وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
وفاق المدارس العربيہ پاكستان اور لاہور كانفرنس كا پس منظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاق المدارس العربيہ پاكستان وطن عزيز كے دينى مدارس كا سب سے بڑا ،منظم اور مظبوط تعليمى بورڈ ہے اس كى بنيادى ذمہ دارى ميں دينى مدارس كى حفاظت، رجسٹريشن، ترقى، نصاب سازى، امتحانات اور ڈگرى سے منسلك معاملات كو ديكھنا ہے۔ وفاق المدارس كے صدر استاذ العلماء شيخ الحديث حضرت مولانا سليم اللہ خان صاحب ہيں اور سيكٹرى جنرل مولانا قارى محمد حنيف جالندھرى صاحب ہيں وفاق كے تحت رجسٹرد مدارس اور ان كى ذيلى شاخوں كى تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جن ميں 25 لاكھ طلبہ و طالبات دينى تعليم و تربيت حاصل كر رہے ہيں جن ميں طلبہ كى تعداد 16 لاكھ 61 ہزار 8 سو 55 ہے جبكہ طالبات كى تعداد 8 لاكھ 48 ہزار 6 سو 27 ہے۔ ان طلبہ و طالبات كے ليے 72 ہزار 3 سو 88 اساتذہ 30 ہزار 4 سو 6 معلمات 19ہزار 85 ديگر عملے كے افراد آج كے ہو شر با مہنگاہى كے دور ميں بھى واجبى سے حق الخدمت پر اپنى خدمات ايك دينى اور ملى فريضہ سمجھ كر ادا كر رہے ہيں۔
اب تك شعبہ تحفيظ القرآن ميں وفاق 7 لاكھ 71 ہزار 9 سو 92 حفاظ اور 2 لاكھ 17 ہزار 6 سو 67 حافظات تيار كر چكا ہے۔ قرآن كريم كى اس عظيم خدمت كا ايسا منظم نٹ ورك دنيا ميں اور كہيں ديكھنے كو نہيں ملتا۔ شعبہ درس نظامى كے تحت فارغ التحصيل علماء كى تعداد 1 لاكھ 27 ہزار 2 ہے۔ يہ فارغ التحصيل نوجوان اپنى روايتى تعليم مكمل كرنے كے بعد ملك بھر كے دينى ،عصرى اور عسكرى اداروں ميں دينى وملى خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔
وفاق المدارس العربيہ نے اپنے قيام كے تين سال بعد 1960 ميں درس نظامى كے آخرى سال درجہ عالميہ كا امتحان سب سے پہلے منعقد كيا تھا اور پھر تدريجا مختلف درجات كے امتحانات بھى وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے لگے۔ 1960 سے 2015 تك كے 55 سالوں ميں وفاق كے تحت مختلف درجات ميں 31 لاكھ84 ہزار 2 سو 98 طلبہ و طالبات نے امتحانات ديے ہيں جن كى درجہ وار تفصيل وفاق كى ويب سائٹ پر ديكھ جا سكتى ہے۔ وفاق كى كاركردگى كا جائزہ ليا جائے تو كہا جا سكتا ہے كہ اب تك اوسطا وفاق ہر سال 57 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات كے امتحان ليتا رہا ہے۔ گذشتہ دہائى سے ايك مخصوص سيكولر طبقہ نے مدارس كے خلاف ايك منفى اور حقارت آميز فضاء بنا ركھى ہے بد قسمتى سے اس دين بيزار طبقہ كو بيرونى آشير باد بھى حاصل رہى ہے اور پروپيگنڈہ كے تمام وسائل بھى اسے دستياب ہيں اس كے باوجود يہ عجيب اتفاق ہے كہ دينى مدارس ميں طلبہ كى تعداد ميں كمى كے بجائے مسلسل اضاف ديكھنے ميں آ رہا ہے۔
اس كا اندازہ آپ اس سے لگا سكتے ہيں صرف گذشتہ سال 2015 ميں وفاق نے 2 لاكھ 65 ہزار 7 سو 95 طلبہ و طالبات كا امتحان ليا جن كے ليے ملك بھر ميں 1 ہزار 6 سو 91 امتحانى مراكز قائم كيے۔وفاق المدارس العربيہ نے ادارے كو مختلف انتظامى شعبہ جاتا ميں تقسيم كر ركھا ہے ان انتظامى شعبہ جاتات كى تعداد 25 ہے۔ وفاق كى يہ انتظامى تقسيم اس كے حسن انتظام اور سليقہ مندى كى نشاندہى كرتى ہے۔
وفاق المدارس العربيہ كى دينى و ملى خدمات اس كے مضبوظ و مربوط نظام تعليم اور اس كے معيار كو ديكھتے ہوئے يونيورسٹى گرانٹس كميشن نے 17 نومبر 1982 كو وفاق المدارس كى شہادة العالميہ كى سند كو ايم اے عربى، ايم اے اسلاميات كے مساوى تسليم كر ليا تھا جس كے بعد دينى مدارس كے فضلاء كے ليے عصرى تعليمى اداروں ميں مزيد ايم فل پى ايچ ڈى جيسى اعلى تعليم كے دروازے بھى كھل گئے۔
وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ملك كے طول و عرض ميں پھيلے ہوئے ہزاروں مدارس بلا شبہ تعليم كے ميدان ميں دنيا كى سب سے بڑى اين جى او كا نٹ ورك كہلائے جا سكتے ہيں۔ يہ ادارے طلبہ و طالبات كو نہ صرف مفت دينى تعليم ديتے ہيں بلكہ ان كو رہائش، خوراك ، لباس علاج معالجہ حتى كہ درسى كتب تك بلا معاوضہ مہيا كرتے ہيں۔ اكثر مدارس ميں رہائش پذير طلبہ كو جيب خرچ بھى ديا جاتا ہے۔ اس كے علاوہ تعليمى ميدان ميں نماياں كاميابياں حاصل كرنے والوں كى حوصلہ افزائى كے ليے انعامات بھى ديے جاتے ہيں۔
ان پر اٹھنے والے اخراجات ہميشہ ہى موضوع بحث رہے ہيں اور جب كبھى مدارس كى كردار كشى شروع كى جاتى ہے اس كى بسم اللہ يہاں سے ہى كى جاتى ہے جبكہ حقائق يہ ميں نہ مانوں كى رٹ لگائے بيٹھے ايك لبرل طبقہ كے علاوہ سارے ملك كو معلوم ہے كہ ان مدارس كو معاشرے كے اصحاب ثروت مسلمانوں كے تعاون سے چلايا جاتا ہے وہ اپنى زكوة صدقات خيرات اور عطيات سے ان مدارس كى ضروريات پورے كرتے ہيں۔
حكومتى ادارے بار ہاں ان معاملات كى چھان بين كر چكے ہيں خود وفاق كے اكابرين نے مدارس كے حوالے سے پائے جانے والے ہر قسم كے شكوك و شبہات كو دور كرنے كے ليے حكومت سے ہر سطح پر مكمل تعاون كيا ۔
نائن اليون كے بعد باقاعدہ منصوبہ بندى سے دينى مدارس كى ان خدمات كو پس پشت ڈالا جانے لگا۔ مدارس كو يوں پيش كيا جانے لگا گويا دنيا بھر ميں پھلائى جانے والى تباہى اور فساد كے ذمہ دار يہى مدارس ہيں الميہ يہ ہے كہ صديوں سے جو ادارے خير كے مراكز سمجھے جا رہے تھے انہيں ہى شر كى آماجگاہيں قرار ديا جانے لگا اور اس سفيد جھوٹ كو سچ ثابت كرنے كے ليے ہر قسم كے اوچھے ہتھكنڈے استعمال كيے جانے لگے۔ دينى مدارس كے بارے ميں اتنا جھوٹ بولا جانے لگا كہ عام مسلمان تو رہے ايك طرف اچھے خاصے پڑھے لكھے حضرات جو ان اداروں سے كسى نہ كسى طرح كا تعلق ركھنے والے تھے وہ بھى شكوك و شبہات ميں الجھ كر ان اداروں سے محتاط ہونا شروع ہو گے۔
كتنے دكھ كا مقام ہے كہ پاكستان كے دينى مدارس كا يہ عظيم نٹ ورك جو ہمارے سر كا تاج بن سكتا ہے اسے دنيا كے سامنے ہمارے بعض نا عاقبت انديش لوگ اپنے گلے كا طوق بنا كر پيش كر رہے ہيں۔ اسلام كے نام پر حاصل كردہ ملك ميں مدارس ہى پاكستان كى نظرياتى اساس كى حفاظت كے امين ہيں۔ انہيں نشانہ بنانا پاكستان كى اساس دو قومى نظريہ كو نشانہ بنانے كے مترادف ہے۔
پاكستان كا مذہبى طبقہ سمجھتا ہے كہ پاكستان كا استحكام ان بنيادوں كو مضبوط كرنے سے ہى ممكن ہو پائے گا جن بنيادوں پر اسے ہمارے آباؤ اجداد نے حاصل كيا تھا ہمارے بڑے پاكستان كا مطلب كيا لا الہ اللہ كہتے كہتے شہيد ہو گے اور آج ان لاكھوں شہداء كے امين يہى دينى مدارس ہيں اور يہاں سے ہى وہ تمام تر نا مساعد حالات كے باوجود بزرگوں كے اس جذبے كو آنے والى نئى نسل تك پہچانے كا فريضہ سر انجام دے رہے ہيں۔
اس پس منظر ميں وفاق المدارس العربيہ پاكستان كى قيادت نے بر وقت فيصلہ كرتے ہوئے 3 اپريل 2016 كو گلش اقبال پارك اقبال ٹاؤن لاہور ميں ايك عظيم الشان استحكام مدارس و پاكستان كانفرنس منققد كرنے كا فيصلہ كيا ہے ۔ آج كل مولانا قارى حنيف جالندھرى صاحب اپنى ٹيم كے ہمراہ دن رات اس كانفرنس كى تياريوں ميں مصروف ہيں۔ توقع كى جا رہى ہے كہ يہ عظيم الشان كانفرنس دينى مدارس كے خلاف ہونے والے عالمى سامراجى پروپيگنڈے كاتوڑ كرتےہوئے مدارس كے محكم و مثبت كردار كو اجاگر كرنے كى تحريك كى خشت اول بنے گى۔وفاق المدارس كے طرز عمل پر چلتے ہوئے پاكستان ميں مدارس كے دوسرے وفاق بھى ايسے ہى عملى اقدام اٹھائيں گے۔ جو دينى مدارس كے حقيقى كردار اور ضرورت كو معاشرے كے سامنے پيش كرنے ميں معاون ثابت ہو گے۔
0 Commentarii
0 Distribuiri
430 Views