• ACCL Foundation Level Student
    Rehan School Urdu Bazar Campus
    Roll No. 34
    Day 10: Story Post
    ### English Version: Mulla Nasrudin & the Donkey's Price
    One day, Mulla Nasrudin decided to sell his old donkey in the market. He took the donkey to the bustling town square and shouted, *"Who wants to buy a hardworking and wise donkey? Name your price!"*
    Soon, a curious crowd gathered around him. One clever merchant decided to test the Mulla and asked, *"Mulla ji, how much is this donkey actually worth?"*
    Nasrudin looked at the merchant with a gentle smile and replied, *"Well, as for his actual price, I only want 10 silver coins. But as for his value in conversation, he is truly priceless because he listens to my troubles without ever interrupting!"*
    The crowd burst into laughter and applause, and a buyer immediately paid the 10 silver coins, happy to own such a legendary companion!
    **#MullaNasrudin #WisdomTales #FolkLore #FunnyStories #LifeLessons #StoryTime**
    ---
    ### Urdu Version: ملا نصر الدین اور گدھے کی قیمت
    ایک دن ملا نصر الدین نے اپنے بوڑھے گدھے کو بازار میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ گدھے کو لے کر ہلچل سے بھرے بازار میں پہنچ گیا اور آواز لگائی، *"کوئی ہے جو ایک محنتی اور سمجھدار گدھا خریدنا چاہے؟ اپنی قیمت خود لگاؤ!"*
    تھوڑی ہی دیر میں ایک ہجوم وہاں جمع ہو گیا۔ ایک چالاک تاجر نے ملا کا امتحان لینے کے لیے پوچھا، *"ملا جی! اس گدھے کی اصل قیمت کیا ہے؟"*
    نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا، *"دیکھو بھئی، جہاں تک گدھے کی قیمت کا تعلق ہے، میں صرف 10 چاندی کے سکے لوں گا۔ لیکن جہاں تک اس کی صحبت کی قیمت کا تعلق ہے، وہ انمول ہے کیونکہ یہ میرے سارے دکھ چپ چاپ سنتا ہے اور کبھی بیچ میں نہیں ٹوکتا!"*
    یہ سن کر تمام لوگ ہنس پڑے اور قہقہے لگانے لگے۔ ایک خریدار نے فوراََ 10 چاندی کے سکے دے کر گدھا خرید لیا اور خوشی خوشی چلا گیا!
    **#ملا_نصرالدین #حکایتیں #مزیدارکہانیاں #اردوافسانے #دانشمندی #قصے**
    ACCL Foundation Level Student Rehan School Urdu Bazar Campus Roll No. 34 Day 10: Story Post ### 🇬🇧 English Version: Mulla Nasrudin & the Donkey's Price One day, Mulla Nasrudin decided to sell his old donkey in the market. He took the donkey to the bustling town square and shouted, *"Who wants to buy a hardworking and wise donkey? Name your price!"* 🐴💰 Soon, a curious crowd gathered around him. One clever merchant decided to test the Mulla and asked, *"Mulla ji, how much is this donkey actually worth?"* 🤔 Nasrudin looked at the merchant with a gentle smile and replied, *"Well, as for his actual price, I only want 10 silver coins. But as for his value in conversation, he is truly priceless because he listens to my troubles without ever interrupting!"* 🤫💬 The crowd burst into laughter and applause, and a buyer immediately paid the 10 silver coins, happy to own such a legendary companion! 😄👏 **#MullaNasrudin #WisdomTales #FolkLore #FunnyStories #LifeLessons #StoryTime** --- ### 🇵🇰 Urdu Version: ملا نصر الدین اور گدھے کی قیمت ایک دن ملا نصر الدین نے اپنے بوڑھے گدھے کو بازار میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ گدھے کو لے کر ہلچل سے بھرے بازار میں پہنچ گیا اور آواز لگائی، *"کوئی ہے جو ایک محنتی اور سمجھدار گدھا خریدنا چاہے؟ اپنی قیمت خود لگاؤ!"* 🐴💰 تھوڑی ہی دیر میں ایک ہجوم وہاں جمع ہو گیا۔ ایک چالاک تاجر نے ملا کا امتحان لینے کے لیے پوچھا، *"ملا جی! اس گدھے کی اصل قیمت کیا ہے؟"* 🤔 نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا، *"دیکھو بھئی، جہاں تک گدھے کی قیمت کا تعلق ہے، میں صرف 10 چاندی کے سکے لوں گا۔ لیکن جہاں تک اس کی صحبت کی قیمت کا تعلق ہے، وہ انمول ہے کیونکہ یہ میرے سارے دکھ چپ چاپ سنتا ہے اور کبھی بیچ میں نہیں ٹوکتا!"* 🤫💬 یہ سن کر تمام لوگ ہنس پڑے اور قہقہے لگانے لگے۔ ایک خریدار نے فوراََ 10 چاندی کے سکے دے کر گدھا خرید لیا اور خوشی خوشی چلا گیا! 😄👏 **#ملا_نصرالدین #حکایتیں #مزیدارکہانیاں #اردوافسانے #دانشمندی #قصے**
    0 التعليقات 0 المشاركات 196 مشاهدة
  • Teacher Training book
    Day 39,Task 4

    Story Post:
    Mulla Nasruddin and the Emperor’s Dinner Invitation

    مُلّا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت

    ایک دن بادشاہ نے شہر کے مشہور دانا، مُلّا نصرالدین کو شاہی محل میں کھانے کی دعوت دی۔ مُلّا
    یہ سن کر بہت خوش ہوئے، مگر دل میں ایک شرارت بھی جاگ اُٹھی۔
    دعوت کے دن مُلّا نے پرانے کپڑے پہن لیے اور سادہ سی چپل پہن کر محل پہنچ گئے۔ دربانوں نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور راستہ روک لیا۔
    “یہ شاہی دعوت ہے، ہر کسی کے لیے نہیں!”
    مُلّا خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔
    گھر جا کر مُلّا نے قیمتی لباس پہنا، ریشمی عمامہ باندھا اور خوشبو لگا کر دوبارہ محل پہنچے۔ اس بار دربان فوراً جھک گئے، بڑے احترام سے اندر لے گئے اور بادشاہ کے پاس بٹھا دیا۔
    کھانا آیا، طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ مُلّا نے اچانک اپنے کوٹ کی آستین میں سالن ڈالنا شروع کر دیا۔ سب حیران رہ گئے۔
    بادشاہ نے تعجب سے پوچھا:
    “مُلّا! یہ کیا کر رہے ہو؟”
    مُلّا مسکرا کر بولے:
    “حضور! عزت تو میرے کپڑوں کی ہو رہی ہے، اس لیے میں کھانا بھی انہیں ہی کھلا رہا ہوں۔”
    یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، پھر سب ہنس پڑے۔ بادشاہ نے مُلّا کی دانشمندی کو سراہا۔
    سبق:
    انسان کی قدر اس کے لباس سے نہیں، اس کی عقل اور کردار سے ہوتی ہے۔
    جو صرف ظاہر دیکھے، وہ اصل حقیقت سے محروم رہ جاتا ہے۔
    Teacher Training book Day 39,Task 4 Story Post: Mulla Nasruddin and the Emperor’s Dinner Invitation مُلّا نصرالدین اور بادشاہ کی دعوت ایک دن بادشاہ نے شہر کے مشہور دانا، مُلّا نصرالدین کو شاہی محل میں کھانے کی دعوت دی۔ مُلّا یہ سن کر بہت خوش ہوئے، مگر دل میں ایک شرارت بھی جاگ اُٹھی۔ دعوت کے دن مُلّا نے پرانے کپڑے پہن لیے اور سادہ سی چپل پہن کر محل پہنچ گئے۔ دربانوں نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور راستہ روک لیا۔ “یہ شاہی دعوت ہے، ہر کسی کے لیے نہیں!” مُلّا خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔ گھر جا کر مُلّا نے قیمتی لباس پہنا، ریشمی عمامہ باندھا اور خوشبو لگا کر دوبارہ محل پہنچے۔ اس بار دربان فوراً جھک گئے، بڑے احترام سے اندر لے گئے اور بادشاہ کے پاس بٹھا دیا۔ کھانا آیا، طرح طرح کے لذیذ پکوان سجے تھے۔ مُلّا نے اچانک اپنے کوٹ کی آستین میں سالن ڈالنا شروع کر دیا۔ سب حیران رہ گئے۔ بادشاہ نے تعجب سے پوچھا: “مُلّا! یہ کیا کر رہے ہو؟” مُلّا مسکرا کر بولے: “حضور! عزت تو میرے کپڑوں کی ہو رہی ہے، اس لیے میں کھانا بھی انہیں ہی کھلا رہا ہوں۔” یہ سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی، پھر سب ہنس پڑے۔ بادشاہ نے مُلّا کی دانشمندی کو سراہا۔ سبق: انسان کی قدر اس کے لباس سے نہیں، اس کی عقل اور کردار سے ہوتی ہے۔ جو صرف ظاہر دیکھے، وہ اصل حقیقت سے محروم رہ جاتا ہے۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 1176 مشاهدة
  • Story Post: 64
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:05:26


    ‍ ملا نصرالدین اور سلطان کو قانون بدلنے پر آمادہ کرنا

    ایک دن سلطان نے شہر کے لیے ایک ایسا قانون بنایا جو لوگوں کے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ ملا نصرالدین نے صورتحال کو سمجھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی حاضر جوابی اور دانشمندی سے سلطان کو اس قانون پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کریں گے۔

    ملا نصرالدین نے سلطان کے سامنے ایک ایسا منفرد انداز اختیار کیا کہ دربار میں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ اپنی دلیل، ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سلطان کو یہ احساس دلایا کہ اچھا قانون وہی ہے جو انصاف اور عوام کی بھلائی کو سامنے رکھے۔

    اس کہانی سے سبق:
    انصاف ہمیشہ اہمیت رکھتا ہے۔
    اچھی دلیل مشکل فیصلے بدل سکتی ہے۔
    عوام کی بھلائی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
    سمجھداری اور حکمت سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

    ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، حوصلے اور دانشمندانہ گفتگو کے ذریعے بڑی سے بڑی بات بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔ ‍

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Law #قانون #Justice #انصاف #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    Story Post: 64 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:05:26 👑🧔‍♂️ ملا نصرالدین اور سلطان کو قانون بدلنے پر آمادہ کرنا ⚖️✨ ایک دن سلطان نے شہر کے لیے ایک ایسا قانون بنایا جو لوگوں کے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ 👑📜😟 ملا نصرالدین نے صورتحال کو سمجھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی حاضر جوابی اور دانشمندی سے سلطان کو اس قانون پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کریں گے۔ 🧠💡 ملا نصرالدین نے سلطان کے سامنے ایک ایسا منفرد انداز اختیار کیا کہ دربار میں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ 😄😲 اپنی دلیل، ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سلطان کو یہ احساس دلایا کہ اچھا قانون وہی ہے جو انصاف اور عوام کی بھلائی کو سامنے رکھے۔ ⚖️❤️ 🌟 اس کہانی سے سبق: ⚖️ انصاف ہمیشہ اہمیت رکھتا ہے۔ 🧠 اچھی دلیل مشکل فیصلے بدل سکتی ہے۔ 🤝 عوام کی بھلائی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ 💡 سمجھداری اور حکمت سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ 📖 ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، حوصلے اور دانشمندانہ گفتگو کے ذریعے بڑی سے بڑی بات بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔ 🧔‍♂️👑✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Law #قانون #Justice #انصاف #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    0 التعليقات 0 المشاركات 3776 مشاهدة
  • ### بولنے کی طاقت: ریحان اسکول اور قرآن کی تعلیمات

    آج کی دنیا میں، انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ خوف، سماجی دباؤ یا خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے اپنے دل کی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے آنے سے افراد کو اپنے خیالات، علم اور تجربات کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے بے مثال مواقع ملے ہیں۔ کئی سالوں سے، میں لوگوں کو یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے، اپنے علم کو شیئر کرنے اور اپنے آپ کو اظہار کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہوں۔ یہ مشن قرآن پاک کی تعلیمات، خاص طور پر سورہ رحمان میں، جو فصاحت کے الٰہی تحفے کو اجاگر کرتا ہے، کے ساتھ گہرائی سے ہم آہنگ ہے۔

    #### قرآن میں بولنے کی اہمیت

    قرآن پاک بولنے کی اہمیت اور طاقت پر زور دیتا ہے۔ سورہ رحمان (رحمان)، آیات 1-4 میں، اللہ تعالیٰ انسانوں کو فصاحت سکھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں:

    الرَّحْمَـٰنُ
    عَلَّمَ الْقُرْآنَ
    خَلَقَ الْإِنسَانَ
    عَلَّمَهُ الْبَيَانَ

    ترجمہ:

    رحمٰن
    جس نے قرآن کی تعلیم دی
    انسان کو پیدا کیا
    اسے بولنا سکھایا

    یہ آیات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ خیالات کو واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جو انسانی زندگی میں مواصلات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ قرآن مومنین کو اس تحفے کو ذمہ داری سے استعمال کرنے، سچ بولنے اور سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کرتا ہے۔

    #### ریحان اسکول: طلباء کو بولنے کی طاقت دینا

    اس قرآنی تعلیم کے مطابق، میں نے ریحان اسکول قائم کیا، جس کا مقصد تعلیم کے منفرد طریقے کو اپنانا ہے جو مواصلاتی مہارتوں کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ بولنے کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہمارے نصاب میں مخصوص سرگرمیاں شامل ہیں جو طلباء کو بولنے اور اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کرتی ہیں۔

    **روزانہ انٹرویو**: ریحان اسکول میں، طلباء کو ہر روز ایک نئے اجنبی کا آدھا گھنٹہ انٹرویو کرنا ضروری ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی مواصلاتی مہارتوں کو بہتر بناتی ہے بلکہ انہیں مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے اور ہمدردی پیدا کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔

    **ہم منصب انٹرویو**: اجنبیوں کے انٹرویو کے علاوہ، طلباء اپنے ہم منصبوں یا اجنبیوں کو آدھے گھنٹے کے انٹرویو بھی دیتے ہیں۔ یہ متقابل سرگرمی فعال سننے کی ترغیب دیتی ہے اور ایک معاون کمیونٹی کو فروغ دیتی ہے جہاں ہر ایک کی آواز سنی جاتی ہے۔

    **ویڈیو کی تخلیق**: طلباء کو ہر روز متعدد ویڈیوز بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں اپنے خیالات، نظریات اور علم کو شیئر کیا جاتا ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی عوامی تقریر کی مہارتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ آرام دہ بناتی ہے، جو جدید دنیا میں ایک اہم مہارت ہے۔

    #### بولنے کی طاقت کا اثر

    ان عادات کو فروغ دے کر، ریحان اسکول کا مقصد خود اعتماد، واضح بولنے والے افراد کی نسل تیار کرنا ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے۔ جب طلباء بولنا سیکھتے ہیں تو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ان کو زیادہ پہچان ملتی ہے۔ وہ اپنی منفرد نقطہ نظر دنیا کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں، دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

    ریحان اسکول میں سرگرمیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ طلباء علم کے صرف غیر فعال وصول کنندہ نہیں ہیں بلکہ ان کی سیکھنے کی راہوں میں فعال شریک ہیں۔ انہیں بولنے کی ترغیب دے کر، ہم ان کی تنقیدی سوچ کی مہارت کو فروغ دینے، خود اعتمادی پیدا کرنے، اور رہنماؤں کو تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں جو دوسروں کو متاثر اور متحرک کر سکتے ہیں۔

    #### نتیجہ

    قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ بولنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جسے دانشمندی اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ ریحان اسکول میں، ہم طلباء کو اس تحفے کو استعمال کرنے، اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے، اور اپنا علم دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے وقف ہیں۔ ہماری تعلیمی مشقوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے کر، ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فصیح، خود اعتماد رہنما ہو جو معاشرے پر معنی خیز اثر ڈال سکے۔

    میرا نام ریحان اللہ والا ہے، اور ریحان اسکول کے ذریعے، ہم طلباء کو ان کی آوازوں کی طاقت دریافت کرنے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ان کی دنیا میں سنی اور پہچانی جائے۔ مل کر، ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر کوئی بولنے اور انسانیت کے ساتھ اپنے منفرد تحائف بانٹنے کے لیے بااختیار ہو۔
    ### بولنے کی طاقت: ریحان اسکول اور قرآن کی تعلیمات آج کی دنیا میں، انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ خوف، سماجی دباؤ یا خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے اپنے دل کی بات کہنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، یوٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے آنے سے افراد کو اپنے خیالات، علم اور تجربات کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کے بے مثال مواقع ملے ہیں۔ کئی سالوں سے، میں لوگوں کو یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے، اپنے علم کو شیئر کرنے اور اپنے آپ کو اظہار کرنے کی ترغیب دیتا رہا ہوں۔ یہ مشن قرآن پاک کی تعلیمات، خاص طور پر سورہ رحمان میں، جو فصاحت کے الٰہی تحفے کو اجاگر کرتا ہے، کے ساتھ گہرائی سے ہم آہنگ ہے۔ #### قرآن میں بولنے کی اہمیت قرآن پاک بولنے کی اہمیت اور طاقت پر زور دیتا ہے۔ سورہ رحمان (رحمان)، آیات 1-4 میں، اللہ تعالیٰ انسانوں کو فصاحت سکھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں: الرَّحْمَـٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ترجمہ: رحمٰن جس نے قرآن کی تعلیم دی انسان کو پیدا کیا اسے بولنا سکھایا یہ آیات اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ خیالات کو واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جو انسانی زندگی میں مواصلات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ قرآن مومنین کو اس تحفے کو ذمہ داری سے استعمال کرنے، سچ بولنے اور سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کرتا ہے۔ #### ریحان اسکول: طلباء کو بولنے کی طاقت دینا اس قرآنی تعلیم کے مطابق، میں نے ریحان اسکول قائم کیا، جس کا مقصد تعلیم کے منفرد طریقے کو اپنانا ہے جو مواصلاتی مہارتوں کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ بولنے کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہمارے نصاب میں مخصوص سرگرمیاں شامل ہیں جو طلباء کو بولنے اور اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کرتی ہیں۔ **روزانہ انٹرویو**: ریحان اسکول میں، طلباء کو ہر روز ایک نئے اجنبی کا آدھا گھنٹہ انٹرویو کرنا ضروری ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی مواصلاتی مہارتوں کو بہتر بناتی ہے بلکہ انہیں مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے اور ہمدردی پیدا کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ **ہم منصب انٹرویو**: اجنبیوں کے انٹرویو کے علاوہ، طلباء اپنے ہم منصبوں یا اجنبیوں کو آدھے گھنٹے کے انٹرویو بھی دیتے ہیں۔ یہ متقابل سرگرمی فعال سننے کی ترغیب دیتی ہے اور ایک معاون کمیونٹی کو فروغ دیتی ہے جہاں ہر ایک کی آواز سنی جاتی ہے۔ **ویڈیو کی تخلیق**: طلباء کو ہر روز متعدد ویڈیوز بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں اپنے خیالات، نظریات اور علم کو شیئر کیا جاتا ہے۔ یہ مشق نہ صرف ان کی عوامی تقریر کی مہارتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ آرام دہ بناتی ہے، جو جدید دنیا میں ایک اہم مہارت ہے۔ #### بولنے کی طاقت کا اثر ان عادات کو فروغ دے کر، ریحان اسکول کا مقصد خود اعتماد، واضح بولنے والے افراد کی نسل تیار کرنا ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے۔ جب طلباء بولنا سیکھتے ہیں تو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ان کو زیادہ پہچان ملتی ہے۔ وہ اپنی منفرد نقطہ نظر دنیا کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں، دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمیونٹیز میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ریحان اسکول میں سرگرمیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ طلباء علم کے صرف غیر فعال وصول کنندہ نہیں ہیں بلکہ ان کی سیکھنے کی راہوں میں فعال شریک ہیں۔ انہیں بولنے کی ترغیب دے کر، ہم ان کی تنقیدی سوچ کی مہارت کو فروغ دینے، خود اعتمادی پیدا کرنے، اور رہنماؤں کو تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں جو دوسروں کو متاثر اور متحرک کر سکتے ہیں۔ #### نتیجہ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ بولنے کی صلاحیت ایک الہی تحفہ ہے، جسے دانشمندی اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ ریحان اسکول میں، ہم طلباء کو اس تحفے کو استعمال کرنے، اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ظاہر کرنے، اور اپنا علم دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے وقف ہیں۔ ہماری تعلیمی مشقوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے کر، ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو فصیح، خود اعتماد رہنما ہو جو معاشرے پر معنی خیز اثر ڈال سکے۔ میرا نام ریحان اللہ والا ہے، اور ریحان اسکول کے ذریعے، ہم طلباء کو ان کی آوازوں کی طاقت دریافت کرنے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ان کی دنیا میں سنی اور پہچانی جائے۔ مل کر، ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر کوئی بولنے اور انسانیت کے ساتھ اپنے منفرد تحائف بانٹنے کے لیے بااختیار ہو۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 1461 مشاهدة
  • پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا

    جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔

    حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔

    اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔

    یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔

    یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔

    اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔

    مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی: ایک نیا تعلیمی سہارا جب دنیا نے 2022 کے آخر میں پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کا نام سنا تو پاکستان میں زیادہ تر لوگوں نے اسے ایک مغربی ایجاد سمجھا، جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بڑے دفاتر کے لیے ہے۔ لیکن صرف تین سال بعد کہانی بدل گئی۔ 2025 تک چیٹ جی پی ٹی خاموشی سے پاکستانی کلاس رومز، گھروں اور کام کی جگہوں میں داخل ہو چکا ہے — اکثر صرف ایک موبائل فون کے ذریعے جو کسی طالب علم کے ہاتھ میں ہے۔ حالیہ سروے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں 28 فیصد لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے تعداد میں دیکھیں تو یہ تقریباً 67 ملین (6 کروڑ 70 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ اسی طرح ایک تہائی یعنی 34 فیصد لوگ ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جو تقریباً 82 ملین (8 کروڑ 20 لاکھ) افراد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی انقلاب سے کم نہیں، کیونکہ پہلی بار کروڑوں پاکستانیوں کے پاس ایک استاد، رہنما اور مشیر ہر وقت دستیاب ہے۔ اس کا سب سے نمایاں اثر طلبہ پر نظر آتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا کہ 61 فیصد طلبہ تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہے ہیں۔ اگر صرف ان شہروں کے میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو لیا جائے تو یہ ہزاروں طلبہ بنتے ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے 85 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 86 طلبہ) نے کہا کہ انہیں نئی اور قیمتی معلومات ملیں، اور 72 فیصد (ہر 100 میں سے تقریباً 73 طلبہ) نے اعتراف کیا کہ اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔ ان کے لیے چیٹ جی پی ٹی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ یہ صرف میڈیکل طلبہ تک محدود نہیں۔ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی لاکھوں نوجوان چیٹ جی پی ٹی سے اسائنمنٹ لکھنے، پروجیکٹ آئیڈیاز سوچنے اور امتحان کی تیاری کے لیے مدد لے رہے ہیں۔ کئی طلبہ اسے یوں بیان کرتے ہیں جیسے “جیب میں ایک استاد موجود ہو”۔ اور یہ استاد نہ تھکتا ہے، نہ سوال سے انکار کرتا ہے، اور نہ ہی کبھی غیر حاضر ہوتا ہے۔ یقیناً کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ کبھی کبھار چیٹ جی پی ٹی نامکمل یا غلط جواب دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود، اس کے فوائد نمایاں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک استاد کو اکثر پچاس بچوں کی کلاس پڑھانی پڑتی ہے، یا جہاں نصاب پرانا اور کتابیں محدود ہیں، وہاں چیٹ جی پی ٹی ایک بڑا خلا پُر کر رہا ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان، جسے اکثر نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں پیچھے سمجھا جاتا ہے، دراصل تعلیم میں اے آئی کے استعمال میں سب سے آگے کھڑا ہے۔ امیر ممالک میں لوگ اسے زیادہ تر دفتر کے کام یا کوڈنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ براہِ راست تعلیمی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ یہ طلبہ کو وہ کچھ سکھا رہا ہے جو کبھی ان کے اسکول نہیں سکھا پاتے تھے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ اگر طلبہ کو سکھایا جائے کہ معلومات کو کیسے چیک کرنا ہے، اے آئی کو ذمہ داری سے کیسے استعمال کرنا ہے اور علم کو ہنر میں کیسے بدلنا ہے، تو چیٹ جی پی ٹی غربت سے خوشحالی تک کا پُل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بہتر طلبہ نہیں بلکہ بہتر سوچنے والے، بہتر کارکن اور بہتر کاروباری افراد تیار کر سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی محض ایک چیٹ بوٹ نہیں رہا۔ یہ ایک خاموش تعلیمی ساتھی بنتا جا رہا ہے — تقریباً 67 ملین پاکستانیوں کے لیے روزانہ کا ڈیجیٹل استاد۔ اور اگر ملک نے اسے دانشمندی سے اپنایا تو یہ آنے والی نسل کو روشن مستقبل دینے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 1505 مشاهدة
  • ایک دن ملا نصر الدین کو ایک شاندار دعوت میں مدعو کیا گیا۔ وہ اپنے معمول کے سادہ لباس میں وہاں پہنچے، لیکن مہمانوں اور میزبان نے انہیں ان کے سادہ لباس کی وجہ سے نظرانداز کر دیا۔ ملا نصر الدین نے اس بات کو بہت غور سے دیکھا اور خاموشی سے وہاں سے نکل گئے۔

    کچھ دیر بعد، وہ خوبصورت اور نفیس لباس پہن کر واپس آئے۔ اس بار، ان کا استقبال بڑے احترام سے کیا گیا اور انہیں دعوت میں اعزازی جگہ دی گئی۔ جب کھانے کا وقت آیا، تو ملا نصر الدین نے اپنے کپڑوں کو کھانا کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے کہا "کھاؤ، کوٹ! کھاؤ، پگڑی!"

    حیران مہمانوں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو ملا نصر الدین نے جواب دیا کہ جب وہ سادہ لباس میں تھے تو ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور جب انہوں نے خوبصورت لباس پہنا تو ان کا احترام کیا گیا، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ احترام ان کا نہیں بلکہ ان کے کپڑوں کا ہے۔ اس لئے وہ اپنے کپڑوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔

    یہ سن کر سب مہمانوں کو اپنے رویے پر شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے ملا نصر الدین کی دانائی اور حکمت کی قدر کی۔ اس طرح ملا نصر الدین نے ایک بار پھر اپنی حاضر دماغی اور دانشمندی سے سب کو حیران کر دیا۔
    ایک دن ملا نصر الدین کو ایک شاندار دعوت میں مدعو کیا گیا۔ وہ اپنے معمول کے سادہ لباس میں وہاں پہنچے، لیکن مہمانوں اور میزبان نے انہیں ان کے سادہ لباس کی وجہ سے نظرانداز کر دیا۔ ملا نصر الدین نے اس بات کو بہت غور سے دیکھا اور خاموشی سے وہاں سے نکل گئے۔ کچھ دیر بعد، وہ خوبصورت اور نفیس لباس پہن کر واپس آئے۔ اس بار، ان کا استقبال بڑے احترام سے کیا گیا اور انہیں دعوت میں اعزازی جگہ دی گئی۔ جب کھانے کا وقت آیا، تو ملا نصر الدین نے اپنے کپڑوں کو کھانا کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے کہا "کھاؤ، کوٹ! کھاؤ، پگڑی!" حیران مہمانوں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو ملا نصر الدین نے جواب دیا کہ جب وہ سادہ لباس میں تھے تو ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور جب انہوں نے خوبصورت لباس پہنا تو ان کا احترام کیا گیا، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ احترام ان کا نہیں بلکہ ان کے کپڑوں کا ہے۔ اس لئے وہ اپنے کپڑوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔ یہ سن کر سب مہمانوں کو اپنے رویے پر شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے ملا نصر الدین کی دانائی اور حکمت کی قدر کی۔ اس طرح ملا نصر الدین نے ایک بار پھر اپنی حاضر دماغی اور دانشمندی سے سب کو حیران کر دیا۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 182 مشاهدة
  • عنوان:
    Good Artists Copy, Great Artists Steal
    — Steve Jobs

    ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ کاپی کرنا غلط ہے۔ اسکول میں کاپی پر سزا ملتی ہے، معاشرے میں اسے کمزوری سمجھا جاتا ہے، اور تخلیق (Creativity) کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے جو بالکل نیا نہ ہو وہ بے وقعت ہے۔ لیکن اگر ہم تاریخ کو غور سے دیکھیں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے:
    دنیا کی زیادہ تر ترقی کاپی کرنے سے ہی ہوئی ہے — مگر سمجھ کے ساتھ۔

    اس مشہور جملے “Good artists copy, great artists steal” کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چوری یا نقل جائز ہے۔ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ عظیم لوگ چیزوں کو سطحی طور پر نقل نہیں کرتے بلکہ انہیں گہرائی سے سمجھ کر اپنے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔

    اسی خیال کو ایک اور قول مزید واضح کرتا ہے:
    “Imitation is the sincerest form of flattery”
    یعنی اگر کوئی آپ کی نقل کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے کوئی قابلِ قدر کام کیا ہے۔

    کاپی کرنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے؟

    مسئلہ کاپی کرنے میں نہیں، بلکہ بغیر سمجھے کاپی کرنے میں ہے۔
    جب کوئی شخص یا قوم صرف شکل نقل کرتی ہے، روح نہیں، تو نتیجہ ناکام ہوتا ہے۔ لیکن جب کوئی نظام، خیال، یا ماڈل پوری طرح سمجھ کر اپنایا جائے تو وہ ترقی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    قوموں کی ترقی کا راز

    دنیا کی ہر کامیاب قوم نے کچھ نہ کچھ کاپی کیا ہے:
    • تعلیمی نظام کہیں سے سیکھا
    • قانون اور گورننس کے ماڈلز اپنائے
    • ٹیکنالوجی درآمد کی
    • بزنس اور انڈسٹری کے طریقے سیکھے

    فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اندھی تقلید نہیں کی، بلکہ لوکلائزیشن کی — یعنی اپنے لوگوں، ثقافت، وسائل اور مسائل کے مطابق ڈھالا۔

    جاپان نے صنعت کاری سیکھی، مگر اسے بہتر بنایا۔
    جنوبی کوریا نے ٹیکنالوجی سیکھی، مگر معیار میں سبقت لے گیا۔
    چین نے مینوفیکچرنگ سیکھی، مگر اسکیل میں دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    کیا ان قوموں نے یہ سوچا کہ “ہم نقل کر رہے ہیں، یہ ہماری توہین ہے”؟
    نہیں۔ انہوں نے یہ سوچا کہ “ہم اپنے لوگوں کی زندگی بہتر بنا رہے ہیں۔”

    اصل مسئلہ: انا (Ego)

    ہماری بہت سی ناکامیوں کی وجہ انا ہے۔
    ہم یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ:

    “کسی اور نے ہم سے بہتر کام کیا ہے”

    جبکہ عقل مندی یہ ہے کہ:

    “اگر کوئی چیز کام کر رہی ہے تو اسے سیکھو، اپناؤ، اور بہتر بناؤ”

    لوگ بھوکے ہوں، بچے تعلیم سے محروم ہوں، نوجوان بے روزگار ہوں — اور ہم صرف اس لیے کسی اچھے ماڈل کو نہ اپنائیں کہ “یہ ہمارا نہیں ہے” — یہ دانشمندی نہیں، ضد ہے۔

    درست ذہنیت (Right Mindset)

    درست سوچ یہ ہے:
    • جو چیز کام کر رہی ہے، اسے سیکھو
    • جو لوگوں کو فائدہ دے، اسے اپناؤ
    • جو بہتر ہو سکتی ہے، اسے بہتر بناؤ
    • جو لوکل بنائی جا سکتی ہے، اسے لوکل بناؤ

    یہ کاپی نہیں ہے۔
    یہ قیادت ہے۔

    نتیجہ

    “Good artists copy, great artists steal” ہمیں سکھاتا ہے کہ عظمت صفر سے ایجاد کرنے میں نہیں، بلکہ سمجھ، عاجزی، اور عمل میں ہے۔
    اگر کسی ملک، ادارے یا شخص نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو اسے اپنے علاقے، اپنے لوگوں، اور اپنے حالات کے مطابق اپنانا کوئی گناہ نہیں — بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔

    دنیا میں عزت انہیں نہیں ملتی جو صرف “اصل” ہونے کا دعویٰ کریں،
    عزت انہیں ملتی ہے جو مسائل حل کریں۔

    — ریحان اللہ والا
    (with help of ChatGPT)
    عنوان: Good Artists Copy, Great Artists Steal — Steve Jobs ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ کاپی کرنا غلط ہے۔ اسکول میں کاپی پر سزا ملتی ہے، معاشرے میں اسے کمزوری سمجھا جاتا ہے، اور تخلیق (Creativity) کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے جو بالکل نیا نہ ہو وہ بے وقعت ہے۔ لیکن اگر ہم تاریخ کو غور سے دیکھیں تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے: دنیا کی زیادہ تر ترقی کاپی کرنے سے ہی ہوئی ہے — مگر سمجھ کے ساتھ۔ اس مشہور جملے “Good artists copy, great artists steal” کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چوری یا نقل جائز ہے۔ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ عظیم لوگ چیزوں کو سطحی طور پر نقل نہیں کرتے بلکہ انہیں گہرائی سے سمجھ کر اپنے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ اسی خیال کو ایک اور قول مزید واضح کرتا ہے: “Imitation is the sincerest form of flattery” یعنی اگر کوئی آپ کی نقل کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے کوئی قابلِ قدر کام کیا ہے۔ کاپی کرنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے؟ مسئلہ کاپی کرنے میں نہیں، بلکہ بغیر سمجھے کاپی کرنے میں ہے۔ جب کوئی شخص یا قوم صرف شکل نقل کرتی ہے، روح نہیں، تو نتیجہ ناکام ہوتا ہے۔ لیکن جب کوئی نظام، خیال، یا ماڈل پوری طرح سمجھ کر اپنایا جائے تو وہ ترقی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ قوموں کی ترقی کا راز دنیا کی ہر کامیاب قوم نے کچھ نہ کچھ کاپی کیا ہے: • تعلیمی نظام کہیں سے سیکھا • قانون اور گورننس کے ماڈلز اپنائے • ٹیکنالوجی درآمد کی • بزنس اور انڈسٹری کے طریقے سیکھے فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اندھی تقلید نہیں کی، بلکہ لوکلائزیشن کی — یعنی اپنے لوگوں، ثقافت، وسائل اور مسائل کے مطابق ڈھالا۔ جاپان نے صنعت کاری سیکھی، مگر اسے بہتر بنایا۔ جنوبی کوریا نے ٹیکنالوجی سیکھی، مگر معیار میں سبقت لے گیا۔ چین نے مینوفیکچرنگ سیکھی، مگر اسکیل میں دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ کیا ان قوموں نے یہ سوچا کہ “ہم نقل کر رہے ہیں، یہ ہماری توہین ہے”؟ نہیں۔ انہوں نے یہ سوچا کہ “ہم اپنے لوگوں کی زندگی بہتر بنا رہے ہیں۔” اصل مسئلہ: انا (Ego) ہماری بہت سی ناکامیوں کی وجہ انا ہے۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ: “کسی اور نے ہم سے بہتر کام کیا ہے” جبکہ عقل مندی یہ ہے کہ: “اگر کوئی چیز کام کر رہی ہے تو اسے سیکھو، اپناؤ، اور بہتر بناؤ” لوگ بھوکے ہوں، بچے تعلیم سے محروم ہوں، نوجوان بے روزگار ہوں — اور ہم صرف اس لیے کسی اچھے ماڈل کو نہ اپنائیں کہ “یہ ہمارا نہیں ہے” — یہ دانشمندی نہیں، ضد ہے۔ درست ذہنیت (Right Mindset) درست سوچ یہ ہے: • جو چیز کام کر رہی ہے، اسے سیکھو • جو لوگوں کو فائدہ دے، اسے اپناؤ • جو بہتر ہو سکتی ہے، اسے بہتر بناؤ • جو لوکل بنائی جا سکتی ہے، اسے لوکل بناؤ یہ کاپی نہیں ہے۔ یہ قیادت ہے۔ نتیجہ “Good artists copy, great artists steal” ہمیں سکھاتا ہے کہ عظمت صفر سے ایجاد کرنے میں نہیں، بلکہ سمجھ، عاجزی، اور عمل میں ہے۔ اگر کسی ملک، ادارے یا شخص نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو اسے اپنے علاقے، اپنے لوگوں، اور اپنے حالات کے مطابق اپنانا کوئی گناہ نہیں — بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ دنیا میں عزت انہیں نہیں ملتی جو صرف “اصل” ہونے کا دعویٰ کریں، عزت انہیں ملتی ہے جو مسائل حل کریں۔ — ریحان اللہ والا (with help of ChatGPT)
    0 التعليقات 0 المشاركات 438 مشاهدة
  • ### The Lost Kingdom

    Deep in the heart of the jungle, there was a legend about a lost kingdom buried under the earth. Many adventurers searched for it, but none ever returned. One day, a young explorer named Hamza set out on a quest to uncover the truth.

    With a map in hand, he followed the clues carved into ancient stones. After days of searching, he stumbled upon a hidden cave covered in golden vines. As he stepped inside, he saw a magnificent underground city, its buildings shining under the glow of crystals.

    Suddenly, a voice echoed through the halls, "Who dares enter the Kingdom of Zayran?" Hamza hesitated but then bravely answered, "I seek the truth of your lost kingdom."

    A spirit appeared before him, dressed in royal robes. "Our people once ruled with wisdom, but greed led to our downfall. Now, we wait for someone pure of heart to restore our name."

    Hamza promised to share the kingdom’s history with the world. When he returned, he wrote about the lost civilization, ensuring that the memory of Zayran would never fade again.

    ### کھویا ہوا بادشاہت

    جنگل کے بیچوں بیچ ایک قدیم کہانی مشہور تھی کہ زمین کے نیچے ایک کھویا ہوا بادشاہت دفن ہے۔ کئی مہم جو اسے تلاش کرنے نکلے، مگر کوئی واپس نہ آیا۔ ایک دن، حمزہ نامی ایک نوجوان مہم جو نے اس راز کو جاننے کا فیصلہ کیا۔

    نقشہ ہاتھ میں لیے، وہ ان نشانات کے پیچھے چلا جو پرانے پتھروں پر کندہ تھے۔ کئی دنوں کی تلاش کے بعد، اسے ایک چھپی ہوئی غار ملی جو سنہری بیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اس نے ایک شاندار زیر زمین شہر دیکھا، جس کی عمارتیں چمکتے ہوئے کرسٹلز کی روشنی میں جگمگا رہی تھیں۔

    اچانک، ہال میں ایک گونجدار آواز سنائی دی، "کون زائران کی سلطنت میں داخل ہونے کی جرات کرتا ہے؟" حمزہ پہلے تو رکا، مگر پھر ہمت کر کے جواب دیا، "میں تمہاری کھوئی ہوئی بادشاہت کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔"

    ایک روح شاہی لباس پہنے اس کے سامنے نمودار ہوئی۔ "ہمارے لوگ کبھی دانشمندی سے حکومت کرتے تھے، مگر لالچ نے ہمیں برباد کر دیا۔ اب ہم کسی نیک دل انسان کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمارے نام کو دوبارہ زندہ کرے۔"

    حمزہ نے وعدہ کیا کہ وہ اس بادشاہت کی تاریخ دنیا کو بتائے گا۔ جب وہ واپس آیا، تو اس نے زائران کی گمشدہ تہذیب پر ایک کتاب لکھی، تاکہ اس کا نام کبھی مٹ نہ سکے۔

    Student: Rehan School
    School: Level One.Five
    Story Post Number: 225
    Roll Number: 157
    ### The Lost Kingdom Deep in the heart of the jungle, there was a legend about a lost kingdom buried under the earth. Many adventurers searched for it, but none ever returned. One day, a young explorer named Hamza set out on a quest to uncover the truth. With a map in hand, he followed the clues carved into ancient stones. After days of searching, he stumbled upon a hidden cave covered in golden vines. As he stepped inside, he saw a magnificent underground city, its buildings shining under the glow of crystals. Suddenly, a voice echoed through the halls, "Who dares enter the Kingdom of Zayran?" Hamza hesitated but then bravely answered, "I seek the truth of your lost kingdom." A spirit appeared before him, dressed in royal robes. "Our people once ruled with wisdom, but greed led to our downfall. Now, we wait for someone pure of heart to restore our name." Hamza promised to share the kingdom’s history with the world. When he returned, he wrote about the lost civilization, ensuring that the memory of Zayran would never fade again. ### کھویا ہوا بادشاہت جنگل کے بیچوں بیچ ایک قدیم کہانی مشہور تھی کہ زمین کے نیچے ایک کھویا ہوا بادشاہت دفن ہے۔ کئی مہم جو اسے تلاش کرنے نکلے، مگر کوئی واپس نہ آیا۔ ایک دن، حمزہ نامی ایک نوجوان مہم جو نے اس راز کو جاننے کا فیصلہ کیا۔ نقشہ ہاتھ میں لیے، وہ ان نشانات کے پیچھے چلا جو پرانے پتھروں پر کندہ تھے۔ کئی دنوں کی تلاش کے بعد، اسے ایک چھپی ہوئی غار ملی جو سنہری بیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اس نے ایک شاندار زیر زمین شہر دیکھا، جس کی عمارتیں چمکتے ہوئے کرسٹلز کی روشنی میں جگمگا رہی تھیں۔ اچانک، ہال میں ایک گونجدار آواز سنائی دی، "کون زائران کی سلطنت میں داخل ہونے کی جرات کرتا ہے؟" حمزہ پہلے تو رکا، مگر پھر ہمت کر کے جواب دیا، "میں تمہاری کھوئی ہوئی بادشاہت کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔" ایک روح شاہی لباس پہنے اس کے سامنے نمودار ہوئی۔ "ہمارے لوگ کبھی دانشمندی سے حکومت کرتے تھے، مگر لالچ نے ہمیں برباد کر دیا۔ اب ہم کسی نیک دل انسان کا انتظار کر رہے ہیں جو ہمارے نام کو دوبارہ زندہ کرے۔" حمزہ نے وعدہ کیا کہ وہ اس بادشاہت کی تاریخ دنیا کو بتائے گا۔ جب وہ واپس آیا، تو اس نے زائران کی گمشدہ تہذیب پر ایک کتاب لکھی، تاکہ اس کا نام کبھی مٹ نہ سکے۔ Student: Rehan School School: Level One.Five Story Post Number: 225 Roll Number: 157
    0 التعليقات 0 المشاركات 131 مشاهدة
  • ### The Secret of the Hidden Door

    In an old town, there was an abandoned library that no one visited. Rumors spread that a hidden door inside held a great secret. One day, a curious girl named Amina decided to explore it.

    She stepped into the dusty library, searching for clues. After hours of looking, she noticed a strange symbol on the floor. When she pressed it, a hidden door slowly opened, revealing a spiral staircase leading underground.

    Amina gathered her courage and stepped inside. She found an ancient room filled with glowing books. A voice echoed, "Only those who seek knowledge with a pure heart can enter."

    Amina picked up a book, and suddenly, the room lit up. She realized this was the lost knowledge of the town, forgotten for centuries. She took the books to the people, and soon, the town flourished with wisdom and learning once more.

    From that day, the library became the heart of the town again, and Amina was remembered as the one who brought back its lost knowledge.

    ### چھپے دروازے کا راز

    ایک پرانے شہر میں ایک قدیم لائبریری تھی جہاں کوئی نہیں جاتا تھا۔ مشہور تھا کہ وہاں ایک خفیہ دروازہ ہے جو ایک بڑے راز کو چھپائے ہوئے ہے۔ ایک دن، امینہ نامی ایک تجسس بھری لڑکی نے اسے دریافت کرنے کا فیصلہ کیا۔

    وہ گرد سے بھری لائبریری میں داخل ہوئی اور سراگ تلاش کرنے لگی۔ گھنٹوں کی تلاش کے بعد، اس نے فرش پر ایک عجیب سا نشان دیکھا۔ جب اس نے اسے دبایا، تو ایک پوشیدہ دروازہ آہستہ آہستہ کھل گیا، جس کے پیچھے ایک سیڑھی نیچے جا رہی تھی۔

    امینہ نے ہمت جمع کی اور اندر داخل ہو گئی۔ اس نے ایک قدیم کمرہ دیکھا جو چمکتے ہوئے کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ اچانک، ایک آواز گونجی، "یہاں صرف وہی داخل ہو سکتے ہیں جو علم کی سچی جستجو رکھتے ہیں۔"

    امینہ نے ایک کتاب اٹھائی، اور پورا کمرہ روشنی سے بھر گیا۔ اسے احساس ہوا کہ یہ وہ علم تھا جو شہر صدیوں سے بھول چکا تھا۔ اس نے یہ کتابیں لوگوں تک پہنچائیں، اور جلد ہی پورا شہر دوبارہ علم اور دانشمندی سے روشن ہو گیا۔

    اس دن کے بعد، لائبریری شہر کا مرکز بن گئی، اور امینہ کو وہ شخصیت سمجھا جانے لگا جس نے گمشدہ علم واپس لایا۔

    Student: Rehan School
    School: Level One.Five
    Story Post Number: 227
    Roll Number: 157
    ### The Secret of the Hidden Door In an old town, there was an abandoned library that no one visited. Rumors spread that a hidden door inside held a great secret. One day, a curious girl named Amina decided to explore it. She stepped into the dusty library, searching for clues. After hours of looking, she noticed a strange symbol on the floor. When she pressed it, a hidden door slowly opened, revealing a spiral staircase leading underground. Amina gathered her courage and stepped inside. She found an ancient room filled with glowing books. A voice echoed, "Only those who seek knowledge with a pure heart can enter." Amina picked up a book, and suddenly, the room lit up. She realized this was the lost knowledge of the town, forgotten for centuries. She took the books to the people, and soon, the town flourished with wisdom and learning once more. From that day, the library became the heart of the town again, and Amina was remembered as the one who brought back its lost knowledge. ### چھپے دروازے کا راز ایک پرانے شہر میں ایک قدیم لائبریری تھی جہاں کوئی نہیں جاتا تھا۔ مشہور تھا کہ وہاں ایک خفیہ دروازہ ہے جو ایک بڑے راز کو چھپائے ہوئے ہے۔ ایک دن، امینہ نامی ایک تجسس بھری لڑکی نے اسے دریافت کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ گرد سے بھری لائبریری میں داخل ہوئی اور سراگ تلاش کرنے لگی۔ گھنٹوں کی تلاش کے بعد، اس نے فرش پر ایک عجیب سا نشان دیکھا۔ جب اس نے اسے دبایا، تو ایک پوشیدہ دروازہ آہستہ آہستہ کھل گیا، جس کے پیچھے ایک سیڑھی نیچے جا رہی تھی۔ امینہ نے ہمت جمع کی اور اندر داخل ہو گئی۔ اس نے ایک قدیم کمرہ دیکھا جو چمکتے ہوئے کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ اچانک، ایک آواز گونجی، "یہاں صرف وہی داخل ہو سکتے ہیں جو علم کی سچی جستجو رکھتے ہیں۔" امینہ نے ایک کتاب اٹھائی، اور پورا کمرہ روشنی سے بھر گیا۔ اسے احساس ہوا کہ یہ وہ علم تھا جو شہر صدیوں سے بھول چکا تھا۔ اس نے یہ کتابیں لوگوں تک پہنچائیں، اور جلد ہی پورا شہر دوبارہ علم اور دانشمندی سے روشن ہو گیا۔ اس دن کے بعد، لائبریری شہر کا مرکز بن گئی، اور امینہ کو وہ شخصیت سمجھا جانے لگا جس نے گمشدہ علم واپس لایا۔ Student: Rehan School School: Level One.Five Story Post Number: 227 Roll Number: 157
    0 التعليقات 0 المشاركات 117 مشاهدة