• Muqarib Ai wala
    ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus)
    Roll No: 25
    Day: 11 (Story Post)

    **Mulla Nasrudin’s Wise Answer**

    One day, Mulla Nasrudin was walking through the market. A man stopped him and asked, “Mulla, why do you always give such strange answers?”

    Mulla smiled and said, “Because sometimes a simple answer teaches a bigger lesson.”

    The man asked, “Then tell me, what is the most important thing in life?”

    Mulla replied, “Wisdom is knowing when to speak and when to stay silent.”

    The man thought for a moment and smiled.

    **Moral:** True wisdom is not oowing the answer, but also in knowing when and how to use it.

    **ملّا نصرالدین کا عقلمندانہ جواب**

    ایک دن ملّا نصرالدین بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک آدمی نے انہیں روک کر پوچھا، “ملّا! آپ ہمیشہ ایسے عجیب جواب کیوں دیتے ہیں؟”

    ملّا مسکرائے اور بولے، “کیونکہ کبھی کبھی ایک سادہ سا جواب بہت بڑا سبق سکھا دیتا ہے۔”

    اس آدمی نے پوچھا، “تو پھر بتائیے، زندگی میں سب سے اہم چیز کیا ہے؟”

    ملّا نے جواب دیا، “دانائی یہ جاننے میں ہے کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔”

    آدمی نے کچھ دیر سوچا اور مسکرا دیا۔

    **سبق:** اصل دانائی صرف جواب جاننے میں نہیں، بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ جواب کب اور کیسے دینا چاہیے۔





    Muqarib Ai wala
    Muqarib Ai wala
    2 days ago
    ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus)
    Roll No: 25
    Day: 10 (Story Post)

    English — Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price
    Mulla Nasrudin had a donkey that he wanted to sell. One day, a man came to buy it.

    The man looked at the donkey and said, “Your donkey is very good, but I think the price is too high. I will give you only 50 coins.”

    Mulla Nasrudin smiled and said, “That is a fair price. I agree.”

    The man was surprised. He asked, “But you said the price was too high. Why did you agree so quickly?”

    Mulla Nasrudin replied, “You are right. I was asking too much. I will sell you the donkey for 50 coins, but you must also take the other donkey with it!”

    The man looked at the other donkey and laughed. He realized that Mulla Nasrudin was joking with him.

    Mulla Nasrudin smiled and said, “A good deal should be fair for both sides.”

    **Moral:** Always be honest and fair in your dealings.

    اردو — ملا نصرالدین اور گدھے کی قیمت
    ملا نصرالدین کے پاس ایک گدھا تھا جسے وہ بیچنا چاہتے تھے۔ ایک دن ایک آدمی اسے خریدنے کے لیے آیا۔

    اس آدمی نے گدھے کو دیکھا اور کہا، “آپ کا گدھا بہت اچھا ہے، لیکن میرے خیال میں اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ میں آپ کو صرف 50 سکے دوں گا۔”

    ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “یہ مناسب قیمت ہے۔ مجھے منظور ہے۔”

    خریدار حیران ہوا اور پوچھا، “لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ قیمت بہت زیادہ ہے۔ آپ نے اتنی جلدی ہاں کیوں کر دی؟”

    ملا نصرالدین نے جواب دیا، “آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں زیادہ قیمت مانگ رہا تھا۔ میں یہ گدھا 50 سکوں میں دے دوں گا، لیکن آپ کو دوسرا گدھا بھی ساتھ لینا ہوگا!”

    آدمی نے دوسرے گدھے کو دیکھا اور ہنس پڑا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ ملا نصرالدین اس کے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔

    ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “اچھا سودا وہی ہے جس میں دونوں طرف انصاف ہو۔”

    **سبق:** ہمیشہ اپنے معاملات میں ایمانداری اور انصاف سے کام لینا چاہیے۔





    Muqarib Ai wala ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus) Roll No: 25 Day: 11 (Story Post) **Mulla Nasrudin’s Wise Answer** One day, Mulla Nasrudin was walking through the market. A man stopped him and asked, “Mulla, why do you always give such strange answers?” Mulla smiled and said, “Because sometimes a simple answer teaches a bigger lesson.” The man asked, “Then tell me, what is the most important thing in life?” Mulla replied, “Wisdom is knowing when to speak and when to stay silent.” The man thought for a moment and smiled. **Moral:** True wisdom is not oowing the answer, but also in knowing when and how to use it. **ملّا نصرالدین کا عقلمندانہ جواب** ایک دن ملّا نصرالدین بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک آدمی نے انہیں روک کر پوچھا، “ملّا! آپ ہمیشہ ایسے عجیب جواب کیوں دیتے ہیں؟” ملّا مسکرائے اور بولے، “کیونکہ کبھی کبھی ایک سادہ سا جواب بہت بڑا سبق سکھا دیتا ہے۔” اس آدمی نے پوچھا، “تو پھر بتائیے، زندگی میں سب سے اہم چیز کیا ہے؟” ملّا نے جواب دیا، “دانائی یہ جاننے میں ہے کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔” آدمی نے کچھ دیر سوچا اور مسکرا دیا۔ **سبق:** اصل دانائی صرف جواب جاننے میں نہیں، بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ جواب کب اور کیسے دینا چاہیے۔ Muqarib Ai wala Muqarib Ai wala 2 days ago ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus) Roll No: 25 Day: 10 (Story Post) English — Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price Mulla Nasrudin had a donkey that he wanted to sell. One day, a man came to buy it. The man looked at the donkey and said, “Your donkey is very good, but I think the price is too high. I will give you only 50 coins.” Mulla Nasrudin smiled and said, “That is a fair price. I agree.” The man was surprised. He asked, “But you said the price was too high. Why did you agree so quickly?” Mulla Nasrudin replied, “You are right. I was asking too much. I will sell you the donkey for 50 coins, but you must also take the other donkey with it!” The man looked at the other donkey and laughed. He realized that Mulla Nasrudin was joking with him. Mulla Nasrudin smiled and said, “A good deal should be fair for both sides.” **Moral:** Always be honest and fair in your dealings. اردو — ملا نصرالدین اور گدھے کی قیمت ملا نصرالدین کے پاس ایک گدھا تھا جسے وہ بیچنا چاہتے تھے۔ ایک دن ایک آدمی اسے خریدنے کے لیے آیا۔ اس آدمی نے گدھے کو دیکھا اور کہا، “آپ کا گدھا بہت اچھا ہے، لیکن میرے خیال میں اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ میں آپ کو صرف 50 سکے دوں گا۔” ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “یہ مناسب قیمت ہے۔ مجھے منظور ہے۔” خریدار حیران ہوا اور پوچھا، “لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ قیمت بہت زیادہ ہے۔ آپ نے اتنی جلدی ہاں کیوں کر دی؟” ملا نصرالدین نے جواب دیا، “آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں زیادہ قیمت مانگ رہا تھا۔ میں یہ گدھا 50 سکوں میں دے دوں گا، لیکن آپ کو دوسرا گدھا بھی ساتھ لینا ہوگا!” آدمی نے دوسرے گدھے کو دیکھا اور ہنس پڑا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ ملا نصرالدین اس کے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔ ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “اچھا سودا وہی ہے جس میں دونوں طرف انصاف ہو۔” **سبق:** ہمیشہ اپنے معاملات میں ایمانداری اور انصاف سے کام لینا چاہیے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 985 Просмотры
  • ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus)
    Roll No: 25
    Day: 10 (Story Post)

    English — Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price
    Mulla Nasrudin had a donkey that he wanted to sell. One day, a man came to buy it.

    The man looked at the donkey and said, “Your donkey is very good, but I think the price is too high. I will give you only 50 coins.”

    Mulla Nasrudin smiled and said, “That is a fair price. I agree.”

    The man was surprised. He asked, “But you said the price was too high. Why did you agree so quickly?”

    Mulla Nasrudin replied, “You are right. I was asking too much. I will sell you the donkey for 50 coins, but you must also take the other donkey with it!”

    The man looked at the other donkey and laughed. He realized that Mulla Nasrudin was joking with him.

    Mulla Nasrudin smiled and said, “A good deal should be fair for both sides.”

    **Moral:** Always be honest and fair in your dealings.

    اردو — ملا نصرالدین اور گدھے کی قیمت
    ملا نصرالدین کے پاس ایک گدھا تھا جسے وہ بیچنا چاہتے تھے۔ ایک دن ایک آدمی اسے خریدنے کے لیے آیا۔

    اس آدمی نے گدھے کو دیکھا اور کہا، “آپ کا گدھا بہت اچھا ہے، لیکن میرے خیال میں اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ میں آپ کو صرف 50 سکے دوں گا۔”

    ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “یہ مناسب قیمت ہے۔ مجھے منظور ہے۔”

    خریدار حیران ہوا اور پوچھا، “لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ قیمت بہت زیادہ ہے۔ آپ نے اتنی جلدی ہاں کیوں کر دی؟”

    ملا نصرالدین نے جواب دیا، “آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں زیادہ قیمت مانگ رہا تھا۔ میں یہ گدھا 50 سکوں میں دے دوں گا، لیکن آپ کو دوسرا گدھا بھی ساتھ لینا ہوگا!”

    آدمی نے دوسرے گدھے کو دیکھا اور ہنس پڑا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ ملا نصرالدین اس کے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔

    ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “اچھا سودا وہی ہے جس میں دونوں طرف انصاف ہو۔”

    **سبق:** ہمیشہ اپنے معاملات میں ایمانداری اور انصاف سے کام لینا چاہیے۔
    ACCL Foundation Level (Rehan School Urdu Bazar Campus) Roll No: 25 Day: 10 (Story Post) English — Mulla Nasrudin & the Donkey’s Price Mulla Nasrudin had a donkey that he wanted to sell. One day, a man came to buy it. The man looked at the donkey and said, “Your donkey is very good, but I think the price is too high. I will give you only 50 coins.” Mulla Nasrudin smiled and said, “That is a fair price. I agree.” The man was surprised. He asked, “But you said the price was too high. Why did you agree so quickly?” Mulla Nasrudin replied, “You are right. I was asking too much. I will sell you the donkey for 50 coins, but you must also take the other donkey with it!” The man looked at the other donkey and laughed. He realized that Mulla Nasrudin was joking with him. Mulla Nasrudin smiled and said, “A good deal should be fair for both sides.” **Moral:** Always be honest and fair in your dealings. اردو — ملا نصرالدین اور گدھے کی قیمت ملا نصرالدین کے پاس ایک گدھا تھا جسے وہ بیچنا چاہتے تھے۔ ایک دن ایک آدمی اسے خریدنے کے لیے آیا۔ اس آدمی نے گدھے کو دیکھا اور کہا، “آپ کا گدھا بہت اچھا ہے، لیکن میرے خیال میں اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ میں آپ کو صرف 50 سکے دوں گا۔” ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “یہ مناسب قیمت ہے۔ مجھے منظور ہے۔” خریدار حیران ہوا اور پوچھا، “لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ قیمت بہت زیادہ ہے۔ آپ نے اتنی جلدی ہاں کیوں کر دی؟” ملا نصرالدین نے جواب دیا، “آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں زیادہ قیمت مانگ رہا تھا۔ میں یہ گدھا 50 سکوں میں دے دوں گا، لیکن آپ کو دوسرا گدھا بھی ساتھ لینا ہوگا!” آدمی نے دوسرے گدھے کو دیکھا اور ہنس پڑا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ ملا نصرالدین اس کے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔ ملا نصرالدین مسکرائے اور بولے، “اچھا سودا وہی ہے جس میں دونوں طرف انصاف ہو۔” **سبق:** ہمیشہ اپنے معاملات میں ایمانداری اور انصاف سے کام لینا چاہیے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 858 Просмотры
  • ### ملا نصرالدین اور سلطان کا قانون

    ایک دن سلطان نے اپنے شہر میں ایک نیا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے مطابق بازار میں ہر دکاندار کو اپنی دکان کے باہر ایک اضافی ٹیکس دینا تھا۔ غریب دکاندار اس قانون سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ ان کے لیے یہ رقم دینا مشکل تھا۔

    کچھ دکاندار ملا نصرالدین کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔

    ملا نے کہا:

    "اگر قانون لوگوں کے لیے مشکل بن جائے تو اسے سمجھداری سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"

    اگلے دن ملا نصرالدین سلطان کے دربار میں پہنچے۔

    سلطان نے پوچھا:

    "ملا! تم یہاں کیوں آئے ہو؟"

    ملا نے جواب دیا:

    "حضور! میں آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔"

    سلطان نے اجازت دے دی۔

    ملا نے ایک بھاری تھیلا اٹھایا اور سلطان سے کہا:

    "حضور، ذرا یہ تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر محل کے صحن کا ایک چکر لگا لیجیے۔"

    سلطان نے حیرت سے کہا:

    "یہ اتنا بھاری ہے، میں اسے کیوں اٹھاؤں؟"

    ملا مسکرائے اور بولے:

    "حضور! یہی بات غریب دکاندار بھی کہہ رہے ہیں۔ جو بوجھ آپ کے لیے چند قدم چلنا مشکل بنا رہا ہے، وہ بوجھ ایک غریب دکاندار کے لیے پورا سال اٹھانا اور بھی مشکل ہے۔"

    سلطان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے دکانداروں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔

    سلطان کو احساس ہوا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس نے حکم دیا کہ غریب اور چھوٹے دکانداروں کو اضافی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور باقی دکانداروں کے لیے ٹیکس کم کر دیا جائے۔

    دکاندار بہت خوش ہوئے اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔

    ملا نے مسکراتے ہوئے کہا:

    "میں نے قانون نہیں بدلا، میں نے صرف سلطان کو لوگوں کا بوجھ محسوس کروایا ہے۔"

    ### سبق:
    **اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہو
    ### ملا نصرالدین اور سلطان کا قانون ایک دن سلطان نے اپنے شہر میں ایک نیا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے مطابق بازار میں ہر دکاندار کو اپنی دکان کے باہر ایک اضافی ٹیکس دینا تھا۔ غریب دکاندار اس قانون سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ ان کے لیے یہ رقم دینا مشکل تھا۔ کچھ دکاندار ملا نصرالدین کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔ ملا نے کہا: "اگر قانون لوگوں کے لیے مشکل بن جائے تو اسے سمجھداری سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔" اگلے دن ملا نصرالدین سلطان کے دربار میں پہنچے۔ سلطان نے پوچھا: "ملا! تم یہاں کیوں آئے ہو؟" ملا نے جواب دیا: "حضور! میں آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔" سلطان نے اجازت دے دی۔ ملا نے ایک بھاری تھیلا اٹھایا اور سلطان سے کہا: "حضور، ذرا یہ تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر محل کے صحن کا ایک چکر لگا لیجیے۔" سلطان نے حیرت سے کہا: "یہ اتنا بھاری ہے، میں اسے کیوں اٹھاؤں؟" ملا مسکرائے اور بولے: "حضور! یہی بات غریب دکاندار بھی کہہ رہے ہیں۔ جو بوجھ آپ کے لیے چند قدم چلنا مشکل بنا رہا ہے، وہ بوجھ ایک غریب دکاندار کے لیے پورا سال اٹھانا اور بھی مشکل ہے۔" سلطان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے دکانداروں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔ سلطان کو احساس ہوا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس نے حکم دیا کہ غریب اور چھوٹے دکانداروں کو اضافی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور باقی دکانداروں کے لیے ٹیکس کم کر دیا جائے۔ دکاندار بہت خوش ہوئے اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔ ملا نے مسکراتے ہوئے کہا: "میں نے قانون نہیں بدلا، میں نے صرف سلطان کو لوگوں کا بوجھ محسوس کروایا ہے۔" ### سبق: **اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہو
    0 Комментарии 0 Поделились 1067 Просмотры
  • ### ملا نصرالدین اور سلطان کا قانون

    ایک دن سلطان نے اپنے شہر میں ایک نیا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے مطابق بازار میں ہر دکاندار کو اپنی دکان کے باہر ایک اضافی ٹیکس دینا تھا۔ غریب دکاندار اس قانون سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ ان کے لیے یہ رقم دینا مشکل تھا۔

    کچھ دکاندار ملا نصرالدین کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔

    ملا نے کہا:

    "اگر قانون لوگوں کے لیے مشکل بن جائے تو اسے سمجھداری سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"

    اگلے دن ملا نصرالدین سلطان کے دربار میں پہنچے۔

    سلطان نے پوچھا:

    "ملا! تم یہاں کیوں آئے ہو؟"

    ملا نے جواب دیا:

    "حضور! میں آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔"

    سلطان نے اجازت دے دی۔

    ملا نے ایک بھاری تھیلا اٹھایا اور سلطان سے کہا:

    "حضور، ذرا یہ تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر محل کے صحن کا ایک چکر لگا لیجیے۔"

    سلطان نے حیرت سے کہا:

    "یہ اتنا بھاری ہے، میں اسے کیوں اٹھاؤں؟"

    ملا مسکرائے اور بولے:

    "حضور! یہی بات غریب دکاندار بھی کہہ رہے ہیں۔ جو بوجھ آپ کے لیے چند قدم چلنا مشکل بنا رہا ہے، وہ بوجھ ایک غریب دکاندار کے لیے پورا سال اٹھانا اور بھی مشکل ہے۔"

    سلطان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے دکانداروں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔

    سلطان کو احساس ہوا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس نے حکم دیا کہ غریب اور چھوٹے دکانداروں کو اضافی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور باقی دکانداروں کے لیے ٹیکس کم کر دیا جائے۔

    دکاندار بہت خوش ہوئے اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔

    ملا نے مسکراتے ہوئے کہا:

    "میں نے قانون نہیں بدلا، میں نے صرف سلطان کو لوگوں کا بوجھ محسوس کروایا ہے۔"

    ### سبق:
    **اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہو۔**
    ### ملا نصرالدین اور سلطان کا قانون ایک دن سلطان نے اپنے شہر میں ایک نیا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے مطابق بازار میں ہر دکاندار کو اپنی دکان کے باہر ایک اضافی ٹیکس دینا تھا۔ غریب دکاندار اس قانون سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ ان کے لیے یہ رقم دینا مشکل تھا۔ کچھ دکاندار ملا نصرالدین کے پاس گئے اور اپنی پریشانی بیان کی۔ ملا نے کہا: "اگر قانون لوگوں کے لیے مشکل بن جائے تو اسے سمجھداری سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔" اگلے دن ملا نصرالدین سلطان کے دربار میں پہنچے۔ سلطان نے پوچھا: "ملا! تم یہاں کیوں آئے ہو؟" ملا نے جواب دیا: "حضور! میں آپ سے ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔" سلطان نے اجازت دے دی۔ ملا نے ایک بھاری تھیلا اٹھایا اور سلطان سے کہا: "حضور، ذرا یہ تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر محل کے صحن کا ایک چکر لگا لیجیے۔" سلطان نے حیرت سے کہا: "یہ اتنا بھاری ہے، میں اسے کیوں اٹھاؤں؟" ملا مسکرائے اور بولے: "حضور! یہی بات غریب دکاندار بھی کہہ رہے ہیں۔ جو بوجھ آپ کے لیے چند قدم چلنا مشکل بنا رہا ہے، وہ بوجھ ایک غریب دکاندار کے لیے پورا سال اٹھانا اور بھی مشکل ہے۔" سلطان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے دکانداروں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔ سلطان کو احساس ہوا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس نے حکم دیا کہ غریب اور چھوٹے دکانداروں کو اضافی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اور باقی دکانداروں کے لیے ٹیکس کم کر دیا جائے۔ دکاندار بہت خوش ہوئے اور ملا نصرالدین کا شکریہ ادا کیا۔ ملا نے مسکراتے ہوئے کہا: "میں نے قانون نہیں بدلا، میں نے صرف سلطان کو لوگوں کا بوجھ محسوس کروایا ہے۔" ### سبق: **اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہو۔**
    0 Комментарии 0 Поделились 1058 Просмотры
  • Story Post: 66
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:08:26



    ‍ ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا

    ایک دن دو پڑوسی کسی معمولی بات پر آپس میں جھگڑنے لگے۔ دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جا رہا تھا۔

    ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور اپنی حاضر جوابی، سمجھداری اور منفرد انداز سے ایسا حل پیش کیا کہ دونوں پڑوسی حیران رہ گئے۔ ملا نے انہیں سمجھایا کہ ضد اور غصے کے بجائے بات چیت، صبر اور انصاف سے مسئلے حل کیے جا سکتے ہیں۔

    اس کہانی سے سبق:
    اختلاف کو بات چیت سے حل کریں۔
    فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں طرف کی بات سنیں۔
    غصے کے بجائے صبر اور سمجھداری اختیار کریں۔
    انصاف اور امن ہمیشہ بہتر راستہ ہیں۔

    ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، صبر اور اچھے رویے سے بڑے سے بڑا اختلاف بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ ‍

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #NeighborDispute #پڑوسی #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #Peace #Justice #انصاف #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    Story Post: 66 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:08:26 🧔‍♂️🏘️ ملا نصرالدین اور دو پڑوسیوں کا جھگڑا ⚖️✨ ایک دن دو پڑوسی کسی معمولی بات پر آپس میں جھگڑنے لگے۔ 😠🗣️ دونوں اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا جا رہا تھا۔ 🏘️💢 ملا نصرالدین نے دونوں کی بات غور سے سنی اور اپنی حاضر جوابی، سمجھداری اور منفرد انداز سے ایسا حل پیش کیا کہ دونوں پڑوسی حیران رہ گئے۔ 🧠😄🤝 ملا نے انہیں سمجھایا کہ ضد اور غصے کے بجائے بات چیت، صبر اور انصاف سے مسئلے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ❤️⚖️ 🌟 اس کہانی سے سبق: 🤝 اختلاف کو بات چیت سے حل کریں۔ 🧠 فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں طرف کی بات سنیں۔ ❤️ غصے کے بجائے صبر اور سمجھداری اختیار کریں۔ ⚖️ انصاف اور امن ہمیشہ بہتر راستہ ہیں۔ 📖 ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، صبر اور اچھے رویے سے بڑے سے بڑا اختلاف بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ 🧔‍♂️🤝✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #NeighborDispute #پڑوسی #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #Peace #Justice #انصاف #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    0 Комментарии 0 Поделились 2963 Просмотры
  • Story Post No#03
    Topic: The Clever Plan of Mulla Nasrudin

    🫏 The Clever Plan of Mulla Nasrudin
    ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ
    English Story
    One morning, Mulla Nasrudin was walking through the village when he saw a group of people arguing over a large basket of delicious dates.
    Everyone wanted the dates, but nobody could decide how to share them fairly.
    Mulla smiled and said, “Don’t worry! I have a clever plan.”
    He placed the basket in the middle and said, “Let each person take turns choosing one date. The person who gets the last date will share it with everyone.”
    Everyone agreed.
    They happily took turns picking dates until only one was left.
    Mulla picked up the last date, cut it into small pieces, and gave a piece to everyone.
    The villagers laughed and said, “Mulla, your plan was clever indeed!”
    Mulla smiled and replied, “When people stop arguing and start sharing, even a small thing can make everyone happy.”
    Moral of the Story
    A clever plan can solve problems, but kindness and sharing make the solution even better.
    اردو کہانی
    ایک صبح ملا نصرالدین گاؤں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو کھجوروں کی ایک بڑی ٹوکری پر بحث کرتے دیکھا۔
    سب لوگ کھجوریں چاہتے تھے، لیکن کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ انہیں انصاف کے ساتھ کیسے تقسیم کیا جائے۔
    ملا مسکرائے اور بولے، “فکر نہ کریں! میرے پاس ایک ہوشیار منصوبہ ہے۔”
    انہوں نے ٹوکری درمیان میں رکھی اور کہا، “ہر شخص باری باری ایک کھجور لے گا۔ جس شخص کو آخری کھجور ملے گی، وہ اسے سب کے ساتھ بانٹے گا۔”
    سب لوگ راضی ہو گئے۔
    وہ خوشی خوشی باری باری کھجوریں لینے لگے، یہاں تک کہ آخر میں صرف ایک کھجور باقی رہ گئی۔
    ملا نے آخری کھجور اٹھائی، اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا اور سب کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا۔
    گاؤں والے ہنس کر بولے، “ملا صاحب! واقعی آپ کا منصوبہ بہت ہوشیار تھا!”
    ملا مسکرائے اور بولے، “جب لوگ بحث کرنا چھوڑ کر بانٹنا شروع کر دیں، تو چھوٹی سی چیز بھی سب کو خوش کر سکتی ہے۔”
    کہانی کا سبق
    ہوشیار منصوبہ مسائل حل کر سکتا ہے، لیکن مہربانی اور بانٹنے سے حل مزید خوبصورت بن جاتا ہے۔
    Story Post No#03 Topic: The Clever Plan of Mulla Nasrudin 🧠🫏 The Clever Plan of Mulla Nasrudin ملا نصرالدین کا ہوشیار منصوبہ 🇬🇧 English Story One morning, Mulla Nasrudin was walking through the village when he saw a group of people arguing over a large basket of delicious dates. 🌴🧺😋 Everyone wanted the dates, but nobody could decide how to share them fairly. 😠🤔 Mulla smiled and said, “Don’t worry! I have a clever plan.” 😄💡 He placed the basket in the middle and said, “Let each person take turns choosing one date. The person who gets the last date will share it with everyone.” 🧺👥 Everyone agreed. 👍😊 They happily took turns picking dates until only one was left. 🍯✨ Mulla picked up the last date, cut it into small pieces, and gave a piece to everyone. 😄🍴 The villagers laughed and said, “Mulla, your plan was clever indeed!” 😂👏 Mulla smiled and replied, “When people stop arguing and start sharing, even a small thing can make everyone happy.” ❤️😊 🌱 Moral of the Story A clever plan can solve problems, but kindness and sharing make the solution even better. 🧠❤️✨ 🇵🇰 اردو کہانی ایک صبح ملا نصرالدین گاؤں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو کھجوروں کی ایک بڑی ٹوکری پر بحث کرتے دیکھا۔ 🌴🧺😋 سب لوگ کھجوریں چاہتے تھے، لیکن کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ انہیں انصاف کے ساتھ کیسے تقسیم کیا جائے۔ 😠🤔 ملا مسکرائے اور بولے، “فکر نہ کریں! میرے پاس ایک ہوشیار منصوبہ ہے۔” 😄💡 انہوں نے ٹوکری درمیان میں رکھی اور کہا، “ہر شخص باری باری ایک کھجور لے گا۔ جس شخص کو آخری کھجور ملے گی، وہ اسے سب کے ساتھ بانٹے گا۔” 🧺👥 سب لوگ راضی ہو گئے۔ 👍😊 وہ خوشی خوشی باری باری کھجوریں لینے لگے، یہاں تک کہ آخر میں صرف ایک کھجور باقی رہ گئی۔ 🍯✨ ملا نے آخری کھجور اٹھائی، اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا اور سب کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا۔ 😄🍴 گاؤں والے ہنس کر بولے، “ملا صاحب! واقعی آپ کا منصوبہ بہت ہوشیار تھا!” 😂👏 ملا مسکرائے اور بولے، “جب لوگ بحث کرنا چھوڑ کر بانٹنا شروع کر دیں، تو چھوٹی سی چیز بھی سب کو خوش کر سکتی ہے۔” ❤️😊 🌱 کہانی کا سبق ہوشیار منصوبہ مسائل حل کر سکتا ہے، لیکن مہربانی اور بانٹنے سے حل مزید خوبصورت بن جاتا ہے۔ 🧠❤️✨
    0 Комментарии 0 Поделились 1519 Просмотры
  • Story Post: 64
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:05:26


    ‍ ملا نصرالدین اور سلطان کو قانون بدلنے پر آمادہ کرنا

    ایک دن سلطان نے شہر کے لیے ایک ایسا قانون بنایا جو لوگوں کے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ ملا نصرالدین نے صورتحال کو سمجھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی حاضر جوابی اور دانشمندی سے سلطان کو اس قانون پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کریں گے۔

    ملا نصرالدین نے سلطان کے سامنے ایک ایسا منفرد انداز اختیار کیا کہ دربار میں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ اپنی دلیل، ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سلطان کو یہ احساس دلایا کہ اچھا قانون وہی ہے جو انصاف اور عوام کی بھلائی کو سامنے رکھے۔

    اس کہانی سے سبق:
    انصاف ہمیشہ اہمیت رکھتا ہے۔
    اچھی دلیل مشکل فیصلے بدل سکتی ہے۔
    عوام کی بھلائی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
    سمجھداری اور حکمت سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

    ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، حوصلے اور دانشمندانہ گفتگو کے ذریعے بڑی سے بڑی بات بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔ ‍

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Law #قانون #Justice #انصاف #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    Story Post: 64 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:05:26 👑🧔‍♂️ ملا نصرالدین اور سلطان کو قانون بدلنے پر آمادہ کرنا ⚖️✨ ایک دن سلطان نے شہر کے لیے ایک ایسا قانون بنایا جو لوگوں کے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ 👑📜😟 ملا نصرالدین نے صورتحال کو سمجھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی حاضر جوابی اور دانشمندی سے سلطان کو اس قانون پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کریں گے۔ 🧠💡 ملا نصرالدین نے سلطان کے سامنے ایک ایسا منفرد انداز اختیار کیا کہ دربار میں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ 😄😲 اپنی دلیل، ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سلطان کو یہ احساس دلایا کہ اچھا قانون وہی ہے جو انصاف اور عوام کی بھلائی کو سامنے رکھے۔ ⚖️❤️ 🌟 اس کہانی سے سبق: ⚖️ انصاف ہمیشہ اہمیت رکھتا ہے۔ 🧠 اچھی دلیل مشکل فیصلے بدل سکتی ہے۔ 🤝 عوام کی بھلائی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ 💡 سمجھداری اور حکمت سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ 📖 ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، حوصلے اور دانشمندانہ گفتگو کے ذریعے بڑی سے بڑی بات بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔ 🧔‍♂️👑✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Law #قانون #Justice #انصاف #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    0 Комментарии 0 Поделились 3036 Просмотры
  • level 1
    Book 1
    Day 9
    Week
    Task canva post
    In Writing
    "سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا!
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔"
    — علامہ اقبال
    Summary
    اس شعر میں علامہ اقبال نوجوانوں کو سچائی، انصاف اور بہادری اپنانے کا پیغام دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انسان ان اچھی صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ دنیا میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
    #️⃣ Hashtags
    #AllamaIqbal #IqbalPoetry #Sadaqat #Adalat #Shujaat #UrduPoetry #Motivation #Pakistan
    Moral
    ہمیں ہمیشہ سچائی، انصاف اور بہادری کے راستے پر چلنا چاہیے۔
    Input
    سچائی
    انصاف
    بہادری
    اچھی عادتیں
    محنت
    Output
    اچھا کردار
    مضبوط شخصیت
    کامیابی
    دوسروں کے لیے مثال
    معاشرے کی خدمت
    Key Words
    صداقت، عدالت، شجاعت، سچائی، انصاف، بہادری، کردار، امامت
    level 1 Book 1 Day 9 Week Task canva post ✍️ In Writing "سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا! لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔" — علامہ اقبال 📖 Summary اس شعر میں علامہ اقبال نوجوانوں کو سچائی، انصاف اور بہادری اپنانے کا پیغام دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انسان ان اچھی صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ دنیا میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ #️⃣ Hashtags #AllamaIqbal #IqbalPoetry #Sadaqat #Adalat #Shujaat #UrduPoetry #Motivation #Pakistan 🌟 Moral ہمیں ہمیشہ سچائی، انصاف اور بہادری کے راستے پر چلنا چاہیے۔ 📥 Input سچائی انصاف بہادری اچھی عادتیں محنت 📤 Output اچھا کردار مضبوط شخصیت کامیابی دوسروں کے لیے مثال معاشرے کی خدمت 🔑 Key Words صداقت، عدالت، شجاعت، سچائی، انصاف، بہادری، کردار، امامت
    0 Комментарии 0 Поделились 3443 Просмотры
  • Story Post : 47
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 9:24:26


    ملا نصرالدین اور تاجر کا قرض

    ملا نصرالدین کی یہ مزاحیہ اور سبق آموز کہانی ایک ایسے تاجر کے بارے میں ہے جو ملا سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن ملا نصرالدین گھبرانے کے بجائے اپنی حاضر جوابی اور ذہانت سے ایسا حل نکالتے ہیں کہ تاجر بھی حیران رہ جاتا ہے۔

    یہ دلچسپ واقعہ ہمیں دکھاتا ہے کہ مشکل مالی معاملات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا، حاضر جوابی سے کام لینا اور دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا کتنا اہم ہے۔

    ملا نصرالدین کی ذہانت
    مزاح اور حاضر جوابی
    قرض اور لین دین کا دلچسپ واقعہ
    ایک خوبصورت اخلاقی سبق
    مشکل حالات میں سمجھ داری

    کبھی کبھی ایک مشکل مسئلہ طاقت سے نہیں، بلکہ عقل اور حاضر جوابی سے حل ہوتا ہے۔

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Wisdom #HazarJawabi #Intelligence #LifeLessons #MerchantStory #DebtStory #UrduLiterature #DesiStories
    Story Post : 47 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 9:24:26 🪙🧠 ملا نصرالدین اور تاجر کا قرض 📖✨ ملا نصرالدین کی یہ مزاحیہ اور سبق آموز کہانی ایک ایسے تاجر کے بارے میں ہے جو ملا سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن ملا نصرالدین گھبرانے کے بجائے اپنی حاضر جوابی اور ذہانت سے ایسا حل نکالتے ہیں کہ تاجر بھی حیران رہ جاتا ہے۔ 😄💡 یہ دلچسپ واقعہ ہمیں دکھاتا ہے کہ مشکل مالی معاملات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا، حاضر جوابی سے کام لینا اور دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا کتنا اہم ہے۔ ⚖️🤝 🧠 ملا نصرالدین کی ذہانت 😂 مزاح اور حاضر جوابی 🪙 قرض اور لین دین کا دلچسپ واقعہ 📚 ایک خوبصورت اخلاقی سبق 🌟 مشکل حالات میں سمجھ داری کبھی کبھی ایک مشکل مسئلہ طاقت سے نہیں، بلکہ عقل اور حاضر جوابی سے حل ہوتا ہے۔ ✨🧠 #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Wisdom #HazarJawabi #Intelligence #LifeLessons #MerchantStory #DebtStory #UrduLiterature #DesiStories 🪙😂🧠📖✨
    0 Комментарии 0 Поделились 4164 Просмотры
  • Story Post : 45
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 9:21:26


    ملا نصرالدین اور سوپ کی خوشبو

    ملا نصرالدین کی یہ مزاحیہ اور سبق آموز کہانی عقل، حاضر جوابی اور انصاف کا ایک دلچسپ سبق پیش کرتی ہے۔ ایک دن ملا ایک دکان کے قریب سے گزر رہے تھے جہاں سوپ کی خوشبو پھیل رہی تھی۔

    کہانی میں ایک شخص پر سوپ کی خوشبو سے لطف اٹھانے کا بھی معاوضہ مانگا جاتا ہے۔ ملا نصرالدین اپنی ذہانت سے ایسا دلچسپ حل نکالتے ہیں کہ سب حیران رہ جاتے ہیں۔

    یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر مسئلے کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ عقل، مزاح اور حاضر جوابی سے بھی حل کیا جا سکتا ہے۔

    ایک دلچسپ مزاحیہ واقعہ
    ملا نصرالدین کی ذہانت
    حاضر جوابی اور مزاح
    انصاف کا خوبصورت سبق
    اردو کہانی اور اخلاقی پیغام

    کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خوشبو بھی ایک بڑا سبق دے جاتی ہے!

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Wisdom #HazarJawabi #Intelligence #LifeLessons #InterestingStories #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani
    Story Post : 45 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 9:21:26 🍲😄 ملا نصرالدین اور سوپ کی خوشبو 🪙✨ ملا نصرالدین کی یہ مزاحیہ اور سبق آموز کہانی عقل، حاضر جوابی اور انصاف کا ایک دلچسپ سبق پیش کرتی ہے۔ ایک دن ملا ایک دکان کے قریب سے گزر رہے تھے جہاں سوپ کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ 🍲👃 کہانی میں ایک شخص پر سوپ کی خوشبو سے لطف اٹھانے کا بھی معاوضہ مانگا جاتا ہے۔ ملا نصرالدین اپنی ذہانت سے ایسا دلچسپ حل نکالتے ہیں کہ سب حیران رہ جاتے ہیں۔ 😂🧠 یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر مسئلے کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ عقل، مزاح اور حاضر جوابی سے بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ 🌟 🍲 ایک دلچسپ مزاحیہ واقعہ 🧠 ملا نصرالدین کی ذہانت 😂 حاضر جوابی اور مزاح ⚖️ انصاف کا خوبصورت سبق 📖 اردو کہانی اور اخلاقی پیغام کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خوشبو بھی ایک بڑا سبق دے جاتی ہے! 😄✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Wisdom #HazarJawabi #Intelligence #LifeLessons #InterestingStories #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani 🍲😂🧠📖✨
    0 Комментарии 0 Поделились 3021 Просмотры
Расширенные страницы