• وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔

    وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔

    انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔

    اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔

    لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔

    اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔

    ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔

    اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔

    اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔

    وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔

    مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔

    یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔

    اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔

    The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا

    Shared via Liaqat Jawaid
    وہ مزدور کا مقدر لے کر پیدا ہوا تھا لیکن اس نے اپنے وژن، محنت اور ایمانداری سے اپنا مقدر بدل دیا، وہ 2007ء میں دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص بن گیا۔ وہ 1926ء میں سویڈن کے ایک گاؤں Agonnaryd میں پیدا ہوا، اس کے والدین ایک فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ (Elmtaryd) میں مزدوری کرتے تھے، اس کے والدین نے پانچ برس کی عمر میں اسے بھی مزدوری پر لگا دیا لیکن اس نے مزدور کی بجائے کاروبار کا فیصلہ کیا، اس کا نام تین سال کی عمر میں رکھا گیا، اس کے نام کے دو حصے تھے انگوار اور کیمپارڈ، اس نے گیارہ سال کی عمر میں ماچسیں بیچنا شروع کیں، وہ ماچسوں کے ڈبے لیتا اور سائیکل پر گلی گلی ماچسیں بیچتا رہتا، وہ یہ کام چھ ماہ تک کرتا رہا پھر ایک دن اسے معلوم ہوا اگر وہ شہر سے تھوک میں ماچس خرید لے اور یہ ماچس گاؤں کے دکانداروں اور پھیری بازوں کو بیچ دے تو وہ زیادہ منافع کما سکتا ہے۔ انگوار اگلے دن اسٹاک ہوم چلا گیا اور وہاں سے تھوک میں ماچس خرید لایا، اس نے یہ ماچسیں تھوڑا سا منافع رکھ کر بیچ دیں، اس نے اگلے سال تک ماچسوں کے کاروبار کو مچھلی، کرسمس ٹری، کرسمس کارڈز، پھولوں کے بیج، بال پوائنٹس اور پینسلوں تک پھیلا دیا، وہ یہ ساری اشیاء تھوک میں خریدتا تھا اور بعد ازاں گاؤں کے دکانداروں کو فروخت کر دیتا تھا، وہ 17 سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے تھوڑے سے پیسے دیے۔ اس نے اس معمولی سی رقم سے ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا لائف اسٹائل تبدیل کر دیا، انگوار نے اس رقم سے وزن میں ہلکا لیکن رنگوں میں تیز فرنیچر بنانا شروع کر دیا، لوگوں کا خیال تھا اس کا آئیڈیا ناکام ہو جائے گا کیونکہ اس وقت لکڑی کے بھاری بھر کم فرنیچر کا رواج تھا، لوگ ایک مرتبہ فرنیچر بنواتے تھے اور یہ فرنیچر تین نسلوں تک ان کا ساتھ دیتا تھا چنانچہ اس وقت یورپ میں فرنیچر ایک ایسی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا جس کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی، اس وقت تک فرنیچر کے اسٹورز اور شو رومز بھی شروع نہیں ہوئے تھے۔ لوگ ترکھانوں سے اپنی ضرورت کا فرنیچر بنوا لیتے تھے لیکن انگوار نے فرنیچر کو کاروبار کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، اس کا خیال تھا آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں نقل مکانی شروع ہو جائے گی، لوگ روزگار کے لیے آبائی شہروں سے باہر نکلیں گے لہٰذا اس نقل مکانی کے دوران بھاری فرنیچر کی نقل و حمل مشکل ہو جائے گی۔ اس کا خیال تھا مستقبل قریب میں بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جائے گا جس کے نتیجے میں مکانوں اور فلیٹوں کا سائز چھوٹا ہو گا چنانچہ لوگوں کو چھوٹے سائز کے مکانوں کے لیے فرنیچر بھی چھوٹے سائز کا چاہیے، اس کا خیال تھا مستقبل رنگوں کا دور ہو گا، آنے والے دنوں میں ہر چیز رنگین ہو جائے گی چنانچہ اس نے ان تمام امکانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اکیا (ikea) کے نام سے یورپ میں فرنیچر سازی کی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ’’اکیا‘‘ ایک لایعنی لفظ تھا، یہ چار حروف آئی، کے ، ای اور اے کا مجموعہ تھا، اس نے چار حرف اپنے نام اور اپنے گاؤں سے لیے تھے، آئی اس کے نام انگوار کو ظاہر کرتا تھا، کے سے مراد کیمپارڈ تھی، ای کا تعلق اس فارم ہاؤس ایلمٹریاڈ سے تھا، جس میں اس نے پرورش پائی تھی اور اے اس کے آبائی گاؤں Agunnaryd کا پہلا حرف تھا، انگوار نے جب اپنی کمپنی کا نام ’’اکیا‘‘ رکھا تو لوگوں کا خیال تھا اس کے بزنس کی طرح اس کی کمپنی کا نام بھی لایعنی ہے لہٰذا یہ کاروبار اور یہ کمپنی چند ماہ میں ماضی کا قصہ بن جائے گی لیکن انگوار نے آنے والے دنوں میں لوگوں کے سارے خدشات باطل ثابت کر دیے۔ اس نے سائز میں چھوٹا، وزن میں ہلکا اور رنگوں میں تیز فرنیچر بنوایا اور یہ فرنیچر آنے والے دنوں میں دنیا کا لائف اسٹائل بن گیا، اس نے دنیا کی نفسیات اور طرز رہائش بدل کر رکھ دی ’’اکیا‘‘ بیس برس بعد یورپ کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، اس کی یہ کامیابی اس کے وژن، محنت اور ایمانداری کا نتیجہ تھا، اس نے وقت کی تبدیلی کو بھانپ لیا تھا، وہ سمجھ گیا تھا چھوٹی اور کارآمد چیزوں کا دور آنے والا ہے لہٰذا مستقبل میں صرف وہی چیزیں کامیاب ہوں گی جو سائز میں چھوٹی، وزن میں ہلکی اور استعمال میں وسیع ہوں گی، 1980ء میں اس نے بزنس کو ایک اور کروٹ دی، اس نے گھر میں استعمال ہونے والی ہر قسم کی مشینری بنانا شروع کر دی، وہ اس وقت کچن میں استعمال ہونے والی چھوٹی چمچ سے لے کر گھر میں استعمال ہونے والے باتھ ٹب تک ہر چیز بنا رہا ہے۔ اس کا کاروبار یورپ سے لے کر امریکا تک اور دبئی سے لے کر نیوزی لینڈ تک دنیا کے 34 بڑے ممالک میں پھیلا ہوا ہے، اس کے اسٹورز پر روزانہ 900 ملین ڈالر کی سیل ہوتی ہے اور آج یہ کہا جاتا ہے یورپ میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو گا جس میں ’’اکیا‘‘ کی کوئی نہ کوئی چیز نہ ہو، مارچ 2007ء میں فوربس انٹرنیشنل نے مزدور کے اس بیٹے کو دنیا کا چوتھا امیر ترین شخص قراردیا تھا جب کہ جون 2015ء میں Bloomberg Billionaires Index نے اسے دنیا کا آٹھواں امیر ترین شخص قرار دیا، اس وقت اس کے ذاتی اکاؤنٹ میں 43 بلین ڈالر جمع ہیں جب کہ اس کی دولت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انگوار کیمپارڈ ایک انتہائی دلچسپ شخص ہے، وہ ارب پتی ہونے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہے، وہ پندرہ سال پرانی والو گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑی خود چلاتا ہے، ہمیشہ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، اس نے سات سال کی عمر میں کرسمس پیپر بیچنے کا کام شروع کیا تھا وہ اب تک یہ کاروبار کر رہا ہے، وہ ہر سال کرسمس پیپر خریدتا ہے اور کرسمس کے بعد ان پیپرز کی سیل لگاتا ہے، اس نے ’’ اکیا ‘‘ کے تمام ملازمین کو کاغذ کی دونوں سمتیں استعمال کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے کسی دفتر میں اگر کوئی شخص ایک سمت استعمال کر کے کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دے تو وہ لڑنے مارنے پرآمادہ ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ سستے ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہے، اس نے چالیس برس قبل ’’اکیا‘‘ کے دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازموں کے لیے سستا کھانا شروع کرایا تھا، وہ اگر کھانے کے وقت اپنی کسی فیکٹری یا دفتر کے نزدیک ہو تو وہ ہمیشہ ’’ اکیا‘‘ کے کیفے ٹیریا میں کھانا کھاتا ہے اور دو تین ڈالر ، پاؤنڈ ، مارک یا کراؤن بچا کر خوش ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی فراخ دل شخص بھی ہے، اس نے INGKA Fondation کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ وہ اس ادارے کے ذریعے اب تک 36 بلین ڈالر کی چیرٹی کر چکا ہے، دنیا کے نامور میگزین اکانومسٹ کے مطابق انگوار فلاح عامہ میں بل گیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن وہ اپنی چیرٹی کے تمام کاموں کی تشہیر نہیں کرتا لہٰذا دنیا اس کی خیرات اور فلاحی کاموں سے پوری طرح واقف نہیں، اگر انگوار کیمپارڈ کی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ’’ کنجوس سخی، ، محسوس ہوتا ہے، وہ ایک طرف اپنے کسی ورکر کو ایک پنسل ضایع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کاغذ کی دوسری پرت ضایع کرنے کے جرم میں اپنے ایم ڈی تک کو فارغ کر دیتا ہے جب کہ دوسری طرف وہ اربوں کھربوں ڈالر خیرات کر دیتا ہے، وہ شاید اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد شخص ہو گا۔ مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کیں ، اس نے بتایا ’’ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا، انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘ اس کی دوسری بات اس سے بھی دلچسپ تھی، اس کا کہنا تھا ’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں، اس کا کہنا تھا ’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘ اس کا کہنا تھا اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی، یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ اس کا کہنا تھا وہ زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا لیکن اس وقت اس کی کمپنی میں 30 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ وژن، علم اور دماغ میں اس سے کہیں بہتر ہیں بس ان میں ایک خامی تھی، ان میں نوکری چھوڑنے کا حوصلہ نہیں تھا، انھیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اگر کوئی شخص انگوار کے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بھی کام کر سکتا ہے، بس اس کے لیے ذرا سا حوصلہ چاہیے‘‘ اس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو پیغام دیا ’’ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے لیکن جوان ہونے تک اس کے پاؤں ہاتھی جتنے بڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘ اس نے کہا ’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا ’’ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں جب کہ کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے‘‘ اس نے کہا ’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے‘‘ میں نے جب انگوار کے یہ خیالات سنے تو میں نے سوچا کاش میں یہ خیالات پاکستان کے ان تمام بے روزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بے روزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں، کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں اگر فارم ہاؤس کا ایک مزدور مسلسل محنت سے انگوار بن سکتا ہے تو پاکستانی نوجوانوں کے راستے میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ لوگ کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے، انگوار نے کہا تھا ’’آگے بڑھنے کا راستہ انھیں ملتا ہے جو چلنا جانتے ہیں‘‘ میرا خیال ہے ہمارے نوجوانوں کو چلنے کا ہنر نہیں آتا۔ The post ترقی چیونٹی کے پاؤں لے کر پیدا ہوتی ہے appeared first on ا Shared via Liaqat Jawaid
    0 التعليقات 0 المشاركات 2984 مشاهدة
  • مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

    اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہیں۔
    *"دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔"*

    *"انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔"*

    اسکی دوسری بات
    *"کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔"*

    *"اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔"*

    اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔
    *"ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔"*

    *"دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔"*
    یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔
    *"کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔"*

    میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔
    *"میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یافتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتے ہیں*
    *یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔*
    انہیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتبارنہیں۔

    "اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔"
    *بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔*

    *"دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔"*

    *"دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔"*

    Via Saif Bhai
    مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہیں۔ *"دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔"* *"انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔"* 👈اسکی دوسری بات *"کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔"* *"اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔"* اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔ *"ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔"* *"دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔"* یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ *"کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔"* میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔ *"میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یافتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتے ہیں* *یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔* انہیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتبارنہیں۔ "اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔" *👈بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔* *"دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔"* *"دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔"* Via Saif Bhai
    0 التعليقات 0 المشاركات 982 مشاهدة
  • دانائی کی حقیقت: دنیا کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلو

    رومی کا یہ ابدی قول ہمیں ایک ایسی حقیقت یاد دلاتا ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں:
    “کل میں چالاک تھا، اس لیے دنیا کو بدلنا چاہتا تھا۔ آج میں دانا ہوں، اس لیے خود کو بدل رہا ہوں۔”

    جب ہم جوان ہوتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ دنیا کے بڑے مسائل—غربت، ناانصافی، کرپشن، جنگ، ماحولیاتی تباہی—سب آسانی سے حل ہوسکتے ہیں اگر حکومت بدل جائے، اگر نظام بدل جائے، اگر دوسرے لوگ بدل جائیں۔ یہ سوچ چالاکی ہے۔ لیکن اصل دانائی یہ ہے کہ ہم سمجھیں کہ اصل تبدیلی کا آغاز اپنے اندر سے ہوتا ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ ٹی وی، سوشل میڈیا، ہر جگہ لوگ شکایتیں کر رہے ہیں: حکومت کچھ نہیں کرتی، نظام خراب ہے، دنیا بگڑ گئی ہے۔ مگر کتنے لوگ آئینے میں دیکھتے ہیں اور خود سے سوال کرتے ہیں: میں اپنے وقت کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟ میں اپنے ہنر کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟

    دنیا کے مسائل کسی اور کے پیدا کردہ نہیں، وہ ہم سب کی چھوٹی چھوٹی غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔ کرپشن اس لیے بڑھتی ہے کہ فرد چھوٹا راستہ چنتا ہے۔ غربت اس لیے رہتی ہے کہ ہم ضرورت مند کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ ماحولیاتی بگاڑ اس لیے بڑھتا ہے کہ ہم سہولت کو ذمہ داری پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہر بڑا مسئلہ ہمارے روزمرہ کے فیصلوں میں چھپا ہوا ہے۔

    اسی لیے رومی کی بات ہمیں عمل کی دعوت دیتی ہے۔ اگر میں خود کو بدلوں—سچائی اپناؤں، مہربانی کروں، وقت کی قدر کروں، اپنے حصے کا کام کروں—تو میں تبدیلی کا بیج بن جاتا ہوں۔ اگر لاکھوں لوگ خود کو بدل لیں تو دنیا خودبخود بدل جائے گی۔

    ہمیں صرف باتوں کے بجائے عمل کی طرف آنا ہوگا۔ بجائے اس کے کہ گھنٹوں بحث کریں کہ حکمران کیا کریں، وہی وقت اپنے محلے، اپنی گلی، اپنے اسکول میں کوئی مسئلہ حل کرنے میں لگائیں۔ ایک بچے کو پڑھا دیں۔ ایک درخت لگا دیں۔ ایک کاروبار شروع کریں۔ ایک کوڑا اٹھا لیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے عمل ہی اصل میں قوموں کو بدلتے ہیں۔

    دانائی یہ ہے کہ ذمہ داری کو بوجھ نہیں بلکہ آزادی سمجھا جائے۔ جب میں ذمہ داری لیتا ہوں تو میں دوسروں کا انتظار نہیں کرتا۔ میں بے بس نہیں رہتا۔ میں باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ میں حل کا حصہ بن جاتا ہوں۔

    آئیے رومی کی اس حکمت کو اپنائیں۔ دنیا کے مسائل پر لمبی لمبی باتیں کرنے کے بجائے آج ہی سے خود کو بدلنا شروع کریں—اپنی عادات، اپنا وقت، اپنی ترجیحات۔ دنیا کو چالاکی نہیں بدلے گی۔ دنیا کو صرف دانائی، ذمہ داری اور عمل بدلے گا۔
    دانائی کی حقیقت: دنیا کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلو رومی کا یہ ابدی قول ہمیں ایک ایسی حقیقت یاد دلاتا ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں: “کل میں چالاک تھا، اس لیے دنیا کو بدلنا چاہتا تھا۔ آج میں دانا ہوں، اس لیے خود کو بدل رہا ہوں۔” جب ہم جوان ہوتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ دنیا کے بڑے مسائل—غربت، ناانصافی، کرپشن، جنگ، ماحولیاتی تباہی—سب آسانی سے حل ہوسکتے ہیں اگر حکومت بدل جائے، اگر نظام بدل جائے، اگر دوسرے لوگ بدل جائیں۔ یہ سوچ چالاکی ہے۔ لیکن اصل دانائی یہ ہے کہ ہم سمجھیں کہ اصل تبدیلی کا آغاز اپنے اندر سے ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ ٹی وی، سوشل میڈیا، ہر جگہ لوگ شکایتیں کر رہے ہیں: حکومت کچھ نہیں کرتی، نظام خراب ہے، دنیا بگڑ گئی ہے۔ مگر کتنے لوگ آئینے میں دیکھتے ہیں اور خود سے سوال کرتے ہیں: میں اپنے وقت کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟ میں اپنے ہنر کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟ دنیا کے مسائل کسی اور کے پیدا کردہ نہیں، وہ ہم سب کی چھوٹی چھوٹی غفلتوں کا نتیجہ ہیں۔ کرپشن اس لیے بڑھتی ہے کہ فرد چھوٹا راستہ چنتا ہے۔ غربت اس لیے رہتی ہے کہ ہم ضرورت مند کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ ماحولیاتی بگاڑ اس لیے بڑھتا ہے کہ ہم سہولت کو ذمہ داری پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہر بڑا مسئلہ ہمارے روزمرہ کے فیصلوں میں چھپا ہوا ہے۔ اسی لیے رومی کی بات ہمیں عمل کی دعوت دیتی ہے۔ اگر میں خود کو بدلوں—سچائی اپناؤں، مہربانی کروں، وقت کی قدر کروں، اپنے حصے کا کام کروں—تو میں تبدیلی کا بیج بن جاتا ہوں۔ اگر لاکھوں لوگ خود کو بدل لیں تو دنیا خودبخود بدل جائے گی۔ ہمیں صرف باتوں کے بجائے عمل کی طرف آنا ہوگا۔ بجائے اس کے کہ گھنٹوں بحث کریں کہ حکمران کیا کریں، وہی وقت اپنے محلے، اپنی گلی، اپنے اسکول میں کوئی مسئلہ حل کرنے میں لگائیں۔ ایک بچے کو پڑھا دیں۔ ایک درخت لگا دیں۔ ایک کاروبار شروع کریں۔ ایک کوڑا اٹھا لیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے عمل ہی اصل میں قوموں کو بدلتے ہیں۔ دانائی یہ ہے کہ ذمہ داری کو بوجھ نہیں بلکہ آزادی سمجھا جائے۔ جب میں ذمہ داری لیتا ہوں تو میں دوسروں کا انتظار نہیں کرتا۔ میں بے بس نہیں رہتا۔ میں باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ میں حل کا حصہ بن جاتا ہوں۔ آئیے رومی کی اس حکمت کو اپنائیں۔ دنیا کے مسائل پر لمبی لمبی باتیں کرنے کے بجائے آج ہی سے خود کو بدلنا شروع کریں—اپنی عادات، اپنا وقت، اپنی ترجیحات۔ دنیا کو چالاکی نہیں بدلے گی۔ دنیا کو صرف دانائی، ذمہ داری اور عمل بدلے گا۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 30 مشاهدة
  • کچھ لوگ ہر بار لیٹ کیوں آتے ہیں؟

    ایک وضاحتی مضمون

    ہم سب کسی نہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو تقریباً ہر ملاقات، ہر کلاس یا ہر میٹنگ میں لیٹ آتا ہے۔ عام طور پر ہم فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ شخص لاپرواہ ہے یا دوسروں کے وقت کی قدر نہیں کرتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلسل لیٹ ہونا اکثر کردار کی خرابی نہیں بلکہ سوچ، عادت اور ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    1) وقت کو محسوس کرنے کا مختلف انداز

    ہر انسان وقت کو ایک جیسا محسوس نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کے لیے وقت منٹوں اور سیکنڈوں میں ناپا جاتا ہے، جبکہ کچھ کے لیے وقت ایک لچکدار تصور ہے۔ ایسے لوگ واقعی سمجھتے ہیں کہ وہ وقت پر پہنچ جائیں گے، حالانکہ تجربہ بار بار اس کے خلاف ثابت کرتا ہے۔

    2) حد سے زیادہ خوش فہمی

    بہت سے لوگ ہر بار یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ “اس دفعہ کام جلدی ہو جائے گا”۔ وہ تیاری، سفر، ٹریفک اور ممکنہ رکاوٹوں کو کم سمجھتے ہیں۔ یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔

    3) جذباتی دباؤ سے بچنے کی کوشش

    کبھی کبھی لیٹ ہونا وقت سے نہیں بلکہ ذمہ داری، دباؤ یا مشکل گفتگو سے بچنے کا ایک لاشعوری طریقہ ہوتا ہے۔ لیٹ آنا ایک نفسیاتی ڈھال بن جاتا ہے۔

    4) کنٹرول یا توجہ حاصل کرنا

    کچھ افراد کے لیے لیٹ آنا طاقت کا احساس دیتا ہے۔ سب انتظار کر رہے ہوتے ہیں، گفتگو رک جاتی ہے، اور توجہ ان پر آ جاتی ہے۔ یہ ہر کسی کے ساتھ نہیں ہوتا، مگر بعض اوقات یہ وجہ بھی بنتی ہے۔

    5) پرورش اور ماحول

    اگر کسی نے بچپن سے گھر، اسکول یا معاشرے میں وقت کی پابندی نہ دیکھی ہو تو لیٹ ہونا اسے معمول لگتا ہے۔ جو چیز ایک ماحول میں بدتمیزی ہے، دوسرے میں عام ہو سکتی ہے۔

    6) منصوبہ بندی کی کمی

    اکثر لوگ برے نہیں ہوتے، وہ صرف کمزور منصوبہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ صرف اصل کام کا وقت دیکھتے ہیں، تیاری، منتقلی اور غیر متوقع تاخیر کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

    نتیجہ

    وجوہات چاہے جو بھی ہوں، مسلسل لیٹ ہونا آہستہ آہستہ اعتماد کو کم کرتا ہے۔ لوگ ایسے شخص پر انحصار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لیٹ ہونا کوئی پیدائشی صفت نہیں، بلکہ ایک عادت ہے—اور عادت بدلی جا سکتی ہے۔



    حصہ دوم

    ہمیشہ 10 منٹ پہلے پہنچنے کا عملی گائیڈ

    (حوصلہ افزائی نہیں، نظام)

    وقت پر پہنچنا اچھی بات ہے، مگر 10 منٹ پہلے پہنچنا سکون، اعتماد اور قیادت کی خاموش علامت ہے۔ جو لوگ ہمیشہ پہلے پہنچتے ہیں وہ غیر معمولی نہیں ہوتے—ان کے پاس صرف بہتر نظام ہوتا ہے۔

    1) “وقت پر” کی تعریف بدل دیں

    سب سے بنیادی اصول یہ ہے:
    وقت پر = 10 منٹ پہلے
    اگر میٹنگ 9:00 کی ہے تو آپ کے ذہن میں آخری وقت 8:50 ہونا چاہیے۔ جب تک 9:00 قابلِ قبول رہے گا، 9:01 معمول بن جائے گا۔

    2) آگے نہیں، پیچھے سے منصوبہ بنائیں

    لیٹ لوگ آگے سے سوچتے ہیں، منظم لوگ پیچھے سے:
    • میٹنگ: 9:00
    • پہنچنا ضروری: 8:50
    • سفر: 30 منٹ
    • بفر: 10 منٹ
    • گھر سے نکلنا: 8:10

    یہ طریقہ خوش فہمی نہیں، حقیقت دکھاتا ہے۔

    3) بفر وقت کو لازم قرار دیں

    ہر سفر میں 10–15 منٹ کا بفر رکھیں۔
    یہ بفر ٹریفک، پارکنگ، لفٹ، موسم اور انسانی غلطی کے لیے ہوتا ہے۔
    جس منصوبے میں بفر صفر ہو، وہ لیٹ ہونے کی ضمانت ہے۔

    4) تیاری رات کو کریں

    صبح کے فیصلے تاخیر پیدا کرتے ہیں۔ سونے سے پہلے:
    • کپڑے تیار
    • بیگ تیار
    • ضروری کاغذات ایک جگہ
    • موبائل چارج
    • راستہ چیک

    کم فیصلے = کم تاخیر۔

    5) الارم واضح اور جلدی لگائیں

    ایک اضافی الارم لگائیں جس پر لکھا ہو:
    “ابھی نہ نکلے تو لیٹ ہو جاؤ گے”
    واضح پیغام مبہم نیت سے بہتر ہوتا ہے۔

    6) جلدی پہنچنے کے وقت کو قیمتی بنائیں

    ان 10 منٹ میں:
    • نوٹس دیکھیں
    • ذہن پرسکون کریں
    • اگلا قدم طے کریں

    جب یہ وقت فائدہ دینے لگے، جلدی آنا آسان ہو جاتا ہے۔

    7) لیٹ ہونے کی قیمت مقرر کریں

    عادت تب بدلتی ہے جب قیمت ہو:
    • لیٹ = جرمانہ
    • لیٹ = اضافی کام
    • لیٹ = جوابدہی

    دماغ وعدوں سے نہیں، نتائج سے سیکھتا ہے۔

    اپنی شناخت بنائیں

    خود سے کہیں:
    “میں وہ شخص ہوں جو ہمیشہ جلدی پہنچتا ہے”
    جب یہ شناخت بن جائے تو محنت کم ہو جاتی ہے۔

    9) ایک جگہ سے آغاز کریں

    سب کچھ ایک ساتھ نہ بدلیں۔
    ایک روزانہ کی سرگرمی منتخب کریں اور 21 دن وہاں 10 منٹ پہلے پہنچیں۔ نظام خود پھیل جائے گا۔

    نتیجہ

    10 منٹ پہلے پہنچنا صرف وقت کی پابندی نہیں، کردار کی مضبوطی ہے۔ یہ بے ترتیبی کو سکون میں بدل دیتا ہے اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔ آپ کو زیادہ نظم و ضبط نہیں چاہیے—آپ کو بہتر نظام چاہیے۔ ایک بار نظام بنا لیں، وقت خود درست ہو جائے گا۔
    کچھ لوگ ہر بار لیٹ کیوں آتے ہیں؟ ایک وضاحتی مضمون ہم سب کسی نہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو تقریباً ہر ملاقات، ہر کلاس یا ہر میٹنگ میں لیٹ آتا ہے۔ عام طور پر ہم فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ شخص لاپرواہ ہے یا دوسروں کے وقت کی قدر نہیں کرتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلسل لیٹ ہونا اکثر کردار کی خرابی نہیں بلکہ سوچ، عادت اور ماحول کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 1) وقت کو محسوس کرنے کا مختلف انداز ہر انسان وقت کو ایک جیسا محسوس نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کے لیے وقت منٹوں اور سیکنڈوں میں ناپا جاتا ہے، جبکہ کچھ کے لیے وقت ایک لچکدار تصور ہے۔ ایسے لوگ واقعی سمجھتے ہیں کہ وہ وقت پر پہنچ جائیں گے، حالانکہ تجربہ بار بار اس کے خلاف ثابت کرتا ہے۔ 2) حد سے زیادہ خوش فہمی بہت سے لوگ ہر بار یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ “اس دفعہ کام جلدی ہو جائے گا”۔ وہ تیاری، سفر، ٹریفک اور ممکنہ رکاوٹوں کو کم سمجھتے ہیں۔ یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ 3) جذباتی دباؤ سے بچنے کی کوشش کبھی کبھی لیٹ ہونا وقت سے نہیں بلکہ ذمہ داری، دباؤ یا مشکل گفتگو سے بچنے کا ایک لاشعوری طریقہ ہوتا ہے۔ لیٹ آنا ایک نفسیاتی ڈھال بن جاتا ہے۔ 4) کنٹرول یا توجہ حاصل کرنا کچھ افراد کے لیے لیٹ آنا طاقت کا احساس دیتا ہے۔ سب انتظار کر رہے ہوتے ہیں، گفتگو رک جاتی ہے، اور توجہ ان پر آ جاتی ہے۔ یہ ہر کسی کے ساتھ نہیں ہوتا، مگر بعض اوقات یہ وجہ بھی بنتی ہے۔ 5) پرورش اور ماحول اگر کسی نے بچپن سے گھر، اسکول یا معاشرے میں وقت کی پابندی نہ دیکھی ہو تو لیٹ ہونا اسے معمول لگتا ہے۔ جو چیز ایک ماحول میں بدتمیزی ہے، دوسرے میں عام ہو سکتی ہے۔ 6) منصوبہ بندی کی کمی اکثر لوگ برے نہیں ہوتے، وہ صرف کمزور منصوبہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ صرف اصل کام کا وقت دیکھتے ہیں، تیاری، منتقلی اور غیر متوقع تاخیر کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ نتیجہ وجوہات چاہے جو بھی ہوں، مسلسل لیٹ ہونا آہستہ آہستہ اعتماد کو کم کرتا ہے۔ لوگ ایسے شخص پر انحصار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لیٹ ہونا کوئی پیدائشی صفت نہیں، بلکہ ایک عادت ہے—اور عادت بدلی جا سکتی ہے۔ ⸻ حصہ دوم ہمیشہ 10 منٹ پہلے پہنچنے کا عملی گائیڈ (حوصلہ افزائی نہیں، نظام) وقت پر پہنچنا اچھی بات ہے، مگر 10 منٹ پہلے پہنچنا سکون، اعتماد اور قیادت کی خاموش علامت ہے۔ جو لوگ ہمیشہ پہلے پہنچتے ہیں وہ غیر معمولی نہیں ہوتے—ان کے پاس صرف بہتر نظام ہوتا ہے۔ 1) “وقت پر” کی تعریف بدل دیں سب سے بنیادی اصول یہ ہے: وقت پر = 10 منٹ پہلے اگر میٹنگ 9:00 کی ہے تو آپ کے ذہن میں آخری وقت 8:50 ہونا چاہیے۔ جب تک 9:00 قابلِ قبول رہے گا، 9:01 معمول بن جائے گا۔ 2) آگے نہیں، پیچھے سے منصوبہ بنائیں لیٹ لوگ آگے سے سوچتے ہیں، منظم لوگ پیچھے سے: • میٹنگ: 9:00 • پہنچنا ضروری: 8:50 • سفر: 30 منٹ • بفر: 10 منٹ • گھر سے نکلنا: 8:10 یہ طریقہ خوش فہمی نہیں، حقیقت دکھاتا ہے۔ 3) بفر وقت کو لازم قرار دیں ہر سفر میں 10–15 منٹ کا بفر رکھیں۔ یہ بفر ٹریفک، پارکنگ، لفٹ، موسم اور انسانی غلطی کے لیے ہوتا ہے۔ جس منصوبے میں بفر صفر ہو، وہ لیٹ ہونے کی ضمانت ہے۔ 4) تیاری رات کو کریں صبح کے فیصلے تاخیر پیدا کرتے ہیں۔ سونے سے پہلے: • کپڑے تیار • بیگ تیار • ضروری کاغذات ایک جگہ • موبائل چارج • راستہ چیک کم فیصلے = کم تاخیر۔ 5) الارم واضح اور جلدی لگائیں ایک اضافی الارم لگائیں جس پر لکھا ہو: “ابھی نہ نکلے تو لیٹ ہو جاؤ گے” واضح پیغام مبہم نیت سے بہتر ہوتا ہے۔ 6) جلدی پہنچنے کے وقت کو قیمتی بنائیں ان 10 منٹ میں: • نوٹس دیکھیں • ذہن پرسکون کریں • اگلا قدم طے کریں جب یہ وقت فائدہ دینے لگے، جلدی آنا آسان ہو جاتا ہے۔ 7) لیٹ ہونے کی قیمت مقرر کریں عادت تب بدلتی ہے جب قیمت ہو: • لیٹ = جرمانہ • لیٹ = اضافی کام • لیٹ = جوابدہی دماغ وعدوں سے نہیں، نتائج سے سیکھتا ہے۔ 😎 اپنی شناخت بنائیں خود سے کہیں: “میں وہ شخص ہوں جو ہمیشہ جلدی پہنچتا ہے” جب یہ شناخت بن جائے تو محنت کم ہو جاتی ہے۔ 9) ایک جگہ سے آغاز کریں سب کچھ ایک ساتھ نہ بدلیں۔ ایک روزانہ کی سرگرمی منتخب کریں اور 21 دن وہاں 10 منٹ پہلے پہنچیں۔ نظام خود پھیل جائے گا۔ نتیجہ 10 منٹ پہلے پہنچنا صرف وقت کی پابندی نہیں، کردار کی مضبوطی ہے۔ یہ بے ترتیبی کو سکون میں بدل دیتا ہے اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔ آپ کو زیادہ نظم و ضبط نہیں چاہیے—آپ کو بہتر نظام چاہیے۔ ایک بار نظام بنا لیں، وقت خود درست ہو جائے گا۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 33 مشاهدة
  • روزہ آپ کو روحانی طور پر مضبوط بنائے — ذمہ داری میں کمزور نہیں

    رمضان صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے۔
    یہ خود کو قابو میں کرنے کی تربیت ہے۔
    یہ نفس کو نظم و ضبط سکھانے کا مہینہ ہے۔
    یہ اللہ کے قریب ہونے اور اپنے اندر جھانکنے کا وقت ہے۔

    جب ایک انسان اپنی مرضی سے کھانا، پانی اور دیگر خواہشات چھوڑ دیتا ہے تو وہ ایک بڑی بات ثابت کرتا ہے:
    جسم روح کا غلام ہے، روح جسم کی غلام نہیں۔

    پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے:

    اگر روزہ صبر، برداشت، نظم و ضبط اور تقویٰ پیدا کرتا ہے تو کیا یہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں میں کمزور کر دینا چاہیے؟

    ہرگز نہیں۔



    روزے کا اصل مقصد

    اللہ تعالیٰ نے روزہ اس لیے فرض کیا کہ انسان میں تقویٰ پیدا ہو — یعنی شعور، ذمہ داری اور احتساب۔

    جو شخص 14 سے 16 گھنٹے بھوک اور پیاس برداشت کر سکتا ہے،
    وہ اپنی سستی، غصہ، بدتمیزی اور لاپرواہی پر بھی قابو پا سکتا ہے۔

    روزہ انسان کو کمزور نہیں کرتا،
    بلکہ اسے اپنے اوپر اختیار دیتا ہے۔

    جب معدہ ہلکا ہو تو دماغ زیادہ صاف سوچتا ہے۔
    جب خواہشات قابو میں ہوں تو توجہ بڑھتی ہے۔
    جب دن کا آغاز سحری اور نماز سے ہو تو نیت مضبوط ہوتی ہے۔

    رمضان ہمیں اوپر اٹھانے کے لیے آیا ہے، نیچے گرانے کے لیے نہیں۔



    نبی ﷺ کی مثال

    Muhammad نے روزے رکھے،
    لیکن ساتھ ہی ریاست چلائی، لوگوں کے فیصلے کیے، تعلیم دی، اور اہم معرکوں کی قیادت کی۔

    غزوۂ بدر رمضان میں ہوا —
    اور وہ اسلام کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔

    روزہ ان کے لیے کمزوری نہیں بنا۔
    وہ ان کے لیے طاقت، نظم اور یقین کا ذریعہ بنا۔



    ذمہ داری بھی عبادت ہے

    اسلام میں صرف نماز اور روزہ عبادت نہیں ہیں۔

    ایمانداری سے کام کرنا،
    طلبہ کو پڑھانا،
    کاروبار دیانت سے چلانا،
    گھر والوں کی خدمت کرنا،
    قوم کی خدمت کرنا —
    یہ سب عبادت ہیں اگر نیت درست ہو۔

    اگر کوئی شخص روزے کو بہانہ بنا کر اپنے کام میں کوتاہی کرے،
    وقت ضائع کرے،
    یا ذمہ داری سے بھاگے،
    تو وہ روزے کی روح کو نہیں سمجھا۔

    رمضان برداشت سکھاتا ہے، فرار نہیں۔



    روحانی طاقت دنیاوی معیار بہتر کرتی ہے

    حقیقی روحانیت انسان کو دنیا سے کاٹتی نہیں،
    بلکہ دنیا میں بہتر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔

    روزہ انسان کو:
    • صبر سکھاتا ہے
    • غصے پر قابو سکھاتا ہے
    • دوسروں کے درد کا احساس دیتا ہے
    • وقت کی قدر سکھاتا ہے
    • نیت کو خالص کرتا ہے

    یہ سب صفات ایک انسان کو زیادہ ذمہ دار بناتی ہیں، کم نہیں۔



    توازن کی تعلیم

    اسلام آسانی بھی سکھاتا ہے۔
    بیمار، مسافر، بوڑھے افراد اور کمزور لوگوں کو رعایت دی گئی ہے۔

    لیکن جو صحت مند اور قادر ہے،
    اس کے لیے رمضان سستی کا مہینہ نہیں —
    اصلاح کا مہینہ ہے۔

    بھوک عارضی ہے۔
    تربیت دائمی ہے۔



    نتیجہ

    روزہ آپ کو توڑنے نہیں آیا،
    آپ کو بنانے آیا ہے۔

    یہ یاد دلاتا ہے کہ آپ کی اقدار آپ کے جسم سے بڑی ہیں۔

    صحیح سمجھ کے ساتھ رکھا گیا روزہ انسان کو بناتا ہے:
    • مضبوط کردار کا مالک
    • واضح سوچ رکھنے والا
    • منظم اور باعمل
    • ذمہ دار اور دیانت دار

    روحانی بلندی اور دنیاوی کامیابی ایک دوسرے کی مخالف نہیں۔

    رمضان میں یہ دونوں ساتھ ساتھ بلند ہونے چاہئیں۔
    🌙 روزہ آپ کو روحانی طور پر مضبوط بنائے — ذمہ داری میں کمزور نہیں رمضان صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ خود کو قابو میں کرنے کی تربیت ہے۔ یہ نفس کو نظم و ضبط سکھانے کا مہینہ ہے۔ یہ اللہ کے قریب ہونے اور اپنے اندر جھانکنے کا وقت ہے۔ جب ایک انسان اپنی مرضی سے کھانا، پانی اور دیگر خواہشات چھوڑ دیتا ہے تو وہ ایک بڑی بات ثابت کرتا ہے: جسم روح کا غلام ہے، روح جسم کی غلام نہیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: اگر روزہ صبر، برداشت، نظم و ضبط اور تقویٰ پیدا کرتا ہے تو کیا یہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں میں کمزور کر دینا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ ⸻ روزے کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ نے روزہ اس لیے فرض کیا کہ انسان میں تقویٰ پیدا ہو — یعنی شعور، ذمہ داری اور احتساب۔ جو شخص 14 سے 16 گھنٹے بھوک اور پیاس برداشت کر سکتا ہے، وہ اپنی سستی، غصہ، بدتمیزی اور لاپرواہی پر بھی قابو پا سکتا ہے۔ روزہ انسان کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ اسے اپنے اوپر اختیار دیتا ہے۔ جب معدہ ہلکا ہو تو دماغ زیادہ صاف سوچتا ہے۔ جب خواہشات قابو میں ہوں تو توجہ بڑھتی ہے۔ جب دن کا آغاز سحری اور نماز سے ہو تو نیت مضبوط ہوتی ہے۔ رمضان ہمیں اوپر اٹھانے کے لیے آیا ہے، نیچے گرانے کے لیے نہیں۔ ⸻ نبی ﷺ کی مثال Muhammad نے روزے رکھے، لیکن ساتھ ہی ریاست چلائی، لوگوں کے فیصلے کیے، تعلیم دی، اور اہم معرکوں کی قیادت کی۔ غزوۂ بدر رمضان میں ہوا — اور وہ اسلام کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ روزہ ان کے لیے کمزوری نہیں بنا۔ وہ ان کے لیے طاقت، نظم اور یقین کا ذریعہ بنا۔ ⸻ ذمہ داری بھی عبادت ہے اسلام میں صرف نماز اور روزہ عبادت نہیں ہیں۔ ایمانداری سے کام کرنا، طلبہ کو پڑھانا، کاروبار دیانت سے چلانا، گھر والوں کی خدمت کرنا، قوم کی خدمت کرنا — یہ سب عبادت ہیں اگر نیت درست ہو۔ اگر کوئی شخص روزے کو بہانہ بنا کر اپنے کام میں کوتاہی کرے، وقت ضائع کرے، یا ذمہ داری سے بھاگے، تو وہ روزے کی روح کو نہیں سمجھا۔ رمضان برداشت سکھاتا ہے، فرار نہیں۔ ⸻ روحانی طاقت دنیاوی معیار بہتر کرتی ہے حقیقی روحانیت انسان کو دنیا سے کاٹتی نہیں، بلکہ دنیا میں بہتر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ روزہ انسان کو: • صبر سکھاتا ہے • غصے پر قابو سکھاتا ہے • دوسروں کے درد کا احساس دیتا ہے • وقت کی قدر سکھاتا ہے • نیت کو خالص کرتا ہے یہ سب صفات ایک انسان کو زیادہ ذمہ دار بناتی ہیں، کم نہیں۔ ⸻ توازن کی تعلیم اسلام آسانی بھی سکھاتا ہے۔ بیمار، مسافر، بوڑھے افراد اور کمزور لوگوں کو رعایت دی گئی ہے۔ لیکن جو صحت مند اور قادر ہے، اس کے لیے رمضان سستی کا مہینہ نہیں — اصلاح کا مہینہ ہے۔ بھوک عارضی ہے۔ تربیت دائمی ہے۔ ⸻ نتیجہ روزہ آپ کو توڑنے نہیں آیا، آپ کو بنانے آیا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ آپ کی اقدار آپ کے جسم سے بڑی ہیں۔ صحیح سمجھ کے ساتھ رکھا گیا روزہ انسان کو بناتا ہے: • مضبوط کردار کا مالک • واضح سوچ رکھنے والا • منظم اور باعمل • ذمہ دار اور دیانت دار روحانی بلندی اور دنیاوی کامیابی ایک دوسرے کی مخالف نہیں۔ رمضان میں یہ دونوں ساتھ ساتھ بلند ہونے چاہئیں۔ 🌙
    0 التعليقات 0 المشاركات 125 مشاهدة
  • نماز اور وقت کی پابندی: کامیاب زندگی کا راز

    نماز اسلام میں وقت کی پابندی کی سب سے خوبصورت اور عملی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دن میں پانچ بار نماز پڑھنے کا حکم دیا اور ہر نماز کا ایک مقررہ وقت مقرر کیا۔ اذان ہمیشہ وقت پر دی جاتی ہے، اور یہ مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے کاموں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور حاضر ہوں۔

    نماز اور وقت کی اہمیت

    اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

    “نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرو۔”
    (النساء: 103)

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    “اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو وقت پر کیا جائے۔”
    (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 527)

    یہ تعلیمات ظاہر کرتی ہیں کہ نماز صرف عبادت نہیں، بلکہ وقت کی پابندی سکھانے کا ایک عملی نظام بھی ہے۔ پانچ وقت کی نمازیں ایک مسلمان کو دن بھر کے وقت کو منظم طریقے سے استعمال کرنا سکھاتی ہیں۔

    نماز اور ٹائم مینجمنٹ

    جو لوگ وقت پر نماز پڑھتے ہیں، وہ خود بخود وقت کی اہمیت کو سمجھنے لگتے ہیں۔ نماز ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
    1. ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے: جیسے فجر، ظہر، عصر، مغرب، اور عشاء اپنے مقررہ اوقات پر ہوتی ہیں، اسی طرح زندگی کے ہر کام کو صحیح وقت پر کرنا ضروری ہے۔
    2. جماعت کی اہمیت: وقت پر مسجد جا کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا انسان کو وقت کی قدر اور دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی کے اصول سکھاتا ہے۔
    3. ٹائم مینجمنٹ کی مشق: پانچ وقت کی نمازوں کے ذریعے انسان اپنی روزمرہ کی زندگی کو منظم کرنا سیکھتا ہے، جو دنیاوی اور روحانی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔

    نماز وقت پر ادا کرنے کے فوائد
    1. روحانی سکون: وقت پر نماز پڑھنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور اللہ سے قربت حاصل ہوتی ہے۔
    2. نظم و ضبط: نماز کی پابندی کرنے والا انسان اپنی زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی وقت کی پابندی کرتا ہے۔
    3. کامیاب زندگی: جو لوگ نماز کو وقت پر ادا کرتے ہیں، وہ بہتر منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے ذریعے دنیاوی زندگی میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔

    ہم سب کے لیے نصیحت

    نماز نہ صرف اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے بلکہ یہ ہمیں وقت کی قدر کرنا بھی سکھاتی ہے۔ جو مسلمان اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، وہ زندگی میں کامیاب اور خوشحال رہتے ہیں۔

    آئیے، آج ہی عہد کریں کہ نمازوں کو وقت پر اور جماعت کے ساتھ پڑھیں گے، تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔

    آپ کے خیال میں نماز وقت پر ادا کرنے سے زندگی میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں کریں۔
    نماز اور وقت کی پابندی: کامیاب زندگی کا راز نماز اسلام میں وقت کی پابندی کی سب سے خوبصورت اور عملی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دن میں پانچ بار نماز پڑھنے کا حکم دیا اور ہر نماز کا ایک مقررہ وقت مقرر کیا۔ اذان ہمیشہ وقت پر دی جاتی ہے، اور یہ مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے کاموں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور حاضر ہوں۔ نماز اور وقت کی اہمیت اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: “نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرو۔” (النساء: 103) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو وقت پر کیا جائے۔” (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 527) یہ تعلیمات ظاہر کرتی ہیں کہ نماز صرف عبادت نہیں، بلکہ وقت کی پابندی سکھانے کا ایک عملی نظام بھی ہے۔ پانچ وقت کی نمازیں ایک مسلمان کو دن بھر کے وقت کو منظم طریقے سے استعمال کرنا سکھاتی ہیں۔ نماز اور ٹائم مینجمنٹ جو لوگ وقت پر نماز پڑھتے ہیں، وہ خود بخود وقت کی اہمیت کو سمجھنے لگتے ہیں۔ نماز ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ: 1. ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے: جیسے فجر، ظہر، عصر، مغرب، اور عشاء اپنے مقررہ اوقات پر ہوتی ہیں، اسی طرح زندگی کے ہر کام کو صحیح وقت پر کرنا ضروری ہے۔ 2. جماعت کی اہمیت: وقت پر مسجد جا کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا انسان کو وقت کی قدر اور دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی کے اصول سکھاتا ہے۔ 3. ٹائم مینجمنٹ کی مشق: پانچ وقت کی نمازوں کے ذریعے انسان اپنی روزمرہ کی زندگی کو منظم کرنا سیکھتا ہے، جو دنیاوی اور روحانی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ نماز وقت پر ادا کرنے کے فوائد 1. روحانی سکون: وقت پر نماز پڑھنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور اللہ سے قربت حاصل ہوتی ہے۔ 2. نظم و ضبط: نماز کی پابندی کرنے والا انسان اپنی زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی وقت کی پابندی کرتا ہے۔ 3. کامیاب زندگی: جو لوگ نماز کو وقت پر ادا کرتے ہیں، وہ بہتر منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے ذریعے دنیاوی زندگی میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ ہم سب کے لیے نصیحت نماز نہ صرف اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے بلکہ یہ ہمیں وقت کی قدر کرنا بھی سکھاتی ہے۔ جو مسلمان اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، وہ زندگی میں کامیاب اور خوشحال رہتے ہیں۔ آئیے، آج ہی عہد کریں کہ نمازوں کو وقت پر اور جماعت کے ساتھ پڑھیں گے، تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ آپ کے خیال میں نماز وقت پر ادا کرنے سے زندگی میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں کریں۔
    0 التعليقات 0 المشاركات 3 مشاهدة
  • السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوتے ہوئے جدید ڈیجیٹل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لیے تن من دھن سے مصروف عمل ہوں گے۔

    ناچیز ایک عرصے سے آپ کا قدر دان ہے۔ بلاشبہ آپ کی خدمات نہایت اہم اور نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرنے کے تناظر میں حد درجہ سود مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمر، خوشیوں اور کامیابیوں میں بے تحاشہ برکتیں شامل فرمائیں۔

    حال ہی میں آپ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اس موقع پر میں آپ سے ملاقات کا خواہش مند تھا لیکن اس خواہش کی تکمیل میں آپ کا لاگو کردہ ایک ضابطہ رکاوٹ بن گیا یعنی ملاقات سے پہلے پانچ ہزار روپے جمع کرنے کا۔ مجھے اس کی کوئی مصلحت یا ضرورت سمجھ نہیں آئی۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول وجہ بتا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ کو ایسے مواقع خود سے مفت فراہم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ آمادہ ہو کر آپ کے ادارے میں اپنے بچے داخل کرا سکیں۔

    میں ان شاءاللہ یکم مارچ کو اپنے دو بچے آپ کے ادارے میں داخل کراؤں گا تاکہ آپ کے وژن کے مطابق وہ لائق اور باصلاحیت افراد بن سکیں۔

    یاد رہے میرا استفسار کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لیے ہے۔

    آپ کا قدر دان سید عنایت اللہ جان

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    محترم سید عنایت اللہ جان صاحب،

    آپ کی محبت، دعا اور خلوص بھرے الفاظ دل کو خوشی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے بچوں کو علمِ نافع، صحت اور عزت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔

    آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بالکل بجا اور باوقار انداز میں اٹھایا ہے۔ ایسے سوالات اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔

    ملاقات کی فیس کیوں رکھی گئی؟

    یہ فیصلہ کسی مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ نظم، توجہ اور سنجیدگی کے لیے کیا گیا ہے۔ چند وجوہات حاضر ہیں:

    وقت کی قدر اور فلٹر
    روزانہ درجنوں لوگ ملاقات کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر سب کو بغیر ترتیب کے وقت دیا جائے تو:
    • ادارے کی تعمیر رک جاتی ہے
    • طلبہ پر توجہ کم ہو جاتی ہے
    • فیصلوں میں گہرائی ختم ہو جاتی ہے

    فیس دراصل ایک فلٹر ہے — جو واقعی سنجیدہ ہو، وہ وقت لے گا۔

    مکمل توجہ کے ساتھ نشست
    جب کوئی شخص فیس ادا کر کے آتا ہے تو:
    • اسے مکمل، منظم اور گہرائی والی گفتگو ملتی ہے
    • مسئلہ سنجیدگی سے سنا جاتا ہے
    • عملی رہنمائی دی جاتی ہے

    یہ “رسمی ملاقات” نہیں ہوتی بلکہ structured consultation ہوتی ہے۔

    مشن پر فوکس
    اس وقت بنیادی توجہ:
    • نظام کی بہتری
    • طلبہ کی ٹریننگ
    • اساتذہ کی تیاری
    • AI-based learning کی توسیع

    پر مرکوز ہے۔ اگر روزانہ غیر منظم ملاقاتیں ہوں تو یہ رفتار کم ہو جائے گی۔



    اہم بات

    ادارے کا وزٹ، اوپن سیشن، سیمینار، اور آن لائن مواد — یہ سب مفت دستیاب ہیں۔
    ٹیم، پرنسپل اور اساتذہ رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔
    براہِ راست ذاتی نشست صرف اس وقت رکھی جاتی ہے جب مکمل فوکس اور وقت دینا مقصود ہو۔



    آپ کا یکم مارچ کو بچوں کا داخلہ کرانے کا ارادہ قابلِ تحسین ہے۔ اصل ملاقات تو اس دن شروع ہوگی جب بچے سسٹم میں داخل ہو کر اپنی صلاحیت کھولنا شروع کریں گے۔ یہی اصل سرمایہ کاری ہے۔

    آپ کا سوال اعتراض نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے — اور شعور رکھنے والے والدین ہی اصل تبدیلی لاتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو علم، ہنر اور کردار کی بلندی عطا فرمائے۔

    احترام کے ساتھ
    ریحان اللہ والا
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوتے ہوئے جدید ڈیجیٹل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لیے تن من دھن سے مصروف عمل ہوں گے۔ ناچیز ایک عرصے سے آپ کا قدر دان ہے۔ بلاشبہ آپ کی خدمات نہایت اہم اور نئی نسل کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرنے کے تناظر میں حد درجہ سود مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمر، خوشیوں اور کامیابیوں میں بے تحاشہ برکتیں شامل فرمائیں۔ حال ہی میں آپ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اس موقع پر میں آپ سے ملاقات کا خواہش مند تھا لیکن اس خواہش کی تکمیل میں آپ کا لاگو کردہ ایک ضابطہ رکاوٹ بن گیا یعنی ملاقات سے پہلے پانچ ہزار روپے جمع کرنے کا۔ مجھے اس کی کوئی مصلحت یا ضرورت سمجھ نہیں آئی۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول وجہ بتا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ کو ایسے مواقع خود سے مفت فراہم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ آمادہ ہو کر آپ کے ادارے میں اپنے بچے داخل کرا سکیں۔ میں ان شاءاللہ یکم مارچ کو اپنے دو بچے آپ کے ادارے میں داخل کراؤں گا تاکہ آپ کے وژن کے مطابق وہ لائق اور باصلاحیت افراد بن سکیں۔ یاد رہے میرا استفسار کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لیے ہے۔ آپ کا قدر دان سید عنایت اللہ جان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ محترم سید عنایت اللہ جان صاحب، آپ کی محبت، دعا اور خلوص بھرے الفاظ دل کو خوشی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے بچوں کو علمِ نافع، صحت اور عزت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔ آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ بالکل بجا اور باوقار انداز میں اٹھایا ہے۔ ایسے سوالات اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔ ملاقات کی فیس کیوں رکھی گئی؟ یہ فیصلہ کسی مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ نظم، توجہ اور سنجیدگی کے لیے کیا گیا ہے۔ چند وجوہات حاضر ہیں: 1️⃣ وقت کی قدر اور فلٹر روزانہ درجنوں لوگ ملاقات کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر سب کو بغیر ترتیب کے وقت دیا جائے تو: • ادارے کی تعمیر رک جاتی ہے • طلبہ پر توجہ کم ہو جاتی ہے • فیصلوں میں گہرائی ختم ہو جاتی ہے فیس دراصل ایک فلٹر ہے — جو واقعی سنجیدہ ہو، وہ وقت لے گا۔ 2️⃣ مکمل توجہ کے ساتھ نشست جب کوئی شخص فیس ادا کر کے آتا ہے تو: • اسے مکمل، منظم اور گہرائی والی گفتگو ملتی ہے • مسئلہ سنجیدگی سے سنا جاتا ہے • عملی رہنمائی دی جاتی ہے یہ “رسمی ملاقات” نہیں ہوتی بلکہ structured consultation ہوتی ہے۔ 3️⃣ مشن پر فوکس اس وقت بنیادی توجہ: • نظام کی بہتری • طلبہ کی ٹریننگ • اساتذہ کی تیاری • AI-based learning کی توسیع پر مرکوز ہے۔ اگر روزانہ غیر منظم ملاقاتیں ہوں تو یہ رفتار کم ہو جائے گی۔ ⸻ اہم بات ✔️ ادارے کا وزٹ، اوپن سیشن، سیمینار، اور آن لائن مواد — یہ سب مفت دستیاب ہیں۔ ✔️ ٹیم، پرنسپل اور اساتذہ رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ✔️ براہِ راست ذاتی نشست صرف اس وقت رکھی جاتی ہے جب مکمل فوکس اور وقت دینا مقصود ہو۔ ⸻ آپ کا یکم مارچ کو بچوں کا داخلہ کرانے کا ارادہ قابلِ تحسین ہے۔ اصل ملاقات تو اس دن شروع ہوگی جب بچے سسٹم میں داخل ہو کر اپنی صلاحیت کھولنا شروع کریں گے۔ یہی اصل سرمایہ کاری ہے۔ آپ کا سوال اعتراض نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے — اور شعور رکھنے والے والدین ہی اصل تبدیلی لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو علم، ہنر اور کردار کی بلندی عطا فرمائے۔ احترام کے ساتھ ریحان اللہ والا
    0 التعليقات 0 المشاركات 4 مشاهدة
  • میں سب سے کیوں نہیں ملتا؟ ایک سچّا اور ضروری جواب

    Rehan School کے دورے کے دوران
    Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ نے مجھ سے ایک سیدھا سوال پوچھا:

    “آپ اب عام لوگوں، وزیٹرز، بڑوں سے کیوں نہیں ملتے؟ جو آپ سے ملنا چاہتے ہیں اُن سے کیوں نہیں بیٹھتے؟”

    یہ بالکل جائز سوال تھا۔

    اور میرا جواب سادہ ہے۔

    میرے وقت کا ریٹرن آن انویسٹمنٹ بہت کم ہوتا ہے ایسے زیادہ تر ملاقاتوں میں۔

    لوگ بُرے نہیں ہوتے۔
    لوگ ناسمجھ نہیں ہوتے۔

    لیکن سننا اور کمٹ کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔

    میں نے:

    ✔ ایک مضبوط ٹیم بنا دی ہے
    ✔ سارا سسٹم آن لائن ڈال دیا ہے
    ✔ مکمل نصاب تیار کر دیا ہے
    ✔ ہر چیز انٹرنیٹ پر دستاویزی شکل میں موجود ہے

    اگر کوئی واقعی سمجھنا چاہتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں — راستہ پہلے سے موجود ہے۔

    ہاں، جب میں بیٹھ کر کسی کو سمجھاتا ہوں تو وہ ملاقات بہت طاقتور ہوتی ہے۔
    وضاحت آتی ہے۔
    جوش آتا ہے۔

    لیکن…

    میرے پاس دن میں محدود توانائی ہے۔

    میری صحت کامل نہیں۔
    میری اسٹیمنا محدود ہے۔
    میرا وقت انتہائی قیمتی اور محدود ہے۔

    لہٰذا مجھے انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

    میں اپنی توانائی اُن پر لگانا چاہتا ہوں:

    جو روز 8 سے 10 گھنٹے کام کر رہے ہیں
    جو صرف سننے نہیں، کرنے آئے ہیں
    جو نصاب فالو کر رہے ہیں
    جو عملاً سسٹم بنا رہے ہیں

    2 گھنٹے کی موٹیویشن پاکستان نہیں بدلے گی۔

    8 گھنٹے کی روزانہ محنت بدلے گی۔

    اسی لیے میں اپنی توانائی ٹیم اور طلبہ پر فوکس کرتا ہوں —
    جو سننے نہیں، بنانے آئے ہیں۔

    اگر آپ واقعی سمجھنا چاہتے ہیں —
    نصاب پڑھیں۔
    سسٹم فالو کریں۔
    عمل شروع کریں۔

    پھر ہم ضرور بیٹھیں گے۔

    #فوکس #قیادت #وقت_کی_قدر #عمل_نہ_کہ_باتیں #RehanSchool #Pakistan #AI #BuildNotJustListen
    🔥 میں سب سے کیوں نہیں ملتا؟ ایک سچّا اور ضروری جواب 🔥 Rehan School کے دورے کے دوران Gulmina Bilal Ahmad صاحبہ نے مجھ سے ایک سیدھا سوال پوچھا: “آپ اب عام لوگوں، وزیٹرز، بڑوں سے کیوں نہیں ملتے؟ جو آپ سے ملنا چاہتے ہیں اُن سے کیوں نہیں بیٹھتے؟” یہ بالکل جائز سوال تھا۔ اور میرا جواب سادہ ہے۔ میرے وقت کا ریٹرن آن انویسٹمنٹ بہت کم ہوتا ہے ایسے زیادہ تر ملاقاتوں میں۔ لوگ بُرے نہیں ہوتے۔ لوگ ناسمجھ نہیں ہوتے۔ لیکن سننا اور کمٹ کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ میں نے: ✔ ایک مضبوط ٹیم بنا دی ہے ✔ سارا سسٹم آن لائن ڈال دیا ہے ✔ مکمل نصاب تیار کر دیا ہے ✔ ہر چیز انٹرنیٹ پر دستاویزی شکل میں موجود ہے اگر کوئی واقعی سمجھنا چاہتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں — راستہ پہلے سے موجود ہے۔ ہاں، جب میں بیٹھ کر کسی کو سمجھاتا ہوں تو وہ ملاقات بہت طاقتور ہوتی ہے۔ وضاحت آتی ہے۔ جوش آتا ہے۔ لیکن… میرے پاس دن میں محدود توانائی ہے۔ میری صحت کامل نہیں۔ میری اسٹیمنا محدود ہے۔ میرا وقت انتہائی قیمتی اور محدود ہے۔ لہٰذا مجھے انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ میں اپنی توانائی اُن پر لگانا چاہتا ہوں: 🔹 جو روز 8 سے 10 گھنٹے کام کر رہے ہیں 🔹 جو صرف سننے نہیں، کرنے آئے ہیں 🔹 جو نصاب فالو کر رہے ہیں 🔹 جو عملاً سسٹم بنا رہے ہیں 2 گھنٹے کی موٹیویشن پاکستان نہیں بدلے گی۔ 8 گھنٹے کی روزانہ محنت بدلے گی۔ اسی لیے میں اپنی توانائی ٹیم اور طلبہ پر فوکس کرتا ہوں — جو سننے نہیں، بنانے آئے ہیں۔ اگر آپ واقعی سمجھنا چاہتے ہیں — نصاب پڑھیں۔ سسٹم فالو کریں۔ عمل شروع کریں۔ پھر ہم ضرور بیٹھیں گے۔ #فوکس #قیادت #وقت_کی_قدر #عمل_نہ_کہ_باتیں #RehanSchool #Pakistan #AI #BuildNotJustListen
    0 التعليقات 0 المشاركات 35 مشاهدة 0
  • نیٹ ورک کیا ہوتا ہے؟ | ریحان اللہ والا کی زبانی اصل طاقت

    زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں:
    فون میں نمبر ہونا ہی نیٹ ورک ہے
    انسٹاگرام فالورز ہی نیٹ ورک ہیں
    ایک بار کسی سے مل لینا ہی نیٹ ورک ہے

    نہیں۔

    نیٹ ورک نمبروں کا کھیل نہیں۔
    نیٹ ورک = اعتماد + تعلق + ویلیو ایکسچینج۔



    نیٹ ورک کیا ہے؟

    نیٹ ورک وہ لوگ ہیں:
    • جو آپ کو جانتے ہیں
    • آپ پر اعتماد کرتے ہیں
    • آپ کے کام کی عزت کرتے ہیں
    • اور آپ کے لیے دروازے کھولنے کو تیار ہوتے ہیں

    اگر کوئی آپ کو کسی بڑے انسان سے متعارف کروانے کو تیار نہیں…
    تو ابھی آپ کے پاس نیٹ ورک نہیں ہے۔

    صرف کانٹیکٹس ہیں۔



    نیٹ ورک کو استعمال کیسے کریں؟

    عام لوگ نیٹ ورک کو تب یاد کرتے ہیں
    جب انہیں ضرورت ہوتی ہے۔

    اسی لیے وہ آگے نہیں بڑھتے۔

    سمجھدار لوگ:
    • پہلے ویلیو دیتے ہیں
    • دوسروں کو جوڑتے ہیں
    • مواقع شیئر کرتے ہیں
    • مسائل حل کرتے ہیں

    جب آپ 10 لوگوں کو اوپر اٹھاتے ہیں…
    وہ 10 لوگ آپ کو اوپر لے جاتے ہیں۔

    نیٹ ورک ایک پٹھے کی طرح ہے۔
    جتنا مثبت استعمال کریں گے، اتنا مضبوط ہوگا۔



    طاقتور نیٹ ورک میں داخل کیسے ہوں؟

    ایسے نہیں:
    “مجھے جاب چاہیے، میری مدد کریں”

    ایسے:
    “میں آپ کی کس طرح مدد کر سکتا ہوں؟”

    اس کے لیے:
    کمیونیکیشن بہتر کریں
    خود کو مفید بنائیں (AI، سکلز، مسئلہ حل کرنا)
    مستقل مزاجی دکھائیں
    وقت کی قدر کریں
    وعدہ پورا کریں

    دروازے قابل لوگوں کے لیے کھلتے ہیں۔



    اصل سچ:

    آپ کی آمدنی جڑی ہے:
    • آپ کی سکلز سے
    • آپ کی عادات سے
    • آپ کے نیٹ ورک سے

    کمزور نیٹ ورک → محدود زندگی
    مضبوط نیٹ ورک → تیز رفتار ترقی



    کسی ایسے شخص کو ٹیگ کریں جسے یہ سمجھنا ضروری ہے۔
    نیٹ ورک ضرورت سے پہلے بنائیں۔

    #Networking #Leadership #Growth #RehanAllahwala #SuccessMindset
    🔥 نیٹ ورک کیا ہوتا ہے؟ | ریحان اللہ والا کی زبانی اصل طاقت 🔥 زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں: 👉 فون میں نمبر ہونا ہی نیٹ ورک ہے 👉 انسٹاگرام فالورز ہی نیٹ ورک ہیں 👉 ایک بار کسی سے مل لینا ہی نیٹ ورک ہے ❌ نہیں۔ نیٹ ورک نمبروں کا کھیل نہیں۔ نیٹ ورک = اعتماد + تعلق + ویلیو ایکسچینج۔ ⸻ 💡 نیٹ ورک کیا ہے؟ نیٹ ورک وہ لوگ ہیں: • جو آپ کو جانتے ہیں • آپ پر اعتماد کرتے ہیں • آپ کے کام کی عزت کرتے ہیں • اور آپ کے لیے دروازے کھولنے کو تیار ہوتے ہیں اگر کوئی آپ کو کسی بڑے انسان سے متعارف کروانے کو تیار نہیں… تو ابھی آپ کے پاس نیٹ ورک نہیں ہے۔ صرف کانٹیکٹس ہیں۔ ⸻ 🚀 نیٹ ورک کو استعمال کیسے کریں؟ عام لوگ نیٹ ورک کو تب یاد کرتے ہیں جب انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ آگے نہیں بڑھتے۔ سمجھدار لوگ: • پہلے ویلیو دیتے ہیں • دوسروں کو جوڑتے ہیں • مواقع شیئر کرتے ہیں • مسائل حل کرتے ہیں جب آپ 10 لوگوں کو اوپر اٹھاتے ہیں… وہ 10 لوگ آپ کو اوپر لے جاتے ہیں۔ نیٹ ورک ایک پٹھے کی طرح ہے۔ جتنا مثبت استعمال کریں گے، اتنا مضبوط ہوگا۔ ⸻ 🔑 طاقتور نیٹ ورک میں داخل کیسے ہوں؟ ایسے نہیں: “مجھے جاب چاہیے، میری مدد کریں” ایسے: “میں آپ کی کس طرح مدد کر سکتا ہوں؟” اس کے لیے: 1️⃣ کمیونیکیشن بہتر کریں 2️⃣ خود کو مفید بنائیں (AI، سکلز، مسئلہ حل کرنا) 3️⃣ مستقل مزاجی دکھائیں 4️⃣ وقت کی قدر کریں 5️⃣ وعدہ پورا کریں دروازے قابل لوگوں کے لیے کھلتے ہیں۔ ⸻ 🎯 اصل سچ: آپ کی آمدنی جڑی ہے: • آپ کی سکلز سے • آپ کی عادات سے • آپ کے نیٹ ورک سے کمزور نیٹ ورک → محدود زندگی مضبوط نیٹ ورک → تیز رفتار ترقی ⸻ کسی ایسے شخص کو ٹیگ کریں جسے یہ سمجھنا ضروری ہے۔ نیٹ ورک ضرورت سے پہلے بنائیں۔ #Networking #Leadership #Growth #RehanAllahwala #SuccessMindset
    0 التعليقات 0 المشاركات 218 مشاهدة 0