• انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد

    مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی،

    صفحات:48، قیمت:100 روپے

    یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

    انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

    Iqbal Khursheed Thank you
    انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی، صفحات:48، قیمت:100 روپے یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔ Iqbal Khursheed Thank you
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 528 Visualizações
  • وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 805 Visualizações
  • برداشت :

    صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں

    Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    برداشت : صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگا لی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘ مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہو گا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔ قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے ۔ قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔ ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔ بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔ دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔ دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں Shared via Hina Iqbal Siddiqui
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 318 Visualizações
  • خطبۂ حج 2016 کا مکمل اردو ترجمہ
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس حٖظہ اللہ
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس، مولانا اجمل بھٹی ریسرچرز پیغام ٹی وی
    نظر ثانی: حافظ یوسف سراج ، ہیڈ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ، پیغام ٹی وی

    تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے معافی مانگتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ ہی کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ رب العزت گمراہ کر ڈالے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف اسی انداز میں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یقینًا ہم تیری تعریف کما حقہ ادا نہیں کر سکتے اور اے اللہ ہم کبھی کما حقہ تیرا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال ہم اللہ کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ جس سے آسمان کا ہر گوشہ زمین کا ہر کونہ اور سمندر و خشکی کی ہر ذرہ بھر جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی بے شمار رحمتیں ، بے بہا برکتیں اور ان گنت سلامتی نازل ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔
    بعد ازاں!
    لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘ (آل عمران:102)
    ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ (النساء:1)
    ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (احزاب:81-80)
    اے ابن آدم! تو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ یاد رکھ! قیامت کے بے حد طویل دن میں تجھے اس کا ثمرہ ملے گا اور آج کی اس محنت سے تو اس سخت دن میں خوش ہو جائے گا۔
    یاد رکھئے ! اگر انسان کو زندگی اور جہان کی تمام آسائشیں یکجا ہو کر بھی میسر آ جائیں لیکن اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آدمی تقویٰ سے خالی ہو تو اسے زندگی کی تمام آسائشوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہو سکے گا۔
    اے امت اسلامیہ!
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں ایک دوسرے کاجانشین اور خلیفہ بنا کر بے پناہ عزت اور شرف عطا فرمایا ہے۔ اللہ کا فرمانِ ذیشان ہے۔ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ (البقرۃ:30)
    اللہ تعالیٰ کا انسان کو زمین میں خلیفہ اور جانشین بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ زمین میں تعمیر و اصلاح کا کام کرے۔ نیکی اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لوگوں کے درمیان عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول مبعوث فرمائے ہیں تاکہ وہ عظیم پیغام لوگوں تک پہنچائے اور یوں لوگوں کے پاس اپنی غلط روش اور گمراہی کی کوئی حجت اور دلیل باقی نہ رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔‘‘ (النساء:165)
    اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مبعوث کردہ رسولوں کی تائید بڑی عظیم نشانیوں اور معجزات سے فرمائی ہے جو ان انبیاء کی نبوت کی سچائی پر بڑی واضح دلالت کرتی ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا۔‘‘(الحدید:25)
    پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کی طرف ہمارے پیارے نبی،محترم ، رسول مکرم، ساری اولادِ آدم کے سردار، تمام نبیوں کے امام اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ ہم نے تمہیں گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ (الاحزاب:45)
    آپ ﷺ سچے اور کھرے دین اسلام کے ساتھ مبعوث فرمائے گئے جس نے لوگوں کے لیے زندگی کا ہر راستہ روشن کر دیا اور خالص توحید کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شرک کی آلودگی اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بچا لیا۔ دین اسلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے جیسی مخلوق کی غلامی سے آزاد فرما کر خالق حقیقی کی غلامی سکھائی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے واضح ہدایت کا دروازہ کھولا اور کامیابی کی راہ کی طرف بہترین رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ لوگ ادھر ادھر رائیگاں بھٹکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر متوجہ ہو جائیں،اور یوں اپنی پیدائش کا حقیقی مقصد اور تخلیق انسانی سے وابستہ اللہ کی مقدس حکمت پوری کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (الذاریات:56)
    اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (انبیاء:25)
    دیکھئے، اس آیت مبارکہ سے کس قدر توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دراصل توحید ہی لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسی کے لیے رسولوں کو مبعوث کیا گیا اور اسی کی خاطر کتابیں نازل کی گئیں۔
    سو اے اللہ کے بندے! اپنے یکتا خالق کے منفرد و ممتاز راستے پر یکسوئی سے گامزن ہو جا۔ میرا مطلب ہے کہ حق اور ایمان کی راہ پر یکسو ہو جا۔
    اسلام دین حق لے کر آیا ہے، چنانچہ اب کسی مسلمان کو قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ اس دین میں شک کرے ۔ یاد رہے ، اب اللہ تعالیٰ دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں فرمائے گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    ’’یہ دین اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو خیر اور بھلائی کی ترغیب دلائےاور نجات اور کامیابی کی طرف انسانیت کی رہنمائی کرے۔ ‘‘
    اے بیت اللہ کے حاجیو!
    وہ وقت یاد کیجے کہ جب میرے اور آپ کے عظیم نبی محمد ﷺ ٹھیک اسی عظیم جگہ پر قیام پذیر ہوئے تھے، اسی مقدس جگہ پر کھڑے ہو کر
    آپؐ نے حقوق انسانی کا واضح منشور یعنی حجۃ الوداع کا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں آپ ﷺ نے دین اسلام کے بنیادی ارکان واضح فرمائے تھے اور جاہلیت کی خرافات ختم کرنے کا واضح اعلان فرما دیا تھا۔ اس خطبے میں رسول مکرم ﷺ نے لوگوں کی جانیں انتہائی محترم قرار دی تھیں۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہو ئے فرمایا تھا، آج دین کامل اور ،مکمل ہو گیا، دین کے تمام احکام بالکل واضح ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لیے پسند فرما لیا۔ اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو الوداعی کلمات سے ایسے اشارے دئیے کہ جس سے لگتا تھا ،یہ اس طرح کی آخری ملاقات ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔‘‘ (المائدہ:3)
    نبی کریم ﷺ نے اس مبارک دن میں کیسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا اور کیا ہی عمدہ نصیحتیں فرمائیں۔ گو یہ ایک مختصر خطبہ تھا تاہم دین کے تمام اصول اس میں سمٹ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہنوں میں دین اسلام کے أصول راسخ فرما دئیے تھے۔ اور بڑے اور بنیادی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے جزئیات اور تفصیلات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا تھا۔
    یقینا آپ ﷺ نے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کیے بڑی محنت اور کوشش فرمائی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے ایک نئی اور توانا امت جنم لے جو واضح اہداف کی حامل ہو اور جو عظیم اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو انسانوں کی گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی، انتشار اور تفرقے کے بعد اجتماعیت اور اتحاد نصیب فرمایا اور جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں حقوق انسان واضح فرمائے اور آزادی کا مفہوم بھی متعین فرما دیا۔ انسانی عزت و کرام کے اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو! تمھارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح اس ملک اور اس شہر میں یہ دن حرمت والا ہے۔‘‘
    اسلام نے ان پانچ ضروری چیزوں کی حفاظت یقینی بنائی ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ٹھیک طرح چل ہی نہیں سکتی۔ اسلام نے دین، جان، مال، عقل اور عزت پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اسی لیے ہے تاکہ لوگ امن وامان اور اطمینان کے ساتھ زندگی جی سکیں۔ دنیا وآخرت کے لیے اطمینان سے کام کر سکیں اور سارا معاشرہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح اتحاد واتفاق کے ساتھ قائم اور استوار رہ سکے۔ تاکہ لوگوں کے احوال سنور جائیں اور ان کے معاملات درست ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے عظیم خطبے میں مسلمان عورت کے بارے میں بھی نصیحت فرمائی۔ اس کے حقوق اور فرائض واضح فرماتے ہوئے یہ بھی واضح فرما دیا کہ ایک مسلمان عورت کو کیا ادا کرنا ہے اور بدلے میں کیاوصول کرنا ہے۔
    اے مسلمانو!
    اسلام نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اولادِ آدم ہونے کے لحاظ سے سب لوگ ایک جیسے ہیں۔ سب کے حقوق اور واجبات بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ کسی عربی اور عجمی میں تقویٰ کے سوا کوئی فرق نہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی نسبی یا نسلی برتری نہیں۔ کسی کو بر بنائے رنگ بھی کسی دوسرے پر کوئی برتری نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہی ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات:13) کسی عربی کو کسی عجمی پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت نہیں۔
    اسی طرح اسلام کا اقتصادی نظام بھی بڑا منفرد اور شاندار ہے۔ اس میں لوگوں کی انسانی اور فطری ضروریات کا خیال بڑے توازن کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جس کی مثال کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔‘‘ (القصص:77)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلام نے مالی لین دین کے عظیم اور مفید اصول وضع کیے ہیں جو سچائیاور عدل واحسان پر مبنی ہیں۔ ظلم، جہالت، دھوکے بازی، مکاری اور فریب کاری جیسی خرافات اور انسانوں کو گھاٹے میں ڈالنے والے معاملات سے روکتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’دو تجارت کرنے والے اپنے معاملے میں اس وقت تک آزاد ہیں جب تک وہ سودہ کر کے الگ نہ ہو جائیں۔ اگر وہ سچائی کی بنا پر تجارت کریں گے اور زیر تجارت چیز کے عیب و اوصاف بیان کردیں گے تو ان کے سودے میں برکت شامل کر دی جائے گی۔‘‘ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو دھوکہ دہی کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
    اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور لوگوں کے مال نا جائز طریقوں سے ہتھیانے سے بھی روکا ہے۔
    اسلام میں باہمی معاشرتی ذمے داریوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلامی نظام صرف مادی چیزوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ معاشرے کی تمام تر انفرادی اور اجتماعی، مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔ اسی طرح فرمایا: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔‘‘ (التوبہ:71)
    تکافل یعنی باہمی ذمے داریوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں تمام لوگ اپنی ذمے داریوں سمیت سما جاتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ (حجرات:13)
    پھر اس میں نیکی اور بھلائی کی تمام شکلیں بھی شامل ہیں۔ اسلام نے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔‘‘(الاسراء:23)
    اسلام نے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے سے بھی منع کیا ہے اور رشتہ داری توڑنے والے کو بد ترین وعید سنائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟‘‘(محمد:22)
    اسلام میں ہمسائے کے حقوق کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ خاص طور قرابت دار ہمسائے کے حقوق کی طرف اور زیادہ توجہ دلائی گئی ہے۔ عام طور پر تمام ہمسائیوں کے حقوق کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان نبوی ہے: ’’جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔‘‘
    اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کو بھی پوری طرح یقینی بنایا ہے چنانچہ اس نے انسانی خون کو بہت زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ دین میں جان کی حفاظت کو ایک عظیم مقصد بنایا گیا ہے۔ چنانچہ اسلام نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اسلام نے افراد کی تمام انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور ہر معاملے میں شرعی حدود وقیود واضح کر دی ہیں جو قطعی ، حتمی اور ناقابل تبدیل ہیں اور جن کو درست اور مفید ماننے پر آج کی جدید دنیا کا ہر شخص بھی مجبور ہیں، یہی حدود قیود ہیں جو اسلامی معاشرے میں مجرموں کو جرم سے روکے رکھتی ہیں اور مفسدوں کو مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتیں اور یوں اس طرح سے یہ اصول وضوابط زمین پر عدل قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ اسلام نے ان اصولوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ (المائدۃ:32)
    اسلام ہی وہ معتدل اور متوازن طریقہ لے کر آیا ہے کہ جس کے ذریعے سے بھلائیاں حاصل ہو جاتی ہیں اور برائیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے تعمیر وترقی اور فلاح و بہود کا حکم دیا ہے اور تعمیر وترقی کے تمام ااسباب و وسائل اپنانے کی نصیحت فرمائی ہے تاکہ مسلمان اپنے دینی اصول اسلام پر قائم رہتے ہوئے ہر جدید دور کے ساتھ چل سکیں اور جدید چیزوں کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح اسلام نے فساد پھیلانے والے تمام ذرائع سے رکنے کا حکم دیا ہے اور اسلام کے عظیم مفادات کا خیال کرتے ہوئے ادنی مفادات کو نظر انداز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح دین اسلام کے مفادات، امت کی اجتماعی کمائی ، اس کے مستقبل اور اس کی ناموس کا خیال نہ کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بد ترین وعید سنائی ہے اور ان مفادات پر اثر انداز ہونے سے روکا ہے۔
    اے مسلمان حکمرانو اے امت اسلامیہ کے لوگو!کیا شک ہے کہ
    آج ہماری امت اسلام اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ ان حالات میں ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام اختلافات چھوڑ کے اکٹھے ہو جائیں اور دل و جذبات میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی بھی معاملے میں کوئی سا بھی موقف اختیار کرنے سے پہلے باہم مشورہ کر لیں، معاملات کو دیکھنے کا انداز ایک سا کر لیں اور اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کر لیں تاکہ یہ امت مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کامیاب حقیقی اعتبار سے کامیاب ہو سکے۔ ہمارے مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ مسئلۂ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح شام، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں ہمارے بھائیوں کی خستہ حالت زار بھی سب کے سامنے ہے۔ اس وقت ہم سب سے کو سب سے بڑھ کی باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اکٹھے بیٹھ کر اپنے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اخوت اسلامیہ کا اخوت و اتحاد اور یک جہتی و وحدت کا رنگ نظر آ سکے۔ یقینا ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح، امت کی فلاح ، امن وامان کی بقا اور وحدت کی ضیا حکمرانوں کے ساتھ عوام کے تعاون پر موقوف ہے، حکمرانوں کے گرد جمع ہونے پر اور حکمرانوں کا ہاتھ بٹانے پر منحصر ہے۔
    مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے کندھے پر پڑنے والی بھاری امانت کا احساس کریں اور بھر پور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وہ ذہن نشین کر لیں کہ اختلافات اور نزاع کا باعث بننے والے تمام جدید مسائل کو حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور انہیں حل کرنے کا بہترین طریقہ باہممذاکرات اور باہمی تعاون، مشورہ، عدل اور ظلم کا خاتمہ ہے۔
    اے امت اسلامیہ!
    عدل اسلام کی عظیم بنیاد اور اساس ہے۔ یہ بہترین ترازو ہے۔ یہ رسولوں کا پیغام ہے۔ یہ رب العالمین کا حکم ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘(النحل:90) اسی طرح فرمایا: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو‘‘.(النساء:35) فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(الحدید:25)
    اسلام نے تمام تر اصول اور ضابطوں میں عدل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ یہ اس لیے کہ عدل بذات خود بڑی اہم چیز ہے اور اس کے نتائج بڑے عمدہ ہیں۔ عدل کے ذریعے ہی انسانوں کی زندگی بھلی بن سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نیکی پھل پھول اور پھیل سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے خوشبختی حاصل ہو سکتی ہے اور عین اسی پر امت کی خیر وہدایت، بقا اور فلاح منحصر ہے۔ عدل سے بھلائی پھیلتی ہے اور نیکی بڑھتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں سکون اور سرور آ جاتا ہے اور لوگوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔
    اسلام نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو بھی عظیم عبادت قرار دیا ہے اور اس کی بھی خوب ترغیب دلائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:110)
    مسلمانو!
    تمہارا دین باہمی لین دین اور باہمی برتاو کا دین ہے، انصاف اور رحمت کا دین ہے۔ یہ بہترین رویے سکھانے والا دین ہے، عمدہ فیصلے کرنے اور درست عمل اپنانے کا دین ہے۔ اسلام بھلے برتاؤ کے ذریعے ہی تو پھیلا ہے۔ اس طرح کے برتاؤ کے ذریعے کہ جس کے اصول اسلام نے وضع کیے ہیں اور جنہیں اسلام کے باشندوں نے اپنایا ہے۔ جیسے عدل، احسان، سچائی، امانت اور بھلے اخلاق۔
    اسلام نے اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے حوالے سےبھی بہترین اور عمدہ ترین نمونہ فراہم کرنے کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ اے لوگو! لوگوں نےتمھارے نبی محمد ﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ ایسے ہی اوصاف حمیدہ ، خصائلِ پاکیزہ اور محاسنِ عظیمہ سے متصف انسان تھے اور ان کی ذاتِ والا صفات میں یہ ساری صفات موجود ہیں۔ چنانچہ وہ ان زندہ نظر آتی مثالوں پر ایمان لائے، ان کے دل ودماغ نے ان اعلیٰ صفات کو بے ساختہ قبول کیا اور ان کے جذبات و احساسات نے انہیں بھلا سمجھا۔ پھر لوگوں نے ان صفات کو اپنانا شروع کیا اور اپنی زندگی میں نافذ کر دکھایا۔ آپ ﷺ لوگوں کے لیے بہترین استاد، بہترین نمونہ اور تربیت دینے والے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا‘‘(الاحزاب:21) اسی طرح فرمایا: ’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘ (الانبیاء:107)
    اے مسلمان نوجوانو!
    آج کے دور میں جن مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے ان میں ایک نمایاں مصیبت زمین فساد برپا کرنے کی کئی شکلیں ظاہر ہونا ہے جنہیں ہم مجمل طور پر دہشتگردی کا نام دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ دہشتگردی کہ جس کی برائی بڑی بڑی قوموں، نسلوں اور مذاہب میں سرایت کر چکی ہے۔ اس برائی کو کسی قوم ، کسی دین، کسی ثقافت یا کسی ملک کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دہشتگردی کی تہمت اسلام کے نام بھی قطعا نہیں لگائی جا سکتی۔
    امت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ باشندوں کو شیطان نے حق سے پھیر لیا ہے اور راہ راست سے بھٹکا دیا ہے۔ اس طرح وہ دین اسلام کے اعتدال پسند طریقے سے ہٹ گئے ہیں اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگانے میں جلد بازی کرنے لگے۔ ہیں یقینًا یہ رویہ بڑے ہولناک نتائج سامنے لانے والا ہے۔ تکفیر سے مؤمنوں کے دل لرز اٹھتے ہیں اور مسلمانوں کی جانیں کانپ اٹھتی ہیں۔ کس قدر بے خوف لوگ ہیں کہ جنھوں نے مسلمانوں کا کافر قرار دیا ہے اور ان کی محترم اور محفوظ جانوں پر حملہ کرنا جائز سمجھا، انھوں نے اسلام کے عطا کردہ حرمت والے معاہدے توڑ ڈالے ہیں، زمین میں فساد برپا کیا ہے ۔ دھماکے کیے ہیںاور توڑ پھوڑ کی ہے۔
    معصوم جانوں کو قتل کیا ہے، مسلمان اور غیر مسلم امن پسند شہریوں کو ڈرایا دھمکایا ہے، اللہ کی کتاب، سنت رسول ﷺ اور امت کے علما کے اجماع کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جو سب ان ناپاک اور بد ترین اعمال کو نا جائز قرار دینے پر متفق ہیں۔
    تو مسلمان نوجوانو!
    آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ ہی امت کا سرمایہ اور آپ ہی اس کا مستقبل ہو۔ سو لازم ہے کہ ہر اس راستے سے بچو جو امت اسلامیہ کی صفیں بکھیرنے، تفرقہ بازی پھیلانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والا ہو۔ جان رکھو کہ امت میں گمراہی اور انحراف پھیلانے کے اسباب میں سے قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی کرنا بھی ہے۔ یہ بہت بڑی مصیبت اور بڑا ہلاکت خیز رویہ ہے۔
    یاد رکھو! نبی اکرم ﷺ نے بڑے زور دار انداز میں اور بہت ہولناک الفاظ میں اس بڑے گناہ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے آپ کو تقویٰ، علم اور سمجھ کے ذریعے ہر وقت ان چیزوں سے محفوظ رکھو۔ امت کے علما کی طرف رجوع کرو اور ان کی باتیں دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ مانو۔
    امت کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں تو تم ساری دنیا کو اپنے دین کی بھلائیاں، اس کی نرمی، اس کی رحمت اور اس کے اخلاق حسنہ دکھاؤ۔ دوسروں کے لیے بہترین نمونہ بنو۔ اپنے فارغ اوقات کا بھر پور فائدہ اٹھاؤ، اپنی صلاحیتیں ان اعمال میں صرف کرو جن میں امت اسلامیہ کی فلاح وبہبود ہو، اسی میں تمھاری اور اسلام کی عزت ہے اور اسی میں دنیا وآخرت میں آپ کا فائدہ ہے ۔
    اے تربیت دینے والو!
    بھلے اخلاق تمام آسمانی شریعتوں کا مرکز ومحور اور جوہر ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی اخلاق درست کرنا ہی تھا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے،‘‘۔ (الجمعہ:2)
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ : ’’اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘ (القلم:4)
    اسلام نے لوگوں کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور نیکی پر نفوس کی تربیت کرنے کو اپنی ترجیحات میں اولیت دی ہے۔ چنانچہ عظیم دینی اخلاق پر نفس کی تربیت اسلام کا طریقہ ہے اور یقینا اسی طرح سے لوگوں کو سکون اور چین اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:10-7)
    اسی تربیت کی وجہ سے ہی لوگ افضلیت میں ایک دوسرے سے بڑھ سکتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے: تم میں بہترین وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق کا حامل ہے‘‘
    مسلمانوں کے بعض معاشروں کو عملی اعتبار سے ان حسین اصولوں سے دوری کا سامنا ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیز ہے اور ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اے والدین، اے تربیت دینے والو! آپ کے سر پر بچوں کی بھلی اور اخلاق پر مبنی تربیت کی عظیم ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں کہ جس میں برائی اور فتنے کے اسباب عام ہو چکے ہیں۔ آج جنگ نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے اور وہ اصول ومبادئ اور اخلاق کی جنگ بن چکی ہے۔
    اے اسلام کے علما!
    آپ انبیا کے وارث ہو، انبیا کے پیغام کے حامل ہو، آپ پر ساری امت کی فلاح وبہبود منحصر ہے۔ سو سنو! امت میں اختلافات پھیلانے کا سبب مت بنو۔ بھلائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرو، حق بیان کرو، باطل کی حمایت مت کرو، لوگوں کو راہ دکھاؤ، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق فتوے دو، نہ تشدد کرو اور نہ حد سے زیادہ نرمی برتو۔ اللہ کا دین تشدد اور نرمی کے مابین رہتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے۔‘‘ (البقرۃ:143)
    لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور ان کی مشکلات دور کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں‘‘(الحج:78) رسول مکرم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک اپنانے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے آسان چیز اختیار فرمائی۔ الا یہ کہ آسان چیز گناہ پر مشتمل ہو۔
    اے اللہ کی طرف بلانے والو!
    اللہ کی طرف بلانا انبیا اور رسولوں کا کام ہے۔ تو آپ دعوت کے معاملے صحیح طریقہ اپناؤ۔ علم، سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ دعوت دو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ادع إلے سبیل ربک ... أحسن‘‘
    اسی طرح فرمایا: ’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘ (آل عمران:159) دوسروں کے لیے اچھا نمونہ بنو۔ جنہیں دعوت دے رہے ہو، ان پر رحم کرو، بھلے انداز سے گفتگو اور بحث کرنا آپ کی دعوت کا اسلوب ہونا چاہیے۔ علم کو اپنا اسلحہ بنائیے۔ لوگوں کی حق کے ذریعے رہنمائی کرنا اپنا ہدف بنائیے۔ فرقہ وارانہ رویے سے بچئے! نئے فرقے اور گروہ ایجاد کرنے سے باز رہئے۔ الگ ہونے اور نئی شناخیں بنانے سے گریز کیجے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔‘‘ (آل عمران:103) اسی طرح فرمایا: ’’آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی۔‘‘ (الانفال:46)
    اے میڈیا کے لوگو! اے سوشل میڈیا کے حاملو!
    میڈیا، میڈیا کے ذرائع اور میڈیا کی سائیٹس کو دین کے فائدے کے لیے، اس کا دفاع کرنے کے لیے برتو ۔ اس کی خیر اور بھلائیاں بیان کرنے میں میڈیا استعمال کرنے کا اہتمام کرو۔ الفاظ کے استعمال میں ذمہ داری مظاہرہ کرو، اپنی بات پر قائم رہنا سیکھو اور سچائی سے کام لو۔ قلم کی ذمہ داری کو سمجھو۔ حقیقت پسندی سے کام لو۔ با مقصد طریقۂ تحریر اپناؤ۔ ہلچل مچانے والی تحریروں سے، افواہوں سے اور تنقید برائے تنقید سے دور رہو۔ ان ذرائع کو بنانے والا بناؤ بگاڑنے والا نہ بناؤ۔ جمع کرنے والا بناؤ، تفرقہ پھیلانے والا نہ بناؤ۔ قوت پھیلانے والا بناؤ، کمزور کرنے والا نہ بناؤ۔
    اے بیت اللہ کے حاجیو!
    آپ حرمت والے شہر میں ہیں۔ اس کی عظمت کو جانو اور اس کی تقدس ذہن نشین کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے اس محترم شہر کو ایسی خصوصیات سے مختص فرمایا ہے کہ جو کسی دوسرے شہر کو نہیں ملیں۔ یہ امن والا ہے، محترم ہے اور قیامت تک یوں ہی رہے گا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’ جو اِس (مکہ) میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔‘‘
    یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی، فرمان الٰہی ہے: ’’"پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔‘‘ (ابراہیم:35) اللہ تعالیٰ اس شہر کو اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔‘‘ (الحج:27) حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوـ میں حاضر ہوں۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف بھی تیری ہی ہے اور ساری نعمتیں بھی تیری اور ساری بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد اللہ کے انبیا، رسول اور اللہ کے بندے اسی طرح لبیک کہتے رہے۔
    اللہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے راضی ہوتے ہوئے اور محبت کرتے ہوئے اس پاکر پر لبیک کہا۔ پھر جب انہوں اللہ کو پکارا تو اللہ ان کے نفس کی نسبت ان سے زیادہ قریب تھا۔
    اللہ کے گھر کے حاجیو!
    دیکھو! تم اللہ کے امن والے شہر میں آئے ہو، تمھارے کے لیے راستے آسان کر دیے گئے ہیں۔ آپ کی مشکلات آسان کر دی گئی ہیں۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو! مزید فضل وکرم کا سوال کرو! یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ اللہ کے نازل کردہ امن کی وجہ سے امن والا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور قسم ہے اِس پرامن شہر (مکہ) کی۔‘‘(التین:3) اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حرمت والا اور محترم ہے۔ اس کے امن کو تباہ کرنے سے بچو۔ اس کے مقامات کا احترام کرو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج:32) اسی طرح فرمایا: ’’یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے‘‘ (الحج:30)
    عبادت گاہوں کا صاف ستھرا ماحول آلودہ کرنے سے اجتناب کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (الحج:25)
    حرمین کا امن اور حجاج کی سلامتی ایسی سرخ لائنیں ہیں جن سے آگے بڑھنا، سیاسی بینرز اٹھانا یا فرقہ وارانہ نعرے لگانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    اس ملک پر اللہ کا فضل وکرم ہے کہ اس ملک کو اس نے حکمت والی قیادت مہیا فرمائی ہے۔ جو حرمین کی خدمت اور نگہبانی کے ذریعے شرف حاصل کرتی ہے۔
    حکومت نے خدمات کا طویل سلسلہ تیار کر رکھا ہے اور ہر قسم کی ممکنہ کوشش کی ہے تاکہ حرمین میں آنے والے امن وامان اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادت سر انجام دے سکیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اجمل بھٹی صاحب
    اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم سلمان بن عبدالعزیز کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کی کاوشوں کو بابرکت بنائے۔ اس کی تمام کاوشوں کو اس کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے اور اسے صحت و عافیت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم اس کے دونوں نائبین اور تمام ساتھیوں کو اپنی رضا اور خوشنودی والے کام سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس طرح ہم ہر اس شخص کے لیے دعا گو ہیں جس نے حج کی ادائیگی کو آسان بنانے میں اپنی خدمات پیش کیں اور حجاج کرام کو ادائیگی حج میں اطمینان و سکون فراہم کیا۔ ان سب کے سرخیل امیر حج اور امیر مکہ کو اللہ حاجیوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔
    اسی طرح بہادر سیکورٹی فورسز کے اراکین کو بھی اللہ جزائے خیر سے نوازے، جنہوں نے حجاج کرام کی خدمت اور ہماری ملکی حدود کی حفاظت کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں قبول فرمائے اور ان کی کوششوں کو بابرکت بنائے۔
    ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے قول و عمل کی درستی کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ ان کی کاوشوں کو خیر و برکت کا باعث اور اجر عظیم کا سبب بنائے۔
    یہ اور ان کے دیگر بھائی جو حجاج کرام اور حرمین شریفین کی خدمت پر مامور ہیں۔ کوئی حجاج کرام کی راہنمائی کیلئے فتویٰ دے رہا ہے، کوئی دعوت و ارشاد کے لیے مقرر ہے، کوئی صحت و سلامتی کے لیے خدمات دے رہا ہے اور اس جیسی دیگر کئی ذمہ داریاں نبھانے والے کئی اور کتنے ہی لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔
    اے حجاج کرام!
    تمہارا آج کا دن بڑا عظیم اور مبارک دن ہے۔ نبی کریم eفرماتے ہیں: جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں، کسی اور دن عطا نہیں کرتے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر کا اظہار فرماتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے: ’’میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟‘‘
    اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میرے ان بندوں کو دیکھو کہ کس طرح میلے کپڑوں اور غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہیں، اے فرشتو! تم گواہ ہو جائو کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔‘‘
    لہٰذا آج خوب دعائیں مانگو۔ نبی کریم e فرماتے ہیں: ’’بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور وہ بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے اللہ سے کی ہے، وہ یہ ہے:
    لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شی ءٍ قدیر
    ’’اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
    لوگو! اپنے نبی کی سنت کا اہتمام کرو۔ عرفہ میں وقوف کرو۔ ابھی ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ جیسا کہ تمہارے نبی eنے کیا تھا اور فرمایا تھا: ’’مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو۔‘‘
    پھر مغرب کے بعد مزدلفہ چلے جائو، وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ آدھی رات کے بعد منیٰ جا کر جمرہ عقبہ کو کنکریاںمارو۔ پھر ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارو۔ جو منیٰ میں دو دن رہ کر واپس جانا چاہے وہ 11اور 12 تاریخ کو تمام جمرات کو کنکریاں مارے اور جو 13تاریخ کو بھی منیٰ رہنا چاہے وہ 13کو بھی کنکریاں مارے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ’’جو دو دنوں میں جلدی کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (13 واں دن بھی منیٰ میں گزارے) اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ جو متقی ہو۔‘‘
    جان لو کہ تمام راتوں میں بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے۔ مقامات مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت کے دوران خصوصی ہدایات و قوانین پر عمل کرو۔ تمام مناسک حج کی ادائیگی میں متعلقہ اداروں کی راہنمائی پر عمل کرو۔ دھکم پیل اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچو۔ آرام و سکون سے چلو اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ گناہ اور برائی میں ایک دوسرے کا ساتھ مت دو۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی زبان اور دیگر اعضاء کو کنٹرول میں رکھو۔ صبر، حوصلے ،خوشخبری اور حسن ظن سے کام لو۔ شکست خوردگی ، مایوسی اور نا امیدی سے بچو۔ کیونکہ اللہ کا دین ہی کامیاب ہے اور اللہ اپنے دین کا ، شہروں کا اور بندوں کا محافظ ہے۔ عزت اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کیلئے ہے اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
    اللہ کے بندو!
    تمہارا بہترین عمل، اللہ کے ہاں نہایت پاکیزہ اور درجات کو بلندی دینے والاعمل، اللہ کے رسول مصطفیٰ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔‘‘
    اے اللہ! اپنے نبی اور بندے ہمارے پیارے رسول محمد eپر درود و سلام بھیج۔ اے محمد eکی سفارش چاہنے والو، نبی پر درود و سلام بھیجو۔ اس وقت تک درود و سلام بھیجتے رہو کہ جب تک حج کرنے والے لبیک پکارتے رہیں۔ اللہ ذوالجلال نبی علیہ السلام پر اپنی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔
    اے اللہ! اپنے نبی کے خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ] اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور تاقیامت نیکی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے ارحم الراحمین! اپنے فضل و کرم سے هہمیں بھی معاف کر دے اور ہم سے راضی ہو جا۔
    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے دے۔ اسلام کی حفاظت فرما۔ کلمہ حق اور دین اسلام کو سر بلند کر دے۔ حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کو سلامتی عنایت فرما۔ اے اللہ! ملت اسلامیہ کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! مومن مردوں اور عورتوں، مسلمان مرد و خواتین کو معاف فرما دے۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ ان کے باہمی جھگڑے ختم فرما دے۔ انہیں ہدایت کی راہوں پر گامزن فرما۔ انہیں ان کے دشمن اور اپنے دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ انہیں ظاہری اور باطنی فتنوں اور برائیوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! دکھیوں کےد کھ دور فرما۔ پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دو رکر دے۔ مقروضوں کے قرض ادا کر دے۔ ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما دے۔ اے اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ۔ انہیں شریر لوگوں کے شر سے بچا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے ائمہ کرام اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ یامنان یا دیان! ہمارے حاکم سلمان اور اس کے دونوں نائبین کو ہر خیر و بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے ذوالجلال والاکرام۔ انہوں نے حرمین شریفین، مقامات مقدسہ اور حجاج کرام کے لیے جو خدمات سر انجام دیں، انہیں قبول فرما۔ انہیں ان کے میزانِ حسنات میں شمار فرما۔ اے اللہ! اے ذوالجلال والاکرام اس ملک کے امن و سکون، خوشحالی، عقیدے اور حاکموں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں کی حفاظت فرما۔ حرمین شریفین اور حجاج کرام کی حفاظت کی خدمات کی جزائے خیر عطا فرمائے۔
    ہماری سرحدوں کی حفاظت پر انہیں بہترین ثواب عطا فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے ملک، ہمارے مقامات مقدسہ اور امن و امان کو برباد کرنے کے منصوبے بنائے، اے اللہ! اس کے برے منصوبوں کو اس کے گلے کا ہار بنا دے اور اسے اس کی جان کی فکر میں ڈال دے۔ اس کی چالوں کو اس کی بربادی کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! امت اسلامیہ کی حالت زار بدل دے اور انہیں کتاب و سنت پر جمع کر دے۔ اے فضل و کرم اور عطا کرنے والے! اے اللہ! ہمارے حج کو حج مبرور اور ہماری سعی کو مقبول سعی بنا دے۔ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اے ارحم الراحمین! اے اللہ! ہمارے حاکم کو تمام اقوال و اعمال میں توفیق اور درستی عطا فرما۔ اے پروردگار اس کی عمر و عمل میں برکت فرما۔ ا س کے اعمال کو اپنی خوشنودی کا باعث بنا دے۔ اسے خیر خواہ ساتھی عطا فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات درست فرمادے۔ ان کی جانیں محفوظ فرما دے۔ ان کے دکھ دور کر دے۔ ان کے نوجوانوں کو ہدایت عطا فرما۔ بیماروں کو تندرستی دے دے۔ آزمائش میں گھرے ہووں کو عافیت سے نواز دے۔
    بندگانِ الٰہی! ﵃
    ہمارے عظیم مفتی اور جلیل القدر عالم کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا واجب ہے۔ جنہوں نے 35سال تک اس منبر سے خطبہ حج ارشاد فرمایا۔ انہوں نے 35سال امت کی راہنمائی کی اور ان سے خیر خواہی کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہیں ڈھیروں ثواب دے ۔ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت دے۔ اے اللہ !تو نے آج کے اس عظیم دن میں جتنی خیر و برکت، صحت و سلامتی، وسیع رزق اور جہنم سے آزادی رکھی ہے، ہمیں اس سے خوب سرفراز فرما اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جن کی بدولت تو اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے اور کہتا ہے: ’’جائو! میں نے تمہیں معاف کیا۔‘‘
    اے اللہ! مسلمانوں کی جانیں محفوظ فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا میں ہمارے مظلوم دینی بھائیوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارےفلسطینی بھائیوں کی مدد فرما۔ یہودی استعمار سے مسجد اقصیٰ کو آزادی عطا فرما اور اسے تاقیامت عظمت و شان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے شامی بھائیوں کا مددگار ہو جا۔ اے اللہ! وہ بڑے مظلوم ہیں ان کی مدد فرما۔ اے مظلوموں کی مدد فرمانے والے۔ اے اللہ! عراق، یمن ، اراکان اور تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کے حالات سنوار دے۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں اور دینی محافظوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارے ملک کی مدد فرما اور ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا۔ تمام اسلامی ممالک کو امن و سکون عطا فرما۔
    ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔‘‘(الحشر:10)
    ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرۃ:201)
    ’’اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘(البقرۃ:127)
    اے اللہ! ہماری ، ہمارے والدین، ہمارے اجداد اور تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما۔ بلاشبہ تو بڑا سننے والا، قریب اور دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔
    سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین (بشکریہ پیغام ٹی وی۔ واضح رہے امام حج الشیخ عبدالرحمٰن السدیس پاکستانی چینل پیغام ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیر میں ہیں۔)
    خطبۂ حج 2016 کا مکمل اردو ترجمہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس حٖظہ اللہ ترجمہ: محمد عاطف الیاس، مولانا اجمل بھٹی ریسرچرز پیغام ٹی وی نظر ثانی: حافظ یوسف سراج ، ہیڈ ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ، پیغام ٹی وی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے معافی مانگتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ ہی کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ رب العزت گمراہ کر ڈالے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف اسی انداز میں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی خوب تعریف بیان کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یقینًا ہم تیری تعریف کما حقہ ادا نہیں کر سکتے اور اے اللہ ہم کبھی کما حقہ تیرا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ بہرحال ہم اللہ کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ جس سے آسمان کا ہر گوشہ زمین کا ہر کونہ اور سمندر و خشکی کی ہر ذرہ بھر جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی بے شمار رحمتیں ، بے بہا برکتیں اور ان گنت سلامتی نازل ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔ بعد ازاں! لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘ (آل عمران:102) ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘ (النساء:1) ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (احزاب:81-80) اے ابن آدم! تو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ یاد رکھ! قیامت کے بے حد طویل دن میں تجھے اس کا ثمرہ ملے گا اور آج کی اس محنت سے تو اس سخت دن میں خوش ہو جائے گا۔ یاد رکھئے ! اگر انسان کو زندگی اور جہان کی تمام آسائشیں یکجا ہو کر بھی میسر آ جائیں لیکن اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آدمی تقویٰ سے خالی ہو تو اسے زندگی کی تمام آسائشوں کا ذرہ بھر فائدہ نہیں ہو سکے گا۔ اے امت اسلامیہ! اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں ایک دوسرے کاجانشین اور خلیفہ بنا کر بے پناہ عزت اور شرف عطا فرمایا ہے۔ اللہ کا فرمانِ ذیشان ہے۔ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ (البقرۃ:30) اللہ تعالیٰ کا انسان کو زمین میں خلیفہ اور جانشین بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ زمین میں تعمیر و اصلاح کا کام کرے۔ نیکی اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ لوگوں کے درمیان عدل قائم کرے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول مبعوث فرمائے ہیں تاکہ وہ عظیم پیغام لوگوں تک پہنچائے اور یوں لوگوں کے پاس اپنی غلط روش اور گمراہی کی کوئی حجت اور دلیل باقی نہ رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔‘‘ (النساء:165) اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مبعوث کردہ رسولوں کی تائید بڑی عظیم نشانیوں اور معجزات سے فرمائی ہے جو ان انبیاء کی نبوت کی سچائی پر بڑی واضح دلالت کرتی ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا۔‘‘(الحدید:25) پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کی طرف ہمارے پیارے نبی،محترم ، رسول مکرم، ساری اولادِ آدم کے سردار، تمام نبیوں کے امام اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ ہم نے تمہیں گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ (الاحزاب:45) آپ ﷺ سچے اور کھرے دین اسلام کے ساتھ مبعوث فرمائے گئے جس نے لوگوں کے لیے زندگی کا ہر راستہ روشن کر دیا اور خالص توحید کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شرک کی آلودگی اور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بچا لیا۔ دین اسلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے جیسی مخلوق کی غلامی سے آزاد فرما کر خالق حقیقی کی غلامی سکھائی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے واضح ہدایت کا دروازہ کھولا اور کامیابی کی راہ کی طرف بہترین رہنمائی فرمائی ہے، تاکہ لوگ ادھر ادھر رائیگاں بھٹکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف یکسو ہو کر متوجہ ہو جائیں،اور یوں اپنی پیدائش کا حقیقی مقصد اور تخلیق انسانی سے وابستہ اللہ کی مقدس حکمت پوری کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (الذاریات:56) اسی طرح فرمایا: ’’ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (انبیاء:25) دیکھئے، اس آیت مبارکہ سے کس قدر توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دراصل توحید ہی لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسی کے لیے رسولوں کو مبعوث کیا گیا اور اسی کی خاطر کتابیں نازل کی گئیں۔ سو اے اللہ کے بندے! اپنے یکتا خالق کے منفرد و ممتاز راستے پر یکسوئی سے گامزن ہو جا۔ میرا مطلب ہے کہ حق اور ایمان کی راہ پر یکسو ہو جا۔ اسلام دین حق لے کر آیا ہے، چنانچہ اب کسی مسلمان کو قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ اس دین میں شک کرے ۔ یاد رہے ، اب اللہ تعالیٰ دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں فرمائے گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ دین اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو خیر اور بھلائی کی ترغیب دلائےاور نجات اور کامیابی کی طرف انسانیت کی رہنمائی کرے۔ ‘‘ اے بیت اللہ کے حاجیو! وہ وقت یاد کیجے کہ جب میرے اور آپ کے عظیم نبی محمد ﷺ ٹھیک اسی عظیم جگہ پر قیام پذیر ہوئے تھے، اسی مقدس جگہ پر کھڑے ہو کر آپؐ نے حقوق انسانی کا واضح منشور یعنی حجۃ الوداع کا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں آپ ﷺ نے دین اسلام کے بنیادی ارکان واضح فرمائے تھے اور جاہلیت کی خرافات ختم کرنے کا واضح اعلان فرما دیا تھا۔ اس خطبے میں رسول مکرم ﷺ نے لوگوں کی جانیں انتہائی محترم قرار دی تھیں۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہو ئے فرمایا تھا، آج دین کامل اور ،مکمل ہو گیا، دین کے تمام احکام بالکل واضح ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لیے پسند فرما لیا۔ اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو الوداعی کلمات سے ایسے اشارے دئیے کہ جس سے لگتا تھا ،یہ اس طرح کی آخری ملاقات ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔‘‘ (المائدہ:3) نبی کریم ﷺ نے اس مبارک دن میں کیسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا اور کیا ہی عمدہ نصیحتیں فرمائیں۔ گو یہ ایک مختصر خطبہ تھا تاہم دین کے تمام اصول اس میں سمٹ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ذہنوں میں دین اسلام کے أصول راسخ فرما دئیے تھے۔ اور بڑے اور بنیادی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے جزئیات اور تفصیلات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا تھا۔ یقینا آپ ﷺ نے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کیے بڑی محنت اور کوشش فرمائی تھی تاکہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے ایک نئی اور توانا امت جنم لے جو واضح اہداف کی حامل ہو اور جو عظیم اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو انسانوں کی گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی، انتشار اور تفرقے کے بعد اجتماعیت اور اتحاد نصیب فرمایا اور جہالت کے بعد علم و دانش عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں حقوق انسان واضح فرمائے اور آزادی کا مفہوم بھی متعین فرما دیا۔ انسانی عزت و کرام کے اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو! تمھارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح اس ملک اور اس شہر میں یہ دن حرمت والا ہے۔‘‘ اسلام نے ان پانچ ضروری چیزوں کی حفاظت یقینی بنائی ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ٹھیک طرح چل ہی نہیں سکتی۔ اسلام نے دین، جان، مال، عقل اور عزت پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ اسی لیے ہے تاکہ لوگ امن وامان اور اطمینان کے ساتھ زندگی جی سکیں۔ دنیا وآخرت کے لیے اطمینان سے کام کر سکیں اور سارا معاشرہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح اتحاد واتفاق کے ساتھ قائم اور استوار رہ سکے۔ تاکہ لوگوں کے احوال سنور جائیں اور ان کے معاملات درست ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے عظیم خطبے میں مسلمان عورت کے بارے میں بھی نصیحت فرمائی۔ اس کے حقوق اور فرائض واضح فرماتے ہوئے یہ بھی واضح فرما دیا کہ ایک مسلمان عورت کو کیا ادا کرنا ہے اور بدلے میں کیاوصول کرنا ہے۔ اے مسلمانو! اسلام نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اولادِ آدم ہونے کے لحاظ سے سب لوگ ایک جیسے ہیں۔ سب کے حقوق اور واجبات بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ کسی عربی اور عجمی میں تقویٰ کے سوا کوئی فرق نہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی نسبی یا نسلی برتری نہیں۔ کسی کو بر بنائے رنگ بھی کسی دوسرے پر کوئی برتری نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہی ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات:13) کسی عربی کو کسی عجمی پر تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت نہیں۔ اسی طرح اسلام کا اقتصادی نظام بھی بڑا منفرد اور شاندار ہے۔ اس میں لوگوں کی انسانی اور فطری ضروریات کا خیال بڑے توازن کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ جس کی مثال کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔‘‘ (القصص:77) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام نے مالی لین دین کے عظیم اور مفید اصول وضع کیے ہیں جو سچائیاور عدل واحسان پر مبنی ہیں۔ ظلم، جہالت، دھوکے بازی، مکاری اور فریب کاری جیسی خرافات اور انسانوں کو گھاٹے میں ڈالنے والے معاملات سے روکتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’دو تجارت کرنے والے اپنے معاملے میں اس وقت تک آزاد ہیں جب تک وہ سودہ کر کے الگ نہ ہو جائیں۔ اگر وہ سچائی کی بنا پر تجارت کریں گے اور زیر تجارت چیز کے عیب و اوصاف بیان کردیں گے تو ان کے سودے میں برکت شامل کر دی جائے گی۔‘‘ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو دھوکہ دہی کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور لوگوں کے مال نا جائز طریقوں سے ہتھیانے سے بھی روکا ہے۔ اسلام میں باہمی معاشرتی ذمے داریوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلامی نظام صرف مادی چیزوں تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ معاشرے کی تمام تر انفرادی اور اجتماعی، مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔ اسی طرح فرمایا: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔‘‘ (التوبہ:71) تکافل یعنی باہمی ذمے داریوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں تمام لوگ اپنی ذمے داریوں سمیت سما جاتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ (حجرات:13) پھر اس میں نیکی اور بھلائی کی تمام شکلیں بھی شامل ہیں۔ اسلام نے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔‘‘(الاسراء:23) اسلام نے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے سے بھی منع کیا ہے اور رشتہ داری توڑنے والے کو بد ترین وعید سنائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟‘‘(محمد:22) اسلام میں ہمسائے کے حقوق کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ خاص طور قرابت دار ہمسائے کے حقوق کی طرف اور زیادہ توجہ دلائی گئی ہے۔ عام طور پر تمام ہمسائیوں کے حقوق کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمان نبوی ہے: ’’جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے۔‘‘ اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کو بھی پوری طرح یقینی بنایا ہے چنانچہ اس نے انسانی خون کو بہت زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ دین میں جان کی حفاظت کو ایک عظیم مقصد بنایا گیا ہے۔ چنانچہ اسلام نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ اسلام نے افراد کی تمام انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور ہر معاملے میں شرعی حدود وقیود واضح کر دی ہیں جو قطعی ، حتمی اور ناقابل تبدیل ہیں اور جن کو درست اور مفید ماننے پر آج کی جدید دنیا کا ہر شخص بھی مجبور ہیں، یہی حدود قیود ہیں جو اسلامی معاشرے میں مجرموں کو جرم سے روکے رکھتی ہیں اور مفسدوں کو مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتیں اور یوں اس طرح سے یہ اصول وضوابط زمین پر عدل قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ اسلام نے ان اصولوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘ (المائدۃ:32) اسلام ہی وہ معتدل اور متوازن طریقہ لے کر آیا ہے کہ جس کے ذریعے سے بھلائیاں حاصل ہو جاتی ہیں اور برائیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ اسلام نے تعمیر وترقی اور فلاح و بہود کا حکم دیا ہے اور تعمیر وترقی کے تمام ااسباب و وسائل اپنانے کی نصیحت فرمائی ہے تاکہ مسلمان اپنے دینی اصول اسلام پر قائم رہتے ہوئے ہر جدید دور کے ساتھ چل سکیں اور جدید چیزوں کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح اسلام نے فساد پھیلانے والے تمام ذرائع سے رکنے کا حکم دیا ہے اور اسلام کے عظیم مفادات کا خیال کرتے ہوئے ادنی مفادات کو نظر انداز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح دین اسلام کے مفادات، امت کی اجتماعی کمائی ، اس کے مستقبل اور اس کی ناموس کا خیال نہ کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بد ترین وعید سنائی ہے اور ان مفادات پر اثر انداز ہونے سے روکا ہے۔ اے مسلمان حکمرانو اے امت اسلامیہ کے لوگو!کیا شک ہے کہ آج ہماری امت اسلام اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ ان حالات میں ہم پر لازم ہے کہ ہم تمام اختلافات چھوڑ کے اکٹھے ہو جائیں اور دل و جذبات میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی بھی معاملے میں کوئی سا بھی موقف اختیار کرنے سے پہلے باہم مشورہ کر لیں، معاملات کو دیکھنے کا انداز ایک سا کر لیں اور اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کر لیں تاکہ یہ امت مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کامیاب حقیقی اعتبار سے کامیاب ہو سکے۔ ہمارے مسائل میں سب سے نمایاں مسئلہ مسئلۂ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح شام، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں ہمارے بھائیوں کی خستہ حالت زار بھی سب کے سامنے ہے۔ اس وقت ہم سب سے کو سب سے بڑھ کی باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اکٹھے بیٹھ کر اپنے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اخوت اسلامیہ کا اخوت و اتحاد اور یک جہتی و وحدت کا رنگ نظر آ سکے۔ یقینا ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ معاشرے کی اصلاح، امت کی فلاح ، امن وامان کی بقا اور وحدت کی ضیا حکمرانوں کے ساتھ عوام کے تعاون پر موقوف ہے، حکمرانوں کے گرد جمع ہونے پر اور حکمرانوں کا ہاتھ بٹانے پر منحصر ہے۔ مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے کندھے پر پڑنے والی بھاری امانت کا احساس کریں اور بھر پور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وہ ذہن نشین کر لیں کہ اختلافات اور نزاع کا باعث بننے والے تمام جدید مسائل کو حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور انہیں حل کرنے کا بہترین طریقہ باہممذاکرات اور باہمی تعاون، مشورہ، عدل اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ اے امت اسلامیہ! عدل اسلام کی عظیم بنیاد اور اساس ہے۔ یہ بہترین ترازو ہے۔ یہ رسولوں کا پیغام ہے۔ یہ رب العالمین کا حکم ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘(النحل:90) اسی طرح فرمایا: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو‘‘.(النساء:35) فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘(الحدید:25) اسلام نے تمام تر اصول اور ضابطوں میں عدل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ یہ اس لیے کہ عدل بذات خود بڑی اہم چیز ہے اور اس کے نتائج بڑے عمدہ ہیں۔ عدل کے ذریعے ہی انسانوں کی زندگی بھلی بن سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نیکی پھل پھول اور پھیل سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے خوشبختی حاصل ہو سکتی ہے اور عین اسی پر امت کی خیر وہدایت، بقا اور فلاح منحصر ہے۔ عدل سے بھلائی پھیلتی ہے اور نیکی بڑھتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں سکون اور سرور آ جاتا ہے اور لوگوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔ اسلام نے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو بھی عظیم عبادت قرار دیا ہے اور اس کی بھی خوب ترغیب دلائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:110) مسلمانو! تمہارا دین باہمی لین دین اور باہمی برتاو کا دین ہے، انصاف اور رحمت کا دین ہے۔ یہ بہترین رویے سکھانے والا دین ہے، عمدہ فیصلے کرنے اور درست عمل اپنانے کا دین ہے۔ اسلام بھلے برتاؤ کے ذریعے ہی تو پھیلا ہے۔ اس طرح کے برتاؤ کے ذریعے کہ جس کے اصول اسلام نے وضع کیے ہیں اور جنہیں اسلام کے باشندوں نے اپنایا ہے۔ جیسے عدل، احسان، سچائی، امانت اور بھلے اخلاق۔ اسلام نے اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے حوالے سےبھی بہترین اور عمدہ ترین نمونہ فراہم کرنے کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ اے لوگو! لوگوں نےتمھارے نبی محمد ﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ ایسے ہی اوصاف حمیدہ ، خصائلِ پاکیزہ اور محاسنِ عظیمہ سے متصف انسان تھے اور ان کی ذاتِ والا صفات میں یہ ساری صفات موجود ہیں۔ چنانچہ وہ ان زندہ نظر آتی مثالوں پر ایمان لائے، ان کے دل ودماغ نے ان اعلیٰ صفات کو بے ساختہ قبول کیا اور ان کے جذبات و احساسات نے انہیں بھلا سمجھا۔ پھر لوگوں نے ان صفات کو اپنانا شروع کیا اور اپنی زندگی میں نافذ کر دکھایا۔ آپ ﷺ لوگوں کے لیے بہترین استاد، بہترین نمونہ اور تربیت دینے والے تھے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا‘‘(الاحزاب:21) اسی طرح فرمایا: ’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘ (الانبیاء:107) اے مسلمان نوجوانو! آج کے دور میں جن مصیبتوں کا ہمیں سامنا ہے ان میں ایک نمایاں مصیبت زمین فساد برپا کرنے کی کئی شکلیں ظاہر ہونا ہے جنہیں ہم مجمل طور پر دہشتگردی کا نام دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ دہشتگردی کہ جس کی برائی بڑی بڑی قوموں، نسلوں اور مذاہب میں سرایت کر چکی ہے۔ اس برائی کو کسی قوم ، کسی دین، کسی ثقافت یا کسی ملک کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دہشتگردی کی تہمت اسلام کے نام بھی قطعا نہیں لگائی جا سکتی۔ امت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ باشندوں کو شیطان نے حق سے پھیر لیا ہے اور راہ راست سے بھٹکا دیا ہے۔ اس طرح وہ دین اسلام کے اعتدال پسند طریقے سے ہٹ گئے ہیں اور لوگوں پر کفر کے فتوے لگانے میں جلد بازی کرنے لگے۔ ہیں یقینًا یہ رویہ بڑے ہولناک نتائج سامنے لانے والا ہے۔ تکفیر سے مؤمنوں کے دل لرز اٹھتے ہیں اور مسلمانوں کی جانیں کانپ اٹھتی ہیں۔ کس قدر بے خوف لوگ ہیں کہ جنھوں نے مسلمانوں کا کافر قرار دیا ہے اور ان کی محترم اور محفوظ جانوں پر حملہ کرنا جائز سمجھا، انھوں نے اسلام کے عطا کردہ حرمت والے معاہدے توڑ ڈالے ہیں، زمین میں فساد برپا کیا ہے ۔ دھماکے کیے ہیںاور توڑ پھوڑ کی ہے۔ معصوم جانوں کو قتل کیا ہے، مسلمان اور غیر مسلم امن پسند شہریوں کو ڈرایا دھمکایا ہے، اللہ کی کتاب، سنت رسول ﷺ اور امت کے علما کے اجماع کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جو سب ان ناپاک اور بد ترین اعمال کو نا جائز قرار دینے پر متفق ہیں۔ تو مسلمان نوجوانو! آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ ہی امت کا سرمایہ اور آپ ہی اس کا مستقبل ہو۔ سو لازم ہے کہ ہر اس راستے سے بچو جو امت اسلامیہ کی صفیں بکھیرنے، تفرقہ بازی پھیلانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والا ہو۔ جان رکھو کہ امت میں گمراہی اور انحراف پھیلانے کے اسباب میں سے قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں جلدی کرنا بھی ہے۔ یہ بہت بڑی مصیبت اور بڑا ہلاکت خیز رویہ ہے۔ یاد رکھو! نبی اکرم ﷺ نے بڑے زور دار انداز میں اور بہت ہولناک الفاظ میں اس بڑے گناہ سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے آپ کو تقویٰ، علم اور سمجھ کے ذریعے ہر وقت ان چیزوں سے محفوظ رکھو۔ امت کے علما کی طرف رجوع کرو اور ان کی باتیں دلائل اور واضح نشانیوں کے ساتھ مانو۔ امت کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں تو تم ساری دنیا کو اپنے دین کی بھلائیاں، اس کی نرمی، اس کی رحمت اور اس کے اخلاق حسنہ دکھاؤ۔ دوسروں کے لیے بہترین نمونہ بنو۔ اپنے فارغ اوقات کا بھر پور فائدہ اٹھاؤ، اپنی صلاحیتیں ان اعمال میں صرف کرو جن میں امت اسلامیہ کی فلاح وبہبود ہو، اسی میں تمھاری اور اسلام کی عزت ہے اور اسی میں دنیا وآخرت میں آپ کا فائدہ ہے ۔ اے تربیت دینے والو! بھلے اخلاق تمام آسمانی شریعتوں کا مرکز ومحور اور جوہر ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی اخلاق درست کرنا ہی تھا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے،‘‘۔ (الجمعہ:2) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ : ’’اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو‘‘ (القلم:4) اسلام نے لوگوں کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور نیکی پر نفوس کی تربیت کرنے کو اپنی ترجیحات میں اولیت دی ہے۔ چنانچہ عظیم دینی اخلاق پر نفس کی تربیت اسلام کا طریقہ ہے اور یقینا اسی طرح سے لوگوں کو سکون اور چین اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:10-7) اسی تربیت کی وجہ سے ہی لوگ افضلیت میں ایک دوسرے سے بڑھ سکتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے: تم میں بہترین وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق کا حامل ہے‘‘ مسلمانوں کے بعض معاشروں کو عملی اعتبار سے ان حسین اصولوں سے دوری کا سامنا ہے۔ یہ بڑی خطرناک چیز ہے اور ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ چنانچہ اے والدین، اے تربیت دینے والو! آپ کے سر پر بچوں کی بھلی اور اخلاق پر مبنی تربیت کی عظیم ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں کہ جس میں برائی اور فتنے کے اسباب عام ہو چکے ہیں۔ آج جنگ نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے اور وہ اصول ومبادئ اور اخلاق کی جنگ بن چکی ہے۔ اے اسلام کے علما! آپ انبیا کے وارث ہو، انبیا کے پیغام کے حامل ہو، آپ پر ساری امت کی فلاح وبہبود منحصر ہے۔ سو سنو! امت میں اختلافات پھیلانے کا سبب مت بنو۔ بھلائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرو، حق بیان کرو، باطل کی حمایت مت کرو، لوگوں کو راہ دکھاؤ، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق فتوے دو، نہ تشدد کرو اور نہ حد سے زیادہ نرمی برتو۔ اللہ کا دین تشدد اور نرمی کے مابین رہتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے۔‘‘ (البقرۃ:143) لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور ان کی مشکلات دور کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں‘‘(الحج:78) رسول مکرم ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک اپنانے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے آسان چیز اختیار فرمائی۔ الا یہ کہ آسان چیز گناہ پر مشتمل ہو۔ اے اللہ کی طرف بلانے والو! اللہ کی طرف بلانا انبیا اور رسولوں کا کام ہے۔ تو آپ دعوت کے معاملے صحیح طریقہ اپناؤ۔ علم، سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ دعوت دو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ادع إلے سبیل ربک ... أحسن‘‘ اسی طرح فرمایا: ’’(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘ (آل عمران:159) دوسروں کے لیے اچھا نمونہ بنو۔ جنہیں دعوت دے رہے ہو، ان پر رحم کرو، بھلے انداز سے گفتگو اور بحث کرنا آپ کی دعوت کا اسلوب ہونا چاہیے۔ علم کو اپنا اسلحہ بنائیے۔ لوگوں کی حق کے ذریعے رہنمائی کرنا اپنا ہدف بنائیے۔ فرقہ وارانہ رویے سے بچئے! نئے فرقے اور گروہ ایجاد کرنے سے باز رہئے۔ الگ ہونے اور نئی شناخیں بنانے سے گریز کیجے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔‘‘ (آل عمران:103) اسی طرح فرمایا: ’’آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی۔‘‘ (الانفال:46) اے میڈیا کے لوگو! اے سوشل میڈیا کے حاملو! میڈیا، میڈیا کے ذرائع اور میڈیا کی سائیٹس کو دین کے فائدے کے لیے، اس کا دفاع کرنے کے لیے برتو ۔ اس کی خیر اور بھلائیاں بیان کرنے میں میڈیا استعمال کرنے کا اہتمام کرو۔ الفاظ کے استعمال میں ذمہ داری مظاہرہ کرو، اپنی بات پر قائم رہنا سیکھو اور سچائی سے کام لو۔ قلم کی ذمہ داری کو سمجھو۔ حقیقت پسندی سے کام لو۔ با مقصد طریقۂ تحریر اپناؤ۔ ہلچل مچانے والی تحریروں سے، افواہوں سے اور تنقید برائے تنقید سے دور رہو۔ ان ذرائع کو بنانے والا بناؤ بگاڑنے والا نہ بناؤ۔ جمع کرنے والا بناؤ، تفرقہ پھیلانے والا نہ بناؤ۔ قوت پھیلانے والا بناؤ، کمزور کرنے والا نہ بناؤ۔ اے بیت اللہ کے حاجیو! آپ حرمت والے شہر میں ہیں۔ اس کی عظمت کو جانو اور اس کی تقدس ذہن نشین کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے اس محترم شہر کو ایسی خصوصیات سے مختص فرمایا ہے کہ جو کسی دوسرے شہر کو نہیں ملیں۔ یہ امن والا ہے، محترم ہے اور قیامت تک یوں ہی رہے گا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’ جو اِس (مکہ) میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔‘‘ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی، فرمان الٰہی ہے: ’’"پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔‘‘ (ابراہیم:35) اللہ تعالیٰ اس شہر کو اپنے نبی ابراہیم علیہ السلام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔‘‘ (الحج:27) حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوـ میں حاضر ہوں۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف بھی تیری ہی ہے اور ساری نعمتیں بھی تیری اور ساری بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد اللہ کے انبیا، رسول اور اللہ کے بندے اسی طرح لبیک کہتے رہے۔ اللہ نے انہیں بلایا تو انہوں نے راضی ہوتے ہوئے اور محبت کرتے ہوئے اس پاکر پر لبیک کہا۔ پھر جب انہوں اللہ کو پکارا تو اللہ ان کے نفس کی نسبت ان سے زیادہ قریب تھا۔ اللہ کے گھر کے حاجیو! دیکھو! تم اللہ کے امن والے شہر میں آئے ہو، تمھارے کے لیے راستے آسان کر دیے گئے ہیں۔ آپ کی مشکلات آسان کر دی گئی ہیں۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو! مزید فضل وکرم کا سوال کرو! یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ اللہ کے نازل کردہ امن کی وجہ سے امن والا ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اور قسم ہے اِس پرامن شہر (مکہ) کی۔‘‘(التین:3) اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حرمت والا اور محترم ہے۔ اس کے امن کو تباہ کرنے سے بچو۔ اس کے مقامات کا احترام کرو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج:32) اسی طرح فرمایا: ’’یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے‘‘ (الحج:30) عبادت گاہوں کا صاف ستھرا ماحول آلودہ کرنے سے اجتناب کرو۔ فرمان الٰہی ہے: ’’اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (الحج:25) حرمین کا امن اور حجاج کی سلامتی ایسی سرخ لائنیں ہیں جن سے آگے بڑھنا، سیاسی بینرز اٹھانا یا فرقہ وارانہ نعرے لگانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس ملک پر اللہ کا فضل وکرم ہے کہ اس ملک کو اس نے حکمت والی قیادت مہیا فرمائی ہے۔ جو حرمین کی خدمت اور نگہبانی کے ذریعے شرف حاصل کرتی ہے۔ حکومت نے خدمات کا طویل سلسلہ تیار کر رکھا ہے اور ہر قسم کی ممکنہ کوشش کی ہے تاکہ حرمین میں آنے والے امن وامان اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادت سر انجام دے سکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمل بھٹی صاحب اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم سلمان بن عبدالعزیز کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کی کاوشوں کو بابرکت بنائے۔ اس کی تمام کاوشوں کو اس کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے اور اسے صحت و عافیت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حاکم اس کے دونوں نائبین اور تمام ساتھیوں کو اپنی رضا اور خوشنودی والے کام سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس طرح ہم ہر اس شخص کے لیے دعا گو ہیں جس نے حج کی ادائیگی کو آسان بنانے میں اپنی خدمات پیش کیں اور حجاج کرام کو ادائیگی حج میں اطمینان و سکون فراہم کیا۔ ان سب کے سرخیل امیر حج اور امیر مکہ کو اللہ حاجیوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ اسی طرح بہادر سیکورٹی فورسز کے اراکین کو بھی اللہ جزائے خیر سے نوازے، جنہوں نے حجاج کرام کی خدمت اور ہماری ملکی حدود کی حفاظت کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیاں قبول فرمائے اور ان کی کوششوں کو بابرکت بنائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے قول و عمل کی درستی کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ ان کی کاوشوں کو خیر و برکت کا باعث اور اجر عظیم کا سبب بنائے۔ یہ اور ان کے دیگر بھائی جو حجاج کرام اور حرمین شریفین کی خدمت پر مامور ہیں۔ کوئی حجاج کرام کی راہنمائی کیلئے فتویٰ دے رہا ہے، کوئی دعوت و ارشاد کے لیے مقرر ہے، کوئی صحت و سلامتی کے لیے خدمات دے رہا ہے اور اس جیسی دیگر کئی ذمہ داریاں نبھانے والے کئی اور کتنے ہی لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ اے حجاج کرام! تمہارا آج کا دن بڑا عظیم اور مبارک دن ہے۔ نبی کریم eفرماتے ہیں: جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں، کسی اور دن عطا نہیں کرتے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر کا اظہار فرماتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے: ’’میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میرے ان بندوں کو دیکھو کہ کس طرح میلے کپڑوں اور غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہیں، اے فرشتو! تم گواہ ہو جائو کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔‘‘ لہٰذا آج خوب دعائیں مانگو۔ نبی کریم e فرماتے ہیں: ’’بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور وہ بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے اللہ سے کی ہے، وہ یہ ہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شی ءٍ قدیر ’’اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ لوگو! اپنے نبی کی سنت کا اہتمام کرو۔ عرفہ میں وقوف کرو۔ ابھی ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ جیسا کہ تمہارے نبی eنے کیا تھا اور فرمایا تھا: ’’مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو۔‘‘ پھر مغرب کے بعد مزدلفہ چلے جائو، وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرو۔ آدھی رات کے بعد منیٰ جا کر جمرہ عقبہ کو کنکریاںمارو۔ پھر ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارو۔ جو منیٰ میں دو دن رہ کر واپس جانا چاہے وہ 11اور 12 تاریخ کو تمام جمرات کو کنکریاں مارے اور جو 13تاریخ کو بھی منیٰ رہنا چاہے وہ 13کو بھی کنکریاں مارے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’جو دو دنوں میں جلدی کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے (13 واں دن بھی منیٰ میں گزارے) اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ جو متقی ہو۔‘‘ جان لو کہ تمام راتوں میں بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے۔ مقامات مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت کے دوران خصوصی ہدایات و قوانین پر عمل کرو۔ تمام مناسک حج کی ادائیگی میں متعلقہ اداروں کی راہنمائی پر عمل کرو۔ دھکم پیل اور دوسروں کو تکلیف دینے سے بچو۔ آرام و سکون سے چلو اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ گناہ اور برائی میں ایک دوسرے کا ساتھ مت دو۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی زبان اور دیگر اعضاء کو کنٹرول میں رکھو۔ صبر، حوصلے ،خوشخبری اور حسن ظن سے کام لو۔ شکست خوردگی ، مایوسی اور نا امیدی سے بچو۔ کیونکہ اللہ کا دین ہی کامیاب ہے اور اللہ اپنے دین کا ، شہروں کا اور بندوں کا محافظ ہے۔ عزت اللہ ،اس کے رسول اور مومنوں کیلئے ہے اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اللہ کے بندو! تمہارا بہترین عمل، اللہ کے ہاں نہایت پاکیزہ اور درجات کو بلندی دینے والاعمل، اللہ کے رسول مصطفیٰ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ اے اللہ! اپنے نبی اور بندے ہمارے پیارے رسول محمد eپر درود و سلام بھیج۔ اے محمد eکی سفارش چاہنے والو، نبی پر درود و سلام بھیجو۔ اس وقت تک درود و سلام بھیجتے رہو کہ جب تک حج کرنے والے لبیک پکارتے رہیں۔ اللہ ذوالجلال نبی علیہ السلام پر اپنی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اے اللہ! اپنے نبی کے خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ] اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور تاقیامت نیکی میں ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے ارحم الراحمین! اپنے فضل و کرم سے هہمیں بھی معاف کر دے اور ہم سے راضی ہو جا۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے دے۔ اسلام کی حفاظت فرما۔ کلمہ حق اور دین اسلام کو سر بلند کر دے۔ حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کو سلامتی عنایت فرما۔ اے اللہ! ملت اسلامیہ کو ہر بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! مومن مردوں اور عورتوں، مسلمان مرد و خواتین کو معاف فرما دے۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ ان کے باہمی جھگڑے ختم فرما دے۔ انہیں ہدایت کی راہوں پر گامزن فرما۔ انہیں ان کے دشمن اور اپنے دشمن پر غلبہ عطا فرما۔ انہیں ظاہری اور باطنی فتنوں اور برائیوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! دکھیوں کےد کھ دور فرما۔ پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دو رکر دے۔ مقروضوں کے قرض ادا کر دے۔ ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما دے۔ اے اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ۔ انہیں شریر لوگوں کے شر سے بچا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے ائمہ کرام اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ یامنان یا دیان! ہمارے حاکم سلمان اور اس کے دونوں نائبین کو ہر خیر و بھلائی کی توفیق عطا فرما۔ اے ذوالجلال والاکرام۔ انہوں نے حرمین شریفین، مقامات مقدسہ اور حجاج کرام کے لیے جو خدمات سر انجام دیں، انہیں قبول فرما۔ انہیں ان کے میزانِ حسنات میں شمار فرما۔ اے اللہ! اے ذوالجلال والاکرام اس ملک کے امن و سکون، خوشحالی، عقیدے اور حاکموں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں کی حفاظت فرما۔ حرمین شریفین اور حجاج کرام کی حفاظت کی خدمات کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہماری سرحدوں کی حفاظت پر انہیں بہترین ثواب عطا فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے ملک، ہمارے مقامات مقدسہ اور امن و امان کو برباد کرنے کے منصوبے بنائے، اے اللہ! اس کے برے منصوبوں کو اس کے گلے کا ہار بنا دے اور اسے اس کی جان کی فکر میں ڈال دے۔ اس کی چالوں کو اس کی بربادی کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! امت اسلامیہ کی حالت زار بدل دے اور انہیں کتاب و سنت پر جمع کر دے۔ اے فضل و کرم اور عطا کرنے والے! اے اللہ! ہمارے حج کو حج مبرور اور ہماری سعی کو مقبول سعی بنا دے۔ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ اے ارحم الراحمین! اے اللہ! ہمارے حاکم کو تمام اقوال و اعمال میں توفیق اور درستی عطا فرما۔ اے پروردگار اس کی عمر و عمل میں برکت فرما۔ ا س کے اعمال کو اپنی خوشنودی کا باعث بنا دے۔ اسے خیر خواہ ساتھی عطا فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات درست فرمادے۔ ان کی جانیں محفوظ فرما دے۔ ان کے دکھ دور کر دے۔ ان کے نوجوانوں کو ہدایت عطا فرما۔ بیماروں کو تندرستی دے دے۔ آزمائش میں گھرے ہووں کو عافیت سے نواز دے۔ بندگانِ الٰہی! ﵃ ہمارے عظیم مفتی اور جلیل القدر عالم کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا واجب ہے۔ جنہوں نے 35سال تک اس منبر سے خطبہ حج ارشاد فرمایا۔ انہوں نے 35سال امت کی راہنمائی کی اور ان سے خیر خواہی کا فریضہ ادا کیا۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہیں ڈھیروں ثواب دے ۔ان کی عمر، علم اور عمل میں برکت دے۔ اے اللہ !تو نے آج کے اس عظیم دن میں جتنی خیر و برکت، صحت و سلامتی، وسیع رزق اور جہنم سے آزادی رکھی ہے، ہمیں اس سے خوب سرفراز فرما اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جن کی بدولت تو اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے اور کہتا ہے: ’’جائو! میں نے تمہیں معاف کیا۔‘‘ اے اللہ! مسلمانوں کی جانیں محفوظ فرما۔ اے اللہ! پوری دنیا میں ہمارے مظلوم دینی بھائیوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارےفلسطینی بھائیوں کی مدد فرما۔ یہودی استعمار سے مسجد اقصیٰ کو آزادی عطا فرما اور اسے تاقیامت عظمت و شان عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے شامی بھائیوں کا مددگار ہو جا۔ اے اللہ! وہ بڑے مظلوم ہیں ان کی مدد فرما۔ اے مظلوموں کی مدد فرمانے والے۔ اے اللہ! عراق، یمن ، اراکان اور تمام علاقوں میں ہمارے بھائیوں کے حالات سنوار دے۔ اے اللہ! ہمارے حفاظتی دستوں اور دینی محافظوں کی مدد فرما۔ اے اللہ! ہمارے ملک کی مدد فرما اور ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا۔ تمام اسلامی ممالک کو امن و سکون عطا فرما۔ ’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔‘‘(الحشر:10) ’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرۃ:201) ’’اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘(البقرۃ:127) اے اللہ! ہماری ، ہمارے والدین، ہمارے اجداد اور تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما۔ بلاشبہ تو بڑا سننے والا، قریب اور دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین (بشکریہ پیغام ٹی وی۔ واضح رہے امام حج الشیخ عبدالرحمٰن السدیس پاکستانی چینل پیغام ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیر میں ہیں۔)
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 951 Visualizações
  • سکولزکوآج ایسے کونسے اقدامات کرنے چاہیےکہ مستقبل میں طلباء ایک *کارامد* انسان بن سکیں؟

    *عمر فاروق مفتی

    Umar Farooq Mufti
    سکولزکوآج ایسے کونسے اقدامات کرنے چاہیےکہ مستقبل میں طلباء ایک *کارامد* انسان بن سکیں؟ *عمر فاروق مفتی Umar Farooq Mufti
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 56 Visualizações
  • Does anyone has power to insult anyone ?

    سر میں نے پهلے آپ کے کهے کے مطابق ویڈیو پوسٹ کر دی تھی
    پهر آپ هی کے کهنے پر غور سے دیکھی
    اور میں اس نتیجے په پهنچا
    آپ نے انتهائ نا مناسب رویه اپنایا
    ممکن هے آپ اپنی دنیا کے بهت بڑے انسان هوں اور میری باتیں آپ کو چؤل لگیں هوں اور چولوں کا آپ کے پاس وقت نه هو
    کیونکه آپ کے پاس ایک بڑی دنیا هے خوش آمد کرنے والی بھی
    بهر حال مجھے جو چیز آپ کی اچھی لگی اس کی پهلے بھی تعریف کی اب بھی سراهتا هوں .....
    جیسے آپ نے مختصر سا میرا فیس بک وال وزٹ کیا اس رات
    اور آج بھی اس ادهورے تعارف کےبنا پر پهلی بات چیت میں انتهائ عزت افزائ سے نوازا .....
    ایسے هی میں آپ سے مستقبل کے لئے درخواست کروں گا که پلیز .. آپ سے بات کرنے والا ایک طرح کا نهیں هوتا ... مجھے اس کے بعد نه آپ کو فالو کرنا هے اور نه هی آپ کے دوستوں کو ایڈ ... جو میں دوست بنا چکا ان میں سے جن سے میں بات کر چکا هوں وه ٹھیک باقی آپ کے حوالے هر بنده ڈیس ایبل نهیں هوتا .... هر بنده گاؤں سے نهیں هوتا .... هر بنده آپ سے فیسبک سیکھنے نهیں آتا... یه لائیو اچھی چیز هے لیکن عزت نفس کا خیال ....
    آپ کو الله پاک قدرتی طور پر جو نوازا هے آپ صرف ان صلاحیتوں کو صرف استعمال کرتے هیں ... اور بس باقی آپ کوئ اتنی مهان شخصیت نهیں کے .!.. آپ کی هر الٹی سیدهی برداشت کری جائے....
    زرا ویوڈیو میں اپنے الفاظ په غور کرنا که آپ نے مجھے که دیا کوئ بم پهوڑنا چاهتے هو ؟؟؟ چاهتے کیا هو؟؟؟....... ارے آپ نے خود کیا بنا لیا ... زرا غور کیجئے گا .... کوئ اور آپ کو شائد ایسے نه کهے کیونکه یا تو آپ کے آگے غریب هوتا هے یا آپکا هم خیال.....
    اور میں نه تو غریب هوں اور نه هی آپ کا هم خیال......
    میں نه الله کے فضل سے کمتر هوں...
    کسی مولوی سے ملتے هیں تو بڑی توقعات رکھتے هیں لوگ که آپ کو پروٹوکول دے اور آپ کے ساتھ اچھا تعلق رکھے اور آپ کو آهسته آهسته دین سمجھائے اور اپنی باری بنده زرا سا کیا هچکچایا .... دے مار ساڑھے چار

    ماشاءالله انسانیت اور اخلاقیات لیکچرز کا مواد اور سرٹیفیکیٹ بھی صرف آپ جیسی شخصیات کے پاس هوتا هے

    ..
    بهرحال اس کے بعد آپ کو ان فالو کرکے
    آپ کا شکریه بھی ادا کرتا هوں که آپ کے توسط سے مجھے کچھ دوست ملے
    جن میں. مثال میں خصوصی طور پر ایک 60 ساله خصوصی نومسلم بزرگ بھی تھا ... آپ کے فالورز میں تقریبا متاثر لوگ ماشاءالله اس سے گائڈ لائن تو لیتے رهے که هم اچھی قوم کیسے بنیں ؟؟؟ لیکن توفیق نه هوئ کسی کو که اس کو صحیح طور سے کوئ سوره فاتحه هی یاد کروادے....
    بهر حال اتنی گهرائ میں گلے شکوؤں کی وجه ماضی کی پسندیدگی بهی هے
    خوش رهیں اگر مجھے موقع ملا تو شائد .. انگلش والا شو اویل کروں اگر دل نے مانا اور آپ نے بلاک نه کیا
    کوئ بات بری لگی هو معزرت جیسے آپ نے اپنی فهم کے مطابق عزت افزائ سے نوازا .... میں نے ویڈیو غور سے دیکھنے کے بعد اپنے مطابق بولا بهر حال پهر بھی معزرت پیشگی
    Does anyone has power to insult anyone ? سر میں نے پهلے آپ کے کهے کے مطابق ویڈیو پوسٹ کر دی تھی پهر آپ هی کے کهنے پر غور سے دیکھی اور میں اس نتیجے په پهنچا آپ نے انتهائ نا مناسب رویه اپنایا ممکن هے آپ اپنی دنیا کے بهت بڑے انسان هوں اور میری باتیں آپ کو چؤل لگیں هوں اور چولوں کا آپ کے پاس وقت نه هو کیونکه آپ کے پاس ایک بڑی دنیا هے خوش آمد کرنے والی بھی بهر حال مجھے جو چیز آپ کی اچھی لگی اس کی پهلے بھی تعریف کی اب بھی سراهتا هوں ..... جیسے آپ نے مختصر سا میرا فیس بک وال وزٹ کیا اس رات اور آج بھی اس ادهورے تعارف کےبنا پر پهلی بات چیت میں انتهائ عزت افزائ سے نوازا ..... ایسے هی میں آپ سے مستقبل کے لئے درخواست کروں گا که پلیز .. آپ سے بات کرنے والا ایک طرح کا نهیں هوتا ... مجھے اس کے بعد نه آپ کو فالو کرنا هے اور نه هی آپ کے دوستوں کو ایڈ ... جو میں دوست بنا چکا ان میں سے جن سے میں بات کر چکا هوں وه ٹھیک باقی آپ کے حوالے هر بنده ڈیس ایبل نهیں هوتا .... هر بنده گاؤں سے نهیں هوتا .... هر بنده آپ سے فیسبک سیکھنے نهیں آتا... یه لائیو اچھی چیز هے لیکن عزت نفس کا خیال .... آپ کو الله پاک قدرتی طور پر جو نوازا هے آپ صرف ان صلاحیتوں کو صرف استعمال کرتے هیں ... اور بس باقی آپ کوئ اتنی مهان شخصیت نهیں کے .!.. آپ کی هر الٹی سیدهی برداشت کری جائے.... زرا ویوڈیو میں اپنے الفاظ په غور کرنا که آپ نے مجھے که دیا کوئ بم پهوڑنا چاهتے هو ؟؟؟ چاهتے کیا هو؟؟؟....... ارے آپ نے خود کیا بنا لیا ... زرا غور کیجئے گا .... کوئ اور آپ کو شائد ایسے نه کهے کیونکه یا تو آپ کے آگے غریب هوتا هے یا آپکا هم خیال..... اور میں نه تو غریب هوں اور نه هی آپ کا هم خیال...... میں نه الله کے فضل سے کمتر هوں... کسی مولوی سے ملتے هیں تو بڑی توقعات رکھتے هیں لوگ که آپ کو پروٹوکول دے اور آپ کے ساتھ اچھا تعلق رکھے اور آپ کو آهسته آهسته دین سمجھائے اور اپنی باری بنده زرا سا کیا هچکچایا .... دے مار ساڑھے چار ماشاءالله انسانیت اور اخلاقیات لیکچرز کا مواد اور سرٹیفیکیٹ بھی صرف آپ جیسی شخصیات کے پاس هوتا هے .. بهرحال اس کے بعد آپ کو ان فالو کرکے آپ کا شکریه بھی ادا کرتا هوں که آپ کے توسط سے مجھے کچھ دوست ملے جن میں. مثال میں خصوصی طور پر ایک 60 ساله خصوصی نومسلم بزرگ بھی تھا ... آپ کے فالورز میں تقریبا متاثر لوگ ماشاءالله اس سے گائڈ لائن تو لیتے رهے که هم اچھی قوم کیسے بنیں ؟؟؟ لیکن توفیق نه هوئ کسی کو که اس کو صحیح طور سے کوئ سوره فاتحه هی یاد کروادے.... بهر حال اتنی گهرائ میں گلے شکوؤں کی وجه ماضی کی پسندیدگی بهی هے خوش رهیں اگر مجھے موقع ملا تو شائد .. انگلش والا شو اویل کروں اگر دل نے مانا اور آپ نے بلاک نه کیا کوئ بات بری لگی هو معزرت جیسے آپ نے اپنی فهم کے مطابق عزت افزائ سے نوازا .... میں نے ویڈیو غور سے دیکھنے کے بعد اپنے مطابق بولا بهر حال پهر بھی معزرت پیشگی
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 90 Visualizações
  • آج کل کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء، گرمیوں کی چھٹیوں کے سلسلہ میں 14 اگست تک فارغ ہیں۔ ان طلباء کو ان دو ماہ میں ایسی کونسی سکلز سیکھنی چاہئے جو مستقبل میں حقیقی طور پر ان کے کام آسکے؟
    آج کل کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء، گرمیوں کی چھٹیوں کے سلسلہ میں 14 اگست تک فارغ ہیں۔ ان طلباء کو ان دو ماہ میں ایسی کونسی سکلز سیکھنی چاہئے جو مستقبل میں حقیقی طور پر ان کے کام آسکے؟
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 86 Visualizações
  • ترقی یافتہ دنیا میں ”زینوفوبیا‘‘ یعنی اجنبی لوگوں کا خوف بڑھ رہا ہے۔ بعض جگہوں پر دن بدن وہ قوتیں مقبول ہو رہی ہیں، جو خود اجنبی لوگوں کے خوف میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی اس خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عام لوگوں کو باہر سے آنے والے تارکین وطن سے ڈرا رہی ہیں۔ سماج میں خوف پھیلا رہی ہیں۔ یہ خوف پھیلانے میں ان کو جو چھوٹی بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں۔
    ایک وجہ یہ ہے کہ تیسری دنیا کے پسماندہ اور غریب ممالک خصوصا ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے رنگ دار نسل کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی طریقے سے ترقی یافتہ ممالک میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ان میں سے اکثر کی یہاں پہچنے کی کہانی بڑی دردناک ہے۔
    ان میں سے کچھ لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر انتہائی پرخطر اور دشوار گزار راستوں سے کئی ممالک کی سرحدیں عبور کرکے یہاں پہنچے۔ کچھ لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں رات کے اندھیرے میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ان ممالک میں داخل ہوئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جنہوں نے غیر محفوظ اور ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں بھوکے پیاسے طویل سفر کیے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنے اور پُر خطر مہم جوئی کرنے والوں کے پہلو بہ پہلو ایسے خوش قسمت اور آسودہ حال لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے، جو قانونی طریقے سے ویزے لے کر ان ممالک میں داخل ہوئے؛ چنانچہ اب مغرب کے کئی شہروں اور بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں، فیکٹریوں سے لے کر پارلیمان تک ہر جگہ کوئی نہ کوئی رنگ دار نسل کا شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور کئی شہر ایسے بھی ہیں، جہاں کوئی سفید فام شخص کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔
    اب اس صورت حال کو بائیں بازو کے قدامت پسند اور نسل پرست لوگ اپنا تنگ نظر سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ مقامی لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ آپ کے روزگار چھین رہے ہیں۔ آپ کی زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں، اورآہستہ آہستہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائیں گے۔ یہ لوگ ان کے سامنے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ کر دینے والے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔
    ترقی یافتہ ممالک میں سفید فام لوگوں کے اندر ایک مدت سے کم از کم بچے پیدا کرنے کا رجحان ہے۔ اور کچھ لوگ تو سرے سے بچے پیدا ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بعض جگہوں پرسفید فاموں کی آبادی میں اضافے کے بجائے کمی ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے رجحان کی وجہ سے رنگ دار لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر یہ خوف پھیلایا جا رہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سفید فام اقلیت میں بدل جائیں گے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ رپورٹ گردش کر رہی ہے کہ سن دو ہزار پینتالیس تک امریکہ میں سفید فام لوگ اقلیت میں بدل جائیں گے۔
    اسی طرح دائیں بازو کے نسل پرست یورپ میں لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ افریقہ کی آبادی میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک بر اعظم افریقہ کی آبادی دو اعشاریہ چار بلین ہو جائے گی اور صدی کے آخر تک یہ تعداد چار بلین کو کراس کر جائے گی۔ پھر آپ چاہے کتنی دیواریں کھڑی کریں، تارکین وطن کو روکنے کی جتنے معاہدے مرضی کر لیں، یہ لوگ کسی نہ کسی طرح شمال کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوں جائیں گے، اور بر اعظم یورپ سیاہ فام اکثریت کا براعظم بن جائے گا۔ چنانچہ یہ خوف پھیلا کر دائیں بازو کے نسل پرست اور قوم پرست لوگ بڑی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، عوام کی حمایت اور ووٹ بٹورنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ چونکہ ان کو سماج میں جو جگہ اور مقبولیت ملی ہے، وہ نفرت کی وجہ سے مل رہی ہے اس لیے وہ بڑے منظم طریقے سے اس نفرت کو عام کرنے میں پوری طرح مصروف ہیں۔
    دوسری طرف رنگ دار نسل کے تارکین وطن کے اندر بھی اس صورتحال کے خلاف ایک خاص قسم کا رد عمل اور رجحانات پیدا ہو رہے ہیں۔ کچھ اس نفرت کے جواب میں نفرت کا درس دے رہے ہیں۔ کچھ محبت اور بھائی چارے کی بات کر رہے ہیں؛ چنانچہ ہر جگہ نسل، نسل پرستی، اور بین النسلی تعلقات پر گفتگو ہو رہی ہے۔ مباحث ہو رہے ہیں۔ ادب تخلیق کیا جا رہا ہے۔ اس باب میں تازہ ترین کتاب نیویارک یونیورسٹی میں جرنلزم کے پروفیسر سکیٹو مہتا نے لکھی ہے۔
    ”یہ زمین ہماری زمین ہے‘‘ نامی یہ کتاب اس تارکین وطن اور نسل پرستی کے باب میں تخلیق ہونے والے لٹریچر میں ایک جان دار اضافہ ہے۔ پرو فیسر لکھتا ہے ”امریکہ پر میں اپنے حق کا دعوی کرتا ہوں۔ یہ حق میں اپنے لیے، اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کے لیے مانگتا ہوں۔ ہم یہاں ہیں۔ ہم واپس نہیں جا رہے ہیں۔ ہم یہاں اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں، یہ اب ہمارا ملک ہے۔ ہمیں کسی کو اس کے نسل پرستانہ خوف پر کسی قسم کی کوئی یقین دہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ اب ہمارا امریکہ ہے، اور ہم کسی کو یہ ہم سے واپس لینے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ کتاب میں الفاظ اور لہجے کی سختی نمایاں ہے، اور پروفیسر اس کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ کتاب ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہو جانے پر غم وغصے کی حالت میں لکھی گئی ہے۔
    پروفیسرکا خیال ہے کہ ہجرت کے عمل کو مقامی طور پر غلط سمجھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو اس کے درست تاریخی اور سماجی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہجرت یا ترک وطن کے عمل کو گلوبل جسٹس یا عالمی انصاف کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔ غریب ملکوں سے آنے والے تارکین وطن قرض خواہ ہیں۔ وہ یہاں پر اپنا وہ قرض وصول کرنے آئے ہیں، جو ترقی یافتہ دنیا نے چکانا ہے۔ مغرب کی ترقی یافتہ اقوام ہماری یعنی رنگ دار نسلوں کی مقروض ہیں۔ انہوں نے نوآبادیاتی نظام کے تحت ہمارے ملکوں میں آکر لوٹ مار کی اور ہمارا سیاسی اور معاشی مستقبل تباہ کردیا۔
    تارکین وطن اپنا وطن اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ نکمے اور سست لوگ ہیں یا وہ اپنے وطن سے نفرت کرتے ہیں یا وہ مغرب کو لوٹنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ وہ اپنا وطن اس لیے ترک کرتے ہیں کہ تاریخ کے بوجھ نے اسے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔
    پروفیسر نوآبادیاتی تاریخ میں جھانک کر ان اسباب کا ذکر کرتا ہے، جس نے تیسری دنیا کے ملکوں کو برباد کر دیا۔ اس کے خیال میں نوآبادیاتی قوتوں کی لوٹ کھسوٹ، ماحولیاتی تبدیلی اور ”کارپوریٹ گریڈ‘‘ یعنی لالچ نے غریب ملکوں کے لوگوں کو ہجرت پر مجبورکیا۔ صدیوں کی لوٹ اور تباہی نے ان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان ملکوں میں آئیں جنہوں نے ان کے ملکوں میں گھس کر ان کو تاخت و تاراج کیا۔ ہمیں یہاں ہونے پر شرمندہ یا معذرت خواہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
    ہم آج یہاں ہیں اس لیے کہ کل تم وہاں تھے۔
    اجنبی کا خوف اور نفرت کی دیواروں کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دینے کے ساتھ ساتھ پروفیسر مایوسی کے اس اندھیرے میں امید کے کچھ چراغ بھی جلاتا ہے۔ وہ نیویارک شہر کو بطور ماڈل پیش کرتا ہے۔ جہاں تارکین وطن اور مقامی لوگ شیر وشکر ہیں، یہاں رنگ دار اور سفید فام لوگوں نے ایک دوسرے سے مل کر نئے سیاسی اور معاشی امکانات پیدا کیے ہیں۔
    اس شہر میں نسلی پرستی اور نسلی جھگڑے حیرت انگیز طور پر کم ہیں۔ یہ شہر کس قدر محفوظ ہو گیا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ اس شہر کو ہمیشہ تارکین وطن کی لہروں کا سامنا رہا ہے۔ اس شہر میں تارکین وطن اپنے خود کے کلچر، زبان اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ ایک طرف نیویارک شہر جیسے ماڈل شہر ہیں۔ دوسری طرف ایسے شہروں اور قصبوں کی بھی کمی نہیں ہے، جہاں خوف اور نفرت ہے۔ مگر تارکین وطن جہاں ہیں ان کو ڈٹ جانا چاہیے۔ یہ زمین اب ہماری زمین ہے۔ اب ہم نے یہاں ہی جینا مرنا ہے۔ اب ہم یہاں سے کئی جانے والے نہیں۔ اس لیے ان لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جو خوف پھیلا رہے ہیں۔ اور ان قوتوں کا ساتھ دینا چاہیے جو نفرت کے خلاف ہیں، اور بھائی چارے اور نسلی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔
    بشکر

    @hamid bashani khan
    ترقی یافتہ دنیا میں ”زینوفوبیا‘‘ یعنی اجنبی لوگوں کا خوف بڑھ رہا ہے۔ بعض جگہوں پر دن بدن وہ قوتیں مقبول ہو رہی ہیں، جو خود اجنبی لوگوں کے خوف میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی اس خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عام لوگوں کو باہر سے آنے والے تارکین وطن سے ڈرا رہی ہیں۔ سماج میں خوف پھیلا رہی ہیں۔ یہ خوف پھیلانے میں ان کو جو چھوٹی بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ تیسری دنیا کے پسماندہ اور غریب ممالک خصوصا ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے رنگ دار نسل کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی طریقے سے ترقی یافتہ ممالک میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ان میں سے اکثر کی یہاں پہچنے کی کہانی بڑی دردناک ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر انتہائی پرخطر اور دشوار گزار راستوں سے کئی ممالک کی سرحدیں عبور کرکے یہاں پہنچے۔ کچھ لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں رات کے اندھیرے میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ان ممالک میں داخل ہوئے۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جنہوں نے غیر محفوظ اور ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں بھوکے پیاسے طویل سفر کیے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنے اور پُر خطر مہم جوئی کرنے والوں کے پہلو بہ پہلو ایسے خوش قسمت اور آسودہ حال لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے، جو قانونی طریقے سے ویزے لے کر ان ممالک میں داخل ہوئے؛ چنانچہ اب مغرب کے کئی شہروں اور بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں، فیکٹریوں سے لے کر پارلیمان تک ہر جگہ کوئی نہ کوئی رنگ دار نسل کا شخص دکھائی دیتا ہے۔ اور کئی شہر ایسے بھی ہیں، جہاں کوئی سفید فام شخص کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔ اب اس صورت حال کو بائیں بازو کے قدامت پسند اور نسل پرست لوگ اپنا تنگ نظر سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ مقامی لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ آپ کے روزگار چھین رہے ہیں۔ آپ کی زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں، اورآہستہ آہستہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائیں گے۔ یہ لوگ ان کے سامنے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ کر دینے والے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں سفید فام لوگوں کے اندر ایک مدت سے کم از کم بچے پیدا کرنے کا رجحان ہے۔ اور کچھ لوگ تو سرے سے بچے پیدا ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بعض جگہوں پرسفید فاموں کی آبادی میں اضافے کے بجائے کمی ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے رجحان کی وجہ سے رنگ دار لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کو بنیاد بنا کر یہ خوف پھیلایا جا رہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سفید فام اقلیت میں بدل جائیں گے۔ مثال کے طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ رپورٹ گردش کر رہی ہے کہ سن دو ہزار پینتالیس تک امریکہ میں سفید فام لوگ اقلیت میں بدل جائیں گے۔ اسی طرح دائیں بازو کے نسل پرست یورپ میں لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ افریقہ کی آبادی میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک بر اعظم افریقہ کی آبادی دو اعشاریہ چار بلین ہو جائے گی اور صدی کے آخر تک یہ تعداد چار بلین کو کراس کر جائے گی۔ پھر آپ چاہے کتنی دیواریں کھڑی کریں، تارکین وطن کو روکنے کی جتنے معاہدے مرضی کر لیں، یہ لوگ کسی نہ کسی طرح شمال کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوں جائیں گے، اور بر اعظم یورپ سیاہ فام اکثریت کا براعظم بن جائے گا۔ چنانچہ یہ خوف پھیلا کر دائیں بازو کے نسل پرست اور قوم پرست لوگ بڑی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، عوام کی حمایت اور ووٹ بٹورنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ چونکہ ان کو سماج میں جو جگہ اور مقبولیت ملی ہے، وہ نفرت کی وجہ سے مل رہی ہے اس لیے وہ بڑے منظم طریقے سے اس نفرت کو عام کرنے میں پوری طرح مصروف ہیں۔ دوسری طرف رنگ دار نسل کے تارکین وطن کے اندر بھی اس صورتحال کے خلاف ایک خاص قسم کا رد عمل اور رجحانات پیدا ہو رہے ہیں۔ کچھ اس نفرت کے جواب میں نفرت کا درس دے رہے ہیں۔ کچھ محبت اور بھائی چارے کی بات کر رہے ہیں؛ چنانچہ ہر جگہ نسل، نسل پرستی، اور بین النسلی تعلقات پر گفتگو ہو رہی ہے۔ مباحث ہو رہے ہیں۔ ادب تخلیق کیا جا رہا ہے۔ اس باب میں تازہ ترین کتاب نیویارک یونیورسٹی میں جرنلزم کے پروفیسر سکیٹو مہتا نے لکھی ہے۔ ”یہ زمین ہماری زمین ہے‘‘ نامی یہ کتاب اس تارکین وطن اور نسل پرستی کے باب میں تخلیق ہونے والے لٹریچر میں ایک جان دار اضافہ ہے۔ پرو فیسر لکھتا ہے ”امریکہ پر میں اپنے حق کا دعوی کرتا ہوں۔ یہ حق میں اپنے لیے، اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کے لیے مانگتا ہوں۔ ہم یہاں ہیں۔ ہم واپس نہیں جا رہے ہیں۔ ہم یہاں اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں، یہ اب ہمارا ملک ہے۔ ہمیں کسی کو اس کے نسل پرستانہ خوف پر کسی قسم کی کوئی یقین دہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ اب ہمارا امریکہ ہے، اور ہم کسی کو یہ ہم سے واپس لینے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ کتاب میں الفاظ اور لہجے کی سختی نمایاں ہے، اور پروفیسر اس کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ کتاب ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہو جانے پر غم وغصے کی حالت میں لکھی گئی ہے۔ پروفیسرکا خیال ہے کہ ہجرت کے عمل کو مقامی طور پر غلط سمجھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو اس کے درست تاریخی اور سماجی تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہجرت یا ترک وطن کے عمل کو گلوبل جسٹس یا عالمی انصاف کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔ غریب ملکوں سے آنے والے تارکین وطن قرض خواہ ہیں۔ وہ یہاں پر اپنا وہ قرض وصول کرنے آئے ہیں، جو ترقی یافتہ دنیا نے چکانا ہے۔ مغرب کی ترقی یافتہ اقوام ہماری یعنی رنگ دار نسلوں کی مقروض ہیں۔ انہوں نے نوآبادیاتی نظام کے تحت ہمارے ملکوں میں آکر لوٹ مار کی اور ہمارا سیاسی اور معاشی مستقبل تباہ کردیا۔ تارکین وطن اپنا وطن اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ نکمے اور سست لوگ ہیں یا وہ اپنے وطن سے نفرت کرتے ہیں یا وہ مغرب کو لوٹنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ وہ اپنا وطن اس لیے ترک کرتے ہیں کہ تاریخ کے بوجھ نے اسے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔ پروفیسر نوآبادیاتی تاریخ میں جھانک کر ان اسباب کا ذکر کرتا ہے، جس نے تیسری دنیا کے ملکوں کو برباد کر دیا۔ اس کے خیال میں نوآبادیاتی قوتوں کی لوٹ کھسوٹ، ماحولیاتی تبدیلی اور ”کارپوریٹ گریڈ‘‘ یعنی لالچ نے غریب ملکوں کے لوگوں کو ہجرت پر مجبورکیا۔ صدیوں کی لوٹ اور تباہی نے ان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان ملکوں میں آئیں جنہوں نے ان کے ملکوں میں گھس کر ان کو تاخت و تاراج کیا۔ ہمیں یہاں ہونے پر شرمندہ یا معذرت خواہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آج یہاں ہیں اس لیے کہ کل تم وہاں تھے۔ اجنبی کا خوف اور نفرت کی دیواروں کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دینے کے ساتھ ساتھ پروفیسر مایوسی کے اس اندھیرے میں امید کے کچھ چراغ بھی جلاتا ہے۔ وہ نیویارک شہر کو بطور ماڈل پیش کرتا ہے۔ جہاں تارکین وطن اور مقامی لوگ شیر وشکر ہیں، یہاں رنگ دار اور سفید فام لوگوں نے ایک دوسرے سے مل کر نئے سیاسی اور معاشی امکانات پیدا کیے ہیں۔ اس شہر میں نسلی پرستی اور نسلی جھگڑے حیرت انگیز طور پر کم ہیں۔ یہ شہر کس قدر محفوظ ہو گیا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ اس شہر کو ہمیشہ تارکین وطن کی لہروں کا سامنا رہا ہے۔ اس شہر میں تارکین وطن اپنے خود کے کلچر، زبان اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ ایک طرف نیویارک شہر جیسے ماڈل شہر ہیں۔ دوسری طرف ایسے شہروں اور قصبوں کی بھی کمی نہیں ہے، جہاں خوف اور نفرت ہے۔ مگر تارکین وطن جہاں ہیں ان کو ڈٹ جانا چاہیے۔ یہ زمین اب ہماری زمین ہے۔ اب ہم نے یہاں ہی جینا مرنا ہے۔ اب ہم یہاں سے کئی جانے والے نہیں۔ اس لیے ان لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جو خوف پھیلا رہے ہیں۔ اور ان قوتوں کا ساتھ دینا چاہیے جو نفرت کے خلاف ہیں، اور بھائی چارے اور نسلی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔ بشکر @hamid bashani khan
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 369 Visualizações
  • مجھے میسیج کرنے , اور مجھے فالو کرنے کا شکریہ ! اگر آپ دنیا سے “ غربت اور جہالت “کے خاتمے کے میرے مشن کو پسند کرتے ہیں تو ، میں آپ سے درج ذیل کام کرنے کی درخواست کروں گا. (1) میں جو پوسٹ کرتا ہوں اسے شیئر کریں. (2) آپ جو سمجھتے ہوں کہ میں آپ سے کرنے کے لئے کہہ رہا ہوں وہ کرنا درست ہے,اسے کریں. (3) جو کچھ آپ جانتے ہیں اسے بذریعہ فیس بک اور یوٹیوب سکھائیں.(4) اپنے آپ کو تلاش کریں اور غیر معمولی ہوجائیں تاکہ مستقبل میں لوگ آپ سے متاثر ہوں۔ (5) آپ کو چاروں طرف جو مشکل نظر آتی ہے اس کو حَل کرنے کا ذمہ لیں، اپنا نام تبدیل کریں ، اور اس مسئلے کے بارے میں اپنے نام کے ساتھ “ والا “ شامل کریں ، اور فیس بک لائیو پر ہفتے میں 1 بار آئیں اور ہر ہفتے ایک شخص سے اس مسئلے کے بارے میں بات کریں اور مجھے ٹیگ کردیں۔ یہاں ایک ویڈیو ہے جو اسی کی وضاحت کرتی ہے. https://www.facebook.com/rehanallahwala/videos/10155710824797501/ آپ کی محبت اور احترام کے لئے ایک بار پھر آپ کا شکریہ ، خدا آپ کو سلامت رکھے !! ریحان اللہ والا
    مجھے میسیج کرنے , اور مجھے فالو کرنے کا شکریہ ! اگر آپ دنیا سے “ غربت اور جہالت “کے خاتمے کے میرے مشن کو پسند کرتے ہیں تو ، میں آپ سے درج ذیل کام کرنے کی درخواست کروں گا. (1) میں جو پوسٹ کرتا ہوں اسے شیئر کریں. (2) آپ جو سمجھتے ہوں کہ میں آپ سے کرنے کے لئے کہہ رہا ہوں وہ کرنا درست ہے,اسے کریں. (3) جو کچھ آپ جانتے ہیں اسے بذریعہ فیس بک اور یوٹیوب سکھائیں.(4) اپنے آپ کو تلاش کریں اور غیر معمولی ہوجائیں تاکہ مستقبل میں لوگ آپ سے متاثر ہوں۔ (5) آپ کو چاروں طرف جو مشکل نظر آتی ہے اس کو حَل کرنے کا ذمہ لیں، اپنا نام تبدیل کریں ، اور اس مسئلے کے بارے میں اپنے نام کے ساتھ “ والا “ شامل کریں ، اور فیس بک لائیو پر ہفتے میں 1 بار آئیں اور ہر ہفتے ایک شخص سے اس مسئلے کے بارے میں بات کریں اور مجھے ٹیگ کردیں۔ یہاں ایک ویڈیو ہے جو اسی کی وضاحت کرتی ہے. https://www.facebook.com/rehanallahwala/videos/10155710824797501/ آپ کی محبت اور احترام کے لئے ایک بار پھر آپ کا شکریہ ، خدا آپ کو سلامت رکھے !! ریحان اللہ والا
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 363 Visualizações
  • ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘
    یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔
    زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔
    نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
    دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار
    دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔
    ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔
    صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔
    اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔
    لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔
    معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘
    تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔
    سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘
    اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں)
    جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔
    لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔
    پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔
    لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔
    ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔
    کمپنی کا غیر جانبدار نام
    کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔
    دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
    جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔
    شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔
    اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار
    چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘
    چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔
    پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔
    کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔
    چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ
    پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔
    لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘
    بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔
    وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘
    فوجی بوٹ، سروس
    ،تصویر کا ذریعہREUTERS
    اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔
    لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔
    انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔
    تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔
    سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں
    کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔
    لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔
    چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERVIS
    کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔
    انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔
    یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔
    کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔
    چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔
    دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔
    اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔
    کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔
    سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔
    کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔
    سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔
    سروس
    ،تصویر کا ذریعہSERIVIS
    ،تصویر کا کیپشن
    فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں
    برآمدات کی ابتدا
    60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔
    سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔
    محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔
    وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘
    ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘
    وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘
    اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
    اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔
    ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔
    ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘
    اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔
    جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘
    امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔
    لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی
    چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔
    ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘
    وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔
    کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔
    چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔
    یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
    کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔
    اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
    نو ماسک، نو سروس
    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ
    ،تصویر کا کیپشن
    باٹا کا اشتہار: نو ماسک، نو سروس
    سروس بمقابلہ باٹا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔
    کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ نو ماسک، نو سروس۔
    پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔
    لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔
    سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔
    وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔
    یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔
    وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔
    سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    ہمیں جفت سازی (جوتے بنانے) کا نہ تو کوئی علم تھا اور نہ ہی کہیں سے ٹریننگ حاصل کی۔ صرف اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ تمام مہارت محض گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ کامیابی کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ اب جفت سازی ہماری زندگی کا مقصد، بلکہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔‘ یہ الفاظ چوہدری محمد حسین کی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ سے لیے گئے ہیں جنھوں نے اپنے دو دوستوں نذر محمد اور محمد سعید کے ہمراہ سنہ 1940 کی دہائی میں سروس شوز (سروس انڈسٹریز لمیٹڈ) کی بنیاد رکھی تھی۔ آج اس کمپنی کا شمار پاکستان اور خطے کی جوتا تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ زمانہ طالبعلمی کے اِن تین دوستوں کا تعلق نیم متوسط گھرانوں سے تھا اور ان میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مستقبل میں وہ اس شعبے سے منسلک ہو جائیں گے۔ نصف صدی سے طویل اپنے سفر میں اس پاکستانی کمپنی نے مقامی مارکیٹ کے علاوہ برآمدات کے ذریعے یورپی ممالک میں بھی اپنا سکہ منوایا۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ دوسری عالمی جنگ اور برصغیر میں کاروبار دراصل یہ کہانی ایک کمپنی کی نہیں بلکہ تین دوستوں کی ہے جن کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ کسی معمولی سرکاری نوکری سے منسلک ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔ ان تین دوستوں میں سے ایک کا تعلیمی ریکارڈ اچھا تھا، دوسرے کے سرکاری دفاتر میں تھوڑے بہت تعلقات تھے جبکہ تیسرا بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔ صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے تھے لہذا اپنے چار چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا ان کے ذمے تھا۔ اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے لاہور میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد، جو پشاور سے بی اے کر کے واپس لاہور آئے، بھی ان کے ہمراہ چل پڑے۔ لیکن بات کچھ بنی نہیں اور دونوں کو یہ کام چھوڑنا پڑا۔ نذر محمد نے ایل ایل بی کرنے کی ٹھانی اور پھر وکالت میں مصروف ہو گئے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے وکالت کی پریکٹس بھی ترک کر دی۔ معاشی تنگی کے پیش نظر چوہدری حسین کے پاس ایک راستہ بچا جو کہ سرکاری نوکری کرنے کا تھا، مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے بیزار تھے کیونکہ ایک طرف انھوں نے سرکاری ملازمت سے منسلک اپنے ’والد کی دیانتداری اور مشقت دیکھی تھی تو دوسری طرف اُن کی تنگدستی اور قناعت بھی۔‘ تیسرے دوست یعنی چوہدری محمد سعید کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد محکمہ صنعت کے شعبہ مارکیٹنگ میں چلے گئے، لیکن وہ بھی اپنی اس نوکری سے مطمئن نہ تھے۔ سنہ 1940 کی دہائی میں اس کمپنی کے آغاز کا احوال چوہدری حسین اپنی کتاب ’میں جفت ساز کیسے بنا؟‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’دوسری عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ محمد سعید اور میں نے سوچا کہ جنگ میں حکومت کو مختلف قسم کے سامان کی ضرورت رہتی ہے۔ کیوں نا ٹینڈر کا کام شروع کیا جائے۔‘ اور پھر تینوں دوستوں نے مل کر 63 روپے جمع کیے۔ ان میں سے 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لینے کے بعد ٹینڈر کی بنیاد پر کام شروع کر دیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن نذر محمد (دائیں)، محمد سعید (درمیان) اور محمد حسین (بائیں) جلد ہی انھیں ایک ٹینڈر کے تحت پولیس کے لیے چپل فراہم کرنے کا ٹھیکہ مل گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو چپلیں تھیں اور نہ انھیں تیار کرنے کی صلاحیت۔ لاہور میں خام مال مہنگا تھا اس لیے وہ پولیس اہلکاروں کے لیے چپل ڈھونڈتے گجرات پہنچ گئے اور وہاں جا کر پانچ، چھ موچیوں سے یہ تمام سامان تیار کروایا۔ پولیس کے لیے لیدر چپلوں کے بعد انھیں اسی محکمے کے اہلکاروں کے لیے بوٹ بنانے کا آرڈر بھی مل گیا اور جفت سازی کا یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ ساتھ میں انھیں مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں فراہم کرنے کے آرڈر بھی ملنے لگے۔ لیکن یہ کاروباری ماڈل مستحکم نہیں تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بڑے آرڈر کے لیے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی لیکن کوئی بینک قرض دینے کو تیار نہیں تھا۔ ’تمام بینک ہندوؤں کے تھے جو زمینداروں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ سود کی شرح تین فیصد تھی۔ ایک دوست کے ذریعے تین کی بجائے ایک سو بیس فیصد سود پر قرض ملا۔‘ یعنی انھیں تین ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم پر تین سو روپے سود ادا کرنا پڑا۔ کمپنی کا غیر جانبدار نام کہنے کو تو یہ تینوں اب ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے تھے لیکن حساب کتاب اور مال کی پیکنگ سمیت زیادہ تر مزدوری انھیں خود کرنا پڑتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ 1945 میں اختتام کو پہنچی اور اس کے ساتھ ترقی پاتے اس کاروبار کے آئندہ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جب سرکاری ٹھیکے ملنا بند ہو گئے تو کمپنی کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔ شاید اس میں بھی کوئی حکمت تھی جس کی بدولت انھیں خیال آیا کہ چونکہ وہ لیدر اور کینوس کا کام کر ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسی سے متعلق سامان تیار کر کے بیچا جائے۔ اسی خیال کے تحت انھوں نے جوتوں کے ساتھ سفری سامان اور ہینڈ بیگز بنانا شروع کر دیے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ باقاعدہ ایک کمپنی بنائی جائے اور محض سرکاری ٹینڈرز لینے کے بجائے عام لوگوں کو بھی چیزیں فروخت کی جائیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوا کہ کمپنی کا نام کیا رکھا جائے۔ لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار ،تصویر کا ذریعہSERVIS ،تصویر کا کیپشن لاہور کی ایک پرانی ڈبل ڈیکر بس پر سروس کا اشتہار چوہدری حسین کے مطابق ’ان دنوں برصغیر میں ہندو مسلم سوال زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نام کی وجہ سے یارانِ وطن اُن کے مال کا بائیکاٹ کریں۔‘ چنانچہ کمپنی کا نام ’سروس لمیٹڈ‘ رکھا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل سروس کے بیشتر گاہک غیر مسلم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انگریزی نام کے ذریعے ممکنہ اعتراضات سے بچا گیا۔ پاکستان کا قیام ہوا، آزادی ملی لیکن کاروبار اور تجارت کے لیے یہ آزادی قید کی سی تھی۔ کوئی لُٹ گیا تو کسی کی ادائیگیاں رہ گئیں۔ سروس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور سرحد پار گاہک اور سپلائر ہمیشہ کے لیے دور ہو گئے۔ کاروبار کو ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے لاہور مال روڈ پر ایک دکان دی گئی لیکن کمپنی کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔ چمڑے کی چپل کے بعد فوجی بوٹ پاکستان کے قیام کے بعد سروس نے دوبارہ حکومتی ٹینڈرز کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا جہاں کینوس میں ترپال اور چمڑے کے سامان کے ساتھ چپلیں بنانے کے آرڈر ملتے رہے۔ لیکن اس موقع پر یہ نئی کمپنی ایک تاریخی موڑ سے ہمکنار ہوئی۔ سروس کو پیشکش ہوئی کہ وہ فوجی جوانوں کے لیے بوٹ بنائیں۔ چوہدری حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’ہم تو صرف چمڑے کی چپل تیار کرتے تھے۔ فوج کے لیے بوٹ بنانے کا کام گورنمنٹ نے باٹا کو دے رکھا تھا۔‘ بین الاقوامی کمپنی باٹا آج بھی پاکستان میں جوتوں کے لیے مشہور ہے لیکن اُس وقت ملک میں اسے ٹکر دینے کے لیے کوئی بڑی کمپنی موجود نہ تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘ فوجی بوٹ، سروس ،تصویر کا ذریعہREUTERS اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد ایک حکومت عہدیدار نے انھیں فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا اور سنہ 1950 میں انھیں فوجی بوٹ بنانے کا پہلا ’آزمائشی آرڈر‘ مل گیا۔ لیکن لیدر کی چپلیں بنانے والی اس کمپنی کے پاس فی الحال خاص آرمی بوٹ بنانے کے لیے مہارت اور مشینری نہیں تھی۔ انگلینڈ سے استعمال شدہ میشنری منگوائی گئی اور کاریگروں کو یہ مہارت سکھائی گئی۔ یوں سروس فوجی بوٹ بنانے کے میدان میں آن کھڑی ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ایک مسئلہ یہ تھا کہ اب وہ پہلے کی طرح چمڑا خریدنے کے لیے جالندھر اور کانپور نہیں جا سکتے تھے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سروس کمپنی نے سنہ 1954 میں گجرات میں ’ہلال ٹینریز‘ قائم کی۔ سول جوتوں میں غلطیاں، پھر غلطیاں کمپنی چاہتی تھی کہ وہ صرف حکومتی ٹینڈرز پر انحصار نہ کریں اور وسیع مارکیٹ میں اپنے جوتے متعارف کرائیں۔ انھوں نے عام لوگوں تک رسائی کے لیے فلیکس شوز کے میدان میں اترنے کی ٹھان لی تھی۔ لیکن عزم اور شوق کے علاوہ سروس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ دوبارہ استعمال شدہ مشینری کی تلاش میں انگلینڈ گئے اور یہاں بھی ان کی قسمت اچھی رہی۔ چوہدری حسین لکھتے ہیں کہ: ’برطانوی معیشت پر دوسری عالمی جنگ کے اثرات ابھی باقی تھے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے گاہک سے بھی بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔‘ اس طرح یہاں انھیں عوامی جوتے بنانے کے لیے بھی موزوں مشینری مل گئی۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERVIS کمپنی نے مشینری اور فن تو سیکھ لیا مگر ایک بڑی غلطی ہو گئی۔ انھوں نے بیرون ملک مشینری خریدتے وقت جوتوں کے فرمے (لکڑی کے سانچے جن کی مدد سے جوتے تیار کیے جاتے ہیں) بھی خرید لیے۔ یہ فرمے برطانوی ساختہ تھے۔ انھیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ مختلف نسلوں کے پاؤں کی ساخت میں قدرتی طور پر کچھ فرق ہوتا ہے۔ برطانوی فرمے کی فٹنگ پاکستانی پاؤں کے لیے کچھ ٹھیک ثابت نہ ہوئی اور یہ غلطی خاصی مہنگی رہی۔ کئی برسوں بعد انھیں پتا چلا کہ جرمن لوگوں کے پاؤں پاکستانیوں سے ملتے جلتے ہیں اس لیے وہاں کے فرمے یہاں موزوں ثابت ہو سکتے تھے۔ یہ کمپنی کی واحد غلطی نہیں تھی۔ کسی کمپنی کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کی پسند ناپسند کو پہلے سے سمجھ کر اس کے مطابق اپنے چیزیں بنا سکیں۔ چوہدری حسین سمجھتے تھے کہ زیادہ لوگ آکسفورڈ شوز پسند کرتے ہوں گے اور ڈربی شوز کم خریدنا چاہیں گے۔ لیکن بات الٹ ثابت ہوئی اور گاہکوں نے ڈربی شوز زیادہ پسند کیے۔ دراصل کمپنی سے منسلک افراد آکسفورڈ شوز پسند کرتے تھے اور ان کی اپنی سوچ جانبدار رہی تھی۔ اس زمانے میں سروس لوگوں کی پسند ناپسند سے اتنی واقف نہ تھی۔ وقت کے ساتھ انھیں احساس ہوا کہ یہاں لوگ مالی اعتبار سے چمڑے کے جوتے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے انھیں کینوس شوز بھی بنانا پڑے۔ کمپنی کو جو نقصان سول شوز میں غلطیوں سے ہوا اس کی تلافی کسی حد تک فوجی بوٹ بنانے سے ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے انھیں ایسے تجربات کرنے کا موقع ملتا رہا۔ سنہ 1957 میں سروس نے اپنے ریٹیل سٹور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ دوسری برانڈز کی دکانوں کے بجائے اپنی دکانوں میں جوتے فروخت کر سکیں۔۔ کینوس شوز بنانے کے لیے جاپانی مشینری اور ماہرین کا سہارا لیا اور انھیں عملے کی ٹریننگ کے لیے پاکستان بھی بلایا گیا۔ سنہ 1960 میں گجرات میں نئی شو فیکٹری بنائی گئی اور اسی دوران فوجی بوٹ، سول شوز اور ریٹیل دکانوں کے اچھے کاروبار کے دوران صنعتی ترقی کے خواہشمند پاکستانی صدر ایوب خان نے سروس کی لاہور فیکٹری کا دورہ کیا۔ سروس ،تصویر کا ذریعہSERIVIS ،تصویر کا کیپشن فیکٹری میں ایک خاتون چمڑہ سی رہی ہیں برآمدات کی ابتدا 60 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے ساتھ مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارت شروع کی تھی۔ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کو برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔ سروس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہے۔ ایکسپورٹس کے لیے ان کا ہدف یورپ تھا۔ محمد اکرم سروس گروپ کے سابق ڈائریکٹر ایکسپورٹ ہیں جنھوں نے 1967 کے دوران گجرات میں کمپنی کے شریک بانی چوہدری محمد سعید کو نوکری کے لیے خط لکھا تھا۔ یہی خط آئندہ 50 سے زیادہ برسوں تک سروس کے ساتھ ان کی وابستگی کا نتیجہ بنا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے کہا گیا ہم نے یہاں سے برآمدات شروع کرنی ہیں جو کہ اس سے پہلے نہیں تھیں۔ اُس وقت پاکستان سے زیادہ تر خام مال بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ہی ایک درمیانی شکل برآمد کرنا چاہتے ہیں جسے بعد میں باآسانی جوتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ ایسا تھا جیسے روٹی بنانے کے لیے پہلے آٹا گوند لیا جائے۔‘ ’میں نے پاکستان میں دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ خط ٹائپ رائٹر پر لکھ کر اسے ڈاک خانے پوسٹ بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’میری انگریزی کمزور ہی ہو گی کیونکہ میں گجرات سے پڑھا تھا لیکن اس کے باوجود میری حوصلہ افزائی کی گئی۔‘ اس زمانے میں سروس نے برطانوی کمپنی ’ڈنلوپ‘ اور جرمن کمپنی ’پوما‘ کو اپنا سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور آہستہ آہستہ برآمدات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اپنے تجربات سے متعلق اکرم بتاتے ہیں کہ فینکس نامی ایک جرمن کمپنی کے ساتھ سروس کی برآمدات برلن میں موجود مسٹر ڈریسر دیکھا کرتے تھے۔ ’یہ شخص زرا کڑوے مزاج کا تھا۔ وہ ہمارا گاہک تھا لیکن ہم سے اکثر آرڈر میں تاخیر پر شکایت بھی کیا کرتا تھا۔ ہم ان کے لیے کینوس شوز کا ایک آرڈر بنا رہے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں کسی نہ کسی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس نے ہمیں آرڈر دیا اور کہا آپ نے اس میں دیر نہیں کرنی کیونکہ خطے میں تناؤ کی وجہ سے سوئز کینال بند تھی۔ کنٹینرز اس زمانے میں سامان کی ترسیل کے لیے مستعمل نہیں تھے اور طویل سفر کے دوران جوتے خراب ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا‘۔ ’ہمارے ہاں وہ مال تاخیر کا شکار ہو گیا۔ میں نے بات کی اور اس نے مزید مہلت دے دی لیکن پھر ہمارا مال اس سے بھی زیادہ لیٹ ہو گیا۔‘ اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے محمد اکرم نے کچھ ایسا کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر پر مسٹر ڈریسر نے کمپنی سے شکایت کرنا چھوڑ دی اور آرڈر کی ڈیڈلائن میں بھی توسیع کر دی۔ جب اکرم سے پوچھا گیا کہ انھوں نے مسٹر ڈریسر سے ایسا کیا کہا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اسے ایک ایسی وجہ بتائی جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔ میں نے کچھ تصاویر دکھا کر انھیں بتایا کہ سکھر کے پاس ہمارا ایک ٹرک الٹ گیا ہے اور تمام سامان ضائع ہو گیا ہے۔‘ امید کے برعکس اس چال پر اکرم کے باسز خوش نہ ہوئے اور انھیں آئندہ سچ پر انحصار کرنے کا حکم دیا گیا۔ حتی کہ انھیں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کا اعتراف مسٹر ڈریسر کے سامنے بھی کریں جو کہ انھیں کرنا پڑا۔ لاہور فیکٹری میں ہنگامہ آرائی چوہدری حسین اپنی کتاب میں 1981 کے دوران لاہور فیکٹری پر ’حملے‘ کو اپنی زندگی کی تلخ ترین حقیقت بتاتے ہیں۔ ’صبح حسب عادت فیکٹری کھلنے کے وقت میں وہاں پہنچا۔۔۔ اچانک فیکٹری کھلنے سے قبل وہاں کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا۔‘ وہ اس واقعے کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں ان کی فیکٹری اور ہیڈ کوارٹر پر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں عملے کی کاریں جلا دیں گئیں، کمروں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اور کئی افراد کو زخمی کیا گیا۔ کمپنی نے یہ فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تمام پروڈکشن گجرات لے جانی پڑی۔ چوہدری حسین کے مطابق اس واقعے میں کاریگر نہیں بلکہ باہر سے تخریب کار بلائے گئے تھے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان دنوں سروس اور لیبر یونینز کے درمیان تلخیاں چل رہی تھیں اور کمپنی سے معاوضوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ کمپنی کے مطابق ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ لاہور فیکٹری بحال کر کے وہاں لوگوں کو دوبارہ ملازمت دیں جبکہ لیبر یونینز کا موقف تھا کہ سروس نے انھیں ناکافی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔ اس ہنگامہ آرائی کے بعد قانونی کارروائی بھی ہوئی لیکن کئی باتیں غیر واضح رہیں اور آخر میں سب معاملات ایسے طے پا گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ 'نو ماسک، نو سروس' ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SYEDMDZ ،تصویر کا کیپشن باٹا کا اشتہار: 'نو ماسک، نو سروس' سروس بمقابلہ باٹا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کارپوریٹ رائولری، یعنی ایک جیسی اشیا بنانے والی مختلف کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی، اشتہاروں میں بھی جھلکتی ہے۔ کچھ ماہ قبل ایسا ہی ہوا جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کے تحت باٹا نے گاہکوں کے لیے اپنی نئی ہدایات میں لکھا کہ 'نو ماسک، نو سروس۔' پہلی نظر میں تو یہ سادہ سا پیغام معلوم ہوتا ہے یعنی اگر ماسک نہ پہنا تو آپ یہاں شاپنگ نہیں کر سکتے۔ لیکن یہاں سروس کے وہ سپیلنگ لکھے گئے تھے جو باٹا کی حریف کمپنی سروس ( Servis) کے ہیں۔ سروس باٹا رائولری پر مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔ یہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔ باٹا کو ایک بڑے بین الاقوامی گروپ کا حصہ ہونے کا فائدہ رہا ہے مگر سروس والے مقامی سطح پر لوگوں کی پسند ناپسند کو سمجھنے پر فخر کرتے ہیں۔ وہ تینوں دوست جنھوں نے سروس کی بنیاد رکھی تھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی تیسری نسلیں اس کمپنی کو چلا رہی ہے۔ جوتوں کے ساتھ ٹائرز کے کاروبار کو وسعت دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ سروس گروپ کے مطابق گذشتہ 10 سال سے ان کی کمپنی ملک میں جوتوں کی سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 482 Visualizações
Páginas Impulsionadas