• برداشت :

    صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں

    Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    برداشت : صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    0 التعليقات 0 المشاركات 1057 مشاهدة
  • ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
    جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
    بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔
    یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
    "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
    سوچیئے!
    میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
    مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
    یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
    مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
    لیکن،
    سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
    ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔
    اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
    اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔
    اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔

    -ایک فیس بکی پوسٹ سے اقتباس

    Via Lubna Shakoor
    ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔ جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟" سوچیئے! میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔ لیکن، سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔ ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔ اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔ اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔ -ایک فیس بکی پوسٹ سے اقتباس Via Lubna Shakoor
    0 التعليقات 0 المشاركات 896 مشاهدة
  • اسلام میں پانی پینے کے بارے میں دی گئی ہدایات اور ان کے سائنسی فوائد درج ذیل ہیں:

    ### 1. **پانی گھونٹ گھونٹ کر پینا**
    - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پانی ایک ہی سانس میں نہ پیو بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔
    > "اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی مت پیو، بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔" (سنن ابن ماجہ)

    - **سائنسی وجہ**: پانی کو آہستہ آہستہ پینے سے جسم پانی کو بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے۔ اگر آپ ایک ساتھ زیادہ پانی پیتے ہیں تو یہ گردوں کو مغلوب کر دیتا ہے اور پانی جلدی جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ چھوٹے گھونٹ لینے سے جسم کو مناسب طریقے سے ہائیڈریٹ ہونے کا وقت ملتا ہے۔

    ### 2. **بیٹھ کر پانی پینا**
    - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر پانی پینے کی تلقین فرمائی ہے۔
    > "تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر پانی نہ پیے؛ اگر کوئی بھول جائے تو اسے الٹی کرنی چاہیے۔" (صحیح مسلم)

    - **سائنسی وجہ**: بیٹھ کر پانی پینے سے جسم کو زیادہ آرام ملتا ہے اور پانی کو صحیح طریقے سے جذب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کھڑے ہو کر پانی پینے سے پانی تیزی سے گزر جاتا ہے اور ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ بیٹھ کر پینے سے پانی کے ہضم ہونے اور گردوں کے بہتر کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    ### 3. **پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" کہنا اور بعد میں "الحمدللہ" کہنا**
    - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" اور پینے کے بعد "الحمدللہ" کہنے کی تاکید فرمائی۔

    - **سائنسی وجہ**: "بسم اللہ" کہنا ذہنی شعور کو بیدار کرتا ہے اور پانی پیتے وقت غور و فکر کا باعث بنتا ہے، جس سے انسان آہستہ آہستہ پانی پیتا ہے۔ یہ آہستہ پینے کا عمل ہاضمے اور ہائیڈریشن میں بہتری لاتا ہے۔ شکر گزاری ("الحمدللہ") کا اظہار ذہنی سکون اور صحت مند عادات کو فروغ دیتا ہے۔

    ### 4. **پانی پینے میں اعتدال**
    - **اسلامی تعلیم**: اسلام ہر معاملے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، چاہے وہ کھانا پینا ہو یا کوئی اور عمل:
    > "کھاؤ اور پیو، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (قرآن 7:31)

    - **سائنسی وجہ**: زیادہ پانی پینا (Overhydration) ایک حالت کو جنم دے سکتا ہے جسے **hyponatremia** کہا جاتا ہے، جس میں خون میں سوڈیم کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔ یہ حالت متلی، سر درد، الجھن، اور شدید صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اعتدال سے پانی پینا جسم کے پانی اور الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔

    ### 5. **پانی کو ضائع نہ کرنا**
    - **اسلامی تعلیم**: قرآن کریم ہمیں پانی سمیت کسی بھی نعمت کو ضائع نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
    > "بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان ہمیشہ اپنے رب کا ناشکرا ہے۔" (قرآن 17:27)

    - **سائنسی وجہ**: پانی ایک قیمتی اور محدود وسیلہ ہے، جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ جدید ماحولیاتی سائنس خبردار کرتی ہے کہ پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پانی کو ضائع نہ کرنا نہ صرف ایک مذہبی اصول ہے بلکہ ماحولیاتی پائیداری کے لیے بھی ضروری ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے۔

    ### 6. **صبح اُٹھ کر پانی پینا**
    - **اسلامی عمل**: اگرچہ اس بارے میں کوئی مخصوص حدیث موجود نہیں، لیکن بہت سے اسلامی علماء صبح کے وقت پانی پینے کو صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔

    - **سائنسی وجہ**: کئی گھنٹوں کی نیند کے بعد جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ صبح کے وقت پانی پینا جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرتا ہے، میٹابولزم کو فعال کرتا ہے اور رات بھر میں جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    ### 7. **پانی کو رحمت اور زندگی کا ذریعہ سمجھنا**
    - **اسلامی تعلیم**: قرآن میں پانی کو بار بار ایک نعمت اور زندگی کا ذریعہ کہا گیا ہے:
    > "اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟" (قرآن 21:30)

    - **سائنسی وجہ**: جدید سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ انسانی جسم کا تقریباً 60% پانی پر مشتمل ہے اور پانی مختلف جسمانی افعال کے لیے اہم ہے، جیسے کہ ہاضمہ، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا، اور غذائی اجزاء کی منتقلی۔ پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔

    ### خلاصہ:
    اسلامی تعلیمات میں پانی پینے کے آداب سائنسی حقائق کے مطابق ہیں۔ چاہے وہ اعتدال میں پینا ہو، بیٹھ کر پینا ہو، یا پانی کے ضیاع سے بچنا ہو، یہ تمام ہدایات صحت مند زندگی اور ماحول کے تحفظ کے لیے مفید ہیں۔
    اسلام میں پانی پینے کے بارے میں دی گئی ہدایات اور ان کے سائنسی فوائد درج ذیل ہیں: ### 1. **پانی گھونٹ گھونٹ کر پینا** - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پانی ایک ہی سانس میں نہ پیو بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔ > "اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی مت پیو، بلکہ اسے دو یا تین گھونٹ میں پیو۔" (سنن ابن ماجہ) - **سائنسی وجہ**: پانی کو آہستہ آہستہ پینے سے جسم پانی کو بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے۔ اگر آپ ایک ساتھ زیادہ پانی پیتے ہیں تو یہ گردوں کو مغلوب کر دیتا ہے اور پانی جلدی جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ چھوٹے گھونٹ لینے سے جسم کو مناسب طریقے سے ہائیڈریٹ ہونے کا وقت ملتا ہے۔ ### 2. **بیٹھ کر پانی پینا** - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر پانی پینے کی تلقین فرمائی ہے۔ > "تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر پانی نہ پیے؛ اگر کوئی بھول جائے تو اسے الٹی کرنی چاہیے۔" (صحیح مسلم) - **سائنسی وجہ**: بیٹھ کر پانی پینے سے جسم کو زیادہ آرام ملتا ہے اور پانی کو صحیح طریقے سے جذب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کھڑے ہو کر پانی پینے سے پانی تیزی سے گزر جاتا ہے اور ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ بیٹھ کر پینے سے پانی کے ہضم ہونے اور گردوں کے بہتر کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ### 3. **پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" کہنا اور بعد میں "الحمدللہ" کہنا** - **اسلامی تعلیم**: حضور نبی کریم ﷺ نے پانی پینے سے پہلے "بسم اللہ" اور پینے کے بعد "الحمدللہ" کہنے کی تاکید فرمائی۔ - **سائنسی وجہ**: "بسم اللہ" کہنا ذہنی شعور کو بیدار کرتا ہے اور پانی پیتے وقت غور و فکر کا باعث بنتا ہے، جس سے انسان آہستہ آہستہ پانی پیتا ہے۔ یہ آہستہ پینے کا عمل ہاضمے اور ہائیڈریشن میں بہتری لاتا ہے۔ شکر گزاری ("الحمدللہ") کا اظہار ذہنی سکون اور صحت مند عادات کو فروغ دیتا ہے۔ ### 4. **پانی پینے میں اعتدال** - **اسلامی تعلیم**: اسلام ہر معاملے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، چاہے وہ کھانا پینا ہو یا کوئی اور عمل: > "کھاؤ اور پیو، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (قرآن 7:31) - **سائنسی وجہ**: زیادہ پانی پینا (Overhydration) ایک حالت کو جنم دے سکتا ہے جسے **hyponatremia** کہا جاتا ہے، جس میں خون میں سوڈیم کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔ یہ حالت متلی، سر درد، الجھن، اور شدید صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اعتدال سے پانی پینا جسم کے پانی اور الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ ### 5. **پانی کو ضائع نہ کرنا** - **اسلامی تعلیم**: قرآن کریم ہمیں پانی سمیت کسی بھی نعمت کو ضائع نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ > "بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان ہمیشہ اپنے رب کا ناشکرا ہے۔" (قرآن 17:27) - **سائنسی وجہ**: پانی ایک قیمتی اور محدود وسیلہ ہے، جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ جدید ماحولیاتی سائنس خبردار کرتی ہے کہ پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ پانی کو ضائع نہ کرنا نہ صرف ایک مذہبی اصول ہے بلکہ ماحولیاتی پائیداری کے لیے بھی ضروری ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے۔ ### 6. **صبح اُٹھ کر پانی پینا** - **اسلامی عمل**: اگرچہ اس بارے میں کوئی مخصوص حدیث موجود نہیں، لیکن بہت سے اسلامی علماء صبح کے وقت پانی پینے کو صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔ - **سائنسی وجہ**: کئی گھنٹوں کی نیند کے بعد جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ صبح کے وقت پانی پینا جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرتا ہے، میٹابولزم کو فعال کرتا ہے اور رات بھر میں جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ### 7. **پانی کو رحمت اور زندگی کا ذریعہ سمجھنا** - **اسلامی تعلیم**: قرآن میں پانی کو بار بار ایک نعمت اور زندگی کا ذریعہ کہا گیا ہے: > "اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟" (قرآن 21:30) - **سائنسی وجہ**: جدید سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ انسانی جسم کا تقریباً 60% پانی پر مشتمل ہے اور پانی مختلف جسمانی افعال کے لیے اہم ہے، جیسے کہ ہاضمہ، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا، اور غذائی اجزاء کی منتقلی۔ پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ ### خلاصہ: اسلامی تعلیمات میں پانی پینے کے آداب سائنسی حقائق کے مطابق ہیں۔ چاہے وہ اعتدال میں پینا ہو، بیٹھ کر پینا ہو، یا پانی کے ضیاع سے بچنا ہو، یہ تمام ہدایات صحت مند زندگی اور ماحول کے تحفظ کے لیے مفید ہیں۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 1494 مشاهدة
  • جیو تھرمل انرجی: زمین کے نیچے چھپی ہوئی طاقت

    تعارف

    جیو تھرمل انرجی کا مطلب ہے زمین کی گرمی۔ یہ گرمی زمین کے اندر بہت گہرائی میں موجود ہے اور زمین کے مرکز سے، پتھروں کی سست ٹھنڈک سے اور معدنیات کے اندر ہونے والے قدرتی ردِعمل سے پیدا ہوتی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے اس گرمی کو استعمال کرتا آ رہا ہے، کبھی گرم چشموں میں نہانے کے لیے، اور آج جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی بنانے اور گھروں کے بل کم کرنے کے لیے۔

    ⸻

    جیو تھرمل انرجی کی تاریخ
    • قدیم دور: دس ہزار سال پہلے کے انسان گرم چشموں میں نہاتے اور ان سے کھانا پکاتے تھے۔
    • رومی اور یونانی دور: رومیوں نے گرم چشموں کے پاس بڑے بڑے حمام بنائے، یونانیوں نے علاج کے لیے استعمال کیا۔
    • جدید آغاز: انیسویں صدی میں اٹلی میں سب سے پہلے اس گرم پانی کو کیمیکلز نکالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
    • پہلا پاور پلانٹ: 1904 میں اٹلی کے علاقے لاردریلو میں دنیا کا پہلا جیو تھرمل پاور پلانٹ بنایا گیا، جس نے بھاپ سے بجلی بنائی۔
    • دنیا میں پھیلاؤ: بیسویں صدی کے آخر تک آیس لینڈ، امریکا، نیوزی لینڈ اور فلپائن جیسے ملک جیو تھرمل بجلی اور ہیٹنگ کے بڑے استعمال کنندہ بن گئے۔

    ⸻

    دنیا میں جیو تھرمل انرجی کا استعمال
    • آئس لینڈ: 90٪ گھروں کو جیو تھرمل سسٹم سے گرم کیا جاتا ہے اور تقریباً 30٪ بجلی بھی اسی سے بنتی ہے۔
    • امریکا: سب سے زیادہ جیو تھرمل بجلی پیدا کرنے والا ملک ہے، خاص طور پر کیلیفورنیا اور نیواڈا میں۔
    • فلپائن: اپنی تقریباً 30٪ بجلی جیو تھرمل سے حاصل کرتا ہے۔
    • نیوزی لینڈ: بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ گرین ہاؤسز اور سوئمنگ پولز کو بھی گرم کرتا ہے۔
    • کینیا: افریقہ میں سب سے زیادہ جیو تھرمل استعمال کرتا ہے، تقریباً آدھی بجلی اسی سے بنتی ہے۔

    ⸻

    سرد علاقوں میں جیو تھرمل: ہیٹنگ بل میں بچت

    کینیڈا، یورپ اور وسطی ایشیا جیسے ٹھنڈے ملکوں میں سب سے بڑا خرچ ہیٹنگ کا ہوتا ہے۔ جیو تھرمل ہیٹ پمپ اس خرچ کو آدھا کر سکتے ہیں۔

    طریقہ:
    • زمین کے اندر تقریباً 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ہر موسم میں ایک جیسا رہتا ہے۔
    • جیو تھرمل پائپ زمین کے اندر لگائے جاتے ہیں، جہاں سے گرمی گھروں میں منتقل ہو جاتی ہے۔

    فائدے:
    • ہیٹنگ بل 50٪ سے 70٪ کم۔
    • سخت سردی میں بھی کام کرتا ہے۔
    • گیس، تیل یا کوئلے کے مقابلے میں زیادہ صاف اور محفوظ۔

    ⸻

    گرم علاقوں میں جیو تھرمل: کولنگ بل میں بچت

    پاکستان، مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے جنوبی حصے جیسے علاقوں میں سب سے زیادہ خرچ کولنگ پر ہوتا ہے۔ جیو تھرمل سسٹم ایئرکنڈیشن کو زیادہ مؤثر بنا دیتا ہے۔

    طریقہ:
    • زمین کے اندر درجہ حرارت اوپر کی گرمی سے کم ہوتا ہے۔
    • جیو تھرمل پائپ اس ٹھنڈک کو استعمال کرتے ہیں اور گھر کے اندر سے اضافی گرمی کو زمین میں منتقل کر دیتے ہیں۔

    فائدے:
    • کولنگ بل 30٪ سے 50٪ تک کم۔
    • گرمیوں میں بجلی کا بوجھ کم۔
    • کمرے مستقل ٹھنڈے رہتے ہیں۔

    ⸻

    نتیجہ

    جیو تھرمل انرجی قدرت کی ایک صاف اور قابلِ اعتماد طاقت ہے۔ قدیم چشموں سے لے کر جدید پاور پلانٹس تک، انسان نے اسے ہمیشہ اپنی زندگی آسان بنانے کے لیے استعمال کیا۔ آج آئس لینڈ اور فلپائن جیسے ممالک اس سے پوری دنیا کو مثال دے رہے ہیں۔ عام گھروں کے لیے یہ سسٹم نہ صرف سردی میں ہیٹنگ کے خرچ کو کم کرتا ہے بلکہ گرمی میں کولنگ کے بل بھی بچاتا ہے۔ آنے والے وقت میں، یہ توانائی دنیا کے سب سے اہم اور سستے ذرائع میں شمار ہوگی۔
    جیو تھرمل انرجی: زمین کے نیچے چھپی ہوئی طاقت تعارف جیو تھرمل انرجی کا مطلب ہے زمین کی گرمی۔ یہ گرمی زمین کے اندر بہت گہرائی میں موجود ہے اور زمین کے مرکز سے، پتھروں کی سست ٹھنڈک سے اور معدنیات کے اندر ہونے والے قدرتی ردِعمل سے پیدا ہوتی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے اس گرمی کو استعمال کرتا آ رہا ہے، کبھی گرم چشموں میں نہانے کے لیے، اور آج جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی بنانے اور گھروں کے بل کم کرنے کے لیے۔ ⸻ جیو تھرمل انرجی کی تاریخ • قدیم دور: دس ہزار سال پہلے کے انسان گرم چشموں میں نہاتے اور ان سے کھانا پکاتے تھے۔ • رومی اور یونانی دور: رومیوں نے گرم چشموں کے پاس بڑے بڑے حمام بنائے، یونانیوں نے علاج کے لیے استعمال کیا۔ • جدید آغاز: انیسویں صدی میں اٹلی میں سب سے پہلے اس گرم پانی کو کیمیکلز نکالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ • پہلا پاور پلانٹ: 1904 میں اٹلی کے علاقے لاردریلو میں دنیا کا پہلا جیو تھرمل پاور پلانٹ بنایا گیا، جس نے بھاپ سے بجلی بنائی۔ • دنیا میں پھیلاؤ: بیسویں صدی کے آخر تک آیس لینڈ، امریکا، نیوزی لینڈ اور فلپائن جیسے ملک جیو تھرمل بجلی اور ہیٹنگ کے بڑے استعمال کنندہ بن گئے۔ ⸻ دنیا میں جیو تھرمل انرجی کا استعمال • آئس لینڈ: 90٪ گھروں کو جیو تھرمل سسٹم سے گرم کیا جاتا ہے اور تقریباً 30٪ بجلی بھی اسی سے بنتی ہے۔ • امریکا: سب سے زیادہ جیو تھرمل بجلی پیدا کرنے والا ملک ہے، خاص طور پر کیلیفورنیا اور نیواڈا میں۔ • فلپائن: اپنی تقریباً 30٪ بجلی جیو تھرمل سے حاصل کرتا ہے۔ • نیوزی لینڈ: بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ گرین ہاؤسز اور سوئمنگ پولز کو بھی گرم کرتا ہے۔ • کینیا: افریقہ میں سب سے زیادہ جیو تھرمل استعمال کرتا ہے، تقریباً آدھی بجلی اسی سے بنتی ہے۔ ⸻ سرد علاقوں میں جیو تھرمل: ہیٹنگ بل میں بچت کینیڈا، یورپ اور وسطی ایشیا جیسے ٹھنڈے ملکوں میں سب سے بڑا خرچ ہیٹنگ کا ہوتا ہے۔ جیو تھرمل ہیٹ پمپ اس خرچ کو آدھا کر سکتے ہیں۔ طریقہ: • زمین کے اندر تقریباً 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ہر موسم میں ایک جیسا رہتا ہے۔ • جیو تھرمل پائپ زمین کے اندر لگائے جاتے ہیں، جہاں سے گرمی گھروں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ فائدے: • ہیٹنگ بل 50٪ سے 70٪ کم۔ • سخت سردی میں بھی کام کرتا ہے۔ • گیس، تیل یا کوئلے کے مقابلے میں زیادہ صاف اور محفوظ۔ ⸻ گرم علاقوں میں جیو تھرمل: کولنگ بل میں بچت پاکستان، مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے جنوبی حصے جیسے علاقوں میں سب سے زیادہ خرچ کولنگ پر ہوتا ہے۔ جیو تھرمل سسٹم ایئرکنڈیشن کو زیادہ مؤثر بنا دیتا ہے۔ طریقہ: • زمین کے اندر درجہ حرارت اوپر کی گرمی سے کم ہوتا ہے۔ • جیو تھرمل پائپ اس ٹھنڈک کو استعمال کرتے ہیں اور گھر کے اندر سے اضافی گرمی کو زمین میں منتقل کر دیتے ہیں۔ فائدے: • کولنگ بل 30٪ سے 50٪ تک کم۔ • گرمیوں میں بجلی کا بوجھ کم۔ • کمرے مستقل ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ⸻ نتیجہ جیو تھرمل انرجی قدرت کی ایک صاف اور قابلِ اعتماد طاقت ہے۔ قدیم چشموں سے لے کر جدید پاور پلانٹس تک، انسان نے اسے ہمیشہ اپنی زندگی آسان بنانے کے لیے استعمال کیا۔ آج آئس لینڈ اور فلپائن جیسے ممالک اس سے پوری دنیا کو مثال دے رہے ہیں۔ عام گھروں کے لیے یہ سسٹم نہ صرف سردی میں ہیٹنگ کے خرچ کو کم کرتا ہے بلکہ گرمی میں کولنگ کے بل بھی بچاتا ہے۔ آنے والے وقت میں، یہ توانائی دنیا کے سب سے اہم اور سستے ذرائع میں شمار ہوگی۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 194 مشاهدة
  • Essay: دماغ کتنی معلومات لیتا ہے اور کامیابی کس چیز کو نظر انداز کرنا سکھاتی ہے

    انسانی دماغ دنیا کی سب سے طاقتور مشین سمجھا جاتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں یہ ہماری آنکھوں، کانوں، جلد، ناک اور جسم سے بے شمار معلومات لیتا رہتا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ہمارا دماغ تقریباً ایک ارب (1,000,000,000) بٹس معلومات ہر سیکنڈ وصول کرتا ہے۔ یعنی اگر آپ ایک کمرے میں خاموش بیٹھے ہوں، تب بھی آپ کے دماغ کو روشنی، آواز، خوشبو، درجہ حرارت، ہوا کی حرکت، جسم کی پوزیشن اور ہزاروں چیزوں کے سگنل جا رہے ہوتے ہیں۔

    لیکن دماغ ان سب باتوں پر شعوری طور پر غور نہیں کر سکتا۔ اگر ہم ہر آواز، ہر روشنی، ہر احساس کو محسوس کریں تو زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔ اسی لیے دماغ خودکار طریقے سے زیادہ تر معلومات کو فلٹر کر دیتا ہے۔ صرف بہت تھوڑی سی معلومات ہمارے شعور تک پہنچتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہمارا شعور ایک سیکنڈ میں تقریباً 10 بٹس معلومات پر کام کرتا ہے۔ ایک ارب کے مقابلے میں 10 بہت چھوٹی تعداد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم حاصل ہونے والی معلومات کا کم سے کم 0.000001% ہی شعوری طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں: ایک ارب چیزوں میں سے ہمارا دماغ صرف کچھ چیزوں کو سوچنے کے لیے چنتا ہے۔

    یہ نظام ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔ اگر ہم ہر منفی بات، ہر تنقید، ہر غلطی اور ہر مسئلے کو محسوس کریں تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ دماغ بنا ہی اسی لیے ہے کہ ہم اہم چیزوں پر فوکس کریں اور غیر ضروری چیزوں کو خود بخود نظر انداز کر دیں۔

    اب اسے روزمرہ زندگی سے جوڑیں۔ زندگی میں ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں، منفی باتیں سنتے ہیں، غلطیاں دیکھتے ہیں، اور بری خبریں سنتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دماغ منفی چیزوں کو جلدی پکڑنے لگتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارا ماحول ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ کیا “اہم” ہے۔ اگر ہمارے آس پاس لوگ ہمیشہ مسئلے، ناکامیاں اور کمزوریاں دکھاتے رہیں، تو ہمارا دماغ منفی پہلو کو پہلے دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ ایک پیٹرن بن جاتا ہے — اور ہم بغیر سوچے سمجھے منفی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

    لیکن کامیابی اس کے برعکس چلتی ہے۔ کامیابی تب شروع ہوتی ہے جب انسان سیکھ جاتا ہے کہ کس چیز پر غور کرنا ہے اور کس چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ یاد رکھیں، دماغ پہلے ہی ہر سیکنڈ میں اربوں سگنل فلٹر کر رہا ہے — لیکن وہ ایسا ماحول سے سیکھے ہوئے عادتوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ کامیابی کے لیے ہمیں یہ فلٹر اندر سے بدلنا ہوتا ہے۔ ہمیں شعوری طور پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس پر توجہ دیں اور کس کو چھوڑ دیں۔

    ہر انسان کے اندر اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ اگر ہم ہمیشہ کمزوریاں دیکھیں تو ہم پریشان، بے اعتماد اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اچھائیوں پر توجہ دیں — اپنی طاقتوں پر، اپنے مقصد پر، سیکھنے پر، اور دوسروں کی اچھائیوں پر — تو دماغ دوبارہ پازیٹیو فوکس کرنا سیکھ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ اچھی چیزوں کو بڑھانا اور بری چیزوں کو شعوری طور پر ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیتا ہے۔

    اصل جذباتی سمجھداری یہی ہے۔ ہمارا بے شعور دماغ پہلے ہی 99.999999% معلومات کو خودکار طریقے سے خارج کر دیتا ہے۔ لیکن کامیابی تب آتی ہے جب ہم جان بوجھ کر منفی چیزوں کو بھی اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں — جب ہم وہ چیزیں نظر انداز کرنا سیکھ لیتے ہیں جو ہماری ترقی میں مددگار نہیں۔ اس کا مطلب حقیقت کو نظر انداز کرنا نہیں — بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کس چیز پر توجہ دینا ہماری ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    سادہ الفاظ میں:
    ایک ارب سگنل میں سے دماغ صرف تقریباً 10 سگنل پر سوچتا ہے — یعنی 0.000001% سے بھی کم۔
    اگر دماغ اتنی چیزیں خودکار طریقے سے نظر انداز کر سکتا ہے، تو ہم بھی منفی باتوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

    جب ہم غیر اہم چیزوں کو چھوڑ کر اہم چیزوں پر توجہ دینا شروع کرتے ہیں، تو ہم زیادہ مضبوط، زیادہ پُراعتماد اور زیادہ کامیاب بن جاتے ہیں۔ دنیا پہلے نہیں بدلتی — فلٹر پہلے بدلتا ہے۔ جب ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کیا دیکھیں گے، ہم یہ فیصلہ بھی کرتے ہیں کہ ہمیں کیا بننا ہے۔
    Essay: دماغ کتنی معلومات لیتا ہے اور کامیابی کس چیز کو نظر انداز کرنا سکھاتی ہے انسانی دماغ دنیا کی سب سے طاقتور مشین سمجھا جاتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں یہ ہماری آنکھوں، کانوں، جلد، ناک اور جسم سے بے شمار معلومات لیتا رہتا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ہمارا دماغ تقریباً ایک ارب (1,000,000,000) بٹس معلومات ہر سیکنڈ وصول کرتا ہے۔ یعنی اگر آپ ایک کمرے میں خاموش بیٹھے ہوں، تب بھی آپ کے دماغ کو روشنی، آواز، خوشبو، درجہ حرارت، ہوا کی حرکت، جسم کی پوزیشن اور ہزاروں چیزوں کے سگنل جا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن دماغ ان سب باتوں پر شعوری طور پر غور نہیں کر سکتا۔ اگر ہم ہر آواز، ہر روشنی، ہر احساس کو محسوس کریں تو زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔ اسی لیے دماغ خودکار طریقے سے زیادہ تر معلومات کو فلٹر کر دیتا ہے۔ صرف بہت تھوڑی سی معلومات ہمارے شعور تک پہنچتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہمارا شعور ایک سیکنڈ میں تقریباً 10 بٹس معلومات پر کام کرتا ہے۔ ایک ارب کے مقابلے میں 10 بہت چھوٹی تعداد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم حاصل ہونے والی معلومات کا کم سے کم 0.000001% ہی شعوری طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں: ایک ارب چیزوں میں سے ہمارا دماغ صرف کچھ چیزوں کو سوچنے کے لیے چنتا ہے۔ یہ نظام ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔ اگر ہم ہر منفی بات، ہر تنقید، ہر غلطی اور ہر مسئلے کو محسوس کریں تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ دماغ بنا ہی اسی لیے ہے کہ ہم اہم چیزوں پر فوکس کریں اور غیر ضروری چیزوں کو خود بخود نظر انداز کر دیں۔ اب اسے روزمرہ زندگی سے جوڑیں۔ زندگی میں ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں، منفی باتیں سنتے ہیں، غلطیاں دیکھتے ہیں، اور بری خبریں سنتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دماغ منفی چیزوں کو جلدی پکڑنے لگتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارا ماحول ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ کیا “اہم” ہے۔ اگر ہمارے آس پاس لوگ ہمیشہ مسئلے، ناکامیاں اور کمزوریاں دکھاتے رہیں، تو ہمارا دماغ منفی پہلو کو پہلے دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ ایک پیٹرن بن جاتا ہے — اور ہم بغیر سوچے سمجھے منفی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ لیکن کامیابی اس کے برعکس چلتی ہے۔ کامیابی تب شروع ہوتی ہے جب انسان سیکھ جاتا ہے کہ کس چیز پر غور کرنا ہے اور کس چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ یاد رکھیں، دماغ پہلے ہی ہر سیکنڈ میں اربوں سگنل فلٹر کر رہا ہے — لیکن وہ ایسا ماحول سے سیکھے ہوئے عادتوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ کامیابی کے لیے ہمیں یہ فلٹر اندر سے بدلنا ہوتا ہے۔ ہمیں شعوری طور پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس پر توجہ دیں اور کس کو چھوڑ دیں۔ ہر انسان کے اندر اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ اگر ہم ہمیشہ کمزوریاں دیکھیں تو ہم پریشان، بے اعتماد اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اچھائیوں پر توجہ دیں — اپنی طاقتوں پر، اپنے مقصد پر، سیکھنے پر، اور دوسروں کی اچھائیوں پر — تو دماغ دوبارہ پازیٹیو فوکس کرنا سیکھ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ اچھی چیزوں کو بڑھانا اور بری چیزوں کو شعوری طور پر ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اصل جذباتی سمجھداری یہی ہے۔ ہمارا بے شعور دماغ پہلے ہی 99.999999% معلومات کو خودکار طریقے سے خارج کر دیتا ہے۔ لیکن کامیابی تب آتی ہے جب ہم جان بوجھ کر منفی چیزوں کو بھی اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں — جب ہم وہ چیزیں نظر انداز کرنا سیکھ لیتے ہیں جو ہماری ترقی میں مددگار نہیں۔ اس کا مطلب حقیقت کو نظر انداز کرنا نہیں — بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کس چیز پر توجہ دینا ہماری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ سادہ الفاظ میں: ایک ارب سگنل میں سے دماغ صرف تقریباً 10 سگنل پر سوچتا ہے — یعنی 0.000001% سے بھی کم۔ اگر دماغ اتنی چیزیں خودکار طریقے سے نظر انداز کر سکتا ہے، تو ہم بھی منفی باتوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ جب ہم غیر اہم چیزوں کو چھوڑ کر اہم چیزوں پر توجہ دینا شروع کرتے ہیں، تو ہم زیادہ مضبوط، زیادہ پُراعتماد اور زیادہ کامیاب بن جاتے ہیں۔ دنیا پہلے نہیں بدلتی — فلٹر پہلے بدلتا ہے۔ جب ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کیا دیکھیں گے، ہم یہ فیصلہ بھی کرتے ہیں کہ ہمیں کیا بننا ہے۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 224 مشاهدة
  • عنوان:
    صحرا میں زراعت کا معجزہ — اسرائیل نے بنجر زمین کو کیسے سرسبز بنایا؟ اور سندھ و تھر کیا سیکھ سکتے ہیں؟

    کچھ زمینیں ایسی ہوتی ہیں جہاں بارش کم ہوتی ہے، پانی نمکین ہوتا ہے اور گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسی زمین پر زراعت ممکن نہیں۔

    لیکن دنیا میں ایک ملک ہے جس نے یہی ناممکن کام کر دکھایا۔ اس ملک کا بڑا حصہ صحرا ہے، پھر بھی وہ وہاں سبزیاں، پھل اور فصلیں اگاتا ہے اور انہیں پوری دنیا کو برآمد بھی کرتا ہے۔

    یہ جادو نہیں، ٹیکنالوجی، عقل اور نظم کا نتیجہ ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا؟ اور کیا پاکستان خصوصاً سندھ اور تھر اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

    جواب ہے: بالکل سیکھ سکتے ہیں۔

    ⸻

    ڈرپ اریگیشن — پانی کا ایک ایک قطرہ قیمتی

    عام زراعت میں پانی کھیت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ بہہ کر ضائع بھی ہو جاتا ہے۔

    لیکن صحرا میں ایسا ممکن نہیں۔ وہاں ہر قطرہ قیمتی ہوتا ہے۔

    اس لیے انہوں نے ایک نظام بنایا جسے ڈرپ اریگیشن کہتے ہیں۔

    اس میں باریک پائپ کھیت میں بچھائے جاتے ہیں اور پانی سیدھا پودے کی جڑ تک قطرہ قطرہ پہنچتا ہے۔

    اس کے فائدے:
    • پانی کی بچت 50 سے 70 فیصد تک
    • زمین میں کم نمک جمع ہوتا ہے
    • فصل زیادہ اچھی ہوتی ہے
    • پانی ضائع نہیں ہوتا

    اگر یہی نظام تھر، بدین یا ٹھٹھہ میں استعمال ہو تو پانی کی بڑی بچت ہو سکتی ہے۔

    ⸻

    گرین ہاؤس — موسم کو قابو میں کرنا

    صحرا میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

    اس لیے وہاں کئی فصلیں گرین ہاؤس میں اگائی جاتی ہیں۔

    گرین ہاؤس ایک شفاف ڈھانچہ ہوتا ہے جہاں:
    • درجہ حرارت کنٹرول کیا جاتا ہے
    • نمی کنٹرول ہوتی ہے
    • پانی کم استعمال ہوتا ہے

    اس کے اندر ٹماٹر، کھیرے اور مرچ جیسی فصلیں بہت زیادہ مقدار میں اگائی جا سکتی ہیں۔

    ایک مثال دیکھیں:

    کھلے کھیت میں ٹماٹر کی پیداوار تقریباً
    20 سے 40 ٹن فی ہیکٹر ہوتی ہے۔

    جبکہ گرین ہاؤس میں یہی پیداوار
    200 ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

    ⸻

    گندے پانی کو صاف کر کے دوبارہ استعمال کرنا

    وہاں ایک اور حیران کن کام کیا گیا ہے۔

    شہروں کا گندا پانی ضائع نہیں کیا جاتا۔

    پہلے اسے صاف کیا جاتا ہے، پھر اسے کھیتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس طرح:
    • صاف پانی بچ جاتا ہے
    • کھیتی کو مسلسل پانی ملتا رہتا ہے
    • آلودگی بھی کم ہوتی ہے

    پاکستان میں بھی کراچی اور حیدرآباد جیسے شہروں کا پانی صاف کر کے زراعت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ⸻

    نمک برداشت کرنے والی فصلیں

    صحرا کی زمین اکثر نمکین ہوتی ہے۔

    اس لیے وہاں ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جو نمک برداشت کر سکیں۔

    مثلاً:
    • کھجور
    • زیتون
    • جو
    • کوئنوآ

    یہ فصلیں خشک اور نمکین زمین میں بھی اگ سکتی ہیں۔

    سندھ اور تھر میں بھی یہی فصلیں کامیابی سے اگائی جا سکتی ہیں۔

    ⸻

    سمندر کے پانی کو میٹھا بنانا

    کچھ جگہوں پر سمندر کے پانی کو خاص مشینوں سے میٹھا پانی بنایا جاتا ہے۔

    اس عمل کو ڈیسالینیشن کہتے ہیں۔

    یہ پانی پھر:
    • شہروں میں پینے کے لیے
    • اور کھیتوں میں زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    ⸻

    پاکستان کے لیے ایک سبق

    ہم اکثر کہتے ہیں کہ:

    زمین خراب ہے
    پانی کم ہے
    موسم سخت ہے

    لیکن اصل مسئلہ اکثر زمین یا موسم نہیں ہوتا۔

    اصل فرق سوچ، ٹیکنالوجی اور نظم کا ہوتا ہے۔

    اگر سندھ اور تھر میں:
    • ڈرپ اریگیشن
    • گرین ہاؤس
    • نمک برداشت کرنے والی فصلیں
    • اور پانی کی جدید ٹیکنالوجی

    استعمال کی جائے تو وہی زمین جو آج بنجر نظر آتی ہے، کل سبز اور زرخیز ہو سکتی ہے۔

    ⸻

    اور اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ سب کیسے ممکن ہے تو آج کے زمانے میں ایک بہت آسان راستہ بھی موجود ہے۔

    اپنے ذہن میں آنے والے سوال کو لے کر ChatGPT کھولیے، اسے بتائیے کہ آپ کی زمین کہاں ہے، پانی کیسا ہے اور آپ کیا اگانا چاہتے ہیں۔

    پھر اس سے پوچھئے:

    “میں اس زمین سے مہینے کے لاکھوں روپے کیسے کما سکتا ہوں؟”

    آپ حیران ہوں گے کہ ٹیکنالوجی اور علم کے ساتھ ناممکن بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
    عنوان: صحرا میں زراعت کا معجزہ — اسرائیل نے بنجر زمین کو کیسے سرسبز بنایا؟ اور سندھ و تھر کیا سیکھ سکتے ہیں؟ کچھ زمینیں ایسی ہوتی ہیں جہاں بارش کم ہوتی ہے، پانی نمکین ہوتا ہے اور گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسی زمین پر زراعت ممکن نہیں۔ لیکن دنیا میں ایک ملک ہے جس نے یہی ناممکن کام کر دکھایا۔ اس ملک کا بڑا حصہ صحرا ہے، پھر بھی وہ وہاں سبزیاں، پھل اور فصلیں اگاتا ہے اور انہیں پوری دنیا کو برآمد بھی کرتا ہے۔ یہ جادو نہیں، ٹیکنالوجی، عقل اور نظم کا نتیجہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا؟ اور کیا پاکستان خصوصاً سندھ اور تھر اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ جواب ہے: بالکل سیکھ سکتے ہیں۔ ⸻ 1️⃣ ڈرپ اریگیشن — پانی کا ایک ایک قطرہ قیمتی عام زراعت میں پانی کھیت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ بہہ کر ضائع بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن صحرا میں ایسا ممکن نہیں۔ وہاں ہر قطرہ قیمتی ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک نظام بنایا جسے ڈرپ اریگیشن کہتے ہیں۔ اس میں باریک پائپ کھیت میں بچھائے جاتے ہیں اور پانی سیدھا پودے کی جڑ تک قطرہ قطرہ پہنچتا ہے۔ اس کے فائدے: • پانی کی بچت 50 سے 70 فیصد تک • زمین میں کم نمک جمع ہوتا ہے • فصل زیادہ اچھی ہوتی ہے • پانی ضائع نہیں ہوتا اگر یہی نظام تھر، بدین یا ٹھٹھہ میں استعمال ہو تو پانی کی بڑی بچت ہو سکتی ہے۔ ⸻ 2️⃣ گرین ہاؤس — موسم کو قابو میں کرنا صحرا میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں کئی فصلیں گرین ہاؤس میں اگائی جاتی ہیں۔ گرین ہاؤس ایک شفاف ڈھانچہ ہوتا ہے جہاں: • درجہ حرارت کنٹرول کیا جاتا ہے • نمی کنٹرول ہوتی ہے • پانی کم استعمال ہوتا ہے اس کے اندر ٹماٹر، کھیرے اور مرچ جیسی فصلیں بہت زیادہ مقدار میں اگائی جا سکتی ہیں۔ ایک مثال دیکھیں: کھلے کھیت میں ٹماٹر کی پیداوار تقریباً 20 سے 40 ٹن فی ہیکٹر ہوتی ہے۔ جبکہ گرین ہاؤس میں یہی پیداوار 200 ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ ⸻ 3️⃣ گندے پانی کو صاف کر کے دوبارہ استعمال کرنا وہاں ایک اور حیران کن کام کیا گیا ہے۔ شہروں کا گندا پانی ضائع نہیں کیا جاتا۔ پہلے اسے صاف کیا جاتا ہے، پھر اسے کھیتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح: • صاف پانی بچ جاتا ہے • کھیتی کو مسلسل پانی ملتا رہتا ہے • آلودگی بھی کم ہوتی ہے پاکستان میں بھی کراچی اور حیدرآباد جیسے شہروں کا پانی صاف کر کے زراعت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ⸻ 4️⃣ نمک برداشت کرنے والی فصلیں صحرا کی زمین اکثر نمکین ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جو نمک برداشت کر سکیں۔ مثلاً: • کھجور • زیتون • جو • کوئنوآ یہ فصلیں خشک اور نمکین زمین میں بھی اگ سکتی ہیں۔ سندھ اور تھر میں بھی یہی فصلیں کامیابی سے اگائی جا سکتی ہیں۔ ⸻ 5️⃣ سمندر کے پانی کو میٹھا بنانا کچھ جگہوں پر سمندر کے پانی کو خاص مشینوں سے میٹھا پانی بنایا جاتا ہے۔ اس عمل کو ڈیسالینیشن کہتے ہیں۔ یہ پانی پھر: • شہروں میں پینے کے لیے • اور کھیتوں میں زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ⸻ پاکستان کے لیے ایک سبق ہم اکثر کہتے ہیں کہ: زمین خراب ہے پانی کم ہے موسم سخت ہے لیکن اصل مسئلہ اکثر زمین یا موسم نہیں ہوتا۔ اصل فرق سوچ، ٹیکنالوجی اور نظم کا ہوتا ہے۔ اگر سندھ اور تھر میں: • ڈرپ اریگیشن • گرین ہاؤس • نمک برداشت کرنے والی فصلیں • اور پانی کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو وہی زمین جو آج بنجر نظر آتی ہے، کل سبز اور زرخیز ہو سکتی ہے۔ ⸻ اور اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ سب کیسے ممکن ہے تو آج کے زمانے میں ایک بہت آسان راستہ بھی موجود ہے۔ اپنے ذہن میں آنے والے سوال کو لے کر ChatGPT کھولیے، اسے بتائیے کہ آپ کی زمین کہاں ہے، پانی کیسا ہے اور آپ کیا اگانا چاہتے ہیں۔ پھر اس سے پوچھئے: “میں اس زمین سے مہینے کے لاکھوں روپے کیسے کما سکتا ہوں؟” آپ حیران ہوں گے کہ ٹیکنالوجی اور علم کے ساتھ ناممکن بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 493 مشاهدة
  • لفظ “ڈگری” ہم روزانہ سنتے ہیں — اسکول میں، موسم کے بارے میں، یا ریاضی میں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ لفظ آیا کہاں سے ہے؟

    “ڈگری” دراصل ایک لاطینی لفظ gradus سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “قدم” یا “درجہ”۔ یعنی ایک قدم سے دوسرے قدم تک آگے بڑھنا۔ بعد میں یہ لفظ فرانسیسی زبان میں degré بنا، اور پھر انگریزی میں “degree” ہو گیا۔

    اصل میں اس لفظ کے پیچھے ایک بہت سادہ اور خوبصورت خیال ہے:
    زندگی میں ہر چیز قدم بہ قدم آگے بڑھتی ہے۔

    اسی لیے ہم کہتے ہیں:

    * تعلیمی ڈگری — یعنی تعلیم کا ایک درجہ، ایک منزل
    * درجہ حرارت — یعنی گرمی یا سردی کی سطح
    * زاویہ (angle) — یعنی گھومنے کا ایک پیمانہ

    ہر جگہ “ڈگری” کا مطلب ایک ہی ہے:
    کتنے قدم آگے بڑھے؟ کس سطح پر پہنچے؟

    یہ لفظ ہمیں ایک بڑی بات سکھاتا ہے:
    زندگی میں کامیابی ایک دم نہیں آتی، بلکہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے ملتی ہے۔

    اگر آپ روز ایک قدم آگے بڑھتے رہیں — سیکھنے میں، کام میں، یا اپنے رویے میں — تو ایک دن آپ بہت بڑی “ڈگری” حاصل کر لیتے ہیں، چاہے وہ کاغذ پر ہو یا زندگی میں۔

    تو آج سے یاد رکھیں:
    ڈگری صرف کاغذ نہیں، یہ آپ کے مسلسل قدموں کی کہانی ہے۔
    لفظ “ڈگری” ہم روزانہ سنتے ہیں — اسکول میں، موسم کے بارے میں، یا ریاضی میں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ لفظ آیا کہاں سے ہے؟ “ڈگری” دراصل ایک لاطینی لفظ gradus سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “قدم” یا “درجہ”۔ یعنی ایک قدم سے دوسرے قدم تک آگے بڑھنا۔ بعد میں یہ لفظ فرانسیسی زبان میں degré بنا، اور پھر انگریزی میں “degree” ہو گیا۔ اصل میں اس لفظ کے پیچھے ایک بہت سادہ اور خوبصورت خیال ہے: زندگی میں ہر چیز قدم بہ قدم آگے بڑھتی ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں: * تعلیمی ڈگری — یعنی تعلیم کا ایک درجہ، ایک منزل * درجہ حرارت — یعنی گرمی یا سردی کی سطح * زاویہ (angle) — یعنی گھومنے کا ایک پیمانہ ہر جگہ “ڈگری” کا مطلب ایک ہی ہے: کتنے قدم آگے بڑھے؟ کس سطح پر پہنچے؟ یہ لفظ ہمیں ایک بڑی بات سکھاتا ہے: زندگی میں کامیابی ایک دم نہیں آتی، بلکہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے ملتی ہے۔ اگر آپ روز ایک قدم آگے بڑھتے رہیں — سیکھنے میں، کام میں، یا اپنے رویے میں — تو ایک دن آپ بہت بڑی “ڈگری” حاصل کر لیتے ہیں، چاہے وہ کاغذ پر ہو یا زندگی میں۔ تو آج سے یاد رکھیں: ڈگری صرف کاغذ نہیں، یہ آپ کے مسلسل قدموں کی کہانی ہے۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 141 مشاهدة
  • ٹھنڈا نہیں… نارمل پانی پیجیے!

    آیوروید اور جدید سائنس دونوں اس عادت کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟

    ہم میں سے اکثر لوگ گرمی لگتے ہی فریج کھولتے ہیں، برف سے بھرا ہوا گلاس نکالتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی صحت مند طریقہ ہے۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا…

    قدیم چین، جاپان، عرب دنیا، برصغیر، اور خاص طور پر آیوروید میں ہزاروں سال سے لوگوں کو نارمل یا نیم گرم پانی پینے کی تلقین کیوں کی جاتی رہی ہے؟

    کیا یہ صرف روایت تھی؟

    یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی منطق بھی موجود ہے؟

    آیوروید کیا کہتا ہے؟

    آیوروید، جو تقریباً 3,000 سال پرانا روایتی طبی نظام ہے، جسم کو ایک زندہ اور متوازن نظام سمجھتا ہے۔

    اس کے مطابق ہر انسان کے جسم میں ایک “ہاضمے کی آگ” ہوتی ہے، جسے اگنی (Agni) کہا جاتا ہے۔

    آیوروید کے مطابق:

    * نارمل یا نیم گرم پانی اگنی کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
    * بہت زیادہ ٹھنڈا پانی اس ہاضمے کی طاقت کو عارضی طور پر کمزور کر سکتا ہے، جس سے بعض لوگوں میں کھانا بھاری محسوس ہو سکتا ہے۔

    یہ بات جدید سائنس کے الفاظ میں یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ ہاضمہ جسم کے درجۂ حرارت پر بہتر کام کرتا ہے، اور بہت ٹھنڈے مشروبات کچھ افراد میں وقتی طور پر معدے کی حرکت یا آرام دہ احساس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس بارے میں سائنسی شواہد محدود ہیں اور یہ اثر ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتا۔

    ⸻

    جدید سائنس کیا کہتی ہے؟

    ہمارا جسم تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر کام کرتا ہے۔

    جب آپ نارمل پانی پیتے ہیں تو جسم اسے آسانی سے استعمال کر لیتا ہے۔

    جبکہ برف جیسا ٹھنڈا پانی پہلے جسم کے درجۂ حرارت کے قریب لایا جاتا ہے۔ یہ کوئی خطرناک عمل نہیں، لیکن جسم کے لیے ایک اضافی مرحلہ ضرور ہوتا ہے۔

    ⸻

    ہاضمہ بہتر رہتا ہے

    آپ کا معدہ ایک چھوٹی سی لیبارٹری ہے۔

    یہ ہر وقت تیزاب اور انزائمز کی مدد سے کھانے کو توانائی میں تبدیل کر رہا ہوتا ہے۔

    نارمل پانی اس قدرتی عمل کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے۔

    اسی لیے بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ:

    ✔ کھانا آسانی سے ہضم ہوتا ہے۔

    ✔ پیٹ بھاری نہیں لگتا۔

    ✔ قبض میں کمی آتی ہے۔

    ✔ معدہ زیادہ آرام دہ محسوس کرتا ہے۔

    ⸻

    گلے کو سکون دیتا ہے

    جب نزلہ، زکام یا گلے میں درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر اکثر نیم گرم یا نارمل مشروبات پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ گرم یا نیم گرم مائعات گلے کو سکون پہنچا سکتے ہیں اور بلغم کو پتلا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

    ⸻

    دانت بھی خوش رہتے ہیں

    اگر آپ نے کبھی آئس کریم یا برف والا پانی پیتے ہوئے دانت میں اچانک درد محسوس کیا ہو، تو آپ جانتے ہیں کہ ٹھنڈا پانی حساس دانتوں کے اعصاب کو متحرک کر سکتا ہے۔

    نارمل پانی یہ تکلیف پیدا نہیں کرتا۔

    ⸻

    رات کو زیادہ سکون

    بہت سے لوگ سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم یا نارمل پانی پیتے ہیں۔

    یہ ایک پرسکون عادت بن سکتی ہے جو جسم کو آرام کا احساس دلاتی ہے۔

    ⸻

    کیا ٹھنڈا پانی نقصان دہ ہے؟

    یہاں ایک اہم حقیقت جاننا ضروری ہے۔

    جدید سائنس یہ نہیں کہتی کہ ہر ٹھنڈا پانی خطرناک ہے۔

    زیادہ تر صحت مند لوگوں کے لیے ٹھنڈا پانی پینا محفوظ ہے۔

    البتہ بعض افراد میں یہ وقتی طور پر:

    * معدے میں بے آرامی،
    * تیزابیت یا ریفلوکس،
    * گلے کی تکلیف،
    * دانتوں کی حساسیت،
    * یا “برین فریز” (اچانک سر درد)

    کا سبب بن سکتا ہے۔

    اسی لیے بہت سے لوگ روزمرہ زندگی میں نارمل یا نیم گرم پانی کو زیادہ آرام دہ انتخاب سمجھتے ہیں۔

    ⸻

    اصل سبق

    آیوروید ہمیں جسم کے توازن کی اہمیت سکھاتا ہے۔

    جدید سائنس ہمیں جسم کے درجۂ حرارت، ہاضمے اور پانی کی ضرورت کو سمجھاتی ہے۔

    دونوں ایک بات پر متفق نظر آتے ہیں:

    پانی ضرور پیجیے… اور اگر انتخاب آپ کے ہاتھ میں ہو تو نارمل یا نیم گرم پانی اکثر ایک بہتر اور زیادہ آرام دہ انتخاب ہے۔

    شاید اسی لیے ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے:

    “فریج کا نہیں… مٹکے کا پانی پیو۔”

    ہو سکتا ہے ان کے پاس جدید لیبارٹریاں نہ تھیں…

    مگر ان کے پاس نسلوں کا مشاہدہ ضرور تھا۔
    ٹھنڈا نہیں… نارمل پانی پیجیے! آیوروید اور جدید سائنس دونوں اس عادت کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ ہم میں سے اکثر لوگ گرمی لگتے ہی فریج کھولتے ہیں، برف سے بھرا ہوا گلاس نکالتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی صحت مند طریقہ ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا… قدیم چین، جاپان، عرب دنیا، برصغیر، اور خاص طور پر آیوروید میں ہزاروں سال سے لوگوں کو نارمل یا نیم گرم پانی پینے کی تلقین کیوں کی جاتی رہی ہے؟ کیا یہ صرف روایت تھی؟ یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی منطق بھی موجود ہے؟ آیوروید کیا کہتا ہے؟ آیوروید، جو تقریباً 3,000 سال پرانا روایتی طبی نظام ہے، جسم کو ایک زندہ اور متوازن نظام سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق ہر انسان کے جسم میں ایک “ہاضمے کی آگ” ہوتی ہے، جسے اگنی (Agni) کہا جاتا ہے۔ آیوروید کے مطابق: * نارمل یا نیم گرم پانی اگنی کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ * بہت زیادہ ٹھنڈا پانی اس ہاضمے کی طاقت کو عارضی طور پر کمزور کر سکتا ہے، جس سے بعض لوگوں میں کھانا بھاری محسوس ہو سکتا ہے۔ یہ بات جدید سائنس کے الفاظ میں یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ ہاضمہ جسم کے درجۂ حرارت پر بہتر کام کرتا ہے، اور بہت ٹھنڈے مشروبات کچھ افراد میں وقتی طور پر معدے کی حرکت یا آرام دہ احساس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس بارے میں سائنسی شواہد محدود ہیں اور یہ اثر ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتا۔ ⸻ جدید سائنس کیا کہتی ہے؟ ہمارا جسم تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر کام کرتا ہے۔ جب آپ نارمل پانی پیتے ہیں تو جسم اسے آسانی سے استعمال کر لیتا ہے۔ جبکہ برف جیسا ٹھنڈا پانی پہلے جسم کے درجۂ حرارت کے قریب لایا جاتا ہے۔ یہ کوئی خطرناک عمل نہیں، لیکن جسم کے لیے ایک اضافی مرحلہ ضرور ہوتا ہے۔ ⸻ ہاضمہ بہتر رہتا ہے آپ کا معدہ ایک چھوٹی سی لیبارٹری ہے۔ یہ ہر وقت تیزاب اور انزائمز کی مدد سے کھانے کو توانائی میں تبدیل کر رہا ہوتا ہے۔ نارمل پانی اس قدرتی عمل کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ: ✔ کھانا آسانی سے ہضم ہوتا ہے۔ ✔ پیٹ بھاری نہیں لگتا۔ ✔ قبض میں کمی آتی ہے۔ ✔ معدہ زیادہ آرام دہ محسوس کرتا ہے۔ ⸻ گلے کو سکون دیتا ہے جب نزلہ، زکام یا گلے میں درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر اکثر نیم گرم یا نارمل مشروبات پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرم یا نیم گرم مائعات گلے کو سکون پہنچا سکتے ہیں اور بلغم کو پتلا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ⸻ دانت بھی خوش رہتے ہیں اگر آپ نے کبھی آئس کریم یا برف والا پانی پیتے ہوئے دانت میں اچانک درد محسوس کیا ہو، تو آپ جانتے ہیں کہ ٹھنڈا پانی حساس دانتوں کے اعصاب کو متحرک کر سکتا ہے۔ نارمل پانی یہ تکلیف پیدا نہیں کرتا۔ ⸻ رات کو زیادہ سکون بہت سے لوگ سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم یا نارمل پانی پیتے ہیں۔ یہ ایک پرسکون عادت بن سکتی ہے جو جسم کو آرام کا احساس دلاتی ہے۔ ⸻ کیا ٹھنڈا پانی نقصان دہ ہے؟ یہاں ایک اہم حقیقت جاننا ضروری ہے۔ جدید سائنس یہ نہیں کہتی کہ ہر ٹھنڈا پانی خطرناک ہے۔ زیادہ تر صحت مند لوگوں کے لیے ٹھنڈا پانی پینا محفوظ ہے۔ البتہ بعض افراد میں یہ وقتی طور پر: * معدے میں بے آرامی، * تیزابیت یا ریفلوکس، * گلے کی تکلیف، * دانتوں کی حساسیت، * یا “برین فریز” (اچانک سر درد) کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ روزمرہ زندگی میں نارمل یا نیم گرم پانی کو زیادہ آرام دہ انتخاب سمجھتے ہیں۔ ⸻ اصل سبق آیوروید ہمیں جسم کے توازن کی اہمیت سکھاتا ہے۔ جدید سائنس ہمیں جسم کے درجۂ حرارت، ہاضمے اور پانی کی ضرورت کو سمجھاتی ہے۔ دونوں ایک بات پر متفق نظر آتے ہیں: پانی ضرور پیجیے… اور اگر انتخاب آپ کے ہاتھ میں ہو تو نارمل یا نیم گرم پانی اکثر ایک بہتر اور زیادہ آرام دہ انتخاب ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے: “فریج کا نہیں… مٹکے کا پانی پیو۔” ہو سکتا ہے ان کے پاس جدید لیبارٹریاں نہ تھیں… مگر ان کے پاس نسلوں کا مشاہدہ ضرور تھا۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 376 مشاهدة
  • #کراچی:#موسمی_صورتحال
    #اگلے_چار_پانچ_دن #سخت_گرمی کا امکان

    اب #درجہ_حرارت 40 سے 45 ڈگری تک روز پہنچ رھا ھے
    جو کہ مزید چار، پانچ دن بڑھتا رہے گا اس لئے اس بارے
    میں کُچھ معلومات فراہم کرنا چاہ رھا ھوں۔

    انسانی جسم کا درجہ حرارت 41 ڈگری پر پہنچ جائے تو موت واقع ہونے کے امکانات %90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ (موسمی درجہ حرارت نہیں انسانی جسم کا درجہ حرارت) اسی لئے شدید گرمی سے بزرگ لوگ بہت زیادہ متاثر ھوتے ھیں۔ لہذا بہتر ھے کے انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے ۔

    #احتیاط :-
    گوشت ، انڈہ ، اچار ، کوک ، پیسی ، تیز مرچ مصالحے ، پالک ، میتھی وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں
    کالا ، نیلا ، لال ، میرون ، جامنی اور گہرے رنگ والے کپڑے پہننے سے پرہیز کریں
    انتہائی گرمی کے اوقات صبح 9 سے شام 6 بجے تک بلا ضروری سفر نا کریں
    نمک کا کم سے کم استمعال کریں
    کالے رنگ کے اور مکمل بند جوتے کم سے کم پہنیں

    #کرنے_والے_کام :-

    کدو ، ٹینڈے ، اروی ، گھیا توری ، پیٹھا ، مولی ، کھیرا ، دودھ ، دیسی گھی ، شربت بزوری ، بلنگو اور شربت بادام پھلوں میں تربوز ، کیلا , خوبانی اور خربوزے کا استمعال کریں ۔

    سفید ، گلابی ، سبز اور ہلکے رنگ کے کپڑوں کا استمعال کریں
    گھر سے نکلتے وقت گیلا تولیہ ضرور ساتھ رکھیں ۔ ممکن ہو تو سر اور گردن کسی کپڑے سے ضرور ڈھانپیں اور عینک کا استمعال بھی کریں ۔

    سونف اور الائچی کا قہوہ گرمی کا بہترین توڑ ھے
    املی اور آلو بخارے کا زلال پیاس کی شدت کو انتہائی کم کر دیتا ھے
    پانی جس قدر ممکن ہو پئیں ۔ ٹھنڈے پانی سے بجائے گھڑے کا پانی استمعال کریں۔ پیاس کی شدت کنٹرول میں رہتی ہے۔

    جتنی بار ممکن ہو دن میں غسل کریں
    ہوا دار جوتا پہنیں جو کالے رنگ کا نا ھو

    درخت لگائیں جو نہ صرف موجودہ گرمی کو کم کریں گے ۔ بلکہ سردی میں پڑنے والی سموگ کا بھی توڑ ہیں ۔

    *خُدا وند عالم، ھم سب پر اپنی خاص رحمتوں و نعمتوں کا سلسلہ جاری و ساری رکھے*
    آمیـــــــــن ثم آمیـــــــــن یا رب العالمین

    Via Nadir Qureshi
    #کراچی:#موسمی_صورتحال #اگلے_چار_پانچ_دن #سخت_گرمی کا امکان اب #درجہ_حرارت 40 سے 45 ڈگری تک روز پہنچ رھا ھے جو کہ مزید چار، پانچ دن بڑھتا رہے گا اس لئے اس بارے میں کُچھ معلومات فراہم کرنا چاہ رھا ھوں۔ انسانی جسم کا درجہ حرارت 41 ڈگری پر پہنچ جائے تو موت واقع ہونے کے امکانات %90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ (موسمی درجہ حرارت نہیں انسانی جسم کا درجہ حرارت) اسی لئے شدید گرمی سے بزرگ لوگ بہت زیادہ متاثر ھوتے ھیں۔ لہذا بہتر ھے کے انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے ۔ #احتیاط :- گوشت ، انڈہ ، اچار ، کوک ، پیسی ، تیز مرچ مصالحے ، پالک ، میتھی وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں کالا ، نیلا ، لال ، میرون ، جامنی اور گہرے رنگ والے کپڑے پہننے سے پرہیز کریں انتہائی گرمی کے اوقات صبح 9 سے شام 6 بجے تک بلا ضروری سفر نا کریں نمک کا کم سے کم استمعال کریں کالے رنگ کے اور مکمل بند جوتے کم سے کم پہنیں #کرنے_والے_کام :- کدو ، ٹینڈے ، اروی ، گھیا توری ، پیٹھا ، مولی ، کھیرا ، دودھ ، دیسی گھی ، شربت بزوری ، بلنگو اور شربت بادام پھلوں میں تربوز ، کیلا , خوبانی اور خربوزے کا استمعال کریں ۔ سفید ، گلابی ، سبز اور ہلکے رنگ کے کپڑوں کا استمعال کریں گھر سے نکلتے وقت گیلا تولیہ ضرور ساتھ رکھیں ۔ ممکن ہو تو سر اور گردن کسی کپڑے سے ضرور ڈھانپیں اور عینک کا استمعال بھی کریں ۔ سونف اور الائچی کا قہوہ گرمی کا بہترین توڑ ھے املی اور آلو بخارے کا زلال پیاس کی شدت کو انتہائی کم کر دیتا ھے پانی جس قدر ممکن ہو پئیں ۔ ٹھنڈے پانی سے بجائے گھڑے کا پانی استمعال کریں۔ پیاس کی شدت کنٹرول میں رہتی ہے۔ جتنی بار ممکن ہو دن میں غسل کریں ہوا دار جوتا پہنیں جو کالے رنگ کا نا ھو درخت لگائیں جو نہ صرف موجودہ گرمی کو کم کریں گے ۔ بلکہ سردی میں پڑنے والی سموگ کا بھی توڑ ہیں ۔ *خُدا وند عالم، ھم سب پر اپنی خاص رحمتوں و نعمتوں کا سلسلہ جاری و ساری رکھے* آمیـــــــــن ثم آمیـــــــــن یا رب العالمین Via Nadir Qureshi
    0 التعليقات 0 المشاركات 401 مشاهدة
  • اصلی نسلی اور عقلی کراچی والے غور سے اس تحریر کو ضرور پڑھیں

    ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
    جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول اور حالات کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
    بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔
    یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
    "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
    سوچیئے!
    میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
    مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
    یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
    مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
    لیکن،
    سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا اور برداشت کرتا رہا۔۔۔
    ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہےبہت سے غلط فیصلوں اور نا انصافیوں اور ظلم کوسہتے رہنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق اور کب حالات ک ہی بدلنے کی کوشش کرنا ہے ۔۔۔۔
    اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی و معاشی روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
    اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔۔اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔
    منقول از میری کہانی تماری زبانی
    اعظم جان بلوچ

    Via Azam Jan Baloch
    اصلی نسلی اور عقلی کراچی والے غور سے اس تحریر کو ضرور پڑھیں ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔ جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول اور حالات کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے "وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟" سوچیئے! میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔ لیکن، سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا اور برداشت کرتا رہا۔۔۔ ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہےبہت سے غلط فیصلوں اور نا انصافیوں اور ظلم کوسہتے رہنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق اور کب حالات ک ہی بدلنے کی کوشش کرنا ہے ۔۔۔۔ اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی و معاشی روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔۔اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔ منقول از میری کہانی تماری زبانی اعظم جان بلوچ Via Azam Jan Baloch
    0 التعليقات 0 المشاركات 149 مشاهدة
الصفحات المعززة