• انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد

    مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی،

    صفحات:48، قیمت:100 روپے

    یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

    انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

    Iqbal Khursheed Thank you
    انٹرنیٹ اور اِس کے فوائد مصنف: ریحان اللہ والا،ناشر: رہبر پبلشرز، کراچی، صفحات:48، قیمت:100 روپے یہ کتاب، بلکہ کتابچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ، ریحان اللہ والا کی کاوش ہے۔ ریحان امریکا میں ٹیلی فون کمپنیز کو سافٹ ویئر سروسز فراہم کرنے والا ایک ادارہ چلاتے ہیں۔ اُنھوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ’’ریحان فائونڈیشن‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی شروع کر رکھا ہے، جو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ چوں کہ مصنف خود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے آدمی ہیں، سو انٹرنیٹ کے فوائد اور اثرات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کی کوشش کی، نتیجہ کتاب کی صورت سامنے آیا۔ یہ کتاب مختصر ضرور ہے، مگر دل چسپ ہے۔ مصنف نے سادہ پیرایے میں اظہار خیال کیا۔ موضوع انٹرنیٹ ہے، سو انگریزی الفاظ بھی بہ کثرت ہیں۔ بلاشبہہ زبان کی بہتری کا امکان موجود ہے۔ اشاعت کے معاملے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، البتہ مختصر ہونے کے باوجود یہ کتاب نوجوان نسل، بالخصوص بچوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔ Iqbal Khursheed Thank you
    0 تبصرے 0 شیئرز 579 ویوز
  • میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔
    میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔

    ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟
    اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔
    میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔

    ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا :
    1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے)
    2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے)
    3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات
    4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے)
    5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات
    6) : مذھبی ہم آہنگی
    انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا

    @jan Malik
    میرا نام جان علی ملک ہےاور میں ضلح چکوال کے قصبے میں رہتا ہوں۔میں نے ابھی (آی- سی- ایس) مکمل کیا ہے اور اب بی اس (سی ایس) میں داخلہ لینا ہے۔ میرے والد صاحب کے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کے وسائل کی کمی اتنی مہلک نہیں ہے جتنی کے معلومات کی کمی۔ ایک مخلص دوست کی مدد سے میری رسائی فیس بک پر ریحان اللہ والا تک ہوئی۔میں نے انکی پہلی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کے میرے 500 دوستوں کو چرا کے اپنا بنائیں جسکے بدلے میں آپکو لیپ ٹاپ گفٹ کروں گا۔مجھ میں تجسس پیدا ہو گیا ہے اسکی کیا وجہ ہے۔۔۔؟ اُس پوسٹ کے کمنٹ میں ریحان صاحب نے ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا میں نے وہ لنک کھولا اور سننے لگا ۔اس ویڈیو میں ریحان صاحب نے بتایا کے میں نے 7 سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کے 5000 پروفیشنل لوگوں کو دوست بنایا ہے اگر کوئی میرے ان پانچ ہزار دوستوں میں سے پانچ سو کو اپنا میوچل دوست بناے گا اور روزانہ چند سے بات چیت کرے گا اُسکی زندگی میں تبدیلی ہونا شروع ہو جاے گی ۔ میں نے بھی اس ویڈیو کے بعد فیصلہ کیا کے میں بھی ان عظیم لوگوں میں سے جتنوں کو ممکن ہوا دوست بناوں گا۔اب میرے تقریباَ تین سو دوست ہو چکے ہیں۔ میں 25 سے 30 لوگوں سے رابطے میں ہوں۔ ان عظیم دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا : 1) : خود اعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا (یہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے) 2) : خوشگوار زندگی (آپ معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں،،،اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دوسروں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے) 3) : جدید ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات 4) : آن لائن ارننگ (فری لانس ، فاریکس ٹریڈنگ ، فائیور ،وغیرہ سے روشناس ہوے) 5) : بیرونِ ملک کی تعلمی معلومات 6) : مذھبی ہم آہنگی انشاء اللہ اور بھی دوستوں سے بہت کچھ ملے گا،، میں شکریہ ادا کرتا ہوں ریحان اللہ والا کا جنکی وجہ سے میں ان عظیم لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔۔۔۔اور اتنا کچھ سیکھنے کو ملا @jan Malik
    0 تبصرے 0 شیئرز 324 ویوز
  • "پیشں گوئی کی گئی ہے کہ اگلے آٹھ سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔ پورے خطے کا نظام نقل و حمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی ۔ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو ااختیار کرنے میں دیر کی ۔خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ ا پنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوں پرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔. موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی۔
    اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔
    پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس طرح تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے ۔ افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔ اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاںطویل فاصلے طے کر سکتی ہیں او ر بیٹری کو با ر بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔ گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔ برقی موٹرگاڑیاں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوںکلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کا فی تیزی سے کم ہو رہی ہیں --
    2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,000امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گا ڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔ چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔

    ڈاکٹر عطاء الرحمٰن"

    Courtesy: Abdul Qayyum Tahir
    "پیشں گوئی کی گئی ہے کہ اگلے آٹھ سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔ پورے خطے کا نظام نقل و حمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی ۔ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو ااختیار کرنے میں دیر کی ۔خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ ا پنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوں پرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔. موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی۔ اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔ پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔اس طرح تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے ۔ افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔ اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاںطویل فاصلے طے کر سکتی ہیں او ر بیٹری کو با ر بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔ گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔ برقی موٹرگاڑیاں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوںکلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کا فی تیزی سے کم ہو رہی ہیں -- 2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,000امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گا ڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔ چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن" Courtesy: Abdul Qayyum Tahir
    0 تبصرے 0 شیئرز 273 ویوز
  • ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟

    مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟ مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟
    0 تبصرے 0 شیئرز 417 ویوز
  • کھڑی فصل بے وقت بارش سے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے. یہ ایک زرعی ملک ہے. یہاں بیشتر ممالک سے زیادہ اناج پیدا ہوتا ہے. یہاں زرعی یونیورسٹیاں بھی ہیں اور ٹیکنالوجی کے ادارے بھی. کوئی طریق نہیں وضح کیا جا سکا آج تک کہ
    بدلتے ہوئے موسم میں فصلوں کو کیسے بچایا جائے.

    ایک نوجوان نسل بھی تیار کھڑی ہے. وقت کی روش میں اس
    نسل کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے. یہ ایک گنجان آباد ملک ہے جہاں بیشتر ممالک سے زیادہ انسان پیدا ہوتے ہیں. یہاں کالج یونیورسٹیاں بھی ہیں اور ہیومین ڈیویلپمنٹ کے ادارے بھی. کوئی طریق وضح نہیں کیا جا سکا کہ جوان نسل کو بدلتے وقت کے تقاضوں میں کیسے کار امد شہری بنایا جائے...

    just thinking aloud...

    Via Afshan Huma
    کھڑی فصل بے وقت بارش سے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے. یہ ایک زرعی ملک ہے. یہاں بیشتر ممالک سے زیادہ اناج پیدا ہوتا ہے. یہاں زرعی یونیورسٹیاں بھی ہیں اور ٹیکنالوجی کے ادارے بھی. کوئی طریق نہیں وضح کیا جا سکا آج تک کہ بدلتے ہوئے موسم میں فصلوں کو کیسے بچایا جائے. ایک نوجوان نسل بھی تیار کھڑی ہے. وقت کی روش میں اس نسل کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے. یہ ایک گنجان آباد ملک ہے جہاں بیشتر ممالک سے زیادہ انسان پیدا ہوتے ہیں. یہاں کالج یونیورسٹیاں بھی ہیں اور ہیومین ڈیویلپمنٹ کے ادارے بھی. کوئی طریق وضح نہیں کیا جا سکا کہ جوان نسل کو بدلتے وقت کے تقاضوں میں کیسے کار امد شہری بنایا جائے... just thinking aloud... Via Afshan Huma
    0 تبصرے 0 شیئرز 70 ویوز
  • ‏پلاننگ کر رہے ہیں کہ آموں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے جائیں تاکہ وہ لنگڑے نہ ہوں
    وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
    ‏پلاننگ کر رہے ہیں کہ آموں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے جائیں تاکہ وہ لنگڑے نہ ہوں 😂 وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
    0 تبصرے 0 شیئرز 73 ویوز
  • اَسلَامُ و عَلیکُم وَ رحمتہُ اللّہِ و برکاتهُ ،

    آزاد شاعری بغیر کسی قافیہ اور ردیف یا اردو ادب کے شاعرانہ وزن کی پابندی کے اپنے کزنوں کے نام لکھی تھی چند سال پہلے، آج اچانک فیس بُک پر یاداشت کے طور پر سوچا شئیر کر دیں:

    جو سمارٹ فون کا کبوتر یا اسکی فاختہ نہیں رکھتے
    ایسے کزنوں کا کیا فائدہ جو باہمی رابطہ نہیں رکھتے

    فقط اِک میسیج، اِک ای میل، وٹس ایپ ہو یا ہو سکائپ
    کنجوسی پھر کیوں ہے جب خالی بٹن ہی کرنا ہے ٹائپ

    اب تو فیس بک سے بھی رابطہ اور آسان ہے
    میسنجر یوز کرو کہ کوئی اپنا ، یا انجان ہے

    وہ دور جا چکا جب انسان کبوتر کی منتیں کرتا تھا
    ڈاک اورٹیلیگرام کے انتظار میں رہ رہ دن گنتا تھا

    اب آپ کا ادب و آداب اس ٹیکنالوجی سے ظاہر ہے
    جو جو بزرگوں سے سیکھا ہے وہ اندر سے باہر ہے

    اگر یہ سہولت اس وقت کے مجنوں کے ہاتھ ہوتی
    تو میرا دعوٰی ہے لیلی اس سے کبھی بھی نا جدا ہوتی

    ہاتھ آتی یہ شیریں کے تو کرتی فرہاد کو پھرٹیکسٹ
    وہ جان جاتا کہ اب ہم نےکیا سٹیپ لینا ہے پھرنیکسٹ

    اگر یہ جیب میں اپنے رومیو شروع ہی سے رکھتا
    تو بیچارہ جولیٹ کے چکر میں کھجل ہو کہ نا مرتا

    مزاق اپنی جگہ آپ کے لئے سوچنے کا مقام ہے
    کہ رشتے رکھو زندہ یہی اللّہ رسول کا پیغام ہے

    اگر آپ آگاہ رکھتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے
    کہ محبتوں کی شمع ہمیشہ دیر سے پگھلتی ہے

    یہ وقت کے ہتھیار ہے ان سے کچھ بھی کام لو
    وقت کو ضائع کرو یا تبلیغ میں اپنا بھی نام لو

    بس بیٹھے بیٹے لکھ ڈالا جو بھی آمد ہوئی
    دل کی آواز تھی جو جا لفظوں میں جامد ہوئی

    میرزا علی ۔ نیویارک

    Mirza Ali
    اَسلَامُ و عَلیکُم وَ رحمتہُ اللّہِ و برکاتهُ 😊، آزاد شاعری بغیر کسی قافیہ اور ردیف یا اردو ادب کے شاعرانہ وزن کی پابندی کے اپنے کزنوں کے نام لکھی تھی چند سال پہلے، آج اچانک فیس بُک پر یاداشت کے طور پر سوچا شئیر کر دیں: 😃 جو سمارٹ فون کا کبوتر یا اسکی فاختہ نہیں رکھتے ایسے کزنوں کا کیا فائدہ جو باہمی رابطہ نہیں رکھتے فقط اِک میسیج، اِک ای میل، وٹس ایپ ہو یا ہو سکائپ کنجوسی پھر کیوں ہے جب خالی بٹن ہی کرنا ہے ٹائپ اب تو فیس بک سے بھی رابطہ اور آسان ہے میسنجر یوز کرو کہ کوئی اپنا ، یا انجان ہے وہ دور جا چکا جب انسان کبوتر کی منتیں کرتا تھا ڈاک اورٹیلیگرام کے انتظار میں رہ رہ دن گنتا تھا اب آپ کا ادب و آداب اس ٹیکنالوجی سے ظاہر ہے جو جو بزرگوں سے سیکھا ہے وہ اندر سے باہر ہے اگر یہ سہولت اس وقت کے مجنوں کے ہاتھ ہوتی تو میرا دعوٰی ہے لیلی اس سے کبھی بھی نا جدا ہوتی ہاتھ آتی یہ شیریں کے تو کرتی فرہاد کو پھرٹیکسٹ وہ جان جاتا کہ اب ہم نےکیا سٹیپ لینا ہے پھرنیکسٹ اگر یہ جیب میں اپنے رومیو شروع ہی سے رکھتا تو بیچارہ جولیٹ کے چکر میں کھجل ہو کہ نا مرتا مزاق اپنی جگہ آپ کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ رشتے رکھو زندہ یہی اللّہ رسول کا پیغام ہے اگر آپ آگاہ رکھتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ محبتوں کی شمع ہمیشہ دیر سے پگھلتی ہے یہ وقت کے ہتھیار ہے ان سے کچھ بھی کام لو وقت کو ضائع کرو یا تبلیغ میں اپنا بھی نام لو بس بیٹھے بیٹے لکھ ڈالا جو بھی آمد ہوئی دل کی آواز تھی جو جا لفظوں میں جامد ہوئی میرزا علی ۔ نیویارک Mirza Ali
    0 تبصرے 0 شیئرز 231 ویوز
  • How to make this better

    نام ہے ہمارا انسان
    کام ہے ہمارا انسانیت
    عورت ہو, مرد ہو, یا کوئی بھی انسان
    ہماری ذمہداری ہے آپ کی جان
    آپ سے ہیں ہم, آپ سے ہماری پہچان
    ہمارا عزم ہے آپ کی شان
    دو مقاصد ہیں ہمارے
    عزت کی روزی کو کرنا ہے عام
    اور روشن کرنا ہے پاکستان کا نام
    ٹیکنالوجی کو بنانا ہے اپنا ہتھیار
    آپ کے شعور سے کرنا ہے دنیا کو مال و مال
    آپ کی محنت کا پھل لانا ہے آپ کے پاس
    انسانیت کی خاطر بنانی ہے اپنی پہچان
    غربت کی دلدل سے نکلیں گے ہم
    روشن ہوتا دیکھیں گے اپنا یہ چمن
    انسان ہو تم
    انسان ہیں ہم
    مل کر کریں گے
    اس ملک کا کام
    How to make this better نام ہے ہمارا انسان کام ہے ہمارا انسانیت عورت ہو, مرد ہو, یا کوئی بھی انسان ہماری ذمہداری ہے آپ کی جان آپ سے ہیں ہم, آپ سے ہماری پہچان ہمارا عزم ہے آپ کی شان دو مقاصد ہیں ہمارے عزت کی روزی کو کرنا ہے عام اور روشن کرنا ہے پاکستان کا نام ٹیکنالوجی کو بنانا ہے اپنا ہتھیار آپ کے شعور سے کرنا ہے دنیا کو مال و مال آپ کی محنت کا پھل لانا ہے آپ کے پاس انسانیت کی خاطر بنانی ہے اپنی پہچان غربت کی دلدل سے نکلیں گے ہم روشن ہوتا دیکھیں گے اپنا یہ چمن انسان ہو تم انسان ہیں ہم مل کر کریں گے اس ملک کا کام
    0 تبصرے 0 شیئرز 96 ویوز
  • غربت کی دلدل سے نکلیں گے
    ہنر سیکھیں گے سکھائیں گے
    اس موبائل فون کو اب ہم
    اپنی طاقت بنائیں گے
    بدلیں گے بس خود کو اب
    کسی اور اوڑھ نہ دیکھیں گے
    ۔
    ۔
    روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان
    ہم ہیں انسان
    ہماری انسانیت پہچان
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔

    ہمارا نظریہ ٹیکنالوجی
    ہمارا ہتھیار ٹیکنالوجی
    شعور کا سکہ چلے گا
    ہماری پہچان بنے گی ٹیکنالوجی
    اپنے ملک کو سب مل کر ڈیجیٹلئ آگے بڑھائیں گے
    جی۔10 کی لسٹ میں ہمیں شامل کرے گی ٹیکنالوجی

    روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان
    ہم ہیں انسان
    ہماری انسانیت پہچان
    غربت کی دلدل سے نکلیں گے ہنر سیکھیں گے سکھائیں گے اس موبائل فون کو اب ہم اپنی طاقت بنائیں گے بدلیں گے بس خود کو اب کسی اور اوڑھ نہ دیکھیں گے ۔ ۔ روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان ہم ہیں انسان ہماری انسانیت پہچان ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا نظریہ ٹیکنالوجی ہمارا ہتھیار ٹیکنالوجی شعور کا سکہ چلے گا ہماری پہچان بنے گی ٹیکنالوجی اپنے ملک کو سب مل کر ڈیجیٹلئ آگے بڑھائیں گے جی۔10 کی لسٹ میں ہمیں شامل کرے گی ٹیکنالوجی روشن کریں گے نام اپنے وطن کا کہتے ہیں جس کو پاکستان ہم ہیں انسان ہماری انسانیت پہچان
    0 تبصرے 0 شیئرز 189 ویوز
  • Rehan Allahwala
    ریحان اللہ والا ایک سوشل ورکر ، پاکستان میں جدت متعارف کروانے والے انسان ہیں کچھ روز قبل ان کی اور ان کی ٹیم کے ساتھ مختصر سا تعارف ہوا پر ان پر کافی ریسرچ کی تو ان کے مشن کی سمجھ آئی
    ریحان اللہ والا کہتے ہیں کہ آپ غریبوں کو ماہانہ راشن ، کھانا دے کر ان کو اور ان کی پوری نسلوں کو فقیر اور محتاج بنا رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ ان سے بھلائی کرتے کرتے ان کی نسلوں میں نکھٹو اور ہڈحرام پیدا کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ جس رقم سے انہیں کھانا اور راشن دیتے ہیں اس رقم سے ایک خاندان کی بیٹی بیٹا مرد عورت کسی ایک فرد کو ٹیکنالوجی یا کوئی ہنر سیکھا دیں کوئی کورس کروا دیں کچھ ماہ بعد وہ خاندان اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے گا ان کا ماننا ہے کہ جس شخص کو بیٹھے بیٹھائے نوالہ مل جائے وہ کبھی خود کمانے کی کوشش نہیں کرتا ۔بےشک ہماری فاونڈیشن بھی سینکڑوں گھروں کو ماہانہ راشن تقسیم کرتی ہے لیکن اس سے میرا شروع سے ہی اختلاف تھا کہ آپ ماہانہ راشن ختم کر کے ہر خاندان کے ایک فرد کو کوئی نہ کوئی ہنر کوئی کاروبار بنا دیں تاکہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے اور اسے اس لعنت سے چھٹکارا مل جائے انشاءاللہ رحمت انسانیت فاونڈیشن جلد ہی ایسی حکمت عملی بنائے گی جس سے غربت کو کم کیا جا سکے اور ایسا ماحول بنایا جائے کہ کسی فرد کو کھانے یا راشن کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے
    محمد اویس انجم

    Muhammad Awais Anjum
    Rehan Allahwala ریحان اللہ والا ایک سوشل ورکر ، پاکستان میں جدت متعارف کروانے والے انسان ہیں کچھ روز قبل ان کی اور ان کی ٹیم کے ساتھ مختصر سا تعارف ہوا پر ان پر کافی ریسرچ کی تو ان کے مشن کی سمجھ آئی ریحان اللہ والا کہتے ہیں کہ آپ غریبوں کو ماہانہ راشن ، کھانا دے کر ان کو اور ان کی پوری نسلوں کو فقیر اور محتاج بنا رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ ان سے بھلائی کرتے کرتے ان کی نسلوں میں نکھٹو اور ہڈحرام پیدا کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ جس رقم سے انہیں کھانا اور راشن دیتے ہیں اس رقم سے ایک خاندان کی بیٹی بیٹا مرد عورت کسی ایک فرد کو ٹیکنالوجی یا کوئی ہنر سیکھا دیں کوئی کورس کروا دیں کچھ ماہ بعد وہ خاندان اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے گا ان کا ماننا ہے کہ جس شخص کو بیٹھے بیٹھائے نوالہ مل جائے وہ کبھی خود کمانے کی کوشش نہیں کرتا ۔بےشک ہماری فاونڈیشن بھی سینکڑوں گھروں کو ماہانہ راشن تقسیم کرتی ہے لیکن اس سے میرا شروع سے ہی اختلاف تھا کہ آپ ماہانہ راشن ختم کر کے ہر خاندان کے ایک فرد کو کوئی نہ کوئی ہنر کوئی کاروبار بنا دیں تاکہ وہ اپنے پاوں پر کھڑا ہو جائے اور اسے اس لعنت سے چھٹکارا مل جائے انشاءاللہ رحمت انسانیت فاونڈیشن جلد ہی ایسی حکمت عملی بنائے گی جس سے غربت کو کم کیا جا سکے اور ایسا ماحول بنایا جائے کہ کسی فرد کو کھانے یا راشن کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے محمد اویس انجم Muhammad Awais Anjum
    0 تبصرے 0 شیئرز 342 ویوز
More Results