• **وزیر اعظم کا خطاب: پاکستان کو AI-First قوم قرار دینا**

    میرے عزیز ہم وطنوں،

    السلام علیکم،

    آج میں آپ کے سامنے ایک ویژن کے ساتھ کھڑا ہوں جو ہمارے پیارے ملک کو جدیدیت، ترقی، اور خوشحالی کا مینار بنا دے گا۔ یہ بڑے فخر اور امید کے ساتھ ہے کہ میں پاکستان کو AI-First قوم قرار دیتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو ہمارے مستقبل کی تشکیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائے گا، اور ہمیں عالمی تکنیکی انقلاب کے مرکز میں رکھے گا۔

    اس بلند نظر منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے، مجھے خوشی ہے کہ میں وزارتِ مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ وزارت ہمارے معاشرت، معیشت، اور حکومت کے ہر پہلو میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی ہماری کوششوں کی قیادت کرے گی۔

    AI-First قوم بننے کے فوائد وسیع اور دور رس ہیں:

    1. **تعلیم اور مہارت کی ترقی**: اس وقت، ہمارے لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ AI تعلیم کو انقلاب کی صورت میں تبدیل کر سکتا ہے، ذاتی تعلیم کے تجربات فراہم کرکے اور ہر پاکستانی بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کر کے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا فائدہ اٹھا کر، ہم یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے، اور وہ مستقبل کی مہارتوں سے لیس ہو۔

    - AI کی وزارت پاکستان کے ہر شہری کو موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور انٹرنیٹ تک رسائی جیسے ضروری ہارڈویئر فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔ یہ ڈیجیٹل خلا کو ختم کرے گا اور ہر ایک کو ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرے گا۔

    - ہم ایک قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کا پروگرام شروع کریں گے تاکہ ہر اسکول کا ہر استاد AI کو پڑھانے اور استعمال کرنے کے قابل ہو۔ یہ ہمارے معلمین کو اپنے کلاس رومز میں AI کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے تیار کرے گا۔ تربیت سب سے پہلے پاکستان کے 2.2 ملین اساتذہ اور ہمارے 7ویں جماعت کے بچوں سے شروع ہوگی، تاکہ وہ دوسروں کی تربیت کے لیے محرک بن سکیں۔

    - AI کو ہمارے ملک کے تمام اسکولوں میں 7ویں جماعت میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں یہ ایک تدریسی معاون کے طور پر کام کرے گا، اور طلباء کے سیکھنے کے تجربے کو بڑھائے گا۔ یہ ابتدائی نمائش ہمارے بچوں کو کم عمری میں ہی AI میں ماہر بننے میں مدد دے گی۔

    2. **روزگار کے مواقع**: ہماری قوم کو بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا ہے۔ AI کو اپنا کر، ہم AI کی ترقی، ڈیٹا تجزیہ، اور دیگر ٹیک سے متعلقہ شعبوں میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، AI ہمارے لوگوں کو عالمی سطح پر کام تلاش کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہمارے باصلاحیت نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے اپنے گھروں سے ہی ریموٹ جاب حاصل کر سکیں گے، اس طرح بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔

    3. **معاشی ترقی**: اس وقت لاکھوں پاکستانی اکاؤنٹنٹ اور دیگر کمپیوٹر سے متعلقہ نوکریوں میں کام کر رہے ہیں۔ AI-First قوم بن کر، ہم وزارتِ ریموٹ جابز قائم کریں گے، جو ہمارے ماہر پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر آن لائن مقامات پر تعینات کرنے میں معاون ہوگی۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی 10 گنا بڑھ جائے گی بلکہ ہماری معیشت میں بہت ضروری غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا۔

    4. **صحت کی دیکھ بھال**: AI ہمارے صحت کے نظام میں انقلاب برپا کرے گا، تشخیص، علاج کے منصوبوں، اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنائے گا۔ AI کی مدد سے، ہم اپنے دیہی اور محروم آبادیوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، اور ایک صحت مند قوم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

    5. **زراعت**: AI سے چلنے والی ٹیکنالوجیز ہماری زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گی، فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنائیں گی، ضیاع کو کم کریں گی، اور سپلائی چین کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ اس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

    6. **حکومت اور عوامی خدمات**: AI ہمیں زیادہ موثر اور شفاف عوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔ انتظامی عمل کو ہموار کرنے سے لے کر بدعنوانی سے لڑنے تک، AI ہمارے حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بڑھائے گا۔

    7. **حفاظت اور سیکیورٹی**: AI ہماری قومی سلامتی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے، ہماری نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے، مجرمانہ سرگرمیوں کی پیش گوئی اور روک تھام کر سکتا ہے، اور ہمارے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے۔

    8. **جدت اور تحقیق**: AI تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کر کے، ہم پاکستان کو تکنیکی جدت میں عالمی رہنما کے طور پر متعین کریں گے۔ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تعاون کو متوجہ کیا جائے گا، اور ہماری معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔

    9. **فی کس آمدنی اور GDP میں اضافہ**: ان اقدامات کو نافذ کرنے سے، ہم اگلے پانچ سالوں میں اپنی فی کس آمدنی میں 30% اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہماری GDP سالانہ 2% اضافی بڑھنے کی توقع ہے، جس سے ایک زیادہ خوشحال اور مستحکم معیشت حاصل ہوگی۔

    10. **عالمی مسابقت**: AI کو اپنانے سے ہماری عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، پاکستان کو ٹیک کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مقام بنایا جائے گا۔ اس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کو بڑھایا جائے گا۔

    آخر میں، AI-First قوم بن کر، ہم نہ صرف مستقبل کو اپنا رہے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر پاکستانی کو عالمی معیشت میں ترقی کرنے کا موقع ملے۔ یہ منصوبہ ہماری معاشرت کو تبدیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بلند کرے گا، اور ہماری قوم کو خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔

    آئیے، ہم مل کر جدت اور ترقی کے اس سفر پر نکلیں۔ آئیے، ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں۔ پاکستان زندہ باد!

    شکریہ۔
    **وزیر اعظم کا خطاب: پاکستان کو AI-First قوم قرار دینا** میرے عزیز ہم وطنوں، السلام علیکم، آج میں آپ کے سامنے ایک ویژن کے ساتھ کھڑا ہوں جو ہمارے پیارے ملک کو جدیدیت، ترقی، اور خوشحالی کا مینار بنا دے گا۔ یہ بڑے فخر اور امید کے ساتھ ہے کہ میں پاکستان کو AI-First قوم قرار دیتا ہوں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو ہمارے مستقبل کی تشکیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائے گا، اور ہمیں عالمی تکنیکی انقلاب کے مرکز میں رکھے گا۔ اس بلند نظر منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے، مجھے خوشی ہے کہ میں وزارتِ مصنوعی ذہانت کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ وزارت ہمارے معاشرت، معیشت، اور حکومت کے ہر پہلو میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی ہماری کوششوں کی قیادت کرے گی۔ AI-First قوم بننے کے فوائد وسیع اور دور رس ہیں: 1. **تعلیم اور مہارت کی ترقی**: اس وقت، ہمارے لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ AI تعلیم کو انقلاب کی صورت میں تبدیل کر سکتا ہے، ذاتی تعلیم کے تجربات فراہم کرکے اور ہر پاکستانی بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کر کے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا فائدہ اٹھا کر، ہم یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے، اور وہ مستقبل کی مہارتوں سے لیس ہو۔ - AI کی وزارت پاکستان کے ہر شہری کو موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور انٹرنیٹ تک رسائی جیسے ضروری ہارڈویئر فراہم کرنے میں معاون ہوگی۔ یہ ڈیجیٹل خلا کو ختم کرے گا اور ہر ایک کو ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرے گا۔ - ہم ایک قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کا پروگرام شروع کریں گے تاکہ ہر اسکول کا ہر استاد AI کو پڑھانے اور استعمال کرنے کے قابل ہو۔ یہ ہمارے معلمین کو اپنے کلاس رومز میں AI کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے تیار کرے گا۔ تربیت سب سے پہلے پاکستان کے 2.2 ملین اساتذہ اور ہمارے 7ویں جماعت کے بچوں سے شروع ہوگی، تاکہ وہ دوسروں کی تربیت کے لیے محرک بن سکیں۔ - AI کو ہمارے ملک کے تمام اسکولوں میں 7ویں جماعت میں متعارف کرایا جائے گا، جہاں یہ ایک تدریسی معاون کے طور پر کام کرے گا، اور طلباء کے سیکھنے کے تجربے کو بڑھائے گا۔ یہ ابتدائی نمائش ہمارے بچوں کو کم عمری میں ہی AI میں ماہر بننے میں مدد دے گی۔ 2. **روزگار کے مواقع**: ہماری قوم کو بے روزگاری کے چیلنج کا سامنا ہے۔ AI کو اپنا کر، ہم AI کی ترقی، ڈیٹا تجزیہ، اور دیگر ٹیک سے متعلقہ شعبوں میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، AI ہمارے لوگوں کو عالمی سطح پر کام تلاش کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہمارے باصلاحیت نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے اپنے گھروں سے ہی ریموٹ جاب حاصل کر سکیں گے، اس طرح بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔ 3. **معاشی ترقی**: اس وقت لاکھوں پاکستانی اکاؤنٹنٹ اور دیگر کمپیوٹر سے متعلقہ نوکریوں میں کام کر رہے ہیں۔ AI-First قوم بن کر، ہم وزارتِ ریموٹ جابز قائم کریں گے، جو ہمارے ماہر پیشہ ور افراد کو عالمی سطح پر آن لائن مقامات پر تعینات کرنے میں معاون ہوگی۔ اس سے نہ صرف ان کی آمدنی 10 گنا بڑھ جائے گی بلکہ ہماری معیشت میں بہت ضروری غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا۔ 4. **صحت کی دیکھ بھال**: AI ہمارے صحت کے نظام میں انقلاب برپا کرے گا، تشخیص، علاج کے منصوبوں، اور مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنائے گا۔ AI کی مدد سے، ہم اپنے دیہی اور محروم آبادیوں کو بہتر صحت کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، اور ایک صحت مند قوم کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ 5. **زراعت**: AI سے چلنے والی ٹیکنالوجیز ہماری زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گی، فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنائیں گی، ضیاع کو کم کریں گی، اور سپلائی چین کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ اس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ 6. **حکومت اور عوامی خدمات**: AI ہمیں زیادہ موثر اور شفاف عوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔ انتظامی عمل کو ہموار کرنے سے لے کر بدعنوانی سے لڑنے تک، AI ہمارے حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بڑھائے گا۔ 7. **حفاظت اور سیکیورٹی**: AI ہماری قومی سلامتی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے، ہماری نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے، مجرمانہ سرگرمیوں کی پیش گوئی اور روک تھام کر سکتا ہے، اور ہمارے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے۔ 8. **جدت اور تحقیق**: AI تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کر کے، ہم پاکستان کو تکنیکی جدت میں عالمی رہنما کے طور پر متعین کریں گے۔ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تعاون کو متوجہ کیا جائے گا، اور ہماری معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔ 9. **فی کس آمدنی اور GDP میں اضافہ**: ان اقدامات کو نافذ کرنے سے، ہم اگلے پانچ سالوں میں اپنی فی کس آمدنی میں 30% اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہماری GDP سالانہ 2% اضافی بڑھنے کی توقع ہے، جس سے ایک زیادہ خوشحال اور مستحکم معیشت حاصل ہوگی۔ 10. **عالمی مسابقت**: AI کو اپنانے سے ہماری عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، پاکستان کو ٹیک کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مقام بنایا جائے گا۔ اس سے مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کو بڑھایا جائے گا۔ آخر میں، AI-First قوم بن کر، ہم نہ صرف مستقبل کو اپنا رہے ہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر پاکستانی کو عالمی معیشت میں ترقی کرنے کا موقع ملے۔ یہ منصوبہ ہماری معاشرت کو تبدیل کرے گا، ہمارے لوگوں کو بلند کرے گا، اور ہماری قوم کو خوشحالی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ آئیے، ہم مل کر جدت اور ترقی کے اس سفر پر نکلیں۔ آئیے، ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں۔ پاکستان زندہ باد! شکریہ۔
    0 Commentaires 0 Parts 504 Vue
  • اسٹارٹ اپ کیا ہوتا ہے — اور یہ مسائل کیسے حل کرتا ہے

    اسٹارٹ اپ کوئی چھوٹی دکان نہیں ہوتی،
    اور نہ ہی یہ صرف پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ ہے۔

    اسٹارٹ اپ دراصل مسئلہ حل کرنے والی کمپنی ہوتی ہے—
    ایسی کمپنی جو کسی روزمرہ مسئلے کو
    ٹیکنالوجی، نئے طریقے اور تیز رفتار سوچ سے حل کرتی ہے۔

    جہاں مسئلہ بڑا ہو،
    وہاں اسٹارٹ اپ کی گنجائش بھی بڑی ہوتی ہے۔



    اسٹارٹ اپ کیسے جنم لیتا ہے

    ہر اسٹارٹ اپ ایک سوال سے شروع ہوتا ہے:

    “لوگوں کو سب سے زیادہ تکلیف کس بات سے ہے؟”

    پھر بانی (Founder):
    • مسئلے کو سمجھتا ہے
    • سادہ حل بناتا ہے
    • تھوڑے وسائل سے آغاز کرتا ہے
    • صارفین سے سیکھتا ہے
    • حل کو بہتر بناتا ہے

    اس پورے عمل میں:
    • ناکامی آتی ہے
    • غلطیاں ہوتی ہیں
    • مگر سیکھنا رکتا نہیں

    اسی کو اسٹارٹ اپ مائنڈ سیٹ کہتے ہیں۔



    اسٹارٹ اپ مسائل کیسے حل کرتے ہیں

    اسٹارٹ اپ:
    • سست نظام کو تیز کرتے ہیں
    • مہنگے حل کو سستا کرتے ہیں
    • مشکل کام کو آسان بناتے ہیں
    • طاقت کو عام آدمی تک پہنچاتے ہیں

    یہ:
    • حکومت کا متبادل نہیں بنتے
    • مگر حکومت کے بوجھ کو کم کرتے ہیں



    پاکستان کے کامیاب اسٹارٹ اپس — زندہ مثالیں

    Careem
    مسئلہ:
    محفوظ، قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ کی کمی

    حل:
    ایک ایپ کے ذریعے گاڑی، روزگار اور اعتماد

    نتیجہ:
    • لاکھوں لوگوں کو روزگار
    • پاکستان کا پہلا یونیکورن اسٹارٹ اپ



    Easypaisa
    مسئلہ:
    بینک اکاؤنٹ نہ ہونے کی وجہ سے مالی محرومی

    حل:
    موبائل فون کے ذریعے پیسے بھیجنا، لینا، بل ادا کرنا

    نتیجہ:
    • کروڑوں لوگ مالی نظام میں شامل
    • ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد



    Bykea
    مسئلہ:
    مہنگی اور سست شہروں کی ٹرانسپورٹ

    حل:
    موٹر بائیک پر سستا، تیز سفر اور ڈیلیوری

    نتیجہ:
    • نوجوانوں کے لیے کم لاگت روزگار
    • شہری مسائل میں کمی



    Taleemabad (EdTech)
    مسئلہ:
    معیاری تعلیم تک عدم رسائی

    حل:
    ڈیجیٹل مواد، اساتذہ کی تربیت، جدید طریقے

    نتیجہ:
    • لاکھوں بچوں تک تعلیم
    • تعلیمی نظام میں جدت



    Airlift (ایک سبق)
    مسئلہ:
    گروسری اور لاجسٹکس

    سبق:
    صرف تیزی نہیں، پائیدار ماڈل ضروری ہے

    ناکامی بھی اسٹارٹ اپ کلچر کا حصہ ہے—
    یہ سکھاتی ہے کہ کیا نہیں کرنا۔



    پاکستان کو اسٹارٹ اپس کیوں چاہئیں

    پاکستان کے مسائل:
    • تعلیم
    • صحت
    • روزگار
    • زراعت
    • توانائی
    • گورننس

    یہ مسائل:
    • صرف نعروں سے حل نہیں ہوتے
    • حل بنانے والوں سے حل ہوتے ہیں

    اسٹارٹ اپ:
    • نوکری ڈھونڈنے والے نہیں
    • نوکری بنانے والے پیدا کرتے ہیں



    اسٹارٹ اپ اور روایتی کاروبار میں فرق

    روایتی کاروبار:
    • ایک جگہ محدود
    • آہستہ بڑھتا ہے

    اسٹارٹ اپ:
    • تیزی سے پھیلتا ہے
    • ٹیکنالوجی پر چلتا ہے
    • لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے



    قوم سازی میں اسٹارٹ اپ کا کردار

    ایک مضبوط اسٹارٹ اپ:
    • ہزاروں نوکریاں پیدا کرتا ہے
    • نئی انڈسٹری بناتا ہے
    • ملک کا امیج بدلتا ہے
    • مسائل کو مواقع میں بدلتا ہے



    آخری بات

    اسٹارٹ اپ پیسے سے شروع نہیں ہوتا۔
    یہ درد کی سمجھ سے شروع ہوتا ہے۔

    جب نوجوان یہ سیکھ لیتے ہیں کہ:
    • مسئلہ کیسے دیکھنا ہے
    • اور حل کیسے بنانا ہے

    تو ملک:
    • شکایت نہیں
    • حل ایکسپورٹ کرتا ہے۔

    پاکستان کا مستقبل ان ہاتھوں میں ہے
    جو مسائل سے ڈرنے کے بجائے
    انہیں کاروبار میں بدلنا جانتے ہیں۔
    اسٹارٹ اپ کیا ہوتا ہے — اور یہ مسائل کیسے حل کرتا ہے اسٹارٹ اپ کوئی چھوٹی دکان نہیں ہوتی، اور نہ ہی یہ صرف پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ ہے۔ اسٹارٹ اپ دراصل مسئلہ حل کرنے والی کمپنی ہوتی ہے— ایسی کمپنی جو کسی روزمرہ مسئلے کو ٹیکنالوجی، نئے طریقے اور تیز رفتار سوچ سے حل کرتی ہے۔ جہاں مسئلہ بڑا ہو، وہاں اسٹارٹ اپ کی گنجائش بھی بڑی ہوتی ہے۔ ⸻ اسٹارٹ اپ کیسے جنم لیتا ہے ہر اسٹارٹ اپ ایک سوال سے شروع ہوتا ہے: “لوگوں کو سب سے زیادہ تکلیف کس بات سے ہے؟” پھر بانی (Founder): • مسئلے کو سمجھتا ہے • سادہ حل بناتا ہے • تھوڑے وسائل سے آغاز کرتا ہے • صارفین سے سیکھتا ہے • حل کو بہتر بناتا ہے اس پورے عمل میں: • ناکامی آتی ہے • غلطیاں ہوتی ہیں • مگر سیکھنا رکتا نہیں اسی کو اسٹارٹ اپ مائنڈ سیٹ کہتے ہیں۔ ⸻ اسٹارٹ اپ مسائل کیسے حل کرتے ہیں اسٹارٹ اپ: • سست نظام کو تیز کرتے ہیں • مہنگے حل کو سستا کرتے ہیں • مشکل کام کو آسان بناتے ہیں • طاقت کو عام آدمی تک پہنچاتے ہیں یہ: • حکومت کا متبادل نہیں بنتے • مگر حکومت کے بوجھ کو کم کرتے ہیں ⸻ پاکستان کے کامیاب اسٹارٹ اپس — زندہ مثالیں 🚕 Careem مسئلہ: محفوظ، قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ کی کمی حل: ایک ایپ کے ذریعے گاڑی، روزگار اور اعتماد نتیجہ: • لاکھوں لوگوں کو روزگار • پاکستان کا پہلا یونیکورن اسٹارٹ اپ ⸻ 💳 Easypaisa مسئلہ: بینک اکاؤنٹ نہ ہونے کی وجہ سے مالی محرومی حل: موبائل فون کے ذریعے پیسے بھیجنا، لینا، بل ادا کرنا نتیجہ: • کروڑوں لوگ مالی نظام میں شامل • ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ⸻ 🛵 Bykea مسئلہ: مہنگی اور سست شہروں کی ٹرانسپورٹ حل: موٹر بائیک پر سستا، تیز سفر اور ڈیلیوری نتیجہ: • نوجوانوں کے لیے کم لاگت روزگار • شہری مسائل میں کمی ⸻ 📚 Taleemabad (EdTech) مسئلہ: معیاری تعلیم تک عدم رسائی حل: ڈیجیٹل مواد، اساتذہ کی تربیت، جدید طریقے نتیجہ: • لاکھوں بچوں تک تعلیم • تعلیمی نظام میں جدت ⸻ ⚠️ Airlift (ایک سبق) مسئلہ: گروسری اور لاجسٹکس سبق: صرف تیزی نہیں، پائیدار ماڈل ضروری ہے ناکامی بھی اسٹارٹ اپ کلچر کا حصہ ہے— یہ سکھاتی ہے کہ کیا نہیں کرنا۔ ⸻ پاکستان کو اسٹارٹ اپس کیوں چاہئیں پاکستان کے مسائل: • تعلیم • صحت • روزگار • زراعت • توانائی • گورننس یہ مسائل: • صرف نعروں سے حل نہیں ہوتے • حل بنانے والوں سے حل ہوتے ہیں اسٹارٹ اپ: • نوکری ڈھونڈنے والے نہیں • نوکری بنانے والے پیدا کرتے ہیں ⸻ اسٹارٹ اپ اور روایتی کاروبار میں فرق روایتی کاروبار: • ایک جگہ محدود • آہستہ بڑھتا ہے اسٹارٹ اپ: • تیزی سے پھیلتا ہے • ٹیکنالوجی پر چلتا ہے • لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے ⸻ قوم سازی میں اسٹارٹ اپ کا کردار ایک مضبوط اسٹارٹ اپ: • ہزاروں نوکریاں پیدا کرتا ہے • نئی انڈسٹری بناتا ہے • ملک کا امیج بدلتا ہے • مسائل کو مواقع میں بدلتا ہے ⸻ آخری بات اسٹارٹ اپ پیسے سے شروع نہیں ہوتا۔ یہ درد کی سمجھ سے شروع ہوتا ہے۔ جب نوجوان یہ سیکھ لیتے ہیں کہ: • مسئلہ کیسے دیکھنا ہے • اور حل کیسے بنانا ہے تو ملک: • شکایت نہیں • حل ایکسپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل ان ہاتھوں میں ہے جو مسائل سے ڈرنے کے بجائے انہیں کاروبار میں بدلنا جانتے ہیں۔
    0 Commentaires 0 Parts 730 Vue
  • Today, the Rehan Team took another meaningful step toward shaping the future of education in Pakistan.

    We had the honor of meeting the dynamic leadership of Bano Qabil, one of Pakistan’s most visionary skill-development and youth-empowerment programs. Under the inspiring leadership of Mr. Shahid Iqbal, the CEO of Bano Qabil, the initiative has trained and transformed thousands of young Pakistanis — empowering them with digital, technical, and entrepreneurial skills to build sustainable futures for themselves and their communities.

    Today, the Rehan Team — including Gulsana Mansha, Maha Khan Graphicswali and Daulat Educationwala — had the privilege of meeting Mr. Shahid Iqbal and his talented colleagues, Mr. Hasib (Head of IT) and the Head of Academics.

    It was an inspiring and productive discussion where we presented the Rehan School Curriculum and our AI-Integrated Teacher Training Program. The Bano Qabil leadership appreciated the innovation and impact potential of our model, showing deep enthusiasm for how AI can redefine learning in Pakistan.

    We are now excited to share that two pilot batches are being planned in collaboration with Bano Qabil, marking the beginning of what we hope will become a long-term, high-impact partnership.

    We eagerly look forward to hosting the Bano Qabil team at our office soon to finalize details and officially begin this joint journey of empowering Pakistan’s teachers, students, and youth through AI-first education.

    آج ریحان ٹیم نے پاکستان کی تعلیم کے مستقبل کی سمت ایک اور اہم قدم بڑھایا۔

    ہمیں بانو قابل کی زبردست ٹیم سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا — ایک ایسی ادارہ جو پاکستان کے نوجوانوں کو جدید مہارتوں اور روزگار کے مواقع سے آراستہ کرنے کے لیے غیر معمولی کام کر رہا ہے۔
    بانو قابل کے باصلاحیت اور وژنری سی ای او جناب شاہد اقبال کی قیادت میں، یہ پروگرام ہزاروں نوجوانوں کو ڈیجیٹل، ٹیکنیکل اور کاروباری صلاحیتیں سکھا کر انہیں خودمختار اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنا رہا ہے۔

    آج ریحان ٹیم — جس میں گل ثنا منشاہ، ماہا خان (گرافکس) اور دولت ایجوکیشن والا شامل تھے — نے جناب شاہد اقبال اور ان کی قابل ٹیم، جناب حسیب (ہیڈ آف آئی ٹی) اور ہیڈ آف اکیڈمکس سے ملاقات کی۔

    یہ ملاقات نہایت مفید، بامقصد اور حوصلہ افزا رہی، جس میں ہم نے ریحان اسکول کے نصاب اور اے آئی سے مربوط اساتذہ کی تربیتی پروگرام کی تفصیلات پیش کیں۔
    بانو قابل کی قیادت نے ہمارے ماڈل میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس کے پاکستان کی تعلیمی نظام پر ممکنہ اثرات کو سراہا۔

    ہمیں خوشی ہے کہ اب ہم دو پائلٹ بیچز شروع کرنے کے امکانات پر مل کر کام کر رہے ہیں — یہ ریحان اسکول اور بانو قابل کے درمیان ایک اہم اشتراک (Partnership) کا آغاز ہے جو ان شاء اللہ پاکستان کے اساتذہ اور طلبہ کو اے آئی فرسٹ ایجوکیشن کے نئے دور میں داخل کرے گا۔

    ہم جلد ہی بانو قابل کی ٹیم کو اپنے دفتر میں خوش آمدید کہنے کے منتظر ہیں تاکہ اس اشتراک کو عملی شکل دی جا سکے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک نئی تاریخ رقم کی جا سکے۔

    #بانو_قابل
    #ریحان_اسکول_سسٹم
    #اساتذہ_کی_تربیت
    #آرٹیفیشل_انٹیلیجنس_تعلیم_میں
    #تعلیمی_اصلاحات
    #شراکت_برائے_ترقی
    #ڈیجیٹل_پاکستان
    #گل_ثنا_منشاہ
    #ماہا_خان
    #دولت_ایجوکیشن_والا
    #ریحان_اللہ_والا



    #BanoQabil
    #RehanSchoolSystem
    #TeachersTraining
    #AIinEducation
    #InnovationInLearning
    #EducationalReform
    #PartnershipForImpact
    #SkillPakistan
    #DigitalPakistan
    #GulsanaMansha
    #MahaKhan
    #DaulatEducationwala
    #RehanAllahwala
    Today, the Rehan Team took another meaningful step toward shaping the future of education in Pakistan. We had the honor of meeting the dynamic leadership of Bano Qabil, one of Pakistan’s most visionary skill-development and youth-empowerment programs. Under the inspiring leadership of Mr. Shahid Iqbal, the CEO of Bano Qabil, the initiative has trained and transformed thousands of young Pakistanis — empowering them with digital, technical, and entrepreneurial skills to build sustainable futures for themselves and their communities. Today, the Rehan Team — including Gulsana Mansha, Maha Khan Graphicswali and Daulat Educationwala — had the privilege of meeting Mr. Shahid Iqbal and his talented colleagues, Mr. Hasib (Head of IT) and the Head of Academics. It was an inspiring and productive discussion where we presented the Rehan School Curriculum and our AI-Integrated Teacher Training Program. The Bano Qabil leadership appreciated the innovation and impact potential of our model, showing deep enthusiasm for how AI can redefine learning in Pakistan. We are now excited to share that two pilot batches are being planned in collaboration with Bano Qabil, marking the beginning of what we hope will become a long-term, high-impact partnership. We eagerly look forward to hosting the Bano Qabil team at our office soon to finalize details and officially begin this joint journey of empowering Pakistan’s teachers, students, and youth through AI-first education. آج ریحان ٹیم نے پاکستان کی تعلیم کے مستقبل کی سمت ایک اور اہم قدم بڑھایا۔ ہمیں بانو قابل کی زبردست ٹیم سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا — ایک ایسی ادارہ جو پاکستان کے نوجوانوں کو جدید مہارتوں اور روزگار کے مواقع سے آراستہ کرنے کے لیے غیر معمولی کام کر رہا ہے۔ بانو قابل کے باصلاحیت اور وژنری سی ای او جناب شاہد اقبال کی قیادت میں، یہ پروگرام ہزاروں نوجوانوں کو ڈیجیٹل، ٹیکنیکل اور کاروباری صلاحیتیں سکھا کر انہیں خودمختار اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنا رہا ہے۔ آج ریحان ٹیم — جس میں گل ثنا منشاہ، ماہا خان (گرافکس) اور دولت ایجوکیشن والا شامل تھے — نے جناب شاہد اقبال اور ان کی قابل ٹیم، جناب حسیب (ہیڈ آف آئی ٹی) اور ہیڈ آف اکیڈمکس سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات نہایت مفید، بامقصد اور حوصلہ افزا رہی، جس میں ہم نے ریحان اسکول کے نصاب اور اے آئی سے مربوط اساتذہ کی تربیتی پروگرام کی تفصیلات پیش کیں۔ بانو قابل کی قیادت نے ہمارے ماڈل میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس کے پاکستان کی تعلیمی نظام پر ممکنہ اثرات کو سراہا۔ ہمیں خوشی ہے کہ اب ہم دو پائلٹ بیچز شروع کرنے کے امکانات پر مل کر کام کر رہے ہیں — یہ ریحان اسکول اور بانو قابل کے درمیان ایک اہم اشتراک (Partnership) کا آغاز ہے جو ان شاء اللہ پاکستان کے اساتذہ اور طلبہ کو اے آئی فرسٹ ایجوکیشن کے نئے دور میں داخل کرے گا۔ ہم جلد ہی بانو قابل کی ٹیم کو اپنے دفتر میں خوش آمدید کہنے کے منتظر ہیں تاکہ اس اشتراک کو عملی شکل دی جا سکے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک نئی تاریخ رقم کی جا سکے۔ #بانو_قابل #ریحان_اسکول_سسٹم #اساتذہ_کی_تربیت #آرٹیفیشل_انٹیلیجنس_تعلیم_میں #تعلیمی_اصلاحات #شراکت_برائے_ترقی #ڈیجیٹل_پاکستان #گل_ثنا_منشاہ #ماہا_خان #دولت_ایجوکیشن_والا #ریحان_اللہ_والا ⸻ #BanoQabil #RehanSchoolSystem #TeachersTraining #AIinEducation #InnovationInLearning #EducationalReform #PartnershipForImpact #SkillPakistan #DigitalPakistan #GulsanaMansha #MahaKhan #DaulatEducationwala #RehanAllahwala
    0 Commentaires 0 Parts 3379 Vue
  • چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور قومی نصاب کونسل کے رکن علی رضا کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ — 17 اکتوبر 2025

    آج محترم علی رضا صاحب، چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل (NCC)، حکومتِ پاکستان نے ریحان اسکول لاہور کا دورہ کیا۔
    اس دورے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح یہ اسکول جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو تدریس کے عمل میں استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں کیا نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔



    پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کیا ہے؟

    پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو پورے ملک کے اسکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں، ٹیچر ٹریننگ سینٹرز، این جی اوز اور پالیسی ساز اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
    اس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، پبلک اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا، اور جدید، ہنرمند اور باوقار تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

    چیئرمین علی رضا کی قیادت میں چیمبر درج ذیل شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے:
    • اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی۔
    • نصاب کی جدید کاری اور عالمی معیار سے ہم آہنگی۔
    • ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا تعلیمی نظام میں انضمام۔
    • نجی و سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور پالیسی تجاویز کی تیاری۔

    چیمبر کے رکن اداروں میں بڑے تعلیمی نیٹ ورکس، ہنر مندی کے ادارے، غیر منافع بخش تنظیمیں، اور ملک بھر کے آزاد اسکول شامل ہیں۔



    علی رضا کا کردار قومی نصاب کی تشکیل میں

    چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ علی رضا نیشنل کریکولم کونسل (NCC) کے رکن بھی ہیں — جو حکومتِ پاکستان کا مرکزی ادارہ ہے جو قومی نصاب کی تیاری، نظرِ ثانی اور معیار بندی کرتا ہے۔

    اس حیثیت میں علی رضا کا کردار شامل ہے:
    • نصاب کے ڈھانچے اور مضامین کی بہتری پر مشاورت۔
    • اسکولوں اور اساتذہ کے زمینی تجربات کو نصاب میں شامل کرنے میں مدد۔
    • تدریسی معیار، سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) اور امتحانی طریقوں پر تجاویز۔
    • نصاب میں ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور مہارت پر مبنی تعلیم کا فروغ۔

    ان کا دوہرا کردار — ایک طرف تعلیمی اداروں کی نمائندگی اور دوسری طرف نصاب سازی میں شمولیت — انہیں پالیسی اور عملی تدریس کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔



    ریحان اسکول لاہور کا دورہ

    آج کے دورے میں علی رضا صاحب نے اسکول کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ سے ملاقات کی۔
    انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح بچے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انگریزی بول چال، اعتماد، تخلیقی اظہار اور تحقیق سیکھ رہے ہیں۔
    اساتذہ نے بتایا کہ AI کے ذریعے وہ ہر طالبعلم کی کارکردگی کو الگ سے سمجھ سکتے ہیں، سبق کو دلچسپ بنا سکتے ہیں، اور کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیئرمین علی رضا نے اسکول کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے ماڈل پاکستان کے دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے عملی مثال بن سکتے ہیں۔
    انہوں نے اس موقع پر اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم، اور نصاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشترکہ منصوبوں کی بات کی۔



    دورے کی اہمیت

    یہ دورہ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
    یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب پالیسی بنانے والے رہنما اور اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔

    یہ دورہ درج ذیل پیغامات دیتا ہے:
    • نصاب اور پالیسی زمینی حقیقت کو دیکھ کر بننی چاہیے۔
    • جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت، اور اعتماد کی تربیت بنیادی کردار رکھتے ہیں۔
    • اسکولوں میں جدت (Innovation) کو صرف سراہا نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلایا جانا چاہیے۔



    آگے کا راستہ

    دورے کے دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور ریحان اسکول آئندہ درج ذیل شعبوں میں باہمی تعاون بڑھائیں گے:
    • اساتذہ کے لیے AI ٹریننگ پروگرام۔
    • ڈیجیٹل نصاب اور لرننگ میٹیریل کی تیاری۔
    • کمیونٹی پر مبنی اسکول ماڈلز کو فروغ دینا۔

    اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ پاکستان میں تعلیم کے نظام کو جدید، منصفانہ اور عالمی معیار کے قریب لے جا سکتے ہیں۔



    اختتامیہ

    محترم علی رضا صاحب — چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل — کا آج کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
    یہ دورہ صرف ملاقات نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب پالیسی ساز، اسکول، اور اساتذہ مل کر ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں۔

    پاکستان کا مستقبل انہی کلاس رومز میں لکھا جا رہا ہے — جہاں بچے سیکھنے کے ساتھ سوچنا، بولنا اور بدلنا بھی سیکھ رہے ہیں۔

    Connect with Ali Raza
    چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور قومی نصاب کونسل کے رکن علی رضا کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ — 17 اکتوبر 2025 آج محترم علی رضا صاحب، چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل (NCC)، حکومتِ پاکستان نے ریحان اسکول لاہور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح یہ اسکول جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کو تدریس کے عمل میں استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں کیا نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ⸻ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کیا ہے؟ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو پورے ملک کے اسکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں، ٹیچر ٹریننگ سینٹرز، این جی اوز اور پالیسی ساز اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، پبلک اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا، اور جدید، ہنرمند اور باوقار تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ چیئرمین علی رضا کی قیادت میں چیمبر درج ذیل شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے: • اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی۔ • نصاب کی جدید کاری اور عالمی معیار سے ہم آہنگی۔ • ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا تعلیمی نظام میں انضمام۔ • نجی و سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور پالیسی تجاویز کی تیاری۔ چیمبر کے رکن اداروں میں بڑے تعلیمی نیٹ ورکس، ہنر مندی کے ادارے، غیر منافع بخش تنظیمیں، اور ملک بھر کے آزاد اسکول شامل ہیں۔ ⸻ علی رضا کا کردار قومی نصاب کی تشکیل میں چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ علی رضا نیشنل کریکولم کونسل (NCC) کے رکن بھی ہیں — جو حکومتِ پاکستان کا مرکزی ادارہ ہے جو قومی نصاب کی تیاری، نظرِ ثانی اور معیار بندی کرتا ہے۔ اس حیثیت میں علی رضا کا کردار شامل ہے: • نصاب کے ڈھانچے اور مضامین کی بہتری پر مشاورت۔ • اسکولوں اور اساتذہ کے زمینی تجربات کو نصاب میں شامل کرنے میں مدد۔ • تدریسی معیار، سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) اور امتحانی طریقوں پر تجاویز۔ • نصاب میں ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور مہارت پر مبنی تعلیم کا فروغ۔ ان کا دوہرا کردار — ایک طرف تعلیمی اداروں کی نمائندگی اور دوسری طرف نصاب سازی میں شمولیت — انہیں پالیسی اور عملی تدریس کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔ ⸻ ریحان اسکول لاہور کا دورہ آج کے دورے میں علی رضا صاحب نے اسکول کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ انہیں دکھایا گیا کہ کس طرح بچے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انگریزی بول چال، اعتماد، تخلیقی اظہار اور تحقیق سیکھ رہے ہیں۔ اساتذہ نے بتایا کہ AI کے ذریعے وہ ہر طالبعلم کی کارکردگی کو الگ سے سمجھ سکتے ہیں، سبق کو دلچسپ بنا سکتے ہیں، اور کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ چیئرمین علی رضا نے اسکول کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے ماڈل پاکستان کے دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے عملی مثال بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم، اور نصاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشترکہ منصوبوں کی بات کی۔ ⸻ دورے کی اہمیت یہ دورہ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب پالیسی بنانے والے رہنما اور اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ یہ دورہ درج ذیل پیغامات دیتا ہے: • نصاب اور پالیسی زمینی حقیقت کو دیکھ کر بننی چاہیے۔ • جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت، اور اعتماد کی تربیت بنیادی کردار رکھتے ہیں۔ • اسکولوں میں جدت (Innovation) کو صرف سراہا نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلایا جانا چاہیے۔ ⸻ آگے کا راستہ دورے کے دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور ریحان اسکول آئندہ درج ذیل شعبوں میں باہمی تعاون بڑھائیں گے: • اساتذہ کے لیے AI ٹریننگ پروگرام۔ • ڈیجیٹل نصاب اور لرننگ میٹیریل کی تیاری۔ • کمیونٹی پر مبنی اسکول ماڈلز کو فروغ دینا۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ پاکستان میں تعلیم کے نظام کو جدید، منصفانہ اور عالمی معیار کے قریب لے جا سکتے ہیں۔ ⸻ اختتامیہ محترم علی رضا صاحب — چیئرمین پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن اور رکن نیشنل کریکولم کونسل — کا آج کا ریحان اسکول لاہور کا دورہ ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دورہ صرف ملاقات نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب پالیسی ساز، اسکول، اور اساتذہ مل کر ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں۔ پاکستان کا مستقبل انہی کلاس رومز میں لکھا جا رہا ہے — جہاں بچے سیکھنے کے ساتھ سوچنا، بولنا اور بدلنا بھی سیکھ رہے ہیں۔ Connect with Ali Raza
    0 Commentaires 0 Parts 469 Vue