• #rsisb
    Roll No.240
    Story No.38
    Level One

    کیا ہوتا ہے جب ایک ذہین اور حاضر جواب شخص کو سلطان کی طرف سے ایک جادوئی آئینہ ملتا ہے؟ جاننے کے لیے ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی پڑھیے، جس میں وہ اپنی عقل، سمجھ داری اور حاضر جوابی سے ایک مشکل مسئلہ حل کرتے ہیں۔

    یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مسئلے کو طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ بعض اوقات صبر، ایمانداری اور عقل مندی سب سے بہترین راستہ ہوتے ہیں۔

    اپنے خاندان کے ساتھ اس مزے دار کہانی سے لطف اٹھائیں اور ملا نصرالدین کی دانائی سے سبق سیکھیں۔

    سبق: اصل طاقت جادو میں نہیں بلکہ عقل مندی اور سمجھ داری میں ہوتی ہے۔

    #ملا_نصرالدین #اردو_کہانی #سبق_آموز_کہانی #جادوئی_آئینہ #بچوں_کی_کہانیاں #مزاحیہ_کہانیاں #دانائی #عقل_مندی #اردو_کہانیاں

    Rehan School Islamabad Campus
    Asma Shaheen EducationWali
    Irum Asim Leadershipwali
    Saima Empowerment Wali

    #rsisb Roll No.240 Story No.38 Level One کیا ہوتا ہے جب ایک ذہین اور حاضر جواب شخص کو سلطان کی طرف سے ایک جادوئی آئینہ ملتا ہے؟ 🤔✨ جاننے کے لیے ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی پڑھیے، جس میں وہ اپنی عقل، سمجھ داری اور حاضر جوابی سے ایک مشکل مسئلہ حل کرتے ہیں۔ یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مسئلے کو طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ بعض اوقات صبر، ایمانداری اور عقل مندی سب سے بہترین راستہ ہوتے ہیں۔ 🧠💡 اپنے خاندان کے ساتھ اس مزے دار کہانی سے لطف اٹھائیں اور ملا نصرالدین کی دانائی سے سبق سیکھیں۔ ❤️📚 سبق: اصل طاقت جادو میں نہیں بلکہ عقل مندی اور سمجھ داری میں ہوتی ہے۔ 🌟 #ملا_نصرالدین #اردو_کہانی #سبق_آموز_کہانی #جادوئی_آئینہ #بچوں_کی_کہانیاں #مزاحیہ_کہانیاں #دانائی #عقل_مندی #اردو_کہانیاں 🪞✨📖👑 Rehan School Islamabad Campus Asma Shaheen EducationWali Irum Asim Leadershipwali Saima Empowerment Wali
    0 Comments 0 Shares 390 Views
  • Story Post: 64
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:05:26


    ‍ ملا نصرالدین اور سلطان کو قانون بدلنے پر آمادہ کرنا

    ایک دن سلطان نے شہر کے لیے ایک ایسا قانون بنایا جو لوگوں کے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ ملا نصرالدین نے صورتحال کو سمجھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی حاضر جوابی اور دانشمندی سے سلطان کو اس قانون پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کریں گے۔

    ملا نصرالدین نے سلطان کے سامنے ایک ایسا منفرد انداز اختیار کیا کہ دربار میں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ اپنی دلیل، ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سلطان کو یہ احساس دلایا کہ اچھا قانون وہی ہے جو انصاف اور عوام کی بھلائی کو سامنے رکھے۔

    اس کہانی سے سبق:
    انصاف ہمیشہ اہمیت رکھتا ہے۔
    اچھی دلیل مشکل فیصلے بدل سکتی ہے۔
    عوام کی بھلائی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
    سمجھداری اور حکمت سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

    ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، حوصلے اور دانشمندانہ گفتگو کے ذریعے بڑی سے بڑی بات بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔ ‍

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Law #قانون #Justice #انصاف #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    Story Post: 64 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:05:26 👑🧔‍♂️ ملا نصرالدین اور سلطان کو قانون بدلنے پر آمادہ کرنا ⚖️✨ ایک دن سلطان نے شہر کے لیے ایک ایسا قانون بنایا جو لوگوں کے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ 👑📜😟 ملا نصرالدین نے صورتحال کو سمجھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنی حاضر جوابی اور دانشمندی سے سلطان کو اس قانون پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کریں گے۔ 🧠💡 ملا نصرالدین نے سلطان کے سامنے ایک ایسا منفرد انداز اختیار کیا کہ دربار میں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ 😄😲 اپنی دلیل، ذہانت اور مزاح کے ذریعے ملا نے سلطان کو یہ احساس دلایا کہ اچھا قانون وہی ہے جو انصاف اور عوام کی بھلائی کو سامنے رکھے۔ ⚖️❤️ 🌟 اس کہانی سے سبق: ⚖️ انصاف ہمیشہ اہمیت رکھتا ہے۔ 🧠 اچھی دلیل مشکل فیصلے بدل سکتی ہے۔ 🤝 عوام کی بھلائی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ 💡 سمجھداری اور حکمت سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ 📖 ملا نصرالدین کی یہ دلچسپ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل، حوصلے اور دانشمندانہ گفتگو کے ذریعے بڑی سے بڑی بات بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔ 🧔‍♂️👑✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Law #قانون #Justice #انصاف #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    0 Comments 0 Shares 174 Views
  • Story Post: 63
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 10:05:26


    ‍ ملا نصرالدین اور سلطان کا چیلنج

    ایک دن سلطان نے ملا نصرالدین کو ایک مشکل چیلنج دے دیا۔ سلطان کو یقین تھا کہ یہ کام ملا نصرالدین کے لیے آسان نہیں ہوگا، لیکن ملا نے گھبرانے کے بجائے اپنی حاضر جوابی، ذہانت اور اعتماد سے چیلنج قبول کر لیا۔

    اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے سلطان اور دربار میں موجود سب لوگوں کو حیران کر دیا۔ ملا نصرالدین نے اپنے منفرد انداز سے ایسا جواب دیا کہ مشکل صورتحال بھی ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعے میں بدل گئی۔

    اس کہانی سے سبق:
    مشکل چیلنجز سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
    عقل اور حاضر جوابی مشکل حالات میں مدد دیتی ہے۔
    اعتماد کے ساتھ مسئلے کا سامنا کریں۔
    کبھی کبھی بہترین جواب وہ ہوتا ہے جو سب کو حیران کر دے۔

    ملا نصرالدین کی یہ مزاحیہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ذہانت، حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ بڑے سے بڑا چیلنج بھی آسان بنایا جا سکتا ہے۔ ‍

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #Challenge #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    Story Post: 63 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 10:05:26 👑🧔‍♂️ ملا نصرالدین اور سلطان کا چیلنج 🏆✨ ایک دن سلطان نے ملا نصرالدین کو ایک مشکل چیلنج دے دیا۔ 👑🤔 سلطان کو یقین تھا کہ یہ کام ملا نصرالدین کے لیے آسان نہیں ہوگا، لیکن ملا نے گھبرانے کے بجائے اپنی حاضر جوابی، ذہانت اور اعتماد سے چیلنج قبول کر لیا۔ 🧠💪😄 اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے سلطان اور دربار میں موجود سب لوگوں کو حیران کر دیا۔ 😂😲 ملا نصرالدین نے اپنے منفرد انداز سے ایسا جواب دیا کہ مشکل صورتحال بھی ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعے میں بدل گئی۔ 📖✨ 🌟 اس کہانی سے سبق: 💪 مشکل چیلنجز سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ 🧠 عقل اور حاضر جوابی مشکل حالات میں مدد دیتی ہے۔ 🎯 اعتماد کے ساتھ مسئلے کا سامنا کریں۔ 😄 کبھی کبھی بہترین جواب وہ ہوتا ہے جو سب کو حیران کر دے۔ 👑 ملا نصرالدین کی یہ مزاحیہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ذہانت، حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ بڑے سے بڑا چیلنج بھی آسان بنایا جا سکتا ہے۔ 🧔‍♂️🧠✨ #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #Sultan #سلطان #Wisdom #HazarJawabi #Cleverness #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #Challenge #FunnyKahani #Learning #InterestingStories
    0 Comments 0 Shares 143 Views
  • Story Post : 53
    Book A : Level 1
    RSISB Rollno 209
    Date 9:30:26


    ملا نصرالدین اور سلطان کا جادوئی آئینہ

    ایک دن سلطان ملا نصرالدین کو ایک پراسرار جادوئی آئینہ دیتے ہیں۔ جب ملا نصرالدین ایک مشکل مسئلے میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اس آئینے کو استعمال کرتے ہیں، لیکن اصل حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ان کی عقل، حاضر جوابی اور منفرد انداز سے مسئلہ حل ہونے لگتا ہے!

    یہ دلچسپ اردو کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی مشکل صورتحال میں صرف کسی جادوئی چیز پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی عقل، سمجھ داری اور حاضر دماغی کو استعمال کرنا چاہیے۔

    اس کہانی سے سبق:
    عقل مشکل مسئلے کا بہترین حل تلاش کر سکتی ہے۔
    ہر راز کے پیچھے ایک دلچسپ حقیقت ہو سکتی ہے۔
    مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
    مزاح اور ذہانت زندگی کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔

    ایک جادوئی آئینہ، ایک مشکل مسئلہ، اور ملا نصرالدین کی زبردست حاضر جوابی!

    #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #HazarJawabi #Wisdom #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #MagicalMirror #Sultan #Cleverness #Comedy #Learning #InterestingStories
    Story Post : 53 Book A : Level 1 RSISB Rollno 209 Date 9:30:26 🪞✨ ملا نصرالدین اور سلطان کا جادوئی آئینہ 👑🧠 ایک دن سلطان ملا نصرالدین کو ایک پراسرار جادوئی آئینہ دیتے ہیں۔ 🪞✨ جب ملا نصرالدین ایک مشکل مسئلے میں پھنس جاتے ہیں تو وہ اس آئینے کو استعمال کرتے ہیں، لیکن اصل حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ان کی عقل، حاضر جوابی اور منفرد انداز سے مسئلہ حل ہونے لگتا ہے! 😄🔍 یہ دلچسپ اردو کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی مشکل صورتحال میں صرف کسی جادوئی چیز پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی عقل، سمجھ داری اور حاضر دماغی کو استعمال کرنا چاہیے۔ 🧠💡 🌟 اس کہانی سے سبق: 🧠 عقل مشکل مسئلے کا بہترین حل تلاش کر سکتی ہے۔ ✨ ہر راز کے پیچھے ایک دلچسپ حقیقت ہو سکتی ہے۔ 🤔 مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ 😊 مزاح اور ذہانت زندگی کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔ 📖 ایک جادوئی آئینہ، ایک مشکل مسئلہ، اور ملا نصرالدین کی زبردست حاضر جوابی! 👑🪞😂 #MullaNasruddin #ملا_نصرالدین #UrduStory #UrduKahani #FunnyStory #MoralStory #Storytelling #HazarJawabi #Wisdom #Intelligence #LifeLessons #UrduLiterature #DesiStories #MagicalMirror #Sultan #Cleverness #Comedy #Learning #InterestingStories
    0 Comments 0 Shares 1020 Views
  • محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا

    تحریر۔ عارف الحق عارف

    اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ

    جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔

    محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔

    سیدھا سادھا بھولا بھالا۔
    محمود احمد اللہ والا

    پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔

    محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔

    محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
    محمود احمد اللہ والا ، اللہ کے پاس چلا گیا تحریر۔ عارف الحق عارف اسلامی جمیعت طلبہ کی وسیع و عریض کہکشاں کا درخشاں ستارہ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا محمود احمد اللہ والا ہم سے بہت جونیئر تھا اور وہ جمیعت سے ہماری فراغت کے ۸ سال بعد ۱۹۷۶ میں ایک ایسے دور میں اسلامی جمیعت طلبہ کے نامزد امید وار کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا جب ہمارے اپنوں کی لغزشوں اور مستیوں کی وجہ سے جمیعت کی مقبولیت کا گراف کافی گر گیا تھا اور ۱۹۷۵ کے انتخابات میں اس کا فائدہ لبرل پینل نے اٹھایا تھا اور سردار رحیم صدر منتخب ہوئے تھے۔سردار رحیم وہی ہیں جو با بی کیو ٹو نائٹ کے مالک اور ہمارے دوست ہیں اور اب تک ان سے بردارانہ رابطہ ہے۔ محمود احمد اللہ والا کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ بڑا کم گو اور صالح نوجوان ہے اور اس کو لیڈر بننے یا کسی انتخاب میں کسی بھی عہدے کےلئے امیدوار تک بننے کی کوئی تمنا ہے اور نا کوئی شوق ۔وہ اس کو بھاری ذمہ داری سمجھتا اور جانتا تھا اور کسی بھی عہدے کےلئے امیدواری کو نااہلیت سمجھتا تھا۔جمیعت کے اس وقت کے کچھ ساتھیوں کے مطابق جب جمیعت نے اس کو صدارتی امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کو اس سے آگاہ کیا گیا تو اس نے یہ فیصلہ اس بنا پر قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ وہ اس عہدے کی ذمہ دار یوں کا بوجھ برداداشت نہیں کر سکتا، اس لئے کسی اور کو الیکشن لڑایا جائے۔ لیکن پھر عبدالملک مجاہد نے اس کو رضامند کیا اور اس کی سادگی، صالحیت اور کم گوئی کو دیکھتے ہوئے یہ نعرہ جامعہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گونجنے لگا۔ سیدھا سادھا بھولا بھالا۔ محمود احمد اللہ والا پھر اس نے اس شان سے یہ الیکشن جیتا کہ پورا پینل کامیاب ہوا۔اس کے ساتھ غلام مجتبی،جنرل سیکریٹری،عافیہ سلام، جوائنٹ سیکریٹری (گرلز) اور آصف سید، جوائنٹ سیکریٹری (بوائز) کامیاب ہوئے۔انتخاب جیتنے کے بعد وہ اپنے مرشد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی سے ملنے اچھرا لاہور بھی گیا تھا اس کے ساتھ جنرل سیکریٹری غلام مجتبی بھی تھا ۔ ان کا دور صدارت بڑا کامیاب رہا اس کسمیاب پینل کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جمیعت کو آئندہ کے انتخابات میں کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آئی۔اس نے اس کے بعد ملک کی سیاست میں بھی طبع آزمائی کی جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک بار صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔ محمود احمد اللہ والا جہاں گم گو تھا وہیں وہ بہترین مقرر بھی تھا اور جب مائک اس کے ہاتھ آتا تو پھر ایسے بولتا جیسے پر سکون دریا اپنے بہاؤ میں رواں دواں ہوتا ہے۔جمیعت کے ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کے عشرے کے جامعہ کراچی کے سب عہدیداروں سے ہمارے مراسم دو وجوہ سے تھے۔ ایک یہ کہ ہم جمیعت میں اس کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت اور ناظم ادارہ مطبوعات طلبہ رہ چکے تھے اور ہم جمیعت والوں کو اپنے خاندان مودودی کا کنبہ سمجھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ہمارا تعلق اس وقت کے سب سے بڑے اخبار جنگ سے تھا اور ہم اس کے چیف رپورٹر تھے۔ان سب کو اپنی اپنی خبریں چھپوانے کےلئے ہم سے ہر حال میں رابطہ کرنا پڑتا تھا لیکن جمیعت کے جس لیڈر سے ہمارا سب سے کم رابطہ تھا وہ یہی محمود احمد اللہ والا تھا۔ہمیں یاد ہے ایک بار کسی تقریب میں یا کسی تحریکی جلسے میں ہمیں محمود اللہ والا مل گیا تو ہم نے اس سے اس بات کا شکوہ کیا تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، اس کے پاس کھڑے ہمارے ایک واقف کار ایک اور صاحب نے کہا کہ “ یہی اس کا اسٹائل ہے آپ پریشان نہ ہوں اس کا ملنے ملانے کا یہی انداز سب کے ساتھ ہے۔لیکن مجھے علم ہے کہ یہ صرف اللہ کےلئے سب سے محبت کرتا ہے اور آپ کو بھی وہ ان ہی محبت کرنے والوں شامل رکھتا اور سمجھتا ہے۔ محمود احمد اللہ والا کا تعلق دہلی سوداگران سے تھا۔ان کے والد سلطان رفیع کو لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور بڑے لکھاری مشہور تھے وہ کافی عرصے تک ماہنامہ دہلی سوداگرکے ایڈیٹر بھی رہے۔اور مجموعی طور پر تیس سال سے زیادہ انجمن دہلی سودگران کی مختلف حیثیتوں سے خدمت کی۔ وہ کچھ عرصہ انجمن کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کا خاندان بھی دہلی سوداگروں کی طرح کاروباری اور دین سے گہرا لگاؤ رکھنے والاہے اور اپنی دیانت اور امانتداری کی وجہ سے مشہور ہے۔ محمود احمد اللہ والا نے ڈی ایم اے اور مقبول عام اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کی تکمیل جامعہ کراچی سے کی۔اس نے پسمانگان میں بیوہ، تین بیٹوں احسن،صبیح اور رضا محمود اور تین بھائیوں خلیل احمد،منظور احمد اور تسنیم احمد کے علاوہ اسلامی جمیعت طلبہ ؤر تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑا ہے۔
    0 Comments 0 Shares 581 Views
  • دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
    نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری

    دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
    افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی

    عروقِ مردِ مشرق میں ہے خونِ زندگی دوڑا
    سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

    مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفانِ مغرب نے
    تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

    عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
    شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی

    سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
    خلیل اللہ کا دریا ہے، سمندر سے گہر پیدا

    کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
    یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

    اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
    کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

    جہاں پانی سے دشوار تر ہے کارِ جہاں بینی
    جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

    یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
    اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

    بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
    نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

    میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک
    ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہربانی

    دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
    زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی

    مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی

    اگرچہ ایک ہی صورت رہی شمعِ سیال
    مگر جلوے کا ہے پیدا شرارے سے فروغ اپنا

    خدائے لم یزل کا دست قدرت تجھ سے بھوپال ہے
    ذرا تقدیر کو اپنا محرک دیکھ تو نے کیا کیا

    یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی
    مرا عبرت کا دفتر ہے، یہی دریا، یہی سیل ہے

    نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
    یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی

    دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام
    زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی

    مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی
    دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا، گیا دور گراں خوابی عروقِ مردِ مشرق میں ہے خونِ زندگی دوڑا سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفانِ مغرب نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا خلیل اللہ کا دریا ہے، سمندر سے گہر پیدا کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا جہاں پانی سے دشوار تر ہے کارِ جہاں بینی جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہربانی دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی اگرچہ ایک ہی صورت رہی شمعِ سیال مگر جلوے کا ہے پیدا شرارے سے فروغ اپنا خدائے لم یزل کا دست قدرت تجھ سے بھوپال ہے ذرا تقدیر کو اپنا محرک دیکھ تو نے کیا کیا یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی مرا عبرت کا دفتر ہے، یہی دریا، یہی سیل ہے نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی یہی دریا، یہی سیل، یہی موجوں کی طغیانی دلِ مردانِ حق سے زندہ و جاوید ہے اسلام زمانہ کیا، کہ جوہر کھوٹ کر سکتی ہے سلطانی مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکی، لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطونی
    0 Comments 0 Shares 352 Views
  • ترکی میں کافی حرام تھی — ایک داستانی مضمون

    ایک زمانہ تھا جب آج کی ترکی میں ایک کپ کافی پینا ایسا جرم تھا کہ جان چلی جاتی تھی۔
    آج جس ترکیش کافی کو مہمان نوازی کی شان سمجھا جاتا ہے، کبھی وہی کافی خوف، فتووں، پابندیوں اور سزاؤں کی علامت تھی۔

    یہ کہانی ہے اُس دور کی جب کافی کو ترکی میں حرام سمجھا جاتا تھا—ایک ایسی داستان جو طاقت، سیاست، دین، بغاوت اور انسان کی ضد کو یکجا کرتی ہے۔

    ⸻

    باب 1 — دور دراز پہاڑوں سے اُبھرتی ایک عجیب سی پینے کی چیز

    کافی ترکی میں پیدا نہیں ہوئی۔
    اس کی پیدائش ایتھوپیا کے پہاڑوں اور یمن کے خانقاہوں میں ہوئی، جہاں صوفی درویش لمبی راتوں میں ذکر و عبادت کے لیے جاگنے کو کافی استعمال کرتے تھے۔

    پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی کے آغاز میں کافی:
    • مکہ
    • قاہرہ
    • اور پھر پورے مشرقِ وسطیٰ

    تک پہنچ گئی۔

    لوگ حیران رہ گئے—ایک سیاہ، تلخ مشروب جو ساری رات جگاتا ہے؟
    یہ کیا چیز تھی؟
    نعمت؟
    یا خطرہ؟

    اور جہاں کچھ نیا ہو… وہاں کوئی نہ کوئی اسے حرام قرار دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

    ⸻

    باب 2 — مکہ میں پہلا فتوٰی: کافی حرام!

    1511 میں مکہ کے گورنر خیر بیگ نے دیکھا کہ لوگ نئے “کافی ہاؤسز” میں جمع ہوتے ہیں:
    • سیاست پر باتیں
    • شاعری
    • دین
    • عام زندگی کے مسائل

    وہ گھبرا گیا۔

    “اتنی باتیں… اتنی بیداری… اتنی جرات؟
    یہ خطرناک ہے!”

    اس نے علماء کی مجلس بلائی۔
    گھنٹوں کی بحث کے بعد فتوٰی جاری ہوا:

    “کافی حرام ہے۔”

    کافی ہاؤس بند کر دیے گئے۔
    بیج جلائے گئے۔
    پینے والوں کو سزا دی گئی۔

    لیکن جیسے ہی خبر قاہرہ پہنچی، وہاں کے سلطان نے حکم دیا:

    “یہ پابندی ختم کرو۔ کافی حلال ہے۔”

    یوں جنگ کا آغاز ہوا۔

    کافی آگے بڑھتی گئی… اور اگلا میدان تھا اِستانبول۔

    ⸻

    باب 3 — استنبول میں کافی کا دھماکہ

    1550 کے بعد کافی ترکی کے دارالحکومت استنبول پہنچی۔

    اور شہر پاگل ہوگیا!

    کافی ہاؤس (قہوہ خانہ) بننے لگے:
    • شاعر
    • تاجر
    • سپاہی
    • طالب علم
    • فقہا
    • مزدور

    سب ایک ہی جگہ بیٹھتے، کافی پیتے، بحث کرتے۔

    انہیں کہتے تھے:

    “دانش کا مدرسہ”

    لیکن محل میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ آزادی پسند نہیں آئی۔

    ایک مشروب جو لوگوں کو جگائے رکھتا ہے…
    ایک جگہ جہاں حکومت پر تنقید ہو…
    ایک ہی چھت تلے سوچنے والے ذہن…
    یہ سب خطرہ لگنے لگا۔

    ⸻

    باب 4 — وہ سلطان جس نے کافی پر تلوار اٹھا لی

    1623 میں تخت نشین ہوا: سلطان مراد چہارم (Murad IV)
    طاقتور، سخت گیر، اور خوف ناک۔

    سلطنت میں:
    • بغاوتیں
    • بدامنی
    • کرپشن
    • استنبول کی عظیم آگ

    مراد نے فیصلہ کیا:
    بغاوت کافی ہاؤس سے جنم لیتی ہے۔

    اس نے تین چیزوں پر مکمل پابندی لگائی:
    • شراب
    • تمباکو
    • کافی

    اور یہ صرف کاغذی حکم نہیں تھا۔

    تاریخ کے کئی معتبر ذرائع لکھتے ہیں:

    مراد چہارم کے دور میں سرِ عام کافی پینا — سزائے موت کے برابر تھا۔

    کہا جاتا ہے کہ سلطان خود بھیس بدل کر رات میں نکلتا تھا۔
    جس کے ہاتھ میں کافی کا کپ دیکھ لیتا…
    بس وہیں فیصلہ ہو جاتا۔

    کچھ واقعات مبالغہ بھی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پورے شہر پر خوف چھایا ہوا تھا۔

    لوگوں نے سوچنا شروع کیا:

    “اگر حکومت قتل تک کر رہی ہے…
    شاید کافی واقعی حرام ہو…”

    ⸻

    باب 5 — علماء کے درمیان جنگ: کافی حلال یا حرام؟

    اب بحث صرف سیاسی نہیں رہی—فقہی بھی بن گئی۔

    کچھ علماء کہتے تھے:
    • کافی نشہ آور ہے
    • دماغی حالت بدلتی ہے
    • بےکار گفتگو اور فتنہ کا ذریعہ ہے
    • شراب جیسی محرکات میں آتی ہے

    دوسرے علماء جواب دیتے تھے:
    • کافی نشہ نہیں دیتی
    • عبادت میں مدد کرتی ہے
    • ذہن کھولتی ہے
    • جسم کے لیے مفید ہے

    کچھ اسے حرام کہتے،
    کچھ مکروہ،
    کچھ حلال اور مفید۔

    فتوے بدلتے رہے… مگر عوام کا عشق کافی سے نہیں بدلا۔

    ⸻

    باب 6 — کافی کی جیت

    پابندیوں، خوف، سزاؤں… سب کے باوجود لوگ کافی چھوڑ نہیں سکے۔
    • گھروں میں چھپ کر
    • دکانوں کے پیچھے
    • تہہ خانوں میں
    • صبحِ صادق سے پہلے
    • سپاہیوں کو رشوت دے کر

    کافی چلتی رہی۔

    وقت کے ساتھ:
    • پابندیاں کمزور ہوئیں
    • علماء نے فیصلہ کیا کہ کافی نشہ آور نہیں
    • فتوے آئے کہ یہ حلال ہے
    • حکومت کا خوف کم ہوا

    اور آخرکار…
    کافی وہی بن گئی جو آج ہے:

    ترکی کی پہچان، مہمان نوازی، روایت، اور فخر۔

    UNESCO نے بھی Turkish Coffee Culture کو عالمی ورثہ قرار دیا۔

    ایک ایسا مشروب جسے کبھی گناہ سمجھا گیا…
    آج قومی شناخت بن چکا ہے۔

    ⸻

    ایک جملے میں پوری کہانی

    جسے کبھی حرام سمجھا گیا، وہی بعد میں قوم کی پہچان بن گیا۔
    اور جس کافی کے ایک کپ پر جان جاتی تھی…
    وہی کافی آج ترکی کے دل میں دھڑکتی ہے۔
    ☕ ترکی میں کافی حرام تھی — ایک داستانی مضمون ایک زمانہ تھا جب آج کی ترکی میں ایک کپ کافی پینا ایسا جرم تھا کہ جان چلی جاتی تھی۔ آج جس ترکیش کافی کو مہمان نوازی کی شان سمجھا جاتا ہے، کبھی وہی کافی خوف، فتووں، پابندیوں اور سزاؤں کی علامت تھی۔ یہ کہانی ہے اُس دور کی جب کافی کو ترکی میں حرام سمجھا جاتا تھا—ایک ایسی داستان جو طاقت، سیاست، دین، بغاوت اور انسان کی ضد کو یکجا کرتی ہے۔ ⸻ 🌑 باب 1 — دور دراز پہاڑوں سے اُبھرتی ایک عجیب سی پینے کی چیز کافی ترکی میں پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی پیدائش ایتھوپیا کے پہاڑوں اور یمن کے خانقاہوں میں ہوئی، جہاں صوفی درویش لمبی راتوں میں ذکر و عبادت کے لیے جاگنے کو کافی استعمال کرتے تھے۔ پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی کے آغاز میں کافی: • مکہ • قاہرہ • اور پھر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پہنچ گئی۔ لوگ حیران رہ گئے—ایک سیاہ، تلخ مشروب جو ساری رات جگاتا ہے؟ یہ کیا چیز تھی؟ نعمت؟ یا خطرہ؟ اور جہاں کچھ نیا ہو… وہاں کوئی نہ کوئی اسے حرام قرار دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ ⸻ ☕🕌 باب 2 — مکہ میں پہلا فتوٰی: کافی حرام! 1511 میں مکہ کے گورنر خیر بیگ نے دیکھا کہ لوگ نئے “کافی ہاؤسز” میں جمع ہوتے ہیں: • سیاست پر باتیں • شاعری • دین • عام زندگی کے مسائل وہ گھبرا گیا۔ “اتنی باتیں… اتنی بیداری… اتنی جرات؟ یہ خطرناک ہے!” اس نے علماء کی مجلس بلائی۔ گھنٹوں کی بحث کے بعد فتوٰی جاری ہوا: “کافی حرام ہے۔” کافی ہاؤس بند کر دیے گئے۔ بیج جلائے گئے۔ پینے والوں کو سزا دی گئی۔ لیکن جیسے ہی خبر قاہرہ پہنچی، وہاں کے سلطان نے حکم دیا: “یہ پابندی ختم کرو۔ کافی حلال ہے۔” یوں جنگ کا آغاز ہوا۔ کافی آگے بڑھتی گئی… اور اگلا میدان تھا اِستانبول۔ ⸻ 🔥 باب 3 — استنبول میں کافی کا دھماکہ 1550 کے بعد کافی ترکی کے دارالحکومت استنبول پہنچی۔ اور شہر پاگل ہوگیا! کافی ہاؤس (قہوہ خانہ) بننے لگے: • شاعر • تاجر • سپاہی • طالب علم • فقہا • مزدور سب ایک ہی جگہ بیٹھتے، کافی پیتے، بحث کرتے۔ انہیں کہتے تھے: “دانش کا مدرسہ” لیکن محل میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ آزادی پسند نہیں آئی۔ ایک مشروب جو لوگوں کو جگائے رکھتا ہے… ایک جگہ جہاں حکومت پر تنقید ہو… ایک ہی چھت تلے سوچنے والے ذہن… یہ سب خطرہ لگنے لگا۔ ⸻ ⚔️ باب 4 — وہ سلطان جس نے کافی پر تلوار اٹھا لی 1623 میں تخت نشین ہوا: سلطان مراد چہارم (Murad IV) طاقتور، سخت گیر، اور خوف ناک۔ سلطنت میں: • بغاوتیں • بدامنی • کرپشن • استنبول کی عظیم آگ مراد نے فیصلہ کیا: بغاوت کافی ہاؤس سے جنم لیتی ہے۔ اس نے تین چیزوں پر مکمل پابندی لگائی: • شراب • تمباکو • کافی اور یہ صرف کاغذی حکم نہیں تھا۔ تاریخ کے کئی معتبر ذرائع لکھتے ہیں: مراد چہارم کے دور میں سرِ عام کافی پینا — سزائے موت کے برابر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان خود بھیس بدل کر رات میں نکلتا تھا۔ جس کے ہاتھ میں کافی کا کپ دیکھ لیتا… بس وہیں فیصلہ ہو جاتا۔ کچھ واقعات مبالغہ بھی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پورے شہر پر خوف چھایا ہوا تھا۔ لوگوں نے سوچنا شروع کیا: “اگر حکومت قتل تک کر رہی ہے… شاید کافی واقعی حرام ہو…” ⸻ 📜 باب 5 — علماء کے درمیان جنگ: کافی حلال یا حرام؟ اب بحث صرف سیاسی نہیں رہی—فقہی بھی بن گئی۔ کچھ علماء کہتے تھے: • کافی نشہ آور ہے • دماغی حالت بدلتی ہے • بےکار گفتگو اور فتنہ کا ذریعہ ہے • شراب جیسی محرکات میں آتی ہے دوسرے علماء جواب دیتے تھے: • کافی نشہ نہیں دیتی • عبادت میں مدد کرتی ہے • ذہن کھولتی ہے • جسم کے لیے مفید ہے کچھ اسے حرام کہتے، کچھ مکروہ، کچھ حلال اور مفید۔ فتوے بدلتے رہے… مگر عوام کا عشق کافی سے نہیں بدلا۔ ⸻ 🌤️ باب 6 — کافی کی جیت پابندیوں، خوف، سزاؤں… سب کے باوجود لوگ کافی چھوڑ نہیں سکے۔ • گھروں میں چھپ کر • دکانوں کے پیچھے • تہہ خانوں میں • صبحِ صادق سے پہلے • سپاہیوں کو رشوت دے کر کافی چلتی رہی۔ وقت کے ساتھ: • پابندیاں کمزور ہوئیں • علماء نے فیصلہ کیا کہ کافی نشہ آور نہیں • فتوے آئے کہ یہ حلال ہے • حکومت کا خوف کم ہوا اور آخرکار… کافی وہی بن گئی جو آج ہے: ترکی کی پہچان، مہمان نوازی، روایت، اور فخر۔ UNESCO نے بھی Turkish Coffee Culture کو عالمی ورثہ قرار دیا۔ ایک ایسا مشروب جسے کبھی گناہ سمجھا گیا… آج قومی شناخت بن چکا ہے۔ ⸻ ✨ ایک جملے میں پوری کہانی جسے کبھی حرام سمجھا گیا، وہی بعد میں قوم کی پہچان بن گیا۔ اور جس کافی کے ایک کپ پر جان جاتی تھی… وہی کافی آج ترکی کے دل میں دھڑکتی ہے۔
    0 Comments 0 Shares 91 Views
  • کیا مسلمانوں نے واقعی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو روکا اور علم کے پھیلاؤ میں رکاوٹ ڈالی؟

    آج کل بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوں، خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ، نے پرنٹنگ پریس کی مخالفت کی اور اسی وجہ سے علم کے پھیلاؤ کو روک دیا۔ اس دعوے میں کچھ حقیقت ضرور موجود ہے، لیکن مکمل حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

    پرنٹنگ پریس کی ایجاد تقریباً 1450ء میں جرمن موجد یوہانس گوٹن برگ نے کی۔ یورپ میں اس ایجاد نے کتابوں کی تیاری کو تیز، سستا اور عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں خواندگی میں اضافہ ہوا، سائنسی ترقی کو فروغ ملا اور نئے خیالات تیزی سے پھیلنے لگے۔

    دوسری طرف، مسلم دنیا خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ میں عربی اور ترکی زبانوں میں پرنٹنگ کا آغاز نسبتاً دیر سے ہوا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ بعض علماء کو خدشہ تھا کہ اگر قرآن مجید کی طباعت میں غلطیاں ہوئیں تو اس کے سنگین مذہبی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں خطاط، کاتب اور مخطوطات تیار کرنے والے افراد اسی پیشے سے وابستہ تھے اور انہیں خوف تھا کہ نئی ٹیکنالوجی ان کے روزگار کو ختم کر دے گی۔ خوبصورت خطاطی اور ہاتھ سے لکھی گئی کتابیں اسلامی تہذیب کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی تھیں۔

    تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں نے پرنٹنگ پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ عثمانی سلطنت میں یہودی اور عیسائی برادریاں پندرھویں صدی سے ہی پرنٹنگ پریس استعمال کر رہی تھیں۔ بعد میں 1727ء میں ابراہیم متفرقہ نے سلطان احمد ثالث کی سرپرستی میں پہلا سرکاری عثمانی پرنٹنگ پریس قائم کیا۔

    مزید یہ کہ مسلمانوں کی تاریخ علم دشمنی کی نہیں بلکہ علم دوستی کی تاریخ ہے۔ بغداد کا بیت الحکمت، اندلس کی جامعات اور مسلم سائنسدانوں کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلمانوں نے ریاضی، طب، فلکیات، کیمیا اور فلسفے سمیت بے شمار علوم میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یونانی علوم کو محفوظ کرنے اور آگے پہنچانے میں بھی مسلم علماء کا بنیادی حصہ تھا، جس سے بعد میں یورپ کے نشاۃ ثانیہ کو فائدہ پہنچا۔

    بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو اپنانے میں تاخیر نے مسلم دنیا کو یورپ کے مقابلے میں علمی اور سائنسی لحاظ سے پیچھے چھوڑنے میں ایک کردار ادا کیا۔ لیکن صرف اسی ایک وجہ کو مسلمانوں کے زوال کا سبب قرار دینا درست نہیں۔ سیاسی کمزوریاں، اندرونی اختلافات، جنگیں، معاشی مسائل اور عالمی تجارتی راستوں کی تبدیلی جیسے کئی عوامل بھی اس میں شامل تھے۔

    لہٰذا یہ کہنا کہ “مسلمانوں نے علم کے پھیلاؤ کو روک دیا” تاریخی حقیقت کی سادہ اور مبالغہ آمیز تشریح ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کے بعض حصوں نے پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو یورپ کے مقابلے میں دیر سے اپنایا، جس کے کچھ منفی اثرات ضرور مرتب ہوئے، لیکن مسلمانوں نے نہ علم پر پابندی لگائی اور نہ ہی علم دشمنی ان کی تہذیب کی بنیادی خصوصیت تھی۔

    تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر روکنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ جو معاشرے وقت کے ساتھ خود کو بدل لیتے ہیں، وہ ترقی کرتے ہیں، جبکہ تبدیلی سے خوف کھانے والے معاشرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کو روکا جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اپنایا جائے تاکہ پوری انسانیت اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
    کیا مسلمانوں نے واقعی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو روکا اور علم کے پھیلاؤ میں رکاوٹ ڈالی؟ آج کل بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوں، خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ، نے پرنٹنگ پریس کی مخالفت کی اور اسی وجہ سے علم کے پھیلاؤ کو روک دیا۔ اس دعوے میں کچھ حقیقت ضرور موجود ہے، لیکن مکمل حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد تقریباً 1450ء میں جرمن موجد یوہانس گوٹن برگ نے کی۔ یورپ میں اس ایجاد نے کتابوں کی تیاری کو تیز، سستا اور عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں خواندگی میں اضافہ ہوا، سائنسی ترقی کو فروغ ملا اور نئے خیالات تیزی سے پھیلنے لگے۔ دوسری طرف، مسلم دنیا خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ میں عربی اور ترکی زبانوں میں پرنٹنگ کا آغاز نسبتاً دیر سے ہوا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ بعض علماء کو خدشہ تھا کہ اگر قرآن مجید کی طباعت میں غلطیاں ہوئیں تو اس کے سنگین مذہبی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں خطاط، کاتب اور مخطوطات تیار کرنے والے افراد اسی پیشے سے وابستہ تھے اور انہیں خوف تھا کہ نئی ٹیکنالوجی ان کے روزگار کو ختم کر دے گی۔ خوبصورت خطاطی اور ہاتھ سے لکھی گئی کتابیں اسلامی تہذیب کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی تھیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں نے پرنٹنگ پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ عثمانی سلطنت میں یہودی اور عیسائی برادریاں پندرھویں صدی سے ہی پرنٹنگ پریس استعمال کر رہی تھیں۔ بعد میں 1727ء میں ابراہیم متفرقہ نے سلطان احمد ثالث کی سرپرستی میں پہلا سرکاری عثمانی پرنٹنگ پریس قائم کیا۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کی تاریخ علم دشمنی کی نہیں بلکہ علم دوستی کی تاریخ ہے۔ بغداد کا بیت الحکمت، اندلس کی جامعات اور مسلم سائنسدانوں کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلمانوں نے ریاضی، طب، فلکیات، کیمیا اور فلسفے سمیت بے شمار علوم میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یونانی علوم کو محفوظ کرنے اور آگے پہنچانے میں بھی مسلم علماء کا بنیادی حصہ تھا، جس سے بعد میں یورپ کے نشاۃ ثانیہ کو فائدہ پہنچا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو اپنانے میں تاخیر نے مسلم دنیا کو یورپ کے مقابلے میں علمی اور سائنسی لحاظ سے پیچھے چھوڑنے میں ایک کردار ادا کیا۔ لیکن صرف اسی ایک وجہ کو مسلمانوں کے زوال کا سبب قرار دینا درست نہیں۔ سیاسی کمزوریاں، اندرونی اختلافات، جنگیں، معاشی مسائل اور عالمی تجارتی راستوں کی تبدیلی جیسے کئی عوامل بھی اس میں شامل تھے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ “مسلمانوں نے علم کے پھیلاؤ کو روک دیا” تاریخی حقیقت کی سادہ اور مبالغہ آمیز تشریح ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کے بعض حصوں نے پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو یورپ کے مقابلے میں دیر سے اپنایا، جس کے کچھ منفی اثرات ضرور مرتب ہوئے، لیکن مسلمانوں نے نہ علم پر پابندی لگائی اور نہ ہی علم دشمنی ان کی تہذیب کی بنیادی خصوصیت تھی۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر روکنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ جو معاشرے وقت کے ساتھ خود کو بدل لیتے ہیں، وہ ترقی کرتے ہیں، جبکہ تبدیلی سے خوف کھانے والے معاشرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کو روکا جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اپنایا جائے تاکہ پوری انسانیت اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
    0 Comments 0 Shares 338 Views
  • مسلم سائنسدان سلطان محمد العذل

    Who can introduce him to me ?
    مسلم سائنسدان سلطان محمد العذل Who can introduce him to me ?
    0 Comments 0 Shares 46 Views
  • اے مرد مومن ! ہاں تم ! تجھے دین کا بیڑہ سنبھالنا ہوگا اگر آج مغرب کوئی ڈیجٹل چال چلاتا ہے تو تجھے اس کا جواب دینا ہو گا ۔ تجھے مغرب کی 7d ٹیکنالوجی پر تنقید کرنے کی بجے تجھے اس کا مالک اس کا founder تجھے خود بنانا ہو گا ہاں تجھے خود ہی یا کرنا ہے اے مرد مومن اقبال کی خودی کا پہچانے کا وقت آ پہنچا ہے اے مردِ مومن جب بھی دین کو ضرورت پیش آئی پھر تو محمد بن قاسم کی صورت میں فاتح سندھ ٹھہرایا گیا تو کبھی سلطان صلاح الدین ایوبی بن کر ہندوستان کو فتح کیا اے نوجوان مسلم تو ہی وہ ہے جس نے دنیا پر اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا اے نوجوان مسلم اب پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے اب پھر تجھے کچھ بڑا کرنے ہو گا اب پھر تجھے فاتح بنانا ہوگا It is the Time to conquered the worldاب تو جانتا ہے یہ دور نہ تلوار کا ہے نہ گھوڑے کا یہ وقت نہ بندوق ہے نہ ٹینکوں کا یہ وقت دیجٹلیز ہو گا ہے اے مردِ مجاہد تجھے بھی دیجٹلیز ہونے کی اشد ضرورت ہے ایک مثال ہے اگر آج مغرب تم پر ایک ڈیجیٹل حملہ کردے تو کر کیا سکتا ہے کچھ نہیں ۔ ایک اور بات سن اسرائیل جو کہ بہت آگے چلاگیا ہے ابھی ہم نے ان سے ایک جنگ کرنی ہے آج تک وہ اس لیے نہیں ہو سکی کیونکہ انہوں نے بہت پہلے ٹیکنالوجی کو اپنا لیا ہے لیکن ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں لیکن اے نوجوان مسلم تو اس بات کو تسلی رکھ جب بھی تو اپنا ایک قدم آگے بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ تیری مدد کے لیے فرشتوں کا نزول کرے گا اے نوجوان مسلم یہی وقت جہاد کا ہےجہاد تجھ پر فرض ہو گیا ہے اور اس جہاد کا سب سے اسلحہ تیرے ہاتھ میں تیرا موبائل ہے اس کو استعمال کرنا سیکھ کیونکہ ایک مردِ مجاہد کو اس اسلحہ چلانا آنا چاہیے رہی بات اس کو چلانے سیکھا کہاں جاے اس وقت پاکستان میں ریحان اللہ والا سیکھا رہا ہے metroplex نامی کمپنی سیکھا رہی ہے اور اس کے کے علاؤہ آپ کے موبائل میں موجود یوٹیوب سیکھا رہا ہے اے نوجوان مسلم یہ وقت ضائع کرنے کا وقت نہیں یہ وقت ایک بار پھر اسلام کا جھنڈا لہرانے کا وقت ہے حکومت پاکستان آپ کو اس کی مکمل ٹریننگ دے رہی ہے اس بات پر آپ سے اجازت چاہتا ہوں اگر آپ کے کچھ سیکھنے کے لیے کچھ بھی معالومات درکار ہوں آپ مجھے فیس بُک پر ان باکس کرسکتے ہیں اور میرا واٹس ایپ نمبر ہے 00923468549638 محمد عثمان

    Usman Gondal
    اے مرد مومن ! ہاں تم ! تجھے دین کا بیڑہ سنبھالنا ہوگا اگر آج مغرب کوئی ڈیجٹل چال چلاتا ہے تو تجھے اس کا جواب دینا ہو گا ۔ تجھے مغرب کی 7d ٹیکنالوجی پر تنقید کرنے کی بجے تجھے اس کا مالک اس کا founder تجھے خود بنانا ہو گا ہاں تجھے خود ہی یا کرنا ہے اے مرد مومن اقبال کی خودی کا پہچانے کا وقت آ پہنچا ہے اے مردِ مومن جب بھی دین کو ضرورت پیش آئی پھر تو محمد بن قاسم کی صورت میں فاتح سندھ ٹھہرایا گیا تو کبھی سلطان صلاح الدین ایوبی بن کر ہندوستان کو فتح کیا اے نوجوان مسلم تو ہی وہ ہے جس نے دنیا پر اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا اے نوجوان مسلم اب پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے اب پھر تجھے کچھ بڑا کرنے ہو گا اب پھر تجھے فاتح بنانا ہوگا It is the Time to conquered the worldاب تو جانتا ہے یہ دور نہ تلوار کا ہے نہ گھوڑے کا یہ وقت نہ بندوق ہے نہ ٹینکوں کا یہ وقت دیجٹلیز ہو گا ہے اے مردِ مجاہد تجھے بھی دیجٹلیز ہونے کی اشد ضرورت ہے ایک مثال ہے اگر آج مغرب تم پر ایک ڈیجیٹل حملہ کردے تو کر کیا سکتا ہے کچھ نہیں ۔ ایک اور بات سن اسرائیل جو کہ بہت آگے چلاگیا ہے ابھی ہم نے ان سے ایک جنگ کرنی ہے آج تک وہ اس لیے نہیں ہو سکی کیونکہ انہوں نے بہت پہلے ٹیکنالوجی کو اپنا لیا ہے لیکن ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں لیکن اے نوجوان مسلم تو اس بات کو تسلی رکھ جب بھی تو اپنا ایک قدم آگے بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ تیری مدد کے لیے فرشتوں کا نزول کرے گا اے نوجوان مسلم یہی وقت جہاد کا ہےجہاد تجھ پر فرض ہو گیا ہے اور اس جہاد کا سب سے اسلحہ تیرے ہاتھ میں تیرا موبائل ہے اس کو استعمال کرنا سیکھ کیونکہ ایک مردِ مجاہد کو اس اسلحہ چلانا آنا چاہیے رہی بات اس کو چلانے سیکھا کہاں جاے اس وقت پاکستان میں ریحان اللہ والا سیکھا رہا ہے metroplex نامی کمپنی سیکھا رہی ہے اور اس کے کے علاؤہ آپ کے موبائل میں موجود یوٹیوب سیکھا رہا ہے اے نوجوان مسلم یہ وقت ضائع کرنے کا وقت نہیں یہ وقت ایک بار پھر اسلام کا جھنڈا لہرانے کا وقت ہے حکومت پاکستان آپ کو اس کی مکمل ٹریننگ دے رہی ہے اس بات پر آپ سے اجازت چاہتا ہوں اگر آپ کے کچھ سیکھنے کے لیے کچھ بھی معالومات درکار ہوں آپ مجھے فیس بُک پر ان باکس کرسکتے ہیں اور میرا واٹس ایپ نمبر ہے 00923468549638 محمد عثمان Usman Gondal
    0 Comments 0 Shares 75 Views
More Results