• سر بہت سی چیزیں ڈسکس کرنی تھی لیکن اپنی غلطی کی وجہ سے ملاقات نصیب نہیں ہوئی،خیر ایک چیز جو بہت ہی اہم ہے وہ یہ کہ میں پچھلے دس سال سے ٹیم ورک کرتا ہوں مطلب اپنے ساتھ پوری ٹیم بناتا ہوں پھر کام میں لگ جاتا ہوں،اگے چل کر وہ لوگ ساتھ نبھانے کی بجائے مسائل اور مشکلات پیدا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی وجہ سے ممکن ہوا،میں چونکہ کام پہ فوکس رکھتا ہوں کریڈٹ کی چکر میں نہیں پڑتا پھر بھی دل ہار مانتا ہے کہ یہ لوگ اتنی بے مروتی کیوں کرتے ہیں،پوچھنا یہ ہے کہ کام اکیلے کروں یا ٹیم بناؤں مطلب ابھی تک کسی بھی ٹیم کے ساتھ تجربہ اچھا نہیں رہا،تھنکس
    سر بہت سی چیزیں ڈسکس کرنی تھی لیکن اپنی غلطی کی وجہ سے ملاقات نصیب نہیں ہوئی،خیر ایک چیز جو بہت ہی اہم ہے وہ یہ کہ میں پچھلے دس سال سے ٹیم ورک کرتا ہوں مطلب اپنے ساتھ پوری ٹیم بناتا ہوں پھر کام میں لگ جاتا ہوں،اگے چل کر وہ لوگ ساتھ نبھانے کی بجائے مسائل اور مشکلات پیدا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی وجہ سے ممکن ہوا،میں چونکہ کام پہ فوکس رکھتا ہوں کریڈٹ کی چکر میں نہیں پڑتا پھر بھی دل ہار مانتا ہے کہ یہ لوگ اتنی بے مروتی کیوں کرتے ہیں،پوچھنا یہ ہے کہ کام اکیلے کروں یا ٹیم بناؤں مطلب ابھی تک کسی بھی ٹیم کے ساتھ تجربہ اچھا نہیں رہا،تھنکس
    0 Комментарии 0 Поделились 81 Просмотры
  • ایک لاکھ روپے کا سوال ہے بابا

    ایک لاکھ ماہانہ کمانے کے حوالے سے ایک آرگنک سلسلے کا آغاز کیا تو ،کثیر تعداد میں لوگوں نے روابط کیٸے،

    واٹس ایپ کا ایک گروپ تشکیل دیا جس میں لوگوں کو ایڈ کرنے کے بعد انکی ترتبیت ایک لاکھ کمانے کے حوالے سے شروع کی،

    لوگوں کا رجحان ایک لاکھ کمانے سے متعلق بڑا دیدنی تھا، رات ایک بجے تک میسجز کا سلسلہ جاری رہتا،

    سب سے پہلے جو ہمیں سوال کیا جاتا کہ ،ہمیں بتاٸیں کے ایک لاکھ کیسے کمانا ہے، نا تعارف ،نا ڈی پی پر تصویر ، بس لاکھ روپے کا سوال،

    کچھ لوگ سوال کرتے کے ہم بیروزگار ہیں کام پر لگاٸیے اور لاکھ روپے دیجٸے،

    بعض کا سوال تھا کہ چلو ہم کام سیکھ لیں گے، مگر آپ ہمیں یہ بتاٸیں کہ ایک لاکھ کب تک کمانا شروع ہو جاٸیں گے ہم،

    ان تمام لوگوں میں سے تقریباً 7 سے 8 لوگ ایسے ہیں جو پوری توجہ اور دلچسپی سے بھروسے کے ساتھ ایک لاکھ کا سوال کیے بنا کوشاں ہیں،اور جو معلومات ہم انہیں فراہم کرتے ہیں وہ اس پر عمل کرتے ہیں، اصل میں یہی لوگ ایک لاکھ اور اس سے بھی زیادہ کمانے والے ہیں، کیونکہ انہوں نے کوشش شروع کردی،

    افسوس کے ساتھ ،شروع میں لوگ میسج پرمیسج کرتے تھے ،مگر جب ہم نے انہیں بتایا کہ ایک لاکھ کمانے کے لیے محنت شرط ہے تو وہ خاموش ہوگٸے،

    جب آپ محنت سے جی چراٸیں گے،
    سہل پسند ہونگے،
    فوکس نہیں کریں گے،
    یکسوٸی سے کام نہیں کریں گے،
    مستقل مزاجی نہیں ہوگی تو کامیابی نہیں ہو سکتی،

    آپ ایک لاکھ کمانا چاہتے ہیں،
    محنت نہیں کرنا چاہتے،

    آپ پاٸلٹ بنا چاہتے ہیں،
    مگر انچاٸی سے ڈر لگتا ہے،

    آپ دنیا فتح کرنا چاہتے ہیں،
    مگر پٹاخے سے ڈر جاتے ہیں،

    آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں،
    مگر گرم بستر سے اٹھنے کو دل نہیں چاہتا،

    آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں،
    مگر ورزش نہیں کرنا چاہتے،

    آپ ایک لاکھ ماہانہ کمانے کے لیے فوراً میسج کرتے ہیں،چاہیے رات بارہ ،یا ایک کا وقت ہو،
    مگر آپ محنت نہیں کرنا چاہتے،

    بنا محنت کے ایک نوالہ بھی منہ میں نہیں جا سکتا، آپ ایک لاکھ بنا محنت کے کمانا چاہتے ہیں،

    اگر کمانا ہے تو آٶ ہم آپکو سیکھاتے ہیں کہ محنت کیسے کرنی ہے، اور کمانا کیسے ہے،

    جس طرح ایک ٹاٸر پر موٹر ساٸیکل نہیں چل سکتی اسی طرح، محنت کے بغیر ایک لاکھ تو کیا ایک روپے بھی نہیں کما سکتے،

    پہلے سیکھیے
    پھر کماٸیے
    اور پھر کھاٸیے

    Team: Engr Izhar Ul Haq

    BLOGGERS CLUB
    ایک لاکھ روپے کا سوال ہے بابا ایک لاکھ ماہانہ کمانے کے حوالے سے ایک آرگنک سلسلے کا آغاز کیا تو ،کثیر تعداد میں لوگوں نے روابط کیٸے، واٹس ایپ کا ایک گروپ تشکیل دیا جس میں لوگوں کو ایڈ کرنے کے بعد انکی ترتبیت ایک لاکھ کمانے کے حوالے سے شروع کی، لوگوں کا رجحان ایک لاکھ کمانے سے متعلق بڑا دیدنی تھا، رات ایک بجے تک میسجز کا سلسلہ جاری رہتا، سب سے پہلے جو ہمیں سوال کیا جاتا کہ ،ہمیں بتاٸیں کے ایک لاکھ کیسے کمانا ہے، نا تعارف ،نا ڈی پی پر تصویر ، بس لاکھ روپے کا سوال، کچھ لوگ سوال کرتے کے ہم بیروزگار ہیں کام پر لگاٸیے اور لاکھ روپے دیجٸے، بعض کا سوال تھا کہ چلو ہم کام سیکھ لیں گے، مگر آپ ہمیں یہ بتاٸیں کہ ایک لاکھ کب تک کمانا شروع ہو جاٸیں گے ہم، ان تمام لوگوں میں سے تقریباً 7 سے 8 لوگ ایسے ہیں جو پوری توجہ اور دلچسپی سے بھروسے کے ساتھ ایک لاکھ کا سوال کیے بنا کوشاں ہیں،اور جو معلومات ہم انہیں فراہم کرتے ہیں وہ اس پر عمل کرتے ہیں، اصل میں یہی لوگ ایک لاکھ اور اس سے بھی زیادہ کمانے والے ہیں، کیونکہ انہوں نے کوشش شروع کردی، افسوس کے ساتھ ،شروع میں لوگ میسج پرمیسج کرتے تھے ،مگر جب ہم نے انہیں بتایا کہ ایک لاکھ کمانے کے لیے محنت شرط ہے تو وہ خاموش ہوگٸے، جب آپ محنت سے جی چراٸیں گے، سہل پسند ہونگے، فوکس نہیں کریں گے، یکسوٸی سے کام نہیں کریں گے، مستقل مزاجی نہیں ہوگی تو کامیابی نہیں ہو سکتی، آپ ایک لاکھ کمانا چاہتے ہیں، محنت نہیں کرنا چاہتے، آپ پاٸلٹ بنا چاہتے ہیں، مگر انچاٸی سے ڈر لگتا ہے، آپ دنیا فتح کرنا چاہتے ہیں، مگر پٹاخے سے ڈر جاتے ہیں، آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں، مگر گرم بستر سے اٹھنے کو دل نہیں چاہتا، آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں، مگر ورزش نہیں کرنا چاہتے، آپ ایک لاکھ ماہانہ کمانے کے لیے فوراً میسج کرتے ہیں،چاہیے رات بارہ ،یا ایک کا وقت ہو، مگر آپ محنت نہیں کرنا چاہتے، بنا محنت کے ایک نوالہ بھی منہ میں نہیں جا سکتا، آپ ایک لاکھ بنا محنت کے کمانا چاہتے ہیں، اگر کمانا ہے تو آٶ ہم آپکو سیکھاتے ہیں کہ محنت کیسے کرنی ہے، اور کمانا کیسے ہے، جس طرح ایک ٹاٸر پر موٹر ساٸیکل نہیں چل سکتی اسی طرح، محنت کے بغیر ایک لاکھ تو کیا ایک روپے بھی نہیں کما سکتے، پہلے سیکھیے پھر کماٸیے اور پھر کھاٸیے Team: Engr Izhar Ul Haq BLOGGERS CLUB
    0 Комментарии 0 Поделились 325 Просмотры
  • “خُدی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے” — علامہ اقبال

    اقبال کے خواب سے سوشل میڈیا کے راز تک

    تحریر: ریحان اللہ والا

    یہ اشعار ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ اقبال کا خواب، ایک ایسا انسان جو تقدیر سے بھی اونچا ہو جائے۔
    لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ خُدی آخر ہے کیا؟
    اور کیسے حاصل ہوتی ہے؟



    خُدی کیا ہے؟

    خُدی غرور نہیں ہے۔ تکبر نہیں ہے۔
    یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو کہنے پر مجبور کرتی ہے:
    “میں یہ کر سکتا ہوں!”

    یہ اپنے آپ پر یقین ہے۔
    یہ وہ شعور ہے جو کہتا ہے کہ اگر دنیا کے دروازے بند ہیں تو میں خود ایک نیا دروازہ بنا لوں گا۔

    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خُدی ملتی نہیں، بنانی پڑتی ہے۔



    ایک حیران کن دریافت

    میں نے اپنی زندگی میں ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔
    بات کی، انٹرویوز کیے، سوال پوچھے۔
    اور ایک عجیب سا راز سامنے آیا۔

    جو لوگ اپنے آپ پر یقین رکھتے تھے، ان میں ایک چیز مشترک تھی:

    وہ اپنی بات دوسروں تک پہنچانا جانتے تھے۔
    وہ لوگوں سے بات کرتے تھے، سنتے تھے، اور خود کو ظاہر کرتے تھے۔

    تو میں نے ایک تجربہ شروع کیا:
    میں نے لوگوں کو کہا کہ دوسروں کے انٹرویو کریں۔
    انہیں ریکارڈ کریں۔
    اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں۔

    اور پھر جو ہوا، وہ حیرت انگیز تھا۔



    پانسو انٹرویو: پہلا دروازہ

    جب کوئی شخص 500 انٹرویوز مکمل کرتا ہے
    اور انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے —
    تو وہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔

    اُس کا بولنے کا انداز بہتر ہو جاتا ہے۔
    اُس کے سوچنے کا طریقہ صاف ہو جاتا ہے۔
    اور اُس کی خُدی بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

    لیکن پھر آتا ہے اصل راز…



    ہزار انٹرویوز: کائنات کے دروازے

    جو لوگ 1,000 انٹرویوز کرتے ہیں —
    ان کے لیے کائنات خود کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔

    لوگ خود رابطہ کرتے ہیں۔
    مواقع خود چل کر آتے ہیں۔
    دروازے خود کھلتے ہیں۔

    میں نے آج تک کسی ایسے انسان کو نہیں دیکھا جس نے ہزار انٹرویوز کیے ہوں اور وہ کامیاب نہ ہوا ہو۔

    شاید وہ پہلا شخص آپ ہوں؟



    موضوع کیا ہو؟ کس پر بات کریں؟

    آسان ہے۔

    شروع کے 200 انٹرویوز کسی بھی موضوع پر کریں۔
    دوستوں، بزرگوں، بچوں، مزدوروں، استادوں — سب سے بات کریں۔
    سیکھیں کہ سوال کیسے کرتے ہیں۔
    سیکھیں کہ دل سے سننا کیا ہوتا ہے۔

    لیکن پھر کریں فوکس۔

    باقی 800 انٹرویوز صرف ایک موضوع پر کریں۔
    جس مسئلے کو آپ دنیا میں حل کرنا چاہتے ہیں — اسی پر بار بار بات کریں۔
    پھر دیکھیں، دروازے کیسے کھلتے ہیں۔



    اقبال کا خواب، آپ کی حقیقت

    اقبال نے خواب دیکھا تھا کہ انسان اتنا بلند ہو جائے کہ خدا اس سے پوچھے:

    “بتا بندے، تیری رضا کیا ہے؟”

    میں سمجھتا ہوں کہ یہ خواب آج کے دور میں ممکن ہے —
    بس ایک موبائل، ایک کیمرہ، اور ایک ارادہ ہونا چاہیے۔

    تو آئیں،
    روز ایک انٹرویو کریں
    سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں
    اور اپنی خُدی کے دروازے کھولیں

    ہر چیز کے پیچھے نہ بھاگیں۔
    صرف ایک چیز کے پیچھے بھاگیں۔
    اور دیکھیں کہ سب کچھ خود پیچھے آنا شروع ہو جائے گا۔

    آپ کی خُدی آپ کا مقدر بدل سکتی ہے۔
    کیا آپ تیار ہیں؟

    L
    “خُدی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے” — علامہ اقبال اقبال کے خواب سے سوشل میڈیا کے راز تک تحریر: ریحان اللہ والا یہ اشعار ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ اقبال کا خواب، ایک ایسا انسان جو تقدیر سے بھی اونچا ہو جائے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ خُدی آخر ہے کیا؟ اور کیسے حاصل ہوتی ہے؟ ⸻ خُدی کیا ہے؟ خُدی غرور نہیں ہے۔ تکبر نہیں ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو کہنے پر مجبور کرتی ہے: “میں یہ کر سکتا ہوں!” یہ اپنے آپ پر یقین ہے۔ یہ وہ شعور ہے جو کہتا ہے کہ اگر دنیا کے دروازے بند ہیں تو میں خود ایک نیا دروازہ بنا لوں گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خُدی ملتی نہیں، بنانی پڑتی ہے۔ ⸻ ایک حیران کن دریافت میں نے اپنی زندگی میں ہزاروں لوگوں سے ملاقات کی۔ بات کی، انٹرویوز کیے، سوال پوچھے۔ اور ایک عجیب سا راز سامنے آیا۔ جو لوگ اپنے آپ پر یقین رکھتے تھے، ان میں ایک چیز مشترک تھی: وہ اپنی بات دوسروں تک پہنچانا جانتے تھے۔ وہ لوگوں سے بات کرتے تھے، سنتے تھے، اور خود کو ظاہر کرتے تھے۔ تو میں نے ایک تجربہ شروع کیا: میں نے لوگوں کو کہا کہ دوسروں کے انٹرویو کریں۔ انہیں ریکارڈ کریں۔ اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں۔ اور پھر جو ہوا، وہ حیرت انگیز تھا۔ ⸻ پانسو انٹرویو: پہلا دروازہ جب کوئی شخص 500 انٹرویوز مکمل کرتا ہے اور انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے — تو وہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اُس کا بولنے کا انداز بہتر ہو جاتا ہے۔ اُس کے سوچنے کا طریقہ صاف ہو جاتا ہے۔ اور اُس کی خُدی بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن پھر آتا ہے اصل راز… ⸻ ہزار انٹرویوز: کائنات کے دروازے جو لوگ 1,000 انٹرویوز کرتے ہیں — ان کے لیے کائنات خود کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔ لوگ خود رابطہ کرتے ہیں۔ مواقع خود چل کر آتے ہیں۔ دروازے خود کھلتے ہیں۔ میں نے آج تک کسی ایسے انسان کو نہیں دیکھا جس نے ہزار انٹرویوز کیے ہوں اور وہ کامیاب نہ ہوا ہو۔ شاید وہ پہلا شخص آپ ہوں؟ ⸻ موضوع کیا ہو؟ کس پر بات کریں؟ آسان ہے۔ 🟢 شروع کے 200 انٹرویوز کسی بھی موضوع پر کریں۔ دوستوں، بزرگوں، بچوں، مزدوروں، استادوں — سب سے بات کریں۔ سیکھیں کہ سوال کیسے کرتے ہیں۔ سیکھیں کہ دل سے سننا کیا ہوتا ہے۔ لیکن پھر کریں فوکس۔ 🔵 باقی 800 انٹرویوز صرف ایک موضوع پر کریں۔ جس مسئلے کو آپ دنیا میں حل کرنا چاہتے ہیں — اسی پر بار بار بات کریں۔ پھر دیکھیں، دروازے کیسے کھلتے ہیں۔ ⸻ اقبال کا خواب، آپ کی حقیقت اقبال نے خواب دیکھا تھا کہ انسان اتنا بلند ہو جائے کہ خدا اس سے پوچھے: “بتا بندے، تیری رضا کیا ہے؟” میں سمجھتا ہوں کہ یہ خواب آج کے دور میں ممکن ہے — بس ایک موبائل، ایک کیمرہ، اور ایک ارادہ ہونا چاہیے۔ تو آئیں، 🎙️ روز ایک انٹرویو کریں 📲 سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں 🚪 اور اپنی خُدی کے دروازے کھولیں ہر چیز کے پیچھے نہ بھاگیں۔ صرف ایک چیز کے پیچھے بھاگیں۔ اور دیکھیں کہ سب کچھ خود پیچھے آنا شروع ہو جائے گا۔ آپ کی خُدی آپ کا مقدر بدل سکتی ہے۔ کیا آپ تیار ہیں؟ L
    0 Комментарии 0 Поделились 243 Просмотры


  • منقول

    بل گیٹس سے ایک صحافی نے انٹرویو میں پوچھا:
    “آپ اگر آج دوبارہ غریب ہو جائیں، آپ پینتیس سال پچھلے سٹیٹس پر چلے جائیں، تو آپ کیا کریں گے؟”

    بل گیٹس نے ہنس کر جواب دیا:
    “کیا فرق پڑتا ہے، میں دوبارہ امیر ہو جاؤں گا۔”

    پوچھنے والے نے پوچھا:
    “آپ کو دوبارہ دنیا کا امیر ترین بل گیٹس بننے کے لیے کتنا عرصہ لگے گا؟”

    بل گیٹس نے جواب دیا:
    “میں جتنا امیر پینتیس برسوں میں ہوا، مجھے اگر دوبارہ اتنا امیر ہونا پڑے تو میں ساڑھے تین سال میں آج کے برابر ہو جاؤں گا۔”

    جواب حیران کن تھا، لہذا پوچھنے والے نے پوچھا:
    “مگر کیسے؟”

    بل گیٹس نے جواب دیا:
    “آج سے پینتیس برس پہلے مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میرا ٹیلنٹ کیا ہے؟
    وہ کون سا کام ہے جو میں واقعی کر سکتا ہوں؟
    لہذا میرا زیادہ تر وقت ان کاموں میں ضائع ہو گیا جو میں سرے سے کر ہی نہیں سکتا تھا۔

    لیکن آج میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرا ٹیلنٹ کیا ہے اور میں کیا کر سکتا ہوں، لہذا میں سیدھا وہ کام سٹارٹ کروں گا اور ساڑھے تین سالوں میں دوبارہ دنیا کا امیر ترین شخص ہوں گا۔”

    یہ الفاظ سونے میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔
    ڈیٹا بتاتا ہے کہ دنیا کے 98% لوگ زندگی بھر وہ کام کرتے رہتے ہیں جو انہیں آتا ہی نہیں۔

    ہم کامیاب تب ہوتے ہیں جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ ہمارا ٹیلنٹ کیا ہے۔
    اور جس دن ہم وہ کام شروع کر دیتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں، اسی دن ہم کامیابی کی سڑک پر آ جاتے ہیں۔



    پہلا قدم:
    بل گیٹس کی کہانی پڑھنے کے بعد کتاب “Talent is Overrated” ضرور پڑھیں۔
    یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ صرف ٹیلنٹ کافی نہیں ہوتا — کامیابی کا راز محنت، فوکس اور بار بار پریکٹس میں ہے۔

    دوسرا قدم:
    جس کام میں آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا ٹیلنٹ ہے،
    اسے 1000 بار پریکٹس کریں —
    تب جا کر آپ واقعی اپنے ٹیلنٹ میں ٹیلنٹڈ بنیں گے۔

    تیسرا قدم:
    روزانہ 10 بار ChatGPT سے مدد لیں۔
    اس سے پوچھیں کہ آپ اپنے ٹیلنٹ کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں،
    کون سی مشقیں کریں، کون سی کتابیں پڑھیں، اور کس طرح اپنی مہارت کو اگلے لیول پر لے جائیں۔



    لہٰذا آج ہی فیصلہ کریں:
    وہ سوچیں جو آپ کر سکتے ہیں۔
    کیونکہ جب آپ اپنی صلاحیت پر فوکس کرتے ہیں،
    تو دنیا کا کوئی شخص آپ کو بل گیٹس بننے سے نہیں روک سکتا۔



    L
    ⸻ منقول بل گیٹس سے ایک صحافی نے انٹرویو میں پوچھا: “آپ اگر آج دوبارہ غریب ہو جائیں، آپ پینتیس سال پچھلے سٹیٹس پر چلے جائیں، تو آپ کیا کریں گے؟” بل گیٹس نے ہنس کر جواب دیا: “کیا فرق پڑتا ہے، میں دوبارہ امیر ہو جاؤں گا۔” پوچھنے والے نے پوچھا: “آپ کو دوبارہ دنیا کا امیر ترین بل گیٹس بننے کے لیے کتنا عرصہ لگے گا؟” بل گیٹس نے جواب دیا: “میں جتنا امیر پینتیس برسوں میں ہوا، مجھے اگر دوبارہ اتنا امیر ہونا پڑے تو میں ساڑھے تین سال میں آج کے برابر ہو جاؤں گا۔” جواب حیران کن تھا، لہذا پوچھنے والے نے پوچھا: “مگر کیسے؟” بل گیٹس نے جواب دیا: “آج سے پینتیس برس پہلے مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میرا ٹیلنٹ کیا ہے؟ وہ کون سا کام ہے جو میں واقعی کر سکتا ہوں؟ لہذا میرا زیادہ تر وقت ان کاموں میں ضائع ہو گیا جو میں سرے سے کر ہی نہیں سکتا تھا۔ لیکن آج میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرا ٹیلنٹ کیا ہے اور میں کیا کر سکتا ہوں، لہذا میں سیدھا وہ کام سٹارٹ کروں گا اور ساڑھے تین سالوں میں دوبارہ دنیا کا امیر ترین شخص ہوں گا۔” یہ الفاظ سونے میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ڈیٹا بتاتا ہے کہ دنیا کے 98% لوگ زندگی بھر وہ کام کرتے رہتے ہیں جو انہیں آتا ہی نہیں۔ ہم کامیاب تب ہوتے ہیں جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ ہمارا ٹیلنٹ کیا ہے۔ اور جس دن ہم وہ کام شروع کر دیتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں، اسی دن ہم کامیابی کی سڑک پر آ جاتے ہیں۔ ⸻ 📘 پہلا قدم: بل گیٹس کی کہانی پڑھنے کے بعد کتاب “Talent is Overrated” ضرور پڑھیں۔ یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ صرف ٹیلنٹ کافی نہیں ہوتا — کامیابی کا راز محنت، فوکس اور بار بار پریکٹس میں ہے۔ 💪 دوسرا قدم: جس کام میں آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا ٹیلنٹ ہے، اسے 1000 بار پریکٹس کریں — تب جا کر آپ واقعی اپنے ٹیلنٹ میں ٹیلنٹڈ بنیں گے۔ 🤖 تیسرا قدم: روزانہ 10 بار ChatGPT سے مدد لیں۔ اس سے پوچھیں کہ آپ اپنے ٹیلنٹ کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں، کون سی مشقیں کریں، کون سی کتابیں پڑھیں، اور کس طرح اپنی مہارت کو اگلے لیول پر لے جائیں۔ ⸻ لہٰذا آج ہی فیصلہ کریں: وہ سوچیں جو آپ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ اپنی صلاحیت پر فوکس کرتے ہیں، تو دنیا کا کوئی شخص آپ کو بل گیٹس بننے سے نہیں روک سکتا۔ ⸻ L
    0 Комментарии 0 Поделились 34 Просмотры
  • انسان وہ چیز نہیں دیکھ سکتا جسے وہ جانتا نہیں
    عام مثالوں کے ساتھ آسان فہم اردو میں

    انسان سمجھتا ہے کہ وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے اور جان سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی دماغ صرف وہی چیز دیکھتا ہے جس کا علم پہلے سے ہو۔ جو چیز ہم نہیں جانتے، وہ ہماری آنکھ کے سامنے ہوتی ہے مگر دماغ اسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آئیے چند آسان مثالوں سے سمجھتے ہیں۔



    1) آنکھ نہیں، دماغ دیکھتا ہے

    ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آنکھ سے دیکھتے ہیں، مگر اصل میں دیکھنے والا دماغ ہے۔
    آنکھ تو صرف تصویر دیتی ہے، سمجھ دماغ بناتا ہے۔

    مثال:
    اگر آپ موبائل کی خراب تار دیکھیں، تو آپ کو کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔
    لیکن جب کوئی الیکٹریشن دیکھتا ہے، وہ ایک سیکنڈ میں بتا دیتا ہے کہ مسئلہ کہاں ہے۔

    فرق؟
    آنکھ دونوں کی ایک جیسی ہے، علم مختلف ہے۔



    2) آپ وہی دیکھتے ہیں جسے سمجھتے ہیں

    ایک بچے کے سامنے اسٹاک مارکیٹ کا چارٹ رکھ دیں — اسے بس لکیریں نظر آئیں گی۔
    ایک اچھا بزنس مین اسی چارٹ میں خطرہ، فائدہ اور موقع دیکھ لیتا ہے۔

    تصویر ایک ہی
    لیکن دماغ الگ۔



    3) گوریلا تجربہ — سامنے ہو، پھر بھی نظر نہ آئے

    ایک مشہور تحقیق میں لوگوں کو ایک ویڈیو دکھائی گئی اور کہا گیا:
    “سفید کپڑے والے کھلاڑی کتنی بار پاس کرتے ہیں؟ گننا ہے۔”

    لوگوں نے پورا دھیان گنتی پر رکھا۔

    بعد میں پوچھا گیا:
    “کیا گوریلا دیکھا؟”

    95% لوگوں نے کہا:
    “کون سا گوریلا؟”

    جب ویڈیو دوبارہ چلائی گئی تو ایک آدمی گوریلا کا سوٹ پہن کر آ کر ڈانس کر کے چلا گیا — مگر کسی نے نہیں دیکھا۔

    کیوں؟
    کیونکہ لوگ پاس گننے پر فوکس تھے، گوریلا دماغ کی توجہ میں نہیں تھا۔



    4) پہلے علم چاہیے، تب نظر آتی ہے

    ہزاروں سال سیب گرتے رہے۔
    سب لوگ دیکھتے تھے، مگر کسی نے “گریویٹی” نہیں دیکھی۔

    جب نیوٹن نے پہلی بار کہا کہ ایک نظر نہ آنے والی طاقت نیچے کھینچتی ہے — تب لوگوں کو سمجھ آئی کہ سیب صرف زمین کی طرف نہیں گرتا بلکہ کسی قانون کے تحت گرتا ہے۔

    چیز تو پہلے بھی تھی، علم نہیں تھا۔



    5) کلچر بھی آنکھ بند کرتا ہے

    پرانے زمانے میں لوگ سمندر کے بعد دنیا ختم سمجھتے تھے۔
    جو بھی کہتا کہ “دنیا گول ہے”، لوگ ہنستے تھے۔

    کیونکہ ان کے دماغ میں دنیا کے گول ہونے کا تصور ہی نہیں تھا۔

    آج ہم سب گول سمجھتے ہیں، کیونکہ علم مل چکا ہے۔



    6) ٹیکنالوجی پہلے مذاق لگتی ہے

    جب پہلی کار بنی تو لوگ کہتے تھے:

    یہ بےوقوفی ہے، گھوڑا زیادہ اچھا ہے۔

    جب پہلی کمپیوٹر بنی، لوگ کہتے تھے:

    اس کا استعمال صرف حساب کتاب تک ہے۔

    جب موبائل آیا، لوگ کہتے تھے:

    یہ امیروں کا کھیل ہے۔

    چیز نئی ہو تو دماغ کے پاس اس کی فائل نہیں ہوتی، اس لیے وہ اسے سمجھ نہیں پاتا۔



    7) تعلیم آنکھ کھولتی ہے

    تعلیم ہمیں کتابیں نہیں دیتی — آنکھیں دیتی ہے۔

    ایک عام آدمی لائبریری جائے تو اسے بوریت لگ سکے۔
    ایک محقق جائے تو اس میں خزانہ دیکھتا ہے۔

    سائنس، کاروبار، آرٹ، زبان — یہ سب دماغ میں نئی کھڑکیاں کھولتے ہیں۔



    یہی وجہ ہے کہ سیکھتے رہنا ضروری ہے

    جو لوگ یقین کرتے ہیں کہ “میں سب جانتا ہوں” — وہ دراصل سب سے زیادہ اندھے ہوتے ہیں۔

    جو لوگ کہتے ہیں:
    “میں کچھ نہیں جانتا، ابھی اور سیکھنا ہے” — وہ سب سے زیادہ دیکھتے ہیں۔

    علم انسان کو عقلمند ہی نہیں بناتا — بینائی بھی دیتا ہے۔



    نتیجہ

    انسان حقیقت کو اس کی اصل شکل میں نہیں دیکھتا — وہ صرف اپنی سمجھ کے مطابق دیکھتا ہے۔

    جو چیز ہم نہیں جانتے:
    • وہ ہمارے سامنے ہو کر بھی نظر نہیں آتی
    • ہم اسے پہچان نہیں پاتے
    • ہمارا دماغ اسے اہم نہیں سمجھتا

    علم بڑھتا جائے تو دنیا بڑی لگتی ہے۔
    چیزیں نہیں بدلتی — آنکھ بدل جاتی ہے۔

    اس لیے زندگی کا اصل راز ایک جملہ ہے:

    سیکھتے رہو — ہر نئی چیز نئی آنکھ دیتی ہے۔
    انسان وہ چیز نہیں دیکھ سکتا جسے وہ جانتا نہیں عام مثالوں کے ساتھ آسان فہم اردو میں انسان سمجھتا ہے کہ وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے اور جان سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی دماغ صرف وہی چیز دیکھتا ہے جس کا علم پہلے سے ہو۔ جو چیز ہم نہیں جانتے، وہ ہماری آنکھ کے سامنے ہوتی ہے مگر دماغ اسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آئیے چند آسان مثالوں سے سمجھتے ہیں۔ ⸻ ⭐ 1) آنکھ نہیں، دماغ دیکھتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آنکھ سے دیکھتے ہیں، مگر اصل میں دیکھنے والا دماغ ہے۔ آنکھ تو صرف تصویر دیتی ہے، سمجھ دماغ بناتا ہے۔ مثال: اگر آپ موبائل کی خراب تار دیکھیں، تو آپ کو کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔ لیکن جب کوئی الیکٹریشن دیکھتا ہے، وہ ایک سیکنڈ میں بتا دیتا ہے کہ مسئلہ کہاں ہے۔ فرق؟ آنکھ دونوں کی ایک جیسی ہے، علم مختلف ہے۔ ⸻ ⭐ 2) آپ وہی دیکھتے ہیں جسے سمجھتے ہیں ایک بچے کے سامنے اسٹاک مارکیٹ کا چارٹ رکھ دیں — اسے بس لکیریں نظر آئیں گی۔ ایک اچھا بزنس مین اسی چارٹ میں خطرہ، فائدہ اور موقع دیکھ لیتا ہے۔ تصویر ایک ہی لیکن دماغ الگ۔ ⸻ ⭐ 3) گوریلا تجربہ — سامنے ہو، پھر بھی نظر نہ آئے ایک مشہور تحقیق میں لوگوں کو ایک ویڈیو دکھائی گئی اور کہا گیا: “سفید کپڑے والے کھلاڑی کتنی بار پاس کرتے ہیں؟ گننا ہے۔” لوگوں نے پورا دھیان گنتی پر رکھا۔ بعد میں پوچھا گیا: “کیا گوریلا دیکھا؟” 95% لوگوں نے کہا: “کون سا گوریلا؟” جب ویڈیو دوبارہ چلائی گئی تو ایک آدمی گوریلا کا سوٹ پہن کر آ کر ڈانس کر کے چلا گیا — مگر کسی نے نہیں دیکھا۔ کیوں؟ کیونکہ لوگ پاس گننے پر فوکس تھے، گوریلا دماغ کی توجہ میں نہیں تھا۔ ⸻ ⭐ 4) پہلے علم چاہیے، تب نظر آتی ہے ہزاروں سال سیب گرتے رہے۔ سب لوگ دیکھتے تھے، مگر کسی نے “گریویٹی” نہیں دیکھی۔ جب نیوٹن نے پہلی بار کہا کہ ایک نظر نہ آنے والی طاقت نیچے کھینچتی ہے — تب لوگوں کو سمجھ آئی کہ سیب صرف زمین کی طرف نہیں گرتا بلکہ کسی قانون کے تحت گرتا ہے۔ چیز تو پہلے بھی تھی، علم نہیں تھا۔ ⸻ ⭐ 5) کلچر بھی آنکھ بند کرتا ہے پرانے زمانے میں لوگ سمندر کے بعد دنیا ختم سمجھتے تھے۔ جو بھی کہتا کہ “دنیا گول ہے”، لوگ ہنستے تھے۔ کیونکہ ان کے دماغ میں دنیا کے گول ہونے کا تصور ہی نہیں تھا۔ آج ہم سب گول سمجھتے ہیں، کیونکہ علم مل چکا ہے۔ ⸻ ⭐ 6) ٹیکنالوجی پہلے مذاق لگتی ہے جب پہلی کار بنی تو لوگ کہتے تھے: یہ بےوقوفی ہے، گھوڑا زیادہ اچھا ہے۔ جب پہلی کمپیوٹر بنی، لوگ کہتے تھے: اس کا استعمال صرف حساب کتاب تک ہے۔ جب موبائل آیا، لوگ کہتے تھے: یہ امیروں کا کھیل ہے۔ چیز نئی ہو تو دماغ کے پاس اس کی فائل نہیں ہوتی، اس لیے وہ اسے سمجھ نہیں پاتا۔ ⸻ ⭐ 7) تعلیم آنکھ کھولتی ہے تعلیم ہمیں کتابیں نہیں دیتی — آنکھیں دیتی ہے۔ ایک عام آدمی لائبریری جائے تو اسے بوریت لگ سکے۔ ایک محقق جائے تو اس میں خزانہ دیکھتا ہے۔ سائنس، کاروبار، آرٹ، زبان — یہ سب دماغ میں نئی کھڑکیاں کھولتے ہیں۔ ⸻ ⭐ 😎 یہی وجہ ہے کہ سیکھتے رہنا ضروری ہے جو لوگ یقین کرتے ہیں کہ “میں سب جانتا ہوں” — وہ دراصل سب سے زیادہ اندھے ہوتے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں: “میں کچھ نہیں جانتا، ابھی اور سیکھنا ہے” — وہ سب سے زیادہ دیکھتے ہیں۔ علم انسان کو عقلمند ہی نہیں بناتا — بینائی بھی دیتا ہے۔ ⸻ 🎯 نتیجہ انسان حقیقت کو اس کی اصل شکل میں نہیں دیکھتا — وہ صرف اپنی سمجھ کے مطابق دیکھتا ہے۔ جو چیز ہم نہیں جانتے: • وہ ہمارے سامنے ہو کر بھی نظر نہیں آتی • ہم اسے پہچان نہیں پاتے • ہمارا دماغ اسے اہم نہیں سمجھتا علم بڑھتا جائے تو دنیا بڑی لگتی ہے۔ چیزیں نہیں بدلتی — آنکھ بدل جاتی ہے۔ اس لیے زندگی کا اصل راز ایک جملہ ہے: سیکھتے رہو — ہر نئی چیز نئی آنکھ دیتی ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 8 Просмотры
  • Essay: دماغ کتنی معلومات لیتا ہے اور کامیابی کس چیز کو نظر انداز کرنا سکھاتی ہے

    انسانی دماغ دنیا کی سب سے طاقتور مشین سمجھا جاتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں یہ ہماری آنکھوں، کانوں، جلد، ناک اور جسم سے بے شمار معلومات لیتا رہتا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ہمارا دماغ تقریباً ایک ارب (1,000,000,000) بٹس معلومات ہر سیکنڈ وصول کرتا ہے۔ یعنی اگر آپ ایک کمرے میں خاموش بیٹھے ہوں، تب بھی آپ کے دماغ کو روشنی، آواز، خوشبو، درجہ حرارت، ہوا کی حرکت، جسم کی پوزیشن اور ہزاروں چیزوں کے سگنل جا رہے ہوتے ہیں۔

    لیکن دماغ ان سب باتوں پر شعوری طور پر غور نہیں کر سکتا۔ اگر ہم ہر آواز، ہر روشنی، ہر احساس کو محسوس کریں تو زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔ اسی لیے دماغ خودکار طریقے سے زیادہ تر معلومات کو فلٹر کر دیتا ہے۔ صرف بہت تھوڑی سی معلومات ہمارے شعور تک پہنچتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہمارا شعور ایک سیکنڈ میں تقریباً 10 بٹس معلومات پر کام کرتا ہے۔ ایک ارب کے مقابلے میں 10 بہت چھوٹی تعداد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم حاصل ہونے والی معلومات کا کم سے کم 0.000001% ہی شعوری طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں: ایک ارب چیزوں میں سے ہمارا دماغ صرف کچھ چیزوں کو سوچنے کے لیے چنتا ہے۔

    یہ نظام ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔ اگر ہم ہر منفی بات، ہر تنقید، ہر غلطی اور ہر مسئلے کو محسوس کریں تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ دماغ بنا ہی اسی لیے ہے کہ ہم اہم چیزوں پر فوکس کریں اور غیر ضروری چیزوں کو خود بخود نظر انداز کر دیں۔

    اب اسے روزمرہ زندگی سے جوڑیں۔ زندگی میں ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں، منفی باتیں سنتے ہیں، غلطیاں دیکھتے ہیں، اور بری خبریں سنتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دماغ منفی چیزوں کو جلدی پکڑنے لگتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارا ماحول ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ کیا “اہم” ہے۔ اگر ہمارے آس پاس لوگ ہمیشہ مسئلے، ناکامیاں اور کمزوریاں دکھاتے رہیں، تو ہمارا دماغ منفی پہلو کو پہلے دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ ایک پیٹرن بن جاتا ہے — اور ہم بغیر سوچے سمجھے منفی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

    لیکن کامیابی اس کے برعکس چلتی ہے۔ کامیابی تب شروع ہوتی ہے جب انسان سیکھ جاتا ہے کہ کس چیز پر غور کرنا ہے اور کس چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ یاد رکھیں، دماغ پہلے ہی ہر سیکنڈ میں اربوں سگنل فلٹر کر رہا ہے — لیکن وہ ایسا ماحول سے سیکھے ہوئے عادتوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ کامیابی کے لیے ہمیں یہ فلٹر اندر سے بدلنا ہوتا ہے۔ ہمیں شعوری طور پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس پر توجہ دیں اور کس کو چھوڑ دیں۔

    ہر انسان کے اندر اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ اگر ہم ہمیشہ کمزوریاں دیکھیں تو ہم پریشان، بے اعتماد اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اچھائیوں پر توجہ دیں — اپنی طاقتوں پر، اپنے مقصد پر، سیکھنے پر، اور دوسروں کی اچھائیوں پر — تو دماغ دوبارہ پازیٹیو فوکس کرنا سیکھ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ اچھی چیزوں کو بڑھانا اور بری چیزوں کو شعوری طور پر ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیتا ہے۔

    اصل جذباتی سمجھداری یہی ہے۔ ہمارا بے شعور دماغ پہلے ہی 99.999999% معلومات کو خودکار طریقے سے خارج کر دیتا ہے۔ لیکن کامیابی تب آتی ہے جب ہم جان بوجھ کر منفی چیزوں کو بھی اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں — جب ہم وہ چیزیں نظر انداز کرنا سیکھ لیتے ہیں جو ہماری ترقی میں مددگار نہیں۔ اس کا مطلب حقیقت کو نظر انداز کرنا نہیں — بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کس چیز پر توجہ دینا ہماری ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    سادہ الفاظ میں:
    ایک ارب سگنل میں سے دماغ صرف تقریباً 10 سگنل پر سوچتا ہے — یعنی 0.000001% سے بھی کم۔
    اگر دماغ اتنی چیزیں خودکار طریقے سے نظر انداز کر سکتا ہے، تو ہم بھی منفی باتوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

    جب ہم غیر اہم چیزوں کو چھوڑ کر اہم چیزوں پر توجہ دینا شروع کرتے ہیں، تو ہم زیادہ مضبوط، زیادہ پُراعتماد اور زیادہ کامیاب بن جاتے ہیں۔ دنیا پہلے نہیں بدلتی — فلٹر پہلے بدلتا ہے۔ جب ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کیا دیکھیں گے، ہم یہ فیصلہ بھی کرتے ہیں کہ ہمیں کیا بننا ہے۔
    Essay: دماغ کتنی معلومات لیتا ہے اور کامیابی کس چیز کو نظر انداز کرنا سکھاتی ہے انسانی دماغ دنیا کی سب سے طاقتور مشین سمجھا جاتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں یہ ہماری آنکھوں، کانوں، جلد، ناک اور جسم سے بے شمار معلومات لیتا رہتا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ہمارا دماغ تقریباً ایک ارب (1,000,000,000) بٹس معلومات ہر سیکنڈ وصول کرتا ہے۔ یعنی اگر آپ ایک کمرے میں خاموش بیٹھے ہوں، تب بھی آپ کے دماغ کو روشنی، آواز، خوشبو، درجہ حرارت، ہوا کی حرکت، جسم کی پوزیشن اور ہزاروں چیزوں کے سگنل جا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن دماغ ان سب باتوں پر شعوری طور پر غور نہیں کر سکتا۔ اگر ہم ہر آواز، ہر روشنی، ہر احساس کو محسوس کریں تو زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔ اسی لیے دماغ خودکار طریقے سے زیادہ تر معلومات کو فلٹر کر دیتا ہے۔ صرف بہت تھوڑی سی معلومات ہمارے شعور تک پہنچتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہمارا شعور ایک سیکنڈ میں تقریباً 10 بٹس معلومات پر کام کرتا ہے۔ ایک ارب کے مقابلے میں 10 بہت چھوٹی تعداد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم حاصل ہونے والی معلومات کا کم سے کم 0.000001% ہی شعوری طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں: ایک ارب چیزوں میں سے ہمارا دماغ صرف کچھ چیزوں کو سوچنے کے لیے چنتا ہے۔ یہ نظام ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔ اگر ہم ہر منفی بات، ہر تنقید، ہر غلطی اور ہر مسئلے کو محسوس کریں تو ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ دماغ بنا ہی اسی لیے ہے کہ ہم اہم چیزوں پر فوکس کریں اور غیر ضروری چیزوں کو خود بخود نظر انداز کر دیں۔ اب اسے روزمرہ زندگی سے جوڑیں۔ زندگی میں ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں، منفی باتیں سنتے ہیں، غلطیاں دیکھتے ہیں، اور بری خبریں سنتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دماغ منفی چیزوں کو جلدی پکڑنے لگتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارا ماحول ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ کیا “اہم” ہے۔ اگر ہمارے آس پاس لوگ ہمیشہ مسئلے، ناکامیاں اور کمزوریاں دکھاتے رہیں، تو ہمارا دماغ منفی پہلو کو پہلے دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ ایک پیٹرن بن جاتا ہے — اور ہم بغیر سوچے سمجھے منفی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ لیکن کامیابی اس کے برعکس چلتی ہے۔ کامیابی تب شروع ہوتی ہے جب انسان سیکھ جاتا ہے کہ کس چیز پر غور کرنا ہے اور کس چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ یاد رکھیں، دماغ پہلے ہی ہر سیکنڈ میں اربوں سگنل فلٹر کر رہا ہے — لیکن وہ ایسا ماحول سے سیکھے ہوئے عادتوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ کامیابی کے لیے ہمیں یہ فلٹر اندر سے بدلنا ہوتا ہے۔ ہمیں شعوری طور پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس پر توجہ دیں اور کس کو چھوڑ دیں۔ ہر انسان کے اندر اچھائیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ اگر ہم ہمیشہ کمزوریاں دیکھیں تو ہم پریشان، بے اعتماد اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اچھائیوں پر توجہ دیں — اپنی طاقتوں پر، اپنے مقصد پر، سیکھنے پر، اور دوسروں کی اچھائیوں پر — تو دماغ دوبارہ پازیٹیو فوکس کرنا سیکھ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ اچھی چیزوں کو بڑھانا اور بری چیزوں کو شعوری طور پر ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اصل جذباتی سمجھداری یہی ہے۔ ہمارا بے شعور دماغ پہلے ہی 99.999999% معلومات کو خودکار طریقے سے خارج کر دیتا ہے۔ لیکن کامیابی تب آتی ہے جب ہم جان بوجھ کر منفی چیزوں کو بھی اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں — جب ہم وہ چیزیں نظر انداز کرنا سیکھ لیتے ہیں جو ہماری ترقی میں مددگار نہیں۔ اس کا مطلب حقیقت کو نظر انداز کرنا نہیں — بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کس چیز پر توجہ دینا ہماری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ سادہ الفاظ میں: ایک ارب سگنل میں سے دماغ صرف تقریباً 10 سگنل پر سوچتا ہے — یعنی 0.000001% سے بھی کم۔ اگر دماغ اتنی چیزیں خودکار طریقے سے نظر انداز کر سکتا ہے، تو ہم بھی منفی باتوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ جب ہم غیر اہم چیزوں کو چھوڑ کر اہم چیزوں پر توجہ دینا شروع کرتے ہیں، تو ہم زیادہ مضبوط، زیادہ پُراعتماد اور زیادہ کامیاب بن جاتے ہیں۔ دنیا پہلے نہیں بدلتی — فلٹر پہلے بدلتا ہے۔ جب ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کیا دیکھیں گے، ہم یہ فیصلہ بھی کرتے ہیں کہ ہمیں کیا بننا ہے۔
    0 Комментарии 0 Поделились 92 Просмотры
  • ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا یہ شکائت اکثر کاروباری کرتے ہیں، مسائل اور حل کیا ہیں؟

    کیا واقعی ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا، یا ہم اچھا سٹاف برداشت ہی نہیں کر سکتے؟ یہ سوال ذرا کڑوا ہے مگر سچ یہی سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان ہی نہیں، انڈیا اور دنیا بھر کے کاروبار ایک ہی مسئلے سے گزرتے ہیں، مگر صرف وہی آگے نکلتے ہیں جو اس حقیقت کو مان لیتے ہیں کہ مارکیٹ میں ٹیلنٹ نایاب نہیں، درست ماحول نایاب ہے۔ اگر جاپان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری دیکھیں تو وہاں فیکٹری میں کام کرنے والا مزدور بھی پندرہ بیس سال ایک ہی کمپنی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایک لڑکا دو مہینے میں کہتا ہے کہ کہیں اور زیادہ پیسے مل رہے ہیں، سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ آپ نے اسے کیوں رکنے کی کوئی وجہ دی یا نہیں؟ پاکستان میں نجی شعبے میں اوسط ملازم کی مدت ایک سے ڈیڑھ سال ہے، یہ ڈیٹا جذباتی نہیں، حقیقت ہے، اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر دو سال بعد پورا کاروبار نئے لوگوں کے کندھوں پر اٹھایا جا سکتا ہے؟
    اصلاحی مشق:
    آج ہی کاغذ پر لکھیں کہ آپ کے کاروبار میں پچھلے تین سال میں کتنے لوگ آئے اور کتنے گئے۔
    پھر اپنے آپ سے ایک ایماندار سوال لکھیں کہ ان میں سے کتنے واقعی سیکھ کر بہتر ہوئے، اور کتنے صرف وقت گزار کر نکل گئے۔

    ہم اکثر کہتے ہیں کہ سٹاف ذمہ دار نہیں، مگر یہ کم ہی پوچھتے ہیں کہ ہم نے ذمہ داری کبھی واضح بھی کی؟ انڈیا کی آئی ٹی انڈسٹری اس لیے نہیں چلی کہ وہاں سب لوگ جینیس ہیں، بلکہ اس لیے چلی کہ ہر بندے کو پہلے دن یہ پتہ ہوتا ہے کہ اس سے کیا مانگا جائے گا اور اگلے چھ مہینے میں اس کا معیار کیا ہو گا۔ ہمارے ہاں اکثر کاروباروں میں جاب ڈسکرپشن زبانی ہوتی ہے، آج یہ کام، کل وہ کام، پرسوں بالکل نیا حکم، پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بندہ کنفیوژ کیوں ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جن کمپنیوں میں تحریری ذمہ داریاں اور سادہ طریقہ کار ہوتا ہے وہاں پیداواری صلاحیت تیس سے چالیس فیصد زیادہ ہوتی ہے، تو مسئلہ بندے کی نیت کا ہے یا نظام کی کمی کا؟
    اصلاحی مشق:
    اپنے ہر اہم عہدے کے لیے ایک صفحے پر ذمہ داریاں لکھیں، موبائل پر نہیں، کاغذ پر۔
    اگلے سات دن وہی لکھا ہوا عملے کو پڑھ کر سنائیں اور دیکھیں کہاں کہاں سوال اٹھتے ہیں۔

    ہم کہتے ہیں کہ نوجوان سیکھنا نہیں چاہتے، مگر کیا ہم نے سکھانے کا وقت کبھی دیا؟ دنیا کی بڑی فیکٹریاں، چاہے جرمنی کی ہوں یا چین کی، ہر نئے ملازم کو ابتدائی تربیت دیتی ہیں، چاہے وہ کلینر ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ہاں پہلا دن ہی میدان میں پھینک دیا جاتا ہے، اور پھر غصہ آتا ہے کہ غلطی کیوں ہوئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق تربیت پر خرچ کیا گیا ہر ایک روپیہ، تین سے پانچ روپے کی صورت میں واپس آتا ہے، مگر ہم اسے خرچ سمجھتے ہیں، سرمایہ کاری نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بغیر سکھائے ہم کس بنیاد پر معیار مانگ رہے ہیں؟
    اصلاحی مشق:
    اگلے دس دنوں میں اپنے کاروبار کا ایک بنیادی کام منتخب کریں اور اس کی تربیت کا سادہ طریقہ لکھیں۔
    پھر وہی طریقہ ایک نئے بندے کو سکھائیں اور اس عمل میں اپنی زبان، لہجہ اور صبر کا جائزہ لیں۔

    اکثر مالکان کہتے ہیں کہ سٹاف وفادار نہیں، مگر وفاداری خوف سے نہیں، مستقبل سے جڑتی ہے۔ امریکا کی ریٹیل کمپنیاں صرف تنخواہ نہیں دیتیں، وہ آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہیں، اسی لیے لوگ سالہا سال جمے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بندہ پوچھے کہ آگے کیا ہو گا تو جواب ملتا ہے کہ کام ٹھیک کرو بس، کوئی اسکیل، کوئی اگلا قدم واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان پیسے سے نہیں، سمت سے جڑتا ہے، تو کیا ہم نے کبھی اپنے عملے کو بتایا کہ یہاں رہنے سے وہ دو سال بعد کیا بن سکتا ہے؟
    اصلاحی مشق:
    ہر اہم ملازم سے الگ بیٹھ کر بات کریں اور اگلے ایک سال کا ایک ممکنہ راستہ کاغذ پر بنائیں۔
    یہ وعدہ نہیں، امکان ہو، اور خود دیکھیں کہ بات کرنے کے بعد اس کے رویے میں کیا فرق آتا ہے۔

    ہم اکثر تنخواہ کم ہونے کا رونا روتے ہیں، مگر مارکیٹ دیکھے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی کام کی اجرت میں بیس سے تیس فیصد فرق پایا جاتا ہے، یہ ڈیٹا کھلا راز ہے۔ اگر آپ مارکیٹ سے کم دے رہے ہیں تو اچھے لوگ رکیں گے کیسے؟ دنیا بھر میں اصول ایک ہی ہے، یا تو مارکیٹ کے برابر دیں، یا ماحول اور سیکھنے میں اتنا آگے ہوں کہ بندہ فرق قبول کر لے، سوال یہ ہے کہ ہم نے کون سا آپشن چنا ہے؟
    اصلاحی مشق:
    آج ہی اپنی انڈسٹری میں اسی عہدے کی تین تنخواہیں معلوم کریں۔
    پھر فیصلہ کریں کہ آپ پیسے سے مقابلہ کریں گے یا نظام اور سیکھنے سے، اور اس پر قائم رہیں۔

    ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات مسئلہ سٹاف نہیں، ہمارا اپنا رویہ ہوتا ہے۔ گلوبل بزنس اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ خراب مینیجر کے نیچے لوگ، اچھی تنخواہ کے باوجود، چھ ماہ میں نوکری چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر روز ڈانٹ، تحقیر یا غیر یقینی ہو تو بہترین بندہ بھی کند ہو جاتا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم لیڈر ہیں یا صرف حکم دینے والے؟
    اصلاحی مشق:
    اپنے پچھلے ہفتے کی گفتگو یاد کر کے لکھیں کہ کتنی بار تعریف کی اور کتنی بار غصہ۔
    پھر اگلے ہفتے جان بوجھ کر دو اچھی باتیں بولیں اور اثر خود دیکھیں۔

    ہم یہ بھی ماننے سے کتراتے ہیں کہ ہر بندہ ہر جگہ فٹ نہیں ہوتا۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں بھرتی میں وقت لگاتی ہیں کیونکہ غلط بندہ پورے نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں جلدی میں فیصلہ ہو جاتا ہے، پھر شکایت بھی جلدی آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک غلط بھرتی کی لاگت، تنخواہ سے دو گنا زیادہ ہوتی ہے، کیا ہم نے کبھی اس قیمت کا حساب لگایا؟
    اصلاحی مشق:
    آئندہ کسی کو رکھیں تو ایک دن کا آزمائشی کام ضرور کروائیں۔
    فیصلہ رفتار سے نہیں، مشاہدے سے کریں، چاہے انتظار کرنا پڑے۔

    ہم اکثر کہتے ہیں کہ آج کل لوگ محنتی نہیں، مگر کیا ہم نے کام کو قابلِ فہم بنایا؟ جاپان کی سادہ لائن سسٹم ہو یا یورپ کی فیکٹریاں، ہر کام چھوٹے حصوں میں واضح ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک بندے پر دس ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں، پھر کہتے ہیں کہ فوکس نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے پیچیدگی کم کی یا بڑھائی؟
    اصلاحی مشق:
    اپنے کاروبار کا ایک اہم کام لیں اور اسے تین سادہ مرحلوں میں توڑیں۔
    یہ مرحلے عملے کے سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ غلطی کہاں کم ہوتی ہے۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اچھا سٹاف نہیں ملتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اچھا سٹاف بنانا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ دنیا بھر میں مضبوط کاروبار وہی ہیں جو سسٹم سے انسان بناتے ہیں، انسانوں پر سسٹم نہیں لادتے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر ثابت شدہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی شکایت چھوڑ کر ذمہ داری لینے کو تیار ہیں؟
    اصلاحی مشق:
    اپنے کاروبار کا ایک کمزور شعبہ منتخب کریں اور یہ لکھیں کہ وہ بندے سے چل رہا ہے یا طریقے سے۔
    اگلے تیس دن میں کم از کم ایک کام بندے کے بجائے طریقے کے تحت لانے کا وعدہ خود سے کریں۔

    Via Shahid Hussain Joia
    ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا یہ شکائت اکثر کاروباری کرتے ہیں، مسائل اور حل کیا ہیں؟ کیا واقعی ہمیں اچھا سٹاف نہیں ملتا، یا ہم اچھا سٹاف برداشت ہی نہیں کر سکتے؟ یہ سوال ذرا کڑوا ہے مگر سچ یہی سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان ہی نہیں، انڈیا اور دنیا بھر کے کاروبار ایک ہی مسئلے سے گزرتے ہیں، مگر صرف وہی آگے نکلتے ہیں جو اس حقیقت کو مان لیتے ہیں کہ مارکیٹ میں ٹیلنٹ نایاب نہیں، درست ماحول نایاب ہے۔ اگر جاپان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری دیکھیں تو وہاں فیکٹری میں کام کرنے والا مزدور بھی پندرہ بیس سال ایک ہی کمپنی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایک لڑکا دو مہینے میں کہتا ہے کہ کہیں اور زیادہ پیسے مل رہے ہیں، سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ آپ نے اسے کیوں رکنے کی کوئی وجہ دی یا نہیں؟ پاکستان میں نجی شعبے میں اوسط ملازم کی مدت ایک سے ڈیڑھ سال ہے، یہ ڈیٹا جذباتی نہیں، حقیقت ہے، اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہر دو سال بعد پورا کاروبار نئے لوگوں کے کندھوں پر اٹھایا جا سکتا ہے؟ اصلاحی مشق: آج ہی کاغذ پر لکھیں کہ آپ کے کاروبار میں پچھلے تین سال میں کتنے لوگ آئے اور کتنے گئے۔ پھر اپنے آپ سے ایک ایماندار سوال لکھیں کہ ان میں سے کتنے واقعی سیکھ کر بہتر ہوئے، اور کتنے صرف وقت گزار کر نکل گئے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ سٹاف ذمہ دار نہیں، مگر یہ کم ہی پوچھتے ہیں کہ ہم نے ذمہ داری کبھی واضح بھی کی؟ انڈیا کی آئی ٹی انڈسٹری اس لیے نہیں چلی کہ وہاں سب لوگ جینیس ہیں، بلکہ اس لیے چلی کہ ہر بندے کو پہلے دن یہ پتہ ہوتا ہے کہ اس سے کیا مانگا جائے گا اور اگلے چھ مہینے میں اس کا معیار کیا ہو گا۔ ہمارے ہاں اکثر کاروباروں میں جاب ڈسکرپشن زبانی ہوتی ہے، آج یہ کام، کل وہ کام، پرسوں بالکل نیا حکم، پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بندہ کنفیوژ کیوں ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جن کمپنیوں میں تحریری ذمہ داریاں اور سادہ طریقہ کار ہوتا ہے وہاں پیداواری صلاحیت تیس سے چالیس فیصد زیادہ ہوتی ہے، تو مسئلہ بندے کی نیت کا ہے یا نظام کی کمی کا؟ اصلاحی مشق: اپنے ہر اہم عہدے کے لیے ایک صفحے پر ذمہ داریاں لکھیں، موبائل پر نہیں، کاغذ پر۔ اگلے سات دن وہی لکھا ہوا عملے کو پڑھ کر سنائیں اور دیکھیں کہاں کہاں سوال اٹھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ نوجوان سیکھنا نہیں چاہتے، مگر کیا ہم نے سکھانے کا وقت کبھی دیا؟ دنیا کی بڑی فیکٹریاں، چاہے جرمنی کی ہوں یا چین کی، ہر نئے ملازم کو ابتدائی تربیت دیتی ہیں، چاہے وہ کلینر ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ہاں پہلا دن ہی میدان میں پھینک دیا جاتا ہے، اور پھر غصہ آتا ہے کہ غلطی کیوں ہوئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق تربیت پر خرچ کیا گیا ہر ایک روپیہ، تین سے پانچ روپے کی صورت میں واپس آتا ہے، مگر ہم اسے خرچ سمجھتے ہیں، سرمایہ کاری نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بغیر سکھائے ہم کس بنیاد پر معیار مانگ رہے ہیں؟ اصلاحی مشق: اگلے دس دنوں میں اپنے کاروبار کا ایک بنیادی کام منتخب کریں اور اس کی تربیت کا سادہ طریقہ لکھیں۔ پھر وہی طریقہ ایک نئے بندے کو سکھائیں اور اس عمل میں اپنی زبان، لہجہ اور صبر کا جائزہ لیں۔ اکثر مالکان کہتے ہیں کہ سٹاف وفادار نہیں، مگر وفاداری خوف سے نہیں، مستقبل سے جڑتی ہے۔ امریکا کی ریٹیل کمپنیاں صرف تنخواہ نہیں دیتیں، وہ آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہیں، اسی لیے لوگ سالہا سال جمے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بندہ پوچھے کہ آگے کیا ہو گا تو جواب ملتا ہے کہ کام ٹھیک کرو بس، کوئی اسکیل، کوئی اگلا قدم واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان پیسے سے نہیں، سمت سے جڑتا ہے، تو کیا ہم نے کبھی اپنے عملے کو بتایا کہ یہاں رہنے سے وہ دو سال بعد کیا بن سکتا ہے؟ اصلاحی مشق: ہر اہم ملازم سے الگ بیٹھ کر بات کریں اور اگلے ایک سال کا ایک ممکنہ راستہ کاغذ پر بنائیں۔ یہ وعدہ نہیں، امکان ہو، اور خود دیکھیں کہ بات کرنے کے بعد اس کے رویے میں کیا فرق آتا ہے۔ ہم اکثر تنخواہ کم ہونے کا رونا روتے ہیں، مگر مارکیٹ دیکھے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی کام کی اجرت میں بیس سے تیس فیصد فرق پایا جاتا ہے، یہ ڈیٹا کھلا راز ہے۔ اگر آپ مارکیٹ سے کم دے رہے ہیں تو اچھے لوگ رکیں گے کیسے؟ دنیا بھر میں اصول ایک ہی ہے، یا تو مارکیٹ کے برابر دیں، یا ماحول اور سیکھنے میں اتنا آگے ہوں کہ بندہ فرق قبول کر لے، سوال یہ ہے کہ ہم نے کون سا آپشن چنا ہے؟ اصلاحی مشق: آج ہی اپنی انڈسٹری میں اسی عہدے کی تین تنخواہیں معلوم کریں۔ پھر فیصلہ کریں کہ آپ پیسے سے مقابلہ کریں گے یا نظام اور سیکھنے سے، اور اس پر قائم رہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات مسئلہ سٹاف نہیں، ہمارا اپنا رویہ ہوتا ہے۔ گلوبل بزنس اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ خراب مینیجر کے نیچے لوگ، اچھی تنخواہ کے باوجود، چھ ماہ میں نوکری چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر روز ڈانٹ، تحقیر یا غیر یقینی ہو تو بہترین بندہ بھی کند ہو جاتا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم لیڈر ہیں یا صرف حکم دینے والے؟ اصلاحی مشق: اپنے پچھلے ہفتے کی گفتگو یاد کر کے لکھیں کہ کتنی بار تعریف کی اور کتنی بار غصہ۔ پھر اگلے ہفتے جان بوجھ کر دو اچھی باتیں بولیں اور اثر خود دیکھیں۔ ہم یہ بھی ماننے سے کتراتے ہیں کہ ہر بندہ ہر جگہ فٹ نہیں ہوتا۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں بھرتی میں وقت لگاتی ہیں کیونکہ غلط بندہ پورے نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں جلدی میں فیصلہ ہو جاتا ہے، پھر شکایت بھی جلدی آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک غلط بھرتی کی لاگت، تنخواہ سے دو گنا زیادہ ہوتی ہے، کیا ہم نے کبھی اس قیمت کا حساب لگایا؟ اصلاحی مشق: آئندہ کسی کو رکھیں تو ایک دن کا آزمائشی کام ضرور کروائیں۔ فیصلہ رفتار سے نہیں، مشاہدے سے کریں، چاہے انتظار کرنا پڑے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ آج کل لوگ محنتی نہیں، مگر کیا ہم نے کام کو قابلِ فہم بنایا؟ جاپان کی سادہ لائن سسٹم ہو یا یورپ کی فیکٹریاں، ہر کام چھوٹے حصوں میں واضح ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک بندے پر دس ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں، پھر کہتے ہیں کہ فوکس نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے پیچیدگی کم کی یا بڑھائی؟ اصلاحی مشق: اپنے کاروبار کا ایک اہم کام لیں اور اسے تین سادہ مرحلوں میں توڑیں۔ یہ مرحلے عملے کے سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ غلطی کہاں کم ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اچھا سٹاف نہیں ملتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اچھا سٹاف بنانا ہمیں مشکل لگتا ہے۔ دنیا بھر میں مضبوط کاروبار وہی ہیں جو سسٹم سے انسان بناتے ہیں، انسانوں پر سسٹم نہیں لادتے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر ثابت شدہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی شکایت چھوڑ کر ذمہ داری لینے کو تیار ہیں؟ اصلاحی مشق: اپنے کاروبار کا ایک کمزور شعبہ منتخب کریں اور یہ لکھیں کہ وہ بندے سے چل رہا ہے یا طریقے سے۔ اگلے تیس دن میں کم از کم ایک کام بندے کے بجائے طریقے کے تحت لانے کا وعدہ خود سے کریں۔ Via Shahid Hussain Joia
    0 Комментарии 0 Поделились 150 Просмотры
  • A meaningful conversation today at Rehan School Islamabad

    Today Farrukh Shahzad ,
    Head of PR at Sultan Bahu Trust,
    visited Rehan School Islamabad Campus to observe and understand the Rehan School education system.

    Sultan Bahu Trust is a nonprofit organization that currently educates around 5,000 students through its educational initiatives.

    He spent time exploring how the Rehan School model works and how we are trying to change education by focusing on:
    • AI literacy
    • Confidence and communication
    • Leadership development
    • Entrepreneurship and problem-solving instead of only exam preparation

    During our discussion I asked him a very direct question.

    I said:

    “The UK already has one of the most advanced education systems in the world.
    Why would the UK need Rehan School?”

    Since Farrukh Shahzad lived in London for about 10 years, his answer was very insightful.

    He explained that although the UK education system is strong, there are still important gaps:
    • Most schools still prepare students mainly for jobs, not for building companies or solving real problems
    • Students are not introduced early enough to AI tools, entrepreneurship, and global collaboration
    • Many students in the Muslim community in the UK do not get an environment that builds confidence, leadership, and innovation mindset

    He said a system like Rehan School, which combines AI, entrepreneurship, and leadership training, could be extremely valuable in the UK.

    I shared with him my vision to start Rehan School campuses in:
    • London
    • Birmingham
    • and other cities across the UK.

    Because Sultan Bahu Trust has a strong presence in the UK Muslim community, I requested them to either:
    1. Partner with us, or
    2. Help connect us with students and families in the UK

    so we can start building this initiative together.

    The goal is much bigger than opening another school.

    The vision is to create a Pakistan–UK innovation bridge, where:
    • students in the UK and Pakistan collaborate,
    • build startups together,
    • and create systems and solutions using AI that can impact millions of people.

    Education should not only prepare students for employment.

    It should prepare them to create the future.

    — Rehan Allahwala

    #RehanSchool
    #AIeducation
    #FutureOfEducation
    #London
    #Birmingham
    #PakistanUK
    #LeadershipEducation
    #AIStudents

    آج ایک دلچسپ اور اہم ملاقات ہوئی۔

    آج فروخ شہزاد
    (Head of PR – Sultan Bahu Trust)
    ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس تشریف لائے۔

    Sultan Bahu Trust
    ایک بڑا نان پرافٹ ادارہ ہے جس کے تحت تقریباً 5000 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    وہ خاص طور پر آئے تھے تاکہ Rehan School System کو قریب سے دیکھ سکیں اور سمجھ سکیں کہ ہم کس طرح:
    • AI کے ذریعے تعلیم کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں
    • بچوں میں confidence اور communication پیدا کر رہے ہیں
    • اور طلبہ کو صرف امتحان پاس کرنے والا نہیں بلکہ مسئلہ حل کرنے والا لیڈر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ملاقات کے دوران میں نے ان سے ایک سیدھا سوال پوچھا۔

    میں نے کہا:

    “UK کا تعلیمی نظام تو پہلے ہی بہت ایڈوانس ہے۔
    پھر وہاں Rehan School کی ضرورت کیوں ہے؟”

    چونکہ فروخ شہزاد تقریباً 10 سال لندن میں رہ چکے ہیں، انہوں نے ایک بہت دلچسپ بات بتائی۔

    انہوں نے کہا کہ:
    • UK میں تعلیم اچھی ہے، لیکن
    • زیادہ تر سسٹم اب بھی نوکری کے لیے تیاری پر فوکس کرتا ہے
    • بچوں کو جلدی entrepreneurship، AI اور global collaboration نہیں سکھایا جاتا
    • اور مسلم کمیونٹی کے بہت سے بچوں کو ایسا ماحول نہیں ملتا جہاں وہ confidence، identity اور leadership کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر Rehan School کا ماڈل وہاں جائے جہاں:
    • AI tools استعمال ہوں
    • بچے چھوٹی عمر میں startup سوچ سیکھیں
    • اور پاکستان اور UK کے طلبہ اکٹھے projects اور کمپنیوں پر کام کریں

    تو یہ ایک بالکل نیا ماڈل بن سکتا ہے۔

    اسی لیے میں نے ان سے درخواست کی کہ:

    چونکہ Sultan Bahu Trust کی UK کی مسلم کمیونٹی میں مضبوط موجودگی ہے
    تو وہ:
    • یا تو ہمارے ساتھ پارٹنرشپ کریں
    • یا ہمیں طلبہ اور کمیونٹی سے متعارف کروائیں

    تاکہ ہم London، Birmingham اور UK کے دوسرے شہروں میں
    Rehan School کے کیمپس شروع کر سکیں۔

    میرا خواب یہ ہے کہ:

    پاکستان اور UK کے نوجوان مل کر AI کے ذریعے اسٹارٹ اپس بنائیں،
    مسائل حل کریں اور نئے سسٹمز ایجاد کریں۔

    یہ صرف ایک اسکول نہیں ہوگا۔

    یہ ایک Pakistan-UK Innovation Bridge ہوگا۔

    — ریحان اللہ والا

    #RehanSchool
    #AIeducation
    #UKPakistan
    #FutureOfEducation
    #London
    #Birmingham
    #LeadershipEducation
    #AIStudents

    Join Rehan School United Kingdom Campus

    https://chat.whatsapp.com/EPeHAxDVY5zKu1JfhllmlI?mode=gi_t
    A meaningful conversation today at Rehan School Islamabad Today Farrukh Shahzad , Head of PR at Sultan Bahu Trust, visited Rehan School Islamabad Campus to observe and understand the Rehan School education system. Sultan Bahu Trust is a nonprofit organization that currently educates around 5,000 students through its educational initiatives. He spent time exploring how the Rehan School model works and how we are trying to change education by focusing on: • AI literacy • Confidence and communication • Leadership development • Entrepreneurship and problem-solving instead of only exam preparation During our discussion I asked him a very direct question. I said: “The UK already has one of the most advanced education systems in the world. Why would the UK need Rehan School?” Since Farrukh Shahzad lived in London for about 10 years, his answer was very insightful. He explained that although the UK education system is strong, there are still important gaps: • Most schools still prepare students mainly for jobs, not for building companies or solving real problems • Students are not introduced early enough to AI tools, entrepreneurship, and global collaboration • Many students in the Muslim community in the UK do not get an environment that builds confidence, leadership, and innovation mindset He said a system like Rehan School, which combines AI, entrepreneurship, and leadership training, could be extremely valuable in the UK. I shared with him my vision to start Rehan School campuses in: • London • Birmingham • and other cities across the UK. Because Sultan Bahu Trust has a strong presence in the UK Muslim community, I requested them to either: 1. Partner with us, or 2. Help connect us with students and families in the UK so we can start building this initiative together. The goal is much bigger than opening another school. The vision is to create a Pakistan–UK innovation bridge, where: • students in the UK and Pakistan collaborate, • build startups together, • and create systems and solutions using AI that can impact millions of people. Education should not only prepare students for employment. It should prepare them to create the future. — Rehan Allahwala #RehanSchool #AIeducation #FutureOfEducation #London #Birmingham #PakistanUK #LeadershipEducation #AIStudents آج ایک دلچسپ اور اہم ملاقات ہوئی۔ آج فروخ شہزاد (Head of PR – Sultan Bahu Trust) ریحان اسکول اسلام آباد کیمپس تشریف لائے۔ Sultan Bahu Trust ایک بڑا نان پرافٹ ادارہ ہے جس کے تحت تقریباً 5000 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ خاص طور پر آئے تھے تاکہ Rehan School System کو قریب سے دیکھ سکیں اور سمجھ سکیں کہ ہم کس طرح: • AI کے ذریعے تعلیم کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں • بچوں میں confidence اور communication پیدا کر رہے ہیں • اور طلبہ کو صرف امتحان پاس کرنے والا نہیں بلکہ مسئلہ حل کرنے والا لیڈر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملاقات کے دوران میں نے ان سے ایک سیدھا سوال پوچھا۔ میں نے کہا: “UK کا تعلیمی نظام تو پہلے ہی بہت ایڈوانس ہے۔ پھر وہاں Rehan School کی ضرورت کیوں ہے؟” چونکہ فروخ شہزاد تقریباً 10 سال لندن میں رہ چکے ہیں، انہوں نے ایک بہت دلچسپ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ: • UK میں تعلیم اچھی ہے، لیکن • زیادہ تر سسٹم اب بھی نوکری کے لیے تیاری پر فوکس کرتا ہے • بچوں کو جلدی entrepreneurship، AI اور global collaboration نہیں سکھایا جاتا • اور مسلم کمیونٹی کے بہت سے بچوں کو ایسا ماحول نہیں ملتا جہاں وہ confidence، identity اور leadership کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر Rehan School کا ماڈل وہاں جائے جہاں: • AI tools استعمال ہوں • بچے چھوٹی عمر میں startup سوچ سیکھیں • اور پاکستان اور UK کے طلبہ اکٹھے projects اور کمپنیوں پر کام کریں تو یہ ایک بالکل نیا ماڈل بن سکتا ہے۔ اسی لیے میں نے ان سے درخواست کی کہ: چونکہ Sultan Bahu Trust کی UK کی مسلم کمیونٹی میں مضبوط موجودگی ہے تو وہ: • یا تو ہمارے ساتھ پارٹنرشپ کریں • یا ہمیں طلبہ اور کمیونٹی سے متعارف کروائیں تاکہ ہم London، Birmingham اور UK کے دوسرے شہروں میں Rehan School کے کیمپس شروع کر سکیں۔ میرا خواب یہ ہے کہ: پاکستان اور UK کے نوجوان مل کر AI کے ذریعے اسٹارٹ اپس بنائیں، مسائل حل کریں اور نئے سسٹمز ایجاد کریں۔ یہ صرف ایک اسکول نہیں ہوگا۔ یہ ایک Pakistan-UK Innovation Bridge ہوگا۔ — ریحان اللہ والا #RehanSchool #AIeducation #UKPakistan #FutureOfEducation #London #Birmingham #LeadershipEducation #AIStudents Join Rehan School United Kingdom Campus https://chat.whatsapp.com/EPeHAxDVY5zKu1JfhllmlI?mode=gi_t
    0 Комментарии 0 Поделились 3323 Просмотры 0
  • اس انسان سے بچ کر رہیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔

    باہر برف پڑ رہی تھی اور اندر ریحان اللہ والا میری فیس بک سے لاگن ہو کر بچوں کو فیس بک کے فوائد بتا رہا تھا یہ بات 2012 جنوری کی ہے. مری پنجاب ہاوٴس میں ایک Youth Development Center بنایا گیا تھا جہاں مختلف بورڈ کے Toppers بچوں کو تین دن کے تربیتی پروگرام کے لیئے مدعو کیا جاتا تھا اور ان کو پنچاب گورنمنٹ کے سرکاری مہمان کا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ بندہ وہاں ایک assistant کے طور پر بھرتی ہوا تھا پورے ملک سے قابل لوگ آیا کرتے تھے جو بچوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، ان میں سائنسدان ، سول ملٹری بیوروکریسی ، یونیورسٹی کے مایہ ناز پروفیسرز، سیاستدان اور کامیاب بزنس مین شامل تھے۔

    اسی طرح ایک دن Muhammad Saleem Ahmad Ranjhaسلیم رانجھا صاحب جو سول سروس کے بہت ملن ساز افسر تھے ان کے ساتھ ریحان اللہ والا صاحب کی آمد ہوئی میرے باس کو ان سے بات کر کے اندازہ ہوا کہ ان کو بھی بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع دیا جائےلہذا کانفرنس ہال میں چالیس بچے ان کے حوالے کر دیئے گئے۔

    ان دنوں مری میں انٹرنیٹ کی حالت بہت پتلی ہوتی تھی پوری بلڈنگ میں انٹرنیٹ کسی ایک PC پر چل جاتا تو چل جاتا باقی جگہ لوگ انٹرنیٹ کو ترستے تھے میں اکثر رات کو اپنا فیس بک کانفرنس ہال کے PC پر login کر لیتا تھا اس روز شاید لاگ آوٹ کرنا بھول گیا، ریحان صاحب کا سیششن میں نے شروع کروایا اور پہلے دو منٹ میں مجھے احساس ہوا یہ میری سوچ سے بڑی فلم ہے اس لیئے میں باہر برف انجوائے کرنے نکل گیا ، کوئی ایک گھنٹے بعد میں واپس ہال میں آیا تو صاحب میری فیس بک لاگن سے بچوں کو فیس بک کے فضائل سکھا رہے تھے ۔۔۔۔بس۔۔۔ یہ وہ گھڑی تھی جب میں اس انسان کو ایک فضول اور mannerless انسان declare کر کے اس سے نفرت پال لی حالانکہ اس کو کیا پتہ کون شاہد کس کا اکاونٹ اس کو لاگن ہوا facebook ملا اور بھائی صاحب شروع ہو گئے۔

    وقت گزرتا چلا گیا، میں سرکار چھوڑ کر startup , ecomm وغیرہ کے چکر میں پڑ گیا کئی دفعہ ریحان اللہ والا بزنس کانفرنس، ٹریننگ میں ملاقات ہوئی لیکن میں نے اس انسان کو ایک فلم سے زیادہ اہمیت نہیں دی اور بنا پوچھے میری فیس بک استعمال کی معافی بھی نہیں دی۔

    پھر 2018 میں قاسم علی صاحب کی TOT ٹریننگ میں یہ بھائی صاحب مہمان خصوصی مدعو تھے اس دن جو بھی اس نے کہانی سنائی میں سننے کو تیار نہیں تھا چھ سال پرانا حساب باقی تھا۔ یہ matual friend اور لیپ ٹاپ کے لالی پاپ بیچا کرتا تھا، اور ساتھ میں اس نے اپنی تین چار کتابیں سب میں بانٹ دی میں نے بھی لے کر بیگ میں رکھ لیں اور اس کو پکا والا رنگ باز declare کر کے اس کو فیس بک اور یو ٹیوب سے بلاک مار دیا 2018 سے 2022 میں کسی ذاتی وجہ سے شوشل میڈیا سے کنارا کر گیا

    زندگی اپنے اتار چڑھاو کے ساتھ جاری رہی اور سال 2022 آیا، ان بھائی صاحب کی فلمیں جاری تھی کوئی پرانا گروپ تھا mentors کا وہاں یہ میری فیس بک پر پھر جلوہ گر ہو گئے، میں نے بلاک کرنے کا ارادہ کیا لیکن پچھلے چار سالوں میں صرف ایک سبق سیکھا تھا کہ جو پسند نہیں اس کو ضرور سنو۔۔۔ لہذا میں نے اس کو بلاک کے بجائے فالو مار دیا۔۔۔ اور پھر شروع ہوتی ہیں اس کی وہ ہی 12 سال پرانی فلمیں ؛ ویڈیو بنا لو، فرینڈ بنا لو میں نے اس کو پھر 30 days snooze مار دیا لیکن جون 2022 میں یہ انسان پھر اپنی نئی فلم Canva لے کر مارکیٹ میں آگیا اس شخص نے پاکستان میں بچے بچے کی نیند حرام کر دی canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، اور یہاں سے میرے دل میں acceptance کی پہلی کرن پھوٹتی ہے کیونکہ میں canva چار سال سے استعمال کر ریا تھا۔۔ میں نے کہا چل رنگ باز تو نے کیا سکھانا ہے canva ...میں سکھاتا ہوں canva استعمال کیسے کرتے ہیں۔ میں نے کینوا ایپ کا مکمل موبائل کورس بنا کر فری لا نچ کر دیا اور صرف تین دفعہ اس بندے کی canva پوسٹ کے comments میں ایک اشتہار لگایا اور پھر۔۔۔۔۔ آٹھ سو لوگ enroll ہو گئے ان تین کمنٹس کی وجہ سے، ان سے روپیہ تو ایک نہیں لیا لیکن ورک فورس بہت بڑی مل گئی

    ایک روپیہ خرچے بنا آٹھ سو enrollments مذاق نہیں تھا۔ اسی چکر میں ریحان اللہ والا کی وال پر آنا جانا لگا رہا، میں پچھلے بیس سالوں میں تقریباً آئی ٹی کے ہر شعبے میں ڈبکیاں لگا چکا تھا پتہ سب کچھ تھا لیکن کسی بھی کام لاص سنجیدگی سے نہیں کیا تھا، اب یہ روز کسی شخص کو اپنی وال پر introduce کروا دیتا کبھی اس سے فائیور سیکھ لو، اس سے بلاگنگ، اس سے upwork اس سے اچار بنانا سیکھ لو، اس سے مرغا بنانا۔۔۔ سر میں درد کر دیا اس شخص نے اور اس انسان کی وجی سے میری وال چاہتے نا چاہتے انڈسٹری کے کچھ ایکسپرٹ سے بھرنا شروع ہو گئی، جب فیس بک پر آو کوئی بلاگر ، کوئی یو ٹیوبر، کوئی فری لانسر کوئی ecomm گرو اپنی کہانیاں سنا رہا ہوتا۔۔۔

    آج صبح میں نے غور کیا تو اس بندے نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے، میں دو اپنے بلاگ شروع کر چکا ہو، Fiver کے آرڈر آنا شروع ہو گئے، کوئی دس یو ٹیوب چینل ( non Pakistani) چل رہے، میری ٹیم دو لوگوں سے 13 لوگوں کی ہو گئی میں physical business بس بند کرنے کے قریب ہوں تاکہ مکمل فوکس آن لائن کام۔کو دیا جائے۔

    اس انسان نے میری زندگی میں سے فراغت بلکل ختم کر دی ہے ، یہ شیطان کا دوست ہے اس سے بچ کر رہیں یہ آپ کو آج نہیں تو کل لازمی کسی نا کسی کام دھندے میں پھنسا دے گا۔

    Via Shahid Rana. https://www.facebook.com/shahidrsr
    اس انسان سے بچ کر رہیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر برف پڑ رہی تھی اور اندر ریحان اللہ والا میری فیس بک سے لاگن ہو کر بچوں کو فیس بک کے فوائد بتا رہا تھا یہ بات 2012 جنوری کی ہے. مری پنجاب ہاوٴس میں ایک Youth Development Center بنایا گیا تھا جہاں مختلف بورڈ کے Toppers بچوں کو تین دن کے تربیتی پروگرام کے لیئے مدعو کیا جاتا تھا اور ان کو پنچاب گورنمنٹ کے سرکاری مہمان کا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ بندہ وہاں ایک assistant کے طور پر بھرتی ہوا تھا پورے ملک سے قابل لوگ آیا کرتے تھے جو بچوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، ان میں سائنسدان ، سول ملٹری بیوروکریسی ، یونیورسٹی کے مایہ ناز پروفیسرز، سیاستدان اور کامیاب بزنس مین شامل تھے۔ اسی طرح ایک دن Muhammad Saleem Ahmad Ranjhaسلیم رانجھا صاحب جو سول سروس کے بہت ملن ساز افسر تھے ان کے ساتھ ریحان اللہ والا صاحب کی آمد ہوئی میرے باس کو ان سے بات کر کے اندازہ ہوا کہ ان کو بھی بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع دیا جائےلہذا کانفرنس ہال میں چالیس بچے ان کے حوالے کر دیئے گئے۔ ان دنوں مری میں انٹرنیٹ کی حالت بہت پتلی ہوتی تھی پوری بلڈنگ میں انٹرنیٹ کسی ایک PC پر چل جاتا تو چل جاتا باقی جگہ لوگ انٹرنیٹ کو ترستے تھے میں اکثر رات کو اپنا فیس بک کانفرنس ہال کے PC پر login کر لیتا تھا اس روز شاید لاگ آوٹ کرنا بھول گیا، ریحان صاحب کا سیششن میں نے شروع کروایا اور پہلے دو منٹ میں مجھے احساس ہوا یہ میری سوچ سے بڑی فلم ہے اس لیئے میں باہر برف انجوائے کرنے نکل گیا ، کوئی ایک گھنٹے بعد میں واپس ہال میں آیا تو صاحب میری فیس بک لاگن سے بچوں کو فیس بک کے فضائل سکھا رہے تھے ۔۔۔۔بس۔۔۔ یہ وہ گھڑی تھی جب میں اس انسان کو ایک فضول اور mannerless انسان declare کر کے اس سے نفرت پال لی حالانکہ اس کو کیا پتہ کون شاہد کس کا اکاونٹ اس کو لاگن ہوا facebook ملا اور بھائی صاحب شروع ہو گئے۔ وقت گزرتا چلا گیا، میں سرکار چھوڑ کر startup , ecomm وغیرہ کے چکر میں پڑ گیا کئی دفعہ ریحان اللہ والا بزنس کانفرنس، ٹریننگ میں ملاقات ہوئی لیکن میں نے اس انسان کو ایک فلم سے زیادہ اہمیت نہیں دی اور بنا پوچھے میری فیس بک استعمال کی معافی بھی نہیں دی۔ پھر 2018 میں قاسم علی صاحب کی TOT ٹریننگ میں یہ بھائی صاحب مہمان خصوصی مدعو تھے اس دن جو بھی اس نے کہانی سنائی میں سننے کو تیار نہیں تھا چھ سال پرانا حساب باقی تھا۔ یہ matual friend اور لیپ ٹاپ کے لالی پاپ بیچا کرتا تھا، اور ساتھ میں اس نے اپنی تین چار کتابیں سب میں بانٹ دی میں نے بھی لے کر بیگ میں رکھ لیں اور اس کو پکا والا رنگ باز declare کر کے اس کو فیس بک اور یو ٹیوب سے بلاک مار دیا 2018 سے 2022 میں کسی ذاتی وجہ سے شوشل میڈیا سے کنارا کر گیا زندگی اپنے اتار چڑھاو کے ساتھ جاری رہی اور سال 2022 آیا، ان بھائی صاحب کی فلمیں جاری تھی کوئی پرانا گروپ تھا mentors کا وہاں یہ میری فیس بک پر پھر جلوہ گر ہو گئے، میں نے بلاک کرنے کا ارادہ کیا لیکن پچھلے چار سالوں میں صرف ایک سبق سیکھا تھا کہ جو پسند نہیں اس کو ضرور سنو۔۔۔ لہذا میں نے اس کو بلاک کے بجائے فالو مار دیا۔۔۔ اور پھر شروع ہوتی ہیں اس کی وہ ہی 12 سال پرانی فلمیں ؛ ویڈیو بنا لو، فرینڈ بنا لو میں نے اس کو پھر 30 days snooze مار دیا لیکن جون 2022 میں یہ انسان پھر اپنی نئی فلم Canva لے کر مارکیٹ میں آگیا اس شخص نے پاکستان میں بچے بچے کی نیند حرام کر دی canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، canva سیکھ لو، اور یہاں سے میرے دل میں acceptance کی پہلی کرن پھوٹتی ہے کیونکہ میں canva چار سال سے استعمال کر ریا تھا۔۔ میں نے کہا چل رنگ باز تو نے کیا سکھانا ہے canva ...میں سکھاتا ہوں canva استعمال کیسے کرتے ہیں۔ میں نے کینوا ایپ کا مکمل موبائل کورس بنا کر فری لا نچ کر دیا اور صرف تین دفعہ اس بندے کی canva پوسٹ کے comments میں ایک اشتہار لگایا اور پھر۔۔۔۔۔ آٹھ سو لوگ enroll ہو گئے ان تین کمنٹس کی وجہ سے، ان سے روپیہ تو ایک نہیں لیا لیکن ورک فورس بہت بڑی مل گئی ایک روپیہ خرچے بنا آٹھ سو enrollments مذاق نہیں تھا۔ اسی چکر میں ریحان اللہ والا کی وال پر آنا جانا لگا رہا، میں پچھلے بیس سالوں میں تقریباً آئی ٹی کے ہر شعبے میں ڈبکیاں لگا چکا تھا پتہ سب کچھ تھا لیکن کسی بھی کام لاص سنجیدگی سے نہیں کیا تھا، اب یہ روز کسی شخص کو اپنی وال پر introduce کروا دیتا کبھی اس سے فائیور سیکھ لو، اس سے بلاگنگ، اس سے upwork اس سے اچار بنانا سیکھ لو، اس سے مرغا بنانا۔۔۔ سر میں درد کر دیا اس شخص نے اور اس انسان کی وجی سے میری وال چاہتے نا چاہتے انڈسٹری کے کچھ ایکسپرٹ سے بھرنا شروع ہو گئی، جب فیس بک پر آو کوئی بلاگر ، کوئی یو ٹیوبر، کوئی فری لانسر کوئی ecomm گرو اپنی کہانیاں سنا رہا ہوتا۔۔۔ آج صبح میں نے غور کیا تو اس بندے نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے، میں دو اپنے بلاگ شروع کر چکا ہو، Fiver کے آرڈر آنا شروع ہو گئے، کوئی دس یو ٹیوب چینل ( non Pakistani) چل رہے، میری ٹیم دو لوگوں سے 13 لوگوں کی ہو گئی میں physical business بس بند کرنے کے قریب ہوں تاکہ مکمل فوکس آن لائن کام۔کو دیا جائے۔ اس انسان نے میری زندگی میں سے فراغت بلکل ختم کر دی ہے ، یہ شیطان کا دوست ہے اس سے بچ کر رہیں یہ آپ کو آج نہیں تو کل لازمی کسی نا کسی کام دھندے میں پھنسا دے گا۔ Via Shahid Rana. https://www.facebook.com/shahidrsr
    0 Комментарии 0 Поделились 0 Просмотры
  • ٹینشن چھوڑو کام پہ فوکس کرو

    If you want to be part of Poltical system join Insan.pk - Political Party and become a shadow mayor, mna, minister and work for the country !
    Mode details inbox Imran Leadershipwala
    ٹینشن چھوڑو کام پہ فوکس کرو If you want to be part of Poltical system join Insan.pk - Political Party and become a shadow mayor, mna, minister and work for the country ! Mode details inbox Imran Leadershipwala
    0 Комментарии 0 Поделились 0 Просмотры
Расширенные страницы