• 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 16 سالہ ریان مارکیٹنگ والا نے مجھے امید دے دی…

    کل مجھے ایک پیغام ملا۔

    یہ پیغام کسی وزیر، کسی ارب پتی، کسی CEO یا کسی بڑی یونیورسٹی کے طالبعلم نے نہیں لکھا تھا۔

    یہ پیغام ایک 16 سالہ پاکستانی نوجوان، ریان مارکیٹنگ والا نے لکھا تھا۔

    اس نے ریحان اسکول منور کیمپس میں ہونے والے AI Startup Session میں شرکت کی اور پھر لکھا:

    “ہم نے HeyRehan.com، HiRehan.com اور Agent6.net کے بارے میں سیکھا۔ یہ سیشن بہت معلوماتی اور متاثر کن تھا۔”

    میں نے یہ پیغام پڑھا تو دل کے اندر عجیب سی خوشی پیدا ہوئی۔

    کیونکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت نہیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ لاکھوں نوجوانوں کو کبھی یہ احساس ہی نہیں دلایا جاتا کہ وہ بھی کچھ بڑا بنا سکتے ہیں۔

    انہیں بچپن سے بتایا جاتا ہے:

    “اچھی نوکری ڈھونڈو۔”

    لیکن بہت کم لوگ کہتے ہیں:

    “اپنا AI Startup بناؤ۔”

    “دنیا کا مسئلہ حل کرو۔”

    “ایپ بناؤ۔”

    “ویب سائٹ بناؤ۔”

    “ایک ملین لوگوں کی زندگی بدل دو۔”

    جب ایک 16 سالہ بچہ AI، Startup، Technology اور مستقبل کی بات کرتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ پاکستان ابھی زندہ ہے۔

    شاید اگلا بڑا پاکستانی Startup کسی ایئرکنڈیشنڈ یونیورسٹی میں نہیں بنے گا۔

    شاید وہ کسی عام سے کمرے میں بیٹھے ہوئے ایسے ہی نوجوان کے دماغ میں پیدا ہوگا۔

    شاید اگلا ارب ڈالر کا آئیڈیا کسی ایسے بچے کے ذہن میں ہو جس کے گھر میں آج بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہو۔

    اور شاید یہی نوجوان پاکستان کو دنیا کے نقشے پر نئی پہچان دیں گے۔

    ریان بیٹا،

    آپ کے چند الفاظ نے مجھے یاد دلایا کہ ہم ریحان اسکول کیوں بنا رہے ہیں۔

    ہم صرف بچوں کو پڑھانا نہیں چاہتے۔

    ہم ایسے نوجوان بنانا چاہتے ہیں جو AI کے ذریعے دنیا بدلنے کی ہمت رکھتے ہوں۔

    اللہ آپ کو کامیاب کرے۔

    اور اللہ پاکستان کو ایسے لاکھوں نوجوان دے جو خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہمت بھی رکھتے ہوں۔



    — ریحان اللہ والا
    بانی، ریحان اسکول

    #RehanSchool #HeyRehan #HiRehan #Agent6 #Pakistan #AI #StartupPakistan #YouthOfPakistan #LeadershipByDesign #FutureOfPakistan
    16 سالہ ریان مارکیٹنگ والا نے مجھے امید دے دی… کل مجھے ایک پیغام ملا۔ یہ پیغام کسی وزیر، کسی ارب پتی، کسی CEO یا کسی بڑی یونیورسٹی کے طالبعلم نے نہیں لکھا تھا۔ یہ پیغام ایک 16 سالہ پاکستانی نوجوان، ریان مارکیٹنگ والا نے لکھا تھا۔ اس نے ریحان اسکول منور کیمپس میں ہونے والے AI Startup Session میں شرکت کی اور پھر لکھا: “ہم نے HeyRehan.com، HiRehan.com اور Agent6.net کے بارے میں سیکھا۔ یہ سیشن بہت معلوماتی اور متاثر کن تھا۔” میں نے یہ پیغام پڑھا تو دل کے اندر عجیب سی خوشی پیدا ہوئی۔ کیونکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ لاکھوں نوجوانوں کو کبھی یہ احساس ہی نہیں دلایا جاتا کہ وہ بھی کچھ بڑا بنا سکتے ہیں۔ انہیں بچپن سے بتایا جاتا ہے: “اچھی نوکری ڈھونڈو۔” لیکن بہت کم لوگ کہتے ہیں: “اپنا AI Startup بناؤ۔” “دنیا کا مسئلہ حل کرو۔” “ایپ بناؤ۔” “ویب سائٹ بناؤ۔” “ایک ملین لوگوں کی زندگی بدل دو۔” جب ایک 16 سالہ بچہ AI، Startup، Technology اور مستقبل کی بات کرتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ پاکستان ابھی زندہ ہے۔ شاید اگلا بڑا پاکستانی Startup کسی ایئرکنڈیشنڈ یونیورسٹی میں نہیں بنے گا۔ شاید وہ کسی عام سے کمرے میں بیٹھے ہوئے ایسے ہی نوجوان کے دماغ میں پیدا ہوگا۔ شاید اگلا ارب ڈالر کا آئیڈیا کسی ایسے بچے کے ذہن میں ہو جس کے گھر میں آج بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہو۔ اور شاید یہی نوجوان پاکستان کو دنیا کے نقشے پر نئی پہچان دیں گے۔ ریان بیٹا، آپ کے چند الفاظ نے مجھے یاد دلایا کہ ہم ریحان اسکول کیوں بنا رہے ہیں۔ ہم صرف بچوں کو پڑھانا نہیں چاہتے۔ ہم ایسے نوجوان بنانا چاہتے ہیں جو AI کے ذریعے دنیا بدلنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ اللہ آپ کو کامیاب کرے۔ اور اللہ پاکستان کو ایسے لاکھوں نوجوان دے جو خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہمت بھی رکھتے ہوں۔ ❤️🇵🇰🚀 — ریحان اللہ والا بانی، ریحان اسکول #RehanSchool #HeyRehan #HiRehan #Agent6 #Pakistan #AI #StartupPakistan #YouthOfPakistan #LeadershipByDesign #FutureOfPakistan
    0 Commentarii 0 Distribuiri 2441 Views
  • پیش لفظ

    گرین اِنکم پاکستان

    پیارے پاکستانی بھائی، بہن، بیٹے اور بیٹی،

    اگر آپ یہ کتاب پڑھ رہے ہیں تو شاید آپ بھی اُن کروڑوں پاکستانیوں میں شامل ہیں جو روز یہ سوچتے ہیں:

    “کاش میری آمدنی تھوڑی زیادہ ہوتی۔”

    “کاش میں اپنے بچوں کو بہتر زندگی دے سکتا۔”

    “کاش مہینے کے آخر میں قرض نہ لینا پڑتا۔”

    “کاش میرے پاس بھی ایک ایسا ذریعہ آمدن ہوتا جو عزت کے ساتھ گھر بیٹھے کمایا جا سکے۔”

    میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔

    میں نے پاکستان کے گاؤں بھی دیکھے ہیں، کچی آبادیاں بھی، چھوٹے گھر بھی، اور وہ مائیں بھی دیکھی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے راتوں کو جاگتی ہیں۔

    میں نے ایسے باپ دیکھے ہیں جو پورا دن محنت کرتے ہیں لیکن پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔

    میں نے ایسے نوجوان دیکھے ہیں جن کے پاس صلاحیت بہت ہے، خواب بہت ہیں، مگر مواقع کم ہیں۔

    اور میں نے ایک چیز اور دیکھی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتیں دی ہیں۔

    دھوپ دی ہے۔

    زمین دی ہے۔

    بارش دی ہے۔

    درخت دیے ہیں۔

    پودے دیے ہیں۔

    بیج دیے ہیں۔

    لیکن ہم نے ان نعمتوں کو آمدنی میں تبدیل کرنا نہیں سیکھا۔

    آج پاکستان کے لاکھوں گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں خالی پڑی ہیں۔

    بالکونیاں خالی پڑی ہیں۔

    صحن خالی پڑے ہیں۔

    دیواریں خالی پڑی ہیں۔

    اور انہی خالی جگہوں میں ہزاروں روپے نہیں، لاکھوں روپے چھپے ہوئے ہیں۔

    یہ کتاب صرف ایک کتاب نہیں۔

    یہ امید کی کتاب ہے۔

    یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

    یہ اُن ماؤں کے لیے ہے جو گھر بیٹھے عزت کے ساتھ کمانا چاہتی ہیں۔

    یہ اُن طلبہ کے لیے ہے جو تعلیم کے ساتھ آمدنی بھی چاہتے ہیں۔

    یہ اُن بزرگوں کے لیے ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

    یہ اُن نوجوانوں کے لیے ہے جو نوکری ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے ہیں۔

    شاید اس وقت آپ کے بینک اکاؤنٹ میں زیادہ رقم نہ ہو۔

    شاید آپ کے پاس سرمایہ نہ ہو۔

    شاید آپ کے پاس زمین نہ ہو۔

    شاید آپ کے پاس صرف ایک چھت ہو۔

    لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ کتاب مکمل پڑھنے سے پہلے ایک وعدہ کریں۔

    اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آپ اپنی موجودہ حالت کو اپنی قسمت نہیں سمجھیں گے۔

    کیونکہ قسمت اکثر اُس دن بدلنا شروع ہوتی ہے جب انسان ایک نیا خیال سیکھ لیتا ہے۔

    یہ کتاب آپ کو امیر بنانے کا جادوئی نسخہ نہیں دے گی۔

    یہ آپ کو لاٹری جیتنے کا خواب نہیں دکھائے گی۔

    یہ آپ کو راتوں رات کروڑ پتی بنانے کا وعدہ بھی نہیں کرے گی۔

    لیکن یہ کتاب آپ کو ایک راستہ دکھائے گی۔

    ایسا راستہ جس پر چل کر ایک عام پاکستانی خاندان آہستہ آہستہ اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے۔

    ایک پودے سے۔

    پھر دس پودوں سے۔

    پھر سو پودوں سے۔

    پھر ایک چھوٹی نرسری سے۔

    پھر ایک کاروبار سے۔

    اور پھر ایک ایسی زندگی سے جس میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ رہے۔

    میرا خواب ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ کم از کم ایک درخت لگائے۔

    ہر گھر ایک چھوٹی نرسری بنائے۔

    ہر سکول بچوں کو گرین انٹرپرینیورشپ سکھائے۔

    اور ہر خاندان فخر سے کہے:

    “ہم صرف درخت نہیں اُگا رہے، ہم اپنا مستقبل اُگا رہے ہیں۔”

    اگر اس کتاب کے نتیجے میں ایک ماں اپنے بچوں کے لیے بہتر کھانا خرید سکے…

    اگر ایک باپ قرض سے نکل سکے…

    اگر ایک طالب علم اپنی فیس خود ادا کر سکے…

    اگر ایک خاندان غربت سے نکل سکے…

    تو اس کتاب کا مقصد پورا ہو جائے گا۔

    آئیے مل کر پاکستان کو سبز بھی بنائیں اور خوشحال بھی۔

    کیونکہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے۔

    درخت امید دیتے ہیں۔

    درخت روزگار دیتے ہیں۔

    اور کبھی کبھی…

    ایک چھوٹا سا پودا پوری زندگی بدل دیتا ہے۔

    آپ کا بھائی،

    ریحان اللہ والا

    بانی، ریحان اسکول

    بانی، گرین اِنکم پاکستان تحریک

    “آج ایک پودا لگائیں، کل ایک بہتر پاکستان اُگائیں۔”

    Comment Green if you want this book
    پیش لفظ گرین اِنکم پاکستان پیارے پاکستانی بھائی، بہن، بیٹے اور بیٹی، اگر آپ یہ کتاب پڑھ رہے ہیں تو شاید آپ بھی اُن کروڑوں پاکستانیوں میں شامل ہیں جو روز یہ سوچتے ہیں: “کاش میری آمدنی تھوڑی زیادہ ہوتی۔” “کاش میں اپنے بچوں کو بہتر زندگی دے سکتا۔” “کاش مہینے کے آخر میں قرض نہ لینا پڑتا۔” “کاش میرے پاس بھی ایک ایسا ذریعہ آمدن ہوتا جو عزت کے ساتھ گھر بیٹھے کمایا جا سکے۔” میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔ میں نے پاکستان کے گاؤں بھی دیکھے ہیں، کچی آبادیاں بھی، چھوٹے گھر بھی، اور وہ مائیں بھی دیکھی ہیں جو اپنے بچوں کے لیے راتوں کو جاگتی ہیں۔ میں نے ایسے باپ دیکھے ہیں جو پورا دن محنت کرتے ہیں لیکن پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔ میں نے ایسے نوجوان دیکھے ہیں جن کے پاس صلاحیت بہت ہے، خواب بہت ہیں، مگر مواقع کم ہیں۔ اور میں نے ایک چیز اور دیکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتیں دی ہیں۔ دھوپ دی ہے۔ زمین دی ہے۔ بارش دی ہے۔ درخت دیے ہیں۔ پودے دیے ہیں۔ بیج دیے ہیں۔ لیکن ہم نے ان نعمتوں کو آمدنی میں تبدیل کرنا نہیں سیکھا۔ آج پاکستان کے لاکھوں گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں خالی پڑی ہیں۔ بالکونیاں خالی پڑی ہیں۔ صحن خالی پڑے ہیں۔ دیواریں خالی پڑی ہیں۔ اور انہی خالی جگہوں میں ہزاروں روپے نہیں، لاکھوں روپے چھپے ہوئے ہیں۔ یہ کتاب صرف ایک کتاب نہیں۔ یہ امید کی کتاب ہے۔ یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ اُن ماؤں کے لیے ہے جو گھر بیٹھے عزت کے ساتھ کمانا چاہتی ہیں۔ یہ اُن طلبہ کے لیے ہے جو تعلیم کے ساتھ آمدنی بھی چاہتے ہیں۔ یہ اُن بزرگوں کے لیے ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ اُن نوجوانوں کے لیے ہے جو نوکری ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے ہیں۔ شاید اس وقت آپ کے بینک اکاؤنٹ میں زیادہ رقم نہ ہو۔ شاید آپ کے پاس سرمایہ نہ ہو۔ شاید آپ کے پاس زمین نہ ہو۔ شاید آپ کے پاس صرف ایک چھت ہو۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ کتاب مکمل پڑھنے سے پہلے ایک وعدہ کریں۔ اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آپ اپنی موجودہ حالت کو اپنی قسمت نہیں سمجھیں گے۔ کیونکہ قسمت اکثر اُس دن بدلنا شروع ہوتی ہے جب انسان ایک نیا خیال سیکھ لیتا ہے۔ یہ کتاب آپ کو امیر بنانے کا جادوئی نسخہ نہیں دے گی۔ یہ آپ کو لاٹری جیتنے کا خواب نہیں دکھائے گی۔ یہ آپ کو راتوں رات کروڑ پتی بنانے کا وعدہ بھی نہیں کرے گی۔ لیکن یہ کتاب آپ کو ایک راستہ دکھائے گی۔ ایسا راستہ جس پر چل کر ایک عام پاکستانی خاندان آہستہ آہستہ اپنی آمدنی بڑھا سکتا ہے۔ ایک پودے سے۔ پھر دس پودوں سے۔ پھر سو پودوں سے۔ پھر ایک چھوٹی نرسری سے۔ پھر ایک کاروبار سے۔ اور پھر ایک ایسی زندگی سے جس میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ رہے۔ میرا خواب ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ کم از کم ایک درخت لگائے۔ ہر گھر ایک چھوٹی نرسری بنائے۔ ہر سکول بچوں کو گرین انٹرپرینیورشپ سکھائے۔ اور ہر خاندان فخر سے کہے: “ہم صرف درخت نہیں اُگا رہے، ہم اپنا مستقبل اُگا رہے ہیں۔” اگر اس کتاب کے نتیجے میں ایک ماں اپنے بچوں کے لیے بہتر کھانا خرید سکے… اگر ایک باپ قرض سے نکل سکے… اگر ایک طالب علم اپنی فیس خود ادا کر سکے… اگر ایک خاندان غربت سے نکل سکے… تو اس کتاب کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ آئیے مل کر پاکستان کو سبز بھی بنائیں اور خوشحال بھی۔ کیونکہ درخت صرف سایہ نہیں دیتے۔ درخت امید دیتے ہیں۔ درخت روزگار دیتے ہیں۔ اور کبھی کبھی… ایک چھوٹا سا پودا پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ آپ کا بھائی، ریحان اللہ والا بانی، ریحان اسکول بانی، گرین اِنکم پاکستان تحریک “آج ایک پودا لگائیں، کل ایک بہتر پاکستان اُگائیں۔” Comment Green if you want this book
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • Foreword

    Green Income Pakistan

    Dear Reader,

    Pakistan has millions of unemployed young people.

    Millions of mothers want to earn from home.

    Millions of retired people have time but not enough income.

    Millions of students need a way to earn while learning.

    At the same time, our cities are becoming hotter, our air is becoming dirtier, and our trees are disappearing.

    What if one solution could help solve all of these problems together?

    What if a small roof, balcony, courtyard, wall, or unused corner of your home could become a source of income?

    What if growing plants could become as normal as running a small shop?

    What if every family in Pakistan could earn money while making Pakistan greener?

    This book was written with one simple dream:

    To help ordinary Pakistanis earn at least Rs. 100,000 per month from green businesses that can be started from home.

    You do not need a large farm.

    You do not need expensive equipment.

    You do not need a university degree.

    You do not need to be rich.

    Many of the opportunities discussed in this book can be started from a rooftop, a balcony, a small yard, or even a few shelves.

    Inside this book, you will discover how people are earning from:

    • Plant nurseries
    • Fruit trees
    • Indoor plants
    • Succulents and cacti
    • Compost and organic fertilizers
    • Seed production
    • Kitchen gardens
    • Medicinal plants
    • Green walls
    • Vertical farming
    • Tree plantations
    • Plant subscriptions
    • Plant delivery services
    • Educational workshops
    • AI-powered plant businesses

    More importantly, you will learn how to combine multiple small green income streams into a system capable of generating Rs. 100,000 or more per month.

    This book is not theory.

    It is a practical action guide.

    My hope is that every reader plants at least one tree, starts at least one green income project, and teaches at least one other person what they have learned.

    If enough people do this, we will not only create income.

    We will create cleaner cities.

    We will reduce heat.

    We will improve health.

    We will make Pakistan greener.

    And perhaps most importantly, we will prove that protecting nature can be profitable.

    The future belongs to those who can create value while helping the Earth.

    May this book help you do both.

    Plant a tree.

    Start a nursery.

    Build a green income.

    Build a greener Pakistan.

    — Rehan Allahwala

    Founder, Rehan School

    Green Income Pakistan Initiative
    Foreword Green Income Pakistan Dear Reader, Pakistan has millions of unemployed young people. Millions of mothers want to earn from home. Millions of retired people have time but not enough income. Millions of students need a way to earn while learning. At the same time, our cities are becoming hotter, our air is becoming dirtier, and our trees are disappearing. What if one solution could help solve all of these problems together? What if a small roof, balcony, courtyard, wall, or unused corner of your home could become a source of income? What if growing plants could become as normal as running a small shop? What if every family in Pakistan could earn money while making Pakistan greener? This book was written with one simple dream: To help ordinary Pakistanis earn at least Rs. 100,000 per month from green businesses that can be started from home. You do not need a large farm. You do not need expensive equipment. You do not need a university degree. You do not need to be rich. Many of the opportunities discussed in this book can be started from a rooftop, a balcony, a small yard, or even a few shelves. Inside this book, you will discover how people are earning from: • Plant nurseries • Fruit trees • Indoor plants • Succulents and cacti • Compost and organic fertilizers • Seed production • Kitchen gardens • Medicinal plants • Green walls • Vertical farming • Tree plantations • Plant subscriptions • Plant delivery services • Educational workshops • AI-powered plant businesses More importantly, you will learn how to combine multiple small green income streams into a system capable of generating Rs. 100,000 or more per month. This book is not theory. It is a practical action guide. My hope is that every reader plants at least one tree, starts at least one green income project, and teaches at least one other person what they have learned. If enough people do this, we will not only create income. We will create cleaner cities. We will reduce heat. We will improve health. We will make Pakistan greener. And perhaps most importantly, we will prove that protecting nature can be profitable. The future belongs to those who can create value while helping the Earth. May this book help you do both. Plant a tree. Start a nursery. Build a green income. Build a greener Pakistan. — Rehan Allahwala Founder, Rehan School Green Income Pakistan Initiative
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • پاکستان کے گرین سپر ہیرو سے ملیں!

    آج میں آپ کو ایک ایسے شخص سے ملوانا چاہتا ہوں جو شاید ٹی وی پر نہ ہو، شاید اس کے پاس اربوں روپے نہ ہوں، لیکن اس نے برسوں پہلے وہ کام شروع کیا جس کی پاکستان کو آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

    جناب شہریار حسین (زبیر آباد)

    جب لوگ صرف درخت لگانے کی باتیں کر رہے تھے، وہ لوگوں کو درخت لگانا سکھا رہے تھے۔

    جب لوگ ماحولیات پر تقریریں کر رہے تھے، وہ گھروں میں کچن گارڈن اور نرسریاں بنا رہے تھے۔

    آج وقت آ گیا ہے کہ ہم “گرین پاکستان” کو اگلے مرحلے پر لے جائیں:

    گرین_انکم_پاکستان

    میرا خواب ہے کہ پاکستان کے لاکھوں لوگ درختوں، نرسریوں، پھلدار پودوں، چھتوں کے باغات اور شہری زراعت کے ذریعے باعزت روزگار حاصل کریں۔

    سوچیے:

    ہر گھر میں منی نرسری
    ہر چھت پر باغ
    ہر بچے کے ہاتھ میں ایک پودا
    ہر خاندان کے لیے اضافی آمدنی

    صحیح تربیت، سوشل میڈیا، AI اور مارکیٹنگ کے ذریعے نرسری کا کاروبار ایک بہت بڑی صنعت بن سکتا ہے۔

    ہدف؟

    کم از کم 200,000 روپے ماہانہ آمدنی

    اگر آپ:

    نرسری بنانا چاہتے ہیں
    درخت اگانا سیکھنا چاہتے ہیں
    اپنے گھر سے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں
    پاکستان کو سرسبز اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں

    تو شہریار حسین صاحب سے رابطہ کریں:

    0321-6200198
    0321-6295001

    آئیں پاکستان کو صرف سبز نہ بنائیں، بلکہ درختوں کے ذریعے خوشحال بھی بنائیں۔

    درخت بھی، دولت بھی، صحت بھی۔

    — ریحان اللہ والا

    His WhatsApp group

    https://chat.whatsapp.com/D056YmgckPrEVgXKPeSHpj?mode=gi_t

    #GreenIncomePakistan
    #GreenPakistan
    #Treepreneur
    #NurseryBusiness
    #KitchenGarden
    #PlantationMovement
    🌳 پاکستان کے گرین سپر ہیرو سے ملیں! 🌳 آج میں آپ کو ایک ایسے شخص سے ملوانا چاہتا ہوں جو شاید ٹی وی پر نہ ہو، شاید اس کے پاس اربوں روپے نہ ہوں، لیکن اس نے برسوں پہلے وہ کام شروع کیا جس کی پاکستان کو آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ جناب شہریار حسین (زبیر آباد) جب لوگ صرف درخت لگانے کی باتیں کر رہے تھے، وہ لوگوں کو درخت لگانا سکھا رہے تھے۔ جب لوگ ماحولیات پر تقریریں کر رہے تھے، وہ گھروں میں کچن گارڈن اور نرسریاں بنا رہے تھے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم “گرین پاکستان” کو اگلے مرحلے پر لے جائیں: گرین_انکم_پاکستان میرا خواب ہے کہ پاکستان کے لاکھوں لوگ درختوں، نرسریوں، پھلدار پودوں، چھتوں کے باغات اور شہری زراعت کے ذریعے باعزت روزگار حاصل کریں۔ سوچیے: ✅ ہر گھر میں منی نرسری ✅ ہر چھت پر باغ ✅ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک پودا ✅ ہر خاندان کے لیے اضافی آمدنی صحیح تربیت، سوشل میڈیا، AI اور مارکیٹنگ کے ذریعے نرسری کا کاروبار ایک بہت بڑی صنعت بن سکتا ہے۔ ہدف؟ 💰 کم از کم 200,000 روپے ماہانہ آمدنی اگر آپ: 🌱 نرسری بنانا چاہتے ہیں 🌱 درخت اگانا سیکھنا چاہتے ہیں 🌱 اپنے گھر سے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں 🌱 پاکستان کو سرسبز اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو شہریار حسین صاحب سے رابطہ کریں: 📞 0321-6200198 📞 0321-6295001 آئیں پاکستان کو صرف سبز نہ بنائیں، بلکہ درختوں کے ذریعے خوشحال بھی بنائیں۔ درخت بھی، دولت بھی، صحت بھی۔ — ریحان اللہ والا His WhatsApp group https://chat.whatsapp.com/D056YmgckPrEVgXKPeSHpj?mode=gi_t #GreenIncomePakistan #GreenPakistan #Treepreneur #NurseryBusiness #KitchenGarden #PlantationMovement
    0 Commentarii 0 Distribuiri 1737 Views
  • کیا آپ گھر بیٹھے اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں؟

    خاص طور پر خواتین، نوجوان، مدرسہ کے طلبہ یا وہ لوگ جو کم سرمایہ سے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟

    تو میں آپ کو ایک ایسے شخص سے ملواتا ہوں جس نے اپنی پوری زندگی کاروبار میں گزاری ہے اور آج 70 سال کی عمر میں بھی سیکھ رہا ہے، سکھا رہا ہے اور لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے رہا ہے۔

    رانا امتیاز احمد صاحب

    مکینیکل انجینئر

    ایم بی اے، پنجاب یونیورسٹی

    40 سال سے زائد عملی کاروباری تجربہ

    آن لائن فوڈ بزنس کے بانی

    AI اور ChatGPT سیکھنے والے سینئر پاکستانی

    رانا صاحب خاص طور پر ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو:

    گھر سے Frozen Food Business شروع کرنا چاہتے ہیں

    Food Delivery Business سیکھنا چاہتے ہیں

    خواتین گھر بیٹھے آمدنی کمانا چاہتی ہیں

    کم سرمایہ سے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں

    برانڈنگ، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ سیکھنا چاہتے ہیں

    اپنا کچن بزنس یا ہوم فوڈ برانڈ بنانا چاہتے ہیں

    انہوں نے COVID کے دوران اپنے فوڈ بزنس کو کامیابی سے بڑھایا اور اب چاہتے ہیں کہ اپنا تجربہ نئی نسل اور خواتین تک پہنچائیں۔

    اگر آپ واقعی سیکھنا چاہتے ہیں، صرف پیسے کمانے کے خواب نہیں بلکہ ایک حقیقی کاروبار کھڑا کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے WhatsApp گروپ میں شامل ہوں اور ان سے رابطہ کریں۔

    WhatsApp:
    0323-1414941

    رانا امتیاز احمد
    Rana Imtiaz Ahmad

    https://chat.whatsapp.com/KoFmgtyS5zxKrBsGhc4Sbe?s=sh&p=i&ilr=2&amv=1

    پاکستان کو مزید نوکریاں تلاش کرنے والے لوگوں کی نہیں، بلکہ کاروبار شروع کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔

    اگر آپ سیکھنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو آج ہی رابطہ کریں
    کیا آپ گھر بیٹھے اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں؟ خاص طور پر خواتین، نوجوان، مدرسہ کے طلبہ یا وہ لوگ جو کم سرمایہ سے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ تو میں آپ کو ایک ایسے شخص سے ملواتا ہوں جس نے اپنی پوری زندگی کاروبار میں گزاری ہے اور آج 70 سال کی عمر میں بھی سیکھ رہا ہے، سکھا رہا ہے اور لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے رہا ہے۔ رانا امتیاز احمد صاحب ✅ مکینیکل انجینئر ✅ ایم بی اے، پنجاب یونیورسٹی ✅ 40 سال سے زائد عملی کاروباری تجربہ ✅ آن لائن فوڈ بزنس کے بانی ✅ AI اور ChatGPT سیکھنے والے سینئر پاکستانی رانا صاحب خاص طور پر ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو: 🍲 گھر سے Frozen Food Business شروع کرنا چاہتے ہیں 🚚 Food Delivery Business سیکھنا چاہتے ہیں 🏠 خواتین گھر بیٹھے آمدنی کمانا چاہتی ہیں 💡 کم سرمایہ سے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں 📦 برانڈنگ، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ سیکھنا چاہتے ہیں 👩‍🍳 اپنا کچن بزنس یا ہوم فوڈ برانڈ بنانا چاہتے ہیں انہوں نے COVID کے دوران اپنے فوڈ بزنس کو کامیابی سے بڑھایا اور اب چاہتے ہیں کہ اپنا تجربہ نئی نسل اور خواتین تک پہنچائیں۔ اگر آپ واقعی سیکھنا چاہتے ہیں، صرف پیسے کمانے کے خواب نہیں بلکہ ایک حقیقی کاروبار کھڑا کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے WhatsApp گروپ میں شامل ہوں اور ان سے رابطہ کریں۔ 📞 WhatsApp: 0323-1414941 رانا امتیاز احمد Rana Imtiaz Ahmad https://chat.whatsapp.com/KoFmgtyS5zxKrBsGhc4Sbe?s=sh&p=i&ilr=2&amv=1 پاکستان کو مزید نوکریاں تلاش کرنے والے لوگوں کی نہیں، بلکہ کاروبار شروع کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اگر آپ سیکھنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو آج ہی رابطہ کریں
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 70 سال کی عمر میں بھی سیکھنے والا ایک نوجوان — رانا امتیاز احمد

    آج میں آپ کو ایک ایسے پاکستانی سے ملواتا ہوں جو میرے خیال میں ہزاروں نوجوانوں، خواتین اور مدرسہ کے طلبہ کے لیے ایک زندہ مثال ہیں۔

    ان کا نام ہے رانا امتیاز احمد۔

    عمر؟
    70 سال۔

    تعلیم؟
    مکینیکل انجینئر۔
    ایم بی اے، پنجاب یونیورسٹی (1983)۔

    اور آج بھی؟
    AI، ChatGPT اور جدید ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں۔

    ہم اکثر 25 سال کی عمر میں لوگوں کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ “اب سیکھنے کی عمر نہیں رہی۔”

    لیکن رانا صاحب 70 سال کی عمر میں بھی روز کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے گھر بیٹھنے کے بجائے اپنا فوڈ بزنس شروع کیا۔ COVID کے مشکل دنوں میں بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ نئی پراڈکٹس، بہتر برانڈنگ اور جدید پیکیجنگ کے ذریعے اپنے کاروبار کو آگے بڑھایا۔

    لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ان کی سوچ ہے۔

    وہ کہتے ہیں:

    “مجھے شہرت نہیں چاہیے۔
    مجھے لوگوں کی تعریف نہیں چاہیے۔
    میں صرف اپنی زندگی کے تجربات غریب لوگوں، خواتین اور نوجوانوں تک پہنچانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔”

    رانا صاحب کئی فلاحی اور سماجی اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں جن میں Al Huda Foundation، Rizq Foundation، Youth Club Lahore اور دیگر رفاہی تنظیمیں شامل ہیں۔

    ان کے پاس کم سرمایہ سے کاروبار شروع کرنے، گھر بیٹھے روزگار پیدا کرنے، فوڈ بزنس، برانڈنگ، پیکیجنگ، سیلز اور عملی کاروباری تجربات کا خزانہ موجود ہے۔

    اگر آپ:

    گھر بیٹھے کام کرنا چاہتے ہیں

    کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں

    خواتین کو روزگار دینا چاہتے ہیں

    مدرسہ یا غریب بچوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں

    یا صرف ایک ایسے انسان سے سیکھنا چاہتے ہیں جس نے زندگی بھر کاروبار کیا ہو

    تو رانا امتیاز احمد صاحب سے رابطہ کریں۔

    رانا امتیاز احمد
    Rana Imtiaz Ahmad

    Wholesome Foods

    0323-1414941

    https://chat.whatsapp.com/KoFmgtyS5zxKrBsGhc4Sbe?mode=gi_t

    پاکستان کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو صرف تنقید نہ کریں بلکہ اپنا علم، تجربہ اور وقت دوسروں کی ترقی کے لیے وقف کریں۔

    رانا صاحب ان لوگوں میں سے ایک ہیں۔

    اللہ تعالیٰ انہیں صحت، برکت اور لمبی عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی زندگی کا تجربہ نئی نسل تک منتقل کرتے رہیں۔

    اگر آپ لاہور میں ہیں یا آن لائن سیکھنا چاہتے ہیں تو ان سے ضرور رابطہ کریں۔
    شاید ایک گفتگو آپ کی زندگی کا رخ بدل دے۔
    70 سال کی عمر میں بھی سیکھنے والا ایک نوجوان — رانا امتیاز احمد آج میں آپ کو ایک ایسے پاکستانی سے ملواتا ہوں جو میرے خیال میں ہزاروں نوجوانوں، خواتین اور مدرسہ کے طلبہ کے لیے ایک زندہ مثال ہیں۔ ان کا نام ہے رانا امتیاز احمد۔ عمر؟ 70 سال۔ تعلیم؟ مکینیکل انجینئر۔ ایم بی اے، پنجاب یونیورسٹی (1983)۔ اور آج بھی؟ AI، ChatGPT اور جدید ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں۔ ہم اکثر 25 سال کی عمر میں لوگوں کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ “اب سیکھنے کی عمر نہیں رہی۔” لیکن رانا صاحب 70 سال کی عمر میں بھی روز کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے گھر بیٹھنے کے بجائے اپنا فوڈ بزنس شروع کیا۔ COVID کے مشکل دنوں میں بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ نئی پراڈکٹس، بہتر برانڈنگ اور جدید پیکیجنگ کے ذریعے اپنے کاروبار کو آگے بڑھایا۔ لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ان کی سوچ ہے۔ وہ کہتے ہیں: “مجھے شہرت نہیں چاہیے۔ مجھے لوگوں کی تعریف نہیں چاہیے۔ میں صرف اپنی زندگی کے تجربات غریب لوگوں، خواتین اور نوجوانوں تک پہنچانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔” رانا صاحب کئی فلاحی اور سماجی اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں جن میں Al Huda Foundation، Rizq Foundation، Youth Club Lahore اور دیگر رفاہی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان کے پاس کم سرمایہ سے کاروبار شروع کرنے، گھر بیٹھے روزگار پیدا کرنے، فوڈ بزنس، برانڈنگ، پیکیجنگ، سیلز اور عملی کاروباری تجربات کا خزانہ موجود ہے۔ اگر آپ: ✅ گھر بیٹھے کام کرنا چاہتے ہیں ✅ کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں ✅ خواتین کو روزگار دینا چاہتے ہیں ✅ مدرسہ یا غریب بچوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں ✅ یا صرف ایک ایسے انسان سے سیکھنا چاہتے ہیں جس نے زندگی بھر کاروبار کیا ہو تو رانا امتیاز احمد صاحب سے رابطہ کریں۔ رانا امتیاز احمد Rana Imtiaz Ahmad Wholesome Foods 📞 0323-1414941 https://chat.whatsapp.com/KoFmgtyS5zxKrBsGhc4Sbe?mode=gi_t پاکستان کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو صرف تنقید نہ کریں بلکہ اپنا علم، تجربہ اور وقت دوسروں کی ترقی کے لیے وقف کریں۔ رانا صاحب ان لوگوں میں سے ایک ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، برکت اور لمبی عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی زندگی کا تجربہ نئی نسل تک منتقل کرتے رہیں۔ اگر آپ لاہور میں ہیں یا آن لائن سیکھنا چاہتے ہیں تو ان سے ضرور رابطہ کریں۔ شاید ایک گفتگو آپ کی زندگی کا رخ بدل دے۔
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • Future Karachi
    Future Karachi
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • Can You Run a School?

    I am looking for 100 future principals.

    Not teachers.

    Not administrators.

    Future principals.

    Future school founders.

    Future education leaders.

    Pakistan has over 26 million children who are not receiving a quality education.

    We need hundreds of new schools.

    The problem is not buildings.

    The problem is leadership.

    Over the next few years, Rehan School plans to help launch schools across Pakistan.

    For that, we need people who are willing to learn:

    AI
    Leadership
    Communication
    School Management
    Admissions
    Team Building

    You do NOT need:

    A building
    Experience as a principal
    Large amounts of money

    You only need:

    Good character
    Hunger to learn
    Desire to lead
    Commitment to children

    Selected candidates will enter our Principal Development Program.

    Some may become:

    • Rehan School Principals
    • Rehan School Partners
    • School Founders
    • Education Entrepreneurs

    If someone gave you the chance to help build the future of education in Pakistan, would you take it?

    Visit:

    rehan.education

    WhatsApp:
    +92 323 2147517

    Applications are now open.

    Comment School

    — Rehan Allahwala
    Can You Run a School? I am looking for 100 future principals. Not teachers. Not administrators. Future principals. Future school founders. Future education leaders. Pakistan has over 26 million children who are not receiving a quality education. We need hundreds of new schools. The problem is not buildings. The problem is leadership. Over the next few years, Rehan School plans to help launch schools across Pakistan. For that, we need people who are willing to learn: ✅ AI ✅ Leadership ✅ Communication ✅ School Management ✅ Admissions ✅ Team Building You do NOT need: ❌ A building ❌ Experience as a principal ❌ Large amounts of money You only need: ✅ Good character ✅ Hunger to learn ✅ Desire to lead ✅ Commitment to children Selected candidates will enter our Principal Development Program. Some may become: • Rehan School Principals • Rehan School Partners • School Founders • Education Entrepreneurs If someone gave you the chance to help build the future of education in Pakistan, would you take it? Visit: rehan.education WhatsApp: +92 323 2147517 Applications are now open. Comment School — Rehan Allahwala
    0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views
  • 0 Commentarii 0 Distribuiri 5 Views