پایا ہے۔ آپکا مجھ سمیت میرے خاندان کے بہت سے لوگوں پر زندگی بھر احسان رہے گا۔ سر میرے پاس فی الوقت وسائل کی کمی ہے جسکی وجہ سے یہاں دبئی میں ایک فلیٹ میٹ ہے اس کا کوئی پاکستان میں جاننے والا ہے۔ اس کے ذریعے سے پیغام بھیج رہا ہوں آپ تک۔ پلیز سر مدد کیجئے گا۔ سر مجھے اس طرح سے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل گوارہ نہیں لیکن سر میں بے انتہا مجبوری میں ہوں اور عاجزی کی انتہا پر آپ سے مدد کی اپیل ہے۔ اللہ رب العزت آپکے درجات میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین
    سر آپکے بر وقت جواب کا انتظار رہے گا۔
    +971 52 3373100
    Bhai mera yeh paigham Rehan Allahwala sahab tak forward kar do Please Bohat pareshani hai, please Abhi Abhi forward Karna time nahi hai zyada, ------------------ اسلام علیکم۔ سر امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔ سر میرا نام عدیل اقبال ہے عمر قریباً 29 برس ہے۔ اور میں ضلع جہلم سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس وقت میں عر صہ 4 برس سے ملازمت کے سلسلہ میں متحدہ عرب امارات کی ریاست اجمان میں مقیم ہوں۔ سر یقیناً آپ مجھے نہیں جانتے پر سر میں آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے سے بہت فالو کرتا ہے۔ سر یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہوگا کہ آپ میرے رول ماڈل ہیں۔سر میں دل سے آپکا بہت احترام کرتا ہوں میرے پاس یہ بتانے کے لیئے مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے بہت افسوس اور شرمندگی ہے سر کہ میں اس وقت میں بے حد مجبوری اور پریشانی کے عالم میں آپ سے رابطہ کر رہا ہوں۔ سر میں اس وقت بڑی شدید الجھن اور پریشانی میں ہوں۔ اس سلسلے میں آپکی مدد درکارh ہے۔ سر مجھ پر کچھ قرض ہے ۔ اور میرے ذاتی چیک یہاں پر کسی کے پاس موجود ہیں۔ جن کی مالیت 22,500 اماراتی درہم (قریباً 7 لاکھ پاکستانی روپے ) ہے۔ سر چیک کی تاریخ 15 دسمبر 2017 کی تھی۔ جو کہ ڈس آنر ہو چکے ہیں۔ لیکن اگلے بندے سے میں سے بڑی عاجزی سے درخواست کر رکھی ہے کہ فی الوقت قانونی چارہ جوئی نہ کرے۔ آج اس شخص نے ایک آخری بار مجھے ایک دن کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ رقم ادا نہ کی تو میرے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گا۔ اب سر میں ایک نہایت متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ خاندان کے قریباً 10 سے زائد افراد کا واحد زمہ دار کفیل ہوں۔ آپ بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک پاکستان میں روزگار کے کیا حالات ہیں۔ جس کی وجہ سے میں یہاں طویل عرصہ سے قیام پذیر پوں۔ اور دن رات محنت کر کے اپنے خاندان کے لوگوں کی بنیادی ضروریات بمشکل پوری کر پا رہا ہوں۔ والدین بوڑھے ہیں اور شدید بیمار ہیں۔ گزشتہ ماہ کی ہی بات ہے میرے والد صاحب کو دماغ پر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ اور بروقت طبی امداد کے باعث بمشکل بچت ہو پائی ہے۔ ایک بہن اور ایک بھائی کسی روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔ جن کا علاج درکار ہے۔ میرے کاندھوں میری 3 بہنوں کی شادی کی ذمےداری بھی ہے۔اور سر بس کیا کیا بتاؤں آپ کو ذہنی پریشانی اور الجھنوں کے باعث میری صحت بھی کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔بے پناہ قرض وبال جان بنا پڑا ہے۔ سر ایسے حالات میں اگر مجھے یہاں پر کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سر میں تو پھر اسے بہتر مرنا پسند کروں گا۔ سر میرے پاس سفید پوشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے مجھے ایسے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔ لیکن سر میرے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ آپ میری امید کی آخری کرن ہیں۔ سر میری مدد کریں یا پھر یہاں پر کوئی اپنا عزیز بتائیں جو میری مدد کر سکے۔ آپکو میرا شناختی کارڈ, پاسپورٹ، پرسنل چیک ضمانت کے طور پر جو بھی چاہیے ہوا میں آپ کو مہیا کر دوں گا۔ اور سر 8-6 ماہ کے اندر اندر آپکی رقم واپس لوٹا دوں گا۔ پر پلیز سر مایوس مت کیجئے گا۔ بڑی مشکل سے آپ سے رابطہ ہو پایا ہے۔ آپکا مجھ سمیت میرے خاندان کے بہت سے لوگوں پر زندگی بھر احسان رہے گا۔ سر میرے پاس فی الوقت وسائل کی کمی ہے جسکی وجہ سے یہاں دبئی میں ایک فلیٹ میٹ ہے اس کا کوئی پاکستان میں جاننے والا ہے۔ اس کے ذریعے سے پیغام بھیج رہا ہوں آپ تک۔ پلیز سر مدد کیجئے گا۔ سر مجھے اس طرح سے اس انداز میں آپ کو تکلیف دینا بالکل گوارہ نہیں لیکن سر میں بے انتہا مجبوری میں ہوں اور عاجزی کی انتہا پر آپ سے مدد کی اپیل ہے۔ اللہ رب العزت آپکے درجات میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین سر آپکے بر وقت جواب کا انتظار رہے گا۔ +971 52 3373100
    0 Commentaires 0 Parts 348 Vue
  • * علامہ اقبال *

    منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
    مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

    هر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
    پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

    سجدوں سے تیرے کیا هوا صدیاں گزر گئیں
    دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر.
    * علامہ اقبال * منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر هر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر سجدوں سے تیرے کیا هوا صدیاں گزر گئیں دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر.
    0 Commentaires 0 Parts 103 Vue
  • ریحان بھائی ، اگر ہم اپنے کمپیوٹر پر بہت ساری اپلیکشن کھو لیں تو کیا ہو گا کمپیوٹر ہینگ ہو جائے گا اب کمپیوٹر کو نارمل حالات میں لانے کے لیے ہم اپیلیکیشن ہٹانے میں لگے ہوئے ہیں جب کہ ہم کو کمپیوٹر ری سٹارڈ کرنا ہو گا،، تب جا کے اپیلیکشن ہٹے گی ، ہم کو اپلیکیشن بند کرنا نہیں آتا گھر میں کوئی مسئلہ چل رہا یے پرشان ہو کر ہم باہر چلے جاتے ہیں یہ سوچ کر اب معملہ ٹھیک ہو چکا ہو گا مگر جیسے گھر داخل ہوئے پھر سےشروع ، ہم کو سیکھنا ہے کہ مسائل کے ہوتے ہوے اپنے آپ کو برقرار رکھنا ہے ڈر کر بھاگنا نہیں کسی بھی مسئلے کو چیلنج سمجھ کر قبول کرنا ہے ، پرشان ہونے سے پرشانی بڑھتی یے کم نہیں ہوتی ، آپ کو پتہ ہے زرداری صاحب نے ایک ٹیرنیر کو ہائیر کیا تھا جس نے صدرمملکت کو مسکرانے کی ٹرینگ دی ہر وقت اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھنا سیکھایا ، ہم اپیلکیشن کھو تو لیتے ہیں بند کرنا نہیں آتا ، اچھا ایک بندہ اقبال بنا رہے سوچتا رہے سوچتا رہے پرشان یوتا رہے ہوتا رہے کیا پرشانی کم ہو گی یا بڑھ جاگی ، پرشان ہونا بند کرنا ہے ، نیے سرے سے زندگی کو شروع کرنا ہے ،

    By Sarwar Adil
    ریحان بھائی ، اگر ہم اپنے کمپیوٹر پر بہت ساری اپلیکشن کھو لیں تو کیا ہو گا کمپیوٹر ہینگ ہو جائے گا اب کمپیوٹر کو نارمل حالات میں لانے کے لیے ہم اپیلیکیشن ہٹانے میں لگے ہوئے ہیں جب کہ ہم کو کمپیوٹر ری سٹارڈ کرنا ہو گا،، تب جا کے اپیلیکشن ہٹے گی ، ہم کو اپلیکیشن بند کرنا نہیں آتا گھر میں کوئی مسئلہ چل رہا یے پرشان ہو کر ہم باہر چلے جاتے ہیں یہ سوچ کر اب معملہ ٹھیک ہو چکا ہو گا مگر جیسے گھر داخل ہوئے پھر سےشروع ، ہم کو سیکھنا ہے کہ مسائل کے ہوتے ہوے اپنے آپ کو برقرار رکھنا ہے ڈر کر بھاگنا نہیں کسی بھی مسئلے کو چیلنج سمجھ کر قبول کرنا ہے ، پرشان ہونے سے پرشانی بڑھتی یے کم نہیں ہوتی ، آپ کو پتہ ہے زرداری صاحب نے ایک ٹیرنیر کو ہائیر کیا تھا جس نے صدرمملکت کو مسکرانے کی ٹرینگ دی ہر وقت اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھنا سیکھایا ، ہم اپیلکیشن کھو تو لیتے ہیں بند کرنا نہیں آتا ، اچھا ایک بندہ اقبال بنا رہے سوچتا رہے سوچتا رہے پرشان یوتا رہے ہوتا رہے کیا پرشانی کم ہو گی یا بڑھ جاگی ، پرشان ہونا بند کرنا ہے ، نیے سرے سے زندگی کو شروع کرنا ہے ، By Sarwar Adil
    0 Commentaires 0 Parts 135 Vue
  • السلام علیکم سر بہت سارے شکوک و شبہات تھے سر شروع میں جیسے آپ کسی مخصوص فرقے کے نمائندہ ہوسکتے ہیں وغیرہ، جیسے کہ پہلے میں نے جب آپ کو فرسٹ ٹائم پڑھا یا سنا تھا تو مجھے آپکی گفتگو نے متاثر کیا لیکن جب آپکی پروفائل فوٹو دیکھی تو لگا آپکا تعلق انڈیا سے ہے شاید پروفائل فوٹو گراف کچھ اس طرح کا look دیتی ہے پھر آپکا لہجہ جب پاکستانی لگا تو آپ سے آپ کی پروفائل لنک دریافت کرنے پر آپکے یوٹیوب چینل کے بارے میں معلوم ہوا اس پر آپکی تعارفی ویڈیوز دیکھنے سے کافی اطمینان ہوا پھر بھی ایک شبہ تھا کہ آپ قادیانی چینل کے آلہ کار ہو سکتے ہیں (معاف کیجئے گا سر) لیکن آپ کی وہ ویڈیو بھی دیکھی جس میں آپ قادیانی مرکز میں ملنے گئے تھے وہ اقرار بللسان کیا کے آپ ہرگز ان سے متاثر نہیں ہیں اور ریسرچ کے لئے گئے ہیں ۔ تو اس طرح کافی سارے شکوک رفتہ رفتہ جاتے رہے ایک اور وجہ یہ بھی رہی کہ آج کل کے زمانے میں ایک معاشی لحاظ سے کامیاب آدمی کے پاس عمومی طور پر اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ صبح شام ویڈیوز ریکارڈنگ کرتا رہے۔ ہر شخص بس اور سے اور کی تک و دو میں لگا ہوا ہے تو ایسے میں آپ کی اس طرح کی ایکٹیویٹیس عجیب محسوس ہوئیں
    بس سر یہ تھے وہ شکوک و شبہات۔
    سر کسی بات سے تکلیف پہنچی ہو تو ازراہِ کرم معاف فرمائے گا
    پھر علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ بھی ایک شعر ہماری رہنمائی کے لئے کہہ گئے ہیں ( جس کاآخری مصرعہ عرض ہے) کہ
    گفتار کا تو غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

    اللّٰہ پاک ہمیں راہ ہدایت پر گامزن رہنے کا حوصلہ، ہمت و طاقت عطاء فرماکر ہم سب کو اپنے آپ کو پہچان کر اپنے معاشی و دینی فرائض کی انجام دہی کی ادائیگی میں ہماری مدد فرمائے (آمین)

    From a facebook follower @zeeshan khan
    السلام علیکم سر بہت سارے شکوک و شبہات تھے سر شروع میں جیسے آپ کسی مخصوص فرقے کے نمائندہ ہوسکتے ہیں وغیرہ، جیسے کہ پہلے میں نے جب آپ کو فرسٹ ٹائم پڑھا یا سنا تھا تو مجھے آپکی گفتگو نے متاثر کیا لیکن جب آپکی پروفائل فوٹو دیکھی تو لگا آپکا تعلق انڈیا سے ہے شاید پروفائل فوٹو گراف کچھ اس طرح کا look دیتی ہے پھر آپکا لہجہ جب پاکستانی لگا تو آپ سے آپ کی پروفائل لنک دریافت کرنے پر آپکے یوٹیوب چینل کے بارے میں معلوم ہوا اس پر آپکی تعارفی ویڈیوز دیکھنے سے کافی اطمینان ہوا پھر بھی ایک شبہ تھا کہ آپ قادیانی چینل کے آلہ کار ہو سکتے ہیں (معاف کیجئے گا سر) لیکن آپ کی وہ ویڈیو بھی دیکھی جس میں آپ قادیانی مرکز میں ملنے گئے تھے وہ اقرار بللسان کیا کے آپ ہرگز ان سے متاثر نہیں ہیں اور ریسرچ کے لئے گئے ہیں ۔ تو اس طرح کافی سارے شکوک رفتہ رفتہ جاتے رہے ایک اور وجہ یہ بھی رہی کہ آج کل کے زمانے میں ایک معاشی لحاظ سے کامیاب آدمی کے پاس عمومی طور پر اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ صبح شام ویڈیوز ریکارڈنگ کرتا رہے۔ ہر شخص بس اور سے اور کی تک و دو میں لگا ہوا ہے تو ایسے میں آپ کی اس طرح کی ایکٹیویٹیس عجیب محسوس ہوئیں بس سر یہ تھے وہ شکوک و شبہات۔ سر کسی بات سے تکلیف پہنچی ہو تو ازراہِ کرم معاف فرمائے گا پھر علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ بھی ایک شعر ہماری رہنمائی کے لئے کہہ گئے ہیں ( جس کاآخری مصرعہ عرض ہے) کہ گفتار کا تو غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا اللّٰہ پاک ہمیں راہ ہدایت پر گامزن رہنے کا حوصلہ، ہمت و طاقت عطاء فرماکر ہم سب کو اپنے آپ کو پہچان کر اپنے معاشی و دینی فرائض کی انجام دہی کی ادائیگی میں ہماری مدد فرمائے (آمین) From a facebook follower @zeeshan khan
    0 Commentaires 0 Parts 232 Vue
  • اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں،
    بیگانے بھی ناخوش
    میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
    اقبال
    اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند اقبال
    0 Commentaires 0 Parts 197 Vue
  • خدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دے
    کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

    علامہ اقبال
    خدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں علامہ اقبال
    0 Commentaires 0 Parts 204 Vue
  • شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے
    سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
    اقبال
    شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا اقبال
    0 Commentaires 0 Parts 259 Vue
Plus de résultats