• ڈھائی کروڑ کی آبادی کا شھر کراچی
    اسکے علاقوں کے کچھ عجیب و غریب اور دلچسپ نام...

    1) پاپوش (یعنی جوتے)
    2) انڈا موڑ (نارتھ کراچی)
    3) کریلا موڑ ( نارتھ کراچی )
    4) بھائ جان چوک (فیڈرل بی ایریا)
    5) چیل چوک (لیاری)
    6) مچھر کالونی (دو ہیں.گل بائی/الآصف)
    7) پرفیوم چوک (گلستان جوہر)
    8) بھینس کالونی (لانڈھی)
    9) ناگن چورنگی (نارتھ کراچی)
    10) کالا پل (ڈیفنس)
    11) کنواری کالونی (منگھوپیر)
    12) 2 منٹ چورنگی ( نارتھ کراچی)
    13) فقیر کالونی
    14) خاموش کالونی
    15) فیوچر کالونی
    16) پٹھان کالونی
    17) گٹر باغیچہ
    18) ناصر جمپ
    19) خدا کی بستی
    20) رنچھوڑ لائن
    21) قلندریہ چوک
    22) گل بائی
    23) مینٹل چوک (لانڈھی)
    24) نانک واڑہ
    25) بھیم پورہ
    26) مرغی خانہ ( قائد آباد)
    27) لنڈی کوتل (نارتھ ناظم آباد)
    28) کٹی پہاڑی
    29) مکا چوک
    30) دو اور تین تلوار (کلفٹن)
    31) کالا بورڈ (ملیر/ جوہرآباد)
    32) پٹیل پاڑہ
    33) گیدڑ کالونی
    34) کمہار واڑہ
    35) بندر روڈ
    36) 24 مارکیٹ (بلدیہ ٹاون)
    37) اچانک چوک
    38) انگارہ گوٹھ
    39) گولیمار
    40) ۱۰۰ کوارٹر (کورنگی)
    41) برزٹہ لائن
    42) لائینز ایریا
    43) سنگھو لائین
    44) رامسوامی
    45) چمڑا چورنگی
    46) ڈولی اور گاڑی کھاتہ
    47) بادل نالہ
    48) دنبہ گوٹھ (گڈاپ ملیر)
    49) چاکی واڑہ
    50) کھوڑی گارڈن
    51) دوپٹہ گلی
    52) ٹوکن اسٹاپ (ملیر)
    53) بوتل گلی
    54) پریشان چوک
    55) یوپی موڑ
    56) نالہ اسٹاپ ( نیوکراچی )
    57) کچھی گلی (میڈیسن مارکیٹ)
    58) ڈھائی نمبر (کورنگی)
    59) دولت رام ( پرانی سبزی منڈی)
    60) ساڑھے ۳ نمبر ۔ (کورنگی)
    61) تین ہٹی
    62) پیتل گلی
    63) پہلوان گوٹھ
    64) چنیسر ہالٹ
    65) آدم بستی
    66) کوڑھی گارڈن
    67) مٹکے والی پلیہ کورنگی (دو مقامات)
    68) انجام کالونی (بلدیہ)
    69) ۱۳ ڈی (گلشن)
    70) کھڈا مارکیٹ
    71) تاج کالونی
    72) آگرہ تاج کالونی
    ٓ73) جیکسن مارکیٹ
    74) نیٹی جیٹی پل
    75) دعا چوک
    76) نورانی کباب ۔(طارق روڈ)
    77) بمبئ بازار
    78) فوارہ چوک
    79) انچولی ۔ (گلبرگ)
    80) 10 نمبر ۔ (لالو کھیت)
    81) چاندنی چوک
    82) خلافت چوک
    83) بڑا میدان ، چھوٹا میدان
    84) بھنگی پاڑہ
    85) برف خانہ
    86) کلّو چوک ( کورنگی نمبر 4)
    87) انکوائری
    88) محبت نگر ۔ (ملیر)
    89) سخی حسن
    90) شیش محل (ملیر )
    91) موسمیات
    92) چورنگی (ناظم آباد)
    93) اچھی قبر
    94) نیوچکی
    95) نیو چالی
    96) اللہ والا ٹاون
    97) ڈالمیا
    98) بےروزگار چوک
    99) ایٹی نائن (داؤد چورنگی)
    100) بکرا پیڑی (ملیر)
    💥 ڈھائی کروڑ کی آبادی کا شھر کراچی💥 اسکے علاقوں کے کچھ عجیب و غریب اور دلچسپ نام... 1) پاپوش (یعنی جوتے) 2) انڈا موڑ (نارتھ کراچی) 3) کریلا موڑ ( نارتھ کراچی ) 4) بھائ جان چوک (فیڈرل بی ایریا) 5) چیل چوک (لیاری) 6) مچھر کالونی (دو ہیں.گل بائی/الآصف) 7) پرفیوم چوک (گلستان جوہر) 8) بھینس کالونی (لانڈھی) 9) ناگن چورنگی (نارتھ کراچی) 10) کالا پل (ڈیفنس) 11) کنواری کالونی (منگھوپیر) 12) 2 منٹ چورنگی ( نارتھ کراچی) 13) فقیر کالونی 14) خاموش کالونی 15) فیوچر کالونی 16) پٹھان کالونی 17) گٹر باغیچہ 18) ناصر جمپ 19) خدا کی بستی 20) رنچھوڑ لائن 21) قلندریہ چوک 22) گل بائی 23) مینٹل چوک (لانڈھی) 24) نانک واڑہ 25) بھیم پورہ 26) مرغی خانہ ( قائد آباد) 27) لنڈی کوتل (نارتھ ناظم آباد) 28) کٹی پہاڑی 29) مکا چوک 30) دو اور تین تلوار (کلفٹن) 31) کالا بورڈ (ملیر/ جوہرآباد) 32) پٹیل پاڑہ 33) گیدڑ کالونی 34) کمہار واڑہ 35) بندر روڈ 36) 24 مارکیٹ (بلدیہ ٹاون) 37) اچانک چوک 38) انگارہ گوٹھ 39) گولیمار 40) ۱۰۰ کوارٹر (کورنگی) 41) برزٹہ لائن 42) لائینز ایریا 43) سنگھو لائین 44) رامسوامی 45) چمڑا چورنگی 46) ڈولی اور گاڑی کھاتہ 47) بادل نالہ 48) دنبہ گوٹھ (گڈاپ ملیر) 49) چاکی واڑہ 50) کھوڑی گارڈن 51) دوپٹہ گلی 52) ٹوکن اسٹاپ (ملیر) 53) بوتل گلی 54) پریشان چوک 55) یوپی موڑ 56) نالہ اسٹاپ ( نیوکراچی ) 57) کچھی گلی (میڈیسن مارکیٹ) 58) ڈھائی نمبر (کورنگی) 59) دولت رام ( پرانی سبزی منڈی) 60) ساڑھے ۳ نمبر ۔ (کورنگی) 61) تین ہٹی 62) پیتل گلی 63) پہلوان گوٹھ 64) چنیسر ہالٹ 65) آدم بستی 66) کوڑھی گارڈن 67) مٹکے والی پلیہ کورنگی (دو مقامات) 68) انجام کالونی (بلدیہ) 69) ۱۳ ڈی (گلشن) 70) کھڈا مارکیٹ 71) تاج کالونی 72) آگرہ تاج کالونی ٓ73) جیکسن مارکیٹ 74) نیٹی جیٹی پل 75) دعا چوک 76) نورانی کباب ۔(طارق روڈ) 77) بمبئ بازار 78) فوارہ چوک 79) انچولی ۔ (گلبرگ) 80) 10 نمبر ۔ (لالو کھیت) 81) چاندنی چوک 82) خلافت چوک 83) بڑا میدان ، چھوٹا میدان 84) بھنگی پاڑہ 85) برف خانہ 86) کلّو چوک ( کورنگی نمبر 4) 87) انکوائری 88) محبت نگر ۔ (ملیر) 89) سخی حسن 90) شیش محل (ملیر ) 91) موسمیات 92) چورنگی (ناظم آباد) 93) اچھی قبر 94) نیوچکی 95) نیو چالی 96) اللہ والا ٹاون 97) ڈالمیا 98) بےروزگار چوک 99) ایٹی نائن (داؤد چورنگی) 100) بکرا پیڑی (ملیر)
    0 Reacties 0 aandelen 274 Views
  • *سورج گرہن ہونے والا ہے*

    پاکستان کے تمام جنوبی علاقے 20 سال بعد تقریباً پورا سورج گرہن دیکھیں گے۔ آخری بار ایسا 11 اگست سن 1999 کو ہوا تھا جب شام 5:26 کراچی میں خاص طور پر #سورج مکمل گرہن ہوگیا تھا اور #شام ایک لال اندھیری رات میں تبدیل ہوگئی تھی۔ یہ سورج گرہن کراچی میں مکمل سورج گرہن تھا یعنی اس میں سورج کا 100 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا تھا۔

    اب پورے 20 سال بعد اس سال یعنی 26 دسمبر 2019 کی صبح 7:34 بجے سورج #چاند کے پیچھے چھپنا شروع ہوگا اور صبح 8:46 بجے سورج گرہن سب سے زیادہ ہوگا اور صبح 10:10 بجے یہ #سورج_گرہن ختم ہو جائے گا، اب بات کی جائے کہ یہ سورج گرہن کہاں زیادہ دکھے گا تو یہ سورج گرہن جنوبی #پاکستان خاص طور پر ساحلی علاقوں جیسے #کراچی، #گوادر میں سب سے زیادہ ہوگا جہاں سورج کا تقریباً 80 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن کا وقت کچھ رات میں تبدیل ہو جائے گا۔ سورج گرہن پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں بھی دیکھا جاسکے گا۔

    #سورج_گرہن_کے_اترات #ضروری_احکامات:
    مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔

    سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔

    حاملہ خواتین/Pregnant Women سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں یا کھلے آسمان کے نیچے نہ جائیں! سورج کی ریڈی ایشن خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

    عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔

    بچوں اور بوڑھوں کا گھروں میں رہنا بہتر رہے گا۔

    سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف" ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔

    اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں، شکریہ!
    *سورج گرہن ہونے والا ہے* پاکستان کے تمام جنوبی علاقے 20 سال بعد تقریباً پورا سورج گرہن دیکھیں گے۔ آخری بار ایسا 11 اگست سن 1999 کو ہوا تھا جب شام 5:26 کراچی میں خاص طور پر #سورج مکمل گرہن ہوگیا تھا اور #شام ایک لال اندھیری رات میں تبدیل ہوگئی تھی۔ یہ سورج گرہن کراچی میں مکمل سورج گرہن تھا یعنی اس میں سورج کا 100 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ 🔘 اب پورے 20 سال بعد اس سال یعنی 26 دسمبر 2019 کی صبح 7:34 بجے سورج #چاند کے پیچھے چھپنا شروع ہوگا اور صبح 8:46 بجے سورج گرہن سب سے زیادہ ہوگا اور صبح 10:10 بجے یہ #سورج_گرہن ختم ہو جائے گا، اب بات کی جائے کہ یہ سورج گرہن کہاں زیادہ دکھے گا تو یہ سورج گرہن جنوبی #پاکستان خاص طور پر ساحلی علاقوں جیسے #کراچی، #گوادر میں سب سے زیادہ ہوگا جہاں سورج کا تقریباً 80 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن کا وقت کچھ رات میں تبدیل ہو جائے گا۔ سورج گرہن پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں بھی دیکھا جاسکے گا۔ #سورج_گرہن_کے_اترات #ضروری_احکامات: ◾مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔ ◾سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔ ◾حاملہ خواتین/Pregnant Women سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں یا کھلے آسمان کے نیچے نہ جائیں! سورج کی ریڈی ایشن خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ◾عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔ ◾بچوں اور بوڑھوں کا گھروں میں رہنا بہتر رہے گا۔ ◾سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف" ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں، شکریہ!
    0 Reacties 0 aandelen 860 Views
  • محمد ارسلان صدیقی 25 اکتوبر بروز منگل کو جزوی سورج گرہن ہوگا جو پاکستان کے تمام شہروں میں فیصد کے حساب سے کہیں کم کہیں زیادہ نظر آئے گا ۔
    کراچی میں جزوی سورج گرہن 39 فیصد تک نظر آئے گا یعنی چاند سورج کے 39 فیصد حصے کو چھپالے گا
    جزوی سورج گرہن کا وقت پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1:58 پر شروع ہوگا اور شام 6:02 پر ختم ہوگا جبکہ 04:00 پر سورج گرہن عروج پر ہوگا

    25 اکتوبر کے جزوی سورج گرہن کے بارے میں مکمل تفصیلات اس لنک پر دیکھیں:
    https://www.timeanddate.com/eclipse/solar/2022-october-25

    واضح رہے گرہن زدہ سورج کھلی آنکھوں دیکھنے سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
    محمد ارسلان صدیقی 25 اکتوبر بروز منگل کو جزوی سورج گرہن ہوگا جو پاکستان کے تمام شہروں میں فیصد کے حساب سے کہیں کم کہیں زیادہ نظر آئے گا ۔ کراچی میں جزوی سورج گرہن 39 فیصد تک نظر آئے گا یعنی چاند سورج کے 39 فیصد حصے کو چھپالے گا جزوی سورج گرہن کا وقت پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1:58 پر شروع ہوگا اور شام 6:02 پر ختم ہوگا جبکہ 04:00 پر سورج گرہن عروج پر ہوگا 25 اکتوبر کے جزوی سورج گرہن کے بارے میں مکمل تفصیلات اس لنک پر دیکھیں: https://www.timeanddate.com/eclipse/solar/2022-october-25 واضح رہے گرہن زدہ سورج کھلی آنکھوں دیکھنے سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
    0 Reacties 0 aandelen 436 Views
  • ملک کا بدلنے کا جذبہ کمال ہے، ہے ریحان اللہ والا
    تکنالوجی کے انتہائی کرشمات بے مثال ہے، ہے ریحان اللہ والا

    سوشل میڈیا کے زریعے بنے نئے سلسلے، عجیب و غریب ہال ہے، ہے ریحان اللہ والا
    جمع کرتا ہے لوگوں کو، محبت کا سفر ماہ و سال ہے، ہے ریحان اللہ والا

    معلومات کا بہترین منبع ہوتا، دانش کا عالم عمل ہے، ہے ریحان اللہ والا
    ہر سوچ کو بدلتے ہوئے، معاشرتی نظم و ضبط کا سوال ہے، ہے ریحان اللہ والا

    معاشرتی تبدیلی کا نمائندہ ہوتا، ایک چاند سی مثال ہے، ہے ریحان اللہ والا
    جوڑتا ہے قلوب کو، محبت بھرے انداز کا کریں جلوہ کمال ہے، ہے ریحان اللہ والا

    Via Bobby Shahzad
    ملک کا بدلنے کا جذبہ کمال ہے، ہے ریحان اللہ والا تکنالوجی کے انتہائی کرشمات بے مثال ہے، ہے ریحان اللہ والا سوشل میڈیا کے زریعے بنے نئے سلسلے، عجیب و غریب ہال ہے، ہے ریحان اللہ والا جمع کرتا ہے لوگوں کو، محبت کا سفر ماہ و سال ہے، ہے ریحان اللہ والا معلومات کا بہترین منبع ہوتا، دانش کا عالم عمل ہے، ہے ریحان اللہ والا ہر سوچ کو بدلتے ہوئے، معاشرتی نظم و ضبط کا سوال ہے، ہے ریحان اللہ والا معاشرتی تبدیلی کا نمائندہ ہوتا، ایک چاند سی مثال ہے، ہے ریحان اللہ والا جوڑتا ہے قلوب کو، محبت بھرے انداز کا کریں جلوہ کمال ہے، ہے ریحان اللہ والا Via Bobby Shahzad
    0 Reacties 0 aandelen 299 Views
  • درست اور مستند حدیث موجود ہے جس میں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:

    “النَّاسُ مَعَادِنٌ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ…”
    «لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں۔ جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہترین تھے، وہ اسلام میں بھی بہترین رہیں گے بشرطیکہ دین کو سمجھیں۔ اور روحیں فوج کی طرح ہیں — جو ایک دوسرے کو پہچانتی تھیں، وہ یہاں بھی ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں، اور جو نہیں تھیں، وہ جدا رہتی ہیں۔»


    یہ حدیث اہلِ سنت کے معتبر مجموعہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 6709 (ترقیم 2638) کے تحت موجود ہے ۔



    تشریح و معنٰی:
    • تشبیہ:
    حضرت ﷺ نے انسانوں کی طبیعت اور صلاحیتوں کو مختلف کانوں جیسے ظاہر فرمایا: کچھ کان سونا و چاندی پیدا کرتے ہیں، جبکہ دیگر کم قیمت معدنیات۔ اسی طرح کچھ انسان اخلاق، کردار اور علم میں اعلیٰ ہوتے ہیں، اور کچھ کم۔
    • فضل و مرتبہ:
    وہ لوگ جو جاہلیت کے دور میں شرافت، سخاوت یا شجاعت کی بنا پر ممتاز تھے، اگر اسلام میں داخل ہو کر دین کی حقیقت سمجھیں اور عمل کریں، تو اسلام میں بھی بہترین قرار پائیں گے۔ اسلام لوگوں کو عزت دیتا ہے، ان کے نسب سے نہیں، بلکہ دین کی سمجھ اور علم سے۔  
    • روحوں کی قربت:
    حدیث کا یہ حصہ کہتا ہے کہ روحیں ایک فوج کی طرح ہیں: وہ جو ایک دوسرے سے قبل از پیدائش ہی قریب تھیں، وہ دنیا میں بھی ساتھ رہتی ہیں—اچھے اچھوں کے ساتھ اور کم نیک لوگوں کے ساتھ۔ 



    خلاصہ:
    • جی ہاں، صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے اور معتبر ہے۔
    • اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی قدر و قیمت موجود ہوتی ہے، جیسا کہ مختلف معادن میں مختلف قیمتی دھاتیں ہوتی ہیں۔
    • جو لوگ ابتدا میں اعلیٰ تھے (جاہلیت میں) اور دین کا فہم حاصل کریں، وہ اسلام میں بھی اعلیٰ ترین رہیں گے۔
    • نیز یہ پیغام بھی ہے کہ انسانوں کی اصل پہچان ان کی روحانی اور اخلاقی شرافت سے ہوتی ہے، نہ کہ خاندانی نسب یا شکل و صورت سے۔
    درست اور مستند حدیث موجود ہے جس میں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: “النَّاسُ مَعَادِنٌ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ…” «لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں۔ جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہترین تھے، وہ اسلام میں بھی بہترین رہیں گے بشرطیکہ دین کو سمجھیں۔ اور روحیں فوج کی طرح ہیں — جو ایک دوسرے کو پہچانتی تھیں، وہ یہاں بھی ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں، اور جو نہیں تھیں، وہ جدا رہتی ہیں۔»  یہ حدیث اہلِ سنت کے معتبر مجموعہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 6709 (ترقیم 2638) کے تحت موجود ہے ۔ ⸻ 💡 تشریح و معنٰی: • تشبیہ: حضرت ﷺ نے انسانوں کی طبیعت اور صلاحیتوں کو مختلف کانوں جیسے ظاہر فرمایا: کچھ کان سونا و چاندی پیدا کرتے ہیں، جبکہ دیگر کم قیمت معدنیات۔ اسی طرح کچھ انسان اخلاق، کردار اور علم میں اعلیٰ ہوتے ہیں، اور کچھ کم۔ • فضل و مرتبہ: وہ لوگ جو جاہلیت کے دور میں شرافت، سخاوت یا شجاعت کی بنا پر ممتاز تھے، اگر اسلام میں داخل ہو کر دین کی حقیقت سمجھیں اور عمل کریں، تو اسلام میں بھی بہترین قرار پائیں گے۔ اسلام لوگوں کو عزت دیتا ہے، ان کے نسب سے نہیں، بلکہ دین کی سمجھ اور علم سے۔   • روحوں کی قربت: حدیث کا یہ حصہ کہتا ہے کہ روحیں ایک فوج کی طرح ہیں: وہ جو ایک دوسرے سے قبل از پیدائش ہی قریب تھیں، وہ دنیا میں بھی ساتھ رہتی ہیں—اچھے اچھوں کے ساتھ اور کم نیک لوگوں کے ساتھ۔  ⸻ 🧠 خلاصہ: • جی ہاں، صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے اور معتبر ہے۔ • اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی قدر و قیمت موجود ہوتی ہے، جیسا کہ مختلف معادن میں مختلف قیمتی دھاتیں ہوتی ہیں۔ • جو لوگ ابتدا میں اعلیٰ تھے (جاہلیت میں) اور دین کا فہم حاصل کریں، وہ اسلام میں بھی اعلیٰ ترین رہیں گے۔ • نیز یہ پیغام بھی ہے کہ انسانوں کی اصل پہچان ان کی روحانی اور اخلاقی شرافت سے ہوتی ہے، نہ کہ خاندانی نسب یا شکل و صورت سے۔
    0 Reacties 0 aandelen 245 Views
  • ہم صرف پاکستان میں نہیں، دنیا میں رہتے ہیں

    جب میں آج کے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں تو دل بھاری ہو جاتا ہے۔

    ہمیں اسکول، کالج میں یہ سکھایا گیا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں۔
    لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، چیچہ وطنی میں۔

    لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اسی زمین پر رہتے ہیں جس پر امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور باقی دنیا کے لوگ رہتے ہیں۔

    وہی سورج،
    وہی چاند،
    وہی دن رات۔

    یہ کوئی لمبی بات نہیں، یہ بہت سادہ حقیقت ہے۔



    مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ چھوٹی رہ گئی ہے

    جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ “میں پاکستان میں ہوں”،
    تو وہ سوچتا بھی پاکستان تک ہی محدود رہتا ہے۔

    وہ یہ نہیں سوچتا کہ:
    • میں پاکستان میں بیٹھ کر باہر کے ملک کے لیے کام کر سکتا ہوں
    • میں آن لائن نوکری کر سکتا ہوں
    • میں دنیا بھر کے لوگوں سے بات کر سکتا ہوں
    • میں ان سے سیکھ سکتا ہوں

    اس لیے نہیں کہ وہ کر نہیں سکتا،
    بلکہ اس لیے کہ اس کے دماغ میں یہ خیال آیا ہی نہیں۔

    وہ ایسے سوچتا ہے جیسے:
    • دنیا میں صرف ہم ہی ہیں
    • پیسہ صرف یہاں ہی ملتا ہے
    • کام گھر کے پاس ہی ملتا ہے

    یہ ان کی غلطی نہیں۔



    ایسا کیوں ہوتا ہے؟

    ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ:
    • ہم ایک ہی زبان بولتے ہیں
    • ہمارے دوست سب ایک جیسے ہوتے ہیں
    • ہمارا موبائل صرف پاکستانی خبروں سے بھرا ہوتا ہے
    • ٹی وی پر ہر وقت وہی سیاست اور لڑائی

    پھر دماغ بھی وہی سوچتا ہے جو وہ روز دیکھتا ہے۔



    انٹرنیٹ آ گیا، مگر ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا

    آج:
    • آپ دنیا کے کسی بھی انسان کو وہاٹس ایپ کر سکتے ہیں
    • ای میل کر سکتے ہیں
    • زوم پر بات کر سکتے ہیں
    • بغیر پاکستان چھوڑے باہر کی کمپنی کے لیے کام کر سکتے ہیں

    فاصلہ اب مسئلہ نہیں رہا۔
    پیسہ بھی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔

    اصل مسئلہ صرف سوچ ہے۔



    25 سال بعد ہم سب افسوس کریں گے

    میں یقین سے کہتا ہوں کہ آنے والے وقت میں لوگ کہیں گے:

    “ہم زیادہ کما سکتے تھے…”

    “ہم بہتر زندگی گزار سکتے تھے…”

    “ہم دنیا سے جُڑ سکتے تھے…”

    یہ سب ممکن تھا:
    • بغیر ویزا
    • بغیر ملک چھوڑے
    • صرف موبائل اور انٹرنیٹ سے

    بس ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔



    یہ وہی غلطی ہے جو پہلے بھی ہو چکی ہے

    یہ بات مجھے ایک امریکی صدر کی یاد دلاتی ہے جو گولی سے نہیں،
    بلکہ لاعلمی سے مر گیا۔

    علاج موجود تھا،
    مگر استعمال نہیں ہوا۔

    آج بھی مسئلہ یہی ہے:
    مواقع موجود ہیں،
    مگر ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔



    اگر میرے ہاتھ میں اختیار ہو

    اگر میں پاکستان کا سربراہ ہوتا تو میں ایک کام ضرور کرواتا:

    ہر پاکستانی کم از کم:
    • باہر کے ملکوں کے لوگوں سے بات کرے
    • دوستی کرے
    • سیکھے

    خاص طور پر اُن لوگوں سے جو ہم سے بہتر کما رہے ہیں۔

    صرف یہ ایک قدم:
    • سوچ بدل دے گا
    • ڈر ختم کرے گا
    • کمائی کے راستے کھول دے گا



    سچ یہ ہے

    آپ صرف پاکستان میں نہیں رہتے۔

    آپ دنیا میں رہتے ہیں۔
    آپ انٹرنیٹ پر رہتے ہیں۔
    آپ عالمی بازار کا حصہ ہیں۔

    پاکستان آپ کا گھر ہے،
    لیکن دنیا آپ کا میدان ہے۔



    غربت قسمت نہیں،
    سوچ کا مسئلہ ہے۔

    — ریحان اللہ والا
    ہم صرف پاکستان میں نہیں، دنیا میں رہتے ہیں جب میں آج کے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں تو دل بھاری ہو جاتا ہے۔ ہمیں اسکول، کالج میں یہ سکھایا گیا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، چیچہ وطنی میں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہم اسی زمین پر رہتے ہیں جس پر امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور باقی دنیا کے لوگ رہتے ہیں۔ وہی سورج، وہی چاند، وہی دن رات۔ یہ کوئی لمبی بات نہیں، یہ بہت سادہ حقیقت ہے۔ ⸻ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ چھوٹی رہ گئی ہے جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ “میں پاکستان میں ہوں”، تو وہ سوچتا بھی پاکستان تک ہی محدود رہتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ: • میں پاکستان میں بیٹھ کر باہر کے ملک کے لیے کام کر سکتا ہوں • میں آن لائن نوکری کر سکتا ہوں • میں دنیا بھر کے لوگوں سے بات کر سکتا ہوں • میں ان سے سیکھ سکتا ہوں اس لیے نہیں کہ وہ کر نہیں سکتا، بلکہ اس لیے کہ اس کے دماغ میں یہ خیال آیا ہی نہیں۔ وہ ایسے سوچتا ہے جیسے: • دنیا میں صرف ہم ہی ہیں • پیسہ صرف یہاں ہی ملتا ہے • کام گھر کے پاس ہی ملتا ہے یہ ان کی غلطی نہیں۔ ⸻ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ: • ہم ایک ہی زبان بولتے ہیں • ہمارے دوست سب ایک جیسے ہوتے ہیں • ہمارا موبائل صرف پاکستانی خبروں سے بھرا ہوتا ہے • ٹی وی پر ہر وقت وہی سیاست اور لڑائی پھر دماغ بھی وہی سوچتا ہے جو وہ روز دیکھتا ہے۔ ⸻ انٹرنیٹ آ گیا، مگر ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا آج: • آپ دنیا کے کسی بھی انسان کو وہاٹس ایپ کر سکتے ہیں • ای میل کر سکتے ہیں • زوم پر بات کر سکتے ہیں • بغیر پاکستان چھوڑے باہر کی کمپنی کے لیے کام کر سکتے ہیں فاصلہ اب مسئلہ نہیں رہا۔ پیسہ بھی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔ اصل مسئلہ صرف سوچ ہے۔ ⸻ 25 سال بعد ہم سب افسوس کریں گے میں یقین سے کہتا ہوں کہ آنے والے وقت میں لوگ کہیں گے: “ہم زیادہ کما سکتے تھے…” “ہم بہتر زندگی گزار سکتے تھے…” “ہم دنیا سے جُڑ سکتے تھے…” یہ سب ممکن تھا: • بغیر ویزا • بغیر ملک چھوڑے • صرف موبائل اور انٹرنیٹ سے بس ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔ ⸻ یہ وہی غلطی ہے جو پہلے بھی ہو چکی ہے یہ بات مجھے ایک امریکی صدر کی یاد دلاتی ہے جو گولی سے نہیں، بلکہ لاعلمی سے مر گیا۔ علاج موجود تھا، مگر استعمال نہیں ہوا۔ آج بھی مسئلہ یہی ہے: مواقع موجود ہیں، مگر ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ ⸻ اگر میرے ہاتھ میں اختیار ہو اگر میں پاکستان کا سربراہ ہوتا تو میں ایک کام ضرور کرواتا: ہر پاکستانی کم از کم: • باہر کے ملکوں کے لوگوں سے بات کرے • دوستی کرے • سیکھے خاص طور پر اُن لوگوں سے جو ہم سے بہتر کما رہے ہیں۔ صرف یہ ایک قدم: • سوچ بدل دے گا • ڈر ختم کرے گا • کمائی کے راستے کھول دے گا ⸻ سچ یہ ہے آپ صرف پاکستان میں نہیں رہتے۔ آپ دنیا میں رہتے ہیں۔ آپ انٹرنیٹ پر رہتے ہیں۔ آپ عالمی بازار کا حصہ ہیں۔ پاکستان آپ کا گھر ہے، لیکن دنیا آپ کا میدان ہے۔ ⸻ غربت قسمت نہیں، سوچ کا مسئلہ ہے۔ — ریحان اللہ والا
    0 Reacties 0 aandelen 183 Views
  • چاند کی تنہائی سے زمین کو دیکھتا ہوا



    میں آج چاند پر بیٹھا ہوں…
    خاموشی کے ایک ایسے سمندر میں
    جہاں نہ شور ہے، نہ سرحدوں کی لکیریں۔

    نیچے زمین گھوم رہی ہے…
    نیلی، سفید، سبز…
    بالکل ایک ماں کی طرح
    جو اپنے سب بچوں کو ایک ساتھ سینے سے لگائے ہوئے ہے۔

    میں نے بہت غور سے دیکھا…
    مگر مجھے کہیں کوئی پٹھان نظر نہیں آیا،
    نہ کوئی افغانی،
    نہ پاکستانی،
    نہ ہندوستانی۔

    میں نے اور قریب جھانکا…
    نہ کوئی امریکی تھا،
    نہ ایرانی،
    نہ مشرق، نہ مغرب۔

    بس انسان تھے…
    سانس لیتے ہوئے،
    خواب دیکھتے ہوئے،
    محبت ڈھونڈتے ہوئے انسان۔

    چاند سے دیکھو تو
    سرحدیں نظر نہیں آتیں…
    وہ صرف نقشوں پر بنتی ہیں،
    دلوں پر نہیں۔

    یہاں اوپر سے
    کوئی ویزا نہیں مانگتا،
    کوئی مذہب نہیں پوچھتا،
    کوئی زبان پر فیصلہ نہیں کرتا۔

    صرف ایک زمین ہے…
    اور آٹھ ارب دھڑکتے ہوئے دل۔

    مجھے حیرت ہوئی…
    نیچے لوگ کیوں لڑ رہے ہیں؟
    کس بات پر؟
    اس مٹی کے ٹکڑے پر
    جو خلا میں ایک نقطے سے زیادہ بھی نہیں۔

    اگر تم کبھی غصے میں آؤ…
    تو ذرا تصور کرنا
    کہ تم بھی میرے ساتھ چاند پر بیٹھے ہو۔

    پھر نیچے دیکھنا…
    اور خود سے پوچھنا:

    کیا واقعی ہم اتنے مختلف ہیں؟

    یا ہم سب
    ایک ہی کہانی کے کردار ہیں…
    جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں؟

    یہ زمین…
    میرا بھی گھر ہے،
    تمہارا بھی۔

    اور شاید
    اللہ نے ہمیں قوموں میں اس لیے نہیں بنایا
    کہ ہم دیواریں کھڑی کریں…
    بلکہ اس لیے
    کہ ہم ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔

    چاند خاموش ہے…
    زمین گھوم رہی ہے…
    اور میں سوچ رہا ہوں—

    کاش
    نیچے رہنے والے بھی
    کبھی اوپر آ کر دیکھ سکیں۔
    چاند کی تنہائی سے زمین کو دیکھتا ہوا ⸻ میں آج چاند پر بیٹھا ہوں… خاموشی کے ایک ایسے سمندر میں جہاں نہ شور ہے، نہ سرحدوں کی لکیریں۔ نیچے زمین گھوم رہی ہے… نیلی، سفید، سبز… بالکل ایک ماں کی طرح جو اپنے سب بچوں کو ایک ساتھ سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ میں نے بہت غور سے دیکھا… مگر مجھے کہیں کوئی پٹھان نظر نہیں آیا، نہ کوئی افغانی، نہ پاکستانی، نہ ہندوستانی۔ میں نے اور قریب جھانکا… نہ کوئی امریکی تھا، نہ ایرانی، نہ مشرق، نہ مغرب۔ بس انسان تھے… سانس لیتے ہوئے، خواب دیکھتے ہوئے، محبت ڈھونڈتے ہوئے انسان۔ چاند سے دیکھو تو سرحدیں نظر نہیں آتیں… وہ صرف نقشوں پر بنتی ہیں، دلوں پر نہیں۔ یہاں اوپر سے کوئی ویزا نہیں مانگتا، کوئی مذہب نہیں پوچھتا، کوئی زبان پر فیصلہ نہیں کرتا۔ صرف ایک زمین ہے… اور آٹھ ارب دھڑکتے ہوئے دل۔ مجھے حیرت ہوئی… نیچے لوگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ کس بات پر؟ اس مٹی کے ٹکڑے پر جو خلا میں ایک نقطے سے زیادہ بھی نہیں۔ اگر تم کبھی غصے میں آؤ… تو ذرا تصور کرنا کہ تم بھی میرے ساتھ چاند پر بیٹھے ہو۔ پھر نیچے دیکھنا… اور خود سے پوچھنا: کیا واقعی ہم اتنے مختلف ہیں؟ یا ہم سب ایک ہی کہانی کے کردار ہیں… جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں؟ یہ زمین… میرا بھی گھر ہے، تمہارا بھی۔ اور شاید اللہ نے ہمیں قوموں میں اس لیے نہیں بنایا کہ ہم دیواریں کھڑی کریں… بلکہ اس لیے کہ ہم ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ چاند خاموش ہے… زمین گھوم رہی ہے… اور میں سوچ رہا ہوں— کاش نیچے رہنے والے بھی کبھی اوپر آ کر دیکھ سکیں۔ 🌍🌙
    0 Reacties 0 aandelen 203 Views
  • ایک دن میں چاند پہ بیٹھا
    تاروں سے میں باتیں کرتا
    نیچے پیاری سی زمین تھی
    جیسے کوئی گول سا گھر تھا۔

    [Verse 1]
    میں نے دیکھا نیچے جھانک کے
    لوگ تھے ہنستے کھیلتے
    کوئی روٹی بانٹ رہا تھا
    کوئی خواب نئے بُن لیتے۔

    ڈھونڈا میں نے نام بہت سے
    پر کچھ بھی سمجھ نہ آیا
    نہ کوئی ملک نظر آیا
    نہ کوئی فرق دکھایا۔

    [Chorus]
    ہم سب ایک زمین کے بچے
    ہم سب ایک کہانی ہیں
    رنگ الگ ہوں نام الگ ہوں
    دل سے سب انسان ہی ہیں۔

    چاند سے جب دنیا دیکھو
    سب اپنا لگتا ہے
    ہاتھ پکڑ لو ایک دوسرے کا
    دل خوش رہتا ہے۔

    [Verse 2]
    نہ پاکستانی دکھا کوئی
    نہ کوئی ہندوستانی
    نہ امریکی نہ ایرانی
    بس تھی دنیا پیاری سی۔

    کوئی ہنستا کوئی گاتا
    کوئی ماں کو یاد کرتا
    سب کے دل میں ایک جیسا
    پیار ہی پیار دھڑکتا۔

    [Chorus]
    ہم سب ایک زمین کے بچے
    ہم سب دوست پرانے ہیں
    لڑنا جھگڑا چھوڑ کے آؤ
    مل کر گیت سنانے ہیں۔

    [Outro]
    چاند نے مجھ سے یہ کہا
    نیچے جا کے سب کو کہنا
    زمین سب کا گھر ہے پیارا
    مل جل کر ہی ر
    ایک دن میں چاند پہ بیٹھا تاروں سے میں باتیں کرتا نیچے پیاری سی زمین تھی جیسے کوئی گول سا گھر تھا۔ [Verse 1] میں نے دیکھا نیچے جھانک کے لوگ تھے ہنستے کھیلتے کوئی روٹی بانٹ رہا تھا کوئی خواب نئے بُن لیتے۔ ڈھونڈا میں نے نام بہت سے پر کچھ بھی سمجھ نہ آیا نہ کوئی ملک نظر آیا نہ کوئی فرق دکھایا۔ [Chorus] ہم سب ایک زمین کے بچے ہم سب ایک کہانی ہیں رنگ الگ ہوں نام الگ ہوں دل سے سب انسان ہی ہیں۔ چاند سے جب دنیا دیکھو سب اپنا لگتا ہے ہاتھ پکڑ لو ایک دوسرے کا دل خوش رہتا ہے۔ [Verse 2] نہ پاکستانی دکھا کوئی نہ کوئی ہندوستانی نہ امریکی نہ ایرانی بس تھی دنیا پیاری سی۔ کوئی ہنستا کوئی گاتا کوئی ماں کو یاد کرتا سب کے دل میں ایک جیسا پیار ہی پیار دھڑکتا۔ [Chorus] ہم سب ایک زمین کے بچے ہم سب دوست پرانے ہیں لڑنا جھگڑا چھوڑ کے آؤ مل کر گیت سنانے ہیں۔ [Outro] چاند نے مجھ سے یہ کہا نیچے جا کے سب کو کہنا زمین سب کا گھر ہے پیارا مل جل کر ہی ر
    0 Reacties 0 aandelen 203 Views
  • “Smith” اور “Wala” — دو لفظ، ایک ہی کہانی

    دنیا میں صدیوں تک انسان کی پہچان ایک ہی چیز سے ہوتی تھی:
    آپ کیا کام کرتے ہیں؟

    ڈگری نہیں…
    برانڈ نہیں…
    LinkedIn پروفائل نہیں…

    بس ایک سیدھا جواب:
    میں یہ کام کرتا ہوں



    یورپ میں ایک لفظ تھا: Smith

    Smith کا مطلب تھا:
    وہ شخص جو دھات کو ہتھوڑے سے شکل دیتا ہے

    Blacksmith… لوہے کا کام
    Goldsmith… سونے کا کام
    Silversmith… چاندی کا کام

    یہ لوگ صرف مزدور نہیں تھے…
    یہ وہ لوگ تھے جو دنیا بناتے تھے
    ہتھیار، اوزار، سکے، زیورات — سب انہی کے ہاتھ سے نکلتے تھے

    پھر آہستہ آہستہ یہی کام…
    نام بن گیا

    John جو لوہا بناتا تھا…
    وہ بن گیا John Smith

    اور آج…
    Smith دنیا کا سب سے common surname ہے
    اور سننے میں respectable لگتا ہے



    اب ذرا اپنے معاشرے کو دیکھیں…

    ہمارے ہاں ایک لفظ ہے: “Wala”

    Chai wala
    Sabzi wala
    Rickshaw wala
    Kapra wala

    مطلب؟
    وہ شخص جو اس چیز سے جڑا ہوا ہے

    لیکن فرق کہاں آ گیا؟

    وہی concept…
    وہی logic…
    لیکن perception بدل گیا



    یورپ میں “Smith”
    عزت بن گیا

    ہمارے ہاں “Wala”
    اکثر کم سمجھا جانے لگا



    سوچنے والی بات یہ ہے:

    Goldsmith بھی ایک وقت میں صرف سونا پگھلانے والا آدمی تھا
    آج اس کا نام شاہی لگتا ہے

    Chai wala بھی آج صرف چائے بیچ رہا ہے
    لیکن کل وہ global brand بھی بن سکتا ہے



    اصل مسئلہ لفظ نہیں ہے…

    مسئلہ mindset ہے



    اگر آج دنیا نئی شروع ہوتی تو نام کچھ ایسے ہوتے:

    AI Smith
    Data Smith
    Agent Smith

    اور ہمارے ہاں:

    AI wala
    Data wala
    Internet wala



    فرق کہاں ہوگا؟

    لفظ میں نہیں
    value میں



    آج کا chai wala اگر system، سوچ اور scale سیکھ لے…
    تو وہ صرف chai wala نہیں رہے گا

    وہ بن سکتا ہے chain wala
    brand wala
    million dollar wala



    یاد رکھیں:

    نام آپ کو بڑا نہیں بناتا
    کام اور سوچ بناتی ہے



    آج سے “Wala” کو چھوٹا نہ سمجھیں…
    یہی لفظ کل آپ کی پہچان بھی بن سکتا ہے

    — ریحان اللہ والا
    “Smith” اور “Wala” — دو لفظ، ایک ہی کہانی دنیا میں صدیوں تک انسان کی پہچان ایک ہی چیز سے ہوتی تھی: آپ کیا کام کرتے ہیں؟ ڈگری نہیں… برانڈ نہیں… LinkedIn پروفائل نہیں… بس ایک سیدھا جواب: 👉 میں یہ کام کرتا ہوں ⸻ یورپ میں ایک لفظ تھا: Smith Smith کا مطلب تھا: 👉 وہ شخص جو دھات کو ہتھوڑے سے شکل دیتا ہے Blacksmith… لوہے کا کام Goldsmith… سونے کا کام Silversmith… چاندی کا کام یہ لوگ صرف مزدور نہیں تھے… 👉 یہ وہ لوگ تھے جو دنیا بناتے تھے ہتھیار، اوزار، سکے، زیورات — سب انہی کے ہاتھ سے نکلتے تھے پھر آہستہ آہستہ یہی کام… 👉 نام بن گیا John جو لوہا بناتا تھا… وہ بن گیا John Smith اور آج… Smith دنیا کا سب سے common surname ہے اور سننے میں respectable لگتا ہے ⸻ اب ذرا اپنے معاشرے کو دیکھیں… ہمارے ہاں ایک لفظ ہے: “Wala” Chai wala Sabzi wala Rickshaw wala Kapra wala 👉 مطلب؟ وہ شخص جو اس چیز سے جڑا ہوا ہے لیکن فرق کہاں آ گیا؟ وہی concept… وہی logic… لیکن perception بدل گیا ⸻ یورپ میں “Smith” 👉 عزت بن گیا ہمارے ہاں “Wala” 👉 اکثر کم سمجھا جانے لگا ⸻ سوچنے والی بات یہ ہے: Goldsmith بھی ایک وقت میں صرف سونا پگھلانے والا آدمی تھا آج اس کا نام شاہی لگتا ہے Chai wala بھی آج صرف چائے بیچ رہا ہے لیکن کل وہ global brand بھی بن سکتا ہے ⸻ اصل مسئلہ لفظ نہیں ہے… 👉 مسئلہ mindset ہے ⸻ اگر آج دنیا نئی شروع ہوتی تو نام کچھ ایسے ہوتے: AI Smith Data Smith Agent Smith اور ہمارے ہاں: AI wala Data wala Internet wala ⸻ فرق کہاں ہوگا؟ 👉 لفظ میں نہیں 👉 value میں ⸻ آج کا chai wala اگر system، سوچ اور scale سیکھ لے… تو وہ صرف chai wala نہیں رہے گا 👉 وہ بن سکتا ہے chain wala 👉 brand wala 👉 million dollar wala ⸻ یاد رکھیں: نام آپ کو بڑا نہیں بناتا 👉 کام اور سوچ بناتی ہے ⸻ آج سے “Wala” کو چھوٹا نہ سمجھیں… 👉 یہی لفظ کل آپ کی پہچان بھی بن سکتا ہے — ریحان اللہ والا
    0 Reacties 0 aandelen 226 Views
  • پاکستان کے اصل ایسیٹس سونے چاندی اور تیل نہیں ہیں بلکہ اس کے دو سو ملین لوگ ہیں ،انٹرنیٹ کے آنے کے بعد معلومات کی اہمیت ختم ہوگئی ہے، اب ضرورت ہمیں تربیت کی ہےاور اس امر کی ہے کے ان دوسو ملین لوگوں کو تربیت کے ذریعے تراش کر ہیرا بنا دیا جائے، ہر پاکستانی تراش کر کوہ نور ہیرا بنا دیا جائے اللہ سبحان و تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو یونیک انسان بنا کر پیدا کیا ہے اس کی یونیکنیس کو ہم چھپا دیتے ہیں دبا دیتے ہیں ضرورت ہے کہ ان کی یونیک نیس کو مینٹر شپ کے ذریعے باہر نکالا جائے اور ان ک کوہ نور ہیرا بننے میں مدد کی جائے اس ملک میں ایک بل گیٹس نہیں بلکہ دوسو ملین بل گیٹس بن جائیں گیں اور یہ ملک اپنے مسائل خود حل کر کے دنیا کے مسائل حل کرنے والا ملک بن جائے گا آئیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ فیس بک پر جڑ جائیں اور کوشش کریں پاکستان کے ہر صوبے سے اپنے فیس بک پر کم از کم دس نئے لوگوں کو اپنا دوست بنائیں ،ایک قوم بن جائیں اور ایک دوسرے کی مدد کیجئے زندگی کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ان کی مدد کیجئے ، ایک عظیم الشان قوم بن جائیں پاکستان زندہ باد۔
    ریحان اللہ والا
    پاکستان کے اصل ایسیٹس سونے چاندی اور تیل نہیں ہیں بلکہ اس کے دو سو ملین لوگ ہیں ،انٹرنیٹ کے آنے کے بعد معلومات کی اہمیت ختم ہوگئی ہے، اب ضرورت ہمیں تربیت کی ہےاور اس امر کی ہے کے ان دوسو ملین لوگوں کو تربیت کے ذریعے تراش کر ہیرا بنا دیا جائے، ہر پاکستانی تراش کر کوہ نور ہیرا بنا دیا جائے اللہ سبحان و تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو یونیک انسان بنا کر پیدا کیا ہے اس کی یونیکنیس کو ہم چھپا دیتے ہیں دبا دیتے ہیں ضرورت ہے کہ ان کی یونیک نیس کو مینٹر شپ کے ذریعے باہر نکالا جائے اور ان ک کوہ نور ہیرا بننے میں مدد کی جائے اس ملک میں ایک بل گیٹس نہیں بلکہ دوسو ملین بل گیٹس بن جائیں گیں اور یہ ملک اپنے مسائل خود حل کر کے دنیا کے مسائل حل کرنے والا ملک بن جائے گا آئیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ فیس بک پر جڑ جائیں اور کوشش کریں پاکستان کے ہر صوبے سے اپنے فیس بک پر کم از کم دس نئے لوگوں کو اپنا دوست بنائیں ،ایک قوم بن جائیں اور ایک دوسرے کی مدد کیجئے زندگی کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ان کی مدد کیجئے ، ایک عظیم الشان قوم بن جائیں پاکستان زندہ باد۔ ریحان اللہ والا
    0 Reacties 0 aandelen 195 Views
Zoekresultaten