• ترقی یافتہ دنیا میں ”زینوفوبیا‘‘ یعنی اجنبی لوگوں کا خوف بڑھ رہا ہے۔ بعض جگہوں پر دن بدن وہ قوتیں مقبول ہو رہی ہیں، جو خود اجنبی لوگوں کے خوف میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی اس خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عام لوگوں کو باہر سے آنے والے تارکین وطن سے ڈرا رہی ہیں۔ سماج میں خوف پھیلا رہی ہیں۔ یہ خوف پھیلانے میں ان کو جو چھوٹی بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں۔
    ایک وجہ یہ ہے کہ تیسری دنیا کے پسماندہ اور غریب ممالک خصوصا ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے رنگ دار نسل کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی طریقے سے ترقی یافتہ ممالک میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ان میں سے اکثر کی یہاں پہچنے کی کہانی بڑی دردناک ہے۔
    ان میں سے کچھ لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر انتہائی پرخطر اور دشوار گزار راستوں سے کئی ممالک کی سرحدیں عبور کرکے یہاں پہنچے۔ کچھ لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں رات کے اندھیرے میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ان ممالک میں داخل ہوئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جنہوں نے غیر محفوظ اور ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں بھوکے پیاسے طویل سفر کیے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنے اور پُر خطر مہم جوئی کرنے والوں کے پہلو بہ پہلو ایسے خوش قسمت اور آسودہ حال لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے، جو قانونی طریقے سے ویزے لے کر ان ممالک میں داخل ہوئے؛ چنانچہ اب مغرب کے کئی شہروں اور بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں، فیکٹریوں سے لے کر پارلیمان تک ہر جگہ کوئی نہ کوئی رنگ دار نسل کا شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور کئی شہر ایسے بھی ہیں، جہاں کوئی سفید فام شخص کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔
    اب اس صورت حال کو بائیں بازو کے قدامت پسند اور نسل پرست لوگ اپنا تنگ نظر سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ مقامی لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ آپ کے روزگار چھین رہے ہیں۔ آپ کی زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں، اورآہستہ آہستہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائیں گے۔ یہ لوگ ان کے سامنے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ کر دینے والے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔
    ترقی یافتہ ممالک میں سفید فام لوگوں کے اندر ایک مدت سے کم از کم بچے پیدا کرنے کا رجحان ہے۔ اور کچھ لوگ تو سرے سے بچے پیدا ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بعض جگہوں پرسفید فاموں کی آبادی میں اضافے کے بجائے کمی ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے رجحان کی وجہ سے رنگ دار لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر یہ خوف پھیلایا جا رہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سفید فام اقلیت میں بدل جائیں گے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ رپورٹ گردش کر رہی ہے کہ سن دو ہزار پینتالیس تک امریکہ میں سفید فام لوگ اقلیت میں بدل جائیں گے۔
    اسی طرح دائیں بازو کے نسل پرست یورپ میں لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ افریقہ کی آبادی میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک بر اعظم افریقہ کی آبادی دو اعشاریہ چار بلین ہو جائے گی اور صدی کے آخر تک یہ تعداد چار بلین کو کراس کر جائے گی۔ پھر آپ چاہے کتنی دیواریں کھڑی کریں، تارکین وطن کو روکنے کی جتنے معاہدے مرضی کر لیں، یہ لوگ کسی نہ کسی طرح شمال کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوں جائیں گے، اور بر اعظم یورپ سیاہ فام اکثریت کا براعظم بن جائے گا۔ چنانچہ یہ خوف پھیلا کر دائیں بازو کے نسل پرست اور قوم پرست لوگ بڑی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، عوام کی حمایت اور ووٹ بٹورنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ چونکہ ان کو سماج میں جو جگہ اور مقبولیت ملی ہے، وہ نفرت کی وجہ سے مل رہی ہے اس لیے وہ بڑے منظم طریقے سے اس نفرت کو عام کرنے میں پوری طرح مصروف ہیں۔
    دوسری طرف رنگ دار نسل کے تارکین وطن کے اندر بھی اس صورتحال کے خلاف ایک خاص قسم کا رد عمل اور رجحانات پیدا ہو رہے ہیں۔ کچھ اس نفرت کے جواب میں نفرت کا درس دے رہے ہیں۔ کچھ محبت اور بھائی چارے کی بات کر رہے ہیں؛ چنانچہ ہر جگہ نسل، نسل پرستی، اور بین النسلی تعلقات پر گفتگو ہو رہی ہے۔ مباحث ہو رہے ہیں۔ ادب تخلیق کیا جا رہا ہے۔ اس باب میں تازہ ترین کتاب نیویارک یونیورسٹی میں جرنلزم کے پروفیسر سکیٹو مہتا نے لکھی ہے۔
    ”یہ زمین ہماری زمین ہے‘‘ نامی یہ کتاب اس تارکین وطن اور نسل پرستی کے باب میں تخلیق ہونے والے لٹریچر میں ایک جان دار اضافہ ہے۔ پرو فیسر لکھتا ہے ”امریکہ پر میں اپنے حق کا دعوی کرتا ہوں۔ یہ حق میں اپنے لیے، اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کے لیے مانگتا ہوں۔ ہم یہاں ہیں۔ ہم واپس نہیں جا رہے ہیں۔ ہم یہاں اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں، یہ اب ہمارا ملک ہے۔ ہمیں کسی کو اس کے نسل پرستانہ خوف پر کسی قسم کی کوئی یقین دہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ اب ہمارا امریکہ ہے، اور ہم کسی کو یہ ہم سے واپس لینے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ کتاب میں الفاظ اور لہجے کی سختی نمایاں ہے، اور پروفیسر اس کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ کتاب ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہو جانے پر غم وغصے کی حالت میں لکھی گئی ہے۔
    پروفیسرکا خیال ہے کہ ہجرت کے عمل کو مقامی طور پر غلط سمجھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو اس کے درست تاریخی اور سماجی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہجرت یا ترک وطن کے عمل کو گلوبل جسٹس یا عالمی انصاف کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔ غریب ملکوں سے آنے والے تارکین وطن قرض خواہ ہیں۔ وہ یہاں پر اپنا وہ قرض وصول کرنے آئے ہیں، جو ترقی یافتہ دنیا نے چکانا ہے۔ مغرب کی ترقی یافتہ اقوام ہماری یعنی رنگ دار نسلوں کی مقروض ہیں۔ انہوں نے نوآبادیاتی نظام کے تحت ہمارے ملکوں میں آکر لوٹ مار کی اور ہمارا سیاسی اور معاشی مستقبل تباہ کردیا۔
    تارکین وطن اپنا وطن اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ نکمے اور سست لوگ ہیں یا وہ اپنے وطن سے نفرت کرتے ہیں یا وہ مغرب کو لوٹنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ وہ اپنا وطن اس لیے ترک کرتے ہیں کہ تاریخ کے بوجھ نے اسے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔
    پروفیسر نوآبادیاتی تاریخ میں جھانک کر ان اسباب کا ذکر کرتا ہے، جس نے تیسری دنیا کے ملکوں کو برباد کر دیا۔ اس کے خیال میں نوآبادیاتی قوتوں کی لوٹ کھسوٹ، ماحولیاتی تبدیلی اور ”کارپوریٹ گریڈ‘‘ یعنی لالچ نے غریب ملکوں کے لوگوں کو ہجرت پر مجبورکیا۔ صدیوں کی لوٹ اور تباہی نے ان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان ملکوں میں آئیں جنہوں نے ان کے ملکوں میں گھس کر ان کو تاخت و تاراج کیا۔ ہمیں یہاں ہونے پر شرمندہ یا معذرت خواہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
    ہم آج یہاں ہیں اس لیے کہ کل تم وہاں تھے۔
    اجنبی کا خوف اور نفرت کی دیواروں کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دینے کے ساتھ ساتھ پروفیسر مایوسی کے اس اندھیرے میں امید کے کچھ چراغ بھی جلاتا ہے۔ وہ نیویارک شہر کو بطور ماڈل پیش کرتا ہے۔ جہاں تارکین وطن اور مقامی لوگ شیر وشکر ہیں، یہاں رنگ دار اور سفید فام لوگوں نے ایک دوسرے سے مل کر نئے سیاسی اور معاشی امکانات پیدا کیے ہیں۔
    اس شہر میں نسلی پرستی اور نسلی جھگڑے حیرت انگیز طور پر کم ہیں۔ یہ شہر کس قدر محفوظ ہو گیا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ اس شہر کو ہمیشہ تارکین وطن کی لہروں کا سامنا رہا ہے۔ اس شہر میں تارکین وطن اپنے خود کے کلچر، زبان اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ ایک طرف نیویارک شہر جیسے ماڈل شہر ہیں۔ دوسری طرف ایسے شہروں اور قصبوں کی بھی کمی نہیں ہے، جہاں خوف اور نفرت ہے۔ مگر تارکین وطن جہاں ہیں ان کو ڈٹ جانا چاہیے۔ یہ زمین اب ہماری زمین ہے۔ اب ہم نے یہاں ہی جینا مرنا ہے۔ اب ہم یہاں سے کئی جانے والے نہیں۔ اس لیے ان لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جو خوف پھیلا رہے ہیں۔ اور ان قوتوں کا ساتھ دینا چاہیے جو نفرت کے خلاف ہیں، اور بھائی چارے اور نسلی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔
    بشکر

    @hamid bashani khan
    ترقی یافتہ دنیا میں ”زینوفوبیا‘‘ یعنی اجنبی لوگوں کا خوف بڑھ رہا ہے۔ بعض جگہوں پر دن بدن وہ قوتیں مقبول ہو رہی ہیں، جو خود اجنبی لوگوں کے خوف میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی اس خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عام لوگوں کو باہر سے آنے والے تارکین وطن سے ڈرا رہی ہیں۔ سماج میں خوف پھیلا رہی ہیں۔ یہ خوف پھیلانے میں ان کو جو چھوٹی بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ تیسری دنیا کے پسماندہ اور غریب ممالک خصوصا ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے رنگ دار نسل کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی طریقے سے ترقی یافتہ ممالک میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ان میں سے اکثر کی یہاں پہچنے کی کہانی بڑی دردناک ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر انتہائی پرخطر اور دشوار گزار راستوں سے کئی ممالک کی سرحدیں عبور کرکے یہاں پہنچے۔ کچھ لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں رات کے اندھیرے میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ان ممالک میں داخل ہوئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جنہوں نے غیر محفوظ اور ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں بھوکے پیاسے طویل سفر کیے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنے اور پُر خطر مہم جوئی کرنے والوں کے پہلو بہ پہلو ایسے خوش قسمت اور آسودہ حال لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے، جو قانونی طریقے سے ویزے لے کر ان ممالک میں داخل ہوئے؛ چنانچہ اب مغرب کے کئی شہروں اور بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں، فیکٹریوں سے لے کر پارلیمان تک ہر جگہ کوئی نہ کوئی رنگ دار نسل کا شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور کئی شہر ایسے بھی ہیں، جہاں کوئی سفید فام شخص کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔ اب اس صورت حال کو بائیں بازو کے قدامت پسند اور نسل پرست لوگ اپنا تنگ نظر سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ مقامی لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ آپ کے روزگار چھین رہے ہیں۔ آپ کی زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں، اورآہستہ آہستہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائیں گے۔ یہ لوگ ان کے سامنے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ کر دینے والے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں سفید فام لوگوں کے اندر ایک مدت سے کم از کم بچے پیدا کرنے کا رجحان ہے۔ اور کچھ لوگ تو سرے سے بچے پیدا ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بعض جگہوں پرسفید فاموں کی آبادی میں اضافے کے بجائے کمی ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے رجحان کی وجہ سے رنگ دار لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر یہ خوف پھیلایا جا رہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سفید فام اقلیت میں بدل جائیں گے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ رپورٹ گردش کر رہی ہے کہ سن دو ہزار پینتالیس تک امریکہ میں سفید فام لوگ اقلیت میں بدل جائیں گے۔ اسی طرح دائیں بازو کے نسل پرست یورپ میں لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ افریقہ کی آبادی میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک بر اعظم افریقہ کی آبادی دو اعشاریہ چار بلین ہو جائے گی اور صدی کے آخر تک یہ تعداد چار بلین کو کراس کر جائے گی۔ پھر آپ چاہے کتنی دیواریں کھڑی کریں، تارکین وطن کو روکنے کی جتنے معاہدے مرضی کر لیں، یہ لوگ کسی نہ کسی طرح شمال کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوں جائیں گے، اور بر اعظم یورپ سیاہ فام اکثریت کا براعظم بن جائے گا۔ چنانچہ یہ خوف پھیلا کر دائیں بازو کے نسل پرست اور قوم پرست لوگ بڑی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، عوام کی حمایت اور ووٹ بٹورنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ چونکہ ان کو سماج میں جو جگہ اور مقبولیت ملی ہے، وہ نفرت کی وجہ سے مل رہی ہے اس لیے وہ بڑے منظم طریقے سے اس نفرت کو عام کرنے میں پوری طرح مصروف ہیں۔ دوسری طرف رنگ دار نسل کے تارکین وطن کے اندر بھی اس صورتحال کے خلاف ایک خاص قسم کا رد عمل اور رجحانات پیدا ہو رہے ہیں۔ کچھ اس نفرت کے جواب میں نفرت کا درس دے رہے ہیں۔ کچھ محبت اور بھائی چارے کی بات کر رہے ہیں؛ چنانچہ ہر جگہ نسل، نسل پرستی، اور بین النسلی تعلقات پر گفتگو ہو رہی ہے۔ مباحث ہو رہے ہیں۔ ادب تخلیق کیا جا رہا ہے۔ اس باب میں تازہ ترین کتاب نیویارک یونیورسٹی میں جرنلزم کے پروفیسر سکیٹو مہتا نے لکھی ہے۔ ”یہ زمین ہماری زمین ہے‘‘ نامی یہ کتاب اس تارکین وطن اور نسل پرستی کے باب میں تخلیق ہونے والے لٹریچر میں ایک جان دار اضافہ ہے۔ پرو فیسر لکھتا ہے ”امریکہ پر میں اپنے حق کا دعوی کرتا ہوں۔ یہ حق میں اپنے لیے، اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کے لیے مانگتا ہوں۔ ہم یہاں ہیں۔ ہم واپس نہیں جا رہے ہیں۔ ہم یہاں اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں، یہ اب ہمارا ملک ہے۔ ہمیں کسی کو اس کے نسل پرستانہ خوف پر کسی قسم کی کوئی یقین دہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ اب ہمارا امریکہ ہے، اور ہم کسی کو یہ ہم سے واپس لینے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ کتاب میں الفاظ اور لہجے کی سختی نمایاں ہے، اور پروفیسر اس کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ کتاب ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہو جانے پر غم وغصے کی حالت میں لکھی گئی ہے۔ پروفیسرکا خیال ہے کہ ہجرت کے عمل کو مقامی طور پر غلط سمجھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو اس کے درست تاریخی اور سماجی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہجرت یا ترک وطن کے عمل کو گلوبل جسٹس یا عالمی انصاف کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔ غریب ملکوں سے آنے والے تارکین وطن قرض خواہ ہیں۔ وہ یہاں پر اپنا وہ قرض وصول کرنے آئے ہیں، جو ترقی یافتہ دنیا نے چکانا ہے۔ مغرب کی ترقی یافتہ اقوام ہماری یعنی رنگ دار نسلوں کی مقروض ہیں۔ انہوں نے نوآبادیاتی نظام کے تحت ہمارے ملکوں میں آکر لوٹ مار کی اور ہمارا سیاسی اور معاشی مستقبل تباہ کردیا۔ تارکین وطن اپنا وطن اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ نکمے اور سست لوگ ہیں یا وہ اپنے وطن سے نفرت کرتے ہیں یا وہ مغرب کو لوٹنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ وہ اپنا وطن اس لیے ترک کرتے ہیں کہ تاریخ کے بوجھ نے اسے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔ پروفیسر نوآبادیاتی تاریخ میں جھانک کر ان اسباب کا ذکر کرتا ہے، جس نے تیسری دنیا کے ملکوں کو برباد کر دیا۔ اس کے خیال میں نوآبادیاتی قوتوں کی لوٹ کھسوٹ، ماحولیاتی تبدیلی اور ”کارپوریٹ گریڈ‘‘ یعنی لالچ نے غریب ملکوں کے لوگوں کو ہجرت پر مجبورکیا۔ صدیوں کی لوٹ اور تباہی نے ان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان ملکوں میں آئیں جنہوں نے ان کے ملکوں میں گھس کر ان کو تاخت و تاراج کیا۔ ہمیں یہاں ہونے پر شرمندہ یا معذرت خواہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آج یہاں ہیں اس لیے کہ کل تم وہاں تھے۔ اجنبی کا خوف اور نفرت کی دیواروں کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دینے کے ساتھ ساتھ پروفیسر مایوسی کے اس اندھیرے میں امید کے کچھ چراغ بھی جلاتا ہے۔ وہ نیویارک شہر کو بطور ماڈل پیش کرتا ہے۔ جہاں تارکین وطن اور مقامی لوگ شیر وشکر ہیں، یہاں رنگ دار اور سفید فام لوگوں نے ایک دوسرے سے مل کر نئے سیاسی اور معاشی امکانات پیدا کیے ہیں۔ اس شہر میں نسلی پرستی اور نسلی جھگڑے حیرت انگیز طور پر کم ہیں۔ یہ شہر کس قدر محفوظ ہو گیا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ اس شہر کو ہمیشہ تارکین وطن کی لہروں کا سامنا رہا ہے۔ اس شہر میں تارکین وطن اپنے خود کے کلچر، زبان اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ ایک طرف نیویارک شہر جیسے ماڈل شہر ہیں۔ دوسری طرف ایسے شہروں اور قصبوں کی بھی کمی نہیں ہے، جہاں خوف اور نفرت ہے۔ مگر تارکین وطن جہاں ہیں ان کو ڈٹ جانا چاہیے۔ یہ زمین اب ہماری زمین ہے۔ اب ہم نے یہاں ہی جینا مرنا ہے۔ اب ہم یہاں سے کئی جانے والے نہیں۔ اس لیے ان لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جو خوف پھیلا رہے ہیں۔ اور ان قوتوں کا ساتھ دینا چاہیے جو نفرت کے خلاف ہیں، اور بھائی چارے اور نسلی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔ بشکر @hamid bashani khan
    0 Комментарии 0 Поделились 334 Просмотры
  • میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟
    میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟
    0 Комментарии 0 Поделились 219 Просмотры
  • میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟.

    Inbox stuurdu if you are ready !
    میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟. Inbox stuurdu if you are ready !
    0 Комментарии 0 Поделились 264 Просмотры
  • میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟

    join https://www.facebook.com/groups/RehanAllahwala
    میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟ join https://www.facebook.com/groups/RehanAllahwala
    0 Комментарии 0 Поделились 253 Просмотры
  • جو میں سچ کہوں تو برا لگے
    جو دلیل دوں تو زلیل ہوں
    یہ سماج جہل کی ضد میں ہے
    یہاں بات کرنا حرام ہے
    جو میں سچ کہوں تو برا لگے جو دلیل دوں تو زلیل ہوں یہ سماج جہل کی ضد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے
    0 Комментарии 0 Поделились 62 Просмотры
  • میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟.

    ‎پہلا مرحلہ : میری فرینڈز لسٹ Facebook.com/rehan33/friends میں جائیں، اور وہاں پچاس ایسے لوگوں کو ایڈ کریں جن کا تعلق آپ کے ملک سے نا ہو، جب آپ یہ پہلا مرحلہ کرچکے ہوں تو اگلے مرحلہ کے لیے آپ مجھے میسیج کیجیئے گا.
    میں ایک ٹیچر ہوں، میں دنیا کے ساتھ مل کر سیکھتا ہوں، میرا طریقہ کار غیر روایتی اور آپ کی عادتوں پر سخت ہوگا جس کے لیے آپ کے جنون کی ضرورت ہوگی، یہ مرحلے آپ کو نکھاریں گے، نئے مواقعوں کا راستہ کھولیں گے، آپ کو یقین اور خود اعتمادی دینگے، آپ کو نئے نئے بہترین قسم کے خیالات آئینگے جو آپ ابھی نہیں سوچتے ہیں، آپ کے سماجی تعلقات کو بڑھائیں گے، اور آپ کی شخصیت کو ایک نیا اور بہتر روپ دیں گے، میں اس کی کوئی فیس نہیں لیتا ہوں سوائے اس کے جو آپ سیکھ جائیں وہ آپ دوسرے ان لوگوں کو بھی سکھائیں گے جنہیں ان صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مجھے ایک شاگرد کی حیثیت سے جوائن کرکے اس سفر میں شریک ہونا چاہیں گے ؟ ہاں یا ناں؟. ‎پہلا مرحلہ : میری فرینڈز لسٹ Facebook.com/rehan33/friends میں جائیں، اور وہاں پچاس ایسے لوگوں کو ایڈ کریں جن کا تعلق آپ کے ملک سے نا ہو، جب آپ یہ پہلا مرحلہ کرچکے ہوں تو اگلے مرحلہ کے لیے آپ مجھے میسیج کیجیئے گا.
    0 Комментарии 0 Поделились 176 Просмотры
  • Nice share via Liaqat Jawaid

    مشرقی بیوی کی اوسطا" عمر با حیثیت بیوی دس سے پندرہ سال ہوتی ہے اس کے بعد بچے بڑے ہوتے ہی مرد تقریبا" پھر سے کنوارا رہ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مرد تقریبا " چالیس سے پیتالیس سال کی عمر کا ہوجاتا ہے کسی حد تک اسٹیبلشڈ ہو چکا ہوتا ہے کچھ فراغت میسر آچکی ہوتی لہذا اس عمر میں اسے زیادہ ہری ہری سوجھتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر چلانے کے اخراجات کی ذمہ داری بچوں کے اخراجات بیوی کے تمام اخراجات کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ہی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جبکہ بیوی، بچوں اور اپنے سماجی معاملات اور اپنی رہی سہی خواہشات پوری کرنے میں زیادہ مگن ہوجاتی ہے اور بھلا ہو اس موبائل فون اور ٹی وی کا آدھا وقت وہ لے جاتے ہیں لہذا مرد کے لئے اس کے پاس سوائے کھانا اور ناشتہ پوچھنے کے کوئی وقت نہیں رہتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری شادی کا آپشن سماجی ذلالت بچوں اور بیوی کے سامنے ذلالت اور رسوائی کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے لہذا مرد بے چارہ ہر وقت شکار کی تلاش میں مارا مرا پھرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عموما" پانچ سے دس سال اسی خواری میں گذر جاتے ہیں، اب پچاس پچپن سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، میچورٹی زیادہ آجاتی ہے زیادہ بولڈ ہوجاتا ہےکچھ معاشرے کا خوف ختم ہوجاتا ہے، یہی وہ عمر ہوتی ہے جب کچھ مرد جھک مارتے ہیں اور کسی کی زلفوں کے اسیر ہوکر دوسری شادی کرلیتے ہیں، بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں باب کی بے وقت کی شادی کو اپنے لئے بے عزتی سمجھتے ہیں ماں اور بچوں کا گروپ بن جاتا ہے معاشرہ ماں اور بچوں کا ساتھ دیتا ہے لہذا تیس سال کی محنت اور کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باقی بچتی ہے نئی بیگم ،،،،، مرد چونکہ تقریبا" تنہا رہ جاتا ہے اور وہ واحد سہارا ہوتی ہے۔ ۔لہذا وہ اس پوزیشن کا خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جائز اور ناجائز خواہشات منواتی ہے اور خوب بلیک میل کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جو مرد دوسری شادی نہیں کرتے اور قدرے ڈرپوک یا احتیاط پسند ہوتے ہیں وہ جنت کی حوروں کو ہی اپنے مستقبل کا سہارا سمجھتے ہوئے تسبیع پکڑ لیتے ہیں اور اکثر مسجد کے اندر اور باہر اپنے ہم عمر اور خود سے پندرہ بیس سال بڑے عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ مذہبی اور سیاسی نقاط پر لمبی لمبی بحثیں کرتے ہوئے باقی ماندہ زندگی گذار دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آے مرد تیری یہ اوقات
    Nice share via Liaqat Jawaid مشرقی بیوی کی اوسطا" عمر با حیثیت بیوی دس سے پندرہ سال ہوتی ہے اس کے بعد بچے بڑے ہوتے ہی مرد تقریبا" پھر سے کنوارا رہ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرد تقریبا " چالیس سے پیتالیس سال کی عمر کا ہوجاتا ہے کسی حد تک اسٹیبلشڈ ہو چکا ہوتا ہے کچھ فراغت میسر آچکی ہوتی لہذا اس عمر میں اسے زیادہ ہری ہری سوجھتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر چلانے کے اخراجات کی ذمہ داری بچوں کے اخراجات بیوی کے تمام اخراجات کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ہی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ بیوی، بچوں اور اپنے سماجی معاملات اور اپنی رہی سہی خواہشات پوری کرنے میں زیادہ مگن ہوجاتی ہے اور بھلا ہو اس موبائل فون اور ٹی وی کا آدھا وقت وہ لے جاتے ہیں لہذا مرد کے لئے اس کے پاس سوائے کھانا اور ناشتہ پوچھنے کے کوئی وقت نہیں رہتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری شادی کا آپشن سماجی ذلالت بچوں اور بیوی کے سامنے ذلالت اور رسوائی کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے لہذا مرد بے چارہ ہر وقت شکار کی تلاش میں مارا مرا پھرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عموما" پانچ سے دس سال اسی خواری میں گذر جاتے ہیں، اب پچاس پچپن سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، میچورٹی زیادہ آجاتی ہے زیادہ بولڈ ہوجاتا ہےکچھ معاشرے کا خوف ختم ہوجاتا ہے، یہی وہ عمر ہوتی ہے جب کچھ مرد جھک مارتے ہیں اور کسی کی زلفوں کے اسیر ہوکر دوسری شادی کرلیتے ہیں، بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں باب کی بے وقت کی شادی کو اپنے لئے بے عزتی سمجھتے ہیں ماں اور بچوں کا گروپ بن جاتا ہے معاشرہ ماں اور بچوں کا ساتھ دیتا ہے لہذا تیس سال کی محنت اور کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی بچتی ہے نئی بیگم ،،،،، مرد چونکہ تقریبا" تنہا رہ جاتا ہے اور وہ واحد سہارا ہوتی ہے۔ ۔لہذا وہ اس پوزیشن کا خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جائز اور ناجائز خواہشات منواتی ہے اور خوب بلیک میل کرتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جو مرد دوسری شادی نہیں کرتے اور قدرے ڈرپوک یا احتیاط پسند ہوتے ہیں وہ جنت کی حوروں کو ہی اپنے مستقبل کا سہارا سمجھتے ہوئے تسبیع پکڑ لیتے ہیں اور اکثر مسجد کے اندر اور باہر اپنے ہم عمر اور خود سے پندرہ بیس سال بڑے عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ مذہبی اور سیاسی نقاط پر لمبی لمبی بحثیں کرتے ہوئے باقی ماندہ زندگی گذار دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آے مرد تیری یہ اوقات
    0 Комментарии 0 Поделились 133 Просмотры
  • ہم بھیک مانگنے کو اچھی چیز کے طور پر کیوں مناتے ہیں؟ وزیر اعظم سے لے کر عام سماجی کارکن دینے کے لیے مفت پیسے کی تلاش میں ہیں۔
    ہم بھیک مانگنے کو اچھی چیز کے طور پر کیوں مناتے ہیں؟ وزیر اعظم سے لے کر عام سماجی کارکن دینے کے لیے مفت پیسے کی تلاش میں ہیں۔
    0 Комментарии 0 Поделились 63 Просмотры
  • تحریر: ہشام سرور
    ترجمہ: روبینہ یاسمین

    ہماری نوجوان نسل کو ازراہ کرم آنے والے کل کے لئے تیار کریں .

    پاکستانی ٹی وی چینلز بہت مایوس کن کام کر رہے ہیں . چوبیس گھنٹے منفی یا سیاسی خبریں کم پروپیگنڈا زیادہ چلتا رہتا ہے - ہمارے پاس نفرت پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کے بجاے کوئی اچھی چیز نہیں جو ہم اپنے ناظرین کو دکھا سکیں ؟ سیاسی لوگ پہلے ہی یہ کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں . مرکزی میڈیا بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے - ایک بار یہ ایک مثال قائم کر دے تو سوشل میڈیا بھی مہذب ڈھنگ سیکھ لے گا.

    ٹی وی پر ٹیکنا لوجی ، ترقی، خوشحالی اور ملک میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی بات ہونی چاہئے .مختلف شعبوں سے بہترین لوگ عوام کے سامنے لائے جائیں . ہمیں دنیا بھر میں سائنس، سماجی خدمات انجام دینے والوں ، ٹیکنا لوجی اور تعلیم کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کو کیوں نہیں دکھایا جاتا تا کہ نوجوان نسل درست راستہ اپنانے کے لئے اثر لے .

    ریٹنگ لینے کے لئے ہر ٹی وی چینل سیاسی خبروں تک محدود ہو گیا ہے۔ ڈرامہ چینلز پر بلاشبہ کچھ معیاری ڈرامے نشر ہو رہے ہیں لیکن ظاہر ہے ڈرامہ حقیقت نہیں ہوتا ۔
    ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے کسوٹی جیسے پروگرام دیکھ کر پروان چڑھے ہیں۔ سکول جانے سے پہلے مستنصر حسین تارڈ صاحب کی صبح کی نشریات ہمیں ایک چھوٹی سی بات روز سکھا دیتی تھیں۔ نیلم گھر کی طرح بہت سے معلوماتی پروگرام ہماری معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔

    نوجوان نسل کو میٹا ورلڈ ، این ایف ٹی، کرپٹو، گیمنگ اور بلاک چین کی معلومات پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ایک بھی ایسا پروگرام نہیں جو آرٹیفشل انٹیلیجنس یا آگمینٹڈ رئیلٹی کے بارے میں معلومات دے۔
    دنیا تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور ہم ترقی پذیر سے بھی زوال کی طرف پتھر کے زمانے کی طرف کا سفر کر رہے ہیں۔

    ہم وقت کا دھارا نہیں موڑ سکتے مگر ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مین سٹریم ٹی وی کی نشریات کا معیار بہتر بنا سکتے ہیں۔

    نوجوانوں کو آنیوالے کل کے لئے تیار کریں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
    ہم کس گلی جا رہے ہیں----
    تحریر: ہشام سرور ترجمہ: روبینہ یاسمین ہماری نوجوان نسل کو ازراہ کرم آنے والے کل کے لئے تیار کریں . پاکستانی ٹی وی چینلز بہت مایوس کن کام کر رہے ہیں . چوبیس گھنٹے منفی یا سیاسی خبریں کم پروپیگنڈا زیادہ چلتا رہتا ہے - ہمارے پاس نفرت پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کے بجاے کوئی اچھی چیز نہیں جو ہم اپنے ناظرین کو دکھا سکیں ؟ سیاسی لوگ پہلے ہی یہ کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں . مرکزی میڈیا بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے - ایک بار یہ ایک مثال قائم کر دے تو سوشل میڈیا بھی مہذب ڈھنگ سیکھ لے گا. ٹی وی پر ٹیکنا لوجی ، ترقی، خوشحالی اور ملک میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی بات ہونی چاہئے .مختلف شعبوں سے بہترین لوگ عوام کے سامنے لائے جائیں . ہمیں دنیا بھر میں سائنس، سماجی خدمات انجام دینے والوں ، ٹیکنا لوجی اور تعلیم کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کو کیوں نہیں دکھایا جاتا تا کہ نوجوان نسل درست راستہ اپنانے کے لئے اثر لے . ریٹنگ لینے کے لئے ہر ٹی وی چینل سیاسی خبروں تک محدود ہو گیا ہے۔ ڈرامہ چینلز پر بلاشبہ کچھ معیاری ڈرامے نشر ہو رہے ہیں لیکن ظاہر ہے ڈرامہ حقیقت نہیں ہوتا ۔ ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے کسوٹی جیسے پروگرام دیکھ کر پروان چڑھے ہیں۔ سکول جانے سے پہلے مستنصر حسین تارڈ صاحب کی صبح کی نشریات ہمیں ایک چھوٹی سی بات روز سکھا دیتی تھیں۔ نیلم گھر کی طرح بہت سے معلوماتی پروگرام ہماری معلومات میں اضافہ کرتے تھے۔ نوجوان نسل کو میٹا ورلڈ ، این ایف ٹی، کرپٹو، گیمنگ اور بلاک چین کی معلومات پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ایک بھی ایسا پروگرام نہیں جو آرٹیفشل انٹیلیجنس یا آگمینٹڈ رئیلٹی کے بارے میں معلومات دے۔ دنیا تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے اور ہم ترقی پذیر سے بھی زوال کی طرف پتھر کے زمانے کی طرف کا سفر کر رہے ہیں۔ ہم وقت کا دھارا نہیں موڑ سکتے مگر ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مین سٹریم ٹی وی کی نشریات کا معیار بہتر بنا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو آنیوالے کل کے لئے تیار کریں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ ہم کس گلی جا رہے ہیں----
    0 Комментарии 0 Поделились 174 Просмотры
  • یونیورسل بیسک انکم (UBI) ایک ایسا سماجی فلاحی نظام ہے جس میں ایک معاشرے کے تمام افراد کو حکومت یا کسی دوسرے ادارے سے بغیر کسی شرط کے روزانہ کی بنیاد پر نقدی ادائیگی ملتی ہے، چاہے وہ روزگاری کی حیثیت یا آمدنی کی سطح کیا ہو۔ UBI کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے، اس کی ترجیح دینے والوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، بغیر کسی شرط کے سماجی برائی، عدم مساوات اور بیرونیت کی ترویج کرتے ہوئے۔ البتہ، اس ایڈیا پر ابھی بھی بحث کی جاتی ہے، اور UBI نظام کے لاگو کرنے کے ممکنہ خرچوں اور فوائد کے بارے میں بہت سی بحثیں ہیں۔

    UBI نظام کے لاگو کرنے کے چند ممکنہ فوائد اور نقصانات ہیں۔ یہاں کچھ دیے گئے ہیں:

    فوائد:
    - کمزوری کم کرنا: UBI تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرکے گریبیوں اور عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    - بیرونیت بڑھانا: UBI انفرادی خواہشات کو پیرو کرنے کی آزادی فراہم کر سکتا ہے، بغیر اسے مالی حوالے سے دلچسپی رکھنے پر توجہ دینے کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
    - بحران ختم کرنا: UBI کئی پروگرامز کی جگہ ایک ادائیگی کے ذریعے سے ویلفیئر نظام کو آسان بنا سکتا ہے۔
    - اقتصادی حرکت کو بڑھانا: UBI صارفین کی خریداری بڑھانے سے اقتصادی نمو کو بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے۔

    نقصانات:
    - بلند خرچ: UBI کی منفی جانب ایک بڑا خرچہ ہے، جسے ٹیکس بڑھانے یا دیگر حکومتی پروگرامز کاٹنے کے بغیر حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
    - کمزوری کی تحریکات کم کرنا: UBI افراد کی محنت کرنے کی تحریکات کو کم کر سکتا ہے، جو ترقی اور اقتصادی نمو کے کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
    - مہنگائی: UBI صحیح طریقے سے فنڈنگ نہیں کیا جائے یا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کے بغیر UBI مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔
    - لاگو کرنے کے چیلنجز: UBI کو لاگو کرنے کے لئے ایک پیچیدہ نظام کو جگہ دینا ہوگا، جو لاگو اور انتظام کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    یہ بات ذکر کرنے کے لائق ہے کہ UBI نظام کی لاگو کرنے کے لئے کئی مختلف تجویخیروں کے لئے فائدے اور نقصانات کے موازنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، اور مخصوص فوائد اور نقصانات تجویز کے تفصیلات پر منحصر ہونگے۔
    یونیورسل بیسک انکم (UBI) ایک ایسا سماجی فلاحی نظام ہے جس میں ایک معاشرے کے تمام افراد کو حکومت یا کسی دوسرے ادارے سے بغیر کسی شرط کے روزانہ کی بنیاد پر نقدی ادائیگی ملتی ہے، چاہے وہ روزگاری کی حیثیت یا آمدنی کی سطح کیا ہو۔ UBI کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے، اس کی ترجیح دینے والوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، بغیر کسی شرط کے سماجی برائی، عدم مساوات اور بیرونیت کی ترویج کرتے ہوئے۔ البتہ، اس ایڈیا پر ابھی بھی بحث کی جاتی ہے، اور UBI نظام کے لاگو کرنے کے ممکنہ خرچوں اور فوائد کے بارے میں بہت سی بحثیں ہیں۔ UBI نظام کے لاگو کرنے کے چند ممکنہ فوائد اور نقصانات ہیں۔ یہاں کچھ دیے گئے ہیں: فوائد: - کمزوری کم کرنا: UBI تمام شہریوں کو بنیادی اقتصادی تحفظ فراہم کرکے گریبیوں اور عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ - بیرونیت بڑھانا: UBI انفرادی خواہشات کو پیرو کرنے کی آزادی فراہم کر سکتا ہے، بغیر اسے مالی حوالے سے دلچسپی رکھنے پر توجہ دینے کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ - بحران ختم کرنا: UBI کئی پروگرامز کی جگہ ایک ادائیگی کے ذریعے سے ویلفیئر نظام کو آسان بنا سکتا ہے۔ - اقتصادی حرکت کو بڑھانا: UBI صارفین کی خریداری بڑھانے سے اقتصادی نمو کو بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے۔ نقصانات: - بلند خرچ: UBI کی منفی جانب ایک بڑا خرچہ ہے، جسے ٹیکس بڑھانے یا دیگر حکومتی پروگرامز کاٹنے کے بغیر حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ - کمزوری کی تحریکات کم کرنا: UBI افراد کی محنت کرنے کی تحریکات کو کم کر سکتا ہے، جو ترقی اور اقتصادی نمو کے کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ - مہنگائی: UBI صحیح طریقے سے فنڈنگ نہیں کیا جائے یا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کے بغیر UBI مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔ - لاگو کرنے کے چیلنجز: UBI کو لاگو کرنے کے لئے ایک پیچیدہ نظام کو جگہ دینا ہوگا، جو لاگو اور انتظام کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ یہ بات ذکر کرنے کے لائق ہے کہ UBI نظام کی لاگو کرنے کے لئے کئی مختلف تجویخیروں کے لئے فائدے اور نقصانات کے موازنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، اور مخصوص فوائد اور نقصانات تجویز کے تفصیلات پر منحصر ہونگے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 110 Просмотры
Расширенные страницы