• وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
    اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
    وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
    اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
    وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
    ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
    حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
    نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
    كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
    پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
    اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔ اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔ اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔ وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔ وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔ ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔ حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔ نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔ كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔ پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔ اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 426 Visualizações
  • میرا ایک سٹوڈنٹ تھا.. میں نے کچھ عرصہ اسے قرآن پاک پڑھایا... شروع سے س کی کچھ عادات مختلف تھیں اب آ کر کافی عرصے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک خواجہ سرا ھے...
    اور وہ اب گھر والوں کو بتائے بغیر اور تنگ آ کر کسی کوٹھے پہ جا رہا ھے...
    اس کو ہر کوئی چھیڑتا ھے وہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ لوگ ان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں..
    تو بس اتنا چاہتا ہوں کے اگر ان لوگوں کے لئے کوئی اچھی آرگنائزیشن یا NGO کا پتہ ہو تو میری مدد کیجئے گا تاکہ شاید وہ اس ناچ گانے والے کوٹھے پہ جانے سے بج جائے...
    جزاک اللہ...

    What can we do for him ?

    Please join https://www.facebook.com/groups/HijraPk/

    and write there
    میرا ایک سٹوڈنٹ تھا.. میں نے کچھ عرصہ اسے قرآن پاک پڑھایا... شروع سے س کی کچھ عادات مختلف تھیں اب آ کر کافی عرصے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک خواجہ سرا ھے... اور وہ اب گھر والوں کو بتائے بغیر اور تنگ آ کر کسی کوٹھے پہ جا رہا ھے... اس کو ہر کوئی چھیڑتا ھے وہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ لوگ ان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں.. تو بس اتنا چاہتا ہوں کے اگر ان لوگوں کے لئے کوئی اچھی آرگنائزیشن یا NGO کا پتہ ہو تو میری مدد کیجئے گا تاکہ شاید وہ اس ناچ گانے والے کوٹھے پہ جانے سے بج جائے... جزاک اللہ... What can we do for him ? Please join https://www.facebook.com/groups/HijraPk/ and write there
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 165 Visualizações
  • Forwarding as found

    Aoa All
    Pls spare sometime and read this carefully, someone compiled so nicely at one place.

    *اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات*

    1. بدزبانی سے بچو (3:159)
    2. غصے کو پی جاؤ (3:134)
    3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو (4:36)
    4. تکبر سے بچو (7:13)
    5. دوسروں کی غلطیاں معاف کرو (7:199)
    6. لوگوں سے نرمی سے بات کرو (20:44)
    7. اپنی آواز پست رکھو (31:19)
    8. دوسروں کا مذاق نہ اڑاؤ (49:11)
    9. والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری کرو (17:23)
    10. والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو (17:23)
    11. اجازت کے بغیر کسی کی خلوت گاہ (پرائیویٹ کمرہ) میں داخل نہ ہو (24:58)
    12. آپس میں قرض کے معاملات تحریر کر لیا کرو (2:282)
    13. کسی کی اندھی تقلید مت کرو (2:170)
    14. اگر کوئی تنگی میں ہے تو اسے قرضہ اتارنے میں مہلت دو (2:280)
    15. سود مت کھاؤ (2:275)
    16. رشوت مت اختیار کرو (2:188)
    17. وعدوں کو پورا کرو (2:177)
    18. آپس میں اعتماد قائم رکھو (2:283)
    19. سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو (2:42)
    20. لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (4:58)
    21. عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جاؤ (4:135)
    22. مرنے کے بعد ہر شخص کی دولت اس کے قریبی عزیزوں میں تقسیم کر دو (4:7)
    23. عورتوں کا بھی وراثت میں حق ہے (4:7)
    24. یتیموں کا مال ناحق مت کھاؤ (4:10)
    25. یتیموں کا خیال رکھو (2:220)
    26. ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ (4:29)
    27. کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ (49:9)
    28. بدگمانیوں سے بچو (49:12)
    29. گواہی کو مت چھپاؤ (2:283)
    30. ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو (49:12)
    31. اپنے مال میں سے خیرات کرو (57:7)
    32. مسکین غریبوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دو (107:3)
    33. ضرورتمندوں کو تلاش کر کے اُن کی مدد کرو (2:273)
    34. کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب کرو (17:29)
    35. اپنی خیرات لوگوں کو دکھا نے کے لیئے اور احسان جتا کر ضائع مت کرو (2:264)
    36. مہمانوں کا احترام کرو (51:26)
    37. بھلائی پر خود عمل کرنے کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دو (2:44)
    38. زمین پر فساد مت کرو (2:60)
    39. لوگوں کو مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے مت روکو (2:114)
    40. صرف اُن سےلڑوجوتم سے لڑیں (2:190)
    41. جنگ کے آداب کا خیال رکھو (2:191)
    42. جنگ کے دوران پُشت مت پھیرنا (8:15)
    43. د ین میں کوئی زبردستی نہیں (2:256)
    44. تمام پیغمبروں پر ایمان لاؤ (2:285)
    45. حالتِ حیض میں عورتوں سے جماع نہ کرو (2:222)
    46. مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں (2:233)
    47. خبردار زنا کے قریب کسی صورت میں نہیں جانا (17:32)
    48. حکمرانوں کو اہلیت کی بنیاد پر منتخب کرو (2:247)
    49. کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو (2:286)
    50. آپس میں تفرقہ مت ڈالو (3:103)
    51. کائنات کی تخلیق اور عجائبات پر گہری غوروفکر کرو (3:191)
    52. مرد اور عورت کو اعمال کا صلہ برابر ملے گا (3:195)
    53. خون کے رشتوں میں شادی مت کرو (4:23)
    54. مرد خاندان کا حکمران ہے (4:34)
    55. بخیلی و کنجوسی مت کرو (4:37)
    56. حسد مت کرو (4:54)
    57. ایک دوسرے کا قتل مت کرو (4:92)
    58. خیانت کرنے والوں کے حمایتی مت بنو (4:105)
    59. گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون مت کرو (5:2)
    60. نیکی اور بھلائی میں تعاون کرو (5:2)
    61. اکثریت میں ہونا سچائی کا جواز نہیں (6:116)
    62. عدل و انصاف پر قائم رہو (5:8)
    63. جرائم کی سزا مثالی طور پر دو (5:38)
    64. گناہ اور بد اعمالیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرو (5:63)
    65. مردہ جانور, خون, سور کا گوشت ممنوع ہیں (5:3)
    66. شراب اور منشیات سے بچو (5:90)
    67. جوا مت کھیلو (5:90)
    68. دوسروں کے معبودوں کو بُرا مت کہو (6:108)
    69. لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر ناپ تول میں کمی مت کرو (6:152)
    70. خوب کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو (7:31)
    71. مسجدوں میں عبادت کے وقت اچھے کپڑے پہنو (7:31)
    72. جو تم سے مدد اور حفاظت و پناہ کا طلبگار ہو اسکی مدد اور حفاظت کرو (9:6)
    73. پاکیزگی اختیار کرو (9:108)
    74. اللہ کی رحمت سے کبھی نا اُمید مت ہونا (12:87)
    75. لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کیے گئے بُرے کام و گناہ اللہ معاف فرما دے گا (16:119)
    76. لوگوں کو اللہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ (16:125)
    77. کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا (17:15)
    78. مفلسی و غربت کے خوف سے اولاد کا قتل مت کرو (17:31)
    79. جس بات کا علم نہ ہو اُس کے پیچھے مت پڑو. (17:36)
    80. بے بنیاد اور لغو کاموں سے پرہیز کرو (23:3)
    81. دوسروں کے گھروں میں بلا اجازت مت داخل ہو (24:27)
    82. جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں, اللہ اُن کی حفاظت فرمائے گا (24:55)
    83. زمین پر عاجزی و انکساری سے چلو (25:63)
    84. اپنی دنیاوی زندگی کو نظرانداز مت کرو (28:77)
    85. اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو (28:88)
    86. ہم جنس پرستی سے اجتناب کرو (29:29)
    87. اچھے کاموں کی نصیحت اور برے کاموں کی ممانعت کرو (31:17)
    88. زمین پر شیخی اور تکبر سے اِترا کر مت چلو (31:18)
    89. عورتیں اپنے بناؤسنگھار کی نمائش مت کریں (33:33)
    90. اللہ تمام گناہ معاف کردے گا سوائے شرک (39:53)
    91. اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو (39:53)
    92. برائی کو بھلائی سے دفع کرو (41:34)
    93. مشورے سے اپنے کام سرانجام دو (42:38)
    94. تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس نے سچائی و بھلائی کو اختیار کیا ہو (49:13)
    95. دین میں رہبانیت کا کوئی وجود نہیں (57:27)
    96. اللہ کے ہاں علم والے کے درجات بلند ہیں (58:11)
    97. غیرمسلموں کے ساتھ منصفانہ سلوک و احسان اور اچھا برتاؤ کرو (60:8)
    98. اپنے آپ کو نفس کی حرص سے پاک رکھو (64:16)
    99. اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو, وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے (73:20)
    Forwarding as found Aoa All Pls spare sometime and read this carefully, someone compiled so nicely at one place. *اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات* 1. بدزبانی سے بچو (3:159) 2. غصے کو پی جاؤ (3:134) 3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو (4:36) 4. تکبر سے بچو (7:13) 5. دوسروں کی غلطیاں معاف کرو (7:199) 6. لوگوں سے نرمی سے بات کرو (20:44) 7. اپنی آواز پست رکھو (31:19) 8. دوسروں کا مذاق نہ اڑاؤ (49:11) 9. والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری کرو (17:23) 10. والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو (17:23) 11. اجازت کے بغیر کسی کی خلوت گاہ (پرائیویٹ کمرہ) میں داخل نہ ہو (24:58) 12. آپس میں قرض کے معاملات تحریر کر لیا کرو (2:282) 13. کسی کی اندھی تقلید مت کرو (2:170) 14. اگر کوئی تنگی میں ہے تو اسے قرضہ اتارنے میں مہلت دو (2:280) 15. سود مت کھاؤ (2:275) 16. رشوت مت اختیار کرو (2:188) 17. وعدوں کو پورا کرو (2:177) 18. آپس میں اعتماد قائم رکھو (2:283) 19. سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو (2:42) 20. لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (4:58) 21. عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جاؤ (4:135) 22. مرنے کے بعد ہر شخص کی دولت اس کے قریبی عزیزوں میں تقسیم کر دو (4:7) 23. عورتوں کا بھی وراثت میں حق ہے (4:7) 24. یتیموں کا مال ناحق مت کھاؤ (4:10) 25. یتیموں کا خیال رکھو (2:220) 26. ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ (4:29) 27. کسی جھگڑے کی صورت میں لوگوں کے درمیان صلح کراؤ (49:9) 28. بدگمانیوں سے بچو (49:12) 29. گواہی کو مت چھپاؤ (2:283) 30. ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولا کرو اور کسی کی غیبت مت کرو (49:12) 31. اپنے مال میں سے خیرات کرو (57:7) 32. مسکین غریبوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دو (107:3) 33. ضرورتمندوں کو تلاش کر کے اُن کی مدد کرو (2:273) 34. کنجوسی اور فضول خرچی سے اجتناب کرو (17:29) 35. اپنی خیرات لوگوں کو دکھا نے کے لیئے اور احسان جتا کر ضائع مت کرو (2:264) 36. مہمانوں کا احترام کرو (51:26) 37. بھلائی پر خود عمل کرنے کے بعد دوسروں کو اس کی ترغیب دو (2:44) 38. زمین پر فساد مت کرو (2:60) 39. لوگوں کو مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے مت روکو (2:114) 40. صرف اُن سےلڑوجوتم سے لڑیں (2:190) 41. جنگ کے آداب کا خیال رکھو (2:191) 42. جنگ کے دوران پُشت مت پھیرنا (8:15) 43. د ین میں کوئی زبردستی نہیں (2:256) 44. تمام پیغمبروں پر ایمان لاؤ (2:285) 45. حالتِ حیض میں عورتوں سے جماع نہ کرو (2:222) 46. مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں (2:233) 47. خبردار زنا کے قریب کسی صورت میں نہیں جانا (17:32) 48. حکمرانوں کو اہلیت کی بنیاد پر منتخب کرو (2:247) 49. کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو (2:286) 50. آپس میں تفرقہ مت ڈالو (3:103) 51. کائنات کی تخلیق اور عجائبات پر گہری غوروفکر کرو (3:191) 52. مرد اور عورت کو اعمال کا صلہ برابر ملے گا (3:195) 53. خون کے رشتوں میں شادی مت کرو (4:23) 54. مرد خاندان کا حکمران ہے (4:34) 55. بخیلی و کنجوسی مت کرو (4:37) 56. حسد مت کرو (4:54) 57. ایک دوسرے کا قتل مت کرو (4:92) 58. خیانت کرنے والوں کے حمایتی مت بنو (4:105) 59. گناہ اور ظلم وزیادتی میں تعاون مت کرو (5:2) 60. نیکی اور بھلائی میں تعاون کرو (5:2) 61. اکثریت میں ہونا سچائی کا جواز نہیں (6:116) 62. عدل و انصاف پر قائم رہو (5:8) 63. جرائم کی سزا مثالی طور پر دو (5:38) 64. گناہ اور بد اعمالیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرو (5:63) 65. مردہ جانور, خون, سور کا گوشت ممنوع ہیں (5:3) 66. شراب اور منشیات سے بچو (5:90) 67. جوا مت کھیلو (5:90) 68. دوسروں کے معبودوں کو بُرا مت کہو (6:108) 69. لوگوں کو دھوکہ دینے کی خاطر ناپ تول میں کمی مت کرو (6:152) 70. خوب کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو (7:31) 71. مسجدوں میں عبادت کے وقت اچھے کپڑے پہنو (7:31) 72. جو تم سے مدد اور حفاظت و پناہ کا طلبگار ہو اسکی مدد اور حفاظت کرو (9:6) 73. پاکیزگی اختیار کرو (9:108) 74. اللہ کی رحمت سے کبھی نا اُمید مت ہونا (12:87) 75. لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کیے گئے بُرے کام و گناہ اللہ معاف فرما دے گا (16:119) 76. لوگوں کو اللہ کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ (16:125) 77. کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا (17:15) 78. مفلسی و غربت کے خوف سے اولاد کا قتل مت کرو (17:31) 79. جس بات کا علم نہ ہو اُس کے پیچھے مت پڑو. (17:36) 80. بے بنیاد اور لغو کاموں سے پرہیز کرو (23:3) 81. دوسروں کے گھروں میں بلا اجازت مت داخل ہو (24:27) 82. جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں, اللہ اُن کی حفاظت فرمائے گا (24:55) 83. زمین پر عاجزی و انکساری سے چلو (25:63) 84. اپنی دنیاوی زندگی کو نظرانداز مت کرو (28:77) 85. اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو (28:88) 86. ہم جنس پرستی سے اجتناب کرو (29:29) 87. اچھے کاموں کی نصیحت اور برے کاموں کی ممانعت کرو (31:17) 88. زمین پر شیخی اور تکبر سے اِترا کر مت چلو (31:18) 89. عورتیں اپنے بناؤسنگھار کی نمائش مت کریں (33:33) 90. اللہ تمام گناہ معاف کردے گا سوائے شرک (39:53) 91. اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو (39:53) 92. برائی کو بھلائی سے دفع کرو (41:34) 93. مشورے سے اپنے کام سرانجام دو (42:38) 94. تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس نے سچائی و بھلائی کو اختیار کیا ہو (49:13) 95. دین میں رہبانیت کا کوئی وجود نہیں (57:27) 96. اللہ کے ہاں علم والے کے درجات بلند ہیں (58:11) 97. غیرمسلموں کے ساتھ منصفانہ سلوک و احسان اور اچھا برتاؤ کرو (60:8) 98. اپنے آپ کو نفس کی حرص سے پاک رکھو (64:16) 99. اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو, وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے (73:20)
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 292 Visualizações
  • ناموس کے جھوٹے رکھوالو
    بے جرم ستم کرنے والو
    کیا سیرت نبوی جانتے ہو؟
    کیا دین کو سمجھا ہے تم نے؟
    کیا یاد بھی ہے پیغام نبی؟
    کیا نبی کی بات بھی مانتے ہو؟
    یوں جانیں لو، یوں ظلم کرو
    کیا یہ قرآن میں آیا تھا؟
    اس رحمت عالم نے تم کو
    کیا یہ اسلام سکھایا تھا؟
    لاشوں پہ پتھر برسانا
    کیا یہ ایمان کا حصہ ہے؟
    الزام لگاؤ مار بھی دو؟
    دامن سے مٹی جھاڑ بھی دو؟
    مسلماں بھی کہلاؤ اور پھر
    ماؤں کی گود اجاڑ بھی دو؟
    تم سے نہ کوئ سوال کرے؟
    نہ ظلم کو جرم خیال کرے؟
    اس دیس میں جو بھی جب چاہے
    لاشوں کو یوں پامال کرے؟
    لیکن تم اتنا یاد رکھو
    وہ وقت بھی آنا ہے
    ہے جس کے نام پہ ظلم کیا
    اس ذات کے آگے جانا ہے
    اس خون ناحق کو کو پھر وہ
    میزان حشر میں تولے گا
    وہ سرور عالم محسن جاں
    تم سے اتنا تو بولے گا
    اے ظلم جبر کے متوالو
    تم حق کے نام پہ باطل ہو
    تم وحشی ہو تم قاتل ہو

    (حبيب جالب)
    ناموس کے جھوٹے رکھوالو بے جرم ستم کرنے والو کیا سیرت نبوی جانتے ہو؟ کیا دین کو سمجھا ہے تم نے؟ کیا یاد بھی ہے پیغام نبی؟ کیا نبی کی بات بھی مانتے ہو؟ یوں جانیں لو، یوں ظلم کرو کیا یہ قرآن میں آیا تھا؟ اس رحمت عالم نے تم کو کیا یہ اسلام سکھایا تھا؟ لاشوں پہ پتھر برسانا کیا یہ ایمان کا حصہ ہے؟ الزام لگاؤ مار بھی دو؟ دامن سے مٹی جھاڑ بھی دو؟ مسلماں بھی کہلاؤ اور پھر ماؤں کی گود اجاڑ بھی دو؟ تم سے نہ کوئ سوال کرے؟ نہ ظلم کو جرم خیال کرے؟ اس دیس میں جو بھی جب چاہے لاشوں کو یوں پامال کرے؟ لیکن تم اتنا یاد رکھو وہ وقت بھی آنا ہے ہے جس کے نام پہ ظلم کیا اس ذات کے آگے جانا ہے اس خون ناحق کو کو پھر وہ میزان حشر میں تولے گا وہ سرور عالم محسن جاں تم سے اتنا تو بولے گا اے ظلم جبر کے متوالو تم حق کے نام پہ باطل ہو تم وحشی ہو تم قاتل ہو (حبيب جالب)
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 64 Visualizações
  • السلام علیکم,
    ھم دینی مدارس کے طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کے لیے مختلف پروگرامات کا انعقاد کرتے رھتے ہیں اس وقت ھم نے سندھ کی سطح پر مدارس کے طلبہ کے مابین حفظ قرآن, حفظ حدیث,حسن قراٰت,خطاطی اور عربی میں تقریری مقابلہ جات کا انعقاد کیا ہے پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کو ایوارڈز دینے کے لیے ہم
    یکم مارچ کوکراچی میں ہی"معمار جہاں کنونشن" کا انعقاد کرنے جارہے ہیں اس میں ان طلبہ کو بھی ایوارڈز دیے جائیں گے جنہوں نے بورڈز کے سالانہ امتحانات اور دیگر مقابلہ جات میں نمایاں نمبر حاصل کیے ہیں یہ سارا کچھ ھم اس لیے بھی کر رہے ہیں تاکہ مدارس کے طلبہ احساس محرومی کا شکار نہ ھوں زندہ دلی سے تعلیم حاصل کر کہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر احسن انداز سے اپنے ملک و ملت کی خدمت کر سکیں
    تو ھم چاھتے ہیں کہ آپ اس کام میں ھمارا ساتھ دیں تاکہ ھم سب کی بھی کچھ ذمہ داری کا حق ادا ھو سکے سب سے پہلے تو آپ ہمارے اس پروگرام میں شرکت کریں تا کہ آپ کے ھاتھ سے ان طلبہ میں انعامات تقسیم کریں اور دوسری بات یہ کہ جو کچھ اس پروگرام پر اخراجات آرہے ہیں ان میں بھی آپ ہمارا ساتھ دیں تو آپ کی بہت بڑی نوازش ھوگی
    اس میں طعام,طلبہ کے نقد انعامات,ھال بکنگ,آمدورفت,اندرون سندھ سے ٹیلینٹڈ طلبہ آئیں گے ان کا سفر خرچ,کتب اور شیلڈیں وغیرہ کا خرچہ آئے گا.
    یقینا آپ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ھونگے لیکن ھم چاھتے ہیں کہ اس اچھے کام میں بھی آپ کا حصہ ھو امید ہے کہ آپ ضرور ھماری اس دعوت پر لبّیک کہیں گے.
    والسلام,
    جلال الدین منصوری
    منتظم جمعیت طلبہ عربیہ سندھ

    Jalaludin Mansoori
    السلام علیکم, ھم دینی مدارس کے طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کے لیے مختلف پروگرامات کا انعقاد کرتے رھتے ہیں اس وقت ھم نے سندھ کی سطح پر مدارس کے طلبہ کے مابین حفظ قرآن, حفظ حدیث,حسن قراٰت,خطاطی اور عربی میں تقریری مقابلہ جات کا انعقاد کیا ہے پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کو ایوارڈز دینے کے لیے ہم یکم مارچ کوکراچی میں ہی"معمار جہاں کنونشن" کا انعقاد کرنے جارہے ہیں اس میں ان طلبہ کو بھی ایوارڈز دیے جائیں گے جنہوں نے بورڈز کے سالانہ امتحانات اور دیگر مقابلہ جات میں نمایاں نمبر حاصل کیے ہیں یہ سارا کچھ ھم اس لیے بھی کر رہے ہیں تاکہ مدارس کے طلبہ احساس محرومی کا شکار نہ ھوں زندہ دلی سے تعلیم حاصل کر کہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر احسن انداز سے اپنے ملک و ملت کی خدمت کر سکیں تو ھم چاھتے ہیں کہ آپ اس کام میں ھمارا ساتھ دیں تاکہ ھم سب کی بھی کچھ ذمہ داری کا حق ادا ھو سکے سب سے پہلے تو آپ ہمارے اس پروگرام میں شرکت کریں تا کہ آپ کے ھاتھ سے ان طلبہ میں انعامات تقسیم کریں اور دوسری بات یہ کہ جو کچھ اس پروگرام پر اخراجات آرہے ہیں ان میں بھی آپ ہمارا ساتھ دیں تو آپ کی بہت بڑی نوازش ھوگی اس میں طعام,طلبہ کے نقد انعامات,ھال بکنگ,آمدورفت,اندرون سندھ سے ٹیلینٹڈ طلبہ آئیں گے ان کا سفر خرچ,کتب اور شیلڈیں وغیرہ کا خرچہ آئے گا. یقینا آپ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ھونگے لیکن ھم چاھتے ہیں کہ اس اچھے کام میں بھی آپ کا حصہ ھو امید ہے کہ آپ ضرور ھماری اس دعوت پر لبّیک کہیں گے. والسلام, جلال الدین منصوری منتظم جمعیت طلبہ عربیہ سندھ Jalaludin Mansoori
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 587 Visualizações
  • عزّت کے بارے مین قرآن اور سنّت کیا کہتی ہے ؟
    عزّت کے بارے مین قرآن اور سنّت کیا کہتی ہے ؟
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 78 Visualizações
  • Do you agree ?

    میوزک اور موسیقی کو اسلام نے کہیں بھی منع نہیں کیا ہے اصل اشیاء میں اباحت اور جواز ہے جب تک کسی چیز پر نص قطعی سے حرمت کی دلیل نہ ہو ھمیں اس کے حرام کہنے کا کوئی حق نہیں ہے
    بخاری کی روایت میں خوشی اور اعیاد کے موقعوں پر موسیقی ثابت ہے نیز اس فن کے بڑے ماھرین مسلم دور کے علماء تھے
    دوسری بات غیر محرم خواتین کے ساتھ تصاویر یا ان سے ملاقات یہ کب سے حرام ھوگئیں اس پر دلیل آپ قرآن و سنت سے دیدیں کیوں کہ حرام ہونے کا آپ نے کہا ہے
    جو حرام ہے وہ قرآن میں واضح ہے اور وہ ہے
    وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (سورة الاسراء آیت 32

    Via Mufti Abuwamiz Fazal Hamdard
    Do you agree ? میوزک اور موسیقی کو اسلام نے کہیں بھی منع نہیں کیا ہے اصل اشیاء میں اباحت اور جواز ہے جب تک کسی چیز پر نص قطعی سے حرمت کی دلیل نہ ہو ھمیں اس کے حرام کہنے کا کوئی حق نہیں ہے بخاری کی روایت میں خوشی اور اعیاد کے موقعوں پر موسیقی ثابت ہے نیز اس فن کے بڑے ماھرین مسلم دور کے علماء تھے دوسری بات غیر محرم خواتین کے ساتھ تصاویر یا ان سے ملاقات یہ کب سے حرام ھوگئیں اس پر دلیل آپ قرآن و سنت سے دیدیں کیوں کہ حرام ہونے کا آپ نے کہا ہے جو حرام ہے وہ قرآن میں واضح ہے اور وہ ہے وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (سورة الاسراء آیت 32 Via Mufti Abuwamiz Fazal Hamdard
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 187 Visualizações
  • قرآن پاک آن لائن یا آف لائن کیسے پڑھائیں.
    قرآن پاک آن لائن یا آف لائن کیسے پڑھائیں.
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 90 Visualizações
  • *سورج گرہن ہونے والا ہے*

    پاکستان کے تمام جنوبی علاقے 20 سال بعد تقریباً پورا سورج گرہن دیکھیں گے۔ آخری بار ایسا 11 اگست سن 1999 کو ہوا تھا جب شام 5:26 کراچی میں خاص طور پر #سورج مکمل گرہن ہوگیا تھا اور #شام ایک لال اندھیری رات میں تبدیل ہوگئی تھی۔ یہ سورج گرہن کراچی میں مکمل سورج گرہن تھا یعنی اس میں سورج کا 100 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا تھا۔

    اب پورے 20 سال بعد اس سال یعنی 26 دسمبر 2019 کی صبح 7:34 بجے سورج #چاند کے پیچھے چھپنا شروع ہوگا اور صبح 8:46 بجے سورج گرہن سب سے زیادہ ہوگا اور صبح 10:10 بجے یہ #سورج_گرہن ختم ہو جائے گا، اب بات کی جائے کہ یہ سورج گرہن کہاں زیادہ دکھے گا تو یہ سورج گرہن جنوبی #پاکستان خاص طور پر ساحلی علاقوں جیسے #کراچی، #گوادر میں سب سے زیادہ ہوگا جہاں سورج کا تقریباً 80 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن کا وقت کچھ رات میں تبدیل ہو جائے گا۔ سورج گرہن پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں بھی دیکھا جاسکے گا۔

    #سورج_گرہن_کے_اترات #ضروری_احکامات:
    مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔

    سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔

    حاملہ خواتین/Pregnant Women سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں یا کھلے آسمان کے نیچے نہ جائیں! سورج کی ریڈی ایشن خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

    عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔

    بچوں اور بوڑھوں کا گھروں میں رہنا بہتر رہے گا۔

    سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف" ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔

    اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں، شکریہ!
    *سورج گرہن ہونے والا ہے* پاکستان کے تمام جنوبی علاقے 20 سال بعد تقریباً پورا سورج گرہن دیکھیں گے۔ آخری بار ایسا 11 اگست سن 1999 کو ہوا تھا جب شام 5:26 کراچی میں خاص طور پر #سورج مکمل گرہن ہوگیا تھا اور #شام ایک لال اندھیری رات میں تبدیل ہوگئی تھی۔ یہ سورج گرہن کراچی میں مکمل سورج گرہن تھا یعنی اس میں سورج کا 100 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ 🔘 اب پورے 20 سال بعد اس سال یعنی 26 دسمبر 2019 کی صبح 7:34 بجے سورج #چاند کے پیچھے چھپنا شروع ہوگا اور صبح 8:46 بجے سورج گرہن سب سے زیادہ ہوگا اور صبح 10:10 بجے یہ #سورج_گرہن ختم ہو جائے گا، اب بات کی جائے کہ یہ سورج گرہن کہاں زیادہ دکھے گا تو یہ سورج گرہن جنوبی #پاکستان خاص طور پر ساحلی علاقوں جیسے #کراچی، #گوادر میں سب سے زیادہ ہوگا جہاں سورج کا تقریباً 80 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن کا وقت کچھ رات میں تبدیل ہو جائے گا۔ سورج گرہن پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں بھی دیکھا جاسکے گا۔ #سورج_گرہن_کے_اترات #ضروری_احکامات: ◾مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔ ◾سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔ ◾حاملہ خواتین/Pregnant Women سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں یا کھلے آسمان کے نیچے نہ جائیں! سورج کی ریڈی ایشن خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ◾عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔ ◾بچوں اور بوڑھوں کا گھروں میں رہنا بہتر رہے گا۔ ◾سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف" ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں، شکریہ!
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 898 Visualizações
  • محترم ومکرم جناب :
    السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    امید ہے مزاج گرامی خیر وعافیت سے ہوں گے.
    محترم :ألحمد للہ،،،،،مرکز اسلامی جماعت اسلامی ایبٹ آباد،مقدس ٹاؤن میں مرکز علوم اسلامیہ، ایبٹ آباد کے نام سے دینی ادارے کا آغاز ہو چکا ہے، جس کا افتتاح شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالمالک صاحب(صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان) نے 09 اپریل 2021ء کو کیا تھا. ادارے میں اس وقت شعبہ حفظ قرآن میں 20 طلبہ رہائشی موجود ہیں، جن کے قیام وطعام کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ ناظرہ قرآن کی کلاس میں 35 طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں.ہزارہ ڈویژن میں اس وقت یہ پہلا تحریکی ادارہ ہے.
    ادارے کے ماہانہ اخراجات ایک لاکھ پچاس ہزار سے تجاوز کر جاتے ہیں.
    ادارے کی انتظامیہ نے ماہ شوال سے درس نظامی بمع سکول کلاسز کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے. جس کےلیے کم از کم ضروری تعمیراتی کام کا آغاز کیا جارہا ہے. کیونکہ اس وقت جتنی گنجائش موجود ہے اس کے مطابق کلاسز چل رہی ہیں. ادارے کی تمام تعمیرات کا تخمینہ تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے. جبکہ ابھی جو ضروری اور فوری تعمیرات کروانی ہیں ان کا تخمینہ ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ہے. ہمارا ارادہ ہے کہ اس ادارے کو ان شاء اللہ ہر لحاظ سے ایک ماڈل ادارہ بنائیں گے.
    آپ سے گزارش ہے کہ اس علمی و فکری کام میں خود بھی تعاون کریں اور اپنے جاننے والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر تعاون کروائیں.
    اللہ پاک ہماری کوششوں وکاوشوں کو بارآور فرمائے اور اپنی رضا کےلیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے..... آمین
    والسلام
    عبيدالرحمٰن عباسی
    مہتمم مرکز علوم اسلامیہ،ایبٹ آباد
    نائب أمير جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ
    03015074712
    03461208557

    Ubaid Abbasi
    محترم ومکرم جناب : السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی خیر وعافیت سے ہوں گے. محترم :ألحمد للہ،،،،،مرکز اسلامی جماعت اسلامی ایبٹ آباد،مقدس ٹاؤن میں مرکز علوم اسلامیہ، ایبٹ آباد کے نام سے دینی ادارے کا آغاز ہو چکا ہے، جس کا افتتاح شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالمالک صاحب(صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان) نے 09 اپریل 2021ء کو کیا تھا. ادارے میں اس وقت شعبہ حفظ قرآن میں 20 طلبہ رہائشی موجود ہیں، جن کے قیام وطعام کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ ناظرہ قرآن کی کلاس میں 35 طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں.ہزارہ ڈویژن میں اس وقت یہ پہلا تحریکی ادارہ ہے. ادارے کے ماہانہ اخراجات ایک لاکھ پچاس ہزار سے تجاوز کر جاتے ہیں. ادارے کی انتظامیہ نے ماہ شوال سے درس نظامی بمع سکول کلاسز کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے. جس کےلیے کم از کم ضروری تعمیراتی کام کا آغاز کیا جارہا ہے. کیونکہ اس وقت جتنی گنجائش موجود ہے اس کے مطابق کلاسز چل رہی ہیں. ادارے کی تمام تعمیرات کا تخمینہ تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے. جبکہ ابھی جو ضروری اور فوری تعمیرات کروانی ہیں ان کا تخمینہ ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ہے. ہمارا ارادہ ہے کہ اس ادارے کو ان شاء اللہ ہر لحاظ سے ایک ماڈل ادارہ بنائیں گے. آپ سے گزارش ہے کہ اس علمی و فکری کام میں خود بھی تعاون کریں اور اپنے جاننے والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر تعاون کروائیں. اللہ پاک ہماری کوششوں وکاوشوں کو بارآور فرمائے اور اپنی رضا کےلیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے..... آمین والسلام عبيدالرحمٰن عباسی مہتمم مرکز علوم اسلامیہ،ایبٹ آباد نائب أمير جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ 03015074712 03461208557 Ubaid Abbasi
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 409 Visualizações
Páginas impulsionada