• ‏ٹویٹر x سے پاکستان میں پیسے کمانے کا مکمل طریقہ اسٹیپ بائی اسٹیپ

    اسٹیپ نمبر ایک
    500 فالورز پورے کریں
    تین ماہ میں پچاس لاکھ ریچ پوری کریں
    بلو ٹک سبسکرپشن لیں

    اسٹیپ نمبر 2
    پاکستان میں پیمنٹ لینے کیلئے نیشنل بینک آف پاکستان کا اکاؤنٹ بنوالیں
    یا پھر Payoneer کا اکاؤنٹ بنالیں اس میں رسیونگ اکاؤنٹ ہانگ کانگ کا رکھیں
    یا پھر Wise کا اکاؤنٹ بنالیں ۔ اس میں ہانگ کانگ کیلئے رسیونگ اکاؤنٹ حاصل کریں

    اسٹیپ نمبر 3

    ہانگ کانگ کا وی پی این لگائیں تاکہ آپ کی لوکیشن ہانگ کانگ شو ہو

    ہانگ کانگ اسٹرائپ ٹیکس فری ہے اس لئے زیادہ ڈاکومینٹس نہیں مانگتے

    پھر ٹویٹر x کی سیٹنگ میں جائیں Monetisation پر کلک کریں
    اگر آپ Ads Revenue Share کے لئے eligible ہیں تو اپلائی کردیں

    اسٹیپ نمبر 4

    ٹویٹر Stripe کے زریعے پیسے دیتا ہے جو کہ پیمنٹ گیٹ وے ہے یعنی اس کے زریعے پیسے بھیجے اور منگوائے جاتے ہیں

    اپلائی کے بعد ٹویٹر آپ کو پیمنٹ سیٹنگ کیلئے Stripe پر بھیج دے گا

    ملک ہانگ کانگ سلیکٹ کریں
    موبائل نمبر پاکستان کا دیں
    ای میل اپنی دیں
    پھر بینک اکاؤنٹ میں نیشنل بینک آف پاکستان سلیکٹ کرکے بینک اکاؤنٹ دیں
    ٹیکس فارم میں بھی تفصیلات پاکستان کی ہی دیں
    ٹیکس نمبر کی جگہ شناختی کارڈ نمبر دیں

    اب آپ کے جیسے ہی پیسے بنیں گے وہ اسٹرائپ میں آئیں گے وہاں سے آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجائیں گے اس میں پانچ سے سات دن لگ سکتے ہیں

    Via Habib Remote JobsWala
    ‏ٹویٹر x سے پاکستان میں پیسے کمانے کا مکمل طریقہ اسٹیپ بائی اسٹیپ اسٹیپ نمبر ایک 500 فالورز پورے کریں تین ماہ میں پچاس لاکھ ریچ پوری کریں بلو ٹک سبسکرپشن لیں اسٹیپ نمبر 2 پاکستان میں پیمنٹ لینے کیلئے نیشنل بینک آف پاکستان کا اکاؤنٹ بنوالیں یا پھر Payoneer کا اکاؤنٹ بنالیں اس میں رسیونگ اکاؤنٹ ہانگ کانگ کا رکھیں یا پھر Wise کا اکاؤنٹ بنالیں ۔ اس میں ہانگ کانگ کیلئے رسیونگ اکاؤنٹ حاصل کریں اسٹیپ نمبر 3 ہانگ کانگ کا وی پی این لگائیں تاکہ آپ کی لوکیشن ہانگ کانگ شو ہو ہانگ کانگ اسٹرائپ ٹیکس فری ہے اس لئے زیادہ ڈاکومینٹس نہیں مانگتے پھر ٹویٹر x کی سیٹنگ میں جائیں Monetisation پر کلک کریں اگر آپ Ads Revenue Share کے لئے eligible ہیں تو اپلائی کردیں اسٹیپ نمبر 4 ٹویٹر Stripe کے زریعے پیسے دیتا ہے جو کہ پیمنٹ گیٹ وے ہے یعنی اس کے زریعے پیسے بھیجے اور منگوائے جاتے ہیں اپلائی کے بعد ٹویٹر آپ کو پیمنٹ سیٹنگ کیلئے Stripe پر بھیج دے گا ملک ہانگ کانگ سلیکٹ کریں موبائل نمبر پاکستان کا دیں ای میل اپنی دیں پھر بینک اکاؤنٹ میں نیشنل بینک آف پاکستان سلیکٹ کرکے بینک اکاؤنٹ دیں ٹیکس فارم میں بھی تفصیلات پاکستان کی ہی دیں ٹیکس نمبر کی جگہ شناختی کارڈ نمبر دیں اب آپ کے جیسے ہی پیسے بنیں گے وہ اسٹرائپ میں آئیں گے وہاں سے آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجائیں گے اس میں پانچ سے سات دن لگ سکتے ہیں Via Habib Remote JobsWala
    0 Commentarios 0 Acciones 257 Views
  • وینچر اسٹوڈیو کیا ہے — اور پاکستان کو اس کی ضرورت کیوں ہے

    (دیوار کے لیے ایک تحریر)

    وینچر اسٹوڈیو (Venture Studio) نہ صرف سرمایہ لگاتا ہے،
    بلکہ خود اسٹارٹ اپ بناتا ہے۔

    اگر وینچر کیپیٹل خواب دیکھنے والے بانیوں کو فنڈ کرتا ہے،
    تو وینچر اسٹوڈیو خود خواب دیکھتا، ٹیم بناتا، آئیڈیا نکالتا اور کمپنی کھڑی کرتا ہے۔

    یہ صرف سرمایہ کار نہیں ہوتا —
    یہ شریک بانی (Co-Founder) ہوتا ہے۔



    وینچر اسٹوڈیو کیسے کام کرتا ہے

    وینچر اسٹوڈیو پہلے یہ سوال پوچھتا ہے:

    پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟

    مثلاً:
    • تعلیم
    • صحت
    • روزگار
    • زراعت
    • انرجی
    • گورننس
    • AI اور آٹومیشن

    پھر یہ خود:
    • مسئلہ define کرتا ہے
    • حل design کرتا ہے
    • ٹیم hire کرتا ہے
    • ٹیکنالوجی بنواتا ہے
    • پہلا صارف لاتا ہے

    اور اس کے بعد:

    اسی ایک اسٹوڈیو سے ایک نہیں، کئی کمپنیاں نکلتی ہیں۔



    وینچر اسٹوڈیو پیسہ کیسے کماتا ہے

    وینچر اسٹوڈیو قرض نہیں دیتا۔
    یہ کمپنی کا مالک بنتا ہے۔

    عام طور پر:
    • اسٹوڈیو خود 20٪ سے 60٪ تک شیئر رکھتا ہے
    • بانی ٹیم باقی شیئر لیتی ہے

    جب کمپنی:
    • فروخت ہوتی ہے
    • یا بڑی کمپنی بن جاتی ہے
    • یا IPO میں جاتی ہے

    تو وینچر اسٹوڈیو کو بڑا حصہ ملتا ہے۔

    یعنی:

    وینچر اسٹوڈیو تب کماتا ہے
    جب اس کی بنائی ہوئی کمپنیاں کامیاب ہوں۔



    وینچر اسٹوڈیو کیا کماتا ہے

    وینچر اسٹوڈیو کماتا ہے:
    • ایک نہیں، کئی ایکزٹس
    • بار بار کامیابیاں
    • سسٹم کی طاقت

    ایک VC دس کمپنیوں میں سرمایہ لگاتا ہے۔
    ایک وینچر اسٹوڈیو دس کمپنیاں خود بناتا ہے۔

    اسی لیے:
    • رسک کم ہو جاتا ہے
    • سیکھنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے
    • کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے



    پاکستان کے لیے وینچر اسٹوڈیو کیوں زیادہ ضروری ہے

    پاکستان کا مسئلہ صرف پیسے کا نہیں۔
    پاکستان کا اصل مسئلہ ہے:
    • تجربہ کی کمی
    • سسٹمز کی کمی
    • فیل ہونے سے ڈر

    یہاں اکثر نوجوان کہتے ہیں:

    “آئیڈیا تو ہے، لیکن ٹیم نہیں”
    “ٹیک نہیں آتی”
    “سرمایہ کار نہیں ملتا”

    وینچر اسٹوڈیو ان سب مسائل کو ایک جگہ حل کرتا ہے۔



    وینچر اسٹوڈیو پاکستان میں کیا بدل سکتا ہے

    وینچر اسٹوڈیو:
    • بانی بناتا ہے
    • آئیڈیاز کو کمپنی بناتا ہے
    • نوجوانوں کو عملی تجربہ دیتا ہے
    • مسئلہ حل کرنے کی فیکٹری بن جاتا ہے

    یہ:
    • صرف نوکریاں نہیں بناتا
    • انڈسٹریز بناتا ہے



    وینچر اسٹوڈیو اور روایتی ماڈل میں فرق

    بینک → قرض دیتا ہے
    VC → بانی کو فنڈ کرتا ہے
    وینچر اسٹوڈیو → بانی پیدا کرتا ہے

    یہی وجہ ہے کہ:
    • ترقی پذیر ممالک میں
    • جہاں تجربہ کم ہو

    وہاں وینچر اسٹوڈیو VC سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔



    قوم سازی میں وینچر اسٹوڈیو کا کردار

    وینچر اسٹوڈیو:
    • مسائل کو کاروبار میں بدلتا ہے
    • نوجوانوں کو لیڈر بناتا ہے
    • مقامی حل پیدا کرتا ہے
    • ایکسپورٹ کے قابل کمپنیاں بناتا ہے

    ایک مضبوط وینچر اسٹوڈیو:

    ایک یونیورسٹی سے زیادہ اثر رکھ سکتا ہے۔



    آخری بات

    وینچر اسٹوڈیو پیسہ نہیں ڈھونڈتا۔
    یہ صلاحیت ڈھونڈتا ہے۔

    جب کوئی ملک سیکھ لے کہ:
    • مسائل سے کاروبار کیسے بنتے ہیں
    • اور لوگوں سے بانی کیسے بنتے ہیں

    تو وہ ملک غربت نہیں ایکسپورٹ کرتا،
    بلکہ حل ایکسپورٹ کرتا ہے۔

    پاکستان کو سرمایہ نہیں، سسٹمز چاہیے —
    اور وینچر اسٹوڈیو وہ سسٹم ہے۔
    وینچر اسٹوڈیو کیا ہے — اور پاکستان کو اس کی ضرورت کیوں ہے (دیوار کے لیے ایک تحریر) وینچر اسٹوڈیو (Venture Studio) نہ صرف سرمایہ لگاتا ہے، بلکہ خود اسٹارٹ اپ بناتا ہے۔ اگر وینچر کیپیٹل خواب دیکھنے والے بانیوں کو فنڈ کرتا ہے، تو وینچر اسٹوڈیو خود خواب دیکھتا، ٹیم بناتا، آئیڈیا نکالتا اور کمپنی کھڑی کرتا ہے۔ یہ صرف سرمایہ کار نہیں ہوتا — یہ شریک بانی (Co-Founder) ہوتا ہے۔ ⸻ وینچر اسٹوڈیو کیسے کام کرتا ہے وینچر اسٹوڈیو پہلے یہ سوال پوچھتا ہے: پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ مثلاً: • تعلیم • صحت • روزگار • زراعت • انرجی • گورننس • AI اور آٹومیشن پھر یہ خود: • مسئلہ define کرتا ہے • حل design کرتا ہے • ٹیم hire کرتا ہے • ٹیکنالوجی بنواتا ہے • پہلا صارف لاتا ہے اور اس کے بعد: اسی ایک اسٹوڈیو سے ایک نہیں، کئی کمپنیاں نکلتی ہیں۔ ⸻ وینچر اسٹوڈیو پیسہ کیسے کماتا ہے وینچر اسٹوڈیو قرض نہیں دیتا۔ یہ کمپنی کا مالک بنتا ہے۔ عام طور پر: • اسٹوڈیو خود 20٪ سے 60٪ تک شیئر رکھتا ہے • بانی ٹیم باقی شیئر لیتی ہے جب کمپنی: • فروخت ہوتی ہے • یا بڑی کمپنی بن جاتی ہے • یا IPO میں جاتی ہے تو وینچر اسٹوڈیو کو بڑا حصہ ملتا ہے۔ 👉 یعنی: وینچر اسٹوڈیو تب کماتا ہے جب اس کی بنائی ہوئی کمپنیاں کامیاب ہوں۔ ⸻ وینچر اسٹوڈیو کیا کماتا ہے وینچر اسٹوڈیو کماتا ہے: • ایک نہیں، کئی ایکزٹس • بار بار کامیابیاں • سسٹم کی طاقت ایک VC دس کمپنیوں میں سرمایہ لگاتا ہے۔ ایک وینچر اسٹوڈیو دس کمپنیاں خود بناتا ہے۔ اسی لیے: • رسک کم ہو جاتا ہے • سیکھنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے • کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے ⸻ پاکستان کے لیے وینچر اسٹوڈیو کیوں زیادہ ضروری ہے پاکستان کا مسئلہ صرف پیسے کا نہیں۔ پاکستان کا اصل مسئلہ ہے: • تجربہ کی کمی • سسٹمز کی کمی • فیل ہونے سے ڈر یہاں اکثر نوجوان کہتے ہیں: “آئیڈیا تو ہے، لیکن ٹیم نہیں” “ٹیک نہیں آتی” “سرمایہ کار نہیں ملتا” وینچر اسٹوڈیو ان سب مسائل کو ایک جگہ حل کرتا ہے۔ ⸻ وینچر اسٹوڈیو پاکستان میں کیا بدل سکتا ہے وینچر اسٹوڈیو: • بانی بناتا ہے • آئیڈیاز کو کمپنی بناتا ہے • نوجوانوں کو عملی تجربہ دیتا ہے • مسئلہ حل کرنے کی فیکٹری بن جاتا ہے یہ: • صرف نوکریاں نہیں بناتا • انڈسٹریز بناتا ہے ⸻ وینچر اسٹوڈیو اور روایتی ماڈل میں فرق بینک → قرض دیتا ہے VC → بانی کو فنڈ کرتا ہے وینچر اسٹوڈیو → بانی پیدا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ: • ترقی پذیر ممالک میں • جہاں تجربہ کم ہو وہاں وینچر اسٹوڈیو VC سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔ ⸻ قوم سازی میں وینچر اسٹوڈیو کا کردار وینچر اسٹوڈیو: • مسائل کو کاروبار میں بدلتا ہے • نوجوانوں کو لیڈر بناتا ہے • مقامی حل پیدا کرتا ہے • ایکسپورٹ کے قابل کمپنیاں بناتا ہے ایک مضبوط وینچر اسٹوڈیو: ایک یونیورسٹی سے زیادہ اثر رکھ سکتا ہے۔ ⸻ آخری بات وینچر اسٹوڈیو پیسہ نہیں ڈھونڈتا۔ یہ صلاحیت ڈھونڈتا ہے۔ جب کوئی ملک سیکھ لے کہ: • مسائل سے کاروبار کیسے بنتے ہیں • اور لوگوں سے بانی کیسے بنتے ہیں تو وہ ملک غربت نہیں ایکسپورٹ کرتا، بلکہ حل ایکسپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان کو سرمایہ نہیں، سسٹمز چاہیے — اور وینچر اسٹوڈیو وہ سسٹم ہے۔
    0 Commentarios 0 Acciones 186 Views
  • پاکستان کا اے آئی کا لمحہ

    ڈاکٹر جاوید لغاری
    دی نیوز – 24 فروری 2026

    اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والے انڈس اے آئی ویک کے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت (AI) پر ایک ارب ڈالر خرچ کرے گا۔

    اس منصوبے کے تحت:
    • وفاقی اسکولوں میں اے آئی کا نصاب متعارف کرایا جائے گا۔
    • 2030 تک اے آئی میں ایک ہزار سے زیادہ مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس دی جائیں گی تاکہ عالمی معیار کی تحقیق ہو سکے۔
    • دس لاکھ ایسے افراد کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی جو آئی ٹی فیلڈ سے تعلق نہیں رکھتے۔

    یہ ایک اچھا اور بروقت قدم ہے۔ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ اگر پاکستان کو دنیا میں مقابلہ کرنا ہے تو اسے فوری طور پر اے آئی میں مہارت رکھنے والے افراد اور مضبوط انفراسٹرکچر تیار کرنا ہوگا۔ حکومت اس بات کی تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے سمجھ لیا ہے کہ اے آئی کوئی اختیار نہیں بلکہ معیشت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔



    دنیا میں اے آئی کی تیز رفتار ترقی

    ہم اس وقت اے آئی کی غیر معمولی ترقی کا دور دیکھ رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ چند سالوں میں عالمی اے آئی مارکیٹ 800 ارب ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی۔ اے آئی صنعت، حکومت، صحت، تعلیم اور دفاع سمیت ہر شعبے میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے۔

    لیکن یہ مقابلہ صرف معاشی نہیں رہا، بلکہ اب یہ بڑی طاقتوں کے درمیان سیاسی اور اسٹریٹیجک مقابلہ بھی بن چکا ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جو ملک اے آئی میں آگے ہوگا، وہ مستقبل میں طاقت کا توازن بھی طے کرے گا۔ کچھ لوگ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر اے آئی کو قابو میں نہ رکھا گیا تو بے روزگاری بڑھ سکتی ہے اور معاشرے غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔



    اگلا مرحلہ: مصنوعی عمومی ذہانت (AGI)

    اب دنیا کی توجہ مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) پر ہے، جو انسان کی طرح یا اس سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند سالوں میں اے جی آئی کمپیوٹر پر ہونے والے تقریباً ہر کام کو انسان سے زیادہ تیزی اور درستگی سے کر سکے گی۔ اس سے ابتدائی سطح کی بہت سی نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔



    امریکہ اور چین کی دوڑ

    امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 500 ارب ڈالر کے اے آئی انفراسٹرکچر منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ “اسٹار گیٹ پروگرام” کے تحت 20 سے زیادہ بڑے ڈیٹا سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔ ہر سینٹر بہت وسیع رقبے پر ہوگا اور ہزاروں نوکریاں پیدا کرے گا۔ NVIDIA جیسی کمپنی بھی اے آئی انفراسٹرکچر پر 100 ارب ڈالر تک خرچ کر رہی ہے۔

    چین بھی پیچھے نہیں ہے۔ اندازہ ہے کہ صرف 2025 میں چین نے 125 ارب ڈالر سے زیادہ اے آئی پر خرچ کیے۔ چین تحقیق، چپس بنانے اور خودکار نظاموں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔



    بھارت کی پیش رفت

    جب پاکستان سست روی کا شکار رہا، بھارت نے پچھلے دس سال میں تقریباً 11 ارب ڈالر اے آئی پر خرچ کیے۔ اب گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر بھارت میں لگا رہی ہیں۔ بھارت 2026 میں عالمی اے آئی سمٹ بھی منعقد کر رہا ہے جس میں دنیا کے بڑے لیڈر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ شرکت کریں گے۔



    ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت

    جدید اے آئی سسٹمز کے لیے بہت بڑے اور طاقتور ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لیے سستی بجلی، ٹھنڈا ماحول، پانی اور مضبوط بجلی کا نظام ضروری ہے۔ ایک گیگا واٹ کے ڈیٹا سینٹر کی لاگت 20 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

    امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ایسے بڑے منصوبے تیزی سے بن رہے ہیں۔



    پاکستان کے لیے موقع

    پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کی صلاحیت موجود ہے، موسم ٹھنڈا ہے اور قابلِ تجدید توانائی دستیاب ہے۔ ان علاقوں میں اے آئی ڈیٹا سینٹر بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔

    کم از کم پاکستان کو 20 میگا واٹ کا قومی اے آئی ڈیٹا سینٹر ضرور بنانا چاہیے۔ اس سے قومی سلامتی مضبوط ہوگی، مقامی اسٹارٹ اپس کو سہارا ملے گا اور بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم ہوگا۔



    صرف عمارتیں کافی نہیں

    صرف انفراسٹرکچر بنانا کافی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ:
    • قوانین آسان بنائے جائیں
    • ٹیکس میں رعایت دی جائے
    • کاروبار شروع کرنا آسان ہو
    • یونیورسٹیاں نصاب جدید بنائیں
    • تحقیق کو عملی کاروبار میں بدلا جائے
    • ذہین افراد کو ملک چھوڑنے سے روکا جائے



    نتیجہ

    پاکستان نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ ایک ارب ڈالر کا اعلان نیت ظاہر کرتا ہے، لیکن اب ضرورت ہے تیز، منظم اور بڑے پیمانے پر عمل درآمد کی۔

    پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کتنی جلدی ہنر مند اے آئی ماہرین، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور عالمی معیار کی تحقیق تیار کر سکتے ہیں۔ اگر درست پالیسی اور مستقل سرمایہ کاری کی جائے تو پاکستان بھی عالمی اے آئی معیشت میں اپنا حصہ حاصل کر سکتا ہے۔



    مصنف سابق سینیٹر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ہیں۔

    By Javaid Laghari
    پاکستان کا اے آئی کا لمحہ ڈاکٹر جاوید لغاری دی نیوز – 24 فروری 2026 اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والے انڈس اے آئی ویک کے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت (AI) پر ایک ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت: • وفاقی اسکولوں میں اے آئی کا نصاب متعارف کرایا جائے گا۔ • 2030 تک اے آئی میں ایک ہزار سے زیادہ مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس دی جائیں گی تاکہ عالمی معیار کی تحقیق ہو سکے۔ • دس لاکھ ایسے افراد کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی جو آئی ٹی فیلڈ سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ ایک اچھا اور بروقت قدم ہے۔ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ اگر پاکستان کو دنیا میں مقابلہ کرنا ہے تو اسے فوری طور پر اے آئی میں مہارت رکھنے والے افراد اور مضبوط انفراسٹرکچر تیار کرنا ہوگا۔ حکومت اس بات کی تعریف کی مستحق ہے کہ اس نے سمجھ لیا ہے کہ اے آئی کوئی اختیار نہیں بلکہ معیشت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ ⸻ دنیا میں اے آئی کی تیز رفتار ترقی ہم اس وقت اے آئی کی غیر معمولی ترقی کا دور دیکھ رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ چند سالوں میں عالمی اے آئی مارکیٹ 800 ارب ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی۔ اے آئی صنعت، حکومت، صحت، تعلیم اور دفاع سمیت ہر شعبے میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے۔ لیکن یہ مقابلہ صرف معاشی نہیں رہا، بلکہ اب یہ بڑی طاقتوں کے درمیان سیاسی اور اسٹریٹیجک مقابلہ بھی بن چکا ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جو ملک اے آئی میں آگے ہوگا، وہ مستقبل میں طاقت کا توازن بھی طے کرے گا۔ کچھ لوگ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر اے آئی کو قابو میں نہ رکھا گیا تو بے روزگاری بڑھ سکتی ہے اور معاشرے غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔ ⸻ اگلا مرحلہ: مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) اب دنیا کی توجہ مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) پر ہے، جو انسان کی طرح یا اس سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند سالوں میں اے جی آئی کمپیوٹر پر ہونے والے تقریباً ہر کام کو انسان سے زیادہ تیزی اور درستگی سے کر سکے گی۔ اس سے ابتدائی سطح کی بہت سی نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ ⸻ امریکہ اور چین کی دوڑ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 500 ارب ڈالر کے اے آئی انفراسٹرکچر منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ “اسٹار گیٹ پروگرام” کے تحت 20 سے زیادہ بڑے ڈیٹا سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔ ہر سینٹر بہت وسیع رقبے پر ہوگا اور ہزاروں نوکریاں پیدا کرے گا۔ NVIDIA جیسی کمپنی بھی اے آئی انفراسٹرکچر پر 100 ارب ڈالر تک خرچ کر رہی ہے۔ چین بھی پیچھے نہیں ہے۔ اندازہ ہے کہ صرف 2025 میں چین نے 125 ارب ڈالر سے زیادہ اے آئی پر خرچ کیے۔ چین تحقیق، چپس بنانے اور خودکار نظاموں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ⸻ بھارت کی پیش رفت جب پاکستان سست روی کا شکار رہا، بھارت نے پچھلے دس سال میں تقریباً 11 ارب ڈالر اے آئی پر خرچ کیے۔ اب گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر بھارت میں لگا رہی ہیں۔ بھارت 2026 میں عالمی اے آئی سمٹ بھی منعقد کر رہا ہے جس میں دنیا کے بڑے لیڈر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ شرکت کریں گے۔ ⸻ ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت جدید اے آئی سسٹمز کے لیے بہت بڑے اور طاقتور ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لیے سستی بجلی، ٹھنڈا ماحول، پانی اور مضبوط بجلی کا نظام ضروری ہے۔ ایک گیگا واٹ کے ڈیٹا سینٹر کی لاگت 20 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ایسے بڑے منصوبے تیزی سے بن رہے ہیں۔ ⸻ پاکستان کے لیے موقع پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کی صلاحیت موجود ہے، موسم ٹھنڈا ہے اور قابلِ تجدید توانائی دستیاب ہے۔ ان علاقوں میں اے آئی ڈیٹا سینٹر بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ کم از کم پاکستان کو 20 میگا واٹ کا قومی اے آئی ڈیٹا سینٹر ضرور بنانا چاہیے۔ اس سے قومی سلامتی مضبوط ہوگی، مقامی اسٹارٹ اپس کو سہارا ملے گا اور بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم ہوگا۔ ⸻ صرف عمارتیں کافی نہیں صرف انفراسٹرکچر بنانا کافی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ: • قوانین آسان بنائے جائیں • ٹیکس میں رعایت دی جائے • کاروبار شروع کرنا آسان ہو • یونیورسٹیاں نصاب جدید بنائیں • تحقیق کو عملی کاروبار میں بدلا جائے • ذہین افراد کو ملک چھوڑنے سے روکا جائے ⸻ نتیجہ پاکستان نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ ایک ارب ڈالر کا اعلان نیت ظاہر کرتا ہے، لیکن اب ضرورت ہے تیز، منظم اور بڑے پیمانے پر عمل درآمد کی۔ پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کتنی جلدی ہنر مند اے آئی ماہرین، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور عالمی معیار کی تحقیق تیار کر سکتے ہیں۔ اگر درست پالیسی اور مستقل سرمایہ کاری کی جائے تو پاکستان بھی عالمی اے آئی معیشت میں اپنا حصہ حاصل کر سکتا ہے۔ ⸻ مصنف سابق سینیٹر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ہیں۔ By Javaid Laghari
    0 Commentarios 0 Acciones 414 Views
  • کیا آپ جانتے ہیں… شاید اگلی Silicon Valley پاکستان سے پیدا ہو سکتی ہے؟

    یہ بات جذباتی نہیں… تاریخی حقیقت پر مبنی ہے۔

    آج دنیا Silicon Valley کو دیکھتی ہے اور سوچتی ہے کہ یہ سب اچانک کیسے ہو گیا؟

    لیکن اگر ہم 1940 کے امریکہ کو غور سے دیکھیں — خاص طور پر Stanford کے اردگرد کے علاقے کو — تو وہاں بھی کوئی نہیں جانتا تھا کہ چند دہائیوں بعد وہ جگہ دنیا کی سب سے بڑی innovation factory بن جائے گی۔

    اس وقت وہاں صرف نوجوان تھے… تجربات تھے… اور مسائل تھے۔

    اور حیران کن بات یہ ہے کہ آج وہی پانچ چیزیں پاکستان میں موجود ہیں جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔



    پہلا فائدہ — نوجوانوں کا سمندر

    1940 کے California میں زیادہ تر لوگ نوجوان انجینئر تھے جو نئی دنیا بنانا چاہتے تھے۔

    آج پاکستان کی اوسط عمر تقریباً 22 سال ہے۔

    یعنی کروڑوں نوجوان ایک ہی وقت میں زندگی کے میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔

    نوجوان معاشرے خطرہ لینے سے نہیں ڈرتے۔

    اور innovation ہمیشہ وہیں پیدا ہوتی ہے جہاں لوگ رسک لینے کو تیار ہوں۔



    دوسرا فائدہ — دنیا کی ٹیکنالوجی تک سستا رسائی

    اس زمانے میں electronics نئی چیز تھی۔

    آج AI نئی چیز ہے۔

    آج پاکستان کا ایک طالب علم صرف ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے ذریعے وہ کام کر سکتا ہے جس کے لیے پہلے بڑی لیبارٹریاں چاہیے ہوتی تھیں۔

    ChatGPT
    AI tools
    Global freelancing platforms

    یہ سب ایک ڈیجیٹل لیبارٹری بن چکے ہیں۔



    تیسرا فائدہ — مجبوری سے پیدا ہونے والی Entrepreneurship

    Silicon Valley کے بہت سے لوگ نوکریاں نہ ہونے کی وجہ سے کمپنی بنانے پر مجبور ہوئے۔

    پاکستان میں بھی حقیقت یہی ہے۔

    نوکریاں کم ہیں۔

    معاشی دباؤ زیادہ ہے۔

    لیکن تاریخ بتاتی ہے:

    آرام innovation نہیں پیدا کرتا۔

    ضرورت پیدا کرتی ہے۔



    چوتھا فائدہ — نظام ابھی مکمل سخت نہیں ہوا

    پرانے ممالک میں نظام اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ نئی چیز داخل ہونا مشکل ہو جاتی ہے۔

    1940 کے امریکہ میں قوانین ابھی بن رہے تھے۔

    آج پاکستان میں بھی تعلیم اور کاروبار کے نئے ماڈلز بنانے کی جگہ ابھی موجود ہے۔

    جو آج ممکن ہے… شاید دس سال بعد مشکل ہو جائے۔



    پانچواں اور سب سے بڑا فائدہ — عالمی مارکیٹ تک براہ راست رسائی

    پہلے کامیابی کے لیے امریکہ جانا پڑتا تھا۔

    آج؟

    کراچی، دیر، ملتان یا کسی گاؤں سے بیٹھ کر بھی دنیا کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔

    ڈالر آن لائن کمائے جا سکتے ہیں۔

    جغرافیہ اپنی طاقت کھو رہا ہے۔



    لیکن ایک فرق بھی ہے۔

    Silicon Valley کے پاس venture capital تھا۔

    پاکستان میں یہ ابھی کم ہے۔

    لیکن اب AI اور global earning models اس خلا کو آہستہ آہستہ بھر رہے ہیں۔



    اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں مسئلے کتنے ہیں۔

    اصل سوال یہ ہے:

    کیا ہم ان حالات کو موقع میں بدل سکتے ہیں؟

    کیونکہ تاریخ بتاتی ہے…

    بڑی تبدیلیاں امیر اور آرام دہ معاشروں سے نہیں نکلتیں۔

    وہ وہاں پیدا ہوتی ہیں جہاں نوجوان خواب دیکھنے کی ہمت کرتے ہیں۔

    شاید دنیا ابھی نہیں دیکھ رہی…

    لیکن اگر صحیح ecosystem بن گیا تو اگلی بڑی innovation story کہیں دور نہیں۔

    ممکن ہے وہ پاکستان سے شروع ہو۔

    — ریحان اللہ والا
    کیا آپ جانتے ہیں… شاید اگلی Silicon Valley پاکستان سے پیدا ہو سکتی ہے؟ یہ بات جذباتی نہیں… تاریخی حقیقت پر مبنی ہے۔ آج دنیا Silicon Valley کو دیکھتی ہے اور سوچتی ہے کہ یہ سب اچانک کیسے ہو گیا؟ لیکن اگر ہم 1940 کے امریکہ کو غور سے دیکھیں — خاص طور پر Stanford کے اردگرد کے علاقے کو — تو وہاں بھی کوئی نہیں جانتا تھا کہ چند دہائیوں بعد وہ جگہ دنیا کی سب سے بڑی innovation factory بن جائے گی۔ اس وقت وہاں صرف نوجوان تھے… تجربات تھے… اور مسائل تھے۔ اور حیران کن بات یہ ہے کہ آج وہی پانچ چیزیں پاکستان میں موجود ہیں جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ⸻ 🌱 پہلا فائدہ — نوجوانوں کا سمندر 1940 کے California میں زیادہ تر لوگ نوجوان انجینئر تھے جو نئی دنیا بنانا چاہتے تھے۔ آج پاکستان کی اوسط عمر تقریباً 22 سال ہے۔ یعنی کروڑوں نوجوان ایک ہی وقت میں زندگی کے میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔ نوجوان معاشرے خطرہ لینے سے نہیں ڈرتے۔ اور innovation ہمیشہ وہیں پیدا ہوتی ہے جہاں لوگ رسک لینے کو تیار ہوں۔ ⸻ 🌐 دوسرا فائدہ — دنیا کی ٹیکنالوجی تک سستا رسائی اس زمانے میں electronics نئی چیز تھی۔ آج AI نئی چیز ہے۔ آج پاکستان کا ایک طالب علم صرف ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے ذریعے وہ کام کر سکتا ہے جس کے لیے پہلے بڑی لیبارٹریاں چاہیے ہوتی تھیں۔ ChatGPT AI tools Global freelancing platforms یہ سب ایک ڈیجیٹل لیبارٹری بن چکے ہیں۔ ⸻ 💰 تیسرا فائدہ — مجبوری سے پیدا ہونے والی Entrepreneurship Silicon Valley کے بہت سے لوگ نوکریاں نہ ہونے کی وجہ سے کمپنی بنانے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان میں بھی حقیقت یہی ہے۔ نوکریاں کم ہیں۔ معاشی دباؤ زیادہ ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے: آرام innovation نہیں پیدا کرتا۔ ضرورت پیدا کرتی ہے۔ ⸻ 🏗️ چوتھا فائدہ — نظام ابھی مکمل سخت نہیں ہوا پرانے ممالک میں نظام اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ نئی چیز داخل ہونا مشکل ہو جاتی ہے۔ 1940 کے امریکہ میں قوانین ابھی بن رہے تھے۔ آج پاکستان میں بھی تعلیم اور کاروبار کے نئے ماڈلز بنانے کی جگہ ابھی موجود ہے۔ جو آج ممکن ہے… شاید دس سال بعد مشکل ہو جائے۔ ⸻ 🌍 پانچواں اور سب سے بڑا فائدہ — عالمی مارکیٹ تک براہ راست رسائی پہلے کامیابی کے لیے امریکہ جانا پڑتا تھا۔ آج؟ کراچی، دیر، ملتان یا کسی گاؤں سے بیٹھ کر بھی دنیا کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔ ڈالر آن لائن کمائے جا سکتے ہیں۔ جغرافیہ اپنی طاقت کھو رہا ہے۔ ⸻ ⚡ لیکن ایک فرق بھی ہے۔ Silicon Valley کے پاس venture capital تھا۔ پاکستان میں یہ ابھی کم ہے۔ لیکن اب AI اور global earning models اس خلا کو آہستہ آہستہ بھر رہے ہیں۔ ⸻ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں مسئلے کتنے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے: کیا ہم ان حالات کو موقع میں بدل سکتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے… بڑی تبدیلیاں امیر اور آرام دہ معاشروں سے نہیں نکلتیں۔ وہ وہاں پیدا ہوتی ہیں جہاں نوجوان خواب دیکھنے کی ہمت کرتے ہیں۔ شاید دنیا ابھی نہیں دیکھ رہی… لیکن اگر صحیح ecosystem بن گیا تو اگلی بڑی innovation story کہیں دور نہیں۔ ممکن ہے وہ پاکستان سے شروع ہو۔ — ریحان اللہ والا
    0 Commentarios 0 Acciones 271 Views
  • پاکستان میں غربت کا خاتمہ

    200 سال پہلے یورپ غریب تھا۔

    زیادہ تر لوگ کسان تھے۔
    لوگ سارا دن محنت کرتے تھے لیکن پھر بھی غریب رہتے تھے۔
    سفر آہستہ تھا۔
    معلومات آہستہ چلتی تھیں۔

    پھر انڈسٹریل ریوولوشن آیا۔

    مشینیں آئیں۔
    فیکٹریاں آئیں۔
    ریل گاڑیاں آئیں۔
    بجلی آئی۔

    اچانک ایک انسان 50 لوگوں جتنا کام کرنے لگا۔

    یورپ اس لیے امیر نہیں بنا کہ لوگ اچانک زیادہ ذہین ہوگئے تھے۔

    وہ اس لیے امیر بنا کیونکہ:

    * پروڈکٹیوٹی بڑھی،
    * لین دین بڑھا،
    * رابطے بہتر ہوئے،
    * اور ٹیکنالوجی نے انسان کی طاقت کئی گنا بڑھا دی۔

    پھر کمپیوٹر اور انفارمیشن ایج آیا۔

    سنگاپور جیسے ملکوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔

    سنگاپور کراچی سے بھی چھوٹا ملک ہے۔

    نہ اس کے پاس بڑا زرعی نظام تھا،
    نہ تیل،
    نہ بڑی زمین۔

    لیکن اس نے:

    * کمپیوٹر،
    * تعلیم،
    * ٹیکنالوجی،
    * تجارت،
    * اور رابطوں

    کا فائدہ اٹھا کر خود کو دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل کر لیا۔

    اور آج…

    دنیا میں ایک نئی ریوولوشن آچکی ہے۔

    AI ریوولوشن۔

    اور شاید تاریخ میں پہلی بار…

    پاکستان دیر نہیں کر رہا۔

    AI پہلے سے موجود ہے۔
    اسمارٹ فون پہلے سے موجود ہیں۔
    انٹرنیٹ پہلے سے موجود ہے۔
    سستا ڈیٹا پہلے سے موجود ہے۔

    انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی آج ایک عام پاکستانی کے ہاتھ میں موجود ہے۔

    ایک کسان کے ہاتھ میں۔
    ایک طالبعلم کے ہاتھ میں۔
    ایک دکاندار کے ہاتھ میں۔
    ایک استاد کے ہاتھ میں۔
    ایک ماں کے ہاتھ میں۔
    ایک ڈرائیور کے ہاتھ میں۔

    یہ ہمارا وقت ہے۔

    پاکستان 25 کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔

    کیا آپ کو احساس ہے یہ کتنا بڑا نمبر ہے؟

    200 سال پہلے پوری دنیا کی آبادی تقریباً اتنی تھی۔

    اور آج بھی پاکستان میں لاکھوں لوگ 100 ڈالر مہینے سے کم کماتے ہیں۔

    اس لیے نہیں کہ وہ بےوقوف ہیں۔
    اس لیے نہیں کہ وہ سست ہیں۔

    بلکہ اس لیے کہ وہ:

    * جدید سسٹمز،
    * پروڈکٹیوٹی،
    * ٹیکنالوجی،
    * اور تعاون

    سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔

    ہم ہمیشہ انتظار کرتے رہتے ہیں:

    * حکومت کا،
    * سیاستدانوں کا،
    * ویزے کا،
    * بیرونی سرمایہ کاری کا،
    * کسی معجزے کا۔

    حالانکہ اصل انقلاب عوام خود لا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے اندر ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے:

    * 25 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ،
    * کروڑوں نوجوان،
    * کروڑوں اسمارٹ فون،
    * ایک ہی ملک،
    * شہروں کے درمیان کوئی کسٹم نہیں،
    * کوئی بارڈر نہیں،
    * اور لاکھوں مسائل جو حل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اور ہر مسئلہ ایک موقع ہے۔

    تعلیم ایک موقع ہے۔
    پانی ایک موقع ہے۔
    ٹریفک ایک موقع ہے۔
    ہیلتھ ایک موقع ہے۔
    زراعت ایک موقع ہے۔
    سولر ایک موقع ہے۔
    ٹرانسپورٹ ایک موقع ہے۔
    کمیونیکیشن ایک موقع ہے۔

    پاکستان کی تقریباً 65٪ زمین آج بھی مکمل استعمال میں نہیں۔

    کروڑوں ایکڑ زمین انتظار کر رہی ہے:

    * بہتر سسٹمز کا،
    * AI فارمنگ کا،
    * سولر فارمنگ کا،
    * بہتر واٹر مینجمنٹ کا،
    * اور جدید کاروباری سوچ کا۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ:

    “کیا پاکستان امیر بن سکتا ہے؟”

    اصل سوال یہ ہے:

    “کیا پاکستانی آخرکار کچھ بنانا شروع کریں گے؟”

    پہلا قدم:

    AI کو ہر چیز کے لیے استعمال کریں۔

    جب بھی کوئی مسئلہ دیکھیں، AI سے پوچھیں:

    * یہ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟
    * دنیا کے دوسرے ممالک یہ کیسے کرتے ہیں؟
    * کیا اس پر بزنس بن سکتا ہے؟
    * کیا ٹیکنالوجی اسے بہتر بنا سکتی ہے؟

    AI کو اپنا:

    * استاد،
    * بزنس پارٹنر،
    * مشیر،
    * ڈیزائنر،
    * ریسرچر،
    * اور اسٹریٹجسٹ بنائیں۔

    دوسرا قدم:

    نوجوان لوگوں کے ساتھ ملیں۔

    کوئی بڑا ملک اکیلے نہیں بنتا۔

    Facebook، LinkedIn، WhatsApp اور کمیونٹیز استعمال کریں۔

    ایسے لوگ تلاش کریں جو اسی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہوں۔

    گروپ بنائیں۔
    ٹیم بنائیں۔
    کمیونٹی بنائیں۔

    تیسرا قدم:

    ایکشن لیں۔

    کچھ بنائیں۔

    شروع کریں:

    * ویب سائٹ،
    * WhatsApp گروپ،
    * سافٹ ویئر،
    * سولر بزنس،
    * AI ایجنسی،
    * فارمنگ پروجیکٹ،
    * فوڈ برانڈ،
    * لوکل سروس،
    * یا کوئی نیا سسٹم۔

    پرفیکشن کا انتظار نہ کریں۔

    بس شروع کریں۔

    پاکستان کو 25 کروڑ نوکری ڈھونڈنے والے لوگ نہیں چاہییں۔

    پاکستان کو لاکھوں Builders چاہییں۔

    Education Wala
    Solar Wala
    Water Wala
    Health Wala
    Farmer Wala
    AI Wala
    Internet Wala

    پاکستان کا ایک مسئلہ پکڑیں…
    اور اپنی زندگی اس کے حل کے لیے وقف کر دیں۔

    لوگوں سے ملیں۔
    کمیونیکیٹ کریں۔
    WhatsApp گروپ بنائیں۔
    ہر چیز ڈاکیومنٹ کریں۔
    علم بانٹیں۔
    سسٹمز بہتر کریں۔

    آہستہ آہستہ:

    * لین دین بڑھے گا،
    * اعتماد بڑھے گا،
    * آمدنی بڑھے گی،
    * سروس بہتر ہوگی،
    * اور غربت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

    جاپان کی آبادی پاکستان سے تقریباً ایک تہائی ہے۔

    پھر بھی وہ دنیا کی عظیم معیشت بن گیا۔

    کیوں؟

    کیونکہ انہوں نے:

    * نظم و ضبط،
    * ٹیکنالوجی،
    * مسلسل بہتری،
    * اور سسٹمز

    کو اپنایا۔

    تو پاکستان کیوں نہیں؟

    آپ کو کس چیز نے روکا ہوا ہے؟

    ریوولوشن آچکی ہے۔

    وہ آپ کے ہاتھ میں موجود ہے۔

    لیکن آج بھی لوگ:

    * 5 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں،
    * فضول فارورڈ بھیجتے ہیں،
    * سیاسی لڑائیاں کرتے ہیں،
    * اور کسی اور کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔

    ٹی وی بند کریں۔

    AI آن کریں۔

    اور کچھ بنانا شروع کریں۔

    یہ ٹیکنالوجی شاید انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور نعمتوں میں سے ایک ہے۔

    اور اگر پاکستان نے اس کا صحیح فائدہ اٹھا لیا…

    تو شاید ہم اپنی زندگی میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھیں:

    پاکستان میں غربت کا خاتمہ۔

    — ریحان اللہ والا
    پاکستان میں غربت کا خاتمہ 200 سال پہلے یورپ غریب تھا۔ زیادہ تر لوگ کسان تھے۔ لوگ سارا دن محنت کرتے تھے لیکن پھر بھی غریب رہتے تھے۔ سفر آہستہ تھا۔ معلومات آہستہ چلتی تھیں۔ پھر انڈسٹریل ریوولوشن آیا۔ مشینیں آئیں۔ فیکٹریاں آئیں۔ ریل گاڑیاں آئیں۔ بجلی آئی۔ اچانک ایک انسان 50 لوگوں جتنا کام کرنے لگا۔ یورپ اس لیے امیر نہیں بنا کہ لوگ اچانک زیادہ ذہین ہوگئے تھے۔ وہ اس لیے امیر بنا کیونکہ: * پروڈکٹیوٹی بڑھی، * لین دین بڑھا، * رابطے بہتر ہوئے، * اور ٹیکنالوجی نے انسان کی طاقت کئی گنا بڑھا دی۔ پھر کمپیوٹر اور انفارمیشن ایج آیا۔ سنگاپور جیسے ملکوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ سنگاپور کراچی سے بھی چھوٹا ملک ہے۔ نہ اس کے پاس بڑا زرعی نظام تھا، نہ تیل، نہ بڑی زمین۔ لیکن اس نے: * کمپیوٹر، * تعلیم، * ٹیکنالوجی، * تجارت، * اور رابطوں کا فائدہ اٹھا کر خود کو دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل کر لیا۔ اور آج… دنیا میں ایک نئی ریوولوشن آچکی ہے۔ AI ریوولوشن۔ اور شاید تاریخ میں پہلی بار… پاکستان دیر نہیں کر رہا۔ AI پہلے سے موجود ہے۔ اسمارٹ فون پہلے سے موجود ہیں۔ انٹرنیٹ پہلے سے موجود ہے۔ سستا ڈیٹا پہلے سے موجود ہے۔ انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی آج ایک عام پاکستانی کے ہاتھ میں موجود ہے۔ ایک کسان کے ہاتھ میں۔ ایک طالبعلم کے ہاتھ میں۔ ایک دکاندار کے ہاتھ میں۔ ایک استاد کے ہاتھ میں۔ ایک ماں کے ہاتھ میں۔ ایک ڈرائیور کے ہاتھ میں۔ یہ ہمارا وقت ہے۔ پاکستان 25 کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ کیا آپ کو احساس ہے یہ کتنا بڑا نمبر ہے؟ 200 سال پہلے پوری دنیا کی آبادی تقریباً اتنی تھی۔ اور آج بھی پاکستان میں لاکھوں لوگ 100 ڈالر مہینے سے کم کماتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ بےوقوف ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ سست ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ وہ: * جدید سسٹمز، * پروڈکٹیوٹی، * ٹیکنالوجی، * اور تعاون سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم ہمیشہ انتظار کرتے رہتے ہیں: * حکومت کا، * سیاستدانوں کا، * ویزے کا، * بیرونی سرمایہ کاری کا، * کسی معجزے کا۔ حالانکہ اصل انقلاب عوام خود لا سکتے ہیں۔ پاکستان کے اندر ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے: * 25 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ، * کروڑوں نوجوان، * کروڑوں اسمارٹ فون، * ایک ہی ملک، * شہروں کے درمیان کوئی کسٹم نہیں، * کوئی بارڈر نہیں، * اور لاکھوں مسائل جو حل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور ہر مسئلہ ایک موقع ہے۔ تعلیم ایک موقع ہے۔ پانی ایک موقع ہے۔ ٹریفک ایک موقع ہے۔ ہیلتھ ایک موقع ہے۔ زراعت ایک موقع ہے۔ سولر ایک موقع ہے۔ ٹرانسپورٹ ایک موقع ہے۔ کمیونیکیشن ایک موقع ہے۔ پاکستان کی تقریباً 65٪ زمین آج بھی مکمل استعمال میں نہیں۔ کروڑوں ایکڑ زمین انتظار کر رہی ہے: * بہتر سسٹمز کا، * AI فارمنگ کا، * سولر فارمنگ کا، * بہتر واٹر مینجمنٹ کا، * اور جدید کاروباری سوچ کا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ: “کیا پاکستان امیر بن سکتا ہے؟” اصل سوال یہ ہے: “کیا پاکستانی آخرکار کچھ بنانا شروع کریں گے؟” پہلا قدم: AI کو ہر چیز کے لیے استعمال کریں۔ جب بھی کوئی مسئلہ دیکھیں، AI سے پوچھیں: * یہ مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے؟ * دنیا کے دوسرے ممالک یہ کیسے کرتے ہیں؟ * کیا اس پر بزنس بن سکتا ہے؟ * کیا ٹیکنالوجی اسے بہتر بنا سکتی ہے؟ AI کو اپنا: * استاد، * بزنس پارٹنر، * مشیر، * ڈیزائنر، * ریسرچر، * اور اسٹریٹجسٹ بنائیں۔ دوسرا قدم: نوجوان لوگوں کے ساتھ ملیں۔ کوئی بڑا ملک اکیلے نہیں بنتا۔ Facebook، LinkedIn، WhatsApp اور کمیونٹیز استعمال کریں۔ ایسے لوگ تلاش کریں جو اسی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہوں۔ گروپ بنائیں۔ ٹیم بنائیں۔ کمیونٹی بنائیں۔ تیسرا قدم: ایکشن لیں۔ کچھ بنائیں۔ شروع کریں: * ویب سائٹ، * WhatsApp گروپ، * سافٹ ویئر، * سولر بزنس، * AI ایجنسی، * فارمنگ پروجیکٹ، * فوڈ برانڈ، * لوکل سروس، * یا کوئی نیا سسٹم۔ پرفیکشن کا انتظار نہ کریں۔ بس شروع کریں۔ پاکستان کو 25 کروڑ نوکری ڈھونڈنے والے لوگ نہیں چاہییں۔ پاکستان کو لاکھوں Builders چاہییں۔ Education Wala Solar Wala Water Wala Health Wala Farmer Wala AI Wala Internet Wala پاکستان کا ایک مسئلہ پکڑیں… اور اپنی زندگی اس کے حل کے لیے وقف کر دیں۔ لوگوں سے ملیں۔ کمیونیکیٹ کریں۔ WhatsApp گروپ بنائیں۔ ہر چیز ڈاکیومنٹ کریں۔ علم بانٹیں۔ سسٹمز بہتر کریں۔ آہستہ آہستہ: * لین دین بڑھے گا، * اعتماد بڑھے گا، * آمدنی بڑھے گی، * سروس بہتر ہوگی، * اور غربت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ جاپان کی آبادی پاکستان سے تقریباً ایک تہائی ہے۔ پھر بھی وہ دنیا کی عظیم معیشت بن گیا۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے: * نظم و ضبط، * ٹیکنالوجی، * مسلسل بہتری، * اور سسٹمز کو اپنایا۔ تو پاکستان کیوں نہیں؟ آپ کو کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ ریوولوشن آچکی ہے۔ وہ آپ کے ہاتھ میں موجود ہے۔ لیکن آج بھی لوگ: * 5 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں، * فضول فارورڈ بھیجتے ہیں، * سیاسی لڑائیاں کرتے ہیں، * اور کسی اور کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ ٹی وی بند کریں۔ AI آن کریں۔ اور کچھ بنانا شروع کریں۔ یہ ٹیکنالوجی شاید انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اور اگر پاکستان نے اس کا صحیح فائدہ اٹھا لیا… تو شاید ہم اپنی زندگی میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھیں: پاکستان میں غربت کا خاتمہ۔ — ریحان اللہ والا
    0 Commentarios 0 Acciones 362 Views
  • پاکستان کو اب جاگنا ہوگا — AI اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواریت بڑھانے کا وقت آ گیا ہے

    اس ہفتے AI کمپنی Anthropic کی ویلیو تقریباً 900 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    اور OpenAI کی ویلیو اس وقت تقریباً 852 ارب ڈالر ہے۔

    ذرا رک کر سوچیں۔

    ایک AI کمپنی کی ویلیو…

    پورے پاکستان کی سالانہ معیشت سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    پاکستان کی پوری GDP تقریباً 450 ارب ڈالر ہے۔

    یعنی:

    ایک کمپنی > پورا پاکستان۔

    یہ صرف ایک خبر نہیں۔

    یہ ایک وارننگ ہے۔

    دنیا بدل چکی ہے…
    اور ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو ابھی تک اندازہ ہی نہیں کہ تبدیلی کتنی بڑی آ چکی ہے۔

    انسانی تاریخ میں پہلی بار:

    عقل کی قیمت گر رہی ہے۔

    کوڈنگ کی قیمت گر رہی ہے۔

    سافٹ ویئر بنانے کی قیمت گر رہی ہے۔

    کمپنی شروع کرنے کی قیمت گر رہی ہے۔

    آج ایک نوجوان…
    صرف:

    • ایک لیپ ٹاپ
    • انٹرنیٹ
    • AI

    کے ساتھ وہ کام کر سکتا ہے جس کے لیے پہلے:

    • 500 ملازمین
    • بڑی عمارتیں
    • کروڑوں ڈالر
    • کئی سال

    چاہیے ہوتے تھے۔

    اب ایک ذہین انسان AI کے ساتھ پوری ٹیم کے برابر کام کر سکتا ہے۔

    یہ فلم نہیں۔

    یہ آج ہو رہا ہے۔

    اور جو قومیں اس تبدیلی کو سمجھ جائیں گی…
    وہ اگلے 20 سال میں دنیا بدل دیں گی۔

    پاکستان کا اصل مسئلہ صرف پیسہ نہیں۔

    اصل مسئلہ سوچ ہے۔

    ہم آج بھی بچوں کو یہ سکھا رہے ہیں:

    “نوکری کیسے ملے گی؟”

    جبکہ دنیا یہ پوچھ رہی ہے:

    “کون سا مسئلہ solve کرنا ہے؟”

    AI کا دور problem solvers کا دور ہے۔

    پاکستان کا ہر مسئلہ اب ایک business opportunity ہے۔

    ٹریفک؟
    AI opportunity.

    تعلیم؟
    AI opportunity.

    ہسپتال؟
    AI opportunity.

    زراعت؟
    AI opportunity.

    فیکٹریاں؟
    AI opportunity.

    HR؟
    AI opportunity.

    حکومتی paperwork؟
    AI opportunity.

    کسٹمر سروس؟
    AI opportunity.

    پاکستان مسائل سے بھرا ہوا ملک ہے۔

    اور یہی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔

    کیونکہ جہاں مسئلہ ہوتا ہے…
    وہاں startup پیدا ہو سکتا ہے۔

    اور اب پہلی بار…

    AI کی وجہ سے ان مسائل کو حل کرنے کی لاگت بہت کم ہو چکی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ productive قومیں امیر بنتی ہیں۔

    پیداواریت کا مطلب زیادہ محنت نہیں۔

    پیداواریت کا مطلب ہے:
    ایسے tools استعمال کرنا جو انسان کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیں۔

    جیسے:

    • ٹریکٹر نے کسان کی طاقت بڑھائی
    • بجلی نے فیکٹری کی طاقت بڑھائی
    • AI انسان کی ذہنی طاقت بڑھا رہا ہے

    AI نئی بجلی بننے جا رہی ہے۔

    جو قوم اسے سب سے تیزی سے اپنے عوام تک پہنچائے گی…
    وہ اگلے 50 سال dominate کر سکتی ہے۔

    پاکستان کے پاس آج بہت کچھ موجود ہے:

    • 25 کروڑ سے زیادہ آبادی
    • نوجوانوں کی بڑی تعداد
    • سستا انٹرنیٹ
    • اسمارٹ فونز
    • دنیا بھر میں پاکستانی diaspora
    • freelancing experience
    • کم startup cost

    لیکن اگر mindset نہ بدلا…
    تو یہ سب فائدہ نہیں دے گا۔

    ہمیں اب:

    • rote memorization
    • صرف ڈگریاں
    • صرف نوکری کی سوچ

    سے نکلنا ہوگا۔

    اور بچوں کو سکھانا ہوگا:

    • AI
    • communication
    • coding
    • sales
    • networking
    • content creation
    • problem solving

    کیونکہ memorization کی value کم ہو رہی ہے۔

    Creation کی value بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان کو 25 کروڑ job seekers نہیں چاہئیں۔

    پاکستان کو لاکھوں builders چاہئیں۔

    Creators چاہئیں۔

    AI entrepreneurs چاہئیں۔

    اگر پاکستان سے ایک بڑی AI کمپنی بھی نکل آئی…

    تو وہ پورے ملک کا مستقبل بدل سکتی ہے۔

    لیکن اس کے لیے ہمیں:

    • innovation کا مذاق اڑانا بند کرنا ہوگا
    • نوجوانوں کو discourage کرنا بند کرنا ہوگا
    • failure سے ڈرانا بند کرنا ہوگا
    • صرف degree worship ختم کرنا ہوگی

    اور build کرنا شروع کرنا ہوگا۔

    AI انقلاب شاید پاکستان کی پچھلے 100 سال کی سب سے بڑی معاشی opportunity ہے۔

    لیکن صرف ان لوگوں کے لیے…
    جو وقت پر جاگ جائیں۔

    — ریحان اللہ والا
    پاکستان کو اب جاگنا ہوگا — AI اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواریت بڑھانے کا وقت آ گیا ہے اس ہفتے AI کمپنی Anthropic کی ویلیو تقریباً 900 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اور OpenAI کی ویلیو اس وقت تقریباً 852 ارب ڈالر ہے۔ ذرا رک کر سوچیں۔ ایک AI کمپنی کی ویلیو… پورے پاکستان کی سالانہ معیشت سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پاکستان کی پوری GDP تقریباً 450 ارب ڈالر ہے۔ یعنی: ایک کمپنی > پورا پاکستان۔ یہ صرف ایک خبر نہیں۔ یہ ایک وارننگ ہے۔ دنیا بدل چکی ہے… اور ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو ابھی تک اندازہ ہی نہیں کہ تبدیلی کتنی بڑی آ چکی ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار: عقل کی قیمت گر رہی ہے۔ کوڈنگ کی قیمت گر رہی ہے۔ سافٹ ویئر بنانے کی قیمت گر رہی ہے۔ کمپنی شروع کرنے کی قیمت گر رہی ہے۔ آج ایک نوجوان… صرف: • ایک لیپ ٹاپ • انٹرنیٹ • AI کے ساتھ وہ کام کر سکتا ہے جس کے لیے پہلے: • 500 ملازمین • بڑی عمارتیں • کروڑوں ڈالر • کئی سال چاہیے ہوتے تھے۔ اب ایک ذہین انسان AI کے ساتھ پوری ٹیم کے برابر کام کر سکتا ہے۔ یہ فلم نہیں۔ یہ آج ہو رہا ہے۔ اور جو قومیں اس تبدیلی کو سمجھ جائیں گی… وہ اگلے 20 سال میں دنیا بدل دیں گی۔ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف پیسہ نہیں۔ اصل مسئلہ سوچ ہے۔ ہم آج بھی بچوں کو یہ سکھا رہے ہیں: “نوکری کیسے ملے گی؟” جبکہ دنیا یہ پوچھ رہی ہے: “کون سا مسئلہ solve کرنا ہے؟” AI کا دور problem solvers کا دور ہے۔ پاکستان کا ہر مسئلہ اب ایک business opportunity ہے۔ ٹریفک؟ AI opportunity. تعلیم؟ AI opportunity. ہسپتال؟ AI opportunity. زراعت؟ AI opportunity. فیکٹریاں؟ AI opportunity. HR؟ AI opportunity. حکومتی paperwork؟ AI opportunity. کسٹمر سروس؟ AI opportunity. پاکستان مسائل سے بھرا ہوا ملک ہے۔ اور یہی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ کیونکہ جہاں مسئلہ ہوتا ہے… وہاں startup پیدا ہو سکتا ہے۔ اور اب پہلی بار… AI کی وجہ سے ان مسائل کو حل کرنے کی لاگت بہت کم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ productive قومیں امیر بنتی ہیں۔ پیداواریت کا مطلب زیادہ محنت نہیں۔ پیداواریت کا مطلب ہے: ایسے tools استعمال کرنا جو انسان کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیں۔ جیسے: • ٹریکٹر نے کسان کی طاقت بڑھائی • بجلی نے فیکٹری کی طاقت بڑھائی • AI انسان کی ذہنی طاقت بڑھا رہا ہے AI نئی بجلی بننے جا رہی ہے۔ جو قوم اسے سب سے تیزی سے اپنے عوام تک پہنچائے گی… وہ اگلے 50 سال dominate کر سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس آج بہت کچھ موجود ہے: • 25 کروڑ سے زیادہ آبادی • نوجوانوں کی بڑی تعداد • سستا انٹرنیٹ • اسمارٹ فونز • دنیا بھر میں پاکستانی diaspora • freelancing experience • کم startup cost لیکن اگر mindset نہ بدلا… تو یہ سب فائدہ نہیں دے گا۔ ہمیں اب: • rote memorization • صرف ڈگریاں • صرف نوکری کی سوچ سے نکلنا ہوگا۔ اور بچوں کو سکھانا ہوگا: • AI • communication • coding • sales • networking • content creation • problem solving کیونکہ memorization کی value کم ہو رہی ہے۔ Creation کی value بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو 25 کروڑ job seekers نہیں چاہئیں۔ پاکستان کو لاکھوں builders چاہئیں۔ Creators چاہئیں۔ AI entrepreneurs چاہئیں۔ اگر پاکستان سے ایک بڑی AI کمپنی بھی نکل آئی… تو وہ پورے ملک کا مستقبل بدل سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں: • innovation کا مذاق اڑانا بند کرنا ہوگا • نوجوانوں کو discourage کرنا بند کرنا ہوگا • failure سے ڈرانا بند کرنا ہوگا • صرف degree worship ختم کرنا ہوگی اور build کرنا شروع کرنا ہوگا۔ AI انقلاب شاید پاکستان کی پچھلے 100 سال کی سب سے بڑی معاشی opportunity ہے۔ لیکن صرف ان لوگوں کے لیے… جو وقت پر جاگ جائیں۔ — ریحان اللہ والا
    0 Commentarios 0 Acciones 254 Views
  • سولر پانی باکس: صرف سورج کی روشنی سے پینے کا صاف پانی بنانے کا آسان طریقہ

    پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ لیکن دنیا میں کروڑوں لوگ آج بھی صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ حال ہی میں جنوبی کوریا کے سائنس دانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا ہے جو صرف سورج کی روشنی کی مدد سے سمندر کے کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر سکتی ہے، وہ بھی بغیر بجلی اور بغیر کسی ایندھن کے۔

    اس کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس کا بنیادی اصول اتنا آسان ہے کہ پاکستان کا ایک 12 سال کا طالب علم بھی گھر میں ایک چھوٹا “سولر پانی باکس” بنا کر اس تجربے کو سمجھ سکتا ہے۔

    یہ کیسے کام کرتا ہے؟

    جب سورج کی روشنی کھارے پانی کو گرم کرتی ہے تو صرف پانی بخارات کی شکل میں اوپر اٹھتا ہے جبکہ نمک اور دوسری گندگی نیچے رہ جاتی ہے۔

    جب یہ بخارات کسی ٹھنڈی سطح سے ٹکراتے ہیں تو دوبارہ پانی کے قطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ انہی قطروں کو جمع کر کے صاف پانی حاصل کیا جاتا ہے۔

    بالکل اسی طرح جیسے قدرت میں بارش بنتی ہے۔

    سورج → بخارات → بادل → پانی کے قطرے → صاف پانی

    درکار سامان

    یہ تمام چیزیں پاکستان میں آسانی سے مل سکتی ہیں۔

    1۔ ایک کالا پلاسٹک کا ٹب یا ٹرے۔

    2۔ ایک شفاف شیشہ یا موٹی پلاسٹک شیٹ۔

    3۔ کالا کپڑا یا تولیہ۔

    4۔ تھرموکول یا فوم کا ٹکڑا۔

    5۔ ایک پلاسٹک کی نالی یا اسٹرا۔

    6۔ ٹیپ یا سلیکون۔

    7۔ کھارا پانی یا سمندر کا پانی۔

    8۔ صاف بوتل یا گلاس۔

    اس پورے ماڈل کی قیمت تقریباً ایک ہزار روپے سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

    سولر پانی باکس بنانے کا طریقہ

    پہلا مرحلہ

    ایک کالی ٹرے لیں یا کسی برتن کو کالا رنگ کر لیں۔ کالا رنگ سورج کی حرارت زیادہ جذب کرتا ہے۔

    دوسرا مرحلہ

    اس میں کھارا پانی ڈالیں۔

    تیسرا مرحلہ

    پانی میں ایک کالا کپڑا رکھ دیں۔ کپڑا پانی کو جذب کر کے بخارات بننے کا عمل تیز کرتا ہے۔

    چوتھا مرحلہ

    اوپر شیشہ یا شفاف پلاسٹک شیٹ کو تھوڑا سا ترچھا رکھیں تاکہ پانی کے قطرے نیچے کی طرف بہہ سکیں۔

    پانچواں مرحلہ

    نچلی طرف ایک پلاسٹک کی نالی یا اسٹرا لگا دیں تاکہ قطرے ایک بوتل میں جمع ہوتے جائیں۔

    چھٹا مرحلہ

    تمام کناروں کو ٹیپ سے بند کر دیں تاکہ بھاپ باہر نہ نکل سکے۔

    ساتواں مرحلہ

    اس سولر پانی باکس کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ میں رکھ دیں۔

    کچھ گھنٹوں بعد شیشے کے اندر پانی کے قطرے بننا شروع ہو جائیں گے اور آہستہ آہستہ بوتل میں جمع ہونے لگیں گے۔

    اس پانی میں نمک بہت کم ہوگا کیونکہ نمک نیچے ٹرے میں ہی رہ جاتا ہے۔

    یہ ایجاد کیوں اہم ہے؟

    سولر پانی باکس ان جگہوں پر بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے:

    * سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے۔
    * بجلی سے محروم دیہات۔
    * سیلاب اور قدرتی آفات کے متاثرین۔
    * ماہی گیر اور دور دراز آبادیاں۔
    * سکولوں کے سائنسی تجربات۔
    * ہنگامی حالات۔

    پاکستان کے لیے ایک بڑا کاروباری موقع

    پاکستان کے پاس ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ساحلی پٹی موجود ہے۔ ہزاروں دیہات صاف پانی کی کمی کا شکار ہیں۔

    آج کے بچے اور نوجوان مستقبل میں اس سادہ تصور کو بہتر بنا کر بنا سکتے ہیں:

    * گھروں کے لیے سولر پانی باکس۔
    * دیہات کے لیے پانی کے پلانٹ۔
    * ماہی گیروں کے لیے پورٹیبل سسٹم۔
    * ہنگامی حالات کے لیے واٹر کٹس۔
    * سمندر کے اوپر تیرنے والے پانی صاف کرنے والے یونٹ۔

    ممکن ہے کہ مستقبل میں پاکستان دنیا بھر کو کم قیمت والے سولر پانی باکس برآمد کرے۔

    ریحان اسکول کا چیلنج

    ہر طالب علم ایک ایک مربع میٹر کا سولر پانی باکس بنائے اور روزانہ یہ چیزیں نوٹ کرے:

    * تاریخ
    * موسم
    * پیدا ہونے والے پانی کی مقدار
    * لاگت
    * تصاویر اور ویڈیوز
    * اپنی نئی بہتریاں

    ہدف یہ ہونا چاہیے کہ صرف سورج کی روشنی سے روزانہ کم از کم 5 لیٹر صاف پانی حاصل کیا جا سکے۔

    یاد رکھیں

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بے شمار نعمتیں دی ہیں:

    ☀ سورج کی روشنی

    سمندر کا پانی

    اگر ہم ان دونوں کو سمجھداری سے استعمال کرنا سیکھ جائیں تو صاف پانی کی کمی دنیا سے ختم ہو سکتی ہے۔

    شاید پانی کی اگلی عظیم ایجاد کسی بڑی لیبارٹری سے نہیں بلکہ پاکستان کے کسی 12 سالہ طالب علم کے گھر سے جنم لے۔
    سولر پانی باکس: صرف سورج کی روشنی سے پینے کا صاف پانی بنانے کا آسان طریقہ پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ لیکن دنیا میں کروڑوں لوگ آج بھی صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ حال ہی میں جنوبی کوریا کے سائنس دانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا ہے جو صرف سورج کی روشنی کی مدد سے سمندر کے کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر سکتی ہے، وہ بھی بغیر بجلی اور بغیر کسی ایندھن کے۔ اس کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس کا بنیادی اصول اتنا آسان ہے کہ پاکستان کا ایک 12 سال کا طالب علم بھی گھر میں ایک چھوٹا “سولر پانی باکس” بنا کر اس تجربے کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ جب سورج کی روشنی کھارے پانی کو گرم کرتی ہے تو صرف پانی بخارات کی شکل میں اوپر اٹھتا ہے جبکہ نمک اور دوسری گندگی نیچے رہ جاتی ہے۔ جب یہ بخارات کسی ٹھنڈی سطح سے ٹکراتے ہیں تو دوبارہ پانی کے قطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ انہی قطروں کو جمع کر کے صاف پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے قدرت میں بارش بنتی ہے۔ سورج → بخارات → بادل → پانی کے قطرے → صاف پانی درکار سامان یہ تمام چیزیں پاکستان میں آسانی سے مل سکتی ہیں۔ 1۔ ایک کالا پلاسٹک کا ٹب یا ٹرے۔ 2۔ ایک شفاف شیشہ یا موٹی پلاسٹک شیٹ۔ 3۔ کالا کپڑا یا تولیہ۔ 4۔ تھرموکول یا فوم کا ٹکڑا۔ 5۔ ایک پلاسٹک کی نالی یا اسٹرا۔ 6۔ ٹیپ یا سلیکون۔ 7۔ کھارا پانی یا سمندر کا پانی۔ 8۔ صاف بوتل یا گلاس۔ اس پورے ماڈل کی قیمت تقریباً ایک ہزار روپے سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ سولر پانی باکس بنانے کا طریقہ پہلا مرحلہ ایک کالی ٹرے لیں یا کسی برتن کو کالا رنگ کر لیں۔ کالا رنگ سورج کی حرارت زیادہ جذب کرتا ہے۔ دوسرا مرحلہ اس میں کھارا پانی ڈالیں۔ تیسرا مرحلہ پانی میں ایک کالا کپڑا رکھ دیں۔ کپڑا پانی کو جذب کر کے بخارات بننے کا عمل تیز کرتا ہے۔ چوتھا مرحلہ اوپر شیشہ یا شفاف پلاسٹک شیٹ کو تھوڑا سا ترچھا رکھیں تاکہ پانی کے قطرے نیچے کی طرف بہہ سکیں۔ پانچواں مرحلہ نچلی طرف ایک پلاسٹک کی نالی یا اسٹرا لگا دیں تاکہ قطرے ایک بوتل میں جمع ہوتے جائیں۔ چھٹا مرحلہ تمام کناروں کو ٹیپ سے بند کر دیں تاکہ بھاپ باہر نہ نکل سکے۔ ساتواں مرحلہ اس سولر پانی باکس کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ میں رکھ دیں۔ کچھ گھنٹوں بعد شیشے کے اندر پانی کے قطرے بننا شروع ہو جائیں گے اور آہستہ آہستہ بوتل میں جمع ہونے لگیں گے۔ اس پانی میں نمک بہت کم ہوگا کیونکہ نمک نیچے ٹرے میں ہی رہ جاتا ہے۔ یہ ایجاد کیوں اہم ہے؟ سولر پانی باکس ان جگہوں پر بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے: * سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے۔ * بجلی سے محروم دیہات۔ * سیلاب اور قدرتی آفات کے متاثرین۔ * ماہی گیر اور دور دراز آبادیاں۔ * سکولوں کے سائنسی تجربات۔ * ہنگامی حالات۔ پاکستان کے لیے ایک بڑا کاروباری موقع پاکستان کے پاس ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ساحلی پٹی موجود ہے۔ ہزاروں دیہات صاف پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ آج کے بچے اور نوجوان مستقبل میں اس سادہ تصور کو بہتر بنا کر بنا سکتے ہیں: * گھروں کے لیے سولر پانی باکس۔ * دیہات کے لیے پانی کے پلانٹ۔ * ماہی گیروں کے لیے پورٹیبل سسٹم۔ * ہنگامی حالات کے لیے واٹر کٹس۔ * سمندر کے اوپر تیرنے والے پانی صاف کرنے والے یونٹ۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں پاکستان دنیا بھر کو کم قیمت والے سولر پانی باکس برآمد کرے۔ ریحان اسکول کا چیلنج ہر طالب علم ایک ایک مربع میٹر کا سولر پانی باکس بنائے اور روزانہ یہ چیزیں نوٹ کرے: * تاریخ * موسم * پیدا ہونے والے پانی کی مقدار * لاگت * تصاویر اور ویڈیوز * اپنی نئی بہتریاں ہدف یہ ہونا چاہیے کہ صرف سورج کی روشنی سے روزانہ کم از کم 5 لیٹر صاف پانی حاصل کیا جا سکے۔ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بے شمار نعمتیں دی ہیں: ☀ سورج کی روشنی 🌊 سمندر کا پانی اگر ہم ان دونوں کو سمجھداری سے استعمال کرنا سیکھ جائیں تو صاف پانی کی کمی دنیا سے ختم ہو سکتی ہے۔ شاید پانی کی اگلی عظیم ایجاد کسی بڑی لیبارٹری سے نہیں بلکہ پاکستان کے کسی 12 سالہ طالب علم کے گھر سے جنم لے۔
    0 Commentarios 0 Acciones 247 Views
  • This is the real Minister of Agriculture of Pakistan who single handey along with his network is bringing a green revelation to Pakistan

    He doesn’t work alone but his organization Agri Tourism Development Corporation of Pakistan partners with people and organizations in agriculture, guides them and creates a small ecosystem that grows slowly like a Tree and in 5 to 10 years you will see an incredible exponential improvement in our agriculture!

    If you have any interest in trees, fruits, agriculture, if you have or know anyone who has land, you MUST follow him on social media and be part of this movement !

    Inbox him your questions or whatspp him on +92 321 6627199

    His name is Tariq Tanveer Podaywala

    یہ ہے پاکستان کا اصل وزیر زراعت جو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ مل کر پاکستان میں سبز انکشافات لا رہا ہے

    وہ اکیلا کام نہیں کرتا بلکہ اس کی تنظیم ایگری ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان زراعت میں لوگوں اور تنظیموں کے ساتھ شراکت کرتی ہے، ان کی رہنمائی کرتی ہے اور ایک چھوٹا سا ماحولیاتی نظام بناتی ہے جو درخت کی طرح آہستہ آہستہ بڑھتا ہے ہماری زراعت میں غیر معمولی بہتری!

    اگر آپ کو درختوں، پھلوں، زراعت میں کوئی دلچسپی ہے، اگر آپ کسی کے پاس زمین رکھتے ہیں یا جانتے ہیں، تو آپ کو سوشل میڈیا پر اسے فالو کرنا چاہیے اور اس تحریک کا حصہ بننا چاہیے۔

    اسے اپنے سوالات ان باکس کریں یا اسے +92 321 6627199 پر واٹس ایپ کریں۔

    اس کا نام طارق تنویر پودے والا ہے۔
    This is the real Minister of Agriculture of Pakistan who single handey along with his network is bringing a green revelation to Pakistan 🇵🇰 He doesn’t work alone but his organization Agri Tourism Development Corporation of Pakistan 🇵🇰 partners with people and organizations in agriculture, guides them and creates a small ecosystem that grows slowly like a Tree 🌳 and in 5 to 10 years you will see an incredible exponential improvement in our agriculture! If you have any interest in trees, fruits, agriculture, if you have or know anyone who has land, you MUST follow him on social media and be part of this movement ! Inbox him your questions or whatspp him on +92 321 6627199 His name is Tariq Tanveer Podaywala یہ ہے پاکستان کا اصل وزیر زراعت جو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ مل کر پاکستان میں سبز انکشافات لا رہا ہے 🇵🇰 وہ اکیلا کام نہیں کرتا بلکہ اس کی تنظیم ایگری ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان 🇵🇰 زراعت میں لوگوں اور تنظیموں کے ساتھ شراکت کرتی ہے، ان کی رہنمائی کرتی ہے اور ایک چھوٹا سا ماحولیاتی نظام بناتی ہے جو درخت کی طرح آہستہ آہستہ بڑھتا ہے ہماری زراعت میں غیر معمولی بہتری! اگر آپ کو درختوں، پھلوں، زراعت میں کوئی دلچسپی ہے، اگر آپ کسی کے پاس زمین رکھتے ہیں یا جانتے ہیں، تو آپ کو سوشل میڈیا پر اسے فالو کرنا چاہیے اور اس تحریک کا حصہ بننا چاہیے۔ اسے اپنے سوالات ان باکس کریں یا اسے +92 321 6627199 پر واٹس ایپ کریں۔ اس کا نام طارق تنویر پودے والا ہے۔
    0 Commentarios 0 Acciones 137 Views
  • ہندوستانی مسلمانوں کے نام
    جب دماغ کا لاوا پھٹے تو پھر کچھ اس طرح کی تحریر بن جاتی ہے
    آپ بھی پڑھئے

    انٹرنیشنل آئی ٹی بورڈ کے مطابق عالمی ای پے مینٹ کمپنی پایونیر نے فری لانسنگ میں سرفہرست 10 ممالک کی رینکنگ جاری کر دی جس کے مطابق پاکستان چوتھے اور بھارت ساتویں نمبر پر آگیا ہے

    ہائے افسوس ہمارا پڑوسی ملک گذشتہ تین سالوں میں وہاں لوگ ارننگ اور لرننگ پر اس طرح محنت کررہے ہیں کہ آج پوری دنیا انکی طرف متوجہ ہورہی ہے اور ہم سو رہے ہیں

    فی الوقت تو میں پورے ہندوستان کی بات نہیں کرتا بس صرف ہندوستانی مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہوں کہ آئیے آگے بڑھتے ہیں اور اسکلز سیکھ کر محنت کرکے خود بھی خوشحال ہوتے ہیں اور اس ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا اہم کردار نبھاتے ہیں

    2021 کے سال میں دنیا کی سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے اعلان کیا کہ اس سال علی بابا کی سب سے زیادہ دنیا بھر میں سیلنگ کرنے والے پاکستانی نوجوان ہیں اور علی بابا کے مینیجر نے باقاعدہ اس طرح کے ادارے جو ای کامرس و فری لانسنگ کو فروغ دینے اور سکھانے کے لئے سر توڑ محنت کررہے ہیں انہیں جا کر مبارکباد بھی دی

    اور ہم ابھی تک مفت کی روٹی ہی توڑنا چاہتے ہیں..........

    پاکستان فری لانسنگ میں اضافے میں بھارت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ جبکہ آج سے تین سال پہلے پاکستان فہرست میں ہی نہيں آتا تھا
    امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے، برازیل تیسرے، پاکستان چوتھے، یوکرائن پانچویں، فلپائن چھٹے، بھارت ساتویں، بنگلہ دیش آٹھویں، روس نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔

    ترجمان آئی ٹی بورڈ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری شعبہ ملک میں فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے فری لانسنگ ہنرمند افراد کےلیے امید کی کرن

    صرف پاکستان کا ایک ادارہ *ای روزگار فری لانسنگ پروگرام* ملک کے زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہا ہے، ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان صرف کچھ ہی عرصہ میں انٹرنیٹ سے کام کر کے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں

    یہ تو صرف ایک ادارہ کا ہم نے بتایا ہے ایسے بہت سے ادارے وہ لوگ بناکر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں
    یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ شہر شہر بستی بستی جا جا کر نوجوانوں کو جگارہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ڈگریوں کے پیچھے پندرہ سے بیس سال لگانے کی بجائے آئیں اسکلز کی طرف تاکہ چند مہینوں میں پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور خوشحال زندگی گزاری
    آپ صرف مزید دو اداروں کا ہی رکورڈ دیکھ لیں حیران ہوجائینگے کہ صرف تین سال میں دنیا بھر میں اتنا بڑا نیٹورک اور ہزاروں نوجوانوں کو ٹرینڈنگ اسکل سکھا کر لاکھوں کمانے والا بنا چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کو ڈگریوں کی ریس میں دوڑا رہے ہیں..........
    جائیے سرچ کیجئے انیبلرس اور اکسٹریم کامرس کے ان کے اسٹوڈنٹس سالانہ کتنے بلین کماکر لارہے ہیں

    آج ہمارا ہر آدمی جس کے پاس چار پیسے ہو وہ اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے ذہن میں یہی چند چیز آتی ہے کہ ہم مسجد بنائینگے یا ہسپتال یا اسکول یا کالج یا مدرسہ
    ضرورت انکی بھی ہے مگر اس سے زیادہ یوٹیوب انکیوبیٹر کی ضرورت ہے
    ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے
    اور مالیگاﺅں بزنس ہب اسی خواب کا ایک نام ہے

    کچھ لوگ یہ پوسٹ پڑھ کر بندہ سے الجھینگے
    تو ان کے لئے عرض ہے کہ جاؤ گوگل پر یوٹیوب پر اور سرچ کرو
    ریحان اللہ والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
    ثاقب اظہر کون ہے اور کیا کررہا ہے
    عثمان جغتائی کون ہے اور کیا کررہا ہے
    ہشام سرور کون ہے اور کیا کررہا ہے
    تنویر ناڈلہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
    سنی علی کون ہے اور کیا کررہا ہے
    سکندر حیات بابا کون ہے اور کیا کررہا ہے
    آزاد چائے والا کون ہے اور کیا کررہا ہے
    سید کاشف شاہ کون ہے اور کیا کررہا ہے
    شکیل احمد میر کون ہے اور کیا کررہا ہے
    اشرف چودھری کون ہے اور کیا کررہا ہے
    یہ چند نام بطور مثال پیش کئے ہیں ایسے ہزاروں لوگ میدان میں کود پڑے ہیں جو ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کمانا سکھا چکے ہیں اور باقاعدہ رزلٹ ہزاروں کا لوگوں کے سامنے بھی ہے اور
    ہم مفت خوری سکھا رہے ہیں کہ آئیے ہم فری میڈیکل کیمپ لگائیں آئیے ہم یہ فری اور وہ فری دے
    کیا اس طرح غربت ختم ہوگی؟؟؟
    کیا اس طرح لوگوں میں شعور بیدار ہوگا
    کیا اس طرح ہماری سوچ بدلیگی

    کب تک ہم امداد کے نام پر مفت خوری کی طرف قوم کو لیکر جائینگے
    آئیے نعرہ لگاتے ہیں سوچ بدلو زندگی بدلےگی

    اگر میری بات آپ کو بہت بری لگے تو پھر بتائیے
    یہ پڑوس کے چند نوجوان ہے
    ابھی تو انڈونیشیا ملیشیا فلپائن ویتنام کوریا جیسے ملکوں کی تو بات ہی نہیں کی ہے ان ملکوں میں بھی ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مستقل اسکلز سکھانے اور نت نئے ڈیجیٹل روزگار کی طرف لانے کا کام کررہے ہیں

    انڈیا پاکستان کرتے ہم نہیں تھکتے
    انکی کرکٹ میں پریشان رہتے ہیں

    اپنے علاقہ سے
    تو ایک آزاد چائے والا دکھادو
    ایک ریحان اللہ والا دکھادو
    ایک سنی علی دکھادو
    ایک ثاقب اظہر دکھادو
    ایک شاہد حسین دکھادو

    آئیے پھر نعرہ لگائیں .......... بدلو ذہن جی لو زندگی

    مولانا شیخ محمد علقمہ
    آواز: مالیگاﺅں بزنس ہب

    Via Shaikh Muhammad Alqama
    ہندوستانی مسلمانوں کے نام جب دماغ کا لاوا پھٹے تو پھر کچھ اس طرح کی تحریر بن جاتی ہے آپ بھی پڑھئے انٹرنیشنل آئی ٹی بورڈ کے مطابق عالمی ای پے مینٹ کمپنی پایونیر نے فری لانسنگ میں سرفہرست 10 ممالک کی رینکنگ جاری کر دی جس کے مطابق پاکستان چوتھے اور بھارت ساتویں نمبر پر آگیا ہے ہائے افسوس ہمارا پڑوسی ملک گذشتہ تین سالوں میں وہاں لوگ ارننگ اور لرننگ پر اس طرح محنت کررہے ہیں کہ آج پوری دنیا انکی طرف متوجہ ہورہی ہے اور ہم سو رہے ہیں فی الوقت تو میں پورے ہندوستان کی بات نہیں کرتا بس صرف ہندوستانی مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہوں کہ آئیے آگے بڑھتے ہیں اور اسکلز سیکھ کر محنت کرکے خود بھی خوشحال ہوتے ہیں اور اس ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا اہم کردار نبھاتے ہیں 2021 کے سال میں دنیا کی سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا نے اعلان کیا کہ اس سال علی بابا کی سب سے زیادہ دنیا بھر میں سیلنگ کرنے والے پاکستانی نوجوان ہیں اور علی بابا کے مینیجر نے باقاعدہ اس طرح کے ادارے جو ای کامرس و فری لانسنگ کو فروغ دینے اور سکھانے کے لئے سر توڑ محنت کررہے ہیں انہیں جا کر مبارکباد بھی دی اور ہم ابھی تک مفت کی روٹی ہی توڑنا چاہتے ہیں.......... پاکستان فری لانسنگ میں اضافے میں بھارت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ جبکہ آج سے تین سال پہلے پاکستان فہرست میں ہی نہيں آتا تھا امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے، برازیل تیسرے، پاکستان چوتھے، یوکرائن پانچویں، فلپائن چھٹے، بھارت ساتویں، بنگلہ دیش آٹھویں، روس نویں اور سربیا دسویں نمبر پر ہے۔ ترجمان آئی ٹی بورڈ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں فری لانسنگ میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور سرکاری شعبہ ملک میں فری لانسنگ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے فری لانسنگ ہنرمند افراد کےلیے امید کی کرن صرف پاکستان کا ایک ادارہ *ای روزگار فری لانسنگ پروگرام* ملک کے زرمبادلہ میں اضافے اور بیروزگار میں کمی کا باعث بن رہا ہے، ای روزگار سے فارغ التحصیل 12 ہزار نوجوان صرف کچھ ہی عرصہ میں انٹرنیٹ سے کام کر کے 14 کروڑ روپے کما چکے ہیں یہ تو صرف ایک ادارہ کا ہم نے بتایا ہے ایسے بہت سے ادارے وہ لوگ بناکر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں یہ لوگ خلوص دل کے ساتھ شہر شہر بستی بستی جا جا کر نوجوانوں کو جگارہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ڈگریوں کے پیچھے پندرہ سے بیس سال لگانے کی بجائے آئیں اسکلز کی طرف تاکہ چند مہینوں میں پیروں پر کھڑے ہوجائیں اور خوشحال زندگی گزاری آپ صرف مزید دو اداروں کا ہی رکورڈ دیکھ لیں حیران ہوجائینگے کہ صرف تین سال میں دنیا بھر میں اتنا بڑا نیٹورک اور ہزاروں نوجوانوں کو ٹرینڈنگ اسکل سکھا کر لاکھوں کمانے والا بنا چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کو ڈگریوں کی ریس میں دوڑا رہے ہیں.......... جائیے سرچ کیجئے انیبلرس اور اکسٹریم کامرس کے ان کے اسٹوڈنٹس سالانہ کتنے بلین کماکر لارہے ہیں آج ہمارا ہر آدمی جس کے پاس چار پیسے ہو وہ اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کے ذہن میں یہی چند چیز آتی ہے کہ ہم مسجد بنائینگے یا ہسپتال یا اسکول یا کالج یا مدرسہ ضرورت انکی بھی ہے مگر اس سے زیادہ یوٹیوب انکیوبیٹر کی ضرورت ہے ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے ادارے بنانے کی ضرورت ہے اور مالیگاﺅں بزنس ہب اسی خواب کا ایک نام ہے کچھ لوگ یہ پوسٹ پڑھ کر بندہ سے الجھینگے تو ان کے لئے عرض ہے کہ جاؤ گوگل پر یوٹیوب پر اور سرچ کرو ریحان اللہ والا کون ہے اور کیا کررہا ہے ثاقب اظہر کون ہے اور کیا کررہا ہے عثمان جغتائی کون ہے اور کیا کررہا ہے ہشام سرور کون ہے اور کیا کررہا ہے تنویر ناڈلہ کون ہے اور کیا کررہا ہے سنی علی کون ہے اور کیا کررہا ہے سکندر حیات بابا کون ہے اور کیا کررہا ہے آزاد چائے والا کون ہے اور کیا کررہا ہے سید کاشف شاہ کون ہے اور کیا کررہا ہے شکیل احمد میر کون ہے اور کیا کررہا ہے اشرف چودھری کون ہے اور کیا کررہا ہے یہ چند نام بطور مثال پیش کئے ہیں ایسے ہزاروں لوگ میدان میں کود پڑے ہیں جو ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کمانا سکھا چکے ہیں اور باقاعدہ رزلٹ ہزاروں کا لوگوں کے سامنے بھی ہے اور ہم مفت خوری سکھا رہے ہیں کہ آئیے ہم فری میڈیکل کیمپ لگائیں آئیے ہم یہ فری اور وہ فری دے کیا اس طرح غربت ختم ہوگی؟؟؟ کیا اس طرح لوگوں میں شعور بیدار ہوگا کیا اس طرح ہماری سوچ بدلیگی کب تک ہم امداد کے نام پر مفت خوری کی طرف قوم کو لیکر جائینگے آئیے نعرہ لگاتے ہیں سوچ بدلو زندگی بدلےگی اگر میری بات آپ کو بہت بری لگے تو پھر بتائیے یہ پڑوس کے چند نوجوان ہے ابھی تو انڈونیشیا ملیشیا فلپائن ویتنام کوریا جیسے ملکوں کی تو بات ہی نہیں کی ہے ان ملکوں میں بھی ایسے بہت سے ادارے ہیں جو مستقل اسکلز سکھانے اور نت نئے ڈیجیٹل روزگار کی طرف لانے کا کام کررہے ہیں انڈیا پاکستان کرتے ہم نہیں تھکتے انکی کرکٹ میں پریشان رہتے ہیں اپنے علاقہ سے تو ایک آزاد چائے والا دکھادو ایک ریحان اللہ والا دکھادو ایک سنی علی دکھادو ایک ثاقب اظہر دکھادو ایک شاہد حسین دکھادو آئیے پھر نعرہ لگائیں .......... بدلو ذہن جی لو زندگی مولانا شیخ محمد علقمہ آواز: مالیگاﺅں بزنس ہب Via Shaikh Muhammad Alqama
    0 Commentarios 0 Acciones 359 Views
  • میرا نام محمد عمران ہے۔ ویسے توپاکستان کا ایک عام شہری ہوں لیکن باعزت روزگاروزندگی گزارنے کے لئے کوئی نہ کوئی پیشہ اپنانا ضروری ہے لہذا سائنس میں گریجویشن کے بعد آئی۔ٹی کا میدان منتخب کیا اور اسی شعبے میں خصوصی مہارت کی مزید تعلیم حاصل کی۔
    کم و بیش گزشتہ 25 سالوں سے اپنا ہی چھوٹا سا کاروبار ہے۔جس میں آئی ٹی سے متعلق مختلف سروسز مثلاً ،کنسلٹنسی،نیٹ ورک انفراسٹرکچر ڈیزائن ،ڈیپلائمنٹ ، سسٹمز اینڈ نیٹورک ایڈمنسٹریٹرشن وغیرہ شامل ہیں۔
    اس 25سالہ پیشہ ورانہ سفر میں آئی ٹی کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کی اور مختلف اداروں میں پیچیدہ آئی ٹی سلوشنز ناصرف ڈیزائن کئے بلکہ ان کے نفاذ اور برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
    سیکھنے اور سکھانے کا سفر و عمل آج بھی جاری ہے۔
    غم روزگار سے کچھ فرصت نکالنے کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی کے علاوہ شعر و ادب میں خصوصی دلچسپی ہے۔

    میں یہ کورس وغیرہ کرانے کا قائل نہیں ہوں جس کو سیکھنا ہے میرے ساتھ آ کر ہینڈز آن ایکسپیرینس کرے .

    Muhammad Imran
    میرا نام محمد عمران ہے۔ ویسے توپاکستان کا ایک عام شہری ہوں لیکن باعزت روزگاروزندگی گزارنے کے لئے کوئی نہ کوئی پیشہ اپنانا ضروری ہے لہذا سائنس میں گریجویشن کے بعد آئی۔ٹی کا میدان منتخب کیا اور اسی شعبے میں خصوصی مہارت کی مزید تعلیم حاصل کی۔ کم و بیش گزشتہ 25 سالوں سے اپنا ہی چھوٹا سا کاروبار ہے۔جس میں آئی ٹی سے متعلق مختلف سروسز مثلاً ،کنسلٹنسی،نیٹ ورک انفراسٹرکچر ڈیزائن ،ڈیپلائمنٹ ، سسٹمز اینڈ نیٹورک ایڈمنسٹریٹرشن وغیرہ شامل ہیں۔ اس 25سالہ پیشہ ورانہ سفر میں آئی ٹی کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کی اور مختلف اداروں میں پیچیدہ آئی ٹی سلوشنز ناصرف ڈیزائن کئے بلکہ ان کے نفاذ اور برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سیکھنے اور سکھانے کا سفر و عمل آج بھی جاری ہے۔ غم روزگار سے کچھ فرصت نکالنے کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی کے علاوہ شعر و ادب میں خصوصی دلچسپی ہے۔ میں یہ کورس وغیرہ کرانے کا قائل نہیں ہوں جس کو سیکھنا ہے میرے ساتھ آ کر ہینڈز آن ایکسپیرینس کرے . Muhammad Imran
    0 Commentarios 0 Acciones 130 Views
Resultados de la búsqueda